Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • جے یو آئی کے ارکان کے ساتھ زیادتی ہوئی، حنا پرویز بٹ بھی خاموش نہ رہ سکیں

    جے یو آئی کے ارکان کے ساتھ زیادتی ہوئی، حنا پرویز بٹ بھی خاموش نہ رہ سکیں

    جے یو آئی کے ارکان کے ساتھ زیادتی ہوئی، حنا پرویز بٹ بھی خاموش نہ رہ سکیں
    اسلام آباد کے پارلیمنٹ لاجز میں ہنگامہ آرائی، گرفتاریوں کی حکومت،اپوزیشن دونوں جانب سے رد عمل آ رہا ہے

    ن لیگی رکن اسمبلی حنا پرویز بٹ بھی جے یو آئی کارکنان کی گرفتاریوں پر خاموش نہ رہ سکیں، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ جے یو آئی کے ارکان قومی اسمبلی کے ساتھ ذیادتی ہوئی، پولیس نے ان پر تشدد کر کے تمام حدیں پار کیں۔۔۔سپیکر کو کرسی پر رہنے کا کوئی حق نہیں، تھوڑی سی شرم باقی ہے تو استعفی دے دیں۔۔۔

    قبل ازیں مولانا فضل الرحمان کی احتجاج کی کال پر پارلیمنٹ لاجز واقعہ کے خلاف مختلف شہروں میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے کارکنان سڑکوں پر نکل آئے۔
    جے یو آئی کے کارکنان کی جانب سے اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، خضدار، نوشہرو فیروز سمیت دیگر کئی مقامات پر دھرنے دیئے گئے، حکومت کے خلاف نعرے بازی کی گئی جبکہ پاک ایران اور پاک افغان شاہرات بھی بند کر دی گئیں۔

    دوسری جانب بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے منان چوک پر جمعیت کے کارکنان نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور اسلام آباد واقعہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔کوئٹہ کے علاوہ خضدار، مستونگ اور کچلاک میں بھی جے یو آئی (ف) کے کارکنان نے دھرنا دیا۔

    بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر ملک سکندر ایڈووکیٹ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اسلام آباد واقعہ کے بعد کارکنان میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے، جس پر وہ احتجاج کر رہے ہیں، مرکزی قائدین کے فیصلے کے بعد صوبے بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔

    قبل ازیں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے انصار الاسلام کے خلاف پولیس کا آپریشن شروع ہونے کے بعد گرفتاری دینے کا اعلان کردیا ہے۔پارلیمنٹ لاجز میں جے یو آئی کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کے خلاف پولیس کی جانب سے کئے جانے والے آپریشن کے بعد مولانا فضل الرحمان پارلیمنٹ لاجز پہنچے، اس دوران اپنی گرفتاری دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کارکنان اسلام آباد پہنچیں، ہم خود گرفتاری دینگے، اگر پی ڈی ایم کے کسی ایم این اے کو گرفتار کیا گیا تو ہم بھی گرفتاریاں دینگے۔بعدازاں مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے کسی بندے کے پاس اسلحہ نہیں تھا، انہوں نے لاجز پردھاوا بولا ہے، پی ڈی ایم کے سربراہ کی حیثیت سے یہاں پہنچا ہوں، کارکن تمام شہروں میں روڈ بند کردیں، ہم آپ کے ساتھ میدان میں لڑیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اطلاعات تھیں کہ آج کے واقعے کی تصدیق ہو رہی ہے اور ہمارے ایم این ایز کو گرفتار کیا جائے گا۔

    مسلم ٹاؤن ، تھانہ آبپارہ ، کوئٹہ ، چاغی ، ٹھل ، نوشہرو فیروز ، ٹنڈو محمد خان ، ٹانک ، چارسدہ، مردان ، سوات ، جیکب آباد ، سکھر ، نواب شاہ ، خیر پور ، کاکنڈ یارو ، ٹھٹھہ ، ہالہ ، حیدرآباد ، لاڑکانہ ، سہراب گوٹھ ، کراچی ، ملتان ، گلگت اور بدین میں مولاناکےکارکن کادھرنا جاری ہے ادھر جمعیت علماء اسلام قلات کے کارکنان فورا شاہراہ مفتی محمود۔ مڈوے ہوٹل پہنچ جائیں۔ حافظ ابراھیم لہڑی حافظ قاسم لہڑی کی قیادت میں کوئٹہ کراچی شاہراہ کو بند کردیا گیا ادھر لاہور سے مصدقہ اطلاعات ہیں کہ ن لیگ ، پی پی اور ن لیگ کے حلیف مذہبی جماعتوں نے اپنے اپنے کارکنوں کو ہدایت کی ہےکہ وہ جے یو آئی ف کے بھیس میں جاکر حکومت کے خلاف اس احتجاج کو کامیاب کریں انہوں نے کہا کہ میں طبل جنگ بجا رہا ہوں اور ان کے خلاف اعلان جنگ کر رہا ہوں، ہر پارٹی کے ورکر کو کہنا چاہتا ہوں کہ ہوسکے تو اسلام آباد پہنچے اور اگر وہ نہیں پہنچ سکتے تو اپنے اپنے علاقوں میں مرکزی شاہراہیں بند کر دیں۔سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ یہ حکومت آخری سانسوں پر ہے، ایم این اے صلاح الدین ایوبی کو کسی وارنٹ کے بغیر گرفتار کیا گیا، ثابت ہوگیا حکومت ہمارے ارکان کواغوا کرنا چاہتی تھی۔

  • شمالی وزیرستان: سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 4 دہشتگرد ہلاک

    شمالی وزیرستان: سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 4 دہشتگرد ہلاک

    میرانشاہ:شمالی وزیرستان: سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 4 دہشتگرد ہلاک اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے خفیہ معلومات پر آپریشن کر کے 4 دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے مدی خیل اور بوبر گیپ میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس کی بنیاد پر دو آپریشن کیے ہیں۔

    بیان کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے میں 4 دہشت گرد مارے گئے جبکہ ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔ مارے گئے دہشت گرد سکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں سرگرم رہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے کے مقامی لوگوں نے آپریشن کو سراہا اور علاقے سے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے بھرپور تعاون کا اظہار کیا۔

  • جےیوآئی کےارکان اسمبلی کوگرفتارنہیں کیا:شوق سےبیٹھے ہیں:ہماری طرف سےآزادہیں:شیخ رشید

    جےیوآئی کےارکان اسمبلی کوگرفتارنہیں کیا:شوق سےبیٹھے ہیں:ہماری طرف سےآزادہیں:شیخ رشید

    اسلام آباد:وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے پارلیمنٹ لاجز میں پولیس کے آپریشن کے معاملے پر پریس کانفرنس کی۔

    شیخ رشید نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کے دو ارکان قومی اسمبلی کو ہم نے گرفتار نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنے شوق سے تھانے میں بیٹھے ہیں، ہماری طرف سے وہ رہا ہیں، ہم مولانا فضل الرحمان کو بھی گرفتار نہیں کریں گے، ان کی کمپنی کی مشہوری نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں سے سختی سے نمٹے گا، جو تشدد کرے گا اسے کچل دیا جائے گا۔

    شیخ رشید نے مولانا فضل الرحمان کی جانب سے سڑکیں بلاک کرنے کی اپیل پر کہا کہ جہاں سڑک بند ہوگی ان سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔

    شیخ رشید نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران انصار الاسلام کے ایک عہدے دار کا ویڈیو بیان بھی نشر کیا۔ پارلیمنٹ لاجز میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کے خلاف پولیس کے آپریشن کے معاملے پر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں دہشت گردی کا الرٹ جاری کیا جا چکا ہے، ہمارے پاس اطلاعات اچھی نہیں ہیں، خدانخواستہ عدم اعتماد سے پہلے امن و امان کا مسئلہ پیدا نہ ہو جائے۔

    اسلام آباد میں پارلیمنٹ لاجز میں پولیس کے آپریشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہم نے بہت اہم سیل پکڑا ہے، 60 سے 70 لوگ لاجز میں داخل ہوئے، ان کے لاجز میں کپڑے بدلوائے گئے، پولیس نے 4 گھنٹے تک منت سماجت، مذاکرات کیے کہ ان لوگوں کو ہمارے حوالے کر دیں، ہمارے حوالے نہ کرنے پر پولیس نے آپریشن کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ انصار الاسلام کے لوگ پیچھے بھی آ رہے ہیں، نتیجہ آپ بھگتیں گے، کانوں کو ہاتھ لگائیں گے، باہر سے لوگ آرہے ہیں اور ہم کوشش کریں گے انہیں روک لیا جائے۔

    خیال رہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کے ڈنڈہ بردارکارکنوں کے احتجاج کے دوران پارلیمنیٹ لاجز میں زبردستی داخل ہونے والوں کو پولیس نے حراست میں لیا تھا لیکن پھر اس کے بعد فورا چھوڑ دیا

     

     

    پارلیمنٹ لاجز میں آپریشن ڈی آئی جی آپریشن کی کمانڈ میں کیا جارہا ہے۔ میڈیا کو پارلیمنٹ لاجز سے نکال دیا گیا جس کے بعد پولیس کی نفری نے صلاح الدین ایوبی کے لاج کا دروازہ توڑ کر انہیں گرفتار کر لیا جبکہ متعدد رضا کاروں کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ان تمام افراد کو نامعلوم مقام پر منتقل کیا جارہا ہے۔

    دوسری طرف انصارالاسلام فورس کے پارلیمنٹ لاجز میں داخل ہونے کے معاملے پر آئی جی اسلام آباد احسن یونس نے نوٹس لے لیا اور ڈی چوک پر قائم ناکہ انچارج، پارلیمنٹ لاجز کے انسپکٹر انچارج، لائن افسر معطل کر دیئے گئے۔

    ترجمان کے مطابق افسران اور اہلکاروں کو ڈیوٹی میں غفلت برتنے پر معطل کیا گیا، ایس ایس پی آپریشنزمعاملے کی انکوائری کریں گے۔

    اُدھر پارلیمنٹ لاجز میں پولیس اور اراکین اسمبلی آمنے سامنے ہوئے اس دوران تلخ کلامی بھی ہوئی جبکہ پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی آغا رفیع اللہ اور اہلکاروں میں ہاتھا پائی ہوئی۔پارلیمنٹ لاجز میں پولیس اور ایم این اے کے سٹاف میں ہاتھا پائی کے دوران وہاں موجود رہنما مسلم لیگ ن خواجہ سعد رفیق کا پاؤں دروازہ لگنے سے زخمی ہوگیا۔

    دوسری طرف اسلام آباد پولیس نے جے یو آئی ف کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے شیخ رشید کے ان الفاظ کی تائید کی ہے کہ ہم نے کسی کوگرفتار نہیں کیا جو کوئی بیٹھا ہوا ہے اپنے شوق سے بیٹھا ہے

    پولیس کی طرف سے دونوں ایم این ایز صلاح الدین ایوبی اور جمال الدین کو گرفتار نہیں کیاگیا،یہ دونوں ایم این اے حضرات تھانہ آبپارہ میں ایس ایچ او کے کمرے میں موجود ہیں،یہ دونوں ایم این ایز تھانے سے نہ جانے پر مصر ہیں،

    پولیس نے دونوں ایم این ایز کو قطعی گرفتار نہیں کیا،جو کہ اپنے کارکنان کی رہائی کے لیے بضد ہیں،انصار الاسلام فورس پر24 اکتوبر 2019 کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے پابندی عائد کی تھی اور ان کو کالعدم قرار دیا تھا،

    ایک طرف اسلام آباد میں ہنگامہ آرائی ہورہی ہے تو دوسری طرف اس ہنگامہ کے پیچھے محرکات بھی سامنے آنے لگے ہیں ، اس حوالے سے ایک اہم رپورٹ اس وقت گردش کررہی ہے کہ پارلیمنٹ لاجزمیں ہنگامہ آرائی کا منصوبہ کیوں،کس نےاورکب بنایا؟تہلکہ خیزانکشافات آگئے

    لاہورسے ذرائع کےمطابق اسلام آباد پارلیمنٹ لاجز میں ہنگامہ آرائی کا فیصلہ آج اچانک اس وقت جب ن لیگ کے 6 ممران نے وزیراعظم عمران خان سے مل کرساتھ دینے کا عہد کیا ، یہ بات ن لیگ کی قیادت پربجلی بن کرگزری ، اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہےکہ ن لیگ نے جن پی ٹی آئی اراکین سے رابطے کیئے تھے ان کو یہ باوربھی کرایا گیا تھا کہ ن لیگ میں مکمل اتفاق ہے اور کوئی فارورڈ بلاک نہیں سب ساتھ ہیں

    پارلیمنٹ لاجز میں ہنگامہ آرائی کی دوسری بڑی وجہ ہے کہ ن لیگ قیادت کو پی ٹی آئی کے 7 ممبران نے صاف جواب دیتے ہوئے اعتماد کا ووٹ دینے سے انکار کردیا ، یہ انکار تو فردا فردا کیا گیا لیکن یہ ایک بہت بڑا سانحہ بن کر اپوزیشن کےلیے آیا ،جس کےبعد اپوزیشن نے اس کھیل کو اپنے ہاتھوں سے جاتے ہوئے دیکھ کرفورا معاملہ فضل الرحمن تک پہنچایا ، جس پرفضل الرحمن اشتعال میں آگئے اور ن لیگی کارکنان کی وزیراعظم سے ملاقات اور پی ٹی آئی کے 7 ممبران کا وزیراعظم عمران خان سے ہم آہنگی کو حکومتی جبرسمجھتے ہوئےاس پر سخت ردعمل دینے کا فیصلہ کیا گیا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ فیصلہ نوازشریف کی ہدایت پرکیا گیا اور مریم نواز اور فضل الرحمن نے اس حوالے سے حکمت عملی طئے کی اور شام تک پارلیمنٹ لاجز پرقبضہ کرکے حکومت کوامتحان میں ڈالنے کا فیصلہ ہوا، اس فیصلے سے نہ تو ن لیگ کی دوسرے درجے کی قیادت کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی پی پی کی قیادت کو ن لیگ اور فضل الرحمن کے درمیان ہونے والے اس منصوبے سے آگاہ کیا گیا

    ذرائع کےمطابق تیسری بڑی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ جے یو ائی ف کے دو ارکان اسمبلی مولانا فضل الرحمن کے عمران خان خلاف اسلام اور پاکستان کی خارجہ پالیسی سے اتفاق نہیں کرتے ان کا یہ کہنا تھا کہ یہ سراسرالزام تراشی ہے اورہمیں اس سے دور رہنا چاہیے ، بہرکیف موجودہ حکومت پچھلی حکومتوں سے ان پہلووں پر بہتر کام کررہی ہے اور ہمیں غیرمشروط حمایت کرنی چاہیے نہ نوازشریف یا کسی دوسرے کی رضا کی خاطرملکی معاملات کو خراب کرنا چاہیے

    یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو اس بات پراعتراض بھی تھا اور اپنے ارکان اسمبلی پر شک بھی، جس کی وجہ سے وہ عدم اعتماد کے حوالے سے ہچکچا رہے تھے ، شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ناکامی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس انداز سے حکومت کو مشکلات میں ڈالنا چاہتے ہیں

    ادھر اسلام آباد سے ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ آصف علی زرداری نے جو ووٹ دینے کا وعدہ کیا تھا وہ اپنے وعدے پر پورے نظرآتے ہیں لیکن ن لیگ اور جے یو آئی ف کے دعوے صرف دعوے ہی تھے اوران میں حقیقت نہیں تھی ، جبکہ دوسری طرف آج جب وزیراعظم عمران خان کو بتادیا گیا کہ وہ بے فکر رہیں ان کے پارٹی کے تمام اراکین اسمبلی ان کو ووٹ دیں گے اور عدم اعتماد بری طرح‌ ناکام ہوگی

    ان خبروں نے اپوزیشن کے لیے بہت ہی پریشانیاں پیدا کررکھی تھیں اور اب چونکہ یہ ساری گیم ہاتھ سے نکلتی ہوئی نظر آرہی تھی تو نوازشریف کی ہدایت پرزرداری کے علم میں لائے بغیر پارلیمنٹ لاجز پرقبضہ کرکے حالات کو بے قابو کرنے کا منصوبہ بنایا گیا

    اسلام آباد سے مقتدر حلقوں کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پی پی متحدہ اپوزیشن کے ساتھ ہے لیکن پی پی کی یہ تاریخ رہی ہےکہ وہ ایسے غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے دور رہے ہیں بلکہ پی پی نےہمیشہ ایسے رویوں کی مذمت کی ہے اور یہی پی پی کی نظریاتی فتح ہے جسے مخالفین بھی مانتے ہیں ، اور اگر ماضی کو دیکھا جائے تو پی پی قیادت پارلیمنٹ لاجز کے اس کھیل سے بہت جلد بیزاری کا اعلان کرسکتی ہے، پی پی قیادت عمران خان کو پانچ سال پورے کرنے پر توقربانی دے سکتی ہے لیکن گیر جمہوری اور ایسے سازشی ہتھکنڈوں کا ساتھ نہیں دے سکتی کیونکہ آصف علی زرداری نے پارٹی کویہی تو سبق پڑھایا ہے کہ غیرجمہوری رویوں کی پی پی میں‌ نہ تو گنجائش ہے اور نہ ہے یہ کسی کی فرمائش ہے

  • پارلیمنٹ لاجزمیں ہنگامہ آرائی کا منصوبہ کیوں،کس نےاورکب بنایا؟تہلکہ خیزانکشافات:

    پارلیمنٹ لاجزمیں ہنگامہ آرائی کا منصوبہ کیوں،کس نےاورکب بنایا؟تہلکہ خیزانکشافات:

    اسلام آباد :ایک طرف اسلام آباد میں ہنگامہ آرائی ہورہی ہے تو دوسری طرف اس ہنگامہ کے پیچھے محرکات بھی سامنے آنے لگے ہیں ، اس حوالے سے ایک اہم رپورٹ اس وقت گردش کررہی ہے کہ پارلیمنٹ لاجزمیں ہنگامہ آرائی کا منصوبہ کیوں،کس نےاورکب بنایا؟تہلکہ خیزانکشافات آگئے

    لاہورسے ذرائع کےمطابق اسلام آباد پارلیمنٹ لاجز میں ہنگامہ آرائی کا فیصلہ آج اچانک اس وقت جب ن لیگ کے 6 ممران نے وزیراعظم عمران خان سے مل کرساتھ دینے کا عہد کیا ، یہ بات ن لیگ کی قیادت پربجلی بن کرگزری ، اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہےکہ ن لیگ نے جن پی ٹی آئی اراکین سے رابطے کیئے تھے ان کو یہ باوربھی کرایا گیا تھا کہ ن لیگ میں مکمل اتفاق ہے اور کوئی فارورڈ بلاک نہیں سب ساتھ ہیں

    پارلیمنٹ لاجز میں ہنگامہ آرائی کی دوسری بڑی وجہ ہے کہ ن لیگ قیادت کو پی ٹی آئی کے 7 ممبران نے صاف جواب دیتے ہوئے اعتماد کا ووٹ دینے سے انکار کردیا ، یہ انکار تو فردا فردا کیا گیا لیکن یہ ایک بہت بڑا سانحہ بن کر اپوزیشن کےلیے آیا ،جس کےبعد اپوزیشن نے اس کھیل کو اپنے ہاتھوں سے جاتے ہوئے دیکھ کرفورا معاملہ فضل الرحمن تک پہنچایا ، جس پرفضل الرحمن اشتعال میں آگئے اور ن لیگی کارکنان کی وزیراعظم سے ملاقات اور پی ٹی آئی کے 7 ممبران کا وزیراعظم عمران خان سے ہم آہنگی کو حکومتی جبرسمجھتے ہوئےاس پر سخت ردعمل دینے کا فیصلہ کیا گیا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ فیصلہ نوازشریف کی ہدایت پرکیا گیا اور مریم نواز اور فضل الرحمن نے اس حوالے سے حکمت عملی طئے کی اور شام تک پارلیمنٹ لاجز پرقبضہ کرکے حکومت کوامتحان میں ڈالنے کا فیصلہ ہوا، اس فیصلے سے نہ تو ن لیگ کی دوسرے درجے کی قیادت کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی پی پی کی قیادت کو ن لیگ اور فضل الرحمن کے درمیان ہونے والے اس منصوبے سے آگاہ کیا گیا

    ذرائع کےمطابق تیسری بڑی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ جے یو ائی ف کے دو ارکان اسمبلی مولانا فضل الرحمن کے عمران خان خلاف اسلام اور پاکستان کی خارجہ پالیسی سے اتفاق نہیں کرتے ان کا یہ کہنا تھا کہ یہ سراسرالزام تراشی ہے اورہمیں اس سے دور رہنا چاہیے ، بہرکیف موجودہ حکومت پچھلی حکومتوں سے ان پہلووں پر بہتر کام کررہی ہے اور ہمیں غیرمشروط حمایت کرنی چاہیے نہ نوازشریف یا کسی دوسرے کی رضا کی خاطرملکی معاملات کو خراب کرنا چاہیے

    یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو اس بات پراعتراض بھی تھا اور اپنے ارکان اسمبلی پر شک بھی، جس کی وجہ سے وہ عدم اعتماد کے حوالے سے ہچکچا رہے تھے ، شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ناکامی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس انداز سے حکومت کو مشکلات میں ڈالنا چاہتے ہیں

    ادھر اسلام آباد سے ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ آصف علی زرداری نے جو ووٹ دینے کا وعدہ کیا تھا وہ اپنے وعدے پر پورے نظرآتے ہیں لیکن ن لیگ اور جے یو آئی ف کے دعوے صرف دعوے ہی تھے اوران میں حقیقت نہیں تھی ، جبکہ دوسری طرف آج جب وزیراعظم عمران خان کو بتادیا گیا کہ وہ بے فکر رہیں ان کے پارٹی کے تمام اراکین اسمبلی ان کو ووٹ دیں گے اور عدم اعتماد بری طرح‌ ناکام ہوگی

    ان خبروں نے اپوزیشن کے لیے بہت ہی پریشانیاں پیدا کررکھی تھیں اور اب چونکہ یہ ساری گیم ہاتھ سے نکلتی ہوئی نظر آرہی تھی تو نوازشریف کی ہدایت پرزرداری کے علم میں لائے بغیر پارلیمنٹ لاجز پرقبضہ کرکے حالات کو بے قابو کرنے کا منصوبہ بنایا گیا

    اسلام آباد سے مقتدر حلقوں کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پی پی متحدہ اپوزیشن کے ساتھ ہے لیکن پی پی کی یہ تاریخ رہی ہےکہ وہ ایسے غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے دور رہے ہیں بلکہ پی پی نےہمیشہ ایسے رویوں کی مذمت کی ہے اور یہی پی پی کی نظریاتی فتح ہے جسے مخالفین بھی مانتے ہیں ، اور اگر ماضی کو دیکھا جائے تو پی پی قیادت پارلیمنٹ لاجز کے اس کھیل سے بہت جلد بیزاری کا اعلان کرسکتی ہے، پی پی قیادت عمران خان کو پانچ سال پورے کرنے پر توقربانی دے سکتی ہے لیکن گیر جمہوری اور ایسے سازشی ہتھکنڈوں کا ساتھ نہیں دے سکتی کیونکہ آصف علی زرداری نے پارٹی کویہی تو سبق پڑھایا ہے کہ غیرجمہوری رویوں کی پی پی میں‌ نہ تو گنجائش ہے اور نہ ہے یہ کسی کی فرمائش ہے

  • منتخب حکومت گرانےکےاس کھیل کاحصہ بنیں گے یا نہیں:سراج الحق نے شہازشریف سے وقت مانگ لیا

    منتخب حکومت گرانےکےاس کھیل کاحصہ بنیں گے یا نہیں:سراج الحق نے شہازشریف سے وقت مانگ لیا

    لاہور:حکومت گرانےکےاس کھیل کاحصہ بنیں گے یا نہیں:سراج الحق نے شہازشریف سے وقت مانگ لیا ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، شہباز سے ملاقات کے بعد سراج الحق نے وقت مانگ لیا
    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر حمایت مانگنے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے پاس پہنچ گئے۔

    سراج الحق نے مشاورت کیلئے وقت مانگ لیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ 22 کروڑ عوام کی خواہش ہے کہ یہ نااہل اور کرپٹ حکومت اب گھر جائے، آئینی طریقے سے حکومت کو ہٹاکر قوم کے پاس دوبارہ جائیں، شفاف الیکشن اور فریش مینڈیٹ کے ساتھ مل کر حکومت بنائی جائے اور پریشانی میں گِھرے عوام کی خدمت کریں۔

    سراج الحق نے کہا یہ یقینی بنایا جائے کہ اگلے الیکشن صاف شفاف ہوں گے، آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کیلئے جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس کل طلب کرلیا گیا ہے۔

    ادھر متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات کرے گا۔ یہ ملاقات تحریک عدم اعتماد میں ایم کیو ایم کی حمایت کے حوالے سے انتہائی اہم ہے۔

    ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کی سابق صدر آصف زرداری سے اہم ملاقات طے پا گئی ہے۔ خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں ایم کیو ایم کا تین رکنی وفد کل سابق صدر سے اسلام آباد میں ملاقات کرے گا۔

    ایم کیو ایم کا وفد کل اسلام آباد پہنچے گا اور شام کے وقت وہ زرداری ہاؤس میں پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین سے ملاقات کرے گا۔ مذاکراتی ٹیم میں کنور نوید جمیل بھی شامل ہیں۔

    بعد ازاں ایم کیو ایم کے وفد کی مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات بھی متوقع ہے جس کے بعد ایم کیو ایم کے حکومت یا اپوزیشن کی جانب جھکاؤ کی صورتحال واضح ہو سکے گی۔

    دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے ایم کیو ایم مرکز بہادر آباد کے دورے میں حکومت کی جانب سے ایم کیو ایم کی حمایت کے حصول میں کامیابی کا دعویٰ کیا تھا تاہم ایم کیو ایم رہنماؤں نے وزیراعظم سے ملاقات کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر اپنا حق استعمال کرنے کا فیصلہ بعد میں کریں گے۔

  • میاں چنوں میں گرنے والا طیارہ تھا یا کوئی اورچیز:   خبردینےوالے ہی بےخبررہے:نئے حقائق سامنے آگئے

    میاں چنوں میں گرنے والا طیارہ تھا یا کوئی اورچیز: خبردینےوالے ہی بےخبررہے:نئے حقائق سامنے آگئے

    لاہور‌:میاں چنوں میں گرنے والے طیارہ تھا یا کوئی اورچیز:خبردینے والے ہی بے خبررہے:نئے حقائق سامنے آگئے،،اطلاعات کے مطابق میاں چنوں میں گرنے والا پاک فضائیہ کا طیارہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی چیز تھی کہ جس کے بارے میں سُن کرلوگ حیران ہی رہ گئے

    ادھر میاں چنوں میں ہونے والے واقعہ کے متعلق ترجمان پاک فضائیہ کا کہنا ہے کہ میاں چنوں میں گرنے والا طیارہ ائیرفورس کا نہیں ہے۔

     

    سوشل میڈیا پر ایک تربیتی طیارہ گرنے کی ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس سے متعلق دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ایئرفورس کا جنگی تربیتی طیارہ خانیوال کے ضلع میاں چنوں میں گر کر تباہ ہوا ہے۔

    ذرائع کے مطابق میاں چنوں میں بائی پاس کے کولڈ اسٹوریج کے گوادم کے قریب جنگی تربیتی طیارہ گر کر تباہ ہوا اور ریسکیو 1122 اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ٹیمیں موقع پر پہنچ کر امدادی کاروائیوں میں حصہ لے رہی ہیں تاہم حادثے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

     

    مقامی پولیس سے رابطہ کیا گیا تو ڈی ایس پی خانیوال کا کہنا تھا کہ واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں اور اس حوالے سے جلد حقائق سامنے آجائیں گے۔

    دوسری جانب ترجمان پاک فضائیہ کی جانب سے جاری بیان میں سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ میاں چنوں میں گرنے والا طیارہ ائیرفورس کا نہیں۔

     

    خیال رہے میاں چنوں میں چھوٹا تربیتی طیارہ گرکر تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں جس میں معجزاتی طورپر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ادھر ایک مقامی صحافی نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی قسم کا کوئی طیارہ تباہ نہیں ہوا بلکہ بوائلر پھٹنے سے دھماکا ہوا ہے جس کی آواز بہت زور دار تھی۔

    بعد ازاں سوشل میڈیا پر بھی اس خبر کی تصدیق سامنے آگئی ہے کہ میاں چنوں میں طیارہ گرنے کی اطلاعات غلط ہیں، دراصل یہ ایک مقامی فیکٹری کے بوائلر پھٹنے سے دھماکے کی آواز تھی ، جسے جہاز کا گرنا تصور کیا گیا۔

  • عیدکےبعد سندھ کادورہ کروں گا:وزیراعظم کی ارکان اسمبلی      کوبڑے پُراعتماد اندازمیں نصیحت:سب حیران رہ گئے

    عیدکےبعد سندھ کادورہ کروں گا:وزیراعظم کی ارکان اسمبلی کوبڑے پُراعتماد اندازمیں نصیحت:سب حیران رہ گئے

    اسلام آباد:رمضان المبارک کے بعد سندھ کا دورہ کروں گا:وزیراعظم کی ارکان اسمبلی کوبڑے پُراعتماد اندازمیں نصیحت:سب حیران رہ گئے ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے موجودہ سیاسی صورتحال پر مشاورت کے لیے پارٹی رہنماؤں کو بنی گلالہ بلا لیا۔

    ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے عدم اعتماد کی تحریک جمع کرائے جانے کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کے تناظر میں وزیراعظم کی پارٹی رہنماؤں سے اہم ملاقات ہو گی۔ وزیراعظم کی کراچی سے واپسی پر بنی گالہ میں اجلاس ہو گا جس میں ارکان پارلیمنٹ سے ملاقاتیں بھی کی جائیں گی۔ وزیراعظم سے بلوچستان عوامی پارٹی کے ارکان بھی ملاقات کریں گے۔

    وزیراعظم عدم اعتماد سمیت سیاسی صورتحال ، پنجاب اور مرکز میں اپوزیشن کو ناکام بنانے کے لیے حکمت عملی پر بھی غور کریں گے۔

    وزیر اعظم عمران خان نے آج شہر قائد میں اپوزیشن کو زبردست جواب دینے کے لیے بھرپور دن گزارا، وزیر اعظم جب گورنر ہاؤس میں پی ٹی آئی اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے ملاقات کر رہے تھے، تو سندھ میں اپنی حکمت عملی سے متعلق بات چیت کے ساتھ ساتھ ان کے آپس میں ایک دل چسپ مکالمہ بھی ہوا۔

    وزیر اعظم نے اراکین سے کہا میں رمضان میں اور عید کے بعد اندرون سندھ جاؤں گا، آپ سب مخالفین کے آگے ڈٹ کر کھڑے رہیں، وزیر اعظم کے اراکین کو دیے گئے اس پیغام کے جواب میں انھوں نے کہا ‘وزیر اعظم صاحب، ہم سب آپ کے ساتھ ہیں، آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔

    ذرائع کے مطابق کپتان کی اس قدر پراعتماد گفتگو نے ارکان اسمبلی کو اس قدر اطمنان دیا کہ کپتان کے کراچی سے آنے کے بعد پی ٹی آئی ارکان کپتان کے حوصلے اور اطمنان کو دیکھ کریہ کہنے پرمجبور ہوگئے کہ ہمارا کپتان اپوزیشن کی سازشوں کو ناکام بناتےہوئے یہ جنگ بھی جیتے گا

  • آذان کی آوازاتنی مسحورکن کہ میں اپنے جزبات بیان نہیں کرسکتا:آسٹریلوی کپتان کےبعد باولربھی متاثر

    آذان کی آوازاتنی مسحورکن کہ میں اپنے جزبات بیان نہیں کرسکتا:آسٹریلوی کپتان کےبعد باولربھی متاثر

    لاہور:آذان کی آوازاتنی مسحورکن کہ میں اپنے جزبات بیان نہیں کرسکتا:آسٹریلوی کپتان کےبعد باولربھی متاثر ،اطلاعات کے مطابق پاکستان میں تاریخی سیریز کے لئے موجود آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز کے بعد فاسٹ باؤلر جوش ہیزل ووڈ نے بھی راولپنڈی ٹیسٹ میچ کے دوران اذان کی آواز کو سب سے بہترین لمحہ قرار دے دیا۔

    راولپنڈی ٹیسٹ میچ کے بغیر نتیجہ ختم ہونے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کینگروز فاسٹ باؤلر نے لکھا کہ پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران پاکستانی شائقین بہت پرجوش دکھائی دیئے اور وہ کھیل سے محظوظ ہوئے۔

     

    https://twitter.com/JoshHazIewood38/status/1501307181840412677?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1501307181840412677%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.dunyanews.tv%2Findex.php%2Fur%2FCricket%2F644651

     

    اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے مزید لکھا ٹیسٹ میچ کے دوران ٹیم میں ہم سب کے لئے نماز کے لئے پکارا جانا (اذان) کی آواز بہترین لمحہ تھا اور اذان کی یہ آواز انتہائی پرسکون محسوس کرانے والی تھی، ہم نے اسے سے قبل ایسی حیرت انگیز اور پیار بھری آواز نہیں سنی تھی۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز نے کہا تھا کہ میرے لیے وہ لمحہ انتہائی خوبصورت تھا جب ہم پریکٹس سیشن میں مصروف تھے اور راولپنڈی سے بلند ہونے والی اذان کی آواز گراؤنڈ میں گونج رہی تھی جب کہ پس منظر میں پہاڑ تھے۔

    آسٹریلین ویب سائٹ کے لیے تحریر کیے گئے اپنے بلاگ میں پیٹ کمنز نے ’دورے کو غیرمعمولی‘ قرار دیتے ہوئے اسے اپنی اور دیگر کھلاڑیوں کی ’زندگیوں اور کیریئر کا خاص لمحہ‘ قرار دیا تھا۔

  • نئےکپڑوں کی خواہش پر شوہر نے بیوی کو بڑی سزا دے دی

    نئےکپڑوں کی خواہش پر شوہر نے بیوی کو بڑی سزا دے دی

    نئی دہلی : نئے کپڑوں کی خواہش پر شوہر نے بیوی کو بڑی سزا دے دی ،اطلاعات کے مطابق اکثر دیکھا گیا کہ لڑائی جھگڑے کی وجہ سے میاں بیوی الگ ہو جاتے ہیں مگر بعض اوقات ایسا نہیں ہوتا،اسی طرح کا ایک واقعہ بھارتی شہر احمد آباد میں پیش آیا جہاں ایک شخص کی اہلیہ نے اس سے یہ کہہ کر نئے کپڑوں کا مطالبہ کیا کہ اس کے کپڑے پرانے ہوگئے ہیں، اہلیہ کی خواہش پر شوہر اس کو شاپنگ پر تو لے گیا لیکن واپسی پر یہ کہہ کر میکے چھوڑگیا کہ اب وہ دونوں مزید ساتھ نہیں رہ سکتے اور اکیلا ہی گھر چلا گیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق علیحدگی کے بعد 38 سالہ خاتون نے اپنے شوہر کے خلاف مقدمہ درج کروادیا جس میں خاتون کا کہنا تھا کہ ان کی شادی2016 میں ہوئی تھی لیکن 2017 میں ناراضگی کی وجہ سے دونوں نے علیحدہ رہنا شروع کیا لیکن 4 سال بعد دونوں نے ایک بار پھر ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔

    خاتون کا کہنا تھا کہ سسرال والے انہیں ہراساں کرتے تھے اور جہیز کا مذاق اڑاتے تھے، سسرال والے تقریباً 15 لاکھ بھارتی روپے کے جہیز کا مطالبہ کر رہے تھے اور پھر شوہر نے کپڑے دلانے کا بولنے پر چھوڑ دیا،متاثرہ خاتون نے کہا کہ اگر نئے کپڑے خرید کر چھوڑنا تھا تو میں کبھی اپنی خواہش نظر نہ کرتی۔

  • وزیراعطم عمران خان قوم کے ترجمان ہیں:پاکستان کوکسی کے زیرنگین نہیں دیکھنا چاہتے:وزیرخزانہ شوکت ترین

    وزیراعطم عمران خان قوم کے ترجمان ہیں:پاکستان کوکسی کے زیرنگین نہیں دیکھنا چاہتے:وزیرخزانہ شوکت ترین

    اسلام آباد:وزیراعطم عمران خان قوم کے ترجمان ہیں:پاکستان کوکسی کے زیرنگین نہیں دیکھنا چاہتے: اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ قومی سلامتی کو کسی کے سامنے گروی نہیں رکھ سکتے، روس یوکرین کے معاملے پر وزیر اعظم نے سٹینڈ لیا ، یہ قوم کی دل کی آواز تھی ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یورپ اور امریکا کو پاکستان کے لیے برآمدات کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے ، وزیراعظم کے یورپ کے حوالے سے بیان سے متعلق کہا کہ میرے خیال میں عمران خان کو یورپ کے معاملے پر عوامی اجتماع میں نہیں بولنا چاہیےتھا۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ نہیں معلوم عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کب کم ہوں گی، وزیراعظم کے اعلا ن کردہ ریلیف پیکج کے تحت 700 روپے یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو 5 روپے فی یونٹ کی سبسڈی دی جائیگی، اس پیکج کے تحت 136 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی جارہی ہے، سبسڈیز پر آئی ایم ایف سے کہا کہ ہاتھ ہولا رکھیں۔

    انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم اوربجلی کی قیمتوں میں کمی پرمبنی ریلیف پیکج پرآئی ایم ایف سے مشاورت ہوئی ہے، حکومت کا موقف ہے کہ ریلیف پیکج کیلئے مالی گنجائش ہم اپنے وسائل سے نکالیں گے اس مقصدکیلئے سرکاری کاروباری اداروں کے ڈیوڈنڈ جواستعمال نہیں ہوئے ہیں کا استعمال ہوگا، اس کے علاوہ سالانہ ترقیاتی پروگرام سے بھی حصہ ڈالاجائیگا، اس لئے آئی ایم ایف کوریلیف پیکج پراعتراض نہیں کرناچاہئیے۔

    وزیر خزانہ نے چین کی جانب سے 21 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری سے متعلق لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک پر کام کی رفتار تیز کرنے کی بات ہوئی ہے، چین کی 22 کمپنیوں کو پاکستان میں صنعتیں لگانے پر آمادہ کر رہے ہیں جبکہ آئی ٹی برآمدات 50 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف ہے۔ یہ شعبہ پاکستان کے تجارتی خسارہ میں کمی کے حوالہ سے اہم کرداراداکرسکتاہے، اس سال آئی ٹی کے شعبہ میں 70 فیصدنموہوئی ہے اوراگے سال 100 فیصد نموکا امکان ہے، ہماراہدف آنیوالے چند برسوں میں برآمدات کو 50 ارب ڈالرتک بڑھاناہے،حکومت نے آئی ٹی پرکیپٹل گین ٹیکس ختم کردیاہے، فری لانسرزکومراعات دی گئی ہے، آئی ٹی میں سرمایہ کاری پرفارن کرنسی اکاونٹس کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔