Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • بارشوں اور سیلاب کے باعث ملک میں24 گھنٹے کے دوران مزید 57 افراد جاں بحق

    بارشوں اور سیلاب کے باعث ملک میں24 گھنٹے کے دوران مزید 57 افراد جاں بحق

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ (این ڈی ایم اے) نے بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے متعلق تازہ رپورٹ جاری کر دی۔

    باغی ٹی وی : این ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے باعث ملک میں24 گھنٹے کے دوران مزید 57 افراد جان کی بازی ہار گئے رپورٹ کے مطابق سیلاب اور بارشوں کے باعث 14 جون سے اب تک ایک ہزار 265 ا موات ہوئیں 12 ہزار 577 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے باعث آزاد کشمیر میں 42،گلگت بلتستان میں 22 افراد جان کی بازی ہار گئے، بلوچستان میں 257،سندھ میں 470،پنجاب میں 188 اور خیبر پختونخوا میں 285 افراد جاں بحق ہوئے-

    این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب کے باعث 7 لاکھ 35 ہزار 584 مویشی مر چکے ہیں،اب تک بارشوں اور سیلاب سے 14 لاکھ 27 ہزار 39 مکانات کو مکمل اور جزوی نقصان پہنچا،

    رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان میں 16 کلومیٹر شاہراہ اور 65 پلوں کو نقصان پہنچا،پنجاب میں 130 کلومیٹر،خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 589 کلومیٹر شاہرائیں متاثر ہوئیں ،سندھ میں 2 ہزار 328 کلومیٹر شاہرائیں متاثر،60 پلوں کو نقصان پہنچا،بلوچستان میں ایک ہزار 500 کلومیٹر شاہرائیں متاثر،18 پلوں کو نقصان پہنچا-

    کوہلو میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کے بعد سانپوں کے ڈسنے کے کیسزمیں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے رواں ہفتے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال میں سانپ ڈسنے کے 3 درجن سے زائد کیسزرپورٹ ہوئے-

    نواب شاہ،سکرنڈمیں غیرمعیاری امدادی کھاناکھانےسےسیلاب متاثرین کی حالت غیر

    دوسری جانب سیلاب متاثرین کے شناختی کارڈ کی ایکسپائری ڈیٹ میں 6 ماہ تک توسیع کردی گئی نادرا نے سیلاب متاثرین کی سہولت کے لیےایکسپائر ہونے والی شناختی کارڈز کو آئندہ 6 ماہ کے لیے قابل استعمال قراردے دیا۔ رعایت کا اطلاق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہوگا۔

    کوئٹہ، لسبیلہ، کوہلو سمیت بلوچستان بھر کے شہریوں کے ایکسپائر شناختی کارڈ 31دسمبر تک قابل استعمال ہیں۔ دادو، میرپور خاص اور لاڑکانہ سمیت سکھر ریجن کے سیلاب متاثرین کو بھی یہ سہولت دی گئی ہے۔

    نادرا نےڈیرہ غازی خان ریجن کےلیےبھی شناختی کارڈ کی ایکسپائری ڈیٹ میں توسیع کردی ہےچیئرمین نادرا کےمطابق یکم مئی سے زائد المعیاد اور تیس نومبر تک ایکسپائر ہونے والے تمام شناختی کارڈز اکتیس دسمبر تک قابلِ استعمال رہیں گے۔

    برطانوی رکن پارلیمنٹ کا دنیا سے پاکستان کے قرضے معاف کرنے کا مطالبہ

  • امریکی ارکان کانگریس پاکستان میں سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے کیلئے روانہ

    امریکی ارکان کانگریس پاکستان میں سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے کیلئے روانہ

    امریکی ارکان کانگریس شیلا جیکسن اور ٹام سؤزی سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کیلئے روانہ ہو گئے، اتوار کو پاکستان پہنچیں گے۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق سیلاب سے تباہ شدہ علاقوں کا دورہ کرنے کیلئے پاکستان روانگی سے قبل شیلا جیکسن نے پریس کانفرنس میں کہا کہ سیلاب زدگان کی امداد کیلئے ہر ممکن اقدام کریں گے امریکی کانگریس ارکان شیلاجیکسن اور ٹام سؤزی دو روزہ دورے پرپاکستان آئیں گے۔

    خوفناک سیلاب سے تباہی: خیرپور میں لاش دفنانے کیلئے خشک جگہ ملنا مشکل ہوگیا

    علاوہ ازیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل ایرک نے رابطہ کیا ہے۔ امریکی سینٹ کام کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جنرل مائیکل ایرک نے سیلاب سے تباہ کاریوں اور نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا۔ سینٹ کام نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ بہت جلد پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا جائزہ لینے کیلئے اپنی ٹیم پاکستان بھیجے گا امریکی ٹیم سیلاب کی تباہ کاریوں اور دیگر امور کا جائزہ لے گی، جائزہ رپورٹ کی روشنی میں یو ایس ایڈ کی امداد کے امور طے کیے جائیں گے

    دوسری جانب معروف سرچ انجن گوگل نے پاکستان میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے پانچ لاکھ ڈالر عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے گوگل جنوب مشرقی ایشیا کی نائب صدر سٹیفنی ڈیوس نےلنکڈ ان پرپوسٹ کیاکہ ٹیک جائنٹ یہ رقم جو تقریبا 110 ملین روپےکےبرابرہے، Googl . org کے ذریعے سینٹر فار ڈیزاسٹر فلانتھروپی کو عطیہ کرے گی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سینٹر فار ڈیزاسٹر فلانتھروپی اس کے نتیجے میں مقامی تنظیموں کو ذیلی گرانٹ فراہم کرے گا جو بحران سے نمٹنے اور بحالی کے لیے عمل پیرا ہیں پاکستان میں سب کو سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے آگے بڑھتے دیکھا، ہم پاکستانیوں کےجذبے سے متاثر ہوئے ہیں اور ہم بھی مدد کرنا چاہتے ہیں گوگل کمپنی دیگر وسائل سے بھی پاکستانی سیلاب متاثرین کی مدد کرے گی۔

    جنوبی پنجاب کے 1 لاکھ 40 ہزار سے زائد سیلاب متاثرین مختلف بیماریوں کی لپیٹ میں

    دوسری جانب ڈی جی خان،راجن پور میں گزشتہ 7 روز کے دوران سیلاب زدگان کی بیماریوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، محکمہ صحت پنجاب کے مطابق جنوبی پنجاب کے37 ہزار سے زائد سیلاب زدگان سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہوئے ہیں راجن پور میں 68 ہزار، ڈیرہ غازی خان میں 58 ہزار سے زائد سیلاب زدگان بیماریوں میں مبتلا ہوئے ہیں، لیہ میں 8 ہزار، مظفرگڑھ میں 6 ہزار سے زائد سیلاب زدگان بیماریوں کا شکار ہوئے ہیں،سیلاب زدگان میں سانس کی تکلیف، خارش، تیز بخار، ڈائریا سب سے زیادہ رپورٹ ہوئے

    پنجاب کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی سیلاب زدہ علاقوں میں بیماریاں پھیل چکی ہیں، سیلاب زدگان کی مدد کے لئے جانے والے ریسکیو ورکرز بھی بیمار ہوچکے ہیں ،مچھروں کی بہتات ہے،سیلاب زدگان کواس وقت مچھردانیوں کی بھی ضرورت ہے،ادویات کی بھی ضرورت ہے،کئی دوردراز علاقوں میں ابھی تک کوئی میڈیکل ٹیم نہیں پہنچی

    برطانوی رکن پارلیمنٹ کا دنیا سے پاکستان کے قرضے معاف کرنے کا مطالبہ

  • نواب شاہ،سکرنڈمیں غیرمعیاری امدادی کھاناکھانےسےسیلاب متاثرین کی حالت غیر

    نواب شاہ،سکرنڈمیں غیرمعیاری امدادی کھاناکھانےسےسیلاب متاثرین کی حالت غیر

    نواب شاہ:نواب شاہ،سکرنڈمیں غیرمعیاری امدادی کھاناکھانےسےسیلاب متاثرین کی حالت غیر،اطلاعات کے مطابق سندھ کے باسی کئی محاذوں پر لڑرہے ہیں ایک طرف سیلاب کی تباہ کاریاں ہیں تو دوسری طرف حکومت کی بے رحمانہ پالیسیاں اورطاقتوروں ،وڈیروں کی خواہشات کا شکار ہورہے ہیں اس اثنا میں اگران پرکوئی اورظلم زیادتی یا تکلیف آجائے تو وہ کدھر جائیں گے

    نواب شاہ سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ نواب شاہ،سکرنڈمیں غیرمعیاری امدادی کھاناکھانےسےسیلاب متاثرین کی حالت غیرہےاوران کوکوئی پوچھنے والا نہیں مریض تڑپ رہے ہیں

    اس سلسلے میں‌ سندھ پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج کے بعد نواب شاہ،متاثرین میں خواتین اوربچوں سمیت 20 افراد کوہسپتال منتقل کردیاگیا ہے ، جہاں ان کی حالات خراب بتائی جاتی ہے ،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ کھانا سندھ حکومت کی طرف سے فراہم کیا گیاتھا ، لیکن کھانا باسی تھا اورپھرناقص بھی جس کی وجہ سے کھانا کھانے والے سب بیمار ہوگئے

     

     

    ادھروزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ صوبہ بھر میں 30 لاکھ کچے مکانات تباہ ہوگئے، سیکڑوں پکے مکانات بھی رہنے کے قابل نہیں، ڈیڑھ کروڑ سے زائد لوگ بے گھر ہوچکے، 470 اموات ہوئیں، 8 ہزار سے زائد زخمی ہوگئے، ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ اس کی تیاری کرسکیں۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ 2010ء کے بعد یہ سب سے بڑا سیلاب ہے، گزشتہ 12 سے 13 روز میں 27 اضلاع کی حقیقت دیکھی، ابھی جیک آباد، گھوٹکی اور کشمور میں نہیں گیا۔

    انہوں نے بتایا کہ سیلاب میں 470 افراد جاں بحق اور 8 ہزار 314 زخمی ہیں، 30 لاکھ سے زیادہ کچے مکانات تھے، جو نہیں بچے، اگر کوئی مکان گرا نہیں ہے تو وہ رہنے کے قابل نہیں رہا، پکے مکانات بھی کئی جگہوں پر ایسے ہیں جو رہنے کے قابل نہیں، ڈیڑھ کروڑ لوگ بے گھر ہوچکے ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کا کہنا ہے کہ کہیں کوئی کٹ لگانا ہو یا پانی نکالنا ہوگا اس کا فیصلہ محکمہ آبپاشی کریگا، سب سے درخواست کرتا ہوں صبر سے کام لیں، پانی قدرتی گزر گاہوں سے سمندر تک جائے گا۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہر وزیر اپنے اپنے ضلع میں گیا ہے، کوئی ایک کونا نہیں سندھ میں جہاں ہمارا منتخب نمائندہ نہیں پہنچا، جو اپنے گھر سے نکلے گا اس کی کیا کیفیت ہوگی، لوگوں نے غصے کا اظہار کیا لیکن جائز کیا۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ میں 16 اگست کے بعد جو بارش ہوئی تھی اُس کی تیاری نہیں تھی، ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ اس کی تیاری کرسکیں، میڈیا نے دکھانا شروع کیا تب لوگوں کو احساس ہوا کہ حالات واقعی خراب ہیں۔

    وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ جس قسم کی صورتحال ہے میڈیا چینل اب تک وہ نہیں دکھا رہے، میڈیا کو بہت زیادہ درخواست کی تھی تب جاکر کچھ دکھانا شروع کیا، پورا سندھ دریا بنا ہوا ہے، ہر شہر میں دریا کی صورتحال ہے، کئی مقامات پر میری گاڑی روکی گئی لیکن ہم نے لوگوں کو چھوڑا نہیں، جتنا بڑا نقصان ہوا اس میں ہمارے پاس جو سامان تھا ختم ہوگیا۔

    انہوں نے کہا اگست میں معمول سے 700 گنا زیادہ بارش ہوئی، این ڈی ایم اے نے سندھ حکومت کو صرف 8 ہزار ٹینٹ دیئے، ایک لاکھ 10 ہزار ٹینٹ سندھ حکومت تقسیم کرچکی ہے، ہم نے مزید 3 لاکھ ٹینٹ کا آرڈر دیا ہے، اسٹاک میں موجود 20 ہزار ترپال تقسیم کرچکے، 30 لاکھ مچھر دانیوں کی ضرورت ہے، انشاء اللہ مچھر دانیوں کی تعداد پوری ہوجائے گی۔

  • ظالم حکومت:بے حس،نااہلی کی انتہا:خطرناک صورتحال مگرڈرامے بازیاں پھر بھی جاری

    ظالم حکومت:بے حس،نااہلی کی انتہا:خطرناک صورتحال مگرڈرامے بازیاں پھر بھی جاری

    لاہور:ظالم حکومت:بے حس،نااہلی کی انتہا:خطرناک صورتحال مگرڈرامے بازیاں پھر بھی جاری،یہ کوئی کسی نیوز ایجنسی کی خبر نہیں بلکہ آنکھوں دیکھا حال ہے، پاکستان کے سینئرصحافی مبشرلقمان جو کہ پچھلے کئی دنوں سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں عوام الناس کے مسئائل جاننےکےلیے وہاں پہنچے ، انہوں نے وہاں کیا دیکھا اس دُکھ بھری کہانی کو وہ خود بیان کرتے ہیں‌

    ان کا کہنا تھا کہ وہ ڈیرہ غازی خان اورتونسہ کے علاقوں میں گئے ہیں ، وہاں بے بس انسانوں کوان ظالم حکمرانوں کی بے حسی کا شکاردیکھا ، کوئی کسی کی مدد کو نہیں پہنچ رہا ، یہ سب ڈرامے بازیان ہیں ، فرضی اور گھوسٹ کیمپ لگے ہوئے ہیں اوروہاں سوائے علامتی صورتحال کے سوا کچھ نہیں

     

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ کوئی بھی حکومت وہاں نظر نہیں آئی ،ہاں مذہبی جماعتوں کی تنظیموں کو سلام جنہوں نے بلا امتیازپریشان حال لوگوں کی بڑی مدد کی اورابھی یہ سلسلہ جاری ہے ، الخدمت والے تو بہت بہتر کام کررہےہیں ایسا کام انہوں نے کسی اور تنظیم کانہیں دیکھا ایک میکنزم ہے ، حق داروں تک حق پہنچ رہا ہے،لوگوں کی عزت نفس کا خیال رکھا جارہے ، ایسے ہی تحریک لبیک ، دعوت اسلامی والے بھی خدمت میں مصروف ہیں اگروہاں نہیں‌ ہیں تو حکومت کے اہلکار نہیں

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق بڑی تعداد میں حاملہ خواتین اگلے چند دنوں تک پیدائش کے مرحلے سے گزریں گی تو پھرایسی صورت حال میں تو بہت بڑی خطرے کی بات ہے ، ان کےلیے مخصوص میڈیکل کیمپ ہونے چاہیں ، جہاں پہلے ہی شدید گرمی ہے وہاں کس طرح‌ ان معاملات کو حل کیا جائے گا یہ ایک لمحہ فکریہ ہے

     

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجھے امریکہ ، برطانیہ اور دیگرملکوں سے امداد کی آفر کی گئی لیکن میں نے اس لیے ٹھکرا دی کہ ہمارے پاس آڈٹ والا اکاونٹ ہی نہیں‌، آپ پاک آرمی کو دے دیں ، لبیک والوں کو دے دیں‌، الخدمت والوں کو دے دیں‌مجھے یقین ہے کہ وہ آپ کا پیسہ ضائع نہیں کریں گے اور حق داروں تک پہنچائیں گے

    مبشرلقمان کہتےہیں‌ کہ لوگوں کے بُرے حال ہیں ،کرشنگ پلانٹ لگا کرجوقدرتی بند تھے وہ کاٹ دیئے گئے ، سیلاب کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ رہی اور اس نے بڑے بڑے شہراورہزاروں بستیاں تباہ کردیں،

     

    ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے اس علاقے میں لوگوں‌ کوایک کے بعد دوسری مصیبت میں دیکھا،ایک طرف لوگ سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں‌تو دوسری طرف بجلی کے بل ہیں‌، بجلی کے کھمبے کئی ماہ سے گرے ہوئے ہیں لوگوں کو بجلی میسر نہیں ، یونٹ صفر ہے مگر بل سترہ ہزار ، یہ کیسی بدمعاشی اور ظلم ہے ، کوئی پوچھنے والا نہیں ان حکمرانوں کو ، وزیراعلیٰ پرویز الٰہی بھی اس علاقے میں نہیں گئے ،عارف علوی آئے تو ایک فرضی کیمپ میں فوٹوسیشن کروا کرچلے گئے ، مونس الہی گجرات میں ہیں ، ان حالات میں اگر عوام الناس کی طرف سے کوئی سخت ردعمل آیا تو بجا نہ ہوگا ، حالات خراب سے خراب تر ہورہے ہیں ، جہاں اس کے ذمہ دار حکمران ہیں وہاں‌س کے بڑے ذمہ وہاں کے طاقتور ، وڈیرے زیادہ ذمہ دار ہیں

  • کراچی یونیورسٹی میں لیب کی چھت گر گئی

    کراچی یونیورسٹی میں لیب کی چھت گر گئی

    کراچی :کراچی یونیورسٹی میں لیب کی چھت گر گئی، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم کمپیوٹر اور دیگر سامان مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔رپورٹ کے مطابق جامعہ کراچی کے سوشیالوجی ڈپارٹمنٹ کی لیب کی گارڈر اور سلیب سے بنی چھت گر گئی۔

    وائس چانسلر خالد عراقی کا کہنا ہے کہ لیب کی چھت گرنے سے سامان کا نقصان ہوا ہے تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
    رپورٹ کے مطابق واقعے میں دو سے 3 اسپلٹ ایئر کنڈیشن، 24 سے زائد کمپیوٹر اور دیگر سامان مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔

    ادھر دوسری طرف وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ صوبہ بھر میں 30 لاکھ کچے مکانات تباہ ہوگئے، سیکڑوں پکے مکانات بھی رہنے کے قابل نہیں، ڈیڑھ کروڑ سے زائد لوگ بے گھر ہوچکے، 470 اموات ہوئیں، 8 ہزار سے زائد زخمی ہوگئے، ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ اس کی تیاری کرسکیں۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ 2010ء کے بعد یہ سب سے بڑا سیلاب ہے، گزشتہ 12 سے 13 روز میں 27 اضلاع کی حقیقت دیکھی، ابھی جیک آباد، گھوٹکی اور کشمور میں نہیں گیا۔

    انہوں نے بتایا کہ سیلاب میں 470 افراد جاں بحق اور 8 ہزار 314 زخمی ہیں، 30 لاکھ سے زیادہ کچے مکانات تھے، جو نہیں بچے، اگر کوئی مکان گرا نہیں ہے تو وہ رہنے کے قابل نہیں رہا، پکے مکانات بھی کئی جگہوں پر ایسے ہیں جو رہنے کے قابل نہیں، ڈیڑھ کروڑ لوگ بے گھر ہوچکے ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کا کہنا ہے کہ کہیں کوئی کٹ لگانا ہو یا پانی نکالنا ہوگا اس کا فیصلہ محکمہ آبپاشی کریگا، سب سے درخواست کرتا ہوں صبر سے کام لیں، پانی قدرتی گزر گاہوں سے سمندر تک جائے گا۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہر وزیر اپنے اپنے ضلع میں گیا ہے، کوئی ایک کونا نہیں سندھ میں جہاں ہمارا منتخب نمائندہ نہیں پہنچا، جو اپنے گھر سے نکلے گا اس کی کیا کیفیت ہوگی، لوگوں نے غصے کا اظہار کیا لیکن جائز کیا۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ میں 16 اگست کے بعد جو بارش ہوئی تھی اُس کی تیاری نہیں تھی، ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ اس کی تیاری کرسکیں، میڈیا نے دکھانا شروع کیا تب لوگوں کو احساس ہوا کہ حالات واقعی خراب ہیں۔

    وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ جس قسم کی صورتحال ہے میڈیا چینل اب تک وہ نہیں دکھا رہے، میڈیا کو بہت زیادہ درخواست کی تھی تب جاکر کچھ دکھانا شروع کیا، پورا سندھ دریا بنا ہوا ہے، ہر شہر میں دریا کی صورتحال ہے، کئی مقامات پر میری گاڑی روکی گئی لیکن ہم نے لوگوں کو چھوڑا نہیں، جتنا بڑا نقصان ہوا اس میں ہمارے پاس جو سامان تھا ختم ہوگیا۔

    انہوں نے کہا اگست میں معمول سے 700 گنا زیادہ بارش ہوئی، این ڈی ایم اے نے سندھ حکومت کو صرف 8 ہزار ٹینٹ دیئے، ایک لاکھ 10 ہزار ٹینٹ سندھ حکومت تقسیم کرچکی ہے، ہم نے مزید 3 لاکھ ٹینٹ کا آرڈر دیا ہے، اسٹاک میں موجود 20 ہزار ترپال تقسیم کرچکے، 30 لاکھ مچھر دانیوں کی ضرورت ہے، انشاء اللہ مچھر دانیوں کی تعداد پوری ہوجائے گی۔

  • سوات میں سیلاب مگرپی ٹی آئی ارکان اسمبلی ابھی تک غائب ہیں‌

    سوات میں سیلاب مگرپی ٹی آئی ارکان اسمبلی ابھی تک غائب ہیں‌

    سوات:سوات میں سیلاب مگرپی ٹی آئی ارکان اسمبلی ابھی تک غائب ہیں‌،اطلاعات کےمطابق کے پی کے مشہورسیاحتی علاقے سوات میں تاریخ کے بد ترین سیلاب سے تباہی کے باوجود علاقے سے منتخب اراکین صوبائی و قومی اسمبلی کے موجود نہ ہونے پر مقامی لوگ سخت نالاں نظر آتے ہیں۔

    اس حوالے سے میڈیا ذرائع کا کہناہے کہ سیلاب سے متاثرہ ضلع سوات سے کے پی صوبائی اسمبلی میں تحریک انصاف کے 8 ارکان ہیں، جس میں وزیراعلیٰ محمود خان بھی شامل ہیں، جبکہ ضلع سے تمام 3 ایم این ایز کا تعلق بھی پی ٹی آئی سے ہے، جن میں سابق وفاقی وزیر مراد سعید، ایم این اے ڈاکٹر حیدر علی اور ایم این اے سلیم الرحمان شامل ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    سیلاب میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی تحصیل بحرین سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی میاں شرافت علی اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر حیدر علی علاقے میں موجود ہی نہیں۔

    ذرائع کے مطابق دونوں ارکان غیر ملکی دورے پر ہیں، میاں شرافت علی جرمنی جبکہ ڈاکٹر حیدر علی انگلینڈ میں موجود ہیں۔ اور سیلاب کی تباہی کے باوجود بھی علاقے میں نہ پہنچ سکے۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    سابق وفاقی وزیر اور سوات سے منتخب ایم این اے مراد سعید گزشتہ اتوار کو وزیراعلیٰ محمود خان کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں آئے اور واپس چلے گئے، جس کے باعث مقامی لوگوں میں غصہ پایا جاتا ہے۔

     

    بحرین سے کالام تک سڑک دریا برد ہوگئی ہے جبکہ علاقے میں کئی رابطہ پل بھی تباہ ہوگئے ہیں، جس کے باعث بالائی علاقوں میں اشیائے خور و نوش اور ادویات کی کمی سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

  • پاکستان کے چاروں صوبوں، کشمیر اور گلگت بلتستان میں خواتین پولیس کونسلز کے قیام کا اعلان

    پاکستان کے چاروں صوبوں، کشمیر اور گلگت بلتستان میں خواتین پولیس کونسلز کے قیام کا اعلان

    اسلام آباد:پاکستان کے چاروں صوبوں، کشمیر اور گلگت بلتستان میں خواتین پولیس کونسلز کے قیام کا اعلان کر دیا گیا ہے ۔یہ اعلامیہ اسلام آباد میں تین روزہ نیشنل فیلو شپ فار ویمن پولیس کونسل کانفرنس کے اختتام پہ جاری کیا گیا ۔

    کانفرنس کاانعقاد پارلیمنٹرین کمیشن فار ہیومن راٸٹس اورپولیس عوام ساتھ ساتھ نے یو ایس آٸی پی اورآٸی این ایل کے تعاون سےکیا۔کانفرنس میں وویمن پولیس کونسلز کو فعال بنانے اور ان اہداف کی تکمیل کے لیے تجاویز بھی مرتب کی گیٸں ۔

    اس تین روزہ پروگرام کا مقصد محکمے میں نامزد کردہ ویمن پولیس کونسلز کے ممبران کی تربیت سازی اور کونسلز کے سالانہ منصوبے کی تیاری تھی ۔ وویمن پولیس کونسلز اپنی مجوزہ محکموں میں خواتین پولیس افسران کی فلاح و بہبود ، پیشہ ورانہ استعدادکار اور یکساں وساٸل اور مواقعوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ پولیس میں خواتین کی بھرپور شمولیت کے لیے کام کریں گی ۔

    کانفرنس میں آئی جی پنجاب فیصل شاہکار، آئی جی آزاد کشمیر امیر احمد شیخ ، ڈپٹی ڈی جی آنٹی نارکوٹکس عامر ذوالفقار ، سابق آئی جی اسلام آباد کلیم امام ، ڈی آئی جی انوسٹیگیشن کامران عادل ، سابق ڈی جی نیشنل پولیس بیورو احسان غنی ، وفاقی محتسب کی سربراہ کشمالہ خان ، مسلم لیگ نون کی رہنما شائشہ پرویز ملک ، پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما ریاض فتیانہ، یو ایس آئی پی کے کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر عدنان رفیق ، پی سی ایچ آر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد شفیق چوہدری سمیت ملک بھر سے خواتین و مرد پولیس افسران ، قانونی و آٸینی ماہرین ، انسانی حقوق کے نماٸندوں اور سماجی کارکنوں نے کانفرنس میں اظہار خیال کیا ۔

    آئی جی پنجاب فیصل شاہکار نے کانفرنس کے شرکاء کو یقین دہانی کروائی کہ وویمن پولیس کونسلز کے لیے ان کی خدمات ہر طرح سے حاضر ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ خواتین پولیس اہلکاروں کو محکمے میں اعلی سطح پہ ترقیاں ملیں اور انہیں پالیسی سازی میں شامل کیا جائے

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    ڈپٹی ڈی جی انٹی نارکوٹکس فورس عامر ذوالفقار نے کہا پولیس فورس میں خواتین پولیس اہلکاروں کو پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی اداٸیگی میں مشکلات کا سامنا تھا ، انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ خواتین پولیس اہلکاروں کے مساٸل حل ہوں گے جس سے ان کی کرکردگی میں نمایاں تبدیلی آۓ گی

    آئی جی آزاد کشمیر امیر احمد شیخ نے کہا کہ وویمن پولیس کونسل کا قیام وقت کی اشد ضرورت تھی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین ملکی آبادی کو نصف ہیں اور ان کے مساٸل حل کیے بغیر ملک کو ترقی کی راہ پہ گامزن کرنا ممکن نہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما ریاض فتیانہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وویمن پولیس کونسلز کا قیام خوش آئند ہے لیکن ہمیں اس منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے وقت مقرر کرنا ہو گا تاکہ کارکردگی کا جائزہ لیا جاسکے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں وویمن پولیس کونسلز کے قیام کے بعد اس پہلو پہ بھی سوچنا ہو گا کہ اس منصوبے کو طویل عرصے کے لیے کیسے پائئیدار بنایا جا سکتا ہے کیونکہ ماضی میں کئی منصوبے ایسے تھے جو شخصیات کے گرد گھومتے رہے اور افسران کے تبادلوں کے ساتھ ان منصوبوں کو بھی سرد خانوں میں ڈال دیا گیا۔

    پارلیمنٹری کمیشن فار ہیومن راٸٹس کے ایگزیکٹو ڈاٸریکٹر محمد شفیق چوہدری نے وویمن پولیس کونسلز کے قیام کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوۓ کہا اس کامیابی میں تمام پارٹنرز ، سول سوساٸٹی اور سینٸر پولیس افسران نے بھرپور کردار ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ وویمن پولیس کونسلز کے قیام سے جراٸم میں کمی آۓ گی اور عدلیہ کے سامنے خواتین سے متعلق کیسوں کی انتہاٸی جامع اور مکمل انکواٸری رپورٹ پیش ہوگی جس سے انہیں فیصلہ کرنے میں بہت مدد ملے گی ۔

    یو ایس آٸی پی کے کنٹری ڈاٸریکٹر ڈاکٹر عدنان رفیق نے شرکاء سے خطاب میں کہا کہ اگرچہ تبدیلی کی رفتار سست ہے لیکن ہم درست میں گامزن ہیں اور وویمن پولیس کونسلز کا قیام کامیابی کی جانب پہلا قدم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی پولیس کو بین الاقوامی معیار کی فورس بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور مستقبل میں چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوۓ ایسی مزید اصلاحات تجویز کریں گے جس سے پولیس کے محکمے میں بہتری آۓ اور پولیس اپنی کارکردگی اور عویے سے حقیقی معنوں میں عوام دوست پولیس ثابت ہو۔

    مسلم لیگ نون کی سینئر رہنما شائسہ پرویز ملک نے کہا کہ اب اس تاثر کو ختم ہونا چاہیے کہ خواتین کسی مجبوری کے تحت پولیس فورس میں نوکری کرتی ہیں ۔ خواتین کو اللہ تعالی نے خداداد صلاحیتوں سے نوازا ہے اور یہ کسی بھی شعبے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں ۔

    وفاقی محتسب کی سربراہ کشمالہ خان نے خواتین پولیس اہلکاروں کو تاکید کی اب اگر ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی ناانصافی ہوتی ہے تو انہیں چپ نہیں رہنا چاہیے کیونکہ زمانہ بدل چکا ہے اور خواتین کو اپنے حقوق کی جنگ خود لڑنا ہو گی ۔

    کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوۓ لاہور ہاٸیکورٹ کی سابق جج جسٹس ناصرہ جاوید ملک نے وویمن پولیس کانسلز کے قیام کو خوش آٸند قرار دیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ ان کونسلز کے ذریعے ملک میں نہ صرف خواتین شہریوں کے پیچیدہ مساٸل کو حل کرنے میں مدد ملے گی بلکہ خواتین پولیس افسران بھی بااختیار ہوں گی ۔

    اس موقع پہ ڈی جی لیگل اینڈ جسٹس اتھارٹی ڈاکٹر رحیم اعوان کا کہنا تھا کہ اسلامی اور برصغیر دونوں کی تاریخ میں خواتین نے بہترین حکمرانی کی مثالیں قاٸم کی ہیں ۔ ہماری خواتین پولیس افسران کو بھی چاہیے کہ اپنے آٸینی و قانونی حقوق سے آگاہی حاصل کریں جو انہیں بااختیار بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے ۔ ڈاکٹر رحیم اعوان نے کہا پولیس کانسلز کے قیام کے بعد تفتیش کے دوران تھانوں میں آنیوالی خواتین شہریوں کو تحفظ کا احساس ہو گا اور شفاف انکواٸری ہو گی ۔

    سابق آٸی جی اسلام آباد کلیم امام نے کہا کہ اگر ملک نے آگے بڑھنا ہے تو معاشرے کو خواتین کے حوالے سے رویے میں تبدیلی لانا ہو گی اور خواتین ہولیس افسران کو بھی اپنی کارکردگی اور کردار سے منفرد کام کرتے ہوۓ آگے بڑھنا ہو گا ۔ خواتین افسران کو اپنے کام سے محبت کرتے ہوۓ اپنی استعداد کو بڑھاٸیں تاکہ پولیس محکمے میں نٸی آنیوالی خواتین کے لیے مثالی نمونہ بنیں ۔

    تقریب کے اختتام پہ شرکاء کو شیلڈز اور سرٹیفیکیٹ دئے گئے ۔

  • سابق سویت یونین صدرگورباچوف کی آخری رسومات:روسی صدرولادی میرپوتین کی شرکت سے معذرت

    سابق سویت یونین صدرگورباچوف کی آخری رسومات:روسی صدرولادی میرپوتین کی شرکت سے معذرت

    ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے سابق سوویت یونین کے پہلے اور آخری صدر میخائل گورباچوف کی آخری رسومات ریاستی اعزاز کے ساتھ کرنے سے روک دیا۔ بتایا جارہاہےکہ یہ فیصلہ سیکورٹی کی وجہ سے کیا گیا ہے

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سابق سویت یونین کے صدر میخائل گورباچوف کی آخری رسومات کل ہونی ہیں تاہم روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے آنجہانی رہنما کو ریاستی اعزاز کے ساتھ آخری دفنانے سے محروم کردیا البتہ خیال کیا جا رہا ہے کہ میخائل گورباچوف کو فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا جائے گا۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    ادھر روسی صدارتی دفتر کریملن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ روسی صدر اپنے کام کے شیڈول کے باعث سابق سوویت صدر گورباچوف کی آخری رسومات میں شرکت نہیں کرسکیں گے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    جس کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ میخائل گورباچوف کی تدفین ہفتے کے روز ہال آف کالمز میں ایک عوامی تقریب کے بعد کی جائے گی جس میں سوویت یونین کے رہنما ولادیمیر لینن، جوزف اسٹالن اور لیونیڈ بریزنیف کریں گے۔

    دوسری جانب سرکاری ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ ماسکو کے سینٹرل کلینیکل اسپتال میں ولادیمیر پوٹن نے رسمی طور پر میخائل گورباچوف کے تابوت پر سرخ گلاب بھی رکھا۔ تابوت کو ہاتھ لگایا اور صلیب کا نشان بنایا۔

    واضح رہے کہ 2 روز قبل سابق سوویت یونین کے پہلے اور آخری صدر میخائل گورباچوف 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔

  • انسولین انجیکشن ماضی کا قصہ؟:بہت جلد انقلاب کا اعلان متوقع

    انسولین انجیکشن ماضی کا قصہ؟:بہت جلد انقلاب کا اعلان متوقع

    کینڈا:کینیڈین سائنسدان بہت جلد ایک بہت بڑی کامیابی کا اعلان کرنے والے ہیں اور یہ امکان ظاہر کیا جارہاہے کہ بہت جلد انسولین انجیکشن کی جگہ ایک ایسی گولی لے لی گی جوانسولین سےبھی کئی گنا بہترثابت ہوگئی ، ذیابطس کے مریض جانتے ہیں کہ دہائیوں سے ذیابیطس کے بیشتر مریضوں کو دن بھر میں اپنے بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے انسولین کے انجیکشن استعمال کرنا پڑتے ہیں۔مگر امکان ہے کہ مستقبل قریب میں ایک گولی انجیکشن کی ضرورت کو ختم کردے گی۔

    خیال رہے کہ ذیابیطس کے مرض میں لبلبہ انسولین بنانے سے قاصر ہوجاتا ہے یا اس کی ناکافی مقدار بناتا ہے، یہ وہ ہارمون ہے جو خون میں گلوکوز کی سطح کم کرتا ہے۔

    جس کے باعث مریضوں کو انسولین کے انجیکشن لگانے پڑتے ہیں ورنہ بلڈ شوگر لیول زیادہ رہنے سے سنگین طبی پیچیدگیوں جیسے گردوں کو نقصان پہنچنا، بینائی متاثر ہونا، امراض قلب اور فالج وغیرہ کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    مگر روزانہ کئی انجیکشن لگانا آسان نہیں ہوتا، اسی وجہ سے کینیڈا کی برٹش کولمبیا یونیورسٹی کے ماہرین نے منہ کے ذریعے دی جانے والی انسولین گولی کی تیاری پر کام کیا ہے۔

    ماہرین نے اسے ‘گیم چینجنگ’ دریافت قرار دیا ہے کیونکہ یہ دوا جسم میں انجیکشن کی طرح ہی کام کرتی ہے۔اب تک اس دوا کے تجربات چوہوں پر کیے گئے ہیں اور نتائج حوصلہ افزا رہے ہیں اور اب محققین انسانوں پر اس کی آزمائش کرنا چاہتے ہیں۔

    جرنل نیچر سائنٹیفک رپورٹس میں شائع تحقیق میں ماہرین کا کہنا تھا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم انسولین گولی کی تیاری کے حوالے سے درست سمت میں بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس دوا کے باعث ہر بار کھانے سے پہلے انجیکشن لگانے کی ضرورت نہیں جبکہ مریض کا معیار زندگی بہتر ہوگا۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    انسولین کو دوا کی شکل دینا بہت مشکل ہے کیونکہ یہ ایک پروٹین ہے اور گولی کی شکل میں یہ جگر تک پہنچنے سے پہلے ہی معدے اور آنتوں میں جذب ہو سکتا ہے۔محققین نے بتایا کہ انجیکشن میں عموماً 100 آئی یو مقدار انسولین دی جاتی ہے، جبکہ گولی کی شکل میں 500 آئی یو مقدار استعمال کرنا ہوگی جس میں سے بھی زیادہ تر ضائع ہوجائے گی۔

    یہی وجہ ہے کہ انہوں نے عام گولی تیار کرنے کی بجائے ایک مختلف طریقہ کار اختیار کیا اور ایسی گولی تیار کی جو مسوڑوں اور گالوں کے درمیان ہی گھل جائے۔چوہوں پر اس کے تجربات اب تک کامیاب رہے ہیں اور منہ میں گھل جانے کے باعث یہ دوا براہ راست دوران خون میں چلی جاتی ہے، جہاں سے یہ جگر تک پہنچ جاتی ہے۔

    محققین کے مطابق چوہوں کو دوا استعمال کرانے کے 2 گھنٹے بعد بھی ہم نے معدے میں انسولین کو دریافت نہیں کیا بلکہ وہ جگر پہنچ گئی، جو ہمارا ہدف تھا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    ابھی اس حوالے سے کافی کام ہونا باقی ہے کیونکہ ابھی انسانوں میں اس کی کامیابی کے لیے ٹرائل ضروری ہے جس میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ دوا سے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

  • عمران خان کی الٹی شلوار کی تصویر ویڈیو ، حقیقت کیا؟

    عمران خان کی الٹی شلوار کی تصویر ویڈیو ، حقیقت کیا؟

    عمران خان کی الٹی شلوار کی تصویر ویڈیو ، حقیقت کیا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کی ایک تصویر اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ عمران خان نے سرگودھا جلسے میں خطاب کے دوران شلوار الٹی پہن رکھی ہے

    عمران خان نے شلوار الٹی پہن رکھی یا نہیں، سوشل میڈیا پر ویڈیو اور تصاویر شیئر ہو رہی ہیں ،الٹی شلوار پہننے پر عمران خان پر تنقید ہو رہی ہے تو وہیں کئی صارفین کا کہنا ہے کہ شاید سرگودھا جلسے کو کامیاب بنانے کے لئے کسی نے انہیں کہا ہے،اسلئے وہ شلوار الٹی پہن کر گئے ہیں

    عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ اسلام آباد میں ہے اور اسلام آباد سے سرگودھا کا سفر کیا، عمران خان ہیلی پر بنی گالہ سے سرگودھا گئے، عمران خان ہیلی پیڈ سے جلسہ گاہ گاڑی میں پہنچے عمران خان کے ارد گرد سیکورٹی اہلکاروں سمیت پارٹی رہنماؤں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھی، عمران خان جلسہ گاہ میں جا کر بیٹھے اور پھر خطاب کیا، عمران خان کے بنی گالہ گھر سے نکلنے سے لے کر خطاب کے دوران تک کسی کو جرات نہ ہو سکی کہ عمران خان کو کہہ دے خان صاحب شلوار الٹی پہن کر آ گئے ہیں. کیونکہ عمران خان کے سامنے کسی کو بولنے کی پارٹی میں جرات نہیں، عمران خان شلوار الٹی پہن کر نکلیں یا پاکستان کے آئین و قانون سے کھلواڑ کرنے کے غلط فیصلے کریں، جلسے میں خط لہرا کر سازش کا جھوٹا بیانیہ بنائیں یا پھر قتل کی دھمکی کا ڈرامہ کریں، فرح گوگی کی کرپشن کا دفاع ہو یا پھر عدالت کو دھمکیاں ، عمران خان کے غلط فیصلوں ،کاموں کے سامنے کسی پارٹی رہنما کو بولنے کی جرات نہیں ہوتی، اگر کسی کو جرات ہوتی کہ وہ عمران خان کے سامنے بات کرے یا اسکے فیصلے کے خلاف جائے تو کم از کم جلسے میں جاتے ہوئے عمران خان کو شلوار سیدھی پہننے کا کہہ سکتا تھا

    عمران خان کے قریبی رہنما بھی عمران خان کے غلط بیانیے میں انکی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں، جو بھی عمران خان کے فیصلوں کے خلاف بولتا ہے،تو اسے پارٹی اجلاس میں نہیں آنے دیا جاتا یا عمران خان کے قریب تر رسائی ختم کر دی جاتی ہے،عمران خان کے سامنے بولنے والوں کو عمران خان سے دور کر دیا جاتا ہے،عمران خان جب وزیراعظم تھے تو اس وقت کابینہ کے اجلاسوں میں بھی شہزاد اکبر و دیگر کی تیار شدہ غلط بریفنگ، اعدادوشمار کو عمران خان صحیح کہتے اور سب کو صحیح کہنا پڑتا، رانا ثناء اللہ پر عمران خان حکومت نے مقدمہ قائم کیا تو شہر یار آفریدی جو اسوقت وزیر تھے انہوں نے‌ حلف اٹھا کر کہا تھا کہ میرے پاس ثبوت ہیں لیکن دوسری جانب جب تحریک انصاف کی حکومت ختم ہوئی تو فواد چودھری نے نجی ٹی وی پر کہا تھا کہ رانا ثناء اللہ کے خلاف مقدمہ غلط بنایا گیا تھا میں نے اسوقت کابینہ اجلاس میں بات کی تھی لیکن میری بات نہیں سنی گئی

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    عمران خان کی الٹی شلوار والی ویڈیو پر ایک صارف نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار جانے کے غم میں عمران خان اتنا پاگل ہو چکا ہے کہ سیدھی شلوار بھی نہیں پہنتا ،یاد رہے گزشتہ روز عمران خان نے 1947 کی آزادی کے وقت کی آبادی 40 کروڑ بتا دی تھی ،ساتھ کھڑے ایک دوسرے نشئ نے اس کو بتایا کہ چالیس لاکھ تھی ،عمران خان کی تصویر بین الاقوامی سطح پر وائرل ہوگئی

    https://twitter.com/Shine_Stine/status/1565590343357267969