Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • پاکستان کی معاشی آزادی سب سے ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان کی معاشی آزادی سب سے ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    معاشی ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کی معیشت اگر آزاد نہ ہو تو پھر اس کی قومی سیاسی و سفارتی آزادی بڑی حد تک بے معنی ہو جاتی ہے۔ آج ملک میں معیشت کی جو حالت ہو چکی ہے اس پر شور و غل بہت ہے لیکن اس کا حل کسی کے پاس نہیں 2013ء میں آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے حل تلاش کر لیا تھا مگر خفیہ ہاتھوں نے ان کو اپنی مدت پوری ہی نہیں کرنے دی ملکی معاشی ماہرین کو یاد ہوگا اس سلسلے میں نوازشریف نے معاشی ماہرین کے ساتھ مشاورت کا عمل شروع کیا تھا جس سے پاکستان آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کرنے جا رہا تھا وہ ایسے اقدامات اٹھانے جا رہے تھے جس کی وجہ سے کشکول اٹھانے کی ضرورت ہی نہ رہتی سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو بھی اس سلسلے میں ٹاسک سونپا گیا تھا توانائی کے بحران پر قابو پانے معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے پالیسی ترتیب دی جا رہی تھی اور اس بات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ بھارت کی طرح پاکستان کو بھی آئی ایم ایف کی ضرورت باقی نہ رہے۔

    نوازحکومت نے حکومتی اخراجات کم کرنے پر زور دیا وزیراعظم کے صوابدیدی فنڈ کو ختم کردیا گیا کابینہ میں شامل وزراء کے صوابدیدی فنڈ بھی ختم کر دیئے گئے اخراجات میں چالیس فیصد کمی کر دی گئی برآمدات کو بڑھانے پر زور دیا اور درآمدات کو کنٹرول کرنے پر زور دیا ایسی پالیسیاں اپنائی جا رہی تھیں جس سے پاکستان اپنے پیروں پر کھڑا ہو مگر اس ملک اور قوم یک بدقسمتی کہہ لیجئے کہ ہمیشہ کی طرح ایک سازش کے ذریعے ان کو اقتدار سے الگ کر دیا گیا اور آج ہم پھر آئی ایم ایف سے قرضہ لے کر خوشی سے بھنگڑے ڈال رہے ہیں قرضہ لے کر ہم ایک دوسرے کو مبارکباد ے رہے ہیں ۔ تحریک انصاف کی حکومت بھی کشکول نہ توڑ سکی آج پی ڈی ایم کی حکومت بھی کشکول توڑنے میں ناکام رہی ملکی وسائل سے توجہ ہٹا کر ساری توانائیاں قرض لینے پر لگائی جا رہی ہیں

    ۔ عوام کے مسائل سے کوسوں دور یہ سیاسی بازیگر اقتدار کے حصول کے لئے ایک اندھی اور بے ہودہ لڑائی میں برسرپیکار ہیں۔ ملک و قوم کو مقروض بنا کر یہ کون سی ملکی خدمت سرانجام دے رہے ہیں سچ تو یہ ہے کہ اس ملک میں لیڈر شپ کا فقدان ہے۔ عالمی دنیا پاکستان کے سیلاب زدگان کے لئے دل کھول کر امداد دے رہی ہے امید ہے کہ یہ امداد ان ہاتھوں تک پہنچے گی جن کے گھر بار، مال مویشی اس سیلاب کی نذر ہو گئے ہیں ۔

  • راولپنڈی شہر بھر میں آئس کی خریدوفروخت میں خطرناک حد تک اضافہ

    راولپنڈی شہر بھر میں آئس کی خریدوفروخت میں خطرناک حد تک اضافہ

    راولپنڈی شہر بھر میں آئس کی خریدوفروخت میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، آئے دن جوان نسل اس نشے مبتلا ہوتی جا رہی ہے پڑھے لکھے نوجوان اس نشے کی عادی بنتے جا رہے ہیں

    آئس کا نشہ کالجوں اور سکولوں میں دیمک کی طرح پھیلتا جا رہا ہے 16سالہ لڑکے اپنی تعلیم اور مستقبل کو داؤ پر لگا کر اس موضی نشے کے عادی بنتے جا رہے راولپنڈی پولیس کو چاہیے ایسے خطرناک نشے کو کنٹرول کیا جائے راول ڈویژن میں اس نشے کی خریدو فروخت کا مرکز بن چکا ہے رتہ ہزارہ کالونی مٹکیال ڈھوک آنسو شکریال النور کالونی اور دیگر علاقوں میں آئس کی خریدو فروخت دیدہ دلیری کے ساتھ کی جانے لگی ڈیلر بھاری منتھلی دے کر اس خطرناک نشے کو پروان چڑھانے لگے متعلقہ پولیس آئس ڈیلروں کے خلاف کاروائی کرنے سے قاصر ہے

    گزشتہ سات سے سال سے زائد عرصہ میں آئس کا پھیلاؤ زیادہ ہوا یہ نشہ انسانی جانوں کے لئے خطر ناک ثابت ہو رہا ہے اس نشے کے عادی چوری ڈکیتی قتل کی وارداتوں میں ملوث ہوتے ہیں جب ان مذکورہ افراد کے پاس اس خطرناک نشہ کرنے کے پیسے نہیں ہوتے تو یہ مزکورہ بالا ڈکیتیاں کرنا شروع ہو جاتے ہیں کیونکہ آئس ایسا خطرناک نشہ ہے جو انسان کو ایک بھیڑیا بنا دیتا ہے جس کی وجہ سے آئس پینے والا پورے علاقے کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی بن جاتا راولپنڈی ڈویژن گزشتہ ماہ پہلے ایسے واقعات رونما ہوتے رہے آئس پینے والے عناصر نے اپنی فیملی کے افراد کو قتل کردیا یہ نشہ نہ ملنے پر نوجوان نفسیاتی مریض اور دماغی طور پر پاگل ہو جاتے ہیں

    شہریوں نے آئی جی پنجاب اور سی پی او راولپنڈی کو اپیل کی ہے کہ فی الفور آئس ڈیلروں اور ان کے سہولت کاروں کو گرفتار کیا جاے اور انہیں عبرت کا نشان بنایا جائے تاکہ جوان نسل اس تباہی سے بچ سکے

    دنیا ایک مرتبہ پھر بوسنیا، گجرات جیسی نسل کشی دیکھے گی؟ عمران خان نے خبردار کردیا

    بھارتی وزیراعظم کی خواہشات کیا….امریکی اخبار نے بتا دیا

    دہلی فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات میں گہری مماثلت،ہندوؤں کی دکانیں ،گھر کیوں محفوظ رہے؟ سوال اٹھ گئے

  • پاکستان نے 10 سال میں 18ارب ڈالرز کے نقصان کا سامنا کیا: برطانوی ہائی کمشنر

    پاکستان نے 10 سال میں 18ارب ڈالرز کے نقصان کا سامنا کیا: برطانوی ہائی کمشنر

    پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے کہا ہے کہ پاکستان نے موسمیاتی تبدیلی کے باعث گزشتہ 10 سال میں 18 ارب ڈالرز کے نقصان کا سامنا کیا ہے جبکہ گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا عمل جاری ہے۔

    تفصیلات کے مطابق اپنے ایک بیان میں برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے پاکستان میں آنے والے سیلاب کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان کاربن کے عالمی اخراج کے صرف 1 فیصد کا ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے جو آب و ہوا کے حوالے سے 8واں کمزور ترین ملک ہے۔

    بیان میں برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں جس سے انتہائی شدید موسم کا سامنا معمول بنتا جارہا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری موسمیاتی تبدیلی کو اقتصادی، سلامتی اور خارجہ پالیسیوں کے تناظر میں عالمی مسئلہ قرار دے۔

    پاکستان میں حالیہ سیلاب سے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ تباہ کاریوں کا پیمانہ جذب کرنا مشکل ہے۔ سیلاب سے ابھرتے ہوئے فوری اور طویل مدتی چیلنجز پیدا ہوئے۔ پاکستان کیلئے سب سے بڑا چیلنج سیلاب زدگان کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ہے۔

    برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان میں سیلاب سے 1 ہزار سے زائد لوگ جاں بحق، 3 کروڑ 30 لاکھ متاثر، 72 اضلاع آفت زدہ قرار اور 10 لاکھ گھر تباہ ہو گئے۔ 10 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوئی جبکہ 7 لاکھ مویشی مر گئے۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ نے 15لاکھ پاؤنڈ کی فوری امداد دینے کا اعلان کیا۔

    کرسچن ٹرنر نے کہا کہ برطانیہ وفاقی وزیرِ موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان، این ڈی ایم اے اور دیگر حکام سے مل کر مزید امداد کی ضروریات کا جائزہ لے رہا ہے۔ کوپ 26 میں برطانیہ پاکستان کے ساتھ شراکت داری کیلئے 5 کروڑ 50 لاکھ پاؤنڈز کا وعدہ کرچکا ہے۔

  • "بس یار میں کرپٹ ہوں” وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے صحافی اور ایم این اے کا جھگڑا ختم کرا دیا

    "بس یار میں کرپٹ ہوں” وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے صحافی اور ایم این اے کا جھگڑا ختم کرا دیا

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی نے شاہ سیلاب سے متاثرہ عالقے کے دورے پر ہیں کہ اس دوران ایک سوال پوچھنے پر مقامی صحافی اور ایم این اے کے دوران معمولی جھگڑا ہو گیا جس پر وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے معافی مانگ کر دونوں میں صلح کرا دی-

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی اندرون سندھ دورے کی ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں انہیں صحافی کو سمجھاتے اور پیپلزپارٹی کے ایم این اے سکندر راہپوٹو کو ان کے گلے لگاتے دیکھا جاسکتا ہے۔

    شرجیل میمن نے سندھ میں سیلاب سے تباہی کی تفصیلات جاری کر دیں

    https://twitter.com/AsgharNarejoo/status/1564296374832726016?s=20&t=DFSYgaQKWCDcLJsUf0RJfQ
    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سےسوال پوچھنے پر پیپلزپارٹی کے ایم این اے سکندر راہپوٹو کو صحافی پر غصہ آگیا ایم این سکندر راہپوٹو نے غصہ کرتے ہوئے صحافی کو سمجھانے کی کوشش کی جس پر مراد علی شاہ نے کہا کہ ’مت کرو یار میں کرپٹ ہوں‘۔

    اس کے بعد مراد علی شاہ نے معافی مانگ کر دونوں میں صلح کرادی۔

    واضح رہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب نے بڑے پیمانے پر سندھ میں تباہی مچائی ہےسیلابی ریلے آبادیوں میں داخل ہونےسے لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں فصلیں تباہ ہو گئی ہیں لوگ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں وزیراطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا تھا کہ رواں سال غیر معمولی بارشیں ہوئیں،30اضلاع متاثرہوئیں-

    دریائےسندھ میں چاچڑاں شریف کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ،وزیر خارجہ بلاول کی…

    جولائی میں 308 فیصد سے زائد اور رواں ماہ 784 فیصد سے زائد بارشیں ہوئیں،گڈو اور سکھر سے 550,000 کیوسک سے زیادہ سیلابی ریلا گزررہا ہے کچے کے تمام علاقے زیر آب آگئے ، ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے،بارشوں اورسیلاب سے 402 اموات ہوئیں اورایک ہزار 55افراد زخمی ہوئے سندھ میں بارشوں سے 860 ارب روپے کے نقصان کا ابتدائی تخمینہ لگایا گیا،سندھ میں بارشوں سے 15 لاکھ مکانات متاثر ہوئے، لاگت 450 ارب روپے ہے-

    وزیراطلاعات شرجیل میمن کےمطابق سندھ میں بارشوں سے ایک لاکھ 17ہزار 34مویشی ہلاک ہوئے ،سندھ میں بارشوں سے 3171726 ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئی ہیں،سندھ میں بارشوں سے کپاس کی 1467579 ایکڑ اراضی پر کھڑی 100 فیصد فصل تباہ ہو چکی ہے-

    پاکستان میں سیلاب اتنا تباہ کن کیوں ہے؟

  • آسٹریلیا کا پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے 20 لاکھ ڈالرامداد دینے کا اعلان

    آسٹریلیا کا پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے 20 لاکھ ڈالرامداد دینے کا اعلان

    آسٹریلیا نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے 20 لاکھ ڈالر دینے کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ نے کہا کہ حکومت پاکستان کو فوری انسانی ضروریات کے لیے مدد فراہم کررہے ہیں جس کےتحت آسٹریلیا عالمی خوراک پروگرام کےذریعے پاکستان کو 20 لاکھ ڈالرکی امداد دے گا سیلاب سے متاثر خواتین، بچے اور کمزور افراد فوری امداد کے مستحق ہیں۔

    پاکستان میں سیلاب اتنا تباہ کن کیوں ہے؟

    انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کی طرف سے سیلاب میں اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں سے تعزیت کرتے ہیں اور ہماری سیلاب سے تباہ حال افراد کے ساتھ گہری ہمدردیاں ہیں۔

    واضح رہے کہ قبل ازیں چین نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے 100 ملین یوآن (آر ایم بی) امداد کا اعلان کیا ہے جب کہ چین کی فضائیہ کی پروازیں 300خیموں کی پہلی کھیپ لےکر آج اورکل کراچی پہنچیں گی۔

    چین کےصدرشی جن پنگ، وزیراعظم لی کی چیانگ نے پاکستان کے صدر اور وزیراعظم سے سیلاب کی صورت حال پر اظہار افسوس اور یک جہتی کا اظہار کیا۔

    چین کے صدر اور وزیراعظم کا یہ پیغام پاکستان میں چینی سفیرنونگ رونگ نے پاکستانی قیادت کوپہنچایا ہے جس کے جواب میں وزیراعظم شہبازشریف نےصدرشی جن پنگ اور وزیراعظم لی کی چیانگ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔


    کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے پاکستان کے لیے اضافی ایمرجنسی امداد کا اعلان کیا ہے جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ ان کا ملک خوراک، صاف پانی اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی جاری رکھے گا۔

    سیلابی صورتحال میں حکومت کی ناقص منصوبہ بندی

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان میں سیلاب سے تباہی پر افسوس کا اظہار کیا ہے پاکستان کےمستقل مندوب منیراکرم کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات ہوئی۔

    اس موقع پر انتونیو گوتریس نے کہا کہ عالمی برادری سے خصوصی اپیل کریں گے کہ پاکستان کی مدد کی جائے، جس سے پاکستان میں بحالی اورتعمیر نو کا عمل ممکن بنایا جاسکےگا۔

    خیال رہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 75 افراد جاں بحق ہوئےجس کے بعد سیلاب اوربارشوں سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 1136 تک پہنچ گئی ہے ملک بھر میں اب تک 10 لاکھ 51 ہزار 570 گھروں کو نقصان پہنچا جب کہ سیلاب اور بارشوں سے اب تک 7 لاکھ 35 ہزار 375 مویشی مرچکے ہیں۔

    چین کا پاکستان میں سیلاب زدگان کیلئے 100 ملین یوآن کی امداد کا اعلان کردیا

    رپورٹ کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے دوران اب تک 162 پلوں کو نقصان پہنچا ہے، 72 اضلاع بری طرح متاثر ہوئے جب کہ مجبوعی طور پر 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد براہ راست سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔

  • بہت زیادہ گرم چائے یا کافی پینے سےغذائی نالی کے کینسر کا تقریباً تین گناہ خطرہ بڑھ جاتا ہے،تحقیق

    بہت زیادہ گرم چائے یا کافی پینے سےغذائی نالی کے کینسر کا تقریباً تین گناہ خطرہ بڑھ جاتا ہے،تحقیق

    سوئیڈن میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ بہت زیادہ گرم چائے یا کافی پینے کے نتیجے میں غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : کیمبرج یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گرم کافی یا چائے پینے سے آپ کے گلے کے کینسر کا خطرہ تقریباً تین گنا بڑھ جاتا ہے-

    برطانیہ میں ہر سال تقریباً 10,000 افراد غذائی نالی کے کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں اور تازہ ترین نتائج بتاتے ہیں کہ کوئی شخص گرم مشروبات ترک کر کے اپنے خطرے کو کم کر سکتا ہے۔

    محققین عطیہ کیے گئے گردے کا بلڈ گروپ بدلنے میں کامیاب

    یوکے بائیوبینک سے برطانیہ میں نصف ملین سے زیادہ لوگوں کے ڈیٹا میں ان لوگوں کو دیکھا جو دوسروں کے مقابلے زیادہ کافی پیتے ہیں اور ان کے کینسر کے خطرے کو دیکھا۔

    مطالعہ کے مصنف ڈاکٹر اسٹیفن برجیس نے ٹیلی گراف کو بتایا کہ ہم اس جینیاتی اسکور کو جانتے ہیں جسے ہم دیکھ رہے ہیں کہ کافی پینے کے رجحان میں اضافہ ہوتا ہے لیکن یہ زیادہ چائے پینے کے رجحان کو بھی بڑھاتا ہے۔”

    جرنل کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہونے والے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ کافی کے استعمال سے غذائی نالی کے علاوہ کسی بھی قسم کے کینسر کا خطرہ نہیں بڑھتا ہے۔

    کیرولینسکا انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں مشروبات کےدرجہ حرارت اور غذائی نالی کے کینسر کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا اس تحقیق میں فن لینڈ اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 5 لاکھ 80 ہزار افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔

    نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ کافی زیادہ پینے کے عادی ہوتے ہیں ان میں غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ دیگر افراد کے مقابلے میں 2.8 گنا زیادہ ہوتا ہےدرحقیقت لوگ جتنے زیادہ گرم مشروب کو پینا پسند کرتے ہیں، اتنا ہی ان میں کینسر کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے۔

    سینے کی جلن اور تیزابیت کا سبب بننے والی غذائیں

    تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ کافی یا چائے زیادہ گرم پیتےہیں ان میں کینسرکا خطرہ 5.5 گنا زیادہ ہوتا ہے جو افراد ہلکی گرم چائے یا کافی پیتے ہیں ان میں 4.1 فیصد اسی طرح جو افراد معتدل حد تک گرم کافی پیتے ہیں ان میں غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ 2.7 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

    ٹیم نے اس بارے میں ڈیٹا اکٹھا نہیں کیا کہ ایک شخص نے کتنی کافی پیی، اس لیے یہ بتانے سے قاصر ہے کہ آیا گرم مشروبات کی مقدار زیادہ خطرے سے منسلک ہے۔

    ڈاکٹر برجیس نے کہا کہ کافی پینے سے غذائی نالی کے کینسر میں اضافہ ہونے کے سبب کے اثرات کے ثبوت موجود ہیں، یہاں تک کہ ان لوگوں میں بھی جو گرم مشروبات کو ترجیح دیتے ہیں۔

    تحقیق میں گرم مشروبات اور کینسر کی دیگر اقسام کے درمیان کوئی تعلق دریافت نہیں ہوا، جس کے باعث محققین کا خیال ہے کہ کافی یا چائے کا درجہ حرارت غذائی نالی کو نقصان پہنچاتا ہے۔

    تحقیق کے مطابق گرم مشروبات غذائی نالی کے کینسر کا سامنا ہوسکتا ہے، جبکہ چوہوں میں گرمی پانی پینے سے اس کینسر کو دریافت کیا گیا ہے۔

    لیکن محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کافی سے دوسرے کینسر کا کوئی خطرہ نہیں ہے، لیکن اس کی سب سے زیادہ وضاحت یہ ہے کہ گرم مشروبات کی گرمی گلے کو نقصان پہنچاتی ہے، جس سے خطرناک خلیات بننے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    ڈاکٹر برجیس نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ تھرمل انجری سب سے زیادہ قابل فہم مفروضہ ہے، اور یہ اس بات کی وضاحت کرے گا کہ ہم کافی نہ پینے والوں میں بھی اثر کے ثبوت کیوں دیکھ رہے ہیں جن کےبارےمیں ہمارا خیال ہےکہ وہ چائے پینے والے ہوں گے یہ کہنا غیر معقول ہو گا کہ یہ لوگوں کو کہہ رہا ہے کہ ‘کافی کے بجائے، آپ کو چائے پینی چاہیے اور آپ بالکل ٹھیک ہو جائیں گے-

    آواز کی لہروں سے کینسر ختم کرنے کا تجربہ کامیاب

    مجھے لگتا ہے کہ یہ اس کے برعکس ہے جو ہم اصل میں کہہ رہے ہیں۔ یہ کافی یا کیفین کے بارے میں کسی خاص چیز کے بجائے تھرمل چوٹ لگتی ہےبہت زیادہ درجہ حرارت پر کافی پینے سے گریز کرنا واقعی نتیجہ ہے۔ اگر آپ محسوس کر رہے ہیں جیسے آپ کے گلے کو یہ نقصان پہنچا ہے تو یہ ایسی چیز ہے جس کے بارے میں آگاہ ہونا اور ممکنہ طور پر دوبارہ ڈائل کرنے کے قابل ہے۔

    تاہم، انہوں نے مزید کہا کہ کافی پینے والوں کو زیادہ پریشان نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس تحقیق میں کینسر کی عام شکلوں سے کوئی تعلق نہیں ملا۔

    ڈاکٹر برجیس نے مزید کہا کہ میرے خیال میں مجموعی طور پر کافی پینے والوں کے لیے یہ اچھی خبر ہے کہ کافی کا تعلق کینسر کی زیادہ تر اقسام اور یقینی طور پر کینسر کی سب سے عام شکلوں سے نہیں تھا۔

    ڈاکٹر سوزانا لارسن، کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ میں مقیم ایک وبائی امراض کے ماہر، جو اس تحقیق میں شامل تھے، نے کہا: "ہمارے نتائج اس ثبوت کو تقویت دیتے ہیں کہ کافی کا استعمال عام کینسر کے خطرے پر غیر جانبدار اثر ڈالتا ہے۔

    ذیا بیطس اور موٹاپے میں مبتلا خواتین میں بریسٹ کینسرکا خطرہ بڑھ سکتا ہے تحقیق

  • عمران خان سمیت تمام سازشی کرداروں کو جواب دینا پڑے گا. شاہد خاقان عباسی

    عمران خان سمیت تمام سازشی کرداروں کو جواب دینا پڑے گا. شاہد خاقان عباسی

    سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ عمران خان اور تمام سازشی کرداروں کو جواب دینا پڑے گا۔

    سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آڈیو لیکس ملکی معیشت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش کا ثبوت ہے اور یہ سازش عمران خان سے شروع ہو کر وزیر خزانہ خیبر پختونخوا تک آتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ: یہ ٹولہ 4 ماہ سے جاری محنت کو سبوتاژ کرنے کی سازش کر رہا تھا اور خط کا مقصد تھا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کا پروگرام منظور نہ ہوسکے۔ عمران خان اور تمام سازشی کرداروں کو جواب دینا پڑے گا۔
    مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ شوکت ترین جیسے آدمی بھی اس میں ملوث ہیں جسے پاکستان نے بہت کچھ دیا اور عوام کے سامنے باتیں رکھنا پڑیں گے کہ انہوں نے اقتدار میں کیا کیا۔

    انہوں نے کہا کہ: آج آئی ایم ایف نے ساتویں اور آٹھویں جائزے کی منظوری دی اور آئی ایم ایف کا پاکستان کے ساتھ پروگرام بحال ہو گیا۔ شوکت ترین سمیت عمران خان کی ٹیم نے 4 سال پاکستان کی معیشت تباہ کی۔

    سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وزیر اعظم کی قیادت میں مفتاح اسماعیل اور ٹیم نے معیشت کو دوبارہ پٹری پر ڈالا ہے۔ خط کب لکھنا ہے، کیسے لکھنا ہے، کب بھیجنا ہے، اس کے ملک پر کیا اثرات ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ پنجاب سے یہ خط نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ پیر کی صبح ذرائع ابلاغ پر دو فون کالز کی آڈیو نشر کی گئی جن میں شوکت ترین کو محسن لغاری اور تیمور جھگڑا سے الگ الگ آئی ایم ایف سے معاہدے کے تناظر میں وفاقی حکومت کو جواب دینے کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔

    اس آڈیو میں انھیں محسن لغاری کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’یہ جو آئی ایم ایف کو 750 ارب کی کمٹمنٹ دی ہے، آپ سب نے سائن کیا ہے۔ آپ نے اب کہنا ہے کہ ہم نے جو کمٹمنٹ دی تھی وہ سیلاب سے پہلے دی تھی۔ اب کہنا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے ہمیں بہت پیسا خرچ کرنا پڑےگا۔ آپ نے اب یہ لکھنا ہے کہ اب ہم یہ کمٹمنٹ پوری نہیں کر پائیں گے، یہی لکھنا ہے آپ نے اور کچھ نہیں کرنا‘۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم سب چاہتے ہیں ان پر دباؤ پڑے، یہ ہمیں اندر کرا رہے ہیں اور ہم پر دہشتگردی کے الزامات لگا رہے ہیں، یہ بالکل ’سکاٹ فری‘ جا رہے ہیں یہ نہیں ہونے دینا ہے‘۔
    دوران گفتگو وزیر خزانہ پنجاب محسن لغاری نے جب یہ سوال کیا کہ کیا اس سے ریاست کو نقصان نہیں ہو گا جس پر شوکت ترین نے کہا کہ ’یہ جس طرح چیئرمین ( عمران خان) اور دیگر کو ٹریٹ کر رہے ہیں، اس سے ریاست کو نقصان نہیں ہو رہا؟

    ’دیکھو یہ تو ضرور ہو گا کہ آئی ایم ایف کہے گا، پیسے کہاں سے پورے کریں گے۔ یہ منی بجٹ لے کر آ جائیں گے۔ یہ ہمیں مس ٹریٹ کر رہے ہیں اور ریاست کے نام پر بلیک میل کر رہے ہیں، ہم ان کی مدد کرتے جائیں، یہ تو نہیں ہو سکتا۔‘
    اسی گفتگو میں انھیں یہ بھی کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’ہم ایسا سین کریں گے کہ یہ نہ نظر آئے کہ ہم ریاست کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔‘

  • آئی ایم ایف کی جانب سےقرض نے ڈالر کے پرکاٹ دئیے

    آئی ایم ایف کی جانب سےقرض نے ڈالر کے پرکاٹ دئیے

    منگل کو امریکی ڈالر کی قدر میں کمی دیکھی گئی ہے۔

    انٹر بینک میں 10 روز سے مہنگا ہوتا ہوا ڈالر کمزور ہوتا دکھائی دیا۔ انٹر بینک میں امریکی ڈالر 1 روپے 92 پیسے سستا ہوکر 220 روپے پرآگیا۔اوپن مارکیٹ میں ڈالر 5 روپے کم ہوکر225 روپے کا ہوگیا۔ پیر کو دن کےاختتام پر انٹربینک میں 1 امریکی ڈالر221 روپے 92 پیسے کا ہوگیا تھا جبکہ اوپن مارکیٹ میں ٹریڈنگ کے اختتام پر اس کی قدر 228 روپےہوگئی تھی۔

    منی چینجرز کی جانب سے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں بڑے پیمانے پر اونچ نیچ کو سٹے بازی قرار دیا جارہا ہے۔
    ماہرین کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے قرض کے حوالے سے فیصلے کے بعد ڈالر کی قدرمیں کمی آئے گی۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل ملک میں ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری ہوا تھا اور رواں ہفتے انٹربینک میں ڈالر 6 روپے تک مہنگا ہوچکا تھا۔ آج انٹربینک میں ڈالرایک روپے 25 پیسے مہنگا ہوا تھا جس کے بعد کاروبار کے اختتام پر ایک امریکی ڈالر 220 روپے 66 پیسے کا ہوگیا تھا۔ انٹربینک میں رواں ہفتے ڈالر 6 روپے مہنگا ہوا تھا۔

    علاوہ ازیں اوپن مارکیٹ میں کچھ دنوں میں ڈالر 50 پیسے مہنگا ہو کر 230 روپے کا ہوگیا تھا۔ ایک ہفتے میں اوپن مارکیٹ میں ڈالر 12 روپے مہنگا ہوا تھا۔ اور ڈالر کے مہنگے ہونے کافی چیزیں مہنگی ہوجاتی ہیں جیسے خاص کر موبائل فون سمیت مختلف چیزیں مہنگی ہوجاتی ہیں دوسری طرف پٹرول بھی کافی مہنگا ہوجاتا ہے جس سے عوم کو کافی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، تاہم اب خیال کیا جارہا ہے آئی ایم ایف کی منظوری کے بعد چیزیں سستی ہوجائیں گی.

    یاد رہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کی منظوری دے دی گئی تھی. عالمی مالیاتی فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں پاکستان کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کی منظوری دی گئی تھی.
    آئی ایم ایف بورڈ نے پاکستان کو تقریباً ایک ارب 17 کروڑ ڈالر جاری کرنے کی منظوری دی اور قرض کی یہ رقم آئی ایم ایف کی جانب سے اسی ہفتے پاکستان کو منتقل کر دی جائے گی۔

  • ایران اورافغانستان سے پیاز، ٹماٹر برآمد کرنے کی سمری تیار

    ایران اورافغانستان سے پیاز، ٹماٹر برآمد کرنے کی سمری تیار

    سیلاب اور بارشوں کے باعث پیاز اورٹماٹر کی فصل کونقصان پہنچنے کے بعد پیاز اورٹماٹر برآمد کرنے کی سمری تیار کرلی گئی ہے۔

    وفاقی وزیربرائے تجارت اور پیپلزپارٹی کے رہنماء نوید قمر کی زیرصدارت نیشنل فوڈ سیکورٹی کا اجلاس ہوا ہے جس میں ملک بھر میں پیاز اورٹماٹر کی دستیابی کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ذرائع وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی کے مطابق اجلاس میں ایران اور افغانستان سے پیاز اورٹماٹر درآمد کرنے کی سمری تیار کرلی گئی ہے۔ سمری منظوری کے لیے فوری طور پر اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بھجوانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے.

    ذرائع کا کہنا ہے کہ: ایران اور افغانستان کے ساتھ خصوصی تجارتی انتظامات کے باعث فارن ایکسچینج پر بہت کم اثر پڑے گا اورمقامی منڈی میں پیاز اور ٹماٹر کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔ قیمتوں میں کمی کے لیے پیاز اور ٹماٹر کی درآمد پر لیویز اور ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویزپر بھی غور کیا گیا۔
    سیلاب اور بارشوں کے باعث پیاز اورٹماٹر کی فصل بری طرح متاثر ہوئی ہے اورآئندہ تین ماہ تک ٹماٹر اور پیاز کی قلت کا سامنا رہے گا۔ و زرات نیشنل فوڈ سیکورٹی قیمتوں اور دستیابی کا جائزہ لیتی رہے گی۔

    دوسری جانب ملک میں پیاز اورٹماٹر کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے وزارت غذائی تحفظ کا اجلاس طلب کرلیا گیا۔ وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکورٹی طارق بشیر چیمہ اجلاس کی صدارت کریں گے۔ وزارت غذائی تحفظ کے ذرائع کے مطابق اجلاس میں ٹماٹر اور پیاز کی دستیابی اوربرآمد کرنے کا جائزہ لیا جائے گا۔

    دوسری طرف ملک بھر میں بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث سینکڑوں ایکٹر پر پھیلی فضلیں تباہ ہونے کے باعث سبزی بھی عوام کی پہنچ سے دور ہوگئی۔

    سیلاب اور بارشوں سے جہاں فیصلیں متاثر ہوئی ہیں وہیں منافع خور مافیا نے خوراک کی قیمتیں مـصنوعی طور پر بڑھادیں جبکہ ضلعی انتظامیہ گراں فروشی روکنے میں ناکام ہے۔
    سبزی کی قیمتیں آسمان کو چُھو رہی ہیں، آلو کی قیمت 90 روپے ہے لیکن 130 سے 150 روپے میں فروخت کیا جارہا ہے، پیاز کی قیمت 260 سے 400 اور 450 روپے فی کلو میں فروخت ہورہی ہے۔

    جبکہ کھانے کا لازمی جُز سمجھا جانے والا ٹماٹر 160 کے بجائے 300 سے 350 روپے میں فروخت ہورہا ہے، لہسن دیسی 300، ادرک 500، شملہ مرچ 500، میتھی 350، گوبھی 220، مٹر 350 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔
    ادھر پھلوں کی قیمتیں 30 سے 40 فیصد سے زائد مہنگے داموں فروخت ہورہے ہیں، مرغی کا گوشت 400، بکرے کا گوشت 1800 روپے تک پہنچ چکا ہے۔

  • آرمی چیف سیلاب زدگان کے لیئے سوات پہنچ گئے

    آرمی چیف سیلاب زدگان کے لیئے سوات پہنچ گئے

    افواج پاکستان کے سربراہ قمر جاوید باجوہ آج بروز منگل 30 اگست کو سوات کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرنے کیلئے سوات پہنچ گئے

    پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) ( ISPR ) کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سوات میں اپنے دورے کے دوران کمراٹ، کالام میں جاری پاک افواج کی امدادی سرگرمیوں اور ریلیف آپریشن کا جائزہ لیں گے۔

    آئی ایس پی آر نے مزید کہا ہے کہ: 27 ہیلی کاپٹر پروازوں کے ذریعے سیلاب کی وجہ سے پھنسے 316 افراد کو نکالا گیا ہے۔
    ترجمان کے مطابق 24 گھنٹے کے دوران 23 ٹن سے زائد راشن اور امدادی اشیا متاثرین میں تقسیم کی گئی ہیں، جب کہ اس سے قبل راشن کے 3 ہزار540 پیکٹس، 250 ٹینٹ بھی متاثرین میں تقسیم کیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب عسکری ترجمان کی جانب سے آرمی فلڈ ریلیف سے متعلق تفصیلات بھی جاری کردی گئی ہیں۔ جاری اعداد و شمار کے مطابق کوآرڈینیشن سینٹر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ کوآرڈینیشن میں مصروف عمل ہے، جہاں تمام فارمیشنز کے تحت امدادی اشیا کی وصولی و تقسیم کیلئے217 کلیکشن پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔

    کلیکشن پوائنٹس میں اب تک 122.87 ٹن آٹا، دال اور چینی وصول ہوئی ہے، اسلام آباد سے 5.9 ٹن خیمے، لحاف اور ملبوسات بھی جمع کروائے گئے۔ 0.15 ٹن ادویات، شمسی لائٹس، سلیپنگ بیگز بھی جمع کروائے گئے۔

    ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ ترکیہ سے 7 فوجی طیاروں سے امدادی اشیا کراچی پہنچائی جاچکی ہیں، یواے ای سے3 فوجی طیاروں سے امدادی اشیا نور خان ائیر بیس راولپنڈی اور چین سے 2 طیارے 3 ہزار خیمے لے کر آج بروز 30 اگست کو کراچی پہنچیں گے، جب کہ جاپان سے ترپالیں اور شیلٹرز بھی آج کراچی پہنچ جائیں گے۔

    ترجمان کے بیان کے مطابق برطانیہ متاثرین سیلاب کی امداد کیلئے 1.5 ملین پاؤنڈ کا اعلان کر چکا ہے اور آذربائیجان نے بھی سیلاب متاثرین کیلئے 20 لاکھ ڈالر کا اعلان کیا ہے۔