اسلام آباد:وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ اگر ایک ڈگری درجہ حرارت بڑھتا ہے تو 800 میگا واٹ بجلی کی طلب بڑھ جاتی ہے، آئی ایم ایف پروگرام میں نہ جاتے تو دیوالیہ ہوجاتے۔
اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اس وقت ملک مسائل میں گھرا ہوا ہے، ہمیں اسی دنیا میں رہنا ہے جو ہے، شہباز شریف کو ملک کی باگ ڈور دی گئی تو اسٹیٹ بینک میں 10.5 ارب ڈالر تھے، آئی ایم ایف پروگرام میں نہ جاتے تو دیوالیہ ہوجاتے۔
ان کا کہنا ہے کہ جب ہم اقتدار میں آئے تو پاکستان ڈیفالٹ کی طرف جارہا تھا، پی ٹی آئی کی طرح ہم یہ نہیں کہیں گے ہمیں حالات معلوم نہیں تھے، جو پاکستان کا حال تھا شہباز شریف کو یہ بات پتہ تھی، بہت سے لوگوں نے کہا کہ ہمیں حکومت نہیں لینی چاہئے، ہم نے سوچا کہ نگراں سیٹ اپ آئے گا تو آئی ایم ایف تعاون نہیں کرے گا۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر کے قریب تھیں، ہم تیل اپنی قیمت سے سستا بیچ رہے تھے، یہ نئی عادت تھی کہ ہم پیٹرول اور ڈیزل سستا بیچ رہے تھے، یو اے ای اور سعودی عرب سے بھی سستا پیٹرول و ڈیزل بیچ رہے تھے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ایک ڈگری درجہ حرارت بڑھنے سے ملک میں بجلی کی طلب میں 800 میگا واٹ کا اضافہ ہوتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال 800 ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ تھا جس کی وجہ سے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے ہم سے کہا کہ پاور ٹیرف کو اس کی اصل قیمت پر لائیں اور فیول سبسڈی کا خاتمہ کریں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان 80 ارب ڈالر کی امپورٹ کا متحمل نہیں ہوسکتا، امپورٹ کی ایل سی نہیں کھولنے دے رہا، ایکسپورٹرز کیلئے ایل سی کھولنے کی اجازت ہے۔
ایف آئی اے نے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کو قطر کے سرکاری دورے کے دوران اسرائیلی وفد سے ملاقات پر وزیراعظم پاکستان پر الزامات (یوٹیوب چینل) لگانے پر نوٹس جاری کیا ہے۔
انہوں نے ایف آئی اے کا دورہ کیا، جہاں ان سے مکمل انکوائری/تفتیش کی گئی۔
ذرائع کے مطابق اس انکوائری کے دوران ایف آئی اے کی طرف سے جرح کے دوران جنرل آفر سے سخت سوالات پوچھے گئے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس دوران ان کے فون ایف آئی اے نے تحویل میں لے لیا ہے اور اس کی تحقیقات جاری ہیں ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جنرل امجد شعیب سے چار پانچ گھنٹے سوالات وجوابات کیے گئے اورپھراس کے بعد ان کو وہان سے جانے کی اجازت دی گئی
یاد رہے کہ کل سے یہ خبریں گردش کررہی تھی کہ ایف آئی نے جنرل (ر) امجد شعیب کو نوٹس بھی جاری کردیا گیا ہے۔ٹی وی کے مطابق ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب کی جانب سے یوٹیوب پر وزیراعظم کیخلاف بے بنیاد الزامات پرنوٹس بھیجا گیا ہے۔وزیراعظم پر قطر میں اسرائیلی حکام سے ملاقات کے الزام پر نوٹس بھیجا گیا
جنرل امجد شعیب پر الزام ہے کہ انہوں نے وزیراعظم پر قطر میں اسرائیلی حکام سے ملاقات کا جھوٹا الزام لگایا تھا، اور اس جھوٹے تبصرے نے لوگوں کو ریاست کیخلاف اکسایا۔ جنرل امجد شعیب DDP Analytica – Diplomacy & Politics Analysis کے نام سے ایک یو ٹیوب چینل چلاتے ہیں جس کے دو لاکھ سے زائد فالوور ہیں۔
اسی چینل پر ایک ویڈیو میں ‘اسرائیلی جہاز اور امپورٹڈ وزیراعظم ایک ہی وقت قطر میں’ کے عنوان سے ایک ویڈیو موجود ہے۔
پنجاب کے مختلف اضلاع میں اگلے 04 روز تک مزید بارشیں/پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا۔
باغی ٹی وی رپورٹ۔پنجاب کے مختلف اضلاع میں اگلے 04 روز تک مزید بارشیں/پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیاہے
ترجمان پی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ مرطوب ہوائیں ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں، مغربی ہوائوں کا سلسلہ ملک کے بالائی علاقوں میں اتوار کو داخل ہو گا جس کے باعث 14 ستمبر تک لاہور، راولپنڈی،گوجرانوالہ،سرگودھا اور فیصل میں بارش کا امکان ہے۔مری، اٹک ،چکوال ،سیالکوٹ،نارووال، گجرات میں بارش کا امکان ہے جبکہ میانوالی،خوشاب،حافظ آباد،منڈی بہائوالدین اور جھنگ میں بھی بارش ہو سکتی ہے۔ 13 اور 14 ستمبر کے دوران بھکر،لیہ،ڈی جی خان اور مظفر گڑھ میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے اور14 ستمبر تک وقفے وقفے اور چند مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان ہے۔پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کوخبردارکیا ہے کہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاریاں مکمل رکھیں اور ضروری مشینری/ ڈی واٹرنگ سیٹ اور عملہ نکاسی آب کے لیے ہمہ وقت تیار رکھیں۔ترجمان پی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ مدد کے لیے پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر کال کریں.
اسلام آباد:تحریک انصاف کے 11ایم این ایز کے استعفوں کی منظوری کے نوٹیفکیشن معطل،اطلاعات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کے 11ایم این ایز کے استعفوں کی منظوری کے نوٹیفکیشن معطل کردیئے ہیں اور الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قراردیا ہے
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے فرخ حبیب ، شیریں مزاری ،اعجاز شاہ ، جمیل احمد خان ، محمد اکرم چیمہ ، شکور شاد ،علی محمد خان ، فضل محمد خان ، شوکت علی ، فخر زمان خان اور شاندانہ گلزار کے استعفے بھی منظور کئے گئے تھے
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رکن شکور شاد کی درخوست پر فیصلہ جاری کیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کے استعفے کی منظوری کے نوٹیفکیشن معطل کردیے
اس سے پہلے سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید نے کہا ہے کہ شکور شاد کے استعفے کی معطلی سے سارے استعفے معطل ہوگئے ہیں ۔ عدالتی اور قانونی جنگ میں عدلیہ پر بڑی ذمہ داری آگئی ہے ۔
شکور شاد کےاستعفےکی معطلی سےسارےاستعفےمعطل ہوگئےہیں۔PDMاپنےبیٹوں میں بانٹ رہی ہےغریبوں کوڈانٹ رہی ہے۔ابھی تک صوبوں میں گورنرنہیں لگاسکے۔یہ غربت مٹاؤ نہیں،غریب مکاؤ پالیسی لائےہیں۔یہ انقلابی نہیں،سیلابی ہیں۔خارجہ پالیسی میں دوحہ میٹنگ کےبعدبڑاUٹرن آگیاہے۔امدادنہیں،حکم نامےآرہے ہیں
شکور شاد کےاستعفےکی معطلی سےسارےاستعفےمعطل ہوگئےہیں۔PDMاپنےبیٹوں میں بانٹ رہی ہےغریبوں کوڈانٹ رہی ہے۔ابھی تک صوبوں میں گورنرنہیں لگاسکے۔یہ غربت مٹاؤ نہیں،غریب مکاؤ پالیسی لائےہیں۔یہ انقلابی نہیں،سیلابی ہیں۔خارجہ پالیسی میں دوحہ میٹنگ کےبعدبڑاUٹرن آگیاہے۔امدادنہیں،حکم نامےآرہے ہیں
پی ڈی ایم سے متعلق اپنی ٹویٹ میں شیخ رشید نے کہا کہ پی ڈی ایم اپنے بیٹوں میں بانٹ رہی ہے جبکہ غریبوں کو ڈانٹ رہی ہے ۔ یہ غربت مٹاؤ نہیں ، غریب مکاؤ پالیسی لائے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران انقلابی نہیں ، سیلابی ہیں ۔ ابھی تک صوبوں میں گورنر بھی نہیں لگائے جاسکے ۔
سربراہ عوامی مسلم لیگ نے کہا کہ خارجہ پالیسی میں دوحہ میٹنگ کے بعد بڑا یو ٹرن آگیا ہے ۔ ملک میں امداد نہیں ، حکم نامے آرہے ہیں ۔ سامراجی پالیسیاں آرہی ہیں ، ڈالر نہیں آرہے ، ڈالر کے ذخائر اب بھی منفی ہیں ۔ ڈالر کی شدید قلت ، سندھ میں فصلوں کی تباہی ، مہنگائی کا طوفان ، قوم کا امتحان ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریاست کی طاقت اور عوام کی طاقت آمنے سامنے ہیں ۔ قوم کی قوت برداشت جواب دے گئی ہے
صرف دو ماہ میں فرح گوگی کو کلین چٹ کس کے کہنے پر دلوائی گئی؟
مسلم لیگ ن کے رہنما، وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی، پنجاب کے سابق وزیر داخلہ عطا تاڑڑ نے کہا ہے کہ قوم یہ سوال کر رہی ہے کہ صرف دو ماہ میں فرح گوگی کو کلین چٹ کس کے کہنے پر دلوائی گئی کیا وہ عمران خان کی بے نامی دار ہیں، موجودہ صورتحال میں سیاسی جلسے بند ہونے چاہئے
میڈیا سے بات کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ اینٹی کرپشن پنجاب کے نئے ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی صرف اس لئے کی گئی کہ فرح گوگی کو کلین چٹ دلانا مقصود تھیصرف دو ماہ کی مدت میں مقدمہ بند ہوگیا ایسا کہاں ہوتا ہے کیا آپ نے انہیں فرار نہیں کرایا تھا کیا فرح گوگی ہیروں کی تجارت اور گھڑیوں کی خرید وفروخت میں ملوث نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود عمران خان نے فرح گوگی کو اس لئے کلین چٹ دلوائی وہ ان کے بے نامی دار ہیں اور تمام پیسہ عمران خان اہلیہ کے ذریعے کمایا جا رہا تھا اس لئے آپ فرح گوگی اور اس کے شوہر کو دبئی سے نہیں بلواتے کہ کہیں وہ آپ کا نام نہ لے دیں تمام سیاسی جماعتیں سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے حکومت کا ساتھ دے رہی ہیں اور دوسری طرف تحریک انصاف سیلاب سے متاثرہ 2 صوبوں میں حکومت کے باوجود کہیں نظر نہیں آرہی اور سیاسی جلسے سجانے کیلئے سرکاری وسائل کو استعمال کیا جارہا ہے
عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ریاست مخالف بیانیے کو پروان چڑھایا جا رہا ہے اور عمران خان کو نہ ماضی میں عوام کی کوئی فکر تھی اور نہ سیلاب متاثرین کا کوئی درد ہے ملک کا ایک تہائی حصہ سیلاب سے متاثرہ ہے لیکن اس کے باوجود عدلیہ اور فوج بیانیے کو پروان چڑھانے کا ایک جماعت کی طرف سے سلسلہ بدستور جاری ہے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کیلئے 40 کروڑ روپے کی لاگت سے نئی گاڑیاں خریدنے کی منظوری دی جا رہی ہے اور ایک سیاسی جماعت کے جلسے پر قوم کے ٹیکسوں کا پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے جبکہ اس وقت اس پیسے کی سیلاب متاثرین کو ضرورت ہے
کراچی:ایم کیوایم میں مزید دراڑیں پڑگئیں:بڑے بڑے نام پارٹی چھوڑنے کے لیے تیار، ایم کیوایم کی تقسیم درتقسیم کے متعلق دکھ بری خبرسنیئرصحافی مبشرلقمان نے دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک بڑی پارٹی کے حصوں بخروں پر خوش نہیں ، ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتی ہی جمہوریت کا حُسن ہوتی ہیں اور یہ جماعتیں ہی کسی ملک اور معاشرے کی ترقی میں ممدومعاون کردار ادا کرتی ہیں
More bad news for #MQM. Yet another group is ready to emerge in the party. Should that happen then it is for sure that MQM political clout will practically come to an end giving hope to its political opponents
ایم کیوایم کی تقسیم درتقسیم کے متعلق دکھی دل کے ساتھ خبر دیتے ہوئے مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ ان کے علم میں آیا ہےکہ پارٹی میں ایک اور گروپ ابھرنے کو تیار ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ یقینی ہے کہ ایم کیو ایم کا سیاسی اثر عملی طور پر ختم ہو جائےگا اور اس کے سیاسی مخالفین اس تقسیم پر شاید خوشی کا اظہار کریں لیکن یہ نظر آرہا ہے کہ ایم کیو ایم کواب ٹوٹنے سے کوئی نہیں بچا سکتا
#MQM infighting continues and this time after the fresh appointment of Kamran Tissori the gaps have widened. Amir Khan is all set to break away with his loyalists. This can be the last nail in the party’s political coffin
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ میں کافی دنوں سے پارٹی کی ٹوٹ پھوٹ کے متعلق خبریں سُن رہا تھا ، مجھے معلوم ہے کہ ایم کیو ایم میں لڑائی جاری ہے اوراس بار کامران ٹیسوری کی تازہ تقرری کے بعد خلیج مزید بڑھ گئی ہے۔مبشرلقمان کہتے ہیں کہ عامر خان اپنے وفاداروں سے الگ ہونے کو تیار ہیں۔یہ پارٹی کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ ایم کیوایم میں مزید تقسیم کے حوالےسے خبریں بہت عرصے آرہی تھیں پہلے ہی ایم کیو ایم تقسیم ہوچکی ہے اور سب سے پہلا دھچکا اس وقت لگا جب الطاف حسین کو پارٹی سے الگ کردیا گیا اورایم کیوایم پاکستان کی شکل میں نیا گروپ وجود میں آیا جبکہ اس سے پہلے ہی پاک سرزمین پارٹی کی شکل میں ایم کیوایم کا ایک مضبوط دھڑا سید مصطفیٰ کمال کی قیادت میں سامنے آگیا اور اس کے ساتھ ساتھ فاروق ستار بھی پھر سے متعرک ہوگئے ہیں اور وہ بھی ایک دھڑے کے سربراہ ہیں لیکن ابھی تک ان کے دھڑے کا نام سامنے نہیں آیا
پی ٹی آئی کے ایم پی اے سلطان محمد خان اے این پی میں شامل ہو گئے
سلطان محمد خان کے ہمراہ ہزاروں کارکنان کی بھی اے این پی میں شمولیت ہوئی ،سلطان محمد خان کا کہنا تھا کہ اے این پی قائدین کا شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے عزت دی،عمران خان اب بھی رکن اسمبلی ہیں مگر اسمبلی نہیں جا رہے ،عمران خان اپنی ضد اورانا کیلئے لوگوں کو بے وقوف بنا رہے ہیں،عمران خان کو آئینی طریقے سے ہٹایا گیا مگر وہ مانتے نہیں ،میں دوبارہ اے این پی میں نہیں بلکہ اپنے گھر واپس آیا ہوں
دوسری جانب ایمل ولی خان کا کہنا ہے کہ ہم چارسدہ سمیت پورے صوبے اور جہاں جہاں پشتون آباد ہیں، اتحاد اور اتفاق کو فروغ دیں گے ہر پشتون پر جرگہ کریں گے اور انہیں ایک ہی چھتری کے نیچے لانے کی کوشش کریں گے پی ٹی آئی کی جانب سے جاری پروپیگنڈے کا جواب دیتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ نو بال پر وکٹ کی بات کرنیوالے گھر میں بیٹھ کر خوشیاں منائیں۔ سلطان محمد خان کا خاندان ہمارا خاندان ہے اور آج کا جرگہ ایک اہم سنگ میل ہے پارٹی میں شمولیتوں کا سلسلہ رکے گا نہیں اور بہت جلد مزید بڑے نام عوامی نیشنل پارٹی کا حصہ بنیں گی
قبل ازیں سرکاری زمین پر قبضہ کے الزام میں محکمہ اینٹی کرپشن نے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی فہیم کو طلب کرلیا۔ محکمہ اینٹی کرپشن کے مطابق محمد فہیم نے پی ڈی اے ملازمین کے ساتھ مل کر سرکاری زمین قبضہ کرکے تعمیرات کیں، انہیں آج صبح دس بجے طلب کیا گیا تاہم وہ پیش نہ ہوئے۔ اینٹی کرپشن حکام نے کہا ہے کہ انجنیئر فہیم احمد کو پیش نہ ہونے پر اب دوسرا نوٹس دیا جائے گا۔
دوسری جانب رکن قومی اسمبلی انجینئر فہیم نے کہا ہے کہ پارٹی پالیسیوں کے خلاف بیان دینے پر نوٹس دیا گیا، اینٹی کرپشن کی جانب سے اچانک نوٹس ملا، نجی مصروفیات کی وجہ سے پیش نہ ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف میری درخواستیں تین سال سے اینٹی کرپشن دفتر میں موجود ہیں، تین سال سے درخواست پر کارروائی نہیں ہوئی، اپنی صوبائی حکومت میں کرپشن کے خلاف بات کیا کی، دو گھنٹے میں میرے خلاف انکوائری آرڈر کر دی۔
عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ عمران خان نے پورے ملک میں غدر مچایا ہوا ہے، اپنی مرضی کا آرمی چیف لانا چاہتے ہیں، ایسا آرمی چیف چاہئے جو پنجاب میں زمینوں پر کئے گئے ناجائز قبضے کی عثمان بزدار کی طرح تحقیقات نہ کروائے، عمران خان کو ایسا آرمی چیف چاہئے جو2023 کے الیکشن عمران خان کو پلیٹ میں رکھ کر دے اور سارے الیکٹیبلز جو چھوٹی پارٹی کے ہیں وہ عمران خان کی گود میں ڈال دیں
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ملک میں تماشا لگایا ہوا ہے لوگ محظوظ ہو رہے ہیں، اس تماشے کے ملک پر اثرات کیا پڑ رہے ہیں کوئی نہیں سوچ رہا، قیاس آرائی اور جھوٹ پر شروع کیا گیا تماشا زیادہ عرصہ نہیں چلتا اسلئے نیا تماشا آ جاتا ہے لیکن سوچ ایک ہی ہوتی ہے کہ مجھے کرسی دو، بس اسکے لئے کبھی امپورٹڈ حکومت، کبھی لوٹے، کبھی غدار، کبھی امریکی سازش کی بات کی جاتی ہے ، با شعور کو بے ضمیر بنانے کی ایک ہی پہچان ہے کہ وہ عمران خان کا ووٹر ہے یا نہیں، عمران خان کہتے ہین کہ چوروں کو آرمی چیف لگانے کا اختیار نہیں ہونا چاہئے بالکل ایسا ہی ہے،لیکن جسے اختیار ہے وہ وزیراعظم ہے، اپنی مرضی کا آرمی چیف چاہئے، عمران خان کو ایسا آرمی چیف چاہئے جو یہ بات یقینی بنائے کہ ڈیم فنڈڈز کے بارے میں اکٹھے کئے گئے اربوں روپے پر کوئی بات نہ کرے، جو فارن فنڈنگ کیس کے حوالہ سے بات مزید آگے نہ بڑھائے، عمران خان کو ایسا آرمی چیف چاہئیے جو سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف گھناؤنی مہم چلانے والوں کو نظر انداز کرے،اربوں روپے کی کرپشن کو نظر انداز کرے، خیرات کے پیسے سیاست کے لئے استعمال ہوں اور کوئی ان پر انگلی نہ اٹھا سکے، جو اس بات کو نظر انداز کرے کہ احساس پروگرام میں غریبوں کے نام پر کیسے لوٹا جاتا ہے، جو توشہ خانہ کی تحقیقات رکوا دے، جو نیب کی طرف سے بند کی گئی انکوائریز کو کبھی بھی منطقی انجام تک نہ پہنچائے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کو ایسے لوگ چاہئے جو الیکشن پلیٹ میں رکھ کر دیں، نہ شفافیت ہو نہ کچھ بس عمران خان وزیراعظم بن جائیں، چار سال مین بولے گئے جھوٹ پر پردے ڈالنے والے لوگ عمران خان کو چاہئے،
تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ جب سے عمران خان نے روایتی سیاست سے ہٹ کر ملک کو سیاسی بحران میں دھکیلا ہے تب سے ان کا سیاسی مقدر بھی سو گیا ہے ۔
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی جارحانہ طرز سیاست سے ایک کے بعد ایک بحران ان کی پارٹی کے اندر بھی جنم لے رہا ہے۔ یہ بحران کبھی آئینی ہو تا ہے تو کبھی قانونی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ توہین عدالت ، ممنوعہ فنڈنگ کیس، توشہ خانہ ریفرینس اور اب بغاوت کے مقدمے عمران خان کی سیاست پر کاری ضرب لگا رہے ہیں ۔ عمران خان جتنے مقبول ہیں اتنے ہی ان کے عوامی نمائندوں کے منہ سوجھے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کو پارٹی کے اندر سے بھی ایک بڑے بحران کا خدشہ ہے کیونکہ سیاست کے پنڈت اس وقت تحریک انصاف کی بقاء پر سوالیہ نشان چھوڑ رہے ہیں ۔ کچھ افواہیں یہ بھی اڑ رہی ہیں کہ تحریک انصاف کو قیادت کے بحران کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔آج ہم بات کریں گے کہ کس طرح تخت پنجاب پر ایک بار پھر کالے بادل منڈلا رہے ہیں ، اس کے علاوہ عمران خان کے گرد موجود خوشامدی ٹولا کیسے تحریک انصاف کی جڑیں کاٹ رہا ہے ۔ایک ہی ملک میں رہنے والے دو شہریوں کےلیے قانون اور انصاف کی تعریف مختلف کیوں ہے Corruption Queen کو کیسے بچایا جا رہا ہے ؟اور تحریک انصاف کی بقا کو کس سے خطرہ لاحق ہے ؟
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت عمران خان ایک شدید کشمکش کے عالم میں ہیں کیونکہ ان کی پارٹی کے اندر کے لوگ آپس میں دست گریبان ہور ہے ہیں ۔ ۔ ایک مشکل سے نکلتے ہیں تو نئی مشکل ان کا راستہ تک رہی ہوتی ہے ۔ ان دنوں فواد چوہدری جنھیں سیاسی مخالفین کی کردار کشی کرنے میں کمال مہارت حاصل ہے اور جو اپنی زبان سے ہمیشہ اس معاشرے کے اخلاقیات کا جنازہ نکالتے رہتے ہیں ، ان کے درمیان اور عمران خان کے وکیل حامد خان کے دوران لفظی گولہ باری جاری ہے ۔یہ جنگ پہلے اتنی زیادہ شدید نہیں تھی لیکن جب سے عمران خان نے حامد خان کو توہین عدالت کیس میں اپنا وکیل رکھا ہے تب سے اس جنگ میں شدت آ گئی ہے اور آہستہ آہستہ اس آگ کے شعلے تحریک انصاف کے باقی رہنماوں کو بھی گھائل کر رہے ہیں ۔۔کل عمران خان توہین عدالت کیس میں پیش ہوئے اور وکلاء کے دلائل سننے کے بعد معزز عدالت نے ان کا موقف غیر تسلی بخش قرار دیا اوراس کے ساتھ ہی ان پر فرد جرم بھی عائد ہو گیا۔اب فواد چوہدری اور عمران خان کے قریب گردش کرنے والے ٹولے کے مطابق حامد خان ٹھیک سے کیس نہیں لڑ رہے ۔ فواد چوہدری نے تو یہ تک کہہ دیا کہ حامد خان کا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نا ہی وہ تحریک انصاف کو Represent کرتے ہیں ،۔ حامد خان اپنی حیثیت اور اوقات کے مطابق کیس لڑیں ۔اس کی وجہ کیا ہے ؟ فواد چوہدری اور تحریک انصاف کے باقی اراکین میں حامد خان کی وجہ سے کیوں اتنا غصہ ہے؟ وہ وجہ یہ ہے کہ حامد خان شروع دن سے عمران خان کے ساتھ رہے ہیں ۔ حامد خان کا شمار تحریک انصاف کی بنیاد رکھنے والوں میں ہوتا ہے ۔ اور فواد چوہدری جس کا کام ہی لوگو ں کو آپس میں لڑوانا اور پھوٹ ڈلوانا ہے ، اب اس مشن پر ہے کہ حامد خان اور عمران خان کے درمیان کچھ ایسا ہو جائے جس سے حامد خان سے ہمیشہ کےلیے جان چھوٹ جائے۔در اصل یہ وہ ٹولہ ہے جو عمران خان کی ہر سیاسی شکست کا ذمہ دارہے ۔ انھی کے مشوروں اور خوشامد سے تحریک انصاف آج بحرانوں کی زد میں ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو چاہتے ہیں اور جان بوجھ کر چاہتے ہیں کہ عمران خان کو کیسز میں پھنسا دیں تا کہ پارٹی ان کی جھولی میں آ گرے ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب آ جاتے ہیں پنجاب میں بڑھنے والے سیاسی درجہ حرارت کی طرف ۔ میں نے کچھ دن پہلے ہی خبر دے دی تھی کہ پنجاب میں ایک بڑی ہلچل ہونے والی ہے اور عمران خان سمیت چوہدری ایک بڑی پریشانی کے عالم میں مبتلا ہیں ۔اب اس تبدیلی کی خبریں زور پکڑ رہی ہیں اور عمران خان نے ایک بار پھر اپنے جلسوں میں رونا پیٹنا شروع کر دیا ہے۔۔ مسٹر ایکس اور مسٹر وائی کا تذکرہ بھی ایک بار پھر زور پکڑنے لگا ہے ۔ جیسا کی ان کی عادت ہے جب حالات ان کے قابو میں نہیں ہوتے تو وہ الزامات لگانا شروع کر دیتے ہیں ۔ عدالت ان کے خلاف فیصلہ دے تو عدالت کے خلاف، الیکشن کمیشن ان کے خلاف فیصلہ دے تو الیکشن کمیشن کے خلاف ہو گئے اور جب کوئی منجن نا بچا تو فوج کو بدنام کرنا شروع کر دیا ۔ لیکن جیسے ضمنی الیکشن میں اداروں کو متنازعہ بنانے کی ساری کوششیں ناکام ہوئی تھیں اس بار بھی ہر کوشش ناکام ہو گی۔پنجاب میں پرویز الہی کی حکومت صرف دس ووٹوں کے بل بوتے ٹکی ہوئی ہے ۔ جیسے ہی ان دس ووٹوں کی بیساکھی کھسکی تو پرویز الہی کے نیچے سے تخت پنجاب بھی سرک جائے گا۔منصوبہ یہ ہے کہ پہلے جنوبی پنجاب سے کچھ ایم پی ایز تحریک انصاف چھوڑیں گے ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ تحریک انصاف سے استعفی دے کر مسلم لیگ نواز میں شامل ہو جائیں کیونکہ جنوبی پنجاب کی اکثریت ن لیگ ہی سے تحریک انصاف میں شامل ہوئی تھی ۔اور اس کے بعد ق لیگ کے کچھ ایم پی ایز بھی ہو سکتا ہے کہ چوہدری پرویز الہی کا ساتھ چھوڑ دیں ۔ ق لیگ کے ایم پی ایز تو پہلے بھی چوہدری شجاعت حسین سے ملاقاتیں کر چکے ہیں ۔ اور چند اور ملاقاتوں کی اطلاع بھی میرے تک پہنچ چکی ہے ۔ اس لیے حالات بیان کر رہے ہیں کہ بہت جلد پنجاب میں ایک بڑی تبدیلی آ جائے ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے بعد ایک بڑی اور ہوش اڑانے والی خبر میری آنکھوں سے گزری او ر میں ابھی تک سکوت کے عالم میں ہوں ۔ یہ خبر تھی فرح گوگی کے حوالے سے ۔ آپ کو مبارک ہو کہ فرح گجر کے خلاف دائر کیا گیا مقدمہ اب خارج ہو گیا ہے ۔ اس مقدمے میں فرح گجر پر فیصل آباد میں غیر قانونی طور پر دس ایکڑ زمین الاٹ کروانے کا الزام تھا ۔ آج ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم جن کے پاس ڈی جی اینٹی کرپشن کا اضافی چارج بھی ہے انھوں نے یہ مقدمہ خارج کیا اور ساری تحقیقات کوبھی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا ۔مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ فرح گجر کی کرپشن کی داستانیں تو میں نے خود دکھائی تھیں ۔ اس کے سارے ثبوت بھی ٹیلی ویژن پر میں نے دکھائے تھے لیکن اس کے باوجود یہ مقدمہ بند کر دیا گیا ۔اور یہ مقدمہ خارج کیسے ہوا؟ اس کی تو بڑی واضح وجہ ہمارے سامنے ہے ۔ جب دس سیٹوں کے عوض آپ کو ملک کے سب سے بڑے صوبے کی وزارت مل جائے تو پھر آپ مالک کی حکم عدولی تو نہیں کر سکتے ۔ یا فرض کرو اگر آپ کریں بھی تو کب تک آپ Resistکر سکتے ہیں ۔اس لیے پہلے عثمان بزدار کے خلاف بنائے گئے سارے کیس بند ہوئے اور اب فرح گجر جو ایک طرح سے Corruption Queen تھی، جس نے اربوں روپے کے گھپلے کیے ۔ اس پر قائم کیے گئے مقدمے بھی خارج ہو رہے ہیں۔تحریک انصاف کی تو تاریخ رہی ہے کہ جو جب تک عمران خان کے سامنے سر جھکاتا ہے تب تک وہ نوازا جاتا ہے اور جیسے ہی کوئی عمران خان کی Favorite Listسے نکلتا ہے تب اس کے برے دن شروع ہو جاتے ہیں ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا ہ میں بھی یہی ہو رہا ہے ۔ ایک طرف پنجاب میں فرح گوگی پر کرپشن اور بے ضابطگیوں کے کیس بند ہو رہے ہیں ، وہیں دوسری طرف تحریک انصاف کے ممبر صوبائی اسمبلی کے خلاف کرپشن کے کیس کھولے جا رہے ہیں ۔وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کے صوبائی اسمبلی کے ممبر محمد فہیم نے کچھ دن پہلے پارٹی چھوڑی ۔ اور عمران خان کے یوٹرن سے تنگ آ کر پارٹی چھوڑی ۔ اس کے بعد آج اس گستاخی پر انھیں اینٹی کرپشن کا نوٹس موصول ہو گیا ۔یہ وہ محمد فہیم ہیں جن کا خیبر پختونخواہ کی سیاست میں ایک اہم کردار ہے اور یہ تحریک انصاف میں ایک نیا Forward Block بھی بنا سکتے ہیں ۔ اس لیے اب انھیں Pressurizeکیا جا رہا ہے کہ آپ نے تحریک انصا ف چھوڑنے اور اختلاف کرنے کی جرات کیسے کی ہے ؟اب تو عمران خان جس رخ سفر کر رہے ہیں ہو سکتا ہے وہ اختلاف کرنے والے کو اسلام سے خارج ہونے کا بھی فتوی صادر کر دیں ۔ کیونکہ ان کے بقول تو جو وفاداری بدلتا ہے اورSpecificallyتحریک انصاف سے وفاداری بدلتا ہے تو وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔ یہ میں کوئی طنز نہیں کر رہا بلکہ عمران خان واقعی آج کل جلسوں میں ایسے جملے کہہ رہے ہیں اور برملا کہہ رہے ہیں کوئی انھیں روکنے والا نہیں ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کل رات ملتان میں تو انھوں نے نعوذباللہ تحریک انصاف میں شرکت کو اسلام قبول کرنے سے Link کر دیا ۔اب ایسے شخص کی عقل پر بندا ماتم نا کرے تو اور کیا کرے ؟ایک طرف غریب مر رہا ہے ، سیلاب متاثرین کے بچے بلک بلک کر خیموں کے اندر دم توڑ رہے ہیں ، بے روزگاری اور پسماندگی عروج پر ہے ۔ جمہوری مسائل ایک طرف ہیں ۔ سیاست میں رواداری ، احترام، اختلاف کے حسن کو دیمک چاٹ رہی ہے اور ہمارے حکمران ہمیشہ کی طرح غفلت کی نیند سو رہے ہیں ۔ غداری کے ، شرک کے فتوے بانٹ رہے ہیں ۔۔۔ لوگوں کو اسلام سے خارج قرار دے رہے ہیں اللہ ہی پاکستان کا ہامی و ناصر ہو۔
بیٹی پیدا ہونا جرم، خاتون پر بہیمانہ تشدد، گھر سے نکال دیا گیا
شیخوپورہ کے علاقہ جھبراں میں ایک دل دہلا دینے والا واقع پیش آیا جہاں شوہر اپنی بیوی پر تشدد کر رہا ہے۔ ڈی پی او شیخوپورہ کو اس ضمن میں درخواست دی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سائلہ نسیم اختر محنت مزدوری کرتی ہوں اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتی ہوں سائلہ کی بیٹی کا نکاح اعجاز سے ہوا، بیٹی کی بیٹی پیدا ہوئی ،17 اگست کو میری بیٹی پر شدید اور بہیمانہ تشدد کیا گیا صدر تھانہ شیخوپورہ میں کاروائی کے لئے درخواست دی گئی مگر پولیس نے کوئی کاروائی نہیں کی، میری بیٹی کو گھر سے نکال دیا گیا
ملزم نے میرے گھر آ کر مجھے پستول دکھا کر دھمکیاں دیں اور کہا کہ جان سے مار دیں گے،مجھے تحفظ فراہم کیا جائے اور ملزم کے خلاف کاروائی کی جائے،خاتون کا کہنا ہے کہ بیٹی پیدا ہونے کی وجہ سے ملزم نے میری بیٹی پر تشدد کیا اور اسے گھر سے نکالا، تا ہم اس حوالہ سے پولیس نے ابھی تک کسی قسم کی کاروائی نہیں کی، خاتون نے پولیس کو دی گئی درخواست میں اس بات کا ذکر نہیں کیا،
قبل ازیں پنجاب کے شہر میانوالی میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا پہلی اولاد بیٹی پیدا ہونے پر سفاک باپ نے 7 دن کی بیٹی کو 5 فائر مار کر قتل کردیا پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ محلہ نور پورہ میں پیش آیا جہاں باپ کی فائرنگ سے 7 روز کی نومولود جاں بحق ہو گئی ہے، ملزم جائے وقوعہ سے بھاگ گیا ہے ،پولیس کے مطابق ملزم بیٹے کا خواہشمند تھا اور بیٹی پیدا ہونے پر اسے مار دیا،
چیئرپرسن نیشنل کمیشن برائے وقار نسواں نیلوفر بختیار کا کہنا ہے کہ باپ نے7 دن کی بچی کو اس لیے قتل کیا کہ اس کو بیٹے کی خواہش تھی ملزم کی گرفتاری کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔ ہمارے ملک میں انسانی حقوق خاص طور پر خواتین کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف کا کہنا تھا کہ میانوالی میں جس باپ نے اپنی پہلی اولاد جو بدقسمتی سے بیٹی ہو گئی اس کو پانچ فائر مار کر زندہ درگور کر دیا اس معاشرے میں کچھ نہیں بدل سکتا اگر کوئی ہمت کر کے عورتوں کے حقوق کے لئے آواز اٹھاے تو اس کو ہر طرح کی گالیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے پدر سری معاشرے میں عورت ہونا جرم ہے