Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوئم 96 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

    ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوئم 96 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

    برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوئم 96 سال کی عمر میں چل بسیں۔


    برطانوی میڈیا کے مطابق شاہی محل بکنگھم پیلس نے ملکہ برطانیہ کے انتقال کا اعلان کردیا ہے۔شہزادہ چارلس برطانیہ کے آئندہ بادشاہ بن جائیں گے۔

    برطانوی حکومت نے ملکہ برطانیہ کے انتقال پر دس روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات آج لندن میں اد ا کی جائیں گی.

    رپورٹ کےمطابق ان کے بچے پہلے سے ہی بالمورل کی طرف روانہ ہو چکے تھے، جن میں ولی عہد 73 سالہ شہزادہ چارلس، 72 سالہ شہزادی عینی، 72 سالہ شہزادہ اینڈریو اور 58 سالہ شہزادے ایڈورڈ شامل ہیں۔

    ان کے ہمراہ شہزادہ چارلس کے بڑے صاحبزادے شہزادہ ولیم، ان کے چھوٹے بیٹے شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن بھی شامل ہیں، جو شاہی زندگی کو ترک کر کے امریکا جانے کے بعد غیر معمولی دورے پر برطانیہ آئے ہیں۔


    رائل فیملی کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بتایا گیا کہ ملکہ الزبتھ کا انتقال ہو گیا ہے،برطانوی ملکہ اور بادشاہ فی الحال بالمورل میں رہیں گے، اور کل لندن روانہ ہوں گے۔

    اس سے قبل بکنگھم پیلس سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ملکہ برطانیہ طبیعت خراب ہونے کے باعث بیلمورل کاسل میں زیرِ علاج تھیں۔ ڈاکٹروں کی جانب سے ملکہ کی صحت کے بارے میں تشویش ظاہر کیے جانے کے بعد طبی نگہداشت میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ مزید جائزہ لینے کے بعد ملکہ کے ڈاکٹر اُن کی صحت کے بارے میں فکرمند تھے اور انھوں نے ملکہ کو طبی نگہداشت میں رکھنے کا مشورہ دیا تھا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ نے بتایا تھا کہ برطانیہ کے سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والی 96 سالہ ملکہ برطانیہ گزشتہ اکتوبر سے صحت کے مسائل سے دوچار ہیں، انہیں چلنے اور کھڑے ہونے میں مشکلات درپیش ہیں۔

    برطانوی وزیر اعظم لِز ٹرس نے کہا تھا کہ خبر کے باعث پورے ملک میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ میری اور پورے ملک کی نیک تمنائیں ملکہ اور ان کے خاندان کے ساتھ ہیں۔

    ملکہ ایلزبتھ دوم کا مکمل نام ایلزبتھ الیگزینڈرا میری تھا، وہ مملکت متحدہ کی ملکہ اور دولت مشترکہ قلمرو کی آئینی ملکہ ہیں۔ ملِکہ ایلزبتھ 21 اپریل 1926 کو لندن میں پیدا ہوئیں اور ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ 1947 میں ان کی شادی شہزادے فلپ کے ساتھ ہوئی، جن سے 4 بچے ہیں۔ جب ان کے والد بادشاہ جارج ششم کا 1952 مین انتقال ہوا، تب ایلزبتھ دولتِ مشترکہ کی صدر اور مملکت متحدہ، کناڈا، اوسٹریلیا، نیو زیلینڈ، جنوبی افریقا، پاکستان اور سری لنکا کی حکمران بن کئیں۔ ان کی تاجپوشی سال 1953 میں ہوئی اور یہ اپنی طرح کی پہلی ایسی تاج پوشی تھی جو ٹیلی ویژن پر نشر ہوئی۔ 9 ستمبر 2015 کو انھوں نے ملِکہ وِکٹوریا کے سب سے لمبے دورِ حکومت کے ریِکارڈ کو توڑ دیا اور برطانیہ پر سب سے زیادہ وقت تک حکومت کرنے والی ملِکہ بن گئیں۔ وہ پورے عالم میں سب سے عمردراز حکمران اور سب سے لمبے وقت تک حکومت کرنے والی ملِکہ ہیں۔

    1936ء میں جب ایلزبتھ کے والد پرنس البرٹ اپنے بھائی کے تخت چھوڑنے کے بعد بادشاہ بنے، تو ایلزبتھ ان کی ولی عہد بن گئی۔

    2 جون 1953ء کو ویسٹ منسٹر ایبے، لندن میں تخت نشینی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں ملکہ ایلزبتھ باقاعدہ طور پر مملکت متحدہ، کناڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ، پاکستان اور سری لنکا کی حکمران بن گئیں۔

    6 فروری 1952 کو پاکستان کے بادشاہ جارج ششم کی موت کے بعد ان کی بیٹی شہزادی الزبتھ پاکستان کی نئی حکمران بن گئیں۔ ملکہ الزبتھ کو پاکستان سمیت اپنے تمام علاقوں میں ملکہ قرار دیا گیا تھا۔ پاکستان میں 8 فروری کو گورنر جنرل نے اعلان کیا کہ ملکہ معظمہ الزبتھ دوم اب اپنے علاقوں اور ریاستوں کی ملکہ اور دولت مشترکہ کی سربراہ بن گئی ہیں۔ انہیں پاکستان میں 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔

    مورخ اینڈریو میچی نے 1952 میں لکھا تھا کہ ملکہ الزبتھ برطانیہ کا تو چہرہ تھی ہیں ساتھ ہی وہ برابری سے پاکستان کا بھی چہرہ تھی، 1953 میں ملکہ الزبتھ کی تاجپوشی کے دوران انہیں پاکستان کی ملکہ اور دولت مشترکہ قلمرو کا تاج پہنایا گیا۔ ملکہ نے تاجپوشی کے دوران یہ حلف لیا کہ وہ پاکستان کی عوام پر لوگوں کے متعلقہ قوانین اور رواج کے مطابق حکومت کریں گی۔

    ملکہ کے تاجپوشی گاؤن پر ہر دولت مشترکہ قوم کے نشانیاں سے کڑھائی کی گی تھی۔ شاہی گاؤن میں پاکستان کے تین نشانات نمایاں تھے: ہیرے اور سنہرے کرسٹل کے بنے گندم ، چاندی اور سبز ریشم اور پٹ سن سے بنا کپاس ، اور سبز ریشم اور سنہرے دھاگے سے بنا پٹ سن۔ پاکستان کے وزیر اعظم محمد علی بوگرا نے بھی اپنی اہلیہ اور دو بیٹوں کے ساتھ لندن میں تاجپوشی کی تقریب میں شرکت کی۔ تاجپوشی کی پریڈ میں پاکستانی فوجیوں اور جہازوں نے بھی حصہ لیا۔

    23 مارچ 1956 کو جمہوریہ آئین کو اپنانے پر پاکستانی بادشاہت ختم کر دی گئی۔ تاہم پاکستان دولت مشترکہ کے ممالک میں ایک جمہوریہ بن گیا۔ ملکہ الزبتھ نے صدر مرزا کو ایک پیغام بھیجا جس میں انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کے ملک کے قیام کے بعد سے اس ملک کی ترقی کو گہری دلچسپی کے ساتھ پیروی کی ہے۔ میرے لیے یہ جان کر بہت اطمینان کا باعث ہے آپ کا ملک دولت مشترکہ میں رہنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مجھے یقین ہے پاکستان اور دولت مشترکہ کے دیگر ممالک ترقی کرتے رہیں گے اور ان کی باہمی رفاقت سے فائدہ اٹھائیں گے۔

    ملکہ نے 1961ء اور بعد میں 1997ء میں پاکستان کی آزادی کی گولڈن جوبلی کے موقع پر پاکستان کا دورہ کیا۔ ان کے ساتھ شہزادہ فلپ ، ڈیوک آف ایڈنبرا بھی تھے۔

  • کے پی حکومت کا ہیلی کاپٹر استعمال کرنیوالے 1800 افراد کی فہرست سامنے آگئی

    کے پی حکومت کا ہیلی کاپٹر استعمال کرنیوالے 1800 افراد کی فہرست سامنے آگئی

    عمران خان پرہیلی کاپٹراستعمال کرنےکے کیس کے معاملے پرنیب نےالیکشن کمیشن کوخط لکھ دیا،نیب نے پبلک اکاونٹس کمیٹی کی ہدایت پر الیکشن کمیشن کوخط لکھ دیا،نیب نے مراسلے میں عمران خان کے ہیلی کاپٹر استعمال کو اختیار ات سےتجاوز قرار دیدیا، مراسلے میں کہا گیا کہ عمران خان کےعلاوہ40سےزائدسیاسی شخصیات نےخیبرپختونخوا حکومت کاہیلی کاپٹراستعمال کیا،نیب نےہیلی کاپٹراستعمال کرنےوالوں سےریکوری کیلئےخیبر پختونخواحکومت کوکیس ریفرکردیا،نیب کے مطابق ہیلی کاپٹراستعمال کرنےوالی سیاسی شخصیات کےذمہ9کروڑ68لاکھ سےزائدرقم واجب الاداہے،عمران خان پرہیلی کاپٹراستعمال کرنےکی مدمیں6کروڑ39 لاکھ ہے،نیب نے ہیلی کاپٹرکاناجائزاستعمال کرنے پرسہولت کاروں کیخلاف بھی کارروائی کی سفارش کر دی.

    کے پی حکومت کا ہیلی کاپٹر استعمال کرنے والے 1800 افراد کی فہرست نیب نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) میں پیش کر دی۔

    رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی رہنما فیصل جاوید نے ہیلی کاپٹر پر 10 مفت وزٹ کیے جبکہ سابق وزیراعظم کی اہلیہ ریحام خان نے 2 بار ہیلی کاپٹر پر مفت سفر کیا، ابرار الحق نے بھی ہیلی کاپٹر پر 2 ٹرپ مفت کیے۔

    پی ٹی آئی رہنما شہر یار آفریدی، حفیظ اللہ اور امین اسلم بھی ہیلی کاپٹر استعمال کرتے رہے جبکہ صحافیوں میں فریحہ ادریس، ڈاکٹر شاہد مسعود اور ارشد شریف کا نام بھی شامل ہے۔
    رپورٹ پر چیئرمین پی اے سی نور عالم خان کا کہنا تھا کہ مفت ہیلی کاپٹر استعمال کرنے والوں سے ریکوری کرکے رقم نیب میں جمع ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ میری جان کو خطرہ ہے جس وجہ سےمجھے وزیراعظم نے دو گاڑیاں دی ہیں جس میں ایک بلٹ پروف ہے، مجھے ایک پارٹی لیڈر اور اس کے حواریوں نے نشانہ بنانے کی کوشش کی، لیکن بُلٹ پروف گاڑی واپس کر رہا ہوں کیونکہ میں اس کا پیٹرول نہیں برداشت کر سکتا۔

    چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ آج کل پنجاب کا ہیلی کاپٹر بھی بہت زیادہ استعمال ہو رہا ہے نیب اس کو بھی چیک کرے۔ پی اے سی کی جانب سے نیب کو 1800 افراد کی لسٹ پیش کرنے پر تعریفی خط بھی لکھا گیا۔

  • عرب امارات کے وزیرمملکت شیخ نہیان مبارک النہیان نے آرمی فلڈ ریلیف میں بڑی رقم جمع کرا دی

    عرب امارات کے وزیرمملکت شیخ نہیان مبارک النہیان نے آرمی فلڈ ریلیف میں بڑی رقم جمع کرا دی

    راولپنڈی:عرب امارات کے وزیرمملکت شیخ نہیان مبارک النہیان کا سیلاب زدگان کے امداد کا اعلان،اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات کے وزیرمملکت برائے رواداری اور بقائے باہمی شیخ نہیان مبارک النہیان اور چیئرمین بینک الفلاح نے آرمی فلڈ ریلیف میں پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے سمیت پاکستان کے لیے آفات سے نمٹنے کے لیے بینک کو ایک کروڑ جمع کروایا ہے

    اس حوالے سے پاکستان کے افواج کے ترجمان ادارے ائی ایس پی آر کی طرف سے ٹویٹ کرتےہوئے شیخ نہیان مبارک النہان کی طرف سے پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مدد کا یہ پیغام جاری کیا ہے ، اس پیغام میں کہا گیا ہے کہ عرب امارات کے وزیرمملکت نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے بڑی امداد کا اعلان کیا ہے ،

    یاد رہے کہ اس سے پہلے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے پاکستان کی امداد کے لیے فلاحی گروپ قائم کر دیا۔

    فلاحی گروپ ‘We stand together’ سیلاب زدگان کے لیے سامان جمع کرےگا، یہ گروپ متحدہ عرب امارات میں کمیونٹی ڈویلپمنٹ کی وزارت کے ماتحت کام کرےگا۔اماراتی ریڈکریسنٹ اتھارٹی، دبئی کیئرز اور شارجہ چیریٹی ایسوسی ایشن بھی پاکستان کے لیے امداد جمع کریں گے، سیلاب زدگان کے لیے امداد اکٹھی کرنےکا پہلا ایونٹ ہفتہ 10 ستمبر صبح 9 سے دوپہر 1 بجے تک ابوظبی نیشنل ایگزیبیشن سینٹر میں ہوگا۔

    دبئی میں ایکسپو سٹی کے ساؤتھ ہال اور شارجہ ایکسپو سینٹر میں سیلاب زدگان کے لیے امدادجمع کی جائےگی۔ فلاحی گروپ ‘We stand together’ کی قیادت اماراتی خیراتی تنظیمیں کر رہی ہیں، گروپ نے اماراتی شہریوں سے سیلاب سے متاثرہ پاکستانی خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کی اپیل کی ہے۔امدادی سرگرمیوں کے لیے Volunteers.ae پر رجسٹریشن کرائی جاسکتی ہے۔

    متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی فضائیہ کے دو مزید سی۔130 طیارے یو اے ای ریڈ کریسنٹ اور یو این ایچ سی آر کی جانب سے پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان لے کر کراچی پہنچ گئے۔یو اے ای ایئرفورس کی پہلی پرواز نے سہہ پہر تین جبکہ دوسری پرواز نے شام 5:37 پر کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ کیا۔

     

    متحدہ عرب امارات کی ہلال احمر کے سربراہ اور یو این ایچ سی آر کے نمائندے نے طیاروں کا استقبال کیا۔پاکستانی سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران اور پاک فوج کی فائیو کور کے افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔اس سے قبل اماراتی ایئر فورس کے سی۔130طیارے پیر کو بھی کراچی پہنچے تھے۔

    قبل ازیں متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد کے لئے 50 ملین درہم کی فوری امداد کی ہدایت کی ہے۔

    یہ امداد محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشی ایٹوز، ورلڈ فوڈ پروگرام اور محمد بن راشد المکتوم ہیومینٹیرین اینڈ چیریٹی اسٹیبلشمنٹ کے تعاون سےبراہ راست خوراک کی صورت میں سیلاب سے متاثرہ افراد اور خاندانوں کوفراہم کی جا ئے گی ۔

    و اے ای کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان میں بڑے پیمانے پر سیلاب سے 1136 سے زائد افراد جاں بحق، لاکھوں افراد بے گھر، 3450 کلومیٹر سے زیادہ اہم سڑکیں تباہ اور کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ گزشتہ ہفتوں کے دوران پاکستان میں بارشوں کی شرح گزشتہ 30 سالوں کے دوران ریکارڈ کی گئی شرح سے چار گنا تجاوز کر گئی ۔

    رپورٹ کے مطابق انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری امداد کی فراہمی متحدہ عرب امارات کی عالمی سطح پر قدرتی آفات اور بحرانوں سے متاثرہ افراد کی ضروریات کو پورا خواہش کا مظہر ہے۔ محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشی ایٹوز 2015ء میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کے تحت 30 سے زیادہ انسانی اور ترقیاتی اقدامات اور اداروں کو یکجا کیاگیا ہےجن میں سے زیادہ تر شیخ محمد بن راشد المکتوم نے 20 سال سے زیادہ عرصے میں قائم کئے اور ان کی معاونت بھی کر رہے ہیں۔ آج اس میں درجنوں خیراتی ادارے شامل ہیں جو پانچ اہم شعبوں میں کام کرتے ہیں جن میں انسانی امداد اور ریلیف، صحت کی دیکھ بھال اور بیماریوں پر قابو پانا ، تعلیم اور علم کو پھیلانا، اختراع اور کاروباری صلاحیت اور کمیونٹیز کو بااختیار بنانا شامل ہیں

  • مخالفین الیکشن سےبھاگ گئے،عمران خان،الیکشن ملتوی ہونے پر مایوسی ہوئی،بلاول بھٹو

    مخالفین الیکشن سےبھاگ گئے،عمران خان،الیکشن ملتوی ہونے پر مایوسی ہوئی،بلاول بھٹو

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مخالفین الیکشن سےبھاگ گئے ہیں، مجھے پورا یقین تھا جلسے دیکھ کران کی کانپیں ٹانگنا شروع ہوگئی تھیں، ضمنی الیکشن میں الیکشن کمیشن، انتظامیہ، مسٹرایکس کی مدد کے باوجود ان کا الیکشن میں صفایا ہو گیا، اب یہ ڈر رہے ہیں اگر اتوار کو الیکشن ہو جاتا تو ان کی تین وکٹیں مزید گر جانی تھیں،میرا چیلنج ہے جب بھی 9 حلقوں میں الیکشن ہو گا، تمام سیٹیں پی ٹی آئی جیتے گی، یہ اپنے امپائر ہونے کے باوجود نہیں جیت سکتے۔یہ ہارنے کے خوف سے وکٹیں اٹھا کر لے گئے ہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملتان کے جذبے اورجنون کوسلام پیش کرتا ہوں، خواتین کو بھی سلام پیش کرتا ہوں،مہر بانو قریشی کا مخالف امیدوار پیسے کی پوجا کرتا ہے،کبھی پیسے کی پوجا نہیں کرنی،آجکل میرے ایم پی ایز کو پارٹی چھوڑنے کے لیے دھمکیاں دی جارہی ہیں،اینکرز، صحافیوں کو ڈرایا جا رہا ہے، پیسے کے بت کے علاوہ ایک خوف کا بت بھی ہے،خوف کے بت سے ڈرنے والا کبھی بڑا کام نہیں کر سکتا، ہم نے رحمت اللعامین اتھارٹی بنائی تاکہ بچوں کونبی کی زندگی بارے پتا چلے،مدینہ کی ریاست دنیا کا سب سے بڑا انقلاب تھا۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اللہ ہمیں حکم دیتا ہے کہ اپنے نبی ﷺ کے راستے پر چلو، میری کوشش ہے ہم اپنے نبی ﷺکے راستے پر چلیں، نبی ﷺ کے راستے پر چل کر ہم ایک عظیم قوم بن سکتے ہیں،ہم نے حقیقی آزادی لیکر ملک کو آزاد کرنا ہے،زرداری، نوازشریف ملک کا پیسہ 30 سال سے لوٹ رہے ہیں،یہ وہ لوگ ہے جو بیرونی ملکوں کے حکم پر ہمارے فیصلے کرتے ہیں،یہ امریکی سازش کے تحت اقتدار میں آئے،یہ روس سے سستا تیل نہیں لے سکتے کیونکہ اپنے آقا سے ڈرتے ہیں۔

    ی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے ملک کواپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہو گا، جب تک اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہوتے ہرے پاسپورٹ کی عزت نہیں ہو گی، دو ماہ میں پاکستان کی معیشت نیچے جا رہی ہے، بجلی، ڈیزل کی قیمت دُگنا ہو چکی ہے، کسان کا برا حال ہے، ملک میں انڈسٹری بند اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے، ہمارے دورمیں ریکارڈ ایکسپورٹ ہو رہی تھی، ہمارے دورمیں چار بڑی فصلوں کی تاریخی پیداوار ہوئی، ہماری حکومت میں کسانوں کو پہلی دفعہ پورا معاوضہ دیا گیا، ہماری حکومت نے ہر خاندان کو 10 لاکھ کی انشورنس دی۔

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین اور وفاقی وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے الیکشن کمیشن کی جانب سے ملک بھر میں قومی اور صوبائی سطح پر تمام ضمنی الیکشن ملتوی کرنے کے اعلان پر مایوسی کا اظہار کردیا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے لکھا کہ عمران خان آخر کب تک لاڈلہ رہے گا؟ میرے ملتان اور کراچی کے امیدوار ضمنی انتخابات کے اچانک التواء سے مایوس ہوئے ہیں، وہ طویل عرصے سے نمائندگی سے محروم اپنے حلقہ انتخابات میں خدمات سرانجام دینا چاہتے ہیں۔

    وفاقی وزیر نے اپنے ٹوئٹ میں مزید لکھا کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی کہ بالکل آخری لمحات میں پی ٹی آئی کو انتخابات سے فرار کا راستہ مہیا کیا جاتا۔

  • عمران خان تمہیں سیاسی میدان میں  تمہارے گھر تک چھوڑ کر آوں گی،مریم نواز

    عمران خان تمہیں سیاسی میدان میں تمہارے گھر تک چھوڑ کر آوں گی،مریم نواز

    پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز بہاولنگر کے علاقے چشتیاں میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لندن سے نواز شریف نے چشتیاں کیلئے خصوصی سلام بھیجا ہے،نواز شریف ووٹ کو عزت دو کی مہم چلارہے تھے،چشتیاں والوں کی محبت اور شفقت ہمیشہ یاد رہے گی ،چشتیاں نواز شریف کا تھا ،ہے اور رہے گا.

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ چشتیا ں شیر کا تھا ،ہے اور رہے گا ،نواز شریف کو ایک بار بھی مدت پوری کرنے نہیں دی گئی،3بار کےمنتخب وزیراعظم کو ایک بار بھی مدت پوری کرنے نہیں دی گئی،میں جس انسان کی شکل دیکھنا گوارا نہیں کرتی مجھے اس کے بارے میں بات کرنی پڑتی ہے،یہ جو بھی کر لیں ، اس کا انجا م بہت برا ہوگا،نواز شریف کے منصوبے گننے شروع کروں تورات کے بارہ بج جائیں گے.

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کوئی منصوبہ تو کیا کبھی اینٹ تک نہیں لگائی ،عمران خان کی تقریر نواز شریف پر شروع اور نواز شریف پر ختم ہوتی ہے،میں تمہارے اوپر کوئی ذاتی حملہ نہیں کروں گی،میں تمہیں سیاسی میدان میں تمہارے گھر تک چھوڑ کر آوں گی،سیاسی میدان میں مریم نواز شریف تمہیں نہیں بخشے گی،پیٹرول مہنگا کرنے کی مخالفت کی تھی،عمران خان سیاست دان ہے نا ہی اس کی جماعت سیاسی ہے، عمران خان فتنہ یا انتشار نہیں ملک کی سب بڑی تباہی ہے.

    مریمنواز نے کہا کہ ملک میں سیلاب نے تباہی مچا دی،شہباز شریف اس کی لگائی ہوئی آگ کو بجھانے کی کوشش کررہے ہیں،شہباز شریف ہر روز سیلاب زدگان کے درمیان موجود ہوتے ہیں، عمران خان دکھاوے کیلئے سیلاب متاثرین میں گیا،کل عمران خان نے کہا مسلم لیگ ن کو ووٹ دینا گناہ کے برابر ہے، مسلم لیگ ن پاکستان کو بنانے اور سنوارنے والی جماعت ہے،کوئی بھی پاکستانی اپنے شہدا کی توہین برداشت نہیں کر سکتا، آئی ایم ایف سے معاہدہ عمران خان نے توڑا،قیمت پورا ملک ادا کر رہا ہے،ملکی معیشت بہتری کی طرف جا رہی ہے،اس کی دوبارہ اقتدار میں آنے کی خواہش منوں مٹی تلے دب کر رہے گی،

  • کراچی:کےایم سی کے50 کروڑ روپے کےٹھیکوں میں بندربانٹ

    کراچی:کےایم سی کے50 کروڑ روپے کےٹھیکوں میں بندربانٹ

    کراچی:کے ایم سی کے 50 کروڑ روپے کے ٹھیکوں میں بندر بانٹ کا انکشاف ہوا ہے۔شہر میں بارش کے بعد ایمرجنسی کے نام پر 50 کروڑ روپے لاگت کے ٹھیکے بغیر ٹینڈر منظور نظر ٹھیکیداروں کو دیے گئے۔

    ذرائع کے مطابق تمام ٹھیکے شہر میں ہونے والی بارشوں کے باعث ٹوٹی سڑکوں کے حوالے سے دیے گئے ہیں۔50 کروڑ روپے لاگت کے ٹھیکے ایڈوانس کاموں کی مد میں خاص ٹھیکے داروں کو دیے گئے ہیں۔اطہر کاظمی، سعید اور تنویر احمد نامی ٹھیکیداروں کو کے ایم سی محکمہ انجینیئرنگ کی جانب سے یہ ٹھیکے دئے گئے، ٹھیکوں کی بندر بانٹ میں سپپرا کے رولز 15 اور 16 کی کھلی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

    محکمہ انجینیئرنگ کے ایم سی کے ڈی جی اظہر شاہ اور چیف انجنیئر رزاق جونیجو کی ملی بھگت سے ٹھیکے منظور نظر ٹھیکے داروں کو دئے گئے۔محکمہ انجینیئرنگ کے ایم سی کے نئے تعینات ڈی جی اظہر شاہ 18 گریڈ کے افسر ہیں۔

    20 گریڈ کی محکمہ انجینیئرنگ کے ایم سی کی پوسٹ پر اظہر شاہ کی تعیناتی کو وزیراعلیٰ سندھ کے آشیرباد سے جوڑا جا رہا ہے، اظہر شاہ کو وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کا قریبی رشتے دار بتایا جاتا ہے۔50 کروڑ روپے لاگت کے ٹھیکوں کی بندر بانٹ کے بعد 1 ارب روپے کے آنے والے ٹھیکوں کی بھی منظور نظر ٹھیکیداروں کو دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

  • لاپتہ افراد کےلواحقین نےایک اہم شخصیت کی یقین دہانی کےبعد 50 روز سے جاری دھرنا ختم کردیا

    لاپتہ افراد کےلواحقین نےایک اہم شخصیت کی یقین دہانی کےبعد 50 روز سے جاری دھرنا ختم کردیا

    کوئٹہ:وزیراعظم کی لاپتہ افراد کیلئے قائم وفاقی کابینہ کی خصوصی کمیٹی کی یقین دہانی پر لاپتہ افراد نے 50 روز سے جاری دھرنا ختم کردیا۔ وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے تمام فریقین کا تعاون درکار ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر لاپتہ افراد کیلئے قائم کمیٹی نے کوئٹہ کا دورہ کیا۔

    وفاقی وزیر قانون بیرسٹر اعظم نذیر تارڑ، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اور شازیہ مری سمیت 8 رکنی کمیٹی نے دھرنے میں بیٹھے مظاہرین سے مذاکرات کئے۔ جس میں خصوصی کمیٹی کے فوکل پرسن سینیٹر کامران مرتضیٰ بھی شامل تھے۔

    کمیٹی نے لاپتہ افراد کے لواحقین سے ان کا مؤقف سنا اور دھرنا ختم کرنے پر آمادہ کیا، کمیٹی سے کامیاب مذاکرات کے بعد لاپتہ افراد کے لواحقین نے 21 جولائی سے زرغون روڈ پر ریڈ زون میں جاری دھرنا ختم کردیا۔کمیٹی ارکان نے دھرنا ختم کرنے پر شرکاء اور لاپتہ افراد کے لواحقین کا شکریہ ادا کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کہتے ہیں لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے تمام فریقین کا تعاون درکار ہے۔

    میڈیا سے گفتگو میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ پاکستان کا مسئلہ بن چکا ہے، اسے دو مختلف فورمز پر حل کر رہے ہیں، دکھ کی بات ہے کہ ہماری مائیں بہنیں اپنے پیاروں کیلئے سڑک پر بیٹھی ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کے لواحقین نے ہم پر اعتماد کرتے ہوئے دھرنا ختم کیا ہے، ان کے اعتماد پر پورا اتریں گے۔

    وزیر قانون بیرسٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وفاقی حکومت خلوص نیت سے لاپتہ افراد کا مسئلہ کرنا چاہتی ہے، اس حوالے سے کئی اجلاس کرچکے ہیں، لاپتہ افراد کے لواحقین سے بھی تفصیلی ملاقات ہوئی، مسئلہ حل کرنے کیلئے 2 ماہ کا وقت مانگا ہے۔

    وفاقی وزیر شازیہ مری نے کہا کہ لاپتہ افراد کے مسئلے پر تشویش ہے، لاپتہ افراد کے لواحقین کا دکھ ناقابل بیان ہے، یہ مسئلہ اب حل ہونا چاہئے، لواحقین کو اپنے پیاروں کیلئے سڑکوں پر دیکھ کر دکھ ہوا ہے، کوشش کریں گے لاپتہ افراد کا مسئلہ سنجیدگی سے حل ہو۔

    اس سے قبل وفاقی وزراء رانا ثناء اللہ، اعظم نذیر تارڑ، شازیہ مری، آغا حسن بلوچ، سینیٹر کامران مرتضیٰ پر مشتمل وفاقی کابینہ کی کمیٹی برائے لاپتہ افراد نے کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو، صوبائی وزراء اور صوبائی حکام کے ساتھ اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں لاپتہ افراد کے حوالے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، چیف سیکریٹری بلوچستان عزیزی عقیلی نے لاپتہ افراد اور امن وامان کی صورتحال کے متعلق اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ دی۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • اردوہی کیوں ضروری ہے؟خاص تحریر:علی عمران شاہین

    اردوہی کیوں ضروری ہے؟خاص تحریر:علی عمران شاہین

    سات سال بھی بیت گئے اور عدالت عظمیٰ کا نفاذ اردو کا فیصلہ اور حکم بھی کاغذات اور فائلوں کی دبیز تہوں میں دفن ہی رہا۔پاکستان کے منصف اعظم کی کرسی پر محض چند دن کے لیے متمکن ہونے والے منصف جواد ایس خواجہ نے اپنے وداع کے دن یہی آخری فیصلہ سنایا تھا کہ”آئین کا حکم پورا کیا جائے اور اردو کو فوری اور ہر سطح پر مکمل نافذکر دیا جائے۔”

    ویسے کیسی حیرت کی بات ہےکہ ہر سطح پر نفاذ اردو حضرت قائد اعظم کا بھی حکم تھا جنہوں نے ڈھاکا میں کھڑے ہوکر فرمایا تھا کہ” ہماری قومی و سرکاری زبان صرف اور صرف اردو ہو گی اور جو کوئی اس پر آپ کو گمراہ کرے گا وہ آپ کا سب سے بڑا دشمن ہو گا۔”پھر 1948، 1956 ،1961 اور پھر 1973 کا آئین بنا تو ہر جگہ اردو کو قومی و سرکاری زبان تسلیم کیا گیا اور موجودہ آئین میں واضح طور پر دفعہ251 کی شق 1 میں لکھا گیا کہ 15 سال کے اندر اندر قومی زبان اردو کو ہر سطح پر لاگو اور نافذ کر دیا جائے گا لیکن افسوس در افسوس یہ بھی نہ ہو سکا۔

    اسی پر پاکستان کے حقیقی محب و درد مند نفاذ اردو کی درخواست لے کر 2003 میں عدالت عظمیٰ پہنچے اور قائد اور آئین کا حکم پورا کرنے کے لیے التجائیں کیں لیکن یہ درخواستیں ریکارڈ روم کا حصہ بن گئیں تاآنکہ جواد ایس خواجہ نے 2015 میں انہیں وہاں سے کھوج نکالا اور پھر عمل درآمد کا حکم دیا۔کس قدر حیرت کی بات ہے کہ حضرت قائد ،آئین اور عدالت عظمیٰ بلکہ اس کے منصف اعلیٰ تک کا حکم سب کچھ 75 سال سے پاؤں تلے روندا جا رہا ہے اور کسی کو یہاں کوئی توہین آئین شکنی یا توہین عدالت و جج یا آئین کی یوں پامالی جو غداری بھی ہے معمولی بھی نظر نہیں آتی۔

    ابھی ہم نے چند ماہ پہلے دیکھا کہ اسی عدالت عظمیٰ کے منصف اعظم نے کراچی میں بیسیوں غریب و بے کس لوگوں کا آشیانہ نسلہ ٹاور کس بے دردی سے ریزہ ریزہ کروا دیا کہ حضور کا اقبال بلند رہے اور حکم نافذ ہوتا نظر آئے اور یہ سب ہو گیا لیکن اگر کسی حکم پر کبھی عمل نہیں ہوا تو وہ نفاذ اردو کا معاملہ ہے۔
    یہ کتنی کھلی حقیقت ہے جو ہم آج تک سمجھ نہیں سکے یا سمجھنے پر تیار نہیں کہ قوم کو جاہل اجڈ اور غیر ترقی یافتہ رکھنے میں سب سے بڑی وجہ اردو کا نافذنہ ہونا ہے لیکن ہم اس کو ماننے پر تیار نہیں۔ پوری دنیا پر نگاہ دوڑا لیں، ہر ترقی یافتہ قوم آپ کو اپنی زبان ہی پڑھتی،اس میں پڑھاتی اور سیکھتی سکھاتی ملے گی سوائے ہمارے بدقسمت ایک ملک کے۔

    براعظم یورپ میں 28 ملک گنے جاتے ہیں لیکن سوائے برطانیہ کے کسی کی زبان انگریزی نہیں اور سب کا نظام شاندار و مثالی اور بہترین چل رہا ہے.
    جاپان ہو یا چین، روس ہو کوریا،سارا یورپ ہو یا ترکی بلکہ ان سے بھی آگے ایران تک میں سب کا سب کچھ ان کی اپنی مقامی زبانوں میں ہے،جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی وہ بھی سیکھتے ہیں، اور وہ ہم سے کتنے آگے ہیں؟ بتانے کی ضرورت نہیں اور ہم عقل کے سارے پردوں کو تالے لگا کر اور اپنی زبان اردو چھوڑ کر انگریزی کی پوجا میں مصروف بلکہ اس گوری ماتا کے قدموں میں اپنی ساری نسل کو ذبح کر رہے ہیں، کیونکہ فیل ہونے کو جو مضمون رکھا گیا ہے وہ انگریزی ہی تو ہے۔

    یہ بھی حقیقت کتنی بار کر ہم دیکھ چکے اور جب گزشتہ حکومت نے سارا نظام تعلیم مکمل انگریزی کیا تو تاریخ میں سب سےزیادہ طلبہ فیل ہو کر ہمشیہ کے لیے ناکارہ قرار پا گئے، وجہ؟ صرف بدیسی زبان انگریزی۔

    ذرا سوچئیے کہ
    اگر وہ سب ملک سب کچھ اپنی زبانوں میں پڑھ سیکھ بول کر آگے جا سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟
    چند دن قبل مجھے ایک سیاح کی بنگلا دیش میں سیاحتی ویڈیو دیکھنے کا موقع ملا تو وہ بتا رہا تھا کہ یہاں سب گاڑیوں کی نمبر پلیٹیں بنگلا زبان میں ہیں اور مجھے سمجھنے میں شدید دقت پیش آرہی ہے۔

    جی ہاں ، یہ بات ہے بنگلا دیش کی اور کسی کو دقت ہوتی ہے ہوتی رہے بنگلادیش لیکن اسی روش پر قائم ہے جس پر سب ترقی یافتہ و مہذب قومیں عمل پیرا ہیں اور آج ہمارے ہاں سمیت ہر جگہ اسی بنگلا دیش کی ہی تو مثالیں دی جاتی ہیں کہ اس نے یہ کمال کردیا، وہ کردیا اتنی ترقی کر لی اتنا آگے نکل گیا، لیکن اس کے اس پہلو پر کوئی غور نہیں کرتا۔

    اردو وہ زبان ہے کہ جو آج دنیا میں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بھی مجموعی طور پر دوسری بڑی زبان قرار دی جاتی ہے اور باقی سب لوگ تو اسے پانچ بڑی عالمی زبانوں میں ضرور شامل کرتے ہیں اور یہ کیفیت قیام پاکستان سے بہت پہلے کی ہے۔

    کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم جدید علوم بغیر انگریزی کے کیسے حاصل کریں ؟ لیکن انہیں اپنے سے بہت چھوٹے لیکن بہت ترقی یافتہ ، ہالینڈ ، پولینڈ ناروے کے ساتھ ترکی اور ایران نظر نہیں آتے جو یہ سب کچھ اپنی زبانوں میں کررہے ہیں،ہم نے انگریز کی غلامی کی ، اس نے ہم پر انگریزی لادی ، اس کا سو ڈیڑھ سو سال اور آزاد کے بعد 75 سال گزار کر بھی ہم میں آج کتنے ہیں جنہیں انگریزی ٹھیک آتی ہو ؟

    حال یہ ہے کہ پاکستان کا 90 فیصد میڈیا اردو میں ہے اور جو دو انگریزی چینل شروع ہوئے تو ان میں ایک چند ماہ بعد بند اور دوسرا اردو ہو گیا، کہ یہ سب ہمارے ہاں بدیسی ہے،ہم نے اردو کو چھوڑا، انگریزی کو اپنایا اور حال یہ ہے کہ باہر نکل کر دیکھیں بالکل صحیح و درست انگریزی شاید ہی کسی کو آتی ہو۔ اس کی وجہ یہ ہےکہ اس کا ہمارے معاشرے و سماج اور ہمارے رگ و پے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

    سچی بات یہ ہے کہ اگر آج بھی ہم اردو کو مکمل نافذ و رائج کر دیں تو قوم بہت تیزی سے آگے جا سکتی ہے اور ہم نے جو قابلیت کا معیار انگریزی کو بنایا ہے اس سے جب نجات ملے گی تو بے شمار ٹیلنٹ ضائع نہیں ہو گا بلکہ ہمارے کام آئے گا۔ ہماری اگلی نسل لفظوں سطروں کی رٹو نہیں بنے گی بلکہ علم سیکھے گی،
    بطور مسلمان یہ بھی یاد رکھیں کہ عربی کے بعد دین کی تحقیق و تحریرکا سب سے زیادہ کام اردو میں ہوا ہے اور شاید جلد پہلے نمبر پر ہو گا جب کہ انگریزی میں تو اس کا پاسنگ بھی نہیں۔

    اردو ایسی کمال زبان ہے کہ گورے بھی اسے بہت جلد وباآسانی سیکھ لیتے ہیں جب کہ انگریزی کا حال بتانے کی ضرورت نہیں۔اسی ضمن کی ایک اور بات،
    اردو دنیا کی وہ باکمال زبان ہے کہ جس میں دنیا کی ہر زبان کے حروف و حرکات ادا کرنے کی صلاحیت موجود ہے جب کہ اسے چھوڑ کر سب کچھ انگریزی ماتا کے حوالے کرنے والے یاد رکھیں کہ عربی زبان کے اکثر حروف و حرکات کا متبادل انگریزی میں ہے ہی نہیں اور یوں ہماری اگلی نسلیں کلمہ طیبہ تک ٹھیک نہیں پڑھ پائیں گی اور یہ ہم دیکھ بھی رہے ہیں ۔

    ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ہمارے ہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کی شدید کمی ہے تو انگریزی کے غلام تیار کرکے ہم اپنا بچا کھچا ٹیلنٹ بھی باہر کی دنیا کے حوالے کر دیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ برین ڈرین ہورہا یعنی قابل لوگ اور قابلیت باہر جا رہی ہے،یہ تو ہونا ہی ہے جب آپ نے اپنا آپ سمجھا ہی نہیں تو نتیجہ یہی تو ہوگا۔

    آج کی دنیا کی سب سے بڑی معاشی و ترقی یافتہ طاقت چین نے تو اپنے ملک میں صرف اپنی زبان رکھی ہے اور انگریزی پر مکمل پابندی ہی عائد کی ہوئی ہے، اب بتائیے کہ وہ اتنی زیادہ اور انتہائی تیز رفتار ترقی کیوں کر رہا ہے؟ ویسے ہم نے اگر بدیسی زبان ہی اپنانی ہے تو انگریزی ہی کیوں ؟ چینی کیوں نہیں ؟ جو دوست بھی ہے اور دروازے پر بھی۔ لیکن اصل میں ہم جن کے غلام بن چکے ان سے نجات چاہتے بھی نہیں۔

    کمال حیرت کی ایک اور بات سنیں کہ ہمیں انگریزی کا غلام رکھنے کے لیے سب سے زیادہ تعلیمی فنڈ و معاونت جرمنی اور ہالینڈ دیتے ہیں جن اپنے ہاں انگریزی ہے ہی نہیں۔ یوں غلامی کی تہ در تہ چادریں پر ہم تن کر سخت سے سخت ہی ہوئے جا رہی ہیں۔
    اللہ کرے ہمیں آج بھی کچھ سمجھ آ جائے

  • دبئی:پاکستان کی جیت پرافغانیوں کی طرف سےپاکستانیوں پرتشدد اوراسٹیڈیم کی توڑپھوڑ:97 افغانی گرفتار

    دبئی:پاکستان کی جیت پرافغانیوں کی طرف سےپاکستانیوں پرتشدد اوراسٹیڈیم کی توڑپھوڑ:97 افغانی گرفتار

    دبئی:دبئی:پاکستان کی جیت پرافغانیوں کی طرف سےپاکستانیوں پرتشدد اوراسٹیڈیم کی توڑپھوڑ:97 افغانی گرفتار،اطلاعات کے مطابق کل متحدہ عرب امارات میں ایشیا کپ کے میچ میں پاکستان کی جیت پر افغان تماشائیوں کی طرف سے پاکستان کےخلاف نعرے بازی اورپھر پاکستانیوں پرشدید تشدد کی خبروں نے پاکستان سمیت دنیا بھرکو غمگین کردیا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس دوران افغان تماشائیوں نے متحدہ عرب امارات کے اس اسٹیڈیم میں توڑپھوڑ کی اور اسٹیڈیم کو نقصان پہنچایا، جس پر عرب امارات کی حکومت حرکت میں آگئی اور پھر متحدہ عرب امارات میں اسٹیڈیم کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے اور اسٹیڈیم کے ارد گرد لڑنے والے 97 افغان باشندوں کو گرفتار کیا گیا۔ یہاں تک کہ متحدہ عرب امارات کے دیگر حصوں سے 117 افراد کو گرفتار کیا گیا جو ہوسٹلز اور کمروں میں پاکستانیوں سے لڑ رہے تھے۔

    کل 391 افراد کو گرفتار کیا گیا جو ممکنہ طور پر بھاری جرمانے ادا کریں گے اور متحدہ عرب امارات کے ویزا پر تاحیات پابندی کے ساتھ متحدہ عرب امارات سے ڈی پورٹ بھی ہو جائیں گے۔

    یاد رہے کہ کل دبئی میں ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے میں پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کےبعد افغانستان کو شکست دی تھی جس پر پہلے افغان کھلاڑی نے پاکستانی کرکٹرآصف سےبدتمیزی کی اور بُرے القاب کے ساتھ پکارا ، اس کے بعد جب پاکستان میچ جیت گیا تو پھر اسٹیڈیم میں موجود افغان تماشائیوں نے پاکستانیوں پر تشدد کیا اوراسٹیڈیم میں توڑپھوڑ کی جس پر عرب امارات کی حکومت نے سخت فیصلہ کیاہے

  • الیکشن کمیشن نے  ملک بھر میں قومی اور صوبائی سطح پر تمام ضمنی الیکشن ملتوی کر دیئے

    الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں قومی اور صوبائی سطح پر تمام ضمنی الیکشن ملتوی کر دیئے

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ملک بھر میں قومی اور صوبائی سطح پر تمام ضمنی الیکشن ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔

    تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کا اہم اجلاس چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں منعقد ہوا، اجلاس میں ممبران الیکشن کمیشن ، سیکرٹری الیکشن کمیشن اور الیکشن کمیشن کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

    اجلاس میں سیکرٹری الیکشن کمیشن نے الیکشن کمیشن کو بریف کیا کہ پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا کی درج ذیل حلقہ جات میں الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات کے لیے شیڈول دیا ہوا ہے جس کے مطابق پولنگ 11 ستمبر، 25 ستمبر اور 2 اکتوبر 2022ء کو ہو گی۔

    جن حلقوں میں الیکشن ملتوی ہوئے ہیں ان میں این اے 157، پی پی 139 شیخوپورہ، پی پی 241 بہاولنگر، این اے 22 مردان، این اے 24 چارسدہ، این اے 31 پشاور، این اے 45 کرم، این اے 108 فیصل آباد، این اے 118 ننکانہ، این اے 237 کراچی، این اے 239 کراچی، این اے 246 کراچی، پی پی 209 خانیوال کے حلقے شامل ہیں۔

    سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ حالیہ تباہ کارشوں اور سیلاب سے سندھ، خیبرپختونخوا اور جنوبی پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے ذرائع آمدورفت مخدوش ہو چکے ہیں، عمارات تباہ ہو گئی ہیں، ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم ہیں، اور قومی ایمرجنسی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ تمام قومی ادارے جن میں پولیس، پاک، فوج، رینجرز سمیت دیگر الیکشن ڈیوٹی میں تعینات کیے گئے تھے، سیلاب متاثرین میں خوراک کی ترسیل اور وبائی امراض کے پھیلاؤ کی وجہ سے ضروری امدادی کارروائیوں اور متاثرین کی محفوظ مقامات پر آباد کاری میں انتہائی حد تک مصروف ہیں، الیکشن کمیشن نے 23 اگست کو وزارت داخلہ کو ضمنی انتخابات کے پر امن انتخابات کے لیے پاک فوج، رینجرز سمیت دیگر کی خدمات حاصل کی تھیں، تاکہ پر امن انتخابات کروائے جا سکیں، لیکن تاحال مذکورہ قومی ایمرجنسی کی وجہ سے الیکشن کے انعقاد کے لیے ان کی تعیناتی کی یقین دہانی نہیں کروائی گئی۔ مزید برآں خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کشیدہ ہے جہاں پر حالیہ دنوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کیے گئے ہیں جس سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔

    ترجمان کے مطابق وزارت داخلہ نے جو فیڈ بیک دیا ہے اس میں کہا گیا ہے پاک فوج، رینجرز، ایف سی ملک میں سیلاب زدگان کی امدادی کارروائیوں، اندرونی سکیورٹی اور دہشتگردی کی کارروائیوں کی روک تھام میں مصروف ہیں، اسی طرح ملٹری اتھارٹیز نے بھی سیلابی قومی سانحہ کا حوالہ دیا ہے جس کی وجہ سے وزیراعظم نے نیشنل فنڈ بھی قائم کیا ہے اور عالمی طور پر امداد کی اپیل کی گئی ہے تاکہ اس قومی سانحہ سے نمٹا جا سکے اور کہا کہ فوج، رینجر اور ایف سی امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے لہٰذا ان حالات کی وجہ سے امدادی کارروائیوں سے واپس بلانا اور پر امن الیکشن کے انعقاد کے لیے دستیابی مشکل ہے۔

    بیان کے مطابق صوبائی الیکشن کمیشن سندھ، خیبرپختونخوا اور پنجاب نے بھی موجودہ حالات میں ضمنی انتخابات کے انعقاد کو ناممکن قرار دیا اور بتایا کہ مختلف سرکاری عمارتوں میں سیلاب متاثرین کو رکھا گیا ہے اور جہاں سے امدادی خوراک کی ترسیل بھی کی جا رہی ہے جو کہ پولنگ سٹیشنوں کے لیے مختص کی گئی تھیں۔

    ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق تمام صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام حلقوں میں ضمنی انتخابات کی صرف پولنگ تاریخوں کو ملتوی کیا جاتا ہے، باقی مراحل الیکشن کمیشن کے مطابق مکمل ہوں گے اور حالات کی بہتری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دستیابی پر الیکشن کمیشن جلد نئی پولنگ کی تاریخوں کا اعلان کیا جائے گا۔