Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • گزشتہ 24 گھنٹوں میں سیلاب کے باعث 18 افراد ہلاک جبکہ 17 زخمی. نیشنل فلڈ رسپانس کوریڈی نیشن سنٹر

    گزشتہ 24 گھنٹوں میں سیلاب کے باعث 18 افراد ہلاک جبکہ 17 زخمی. نیشنل فلڈ رسپانس کوریڈی نیشن سنٹر


    گزشتہ 24 گھنٹوں میں سیلاب کے باعث 18 افراد ہلاک جبکہ 17 زخمی

    آج ملک کے بیشتر حصوں میں موسم بنیادی طور پر گرم رہے گا جس میں خیبر پختون خواہ اور گلگت میں چند مقامات پرگرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔ 8 ستمبر کو ملک کے بیشتر حصوں میں بنیادی طور پر گرم موسم متوقع ہے جبکہ کےپی کے بالائی علاقوں سمیت مختلف مقامات پر موسم جزوی طور پر ابر آلود رہنے کا امکان بھی ہے۔

    نیشنل فلڈ رسپانس کوریڈی نیشن سنٹر کے مطابق: گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب کے باعث 18 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ متاثرین 17 زخمی ہوئے۔ تاہم اب تک مجموعی طور پر 1343 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور 12720 زخمی ہو چکے ہیں۔

    نیشنل فلڈ رسپانس کوریڈی نیشن سنٹر کا کہنا ہے کہ: اب تک 383 آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹر مختلف علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے روانہ کیے جا چکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 20 اڑان بھری گئی تھی اور 217 پھنسے ہوئے افراد کو نکالا گیا جبکہ 30 ٹن امدادی سامان سیلاب متاثرین تک پہنچایا گیا۔

    اعلامیہ کے مطابق: اب تک سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں 147 ریلیف کیمپس اور سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان جمع کرنے اور آگے تقسیم کرنے کے لیے ملک بھر میں 278 ریلیف آئٹمز کلیکشن پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔
    علاوہ ازیں عطیات کی مدد میں اب تک 4973 ٹن اشیائے خوردونوش کے ساتھ 925 ٹن غذائی اشیاء اور 2850229 ادویات جمع کی جا چکی ہیں جبکہ 4377.9 ٹن خوراک 887 ٹن غذائی اشیاء اور 2596769 ادویات تقسیم کی جا چکی ہیں۔

    علاوہ ازیں گزشتہ دنوں آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ: پاک فضائیہ نے فضائی پروازیں کرکے 1521 اہلکاروں کو ریسکیو کیا، 2763 خیمے، 106495 کھانے کے پیکٹ، 1161113 کلو گرام راشن، 134486 لیٹر 165 شہروں میں پانی فراہم کیا گیا۔ جبکہ لوگوں کو خوراک، خشک راشن اور طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔

    پی اے ایف ہیلی کاپٹرز سیلاب سے متاثرہ افراد کو بچانے اور ان علاقوں میں مدد فراہم کرنے میں مصروف عمل ہیں کیونکہ زمینی راستے سے اکثر علاقوں میں مکمل طور پر کٹ گئے ہیں۔ علاوہ ازیں اس وقت پی اے ایف سندھ، نواب شاہ، سکھر، میرپور خاص، تلہار، جیکب آباد، سہون، اور بلوچستان سمنگلی، قلعہ عبداللہ اور قلعہ سیف اللہ۔ پنجاب میں راجن پور اور ڈی جی خان، جی بی، گلگت اسکردو، غذر، نلتر، گانچھے۔ کے پی کے، نوشہرہ، چارسدہ، خاصگی، سیدو شریف، شانگلہ،میں اپنی امدادی و آپریشن کاروائیوں میں مصروف عمل ہے۔
    سڑکوں کی مرمتی
    ملک کے مختلف حصوں میں سڑکوں اور راستوں کی صورتحال ابھی بھی مسدود ہے N-95 – (بحرین – لائکوٹ – لائیکوٹ – کالام)، N-55 ڈی آئی خان کے قریب پروآ میں ہر قسم کی ٹریفک کے لیے، N-50 سگو میں ہر قسم کی ٹریفک کے لیے وانگو پہاڑیوں کے 24 کلومیٹر حصے میں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے پل اور M-8 بند ہے۔

  • 1965 کی جنگ میں شہید ہونیوالےفلائٹ لیفٹیننٹ محمود احمد بٹ شہید کے مزار پر پروقار تقریب

    1965 کی جنگ میں شہید ہونیوالےفلائٹ لیفٹیننٹ محمود احمد بٹ شہید کے مزار پر پروقار تقریب

    فیروزوالا: 7 ستمبر پاک فضائیہ کا یوم دفاع کے حوالے سے شاہدرہ میں 1965 کی جنگ میں شہید ہونے والے اپنے ہیرو فلائٹ لیفٹیننٹ محمود احمد بٹ شہید کے مزار پر پروقار تقریب کا انعقاد کیا-

    کیپٹن کرنل شیر خان شہید کے مزار پر یوم دفاع کے موقع پرپروقارتقریب کا انعقاد

     

    باغی ٹی وی : پاکستان ائیر فورس کے چاک و چوبند دستے نے شہید کے مزار پر حاضری دی پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کے بعد زبردست خراج تحسین پیش کیا-

    اسلام آباد سمیت ملک بھر میں یوم دفاع جوش وجذبے کے ساتھ منایا جارہا

     

    فلائٹ لیفٹیننٹ محمود احمد بٹ شہید نے 7 ستمبر 1965 کے دن اپنے ائیر کرافٹ جھاز پر فلائی کیا اور شاہینوں کی طرح دشمن پر ٹوٹ پڑے اور دشمن کے کئی جہاز تباہ کرنے کے بعد واپس آتے ھوئے ان کا طیارہ کریش ھو گیا اور پائلٹ فلائٹ لیفٹیننٹ محمود احمد بٹ شہید نے جام شہادت نوش کیا-

     

    شاہدرہ میں پاکستان ائیر فورس کی جانب سے جنگ ستمبر 1965 کے ہیرو فلائٹ لیفٹیننٹ محمود احمد بٹ شہید کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی شہید کوزبردست خراج تحسین پیش کیااورسلامی دی گئی اس موقع پرشہید پائلٹ فلائٹ لیفٹیننٹ محمود احمد بٹ کےورثاء اور شاہدرہ کے سینکڑوں رہائشیوں نے اپنے شھید پائلٹ کے درجات کی بلندی کے لئے فاتحہ خوانی کی –

     

    پاکستانی قوم کو آج بھی 65 والے جذبے اور اتحاد کی ضرورت ہے،وزیرِ خارجہ

    پاکستان ائیر فورس کی جانب سے شاہدرہ میں ان کی رہائش گاہ کو اپنے ہیرومحمود احمد بٹ شہید کے نام سے منسوب کردیا گیا پاک فضائیہ کے سکوارڈن لیڈر تقی مرتضی کا کہنا ہے کہ ہمارے ان شہداء کا ہم پر قرض ہے اور وطن کے دفاع کے لئے ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے-

     

  • وزیراعظم کا توشہ خانہ کے تحائف عوام کو دکھانے کا منفرد فیصلہ

    وزیراعظم کا توشہ خانہ کے تحائف عوام کو دکھانے کا منفرد فیصلہ

    وزیراعظم کا توشہ خانہ کے تحائف عوام کو دکھانے کا فیصلہ پاکستان کی تاریخ کی منفرد مثال بن گیا.

    وزیر اعظم میان محمد شہباز شریف نے وزیراعظم ہاؤس میں نئی روایت قائم کر دی ہے۔ انہیں ملنے والے غیرملکی تحائف اب وزیراعظم ہاؤس میں مستقل طور پر رکھے جائیں گے جنہین عوام دیکھ سکیں گے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تحائف عوام کو دکھانےکا اہتمام کیا جائے تاکہ وہ دوست ممالک کی پاکستان سے محبت سے آگاہ ہوں۔

    شہباز شریف کی ہدایت پر وزیراعظم ہاؤس میں جگہ مختص کر دی گئی جہاں یہ تحائف رکھے جائیں گے جنہیں عوام دیکھ سکیں گے۔

    وزیراعظم نے بیرون ممالک سے ملنے والے تحائف سرکاری خزانے میں جمع کرا دیے جن کی مالیت 27 کروڑ روپے ہے۔ وزیراعظم کو یہ قیمتی تحائف خلیجی ممالک کے دوروں کے دوران ملے تھے جن میں ہیرے جڑی دو قیمتی گھڑیاں بھی شامل ہیں۔ ایک گھڑی کی مالیت 10 کروڑ اور دوسری کی قیمت 17 کروڑ بتائی گئی ہے۔

    خلیجی ریاستوں کی جانب سے شہباز شریف کو عمران خان سے زیادہ مہنگی گھڑیاں دی گئی ہیں۔ انہوں نے قیمتی قلم، انگوٹھی، ‘کف لنک’ (بٹن) اور خوشبو کے تمام تحائف بھی توشہ خانے میں جمع کرادیے۔ شہباز شریف وزیر اعلی پنجاب کے طور پر بھی دس سال کے دوران ملنے والے تمام غیرملکی تحائف توشہ خانے میں جمع کرواتے رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان کے چار سابق حکمرانوں کو اس وقت توشہ خانے سے غیر قانونی طور پر تحائف حاصل کرنے پر مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے. ان میں سابق وزرائے اعظم نواز شریف، یوسف رضا گیلانی، سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری شامل ہیں.

    توشہ خانے سے قیمتی کاروں سے متعلق خلاف ضابطہ خریداری نیب کو وہ خاص ریفرنس بن گیا ہے جس میں ملک کی دونوں بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت پر ملی بھگت، گٹھ جوڑ اور پارٹنرشپ کے الزامات عائد کرتے ہوئے انھیں ایک ہی ریفرنس میں ملزم نامزد کر دیا گیا۔

    نیب کے ریفرنس کے مطابق یوسف رضا گیلانی جب وزیر اعظم تھے تو انھوں نے قوانین میں نرمی پیدا کر کے سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کو توشہ خانے سے گاڑیاں خریدنے کی اجازت دی۔

    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے حکومتی توشہ خانہ سے تحفے میں ملنے والی گاڑیوں کی غیر قانونی طریقے سے خریداری کے مقدمے میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے۔

    نیب کے ریفرنس کے مطابق آصف زرداری نے بطور صدر متحدہ عرب امارات سے تحفے میں ملنے والی آرمڈ کار بی ایم ڈبلیو 750 ‘Li’ 2005، لیکس جیپ 2007 اور لیبیا سے تحفے ملنے والی بی ایم ڈبلیو 760 Li 2008 توشہ خانہ سے خریدی ہیں۔

    نیب نے دعویٰ کیا تھا کہ آصف زرداری نے ان قیمتی گاڑیوں کی قیمت منی لانڈرنگ والے جعلی بینک اکاؤنٹس سے ادا کی ہے۔ ریفرنس میں ان بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی بتائی گئی ہیں جن سے مبینہ طور پر آصف زرداری نے ادائیگیاں کی ہیں۔ ریفرنس کے مطابق آصف زرداری نے گاڑیاں توشہ خانہ میں جمع کرانے کے بجائے خود استعمال کر رہے ہیں، انھوں نے عوامی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دی۔

  • توہین عدالت کیس: غیرارادی طور پر نکلے الفاظ پر افسوس ہے. عمران خان

    عمران خان کیخلاف توہین عدالت کیس میں اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے، کویں کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے توہین عدالت کیس میں اپنا نیا جواب جمع کرادیا ہے۔

    عمران خان نے اپنے جواب میں خاتون جج کے حوالے سے ادا کئے گئے الفاظ پر گہرے افسوس کا اظہار کر دیا ہے۔ عمران خان نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ غیرارادی طور پر نکلے الفاظ پر افسوس ہے، اور اپنے الفاظ پر خاتون جج سے پچھتاوےکا اظہارکرنے پر بھی شرمندگی نہیں ہوگی۔

    عمران خان کا جواب غیر تسلی بخش قرار

    یکم ستمبر کو بھی چیئرمین تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کیس میں اپنا جواب جمع کرایا تھا۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ ( چیف جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس طارق محمود جہانگیر اور جسٹس بابر ستار) نے سابق وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سماعت کا عبوری حکم نامہ جاری کیا جس کے مطابق دوران سماعت مدعا علیہ (عمران خان) کے جواب کا مطالعہ کیا گیا، جس میں توہین عدالت کا شوکاز نوٹس خارج کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ دو صفحات پر مشتمل عبوری حکم نامے میں کہا گیا کہ عمران خان کا جواب غیر تسلی بخش ہے، اس لئے شوکاز نوٹس واپس نہیں لے رہے۔

    مدعا علیہ کے وکیل نے شوکاز نوٹس کا ضمنی جواب داخل کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت مانگی۔ اس لئے انہیں حکم دیا جاتا ہے کہ 7 دن کے اندر ضمنی جواب داخل کیا جائے۔

    قبل ازیں 31 اگست کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے عبوری جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے 8 ستمبر تک دوبارہ جواب جمع کرانے کا حکم بھی دیا تھا۔ جبکہ واضح رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کچھ دیر میں بہاولنگر روانہ ہوں گے، جہاں وہ چشتیاں بار سے اور بہاولنگر میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔

  • عائشہ زہری بلوچستان کی پہلی خاتون ڈپٹی کمشنر تعینات،نوٹیفیکیشن جاری

    عائشہ زہری بلوچستان کی پہلی خاتون ڈپٹی کمشنر تعینات،نوٹیفیکیشن جاری

    اسسٹنٹ کمشنر مچھ عائشہ زہری کو ڈپٹی کمشنر نصیرآباد ڈویژن تعینات کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : اسسٹنٹ کمشنر مچھ عائشہ زہری کو بہترین کارکردگی دکھانے پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد ڈویژن تعینات کیا گیا ہےعائشہ زہری بلوچستان میں اس عہدے پر پہنچنے والی پہلی خاتون ہیں ڈپٹی کمشنر عائشہ زہری کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ۔

    وزیراعظم آج ڈیرہ اسماعیل خان کے سیلاب سے متاثرہ علاقے کا دورہ کرینگے

    عائشہ زہری نے 26 اگست کی طوفانی بارش کےبعد کم وسائل میں رضا کاروں کی مدد سےبولان میں پھنسے سینکڑوں مسافروں کو ریسکیو کیا تھا اور بروقت پانی اور خوراک پہنچا کر کئی مسافروں کی جانیں بھی بچائی تھیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف اتوار 4 ستمبر کو بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ ضلع کچھ کے دورے کے دوران بولان کے علاقے میں پنجرہ پل کادورہ کیا تھااس موقع پروزیراعظم نےاسسٹنٹ کمشنر مچھ انجینئر عائشہ زہری کوسیلابی صورتحال کے دوران بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر خوب سراہا اور سر پر ہاتھ رکھ کر شاباش دی ۔

    حکومت نے سیلاب متاثرین کی امداد 28 سے بڑھا کر 70 ارب کردی


    وزیر اعظم شہباز شریف نے فرض شناس افسر عائشہ زہری کیلئے تالیاں بھی بجائی تھیں اور ٹوئٹر پر ٹویٹ کر کے بھی عائشہ زہری کی تعریف کی تھی اور ان کی کارکردگی کو سراہا تھا۔

    اس سے قبل نصیرآباد ڈویژن کے کمشنر،ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنرز کو معطل کردیا گیا تھا۔ جہاں اب عائشہ زہری کو تعینات کیا گیا ہے۔ نصیرآباد ڈویژن کی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیوں میں سست روی پر نکالا گیا تھا۔

    سیلاب متاثرین کی مدد، خیمے،راشن فراہم کرنے میں پاک فضائیہ بھی پیش پیش

  • ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کیلئے مشکل فیصلے کرنا پڑے، اب معیشت کی سمت درست ہے. مفتاح اسماعیل

    ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کیلئے مشکل فیصلے کرنا پڑے، اب معیشت کی سمت درست ہے. مفتاح اسماعیل

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کیلئے مشکل فیصلے کرنا پڑے۔اب معیشت درست سمت میں جارہی ہے۔ گروتھ لانا مشکل نہیں ہے لیکن مستحکم گروتھ ہونی چاہیے۔

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ملکی معاشی صورتحال پر سیمینار سے خطاب میں کہا ہے کہ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کیلئے مشکل فیصلے کرنا پڑے۔ہماری حکومت بنی تو کل 44 ہزار ارب روپے کا قرض تھا۔جب حلف اٹھایا تو اس وقت 10.3 ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر تھے۔

    ان کا کہنا ہے کہ تین ماہ سے کم درامدی بل کے برابر زرمبادلہ کے ذخائر ہوں تو کوئی ملک یا ادارہ قرض نہیں دیتا۔درامدی بل کے لحاظ سے 21 ارب ڈالر ہوتے توقرضہ مل سکتا تھا۔جی ٹوئنٹی ممالک نے مجموعی طور پر 5 ارب ڈالر کے قرض موخر کیے۔شہباز شریف سمیت ہم سب کو پتہ تھا کہ آکر سب سے پہلے تیل کی قیمتیں بڑھانی ہیں۔

    انہوں نے کہاہے کہ رواں مالی سال 21 ارب ڈالر قرض ادائیگیاں کرنی ہیں۔12 ارب ڈالر سے زائد کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا۔جب اقتدار میں ائے تو اگلے سال جون تک 36 ارب ڈالر کی ضرورت تھی۔ہم نےسیلز ٹیکس نہیں بڑھایا، اِنکم ٹیکس 38 فیصد سے بڑھ رہی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہجب حکومت میں آئے تو اندازہ تھا کہ مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔اب معیشت درست سمت میں جارہی ہے۔ گروتھ لانا مشکل نہیں ہے لیکن مستحکم گروتھ ہونی چاہیے۔گروتھ کے بعد ہم ڈیفالٹ کے خطرے کی جانب چلے جاتے ہیں۔

    انہوں نے کہا ہے کہ پالیسی ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان ڈیٹ ٹریپ میں ہیں۔سخت فیصلے کی قربانی اتنی بڑی نہیں جتنی ڈیفالٹ کرنے سے ملک کو نقصان ہوتا ہے۔پاکستان کی ترقی مستحکم نہیں ہے ہماری گروتھ کی بنیاد درآمدات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلی بار سپر ٹیکس لگایا بڑے اداروں اور شعبوں پر لگایا ہے۔سابقہ حکومت نے امیر ترین طبقے کو پانچ سو ارب روپے کے سستے قرضے فراہم کیے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ سیلاب کے متاثرین کی مدد کرنے میں آئی ایم ایف کوکوئی اعتراض نہیں ہوگا۔مجھے ڈر ہے کہ تعمیر نو کے دوران سیمنٹ سیکٹر کو کچھ رعایتوں کا مطالبہ نہ کردیا جائے۔سیمنٹ پر سبسڈی دینے کا زیادہ فائدہ سیمنٹ کارخانوں کو ہوگا۔فرٹیلائزر پر سبسڈی سے کسانوں کو فائدہ کم اور کاخانہ داروں کو زیادہ ہوا۔

  • ڈالر ایک بار پھر مہنگا ہوگیا

    ڈالر ایک بار پھر مہنگا ہوگیا

    انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا، آئی ایم ایف ڈیل کی منظوری کے بعد بھی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاو کا سلسلہ جاری ہے۔

    انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں کاروباری ہفتے کے تیسرے روز کے آغاز میں ہی ڈالر میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں 1 روپے8 پیسے کا اضافہ ہوا ہے۔ فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹر بینک میں ڈالر 222 روپے 50 پیسے کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔

    واضح رہے کہ آئی ایم ایف سے قرض کی قسط ملنے کے باوجود روپے کی قدر میں مسلسل کمی دیکھی جارہی ہے اور ڈالر مزید مہنگا ہوتا جارہا ہے۔ گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو ایک ارب 16 کروڑ دالر قرض مل گیا ، جس کے بعد یہ امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ اس سے روپے کی گرتی قدر کو سہارا ملے گا لیکن ایسا نہ ہوسکا اور ڈالر کو لگام نہ دی جاسکی۔

    منگل کے روز بھی ملک کی کرنسی مارکیٹوں میں ڈالر سمیت دیگر غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں روپیہ بے قدری کا شکار ہے۔ پیر کو انٹر بینک میں ڈالر کی قدر 88 پیسے بڑھ کر 219 روپے 86 پیسے ہوگئی تھی، منگل کے روز اس میں مزید اضافہ دیکھا گیا اور ایک امریکی ڈالر 222 روپے کی سطح پر آگیا تھا.

    خیل رہے کہ آئی ایم ایف سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو 1.16 ارب ڈالر موصولی اور اقوام متحدہ اور مختلف ممالک کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لیے مالی امداد آنے سے ذرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ڈالر کی تنزلی کا سلسلہ جاری ہوا تھا۔ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر سستا ہوگیا تھا. اس وقت ماہرین کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کا معاہدہ طے پانے سے ایرانی تیل کی سپلائی بحال ہونے سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں نمایاں کمی کے امکانات روشن ہوگئے تھے جس سے پاکستان بھرپور انداز میں استفادہ کرسکے گا اور ملک کا آئل امپورٹ بل میں بھی نمایاں کمی سے معیشت کو سہارے کی امید کی گئی

  • چینی سائنسدانوں کا خلاء میں چاول اگانے کا کامیاب تجربہ

    چینی سائنسدانوں کا خلاء میں چاول اگانے کا کامیاب تجربہ

    برف کے پودوں کو پہلی بار ایک تجربے میں خلا میں بیجوں سے کاشت کیا گیا ہے تجربے کے مستقبل کے طویل مدتی مشنز پر اہم اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: چینی خلاء نوردوں جن کو ٹائیکونوٹس کے نام سے جانا جاتا ہے، نے یہ تجربہ وینٹیئن اسپیس لیبارٹری پر کیا اس لیبارٹری کو 24 جولائی کو لانچ کیا گیا تھا جو ابھی ٹیانگونگ اسپیس اسٹیشن کے مرکزی موڈیول سے جُڑی ہے۔

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

    ایسا پہلی بارہوا ہے کہ سائنس دانوں نے چاول کے اگنے کا مکمل عمل، یعنی بیج سے ایک ایسا پودا بننا جو خود بیج پیدا کر سکے، عدم کششِ ثقل کے ماحول میں کرنے کی کوشش کی ہے۔

    ٹائیکوناٹس یعنی چینی خلانورد خلا میں عربائیڈوپسِس تھالیانا نامی ایک پودےکا بھی تجربہ کررہےہیں یہ پودا سرسوں کے گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور اکثرموسمیاتی تغیرات کے مطالعے کے استعمال کیا جاتا ہے۔

    چائینیز اکیڈمی آف سائنسز کے سنٹر فار ایکسی لینس ان مالیکیولر پلانٹ سائنسز کے ایک محقق پروفیسر ہوئی قیونگ ژینگ کا کہنا تھا کہ چاولوں کی اچھی نمو ہو رہی ہے۔

    سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار

    انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کی تحقیقات کرنا چاہتے ہیں کہ مالیکیولر سطح پر مائیکرو گریویٹی کس طرح پودے کے پھول دینے کے وقت کو متاثر کر سکتی ہے اور آیامتعلقہ عمل کو قابو کرنے کے لیے مائیکرو گریویٹی ماحول کااستعمال ممکن ہے۔

    بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر سب سے مقبول غذاؤں میں سے ایک غذا چاول ہے اور اپولو مشنز کے بعد سے یہ خلاء بازوں کے لیے مرکزی اہمیت رکھتی ہے۔

    ناسا کے خلاء باز نیل آرمسٹرونگ، مائیکل کولنس اور بز آلڈرِن اپولو 11 مشن کے دوران خشک جمی ہوئی چکن اور چاول کی غذا کھاتے تھے۔

    تب سے، خلابازوں نے زمین پر اگائی اور کاشت کی جانے والی خوراک پر انحصار کیا ہے، تاہم مریخ اور اس سے آگے طویل مشنوں کی امیدیں خلا میں پودوں اور فصلوں کو اگانے کی صلاحیت پر منحصر ہو سکتی ہیں۔

    پروفیسرژینگ نے کہا کہ اگر ہم مریخ پر جانا اور دریافت کرنا چاہتے ہیں، تو زمین سے خوراک لانا خلابازوں کے طویل سفر اور خلا میں مشن کے لیے کافی نہیں ہے ہمیں طویل مدتی خلائی تحقیق کے لیے ایک پائیدار خوراک کا ذریعہ تلاش کرنا ہوگا-

    ماہرین فلکیات نے نیپچون جیسا سیارہ دریافت کر لیا

  • منی لانڈرنگ کیس: وزیر اعظم شہبازشریف اور انکے بیٹے حمزہ شہباز کی بریت کی درخواست دائر

    منی لانڈرنگ کیس: وزیر اعظم شہبازشریف اور انکے بیٹے حمزہ شہباز کی بریت کی درخواست دائر

    ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس میں وزیر اعظم شہبازشریف اور حمزہ شہباز نے بریت کی درخواست دائر کردی ہے

    اسپیشل سینٹرل کورٹ میں وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کیخلاف ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی۔وزیر اعظم شہبازشریف اور حمزہ شہباز نے بریت کی درخواست دائر کردی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایف آئی اے نے سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کےلیے منی لانڈرنگ مقدمہ بنایا۔کوئی شواہد سامنے نہیں آئے،عدالت منی لانڈرنگ چالان سے بری کرنے کا حکم دے۔

    دوسری جانب عدالت میں وزیر اعظم شہباز شریف کی حاضری معافی کی درخواست جمع کرادی گئی۔ وکیل نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف آج عدالت پیش نہیں ہو سکتے کیونکہ سیلاب کی صورتحال کے باعث شہباز شریف دوروں میں مصروف ہیں ۔ فاضل جج نے کہا کہ کیا وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف دس منٹ کے لیے عدالت پیش نہیں ہوسکتے ؟ ایک ماہ کی تاریخ تھی اس کے باوجود پیش نہیں ہوئے ہیں۔ یہ کیس کونسا روزانہ کی بنیاد پر چل رہا ہے، فاضل جج نے کہا کہ آج شہباز شریف کےسیلاب زدہ علاقوں کے کتنے دورے ہیں اس کی تفصیلات پیش کریں۔

    عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں وزیر اعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کی درخواست پر ایف آئی اے سے جواب طلب کر تے ہوئے کیس کی سماعت 17 ستمبر تک ملتوی کردی گئی ہے.

    اس سے قبل لاہور کی خصوصی عدالت نے وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے دائر کردہ منی لانڈرنگ کیس میں فرد جرم عائد کرنے کے لیے 7 ستمبر کو طلب کیا تھا. 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو پہلے ہی قبل از گرفتاری ضمانتیں مل چکی ہیں۔

    گزشتہ سماعت کے دوران شہباز شریف اور حمزہ شہباز عدالت میں پیش نہ ہوئے تھے دونوں کی جانب سے ان کے وکلا نے حاضری معافی کی درخواست دائر کی گئی تھی۔ شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے عدالت کو بتایا تھا کہ وزیر اعظم کی طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے انہیں سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

  • 2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع

    2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع

    میری لینڈ: ایک ارب نوری سال کے فاصلے پر واقع ایک کہکشاں کا عجیب و غریب رویہ بتاتا ہے کہ یہ اپنے اندر جدید فلکیات کے انتہائی غیرمتوقع وقوعات رکھتی ہے۔

    باغی ٹی وی : "سائنس الرٹ” کے مطابق SDSS J1430+2303 نامی کہ ایک بہت بڑے بلیک ہولز کےجوڑے، جس کا مجموعی وزن تقریباً 20 کروڑ سورج کے برابر ہے،کے دونوں بلیک ہولز کا تصادم قریب الوقوع ہے۔

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ 26 ستمبر کو سیارچے سے ٹکرائے گا،ناسا

    فلکیاتی اصطلاحات میں ’قریب الوقوع‘ اکثر پوری زندگی کا عرصہ ہوسکتا ہے۔ خوش قسمتی سے اس معاملے میں ماہرینِ فلکیات نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر یہ سگنل دیو ہیکل بلیک ہولز سے آئے ہیں تو ان کا تصادم آئندہ تین سالوں میں ہوجائے گا۔

    یہ ممکنہ طور پر کیمرے کی آنکھ میں قید کیا گیا ایک منفرد منظر کاسب سے بہترین شاٹ ہوسکتا ہے لیکن سائنس دانوں کو ابھی تک علم نہیں کہ J1429+2303 کے مرکز میں کیا ہونے جارہا ہےسائنس دانوں کا مشورہ ہے کہ ہم اس عجیب و غریب کہکشاں کو دیکھتے رہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا اس کی حتمی شناخت کی جا سکتی ہے۔

    بلیک ہولز کے تصادم کی سب سے پہلی نشان دہی 2015 میں کی گئی تھی جس کے بعد فلکیات کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ تب سے اب تک گریویٹیشنل لہروں کی مدد سے کئی بار نشان دہی کی جاچکی ہے جو بڑے بڑے وقوعات کے نتیجے میں زمان و مکان میں سفر کرتی آئیں۔

    زمین سے 100 سال کے نوری فاصلے پرسمندر سے ڈھکا سیارہ دریافت

     

    آج تک، ان میں سے تقریباً تمام انضمام بلیک ہولز کے بائنری جوڑے رہے ہیں جن کا بڑے پیمانے پر انفرادی ستاروں سے موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کی ایک بہت اچھی وجہ ہے LIGO اور Virgo، کشش ثقل کی لہر کے آلات جو پتہ لگانے کے لیے ذمہ دار ہیں، اس بڑے پیمانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔

    ہم جانتے ہیں کہ کہکشاؤں کے اپنے مراکز میں بہت بڑے بلیک ہولز ہوتے ہیں، اور ہم نے نہ صرف کہکشاؤں کے جوڑے اور گروہوں کو آپس میں ٹکراتے ہوئے دیکھا ہے، بلکہ ضم ہونے کے بعد کی کہکشاؤں کے مراکز میں مداروں میں ایک دوسرے کے گرد چکر لگاتے ہوئے ہم نے دیکھا ہے۔ ان کا اندازہ ان کہکشاں کےمرکزسے خارج ہونے والی روشنی سے لگایا جاتا ہے، باقاعدہ ٹائم اسکیل پر جو مدار کی تجویز کرتے ہیں۔

    تاہم، یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہے کہ J1430+2303 کے مرکز میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بلیک ہول بائنری کا نتیجہ ہے-

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت