Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • بحر الکاہل سکڑنے لگا، سائنسدانوں کی نئے براعظم ’امیشیا‘ کی تشکیل کی پیشگوئی

    بحر الکاہل سکڑنے لگا، سائنسدانوں کی نئے براعظم ’امیشیا‘ کی تشکیل کی پیشگوئی

    سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ زمین کی تاریخ میں براعظم کئی بار آپس میں ٹکرا کر ’سپر کانٹی ننٹ‘ یا عظیم براعظم کی شکل اختیار کرتے رہے ہیں، اور ایک بار پھر ایسا ہونے والا ہے۔

    زمین کا موجودہ جغرافیہ لاکھوں برس کے ارضیاتی عمل کا نتیجہ ہے براعظموں کی حرکت، سمندروں کا پھیلاؤ اور سکڑاؤ، اور پلیٹ ٹیکٹونکس جیسے قدرتی عوامل زمین کے چہرے کو مسلسل بدلتے رہتے ہیں،آسٹریلیا کی کرٹِن یونیورسٹی اور چین کی پیکنگ یونیورسٹی کے ماہرینِ ار ضیات نے جدید سپر کمپیوٹر ماڈلز کی مدد سے یہ پیشگوئی کی ہے کہ آئندہ 200 سے 300 ملین سالوں میں زمین پر ایک نیا عظیم براعظم، جسے ’امیشیا‘ کا نام دیا گیا ہے، وجود میں آ سکتا ہے۔

    معروف سائنسی جریدے ’نیشنل سائنس ریویو‘ میں شائع تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بحرالکاہل (Pacific Ocean) جو زمین کا قدیم ترین سمندر ہے، بتدریج سکڑ رہا ہے اور بالآخر بند ہو سکتا ہے اس عمل کے نتیجے میں موجودہ براعظم آپس میں ٹکرا کر ایک نیا عظیم براعظم بنا سکتے ہیں۔

    کرٹن یونیورسٹی کے ڈاکٹر چوان ہوانگ کے مطابق گزشتہ دو ارب سال میں ہر تقریباً 600 ملین سال بعد براعظم ایک دوسرے سے ٹکرا کر ایک سپر کانٹی ننٹ بناتے رہے ہیں، اور اس حساب سے اگلا عظیم براعظم بننے کا وقت قریب آ چکا ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر بحرالکاہل بند ہو گیا تو امریکا اور ایشیا کا آپس میں تصادم ہوگا، جو ’امیشیا‘ کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کرے گا دلچسپ بات یہ ہے کہ آسٹریلیا بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کرے گا توقع ہے کہ آسٹریلیا پہلے ایشیا سے ٹکرائے گا اور پھر امریکہ و ایشیا کے درمیان پل کا کردار ادا کرے گا۔

    ڈاکٹر ہوانگ کا مزید کہنا ہے کہ ہم نے سپر کمپیوٹر کے ذریعے زمین کی پلیٹوں کی حرکت کا ماڈل تیار کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحرالکاہل کے بند ہونے کا امکان سب سے زیادہ ہے، جو کہ ماضی کی کچھ سائنسی تھیوریز کے برخلاف ہے۔‘

    واضح رہے کہ بحرالکاہل دراصل پان تھالاسا (Panthalassa) نامی قدیم عظیم سمندر کا بچا ہوا حصہ ہے، جو تقریباً 700 ملین سال پہلے وجود میں آیا تھا، اور اس کے سکڑنے کا عمل ڈائناسور کے دور سے جاری ہے۔

  • جب منی پور  کےعیسائیوں کی زندگی ایک لمحے میں بدل گئی،  بی جے پی اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی

    جب منی پور کےعیسائیوں کی زندگی ایک لمحے میں بدل گئی، بی جے پی اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی

    3 مئی 2023 کو، شمال مشرقی ہندوستان کے ایک علاقے منی پور ریاست میں رہنے والے ہزاروں عیسائیوں کی زندگی ایک لمحے میں بدل گئی۔

    ان ماننے والوں میں سے ایک سیانگ موانگ ہیں، ایک پادری جو ریاست میں متعدد اجتماعات کی خدمت کرتا ہے۔ سیان کہتے ہیں، "میں علاقے میں 10 سے زیادہ گرجا گھروں میں پادری کرتا تھا "3 مئی 2023 کو، چرچ کی پانچ عمارتیں مکمل طور پر جل گئیں؛ باقی کو لوٹ لیا گیا اور شدید نقصان پہنچا ہم نے سب کچھ کھو جانے کے باوجود، میری بیوی اور میں نے اپنے مجرموں کو معاف کرنے کا فیصلہ کیا، یہ یاد کرتے ہوئے کہ کس طرح مسیح نے ہمیں معاف کیا –

    سیان اور اس کا خاندان اس کی بیوی، جینی اور ان کی 2 سالہ بیٹی، ٹیا کچھ نہیں کر سکے کیونکہ انہوں نے منی پور ریاست میں ہزاروں کو بھاگتے، گرجا گھروں کو جلاتے اور توڑ پھوڑ ہوتے دیکھا۔

    تشدد کی جڑ ریاست منی پور میں نسلی اور مذہبی دونوں طرح کی کشیدگی میں تھی۔ کوکی لوگ (جو اکثریت عیسائی ہیں) ہندوستان میں ایک "شیڈولڈ قبیلہ” ہیں ہندوستانی قانون کے تحت ایک سرکاری حیثیت جو ان گروہوں کو حکومتی فوائد فراہم کرتی ہے جن کو اہم سماجی و اقتصادی نقصانات کا سامنا ہے وہ منی پور میں آبادی کی ایک اقلیت ہیں منی پور ریاست میں زیادہ تر لوگ میتی لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں ایک نسلی گروہ جو زیادہ تر ہندو ہے میٹی شیڈولڈ ٹرائب کی حیثیت کے لیے لڑ رہے تھے، جس کی وجہ سے کوکی کی جانب سے احتجاج کیا گیا یہ مظاہرے اپریل 2023 میں شروع ہوئے تھے اور شروع میں بڑے پیمانے پر پرامن تھے،لیکن وہ جلد ہی پرتشدد ہو گئے۔

    اور عیسائیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہاں تک کہ میتی سے تعلق رکھنے والے گرجا گھروں پر بھی ہندو انتہا پسندوں نے حملہ کیا، اور کچھ انتہا پسند گروہ مییٹی کمیونٹیز میں گھر گھر جا کر مطالبہ کرتے رہے کہ ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے یسوع میں اپنا عقیدہ ترک کر دیں۔

    سیان نے تشدد کے مذہبی عنصر کو پہلے ہاتھ سے دیکھا وہ پانچ سو سے زیادہ شدت پسندوں کے ہجوم کی وضاحت کرتا ہے، جو چرچ کی املاک کو نشانہ بناتا ہے اور نظر آنے والی ہر چیز کو توڑ دیتا ہے "انہوں نے بائبلوں کو جلایا اور مسیحی برادری کو گالی دی”انہوں نے گھروں پر چھاپے مارے اور گرجا گھروں کو جلایا، عیسائی باشندوں کو ان کے گھروں سے نکالنے پر مجبور کیا میرے خیال میں یہ انتہا پسندوں کی طرف سے منی پور ریاست سے عیسائیوں کو ختم کرنے کے لیے ایک جان بوجھ کر حملہ تھا، کیونکہ چرچ کی عمارتوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا تھا-

    سیان اور اس کا خاندان بھی کوکی ہے اس لیے انہیں دوہرا خطرہ تھا وہ اور اس کے خاندان کو معلوم تھا کہ انہیں آسانی سے قتل کیا جا سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’اگر وہ ہمیں مل جاتے تو وہ یقیناً ہم میں سے ہر ایک کو اور ہمارے بچوں کو قتل کر دیتے۔‘‘

    سیان اور اس کا خاندان درحقیقت اس وقت الگ ہو گیا جب حملہ شروع ہوا، جس سے خطرے کی ایک اور تہہ بڑھ گئی”جب حملہ شروع ہوا، میں اپنے گھر سے دور تھا، ایک مختلف گاؤں میں چرچ کے کچھ ممبروں کی خدمت کر رہا تھا، اس بات سے بے خبر تھا کہ کیا ہو رہا ہے کیونکہ حملہ آور اس جگہ نہیں پہنچے تھے، وہ اس جگہ پہنچ گئے جہاں میں تھا، بہت بعد میں۔

    وہ کہتا ہے "مجھے اپنی بیوی کا فون آیا، اور میں یہ جان کر حیران رہ گیا کہ ایک ہجوم ہمارے پڑوس میں پہنچ گیا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ تباہ کر رہا ہے؛ وہ ہمارے بچے کے ساتھ بستر کے نیچے چھپی ہوئی تھی اس مختصر گفتگو کے بعد، اس نے اپنا فون بند کر دیا کیونکہ اسے حملہ آوروں سے ڈر لگتا تھا جو ممکنہ طور پر آس پاس تھے۔”

    جیسے ہی منی پور میں گرجا گھروں کو جلایا گیا اور عیسائی خواتین کو چھین لیا گیا، بی جے پی نے منہ موڑ کر دیکھا، مودی حکومت خاموش تماشائی بنی ہی پولیس خاموش کھڑی رہی، ہجوم نے اپنے جرائم کی فلم بندی کی، اور مسیحی حقوق اکثریت کے حوالے کر دیے گئے۔

    منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ، جو کہ خود میتی برادری سے تعلق رکھتے ہیں، نے مجرموں کو کڑی سزائیں، بشمول سزائے موت، دینے کا وعدہ کیا ہے۔ مگر جب اس تنازع پر ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’میں اس میں نہیں پڑنا چاہتا، میرا کام امن قائم کرنا اور شرپسندوں کو سزا دینا ہے۔‘

  • کوشش کر رہے ہیں بانی پی ٹی آئی کے کیسز لگیں اور میرٹ پر فیصلے ہوں،بیرسٹر گوہر

    کوشش کر رہے ہیں بانی پی ٹی آئی کے کیسز لگیں اور میرٹ پر فیصلے ہوں،بیرسٹر گوہر

    اسلام آباد:چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ مجھے امید ہےبانی پی ٹی آئی عمران خان عید سے پہلے رہا ہوں گے،ہم کوشش کر رہے ہیں بانی پی ٹی آئی کے کیسز لگیں اور میرٹ پر فیصلے ہوں-

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں سینیٹر شبلی فراز کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ورکرز اپنے جذبات قابو میں رکھیں، ہم بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں ہم نے دھرنے اور احتجاج بھی کیے، ہم اسمبلی میں بھی بات کر رہے ہیں۔

    بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے ورکرز کے سوالات اٹھانا ٹھیک ہے، ورکرز کے جذبات کی قدر کرتے ہیں، کوئی بھی یہ تصور نہیں کر سکتا ہے عمران خان نے دو سال جیل میں کیوں گزارے بانی پی ٹی آئی کا کہنا ہے اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اللہ سے مدد مانگتے ہیں ہر مشکل میں اللہ سے مدد مانگتے ہیں اور اللہ راستہ نکالے گا دو سالوں سے ہمارے لوگ بردا شت کرتے کرتے تھک گئے اور ججز بھی فیصلہ لکھتے لکھتے تھک گئے ہیں، ہم کوشش کر رہے ہیں بانی پی ٹی آئی کے کیسز لگیں اور میرٹ پر فیصلے ہوں۔

    دنیا پاکستان کی معاشی بہتری کی رفتار پر حیران ہے،محمد اورنگزیب

    شبلی فراز کا کہنا تھا کہ قائم مقام چیف جسٹس نے ہمارے بیرسٹر گوہر اور لطیف کھوسہ کو کمٹمنٹ کی تھی کہ رواں ہفتے عمران خان کی درخواستیں مقرر ہونی ہے، قائم مقام چیف جسٹس نے وعدہ کیا ہے کسی عام آدمی نے نہیں اور قائم مقام چیف جسٹس کے وعدے میں کوئی بات تو ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ کسی کے لیے انصاف کے دروازے بند ہونے سے عدم استحکام ہوگا، سائل عدالت میں انصاف لینے آتے ہیں اور اگر سائل کو انصاف فراہم نہ کیا جائے تو یہ زیادتی ہے ہم آئین اور قانون پر یقین رکھتے ہیں، ہم پریشر ڈالنے کے لیے آتے رہیں گے 26 ویں آئینی ترمیم پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی مرہون منت ہے، دونوں جماعتوں نے اپنی سیاست تباہ کر دی ہے، عمران خان کی رہائی ہوتے ہی ان دونوں کی حکومت ختم ہو جائے گی۔

    فرانسیسی صدر کو اہلیہ نے میڈیا کے سامنے جہاز کے اندر تھپڑ مار دیا

  • دنیا پاکستان کی معاشی  بہتری کی رفتار پر حیران ہے،محمد اورنگزیب

    دنیا پاکستان کی معاشی بہتری کی رفتار پر حیران ہے،محمد اورنگزیب

    اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ دنیا پاکستان کی معاشی بہتری کی رفتار پر حیران ہے، سول ملٹری تنخواہوں کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا جب کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے ریلیف کے لیے کام کر رہے ہیں۔

    اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نےکہا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اندرون اوربیرون ممالک پاکستان کے دوطرفہ اورکثیرالجہتی شراکت داروں، دوست ممالک کے وزرائے خزانہ، اورسرمایہ کاروں سے ان کی ملاقاتیں ہوئیں ان ملاقاتوں سے ہمیں دوواضح پیغامات ملے ہیں، پہلا یہ کہ دوطرفہ اورکثیرالجہتی شراکت دار، دوست ممالک کے وزرائے خزانہ، اورسرمایہ کارپاکستان کی اقتصادی ومعاشی بہتری اورکلی معیشت کے استحکام سے مطمئن ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا پاکستان کی معاشی بہتری کا اعتراف کررہی ہے اور معاشی بہتری کی رفتار پر حیران ہے واشنگٹن اور لندن میں سرمایہ کاروں سے ملاقاتوں میں معیشت پرمثبت رد عمل آیا، دنیا پاکستان کے مائیکرو اکنامک استحکام سے مطمئن ہے جب کہ حکومت طویل المدتی اصلاحات کے لیے پُرعزم ہے۔

    بلال بن ثاقب وزیراعظم کے معاونِ خصوصی مقرر

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ ٹیکس نظام اور توانائی سمیت دیگر شعبوں میں اصلاحات لائی جارہی ہیں، معیشت میں ٹیکنالوجی ٹرانسفارمیشن کی طرف جا رہے ہیں، ایف بی آر میں ڈیجیٹائزیشن کا عمل جاری ہے جس کے تحت ایف بی آر میں انسانی مداخلت کم ہونے سے شفافیت آئےگی۔

    انہوں نے کہا کہ ٹیکس میں کمی کیلئے اقدامات کررہے ہیں، حکومت تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس جمع کرانے کا عمل آسان بنانے کا ارادہ رکھتی ہے، تنخواہ دار طبقے کے پیسے اکاؤنٹ میں آتے ہی ٹیکس کٹوتی ہو جاتی ہے، بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے ریلیف کے لیے کام کر رہے ہیں، پنشن اصلاحات پر بھی کام کررہےہیں۔

    فرانسیسی صدر کو اہلیہ نے میڈیا کے سامنے جہاز کے اندر تھپڑ مار دیا

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ کم ہونے کی توقع ہے، اگلے سال ڈیٹ مینجمنٹ سسٹم کی بہتری کے لیے اقدامات اٹھائیں گے، 400 ارب کی معیشت بننا پاکستان کے لیے اچھی پیش رفت ہے موسمیاتی تبدیلی ایک بڑا چیلنج ہےاور اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اصلاحات کررہےہیں۔

    انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبہ میں اویس لغاری اورعلی پرویز ملک کام کررہے ہیں، ایس اوایز میں اصلاحات کاعمل بھی جاری ہے،24اداروں کو نجکاری کیلئے نجکاری کمیشن کے سپرد کردیا گیا ہے، یہ ایسا شعبہ ہے جس میں گزشتہ سال ہماری کارگردگی بہترنہیں رہی، مشیرمحمدعلی کی قیادت میں اس عمل کوتیز کیاجارہاہے، پی آئی اے کی نجکاری کاعمل دوبارہ شروع کیا گیاہے، تین ڈسکوز کی نجکاری ہورہی ہے۔

    بنگلہ دیش سے دلہنوں کی خریدوفروخت،چین نے شہریوں کو خبردار کر دیا

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ کاعمل مرحلہ وارجاری ہے، پنشن اصلاحات پرعمل درآمد ہوچکا ہے، حکومت مالیاتی نظم وضبط لارہی ہے، جاری مالی سال کے دوران قرضوں کی واپسی میں ایک ٹریلین روپے کی کمی ہوئی ، آئندہ مالی سال کے دوران ڈیبٹ منیجمنٹ آفس کو جدید خطوط پراستوارکیا جائے گا۔اس کیلئے مختلف ماڈلز کاتجزیہ کیاجارہاہے۔

    انہوں نے کہاکہ پاکستان کی مسلح افواج اورسیاسی قیادت نے حالیہ بھارتی جارحیت کابھرپورمقابلہ کیاہے، پوری قوم نے پاکستان کی فتح پرخوشی کااظہارکیا، ہم نے تناؤکے ماحول میں بھی ان امورکو آگے بڑھایاہے، ملک تب ترقی کرے گا جب ٹیکس کے اہل افراد اپنا ٹیکس بروقت اداکریں گے، جس طرح بھارتی جارحیت کے دوران اتقاق اوراتحاد کامظاہرہ کیاگیاتھا ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشی محاذ پربھی اسی اتفاق واتحاد کامظاہرہ کیا جائے۔

    سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں،جسٹس جمال مندوخیل

  • بلال بن ثاقب وزیراعظم کے معاونِ خصوصی مقرر

    بلال بن ثاقب وزیراعظم کے معاونِ خصوصی مقرر

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے بلال بن ثاقب کو معاونِ خصوصی برائے بلاک چین و کرپٹو مقرر کر دیا۔

    وزارت خزانہ کی جانب سے اعلامیہ جاری کر دیا جس کے مطابق بلال بن ثاقب کو وزیرِ مملکت کا درجہ دیا گیا ہے،پاکستان کرپٹو پالیسی میں رہنمائی کے لیے نوجوان قیادت کو آگے لے آیا، پاکستان کا کرپٹو اور بلاک چین میں عالمی قیادت کا عزم ہے۔ بلال بن ثاقب پاکستان کرپٹو کونسل کے چیف ایگزیکٹو بھی ہیں۔

    پاکستان کرپٹو کونسل نے ڈبلیو ایل ایف سے تاریخی معاہدہ کیا۔ کرپٹو صارفین کی تعداد 4 کروڑ سے تجاوز کر گئی اور سالانہ ٹریڈنگ 300 ارب ڈالر ہے پاکستان ویب تھری، بٹ کوائن مائننگ اور بلاک چین میں ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ نوجوان قیادت ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان کا مستقبل سنوارنے کو تیار ہے۔

  • فرانسیسی صدر کو اہلیہ نے میڈیا کے سامنے جہاز کے اندر تھپڑ مار دیا

    فرانسیسی صدر کو اہلیہ نے میڈیا کے سامنے جہاز کے اندر تھپڑ مار دیا

    فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کو بیوی نے تھپڑ مار دیا۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ویتنام کے دورے کیلئے صدر میکرون کا طیارہ رن وے پر اترا تو صدارتی طیارے کے دروازے پر فرانسیسی صدر کسی سے الجھتے نظر آئےاس دوران کسی نے صدر میکرون کو تھپڑ مار دیا،صدر میکرون کو تھپڑ مارنے والا ہاتھ ان کی اہلیہ کا تھا، ویڈیو میں صدر میکرون کو دکھایا گیا ہے کہ وہ بریجیٹ میکرون، جو سرخ لباس میں ملبوس ہیں، تھپڑ مار رہی ہیں، جبکہ دیگر افراد یونیفارم میں موجود ہیں۔

    فرانسیسی حکام نےپہلے واقعے کی تردید کی،پھر مذاق میں کی گئی حرکت قرار دی، او ر ایک جوڑے کی معمولی "چھوٹی چھوٹی بحث” قرار دیا، ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہورہی ہے،یہ واقعہ عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا اور میڈیا میں چھا گیاہے۔

  • بنگلہ دیش سے دلہنوں کی خریدوفروخت،چین نے شہریوں کو خبردار کر دیا

    بنگلہ دیش سے دلہنوں کی خریدوفروخت،چین نے شہریوں کو خبردار کر دیا

    بنگلہ دیش میں موجود چینی سفارتخانے نے چینی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ غیر قانونی سرحد پار شادیوں سے گریز کریں اور آن لائن رشتوں اور میچ میکنگ اسکیموں سے ہوشیار رہیں۔

    اتوار کے روز ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے سفارتخانے نے چینی شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ مختصر ویڈیو پلیٹ فارمز پر دکھائے جانے والے ”بین الاقوامی ڈیٹنگ“ کے گمراہ کن مواد کے دھوکے میں نہ آئیں، اور نہ ہی کسی غیر رسمی نیٹ ورک یا کمرشل میچ میکنگ ایجنسیز کے ذریعے غیر ملکی خواتین کی تلاش کریں، کیونکہ ایسا کرنا چینی قانون کے تحت سخت ممنوع ہے غیر ملکی دلہنوں کی خریدوفروخت کے ارادوں کو مسترد کریں اور بنگلہ دیش میں شادی کرنے سے قبل اچھی طرح سوچ بچار کریں۔

    بنگلہ دیشی اخبار دی ڈیلی اسٹار کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بنگلہ دیشی خواتین کو مبینہ طور پر چین میں شادی کے بہانے فروخت کیا جا رہا ہے، اور ان کارروائیوں کے پیچھے کئی مجرمانہ گروہ سرگرم ہیں چینی سفارتخانے کے مطابق ان میں سے زیادہ تر شادیاں غیر قانونی یا استحصالی ذرائع سے انجام پاتی ہیں جن کے نتیجے میں سنگین قانونی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

    سفارتخانے نے خبردار کیا کہ چینی قانون کے مطابق کسی بھی شادی کی ایجنسی (Marriage Agencies) کو بین الاقوامی رشتوں کو فروغ دینے یا ان کی آڑ میں کام کرنے کی اجازت نہیں ہے، اور افراد کے لیے بھی اس قسم کی سرگرمیوں سے منافع کمانا یا فریب کے ذریعے شادیاں کروانا ممنوع ہے سفارتخانے نے شادی کے فراڈ کا شکار ہونے والے افراد پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر چین کے عوامی سلامتی کے اداروں کو اطلاع دیں، بنگلہ دیش میں غیر قانونی بین الاقوامی شادیاں کرنے والے افراد کو انسانی اسمگلنگ کے الزامات کے تحت گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

  • اسرائیلی فوج کا غزہ کے 77 فیصد حصے پر قبضہ،  مزید 30 فلسطینی شہید

    اسرائیلی فوج کا غزہ کے 77 فیصد حصے پر قبضہ، مزید 30 فلسطینی شہید

    اسرائیل نے غزہ پٹی کے 77 فیصد حصے پر قبضہ کر لیا، بمباری سے مزید 30 فلسطینی شہید ہو گئے۔

    غزہ میڈیا آفس کے مطابق اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی کے 77 فیصد علاقے پر قبضہ کر چکی ہے، یہ قبضہ براہ راست زمینی دراندازی کے ذریعے فلسطینی شہریوں کو ان کے گھروں، علاقوں، زمینوں اور املاک تک رسائی سے روک کر کیا گیا ہے،جس کے باعث بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہونے لگی۔

    غزہ کے پناہ گزین اسکول پر اسرائیل کے فضائی حملے میں 25 فلسطینی شہید ہوگئے جن میں حلال احمر کے دو کارکن ، ایک صحافی اور 11 سالہ انفلوئنسر سمیت متعدد بچے شہدا میں شامل ہیں،صحافی ابو وردہ کی شہادت کے بعد شہید فلسطینی صحافیوں کی تعداد 220 ہو گئی۔

    عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل نے غزہ کے پناہ گزین کیمپوں اور خیمہ بستی کو نقصان پہنچایا شہدا کی مجموعی تعداد 54 ہزار سے تجاوز کر گئی غزہ کے حکام نے عالمی برادری سے اسرائیلی جنگی جرائم رکوانے کا فوری مطالبہ کیا ہے۔

    دوسری جانب کونسل آ ف امریکن اسلامک ریلیشنز نے غزہ میں صحافی اور اہلِ خانہ کی شہادت کی مذم کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی اورعالمی میڈیا اسرائیل کے ہاتھوں قتل پر خاموش ہے۔

    ادھر یمن کے حوثیوں نے ایک بار پھر اسرائیل کے بین گوریون ایئرپورٹ پر میزائل حملہ کیا جس پر اسرائیلی فوج نے میزائل کو ہوا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کردیا۔

  • بھارتی بندرگاہ پر الٹنے والےکارگو جہاز سے خطرات میں اضافہ ، شہر میں الرٹ جاری

    بھارتی بندرگاہ پر الٹنے والےکارگو جہاز سے خطرات میں اضافہ ، شہر میں الرٹ جاری

    بھارتی ریاست کیرالا کے ساحل کے قریب ڈوبنے والے لائبیریا کے کارگو جہاز سے وابستہ خطرات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ جہاز کے کنٹینرز اب ساحل پر بہہ کر آنا شروع ہو گئے ہیں۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ”MSC ELSA 3“ نامی کارگو جہاز میں شدید جھکاؤ (26 ڈگری اسٹار بورڈ لسٹ) پیدا ہوا، جس کے بعد ہفتے کے روز جہاز کے تمام 24 عملے کے افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ ان میں ایک روسی، 20 فلپائنی، دو یوکرینی اور ایک جارجیائی شامل تھا۔

    کیرالا حکومت نے ممکنہ تیل کے اخراج اور خطرناک کیمیکل کے رساؤ کے خطرے کے پیش نظر ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے کیونکہ جہاز میں خطرناک مواد، 84 میٹرک ٹن ڈیزل اور 367 میٹرک ٹن فرنس آئل موجود تھا۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ جہاز پر کیلشیم کاربائیڈ بھی لدا ہوا تھا، جو سمندری پانی سے ردعمل دے کر ماحولیاتی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔

    سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں،جسٹس جمال مندوخیل

    انڈین کوسٹ گارڈ نے بتایا کہ ان کے جدید آئل اسپل ڈیٹیکشن سسٹم سے لیس ہوائی جہاز مسلسل فضائی نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ ”آئی سی جی ساکشَم“ نامی بحری جہاز ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے کے سازوسامان کے ساتھ جائے وقوعہ پر موجود ہے۔

    مقامی پولیس کے مطابق، کولم ضلع کے جنوبی ساحل پر جہاز کے کنٹینرز آنا شروع ہو گئے ہیں ابتدائی طور پر کم از کم چار کنٹینرز کی موجودگی کی تصدیق ہو چکی ہے، تاہم حتمی تعداد معلوم نہیں ہو سکی حکام نے عوام کو سختی سے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی انجان چیز کو ہاتھ نہ لگائیں اور ساحلی علاقے سے دور رہیں۔

    بلاول عوامی مینڈیٹ سے پاکستان کے اگلے نوجوان وزیراعظم ہوں گے، صدر زرداری

    یہ واقعہ بھارت کے ساحلی علاقوں کے لیے ایک بڑا ماحولیاتی خطرہ بن چکا ہے، جس پر کوسٹ گارڈ، نیوی اور ریاستی ادارے مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر تیل یا کیمیکل کا اخراج ہوا تو یہ ماحولیاتی نظام، سمندری حیات اور انسانی صحت کے لیے سنگین نتائج لا سکتا ہے۔

  • سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں،جسٹس جمال مندوخیل

    سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظر ثانی کیس کی براہ راست سماعت جاری ہے،عدالتی کارروائی براہ راست سپریم کورٹ یوٹیوب چینل پر دکھائی جا رہی ہے-

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 11 رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے، جبکہ درخواست گزار کی جانب سے وکیل مخدوم علی خان دلائل دے رہے ہیں ،سماعت کے دوران جسٹس مسرت ہلالی نے سوال اٹھایا کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں پر کیسے دعویٰ کیا؟ انہوں نے استفسار کیا کہ سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) کو مخصوص نشستیں کیسے مل سکتی ہیں؟ پارلیمنٹ میں آنے والی جماعت میں آزاد امیدوار شامل ہو سکتے ہیں، لیکن جو پارلیمنٹ میں نہ ہو اس میں کیسے آزاد لوگ شامل ہو سکتے ہیں؟-

    جس پر وکیل مخدوم علی خان نے مؤقف اختیار کیا کہ ایس آئی سی کے مطابق آزاد امیدواران ان کے ساتھ شامل ہو گئے تھے، جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ کیا سنی اتحاد کونسل نے انتخابات میں حصہ لیا تھا؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ سنی اتحاد کونسل نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا، جبکہ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے خود آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں ،سنی اتحاد کونسل پارلیمانی پارٹی بنا سکتی تھی، لیکن مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آزاد اراکین نے جیتی ہوئی پارٹی میں شامل ہونا تھا۔

    وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیئے کہ مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین کو ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا، جبکہ ارکان کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے قبل نوٹس نہیں دیا گیا، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکیشن کو کالعدم قرار دیا تھا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت کے سامنے سنی اتحاد کونسل آرٹیکل 185/3 میں آئی تھی، اور عدالت کے سامنے الیکشن کمیشن کا نوٹی فیکیشن تھا۔

    مخدوم علی خان نے مؤقف اپنایا کہ نوٹیفیکیشن سے اگر کوئی متاثرہ ہوتا تھا تو عدالت کو نوٹس کرنا چاہیے تھاعدالتی فیصلے میں آرٹیکل 225 کا ذکر تک نہیں ہے، حالانکہ آرٹیکل 225 کے تحت کسی الیکشن پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا، جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال کیا کہ آرٹیکل 225 کا اس کیس میں اطلاق کیسے ہوتا ہے؟ –

    جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے وضاحت کی کہ یہ معاملہ مخصوص نشستوں کا ہے، اور مخصوص سیٹیں متناسب نمائندگی پر الاٹ ہوتی ہیں، مخدوم علی خان نے کہا کہ مخصوص نشستوں کی فہرستیں الیکشن سے قبل جمع ہوتی ہیں، اور کاغذات نامزدگی پر غلطی کی صورت میں معاملہ ٹریبونل کے سامنے جاتا ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر آپ کی دلیل مان لیں تو پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار نہیں تھا مخدوم علی خان نے کہا کہ اس وقت تک مخصوص ارکان کے نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوئے تھےعدالتی فیصلے موجود ہیں کہ آئین و قانون سے برعکس فیصلہ ناقص ہوگا، اور عدالت کی ذمہ داری ہے کہ اس غلطی کو درست کیا جائے۔

    جسٹس مندوخیل نے استفسار کیا کہ اگر اکثریتی ججز یہ سمجھیں کہ فیصلہ درست ہے اور نظرثانی درست ہے تو ایسی صورت میں کیا ہوگا؟ جس پر مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ ایسی صورت میں نظرثانی مسترد ہو جائے گی۔

    جسٹس شاہد بلال نے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کے کیس میں فریق تھی؟ اور کیا جو جماعت فریق نہ ہو، اسے نشستیں دی جا سکتی ہیں؟ جس پر وکیل مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ جو سیاسی جماعت فریق نہ ہو، اسے نشستیں نہیں مل سکتیں، وکیل مخدوم علی خان کے مطابق جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی اس کیس میں فریق نہیں تھی۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اُس وقت الیکشن کمیشن کے کردار کو ہم نے دیکھنا تھا میرے مطابق الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی تھی، نشستیں دینا نہ دینا اور مسئلہ ہے، اصل میں الیکشن کمیشن کا کردار دیکھنا تھا۔

    عدالت نے مشاہدہ کیا کہ 39 لوگوں کو پی ٹی آئی کا ڈکلیئر کر کے نشستیں دینے کا کہا گیا تھا جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کوئی فارمولا نہیں تھا کہ درمیان کا راستہ چنا جائے میں نے ساری رات جاگ کر دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لیا عدالت نے بتایا کہ پارٹی سرٹیفکیٹ اور پارٹی وابستگی کے خانے میں 39 لوگوں نے پی ٹی آئی لکھا۔

    جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ یہ ریکارڈ عدالت کے سامنے نہیں تھا، تاہم جسٹس مندوخیل نے وضاحت دی کہ یہ ریکارڈ عدالت کی جانب سے الیکشن کمیشن سے مانگا گیا تھا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ فیصلے میں 39 لوگوں کو تحریک انصاف کا ڈکلیئر کیا گیا جبکہ 41 لوگوں کو وقت دیا گیا کہ وہ 15 روز میں کسی سیاسی جماعت کو جوائن کریں۔

    مخدوم علی خان نے کہا کہ اکثریتی فیصلے میں لکھا گیا کہ اس عدالت کے سامنے تکنیکی نوعیت کی غلطی رکاوٹ نہیں بنے گی، یہ عدالت مکمل انصاف کا اختیار کرتے ہوئے نشستیں پی ٹی آئی کو دیتی ہے، اسی وجہ سے جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم افغان نے لکھا کہ تحریک انصاف ہمارے سامنے فریق نہیں-

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ میرے مطابق الیکشن کے دوران پریذائیڈنگ افسران نے آئین کے تحت اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی،ہمارے سامنے آئی اپیل انتخابات میں غلطیوں کا تسلسل تھی،ہم نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ لوگوں کو حق رائے دہی سے محروم نہیں رکھا جاسکتا، کوئی ہمارے سامنے ہو یا نہیں پریذائیڈنگ افسران کی غلطی عوام کو کیسے دی جاسکتی ہے؟پریذائیڈنگ افسران نے فارم 33 درست طریقے سے نہیں بنائے-ٕ

    ، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے لکھا کہ مکمل اختیار اہم معاملہ ہے احتیاط سے استعمال کیا جائے،مخدوم علی خان نے کہا کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے لکھا کہ مکمل انصاف کا اختیار ڈیو پراسس کو ختم کرسکتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ انتخابی نشان نہ ہونے سے سیاسی جماعت ختم نہیں ہوتی،سیاسی جماعت الیکشن نہیں لڑتی امیدوار لڑتے ہیں، انتخابی نشان عوام کی آگاہی کیلئے ہوتاہے انتخابی نشان نہ ہونے سے کسی کو انتخابات سے نہیں روکا جاسکتا،سنی اتحاد کونسل کے بجائے آزاد امیدوار اگر پی ٹی آئی میں رہتے تو آج مسئلہ نہ ہوتا،نی اتحاد کونسل اپنے انتخابی نشان پر الیکشن لڑتی تو پھر بھی مسئلہ نہ ہوتا-

    مخدوم علی خان نے کہا کہ اکثریتی فیصلے میں مکمل انصاف کیساتھ نظریہ آئینی وفاداری بھی استعمال کیا گیا،آئین سے وفاداری کے نظریہ کی بات جذباتی لگتی ہے،جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ کیا پشاور ہائیکورٹ یا الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی نے نوٹیفکیشن چیلنج کیے-

    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی نے نوٹیفکیشن چیلنج نہیں کیے تھے،مخصوص نشستوں کے اکثریتی فیصلے میں آئین کو دوبارہ تحریر کیا گیا،نظرثانی درخواستیں منظور کی جائیں،نظرثانی کیس میں عدالت اپنی رائے تبدیل کر سکتی ہے-

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا میں مخصوص نشستوں کے کیس کا اپنا فیصلہ بدل سکتا ہوں،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ بالکل آپ اپنی رائے بدل سکتے ہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ پٹھان کی ایک زبان ہوتی ہے،مخدوم علی خان نے کہا کہ زبان ایک ہوتی ہے مگر رائے تو بدل سکتے ہیں، وکیل مخدوم علی خان کے دلائل مکمل ہوئے-

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اپنے تحریری دلائل جمع کرا چکے ہیں،وکیل مسلم لیگ ن کہا کہ ہم نے بھی تحریری دلائل جمع کرا دیئے ہیں، وکیل پیپلزپارٹی نے کہا کہ پیپلزپارٹی کل تحریری دلائل جمع کرا دے گی،

    وکیل سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ تحریری جوابات جمع کرا کے یہ جواب الجواب کا حق ختم کر چکے ہیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم جواب الجواب دیں گے-

    جسٹس امین الدین نے کہا کہ یہ عدالت نے طے کرنا ہے کہ جواب الجواب کا حق دینا ہے یا نہیں، کل سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی دلائل دیں گے-

    مخدوم علی خان کے دلائل مکمل ہو ئے الیکشن کمیشن نے تحریری معروضات عدالت میں پیش کر دی ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ
    تحریری معروضات ہی ہمارا موقف ہوگا

    ن لیگ اور پیپلز پارٹی بھی کل اپنی تحریری معروضات پیش کریگی مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کل ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی ہوئی کل سُنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی دلائل کا آغاز کرینگے-