Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • عارف علوی کا دورہ ڈی جی خان: مبشر لقمان کا گھوسٹ کیمپ پر چھاپہ، انتظامیہ رنگے ہاتھوں پکڑی گئی

    عارف علوی کا دورہ ڈی جی خان: مبشر لقمان کا گھوسٹ کیمپ پر چھاپہ، انتظامیہ رنگے ہاتھوں پکڑی گئی

    عارف علوی کا دورہ ڈیرہ غازی خان، سیئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے گھوسٹ کیمپ پر چھاپہ مار کر انتظامیہ کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا.

    آپ کو یاد ہوگا کہ گزشتہ دنوں صدر پاکستان عارف علوی نے سیلاب زدگان کیلئے صوبہ پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان کا دورہ کیا تھا، لیکن اب سینئر اینکرپرسن مبشر لقمان نے اس دو نمبر دورہ اصل حقیقت اپنے پروگرام کھرا سچ میں کھول کر رکھ دی ہے، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جس ریلیف کیمپ کا دورہ کیا وہ دراصل ایک گھوسٹ کیمپ بنایا گیا تھا کیونکہ صدر مملکت کو سیلاب سے متاثرہ دور دراز علاقوں میں لے جانے کے بجائے ائیرپورٹ کے قریب ایک عارضی ریلیف کیمپ کا دورہ کرایا گیا۔

    جبکہ ضلعی انتظامیہ نے اس بات کا اہتمام کیا تھا کہ نجی میڈیا کے نمائندے صدر پاکستان کے دورے کی کوریج نہ کر سکیں کیونکہ پھر وہ اس بارے میں سوال کرسکتے لیکن سینئر اینکر مبشر لقمان نے چھاپہ مار کر انتظامیہ کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ہے، چھاپہ کے دوران مبشر لقمان نے متعلقہ افراد سے سوال کیا کہ اس کیمپ میں سیلاب متاثرین کہاں ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ اب یہ کیمپ خالی ہوگئے ہیں مبشر لقمان نے پھر کہا کہ جہاں سیلاب آیا ہوا اس کے قریب کیمپ لگانے کے بجائے آپ نے ائیر پورٹ کے قریب کمیپ کیوں لگایا اور یہاں تک سیلاب متاثرین کیسے پہنچیں گے؟ اس بارے انتظامیہ کے پاس کوئی ٹھوس جواب نہ تھا،

    سینئر اینکرپرسن نے کہا کہ جہاں متاثرین رہ رہے وہاں لے جاو تو انتظامیہ نے کہا پردہ کا مسئلہ ہے وہاں خواتین ہیں نہیں جاسکتے سکتے تو اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا کہ دور سے ہی دکھا دو جس پر ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا.

    مبشر لقمان نے انکشاف کیا کہ جگہ جگہ وزیر اعلی پنجاب پرویز الہی کے پینا فلیکس لگے ہوئے مگر یہاں انتظامیہ کارکردگی صفر ہے. ایک اور جگہ مبشر لقمان نے سیلاب متاثرین کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سینئر اینکر کو بتایا کہ جہاں پنجاب حکومت کی کارکردگی صفر ہے اور ہم سیلاب زدگان کا برا حال ہے.


    مبشر لقمان نے انکشاف کیا کہ: یہ گھوسٹ کیمپ محض اعلی عہداران کے دورہ کے وقت فوٹو سیشن کیلئے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ انہیں سیلاب زدہ علاقوں میں جانے کی زہمت نہ کرنی پڑے اور وہ ائیر پورٹ سے سیدھا نزدیکی کیمپ آکر فوٹو سیشن کروا میڈیا پر چلوا دیں کہ ہم نے سیلاب متاثرین کا دورہ کیا حالانکہ حقیقت یہ ہے. اور یہ لوگ صرف اور صرف ان لوگوں کو بے وقوف بناتے ہیں جو گھروں بیٹھ کر ٹی وی اسکرین پر دیکھ رہے ہوتے ہیں.

    مبشر لقمان نے ناظرین کو پنجاب حکومت کی دو نمبری دکھاتے ہوئے کہا کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ یہ حکومت مستحقین کا حق مار کر عوام کی نظروں میں دھول جھوک رہی ہے، جبکہ یہ لوگ اللہ کو کیسے جواب دیں گے، مبشر لقمان نے مزید کہا کہ یہ سارا ڈرامہ دیکھ کر مجھے تو سیاست سے نفرت ہونا شروع ہوگئی ہے. ان کا کہنا تھا کہ یہاں پر فلاحی تنظیمیں اور افواج پاکستان صحیح طور پر کام کررہے ہیں ورنہ سیاستدانوں نے تو عوام کا تمسخر اڑایا ہوا ہے.

  • سی ڈی اے عوام کی نہیں بلکہ کسی اور کی خدمت میں لگی ہوئی ہے؟ عدالت

    اسلام آباد کے مختلف گاؤں کے متاثرین کو معاوضوں کی عدم ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین سی ڈی اے محمد عثمان کو 16 ستمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سی ڈی اے عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی ہے متاثرین کو تسلیم شدہ معاوضوں کی عدم ادائیگی آئین میں دیئے حقوق کی خلاف ورزی ہے ریاست شہریوں کو حقوق دینے میں ناکام رہی ہے ،چیئرمین سی ڈی اے وضاحت کرے کہ متاثرین کو معاوضے ابھی کیوں نہیں دیئے گئے؟آپ کو پتہ ہے کتنا بڑا ایشو ہے اس کو آپ ایک عام کیس کی طرح لے رہے ہیں، ان کی زمینیں چالیس چالیس سال پہلے آپ نے لے لی ہیں، اس عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ ان متاثرین کے کلیم ان کو دیئے جائیں گے،بائیس ہزار پلاٹ سی ڈی اے نے چیئرمین اور اپنے ممبروں کے نام کر لیے،کیا آپ چاہتے ہیں ہم چیئرمین سی ڈی اے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کریں؟سی ڈی اے عوام کی نہیں بلکہ کسی اور کی خدمت میں لگی ہوئی ہے؟

    تعمیراتی پراجیکٹس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم،وزیراعظم کے معاون خصوصی کو طلب کر لیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    راول ڈیم کے کنارے کمرشل تعمیرات سے متعلق کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

    اگر کلب کوریگولرائزکر دینگے توجو عام آدمی کا گھربن گیا اس کو کسطرح گرا سکتے ہیں؟ عدالت

    گھر غیر قانونی ہے تو کارروائی کریں،عدالت کا اہم شخصیت کی جانب سے سرکاری اراضی پر قبضہ کیس پر حکم

    قبل ازیں ایک سماعت کے دوران اسلام آباد میں نئے سیکٹرز کی تعمیرسے متاثرہ شہریوں کو معاوضوں کی عدم ادائیگی پر عدالت برہم ہو گئی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہرسطح پرمفادات کا ٹکراؤ سامنے آجاتا ہے ،ریاست کو توشہریوں کی حفاظت کرنی چاہیے تھی،مسئلہ یہ ہے ریاست عام شہری کا تحفظ نہیں کررہی ،ریاست صرف ایلیٹ کلاس کی خدمت کررہی ہے،شہریوں کی انصاف تک رسائی کی راہ میں ہرجگہ رکاوٹیں ہی رکاوٹیں ہیں،شہری انصاف لینے نکلیں تو تکنیکی رکاوٹوں سے تھک ہارکربیٹھ جاتے ہیں ،حکام ان شہریوں کی جگہ خود کو رکھ کردیکھیں جنھیں اپنی زمینوں سے ہٹا کر بے گھرکردیا گیا ،خود سوچیں آپکے گاؤں کی پوری زمین حکومت زبردستی لے اورڈی سی ریٹ ادا کر دے، کسی کی زمین سرکاری تحویل میں لینے کیلئے بین الاقوامی اصول موجود ہیں،یہ بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے،جن کی زمینیں لی گئیں وہ متاثرین ہمارے لیے اہم ہیں،آئینی عدالت نے عوامی حقوق کا تحفظ کرنا ہے ،شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا،

  • اوکاڑہ: نامعلوم ملزمان نے گھر میں سوئے ہوئے میاں بیوی کو قتل کردیا

    اوکاڑہ: نامعلوم ملزمان نے گھر میں سوئے ہوئے میاں بیوی کو قتل کردیا

    اوکاڑہ میں نامعلوم ملزمان نے گھر میں سوئے ہوئے میاں بیوی کو تیز دھار آلے سے قتل کردیا –

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق اوکاڑہ کے عیدگاہ روڈ پر سبزی منڈی کے قریب میاں بیوی عامر علیم اور پروین کو تیز دھار آلے سے قتل کر دیا گیا ملزمان نے دونوں کے قتل کے لیے چھریوں کے وار کیے۔

    کراچی میں نامعلوم افراد نے خواجہ سرا کو قتل کر دیا

    پولیس کا کہنا ہے کہ حملے کے نتیجے میں پروین موقع پر جاں بحق ہو گئی جب کہ عامر علیم شدید زخمی ہوگیا، جسے اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے میں دم توڑ گیا ابتدائی معلومات کے مطابق قتل کی وجہ عناد اور گھریلو تنازع بتایا جا رہا ہے۔

    اطلاع ملتے ہی پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور تفتیش شروع کردی۔ فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    راولپنڈی: جنسی زیادتی میں ناکامی پر طالبہ کو قتل کرنے والے ٹیچر کو سزائے موت

    دوسری جانب کراچی میں گلستان جوہر میں کار سوار شخص کو ڈاکوؤں نے مزاحمت پر قتل کردیاپولیس کے مطابق منور چورنگی کے قریب ذیشان نامی شخص کارمیں اپنےبیوی بچوں کےہمراہ بیٹھاتھا کہ 2 ملزمان نےاسلحہ دکھاکر لوٹ مار کرنےکی کوشش کی توذیشان نے ملزمان کے ساتھ مزاحمت کی اور انکا پستول پکڑلیا جس پر ملزمان اسے گولی مار کر فرار ہوگئے، مقتول ذیشان اسپتال پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ گیا۔

    واقعہ کے بعد گلستان جوہر پولیس موقع پر پہنچی اور شواہد اکٹھا کئے تاہم جائے وقوعہ سے پولیس کو گولی کا خول نہ مل سکا، مقتول ذیشان گلستان جوہر کا ہی رہائشی تھا اور کڈنی سینٹر میں بطور منیجر کام کرتا تھا۔

    دوران ڈکیتی خاتون کے ساتھ کیا گیا گھناؤنا کام

  • پاک فوج کی سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی تفصیلات

    پاک فوج کی سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی تفصیلات

    پاک فوج کی سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق مختلف علاقوں میں پھنسے افراد کو نکالنے کےلیے 200 ہیلی کاپٹرز نے پرواز بھری، ہیلی کاپٹرز کے ذریعے سیلاب متاثرہ علاقوں میں راشن اور ادویات بھی پہنچائی گئیں، ہیلی کاپٹرز کے ذریعے گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 1991 پھنسے افراد کو نکالا گیا،گزشتہ 24 گھنٹے میں 162 اعشاریہ 6 ٹن امدادی سامان سیلاب متاثرین تک پہنچایا گیا،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اب تک 50000 سے زائد افراد کو آفت زدہ علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ سیلاب متاثرین کے لیے سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان، کے پی کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 147 ریلیف کیمپ چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں۔اب تک 60,000 سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا گیا ہے اور پاک فوج کے میڈیکل کیمپوں پر آنے والے تمام مریضوں کو تین سے پانچ دن کی دوا مفت دی جا رہی ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کے کئی شہروں میں 221 کیمپ قائم ہیں جہاں عطیات جمع کئے جا رہے ہیں، ان کیمپوں پر ابھی تک 1350 ٹن سے زائد خوراک/ادویات اور دیگر غذائی اشیاء جمع کی گئی ہیں

    کمراٹ میں پھنسے سیاحوں کو پاک فوج کے ہیلی کاپٹر نے ریسکیو کر لیا ہے

    سیلاب سے متاثرہ آخری آدمی کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، آرمی چیف

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    علاوہ ازیں ملک بھر میں سیلاب اور بارشوں مزید 19 افراد جاں بحق ہوئے،سیلاب اور بارشوں سے سندھ میں مزید 12افراد جاں بحق ہوئے،خیبرپختونخوامیں سیلاب اور بارشوں سے 4 افراد لقمہ اجل بنے این ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب اور بارشوں سے بلوچستان میں جاں بحق افراد کی تعداد 3 ہوگئی،ملک بھر میں سیلاب اور بارشوں سے جاں بحق افراد کی تعداد ایک ہزار 208 ہوگئی ،سیلاب اور بارشوں سے سندھ میں432 افراد زندگی کی بازى ہارگئے

  • کئی ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے پر سات ملازمین نے ایک ساتھ زہر کھا لی

    کئی ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے پر سات ملازمین نے ایک ساتھ زہر کھا لی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کئی ماہ سے کام کے باوجودہ تنخواہ نہ ملنے پر سات ملازمین نے ایک ساتھ زہر کھا لی

    واقعہ بھارت کا ہے، بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ایک فیکٹری میں ملازمین کو کئی ماہ سے تنخواہیں نہیں مل رہی تھیں، ملازمین مسلسل کام کے لئے آ رہے تھے اور کام کر رہے تھے لیکن فیکٹری مالک تنخواہ نہیں دے رہا تھا، ملازمین نے تنگ آ کر ایک ساتھ زہر کھانے کا پروگرام بنایا اور زہر کھا لی جس سے ملازمین کی حالت غیر ہو گئی،زہر کھانے والے ملازمین کو طبی امداد کے لئے مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انکا علاج جاری ہے

    واقعہ کی اطلاع پر پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی ، پولیس کے مطابق پردیشی پورہ میں فیکٹری میں کام کرنے والے ملازمین کو ایک طرف تنخواہیں نہیں دی جا رہی تھیں تو وہیں دوسری فیکٹری میں کام کے لئے بھجوایا جا رہا تھا،ملازمین تنخواہیں مانگ رہے تھے لیکن ان کی نہیں سنی جا رہی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے اجتماعی خود کشی کی کوشش کی ہے،جن ملازمین نے زہر کھایا ہے ان میں جمنا دھر، دیپک، دیوی لال، راجیش،جتیندر، دھامینا اور شیکھر ہیں،

    پولیس کے مطابق زہر کھانے والے ملازمین کی حالت بہتر ہونے پر انکا بیان ریکارڈ کیا جائے گا اور فیکٹری مالک کے خلاف کاروائی کی جائے گی، سات افراد کے زہر کھانے کی اطلاع پر ان ملازمین کے اہلخانہ بھی ہسپتال پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے فیکٹری مالک کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے.پولیس کے مطابق ملازمین کے بیان کے بعد ہی حقیقت سامنے آئے گی،

    دعا کیجیے گا ہماری دعا ظالموں کے چنگل سے آزاد ہو،دعا زہرہ کے والدین کی اپیل

    دعا زہرہ کیس،عمر کے تعین کیلئے ایک بار پھر میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم

     دعا زہرہ کو عدالت نے دارالامان بھجوانے کا حکم 

  • خیبر پختونخوا کے سرکاری اسکولوں میں داخلہ مہم ختم،ہدف پورا نہ ہو سکا

    خیبر پختونخوا کے سرکاری اسکولوں میں داخلہ مہم ختم،ہدف پورا نہ ہو سکا

    خیبر پختونخوا کے سرکاری اسکولوں میں داخلہ مہم کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : محکمہ تعلیم کے مطابق سرکاری اسکولوں میں داخلے کا ہدف 10لاکھ تھا، خیبر پختونخوا کے سرکاری ا سکولوں میں 6 لاکھ 76 ہزار سے زائد بچوں کے داخلے ہو چکے ہیں-

    محکمہ تعلیم کے مطابق سرکاری ا سکولوں میں مقررہ ہدف سے3 لاکھ سے زائد بچے کم داخل ہوئے جبکہ پرائیویٹ اسکولوں میں 94 ہزار نئے بچے آئے ہیں۔

    محکمہ تعلیم کے مطابق خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع کےاسکولوں میں 73 ہزارسے زائد طلبا داخل ہوئے،جن میں 44 ہزار طلبا اور705 طالبات شامل ہیں،محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے مطابق سب سے زیادہ نئے طلبہ پشاور اور سوات میں اسکولوں میں داخل ہوئے۔

    دوسری جانب منشیات کی لعنت سے نجات حاصل کرنے والے 1200 افراد کو ان کے عزیز و اقارب کے حوالے کرنے کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی صوبہ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ والدین کا فرض ہے کہ اپنے بچوں کے معمولات پہ نگاہ رکھیں۔

    تقریب میں کمشنر پشاور، ڈی سی پشاور اور پولیس افسران سمیت تاجر برادری کی نمائندہ شخصیات نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر تاجر برادری کی جانب سے 380 افراد کو ملازمتیں دینے کا بھی اعلان کیا گیا۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوبے کا بارڈر دور دور تک پھیلا ہوا ہے جس کی وجہ سے منشیات کی روک تھام میں مشکلات و دشواریاں پیش آتی ہیں نشے سے پاک پشاور ہمارا عزم اور ذمہ داری ہے۔

  • پاکستان نیوی کی جانب سے سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری

    پاکستان نیوی کی جانب سے سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری

    پاکستان نیوی کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ دور دراز علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے۔

    ترجمان پاک بحریہ کے مطابق پاک بحریہ کے جوان سندھ کے مختلف علاقوں بشمول سانگھڑ، تحصیل مہر، سلطان کوٹ، شاہ بندر، کوڈاریو، دولت پور، چوھڑجمالی، سجاول اور ٹھٹھہ میں امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ پاک بحریہ نے سندھ حکومت کے ساتھ ساتھ امدادی کارروائیوں کا دائرہ کار پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سیلاب زدہ علاقوں تک بھی بڑھا دیا ہے۔

    پاک بحریہ کے جوان کشتیوں اور ہیلی کاپٹرز کے ذریعے سیلاب زدہ علاقوں میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔ پاک بحریہ کی جانب سے متاثرین میں راشن بیگز، تیار کھانا، صاف پانی اور دیگر ضروریات زندگی فراہم کی جارہی ہیں۔

    دوسری جانب راجن پور، جامشورو، سانگھٹر اور ڈی آئی خان میں بھی پاکستان نیوی کے میڈیکل کیمپس کے علاوہ مختلف علاقوں میں موبائل میڈیکل ٹیمز بھی کام کر رہی ہیں۔ پاک بحریہ کے جوانوں نے سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر ڈیرہ اسماعیل خان میں چشمہ روڈ کی عارضی مرمت کے بعد اسے عام ٹریفک کیلئے کھول دیا ہے۔ ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاک بحریہ مقامی انتظامیہ اور فلاحی تنظیموں کے تعاون سے تمام متاثرین کی ہر ممکن بحالی کے لیے پر عزم ہے۔

    علاوہ ازیں کراچی کے مختلف حصوں میں سیلابی ریلوں اور طوفانی بارشوں کے دوران پاک بحریہ نے امدادی آپریشن کیا گیا. پاک بحریہ نے سندھ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے اشتراک سے حالیہ طوفانی بارشوں سے پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال میں ہر ممکن امداد فراہم کی اور سیلاب زدہ گھروں میں پھنسے مقامی لوگوں کو بچا کر محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں سول انتظامیہ کو مدد فراہم کی۔ پاک بحریہ نے اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے بڑی مقدار میں بارشوں کے جمع شدہ پانی کی نکاسی کو ممکن بنایا۔پاک بحریہ کے جوان شیر شاہ ، صدر، لیاری، بزرٹا لائن ، پنجاب چورنگی اور ماڑی پور سمیت کراچی کے مختلف علاقوں میں پہنچے اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا.

  • ملک بھرمیں سیلاب اور بارشوں سےجاںبحق افراد کی تعداد 1 ہزار 208 ہوگئی

    ملک بھرمیں سیلاب اور بارشوں سےجاںبحق افراد کی تعداد 1 ہزار 208 ہوگئی

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق خیبرپختو نخوا، شمالی پنجاب ، گلگت بلتستان ،کشمیر اورسندھ میں بارش متوقع ہے،اسلام آباد میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا ،رات کوبارش کا امکان ہے-

    سیلاب متاثرین کی مد کیلئے امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت 7 ملکوں کی این جی اوز کو کام کرنیکی…

    محکمہ موسمیات کے مطابق مری ، گلیات ، راولپنڈی، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش متوقع ہے،تھر پارکر، بدین، عمر کوٹ ، میر پور خاص اور سندھ کے ساحلی علاقوں میں بارش کا امکان ہے دیر، سوات، چترال،ہری پور، ایبٹ آباد، مانسہرہ اور کرم میں ہلکی بارش کا امکان ہے-

    دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ (این ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں سیلاب اور بارشوں مزید 19 افراد جاں بحق ہوئے،سیلاب اور بارشوں سے سندھ میں مزید 12افراد جاں بحق ہوئے،خیبرپختونخوامیں سیلاب اور بارشوں سے 4 افراد لقمہ اجل بنے-

    این ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب اور بارشوں سے بلوچستان میں جاں بحق افراد کی تعداد 3 ہوگئی،ملک بھر میں سیلاب اور بارشوں سے جاں بحق افراد کی تعداد ایک ہزار 208 ہوگئی ،سیلاب اور بارشوں سے سندھ میں432 افراد زندگی کی بازى ہارگئے-

    سیلاب زدگان ہماری بھرپور توجہ کے مستحق ہیں۔مبشرلقمان

    این ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب اور بارشوں سے بلوچستان میں 256 افراد جاں بحق ہوئے ،خیبرپختونخوا میں سیلاب اور بارشوں سے 268 افراد جاں بحق ہوئے،ملک بھر میں سیلاب اور بارشوں سے ایک ہزار 256 افرادزخمی ہوئے-

    این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھرمیں7 لاکھ 33 ہزار488 مویشی سیلاب بہہ گئےسندھ میں سيلاب سے 2 ہزار328 کلو میٹرسڑک کونقصان پہنچا،بلوچستان میں اب تک 1000 اورخیبرپختونخوا میں 1589 کلو میٹر سڑک تباہ ہوگئی،سیلاب اور بارشوں سے ملک بھر کے 243 پلوں کو سیلاب سے نقصان پہنچا-

    ادھر پیسکو نے جاری کردہ ابتدائی رپورٹ میں بتایا کہ پشاورمیں سیلاب سے پسیکو کے 9 گرڈ اسٹیشنز ،126 فیڈرز کو بھاری نقصان پہنچا،مٹہ، بحرین، منڈا، لوئر دیر کے گرڈ ا سٹیشن پانی میں بہہ گئے،5 فیڈرز مکمل تباہ ہو گئے-

    پسیکو کے مطابق 5 فیڈرز کے مکمل تباہی کے بعد 121 سے بجلی کی سپلائی بحال کر دی گئی ہے سوات کے گرڈا سٹیشنز میں بڑے ٹاور دریا برد ہو گئے، ٹیمیں بجلی بحالی میں مصروف ہیں-

    مشکل وقت میں برادار ممالک پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ترکیہ اور ازبکستان سے امدادی سامان لیکر خصوصی طیارے پاکستان پہنچ گئے ہیں۔

    امدادی طیارے سیلاب زدگان کے لیے سامان لیکر اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچے ہیں، ازبکستان سے آنے والے طیارے کا استقبال وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آغا حسن بلوچ نے کیا جبکہ ترکی سے آنے والے طیارے کا استقبال وزیر داخلہ رانا ثنااللہ اور شیری رحمان نے کیا۔

    ترکیہ کے وزیرداخلہ اور وزیر ماحولیات بھی پاکستان پہنچے ہیں، احسن اقبال نے ترکیہ کے وزیرداخلہ اور وزیرماحولیات کو سیلاب کی تباہ کاریوں اور امدادی کاموں پر بریف کیا، وزیرداخلہ راناثنااللہ نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں ترکیہ کےصدر اورعوام کے مشکور ہیں۔

    وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ترکیہ کےجذبے کو کبھی بھی بھلا نہیں سکتے وہ پاکستان کا مخلص دوست ہے جبکہ ترکیہ کے وزیرداخلہ نے کہا کہ مشکل وقت میں پاکستان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ جب تک پاکستانی عوام نہیں کہیں گے فضائی اور ٹرین کے راستے مدد جاری رکھیں گے۔

    روجھان سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہوا،حکومت کوبھی انسانی بنیادوں پرامداد دینی…

    ترکیہ سے چھٹا طیارہ امدادی اشیا لے کر 30 اگست کو کراچی ائیر پورٹ پہنچا تھا، رپورٹ کے مطابق پہلے ترکش ائیر فورس کی پہلی پرواز میں میں 38 اور دوسرے میں 14 ٹن امدادی سامان لایا گیا تھا، خرم دستگیر ، سعید غنی اور وزارت خارجہ کے اعلی حکام نے امدادی سامان وصول کیا۔

    حکومت ترکیہ کی جانب سے پاکستان کے سیلاب اور بارش سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے بھیجے گئے سامان میں ٹینٹس، مچھر دانیاں اور اشیائے خور و نوش شامل تھے۔

    خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 74 سرکاری اسپتال اور صحت کے مراکز متاثر ہوئے ،محکمہ صحت کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بارشوں اور سیلاب سے 24 اسپتال، مراکز مکمل تباہ ہوئے ڈیرہ اسماعیل خان میں سب سے زیادہ 22 اسپتال،صحت مراکز کو نقصان پہنچا،بارشوں اور سیلاب سے خیبر پختونخوا میں 50 بنیادی صحت مراکز جزوی طور متاثر ہوئے،خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع کے بیشتر شفاخانوں میں سیلاب طبی آلات بھی بہا لے گیا ،

  • بااثر وڈیرے اپنے گھر اور فصلیں بچانے کیلئے دوسروں کو ڈبونے لگے ہیں

    بااثر وڈیرے اپنے گھر اور فصلیں بچانے کیلئے دوسروں کو ڈبونے لگے ہیں

    سندھ میں سیلاب متاثرین نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بااثر لوگ اپنے گھر اور فصلیں بچانے کیلئے دوسروں کو ڈبونے لگے ہیں۔

    نوشہرو فيروز شہر کو ڈوبنے سے بچانے کے ليے شہری خود اپنی مدد آپ کے تحت بائی پاس پر پہرا دينے لگے ہیں، جہاں شہريوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وڈيرے اپنی فصلوں کو بچانے کے ليے پانی شہر کی جانب چھوڑ رہے ہيں۔ بھریاروڈ کے قریب پانی کے تیز بہاؤ سے پکا چانگ روڈ ٹوٹ گیا، جس کے باعث سیلابی ریلے سے گزرنا شہریوں کیلئے دشوار بنا ہوا ہے۔

    سیلاب کے باعث بھريا روڈ کا خيرپور اور ضلع نوشہروفيروز کے ديگر شہروں سے رابطہ تيرہويں روز بھی منقطع ہے، جب کہ سڑک دريا بن گئی ہیں جہاں عورتيں اور بچے پانی ميں ڈوبے ہوئے انتظاميہ کی راہ تک رہے ہیں۔ سیلاب کے باعث راستے بحال نہ ہونے پر شہری اپنی مدد آپ کے تحت پيدل گزرنے کیلئے بانس لگا کر راستہ بنا رہے ہیں۔

    سانگھڑ میں بھی صورت حال مختلف نہیں ، جہاں کوٹ نواب اکبر بگٹی مکمل سیلاب میں ڈوب گيا۔ علاقے میں بارہ روز گزرنے کے باوجود کوئی حکومتی امداد آخری اطلاعات تک بھی نہ پہنچ سکی، کئی کئی فٹ جمع پرانے پانی کے باعث علاقے میں بيمارياں پھيلنے لگی ہیں۔ متاثرین نے حکومت سے سوال کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ کيا ہم اس وطن کے باسی نہيں؟۔ سانگھڑ یوسی کوٹ نواب میں ایک اندازے کے مطابق سترہ گاؤں زیر آب آئے ہیں۔ سانگھڑ میں سڑک کنارے ہزاروں افراد امداد کے منتظر ہیں۔


    دوسری جانب دادو کے علاقے جوہی سے آنے والا ریلا منچھر جھیل میں داخل ہوگیا ہے، جس سے خیرپور ناتھن شاہ سمندر کا منظر پیش کرنے لگا ہے۔ شہر ميں جگہ جگہ کئی فٹ پانی کھڑا ہے۔ شہريوں کا کہنا ہے کہ مکمل تباہی سے بچانے کیلئے منچھر جھيل کا بند توڑا جائے، تاہم اس مطالبے کو پورا کرنے میں منتخب وڈيرے رکاوٹ بن گئے ہیں۔

    بلوچستان سے آنے والے سیلابی ریلے نے لاکھوں کی آبادی والے خیرپور ناتھن شاہ کو مکمل ڈبو دیا۔ سیلابی ریلے نے شہر سمیت چھوٹے بڑے دیہات میں تباہی کے نشان چھوڑ دیئے۔ مٹیاری کے قريب نیو سعیدآباد میں بارش کے پانی سے سرکاری گودام میں چالیس ہزار سے زاٸد گندم کی بوریاں خراب ہونے لگیں ہیں۔ سیلابی ریلے میں بھیگنے کی وجہ بوریوں سے تعفن اٹھنے لگا ہے۔

    وزيراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نجی ٹی وی سے گفتگو ميں بتايا کہ سيلاب سے پندرہ سو ارب روپے کا نقصان ہوا ہے، جب کہ تين لاکھ کچےگھرتباہ ہوئے۔ ٹنڈوالہٰ یار میں بھی لوگ گھر چھوڑ کر کيمپوں ميں رہنے پر مجبور ہيں۔ حيدرآباد کے نياز اسٹيديم سے پانی نہ نکالا جاسکا، جہاں ميدان گندے جوہڑ کا منظر پيش کر رہا ہے۔

  • ممتازشاعراحمد راہی کو مداحوں سے بچھڑے 20 سال ہو گئے

    ممتازشاعراحمد راہی کو مداحوں سے بچھڑے 20 سال ہو گئے

    اردو اور پنجابی کے ممتاز شاعر احمد راہی کو دنیا سے رخصت ہوئے آج 20 سال ہو گئے۔

    باغی ٹی وی: پنجابی شاعر، فلمی کہانی نویس اور نغمہ نگار، پاکستان کی پنجابی فلموں میں اپنی خدمات دیں، بطور کہانی نویس ان کی یادگار فلموں میں مرزا جٹ، ہیر رانجھا، ناجو، گُڈو، اُچّا شملہ جٹ دا مشہور ہے اس کے علاوہ فلم شہری بابو، ماہی مُنڈا، یکے والی، چھومنتر، الہ دین کا بیٹا، مٹی دیاں مورتاں، باجی، سسی پنوں اور بازارِ حسن نامی فلموں کے گیت لکھے-

    مشکل وقت میں چیزیں مہنگی فروخت کرنے والوں کے حج کیا کہتے ہیں رابی پیرزادہ

    احمد راہی 12 نومبر 1923ء کو پیدا ہوئے احمد راہی کا اصل نام غلام احمد تھا احمد راہی کا تعلق امرتسر کے ایک کشمیری خاندان سے تھا جو آزادی کے بعد ہجرت کر کے لاہور آ گیا ان کے روحانی پیشوا نے خورشید احمد رکھا لیکن ان کو شہرت احمد راہی کے نام سے ملی۔ آپ کے والد کا نام خواجہ عبدالعزیز تھا جو کڑھائی والی اونی شالوں کا کاروبار کرتے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم امرتسر سے حاصل کی۔

    1942 میں انہوں نے شعر کہنا شروع کر دیے تھے۔ 1942 میں میٹرک کرنے کے بعد اعلی تعلیم کے لئے انہوں نے ایم اے او کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ سیکنڈ ائر میں طالب علموں کی لاہور میں سیاسی تحریکوں میں حصہ لینے کی وجہ سے ان کو کالج کی انتظامیہ نے کالج سے نکال دیا۔ کالج سے فراغت کے بعد آپ نے اپنے والد محترم کے کڑھائی والی اونی شالوں کے کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اس تجارت کے لئے انہوں نے کلکتہ کا سفر کیا۔

    امرتسر میں ہی انہوں میں مشہورافسانہ نگار سعادت حسن منٹو، شاعر سیف الدین سیف، کہانی نگار اے حمید کی صحبت میں رہتے ہوئے ادب میں دلچسپی لینا شروع کردی 1946ء میں ان کی ایک اردو نظم آخری ملاقات افکار میں شائع ہوئی جو ان کی پہچان بن گئی لیکن لاہور کے ادبی ماحول میں اس میں مزید نکھار آیا لاہور آمد پر انہیں ترقی پسند ادبی مجلے ’سویرا‘ کا مدیر بنا دیا گیا۔ لیکن جب ترق پسند ادیبوں کے خلاف حکومتی کارروائیوں میں تیزی آئی تو انہوں نے فلمی دنیا کا رخ کیا۔

    7 ملین فالورز، حرامانی نے پسوڑی وڈیو لگا کر مداحوں کا شکریہ ادا کیا

    احمد راہی نے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز پنجابی فلم ’بیلی‘ سے کیا جو تقسیم کے وقت ہونے والے فسادات کے پس منظر میں بنائی گئی تھی۔ اس فلم کی کہانی مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو نے لکھی جبکہ ہدایات مسعود پرویز نے دی تھیں انہوں نے مسعود پرویز اور خواجہ خورشید انور کی مشہور پنجابی فلم ’ہیر رانجھا‘ کے لیے بھی نغمات لکھے جن میں ’سن ونجھلی دی مٹھڑی تان‘ اور ’ونجھلی والڑیا توں تے موہ لئی اے مٹیار‘ آج بھی اپنا جادو جگاتے ہیں انہوں نے فلمی حلقوں میں بھی اپنا ایک خاص مقام بنایا اور ان کے لکھے ہوئی گانوں میں بھی لوگوں کو لوک شعری اور ادب کا رنگ دیکھنے کو ملا۔

    پنجابی فلمی شاعری کے لیے ان کی خدمات ویسی ہی ہیں جیسی ساحر لدھیانوی اور قتیل شفائی کی اردو فلموں کے لیے ہیں۔ انہوں نے اردو فلموں کے لیے بھی منظر نامہ، مکالمے اور گانے لکھے۔ ان کی مشہور اردو فلموں میں ’یکے والی‘ خاص طور پر قابل ذکر ہے-

    سیلاب میں امیر کا گھر کیوں نہیں ٹوٹتا غریب کا گھر ہی کیوں ٹوٹتا ہے؟ فضا علی کا…

    ترنجن کی نظموں میں تقسیم ہند کے وقت ہونے والے ہندومسلم فسادات میں عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کو بڑے شاعرانہ طریقے سے پیش کیا گیا ہے-

    اس شعری مجموعے میں پنجابی ثقافت اور تقسیم ہند میں پیش آنے والے واقعات کو ہیر۔ صاحباں اور سوہنی جیسے لوک کرداروں کی تشبیہات سے پیش کیا گیا ہے۔ اس شعری مجموعے کی بیشتر نظمیں انھوں نے دو آزاد ہونے والی قوموں میں تقسیم کے وقت مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں کی ہلاکت اور وحشیانہ ظلم پر سوگ کے لکھی تھیں۔

    ان کی پہلی کتاب ترنجن 1952 میں شائع ہوا۔ ترنجن کا پہلا حصہ پنجاب کی الہڑ مٹیاروں کے الہڑ جذبات اور پنجاب کی ثقافت پر مبنی ہے اور دوسرا حصہ انہی الہڑ دوشیزاؤں پر آزادی کے وقت ڈھائے گئے ظلم اور خونریزی کے متعلق ہے۔

    ان کا پنجابی کلام کا ایک اور مجموعہ ً نمی نمی ہوا ً بھی شائع ہوا اور ً رگ جان ً کے نام سے ان کا اردو کلام پر مبنی مجموعہ ان کی موت کے بعد منظر عام میں آیا۔ پرائیڈ آف پرفارمنس پانے، ہیر رانجھا اور مرزا جٹ جیسی شہرہ آفاق کلاسیک فلموں کے مصنف اور ان کے سدا بہار نغموں کے خالق احمد راہی ستمبر 2002 میں اس جان فانی سے رخصت ہو گئے۔

    لندن نہیں جائونگا میں بھٹی کا کردار احمد علی بٹ‌ کے لئے لکھا تھا خلیل الرحمان…