Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • ٹرمپ کے پروجیکٹ فریڈم’ کو ایران نے  ’پروجیکٹ ڈیڈلاک‘ قرار دیا

    ٹرمپ کے پروجیکٹ فریڈم’ کو ایران نے ’پروجیکٹ ڈیڈلاک‘ قرار دیا

    ‘پروجیکٹ فریڈم’ (Project Freedom) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں پھنسے تجارتی جہازوں کو نکالنے اور بحری راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے شروع کیا گیا ایک نیا فوجی اور سفارتی اقدام ہے، تاہم ایران نے اس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔

    امریکی ٹی وی چینل ’سکائی نیوز‘ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کے لیے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے نام سے ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت امریکی فوجی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں، صدر ٹرمپ کے مطابق اس آپریشن کا آغاز گزشتہ روز صبح کیا گیا، جس کا مقصد خطے میں تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا ہے۔

    دوسری جانب ایران نے اس منصوبے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’پروجیکٹ ڈیڈلاک‘ قرار دیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری بحران کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں۔

    ایرانی ردعمل کے باوجود امریکی فوج نے منصوبے پر عمل درآمد جاری رکھتے ہوئے اس کی مزید تفصیلات بھی جاری کی ہیں امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس آپریشن میں 100 سے زائد زمینی اور بحری فضائی اثاثے شامل ہیں، جن میں ایف-16 لڑاکا طیارے بھی شامل ہیں، اس مشن کے تحت 15 ہزار امریکی فوجی تعینات کیے جائیں گے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ جدید جنگی پلیٹ فارمز دفاعی نوعیت کے اس آپریشن کے دوران امریکی افواج کے تحفظ کے ساتھ ساتھ تجارتی جہازوں کے دفاع میں بھی کردار ادا کر رہے ہیں یہ اقدام خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں کیا گیا ہے، تاکہ عالمی تجارت کے اہم سمندری راستے کو محفوظ بنایا جا سکے۔

  • ایران کی یو اے ای پر حملوں کی تردید

    ایران کی یو اے ای پر حملوں کی تردید

    ایران نے پیر کو متحدہ عرب امارات پر ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

    قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق، ایرانی ریاستی میڈیا سے وابستہ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کا متحدہ عرب امارات پر حملے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا اور یہ واقعات دراصل امریکا کی ’فوجی مہم جوئی‘ کا نتیجہ ہیں ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ جب بھی ایران نے کوئی کارروائی کی ہے، اس کی ذمہ داری کھل کر قبول کی ہے، لیکن اس بار ایسا کچھ نہیں ہوا۔

    تاہم، نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ نے رپورٹ کیا کہ ایرانی فوجی عہدیدار نے وارننگ دی ہے کہ اگر امارات نے کوئی ’غیر دانشمندانہ‘ قدم اٹھایا تو اس کے تمام مفادات ایران کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے پیر کے روز ملک پر میزائلوں اور ڈرونز سے بڑا حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں فجیرہ کی ریا ست میں ایک آئل ریفائنری میں آگ لگ گئی اور تین بھارتی شہری زخمی ہو گئے متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کے مطابق ان کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی طرف سے فائر کیے گئے 12 بیلسٹک میزائلوں، 3 کروز میزائلوں اور 4 ڈرونز کو فضا میں ہی روکا۔

    یہ حملے 8 اپریل کو ہونے والی جنگ بندی کی پہلی بڑی خلاف ورزی ہیں یہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو اپنی نگرانی میں نکالنے کا اعلان کیا، جس پر ایران نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ وہ اپنی سمندری حدود میں ایسی کسی نقل و حرکت کی اجازت نہیں دے گا۔

  • وزیر اعظم  کا  ترکیہ میں  تباہ کن سیلاب سے نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

    وزیر اعظم کا ترکیہ میں تباہ کن سیلاب سے نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ترکیہ کے مختلف صوبوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں شہباز شریف نے حکومتِ پاکستان اور عوام کی جانب سے سیلاب سے دوچار ترک عوام سے دلی ہمدردی اور ہلاکتوں پر تعزیت کا بھی اظہار کیا ہے کہا کہ رجب طیب اردوان اور ترکیہ کے برادر عوام کے ساتھ اس مشکل گھڑی میں مکمل یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے۔

    بیان میں متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی دعائیں اور نیک تمنا ئیں اس قدرتی آفت سے متاثر ہونے والے تمام افراد کے ساتھ ہیں،پاکستان اس آزمائش کی گھڑی میں ترکیہ کے ساتھ کھڑا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو امدادی اور بحالی کی کوششوں میں ہر ممکن انسانی اور مادی تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

    واضح رہے کہ ترکیہ میں سیلاب اور خراب موسم کے باعث غازی انتیپ، شانلی اورفہ اور آدی یمان ملحقہ علاقوں میں قیمتی انسانی جانوں اور املاک کا نقصان ہوا ہے-

  • سندھ حکومت نے موٹر سائیکل فیول سبسڈی پروگرام میں 31 مئی تک توسیع کردی

    سندھ حکومت نے موٹر سائیکل فیول سبسڈی پروگرام میں 31 مئی تک توسیع کردی

    سندھ حکومت نے پیپلز موٹر سائیکل فیول سبسڈی پروگرام میں 31 مئی تک توسیع کرتے ہوئے اس مد میں 2 ارب روپے جاری کرنے کی ہدایت کی۔

    وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی زیر صدارت منعقدہ صوبائی کابینہ کے اہم اجلاس میں ترقیاتی منصوبوں، شہری سہولیات اور انتظامی اصلاحات سے متعلق متعدد بڑے فیصلوں کی منظوری دی گئی کابینہ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اب تک 5 لاکھ 48 ہزار سے زائد افراد اس پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں جبکہ 1.096 ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔

    ترجمان سندھ حکومت کے مطابق، موٹر سائیکل کیب سروسز کے لیے سیلز ٹیکس 5 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد کر دیا گیا، جس سے آن لائن ڈرائیورز کو ریلیف ملے گااسی طرح کابینہ نے کراچی میں سڑکوں کی بحالی کے لیے 6.5 ارب روپے کی منظوری دیتے ہوئے مرمت کا کام فوری شروع کرنے اور فنڈز جلد جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    کابینہ اجلاس میں دریائے سندھ پر حیدرآباد اور کوٹری کے درمیان نئے پل کے ڈیزائن کی بھی منظوری دی، جس کے بارے میں وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ یہ پل اندرونِ ملک ٹریفک کی روانی بہتر بنانے اور سفری سہولت میں اضافے کا باعث بنے گا،عدالتی نظام کی بہتری کے لیے اہم اقدامات کرتے ہو ئے ضلعی عدالتوں کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے 48.9 ملین روپے مختص کیے گئے جبکہ مورو میں 4 نئی عدالتوں کی تعمیر کے لیے 432.597 ملین روپے کی منظوری دی گئی۔

    وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ اقدامات عدالتی نظام کو جدید بنانے اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے، اسی سلسلے میں دادو میں پیر الٰہی بخش لا کالج کے لیے 25 ملین روپے گرانٹ بھی منظور کی گئی۔

    ترجمان سندھ حکومت کے مطابق کابینہ اجلاس میں صحت کے شعبے پر بھی توجہ دیتے ہوئے ہدایت کی گئی کہ سکھر ٹراما سینٹر کو جون 2026 تک فعال بنایا جائے انسداد تجاوزات کے حوالے سے شہید بینظیر آباد ڈویژن میں ٹریبونل کے قیام کی منظوری دی گئی، جو سندھ پبلک پراپرٹی ایکٹ 2010 کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنائے گا۔

    وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ سندھ ہائیکورٹ سے مشاورت کے بعد پریزائیڈنگ آفیسر کی تقرری کا عمل جلد شروع کیا جائے، جبکہ آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں اس کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں گے، کراچی میں میگا قبرستان کے قیام کے لیے 500 ایکڑ زمین مختص کرنے کی منظوری بھی دی گئی یہ زمین ضلع ملیر کے دیہہ میٹھا گھر میں مختص کی جائے گی اور محکمہ بلدیات کے حوالے کی جائے گی۔

    توانائی کے شعبے میں سندھ الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کو فعال بنانے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ فیصل ملک کو ممبر فائنانس اینڈ پالیسی مقرر کرنے کی منظوری بھی دی گئی،اجلاس میں سیس ترمیمی ایکٹ 2026 کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا، جس کے تحت 132 درخواست گزاروں نے تصفیہ معاہدوں پر دستخط کیے جبکہ 18 ارب روپے سے زائد کی بینک گارنٹیز کیش ہو چکی ہیں۔

    انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سندھ پروٹیکشن آف ہیومن رائٹس (ترمیمی) بل 2026 کو اسمبلی کو بھجوا دیا گیا وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ بل کارپوریٹ زیاد تیوں کے خلاف مؤثر اقدامات یقینی بنائے گا اور متاثرین کو فوری انصاف فراہم کرے گا مذکورہ بل کے تحت چیئرپرسن اور اراکین کی مدت 4 سے بڑھا کر 5 سال کر دی گئی ہے اور سابق ججز کو چیئرپرسن مقرر کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔

  • اسلام آباد پولیس کی کارروائی:بین الصوبائی موٹر سائیکل چور گینگ گرفتار

    اسلام آباد پولیس کی کارروائی:بین الصوبائی موٹر سائیکل چور گینگ گرفتار

    اسلام آباد: اینٹی موٹر سائیکل لفٹنگ یونٹ نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے بین الصوبائی موٹر سائیکل چور گینگ کو گرفتار کر لیا۔

    ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق گرفتار گینگ، جسے ’مانو گینگ‘ کہا جاتا ہے، کے 3 ارکان کو لیڈر سمیت حراست میں لیا گیا ہے،ملزمان میں کاشف عر ف مانو، جلال حیدر اور محمد ذیشان شامل ہیں،جو موٹر سائیکل چوری کی متعدد وارداتوں میں ملوث اور سابقہ ریکارڈ یافتہ ہیں ملزمان سے لاکھوں روپے ما لیت کے 13 چوری شدہ موٹر سائیکل، جعلی کرنسی اور اسلحہ و ایمونیشن بھی برآمد کیا گیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والے موٹر سائیکل 10 سے زائد مقدمات میں چوری کیے گئے تھے، یہ گینگ اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں موٹر سائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث رہا ہے ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق کا کہنا ہے کہ پولیس منظم اور متحرک جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اسلام آباد پولیس کی اولین ترجیح ہے۔

  • ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی، 67 فیصد امریکیوں کا عدم پسندیدگی کا اظہار

    ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی، 67 فیصد امریکیوں کا عدم پسندیدگی کا اظہار

    امریکی خبر رساں ادورں ’واشنگٹن پوسٹ‘، ’اے بی سی نیوز‘ اور اپسوس کے مشترکہ سروے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، اور ان کے خلاف عدم پسندیدگی کی شرح 62 سے 67 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

    واشنگٹن پوسٹ-اے بی سی نیوز-ایپسوس کے حالیہ پول کے مطابق، 62 فیصد امریکی ٹرمپ کی صدارت سے غیر مطمئن ہیں، جو ان کے دو ادوارِ صدارت میں سب سے بلند ترین سطح ہے دیگر رپورٹس میں یہ شرح 67 فیصد تک بھی بتائی گئی ہے، ایران کے ساتھ حالیہ جنگی کشیدگی اور معاشی مسائل کے بعد، 66 فیصد امریکیوں نے ایران کے معاملے پر ان کی پالیسی کو ناپسند کیا ہے۔

    رائٹرز/ایپسوس سروے کے مطابق، معاشی محاذ پر بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کی وجہ سے ان کی ریٹنگ میں نمایاں کمی آئی ہے جہاں صرف 23 فیصد امریکی مہنگائی سے نمٹنے کے لیے ان کے اقدامات سے خوش ہیں، جبکہ 76 فیصد نے ان کی معاشی پالیسیوں پر ناگواری کا اظہار کیا ہے سروے میں شامل دو تہائی (تقریباً 66 فیصد) امریکیوں کا ماننا ہے کہ ملک غلط سمت میں جا رہا ہے-

    واشنگٹن پوسٹ-اے بی سی نیوز-ایپسوس کے سروے کے مطابق، 59 فیصد امریکیوں نے ٹرمپ کی ذہنی صلاحیت اور 55 فیصد نے جسمانی صحت کو قیادت کے تقاضوں کے مطابق نامناسب قرار دیا اس سیاسی صورتحال نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کی برتری کو خطرے میں ڈال دیا ہے، 71 فیصد عوام صدر ٹرمپ کو دیانتدار اور قابلِ اعتماد نہیں سمجھتے۔

    انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں بشمول نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو بھی عوامی سطح پر منفی ریٹنگ کا سامنا ہے وزیر دفاع ہیگسیتھ نے حال ہی میں دفاعی بجٹ کو ایک ٹریلین سے بڑھا کر ڈیڑھ ٹریلین ڈالر کرنے کی تجویز پیش کی تھی، جس کی 65 فیصد عوام نے مخالفت کی ہے۔

    سروے کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق انٹیلی جنس تجزیہ کار ایرک بریور نے نوٹ کیا کہ عوامی رائے میں تبدیلی کی ایک وجہ جنگی حالات اور معاشی دباؤ ہے اگرچہ ریپبلکن پارٹی کے اندر اب بھی 65 فیصد اراکین ٹرمپ کی قیادت کی پیروی کرنا چاہتے ہیں، لیکن آزاد ووٹرز میں ان کی مقبولیت میں کمی پارٹی کے لیے آنے والے انتخابات میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہےیہ صورتحال نومبر 2026ء میں ہونے والے وسط مدتی (Midterm) انتخابات سے قبل ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کے لیے شدید سیاسی مشکلات کا پیش خیمہ سمجھی جا رہی ہے-

  • ایرانی بندرگاہ پر کھڑے متعدد تجارتی جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی

    ایرانی بندرگاہ پر کھڑے متعدد تجارتی جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی

    ایران کے جنوبی صوبے بوشہر کی بندرگاہِ دیر (Dayyer Port) میں لنگر انداز متعدد تجارتی بحری جہازوں (لانچوں) میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس سے جہازوں کو شدید نقصان پہنچا ہے –

    ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی ’مہر‘ کے مطابق یہ آگ بندرگاہ کے کمرشل ایریا میں لگی جس سے وہاں موجود تجارتی سامان کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، اس وقت فائر فائٹنگ ٹیمیں آگ پر قابو پانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہیں،واقعے کی وجوہات تاحال نامعلوم ہیں اور کسی جانی نقصان کی فوری اطلاع نہیں ملی۔

    دیر پورٹ کے فائر ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ماجد عمرانی نے بھی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ مہر نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے کے لیے کام کر رہے ہیں فی الحال اس حادثے کی وجوہات سامنے نہیں آ سکی ہیں اور متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی اصل وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہے اس واقعے کی وجہ کا اعلان فائر فائٹنگ آپریشن مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جائے گا۔

    یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران نے متحدہ عرب امارات پر تازہ میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کو حملے شروع کرنے کی دھمکی دی ہوئی ہے۔

  • ایران کی جانب سے سعودی عرب کو متحدہ عرب امارات پر حملے کی دھمکی

    ایران کی جانب سے سعودی عرب کو متحدہ عرب امارات پر حملے کی دھمکی

    وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے سعودی عرب اور عمان کو آگاہ کیا تھا کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو وہ متحدہ عرب امارات کو اپنے جوابی حملوں میں "بھاری نشانہ” بنائے گا۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایرانی حکام نے سعودی حکام کے ساتھ ایک بات چیت میں ریاض اور ابوظہبی کے درمیان موجودہ اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے امارات کو "کچلنے” کی دھمکی دی تھی،ایران نے مبینہ طور پر خلیج تعاون کونسل (GCC) کے ارکان کو یہ پیغام دیا کہ امارات کی جانب سے ایرانی اہداف کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی (بشمول امریکی/اسرائیلی فورسز کو اپنی سرزمین استعمال کرنے دینا) کی صورت میں، یو اے ای کو سخت ترین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    یہ اقدام بظاہر جی سی سی کے اندر، خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی دراڑ کو وسیع کرنے کی ایک کوشش ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے مفادات اب مختلف سمتوں میں جا رہے ہیں۔

    وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، 2026ء کی ایران جنگ نے مشرق وسطیٰ کے جیو پولیٹیکل آرڈر کو بدل دیا ہے، جس میں متحدہ عرب امارات اب روایتی عرب صف بندی کے بجائے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ زیادہ قریب ہو گیا ہے سعودی حکام نے اس دھمکی آمیز زبان کو ناپسند کیا اور وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایران کے ساتھ بات چیت کے ذریعے تعلقات کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ 2026ء کے اوائل میں ہونے والی فوجی کشیدگی کے دوران ایران نے متحدہ عرب امارات کی اہم بندرگاہوں اور تیل کی تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملے بھی کیے، جس سے ان ملکوں کے درمیان شدید تناؤ پیدا ہوا۔

  • وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، مشکوک مسلح شخص زخمی حالت میں گرفتار

    وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، مشکوک مسلح شخص زخمی حالت میں گرفتار

    ’وائٹ ہاؤس‘ کے قریب فائرنگ کا ایک اور واقعہ پیش آیا ہے، جس میں ایک مشکوک مسلح شخص کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔

    امریکی خفیہ ادارے ’سیکرٹ سروس‘ نے پیر کے روز جاری بیان میں بتایا کہ وائٹ ہاؤس کے قریب تعینات اہلکاروں کا ایک مسلح اور مشکوک شخص سے سامنا ہوا جس نے اہلکاروں پر فائرنگ کی اور جوابی کارروائی میں زخمی ہو گیا،اس واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس میں تھوڑی دیر کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا۔

    سیکرٹ سروس کے ڈپٹی ڈائریکٹر میتھیو کوئن نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے بیرونی حصوں پر گشت کرنے والے اہلکاروں نے ایک ایسے شخص کی نشاندہی کی جو مشکوک لگ رہا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس کے پاس اسلحہ ہے جب سیکرٹ سروس کے افسران اس شخص کے قریب پہنچے تو وہ تھوڑی دیر کے لیے پیدل بھاگا اور اس نے اہلکاروں کی سمت میں گولی چلائی، اس کے بعد سیکرٹ سروس نے مشتبہ شخص پر جوابی فائرنگ کی جس سے وہ زخمی ہو گیا اور اسے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    میتھو کوئن نے انکشاف کیا کہ نائب صدر جے ڈی وینس کا قافلہ اس واقعے سے کچھ ہی دیر پہلے اس علاقے سے گزرا تھا، تاہم ابھی تک ایسے کوئی اشار ے نہیں ملے کہ مشتبہ شخص کا ارادہ نائب صدر کے قافلے تک پہنچنا تھا اس واقعے کے دوران ایک کم عمر راہگیر بھی مشتبہ شخص کی گولی کا نشانہ بنا لیکن اسے کوئی جان لیوا چوٹ نہیں آئی اور اس کا اسپتال میں علاج جاری ہے۔

    مشتبہ شخص وائٹ ہاؤس کی حدود کے اندر موجود نہیں تھا بلکہ باہر تھا، حملہ آور کا رخ صدر کی طرف تھا یا نہیں، اس وقت میں نہیں جانتا لیکن ہم جلد ہی اس کا پتہ لگا لیں گے مشتبہ شخص سے اسلحہ برآمد کر لیا گیا ہے۔

  • دبئی اور ابوظہبی کے درمیان کشیدگی، اماراتی فیڈریشن میں بڑے سیاسی و انتظامی "شیک اپ” کے خدشات

    دبئی اور ابوظہبی کے درمیان کشیدگی، اماراتی فیڈریشن میں بڑے سیاسی و انتظامی "شیک اپ” کے خدشات

    رواں سال 2026ء کے ابتدائی مہینوں میں متحدہ عرب امارات (UAE) میں دبئی اور ابوظہبی کی قیادت کے درمیان سٹریٹجک اور اقتصادی پالیسیوں پر بڑھتے ہوئے اختلافات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے اماراتی فیڈریشن میں بڑے سیاسی و انتظامی "شیک اپ” (تبدیلیوں) کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

    اطلاعات ہیں کہ متحدہ عرب امارات کے اندر ایک بڑا سیاسی اختلاف جنم لے رہا ہے دبئی کے حکمران اور ابوظہبی کے حکمران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی برسوں کے دوران سب سے بڑی اندرونی تبدیلی کا اشارہ دے رہی ہے، اگر یہ معاملہ طول پکڑتا ہےتو اس سے پورے خلیج کا طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔

    دوسری طرف شارجہ کا حکمران اسرائیل سے تعلقات و موجودگی ایران کے خلاف جنگ کے بارے میں تحفظات رکھتا ہے کہ اس میں متحدہ عرب امارات کو امریکا اپنی سرزمین استعمال نہیں کرنے دینی چاہیے تھی اور متحدہ عرب کا عالمی تیل تنظیم سے نکلنا بھی درست نہیں ہے ، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ شارجہ متحدہ عرب امارات سے الگ ہو کر ایک الگ سے جمہوریہ یا شارجہ نام و پرچم کے ساتھ وطن بنانے کا منصوبہ زیر غور رکھتا ہے،

    رپورٹس اور سیاسی تجزیوں کے مطابق، ان خدشات کی اہم وجوہات درج ذیل ہیں:

    1. سٹریٹجک خود مختاری اور خارجہ پالیسی:
    ابوظہبی، جس کی قیادت صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کر رہے ہیں، اپنی "سٹریٹجک خود مختاری” (Strategic Autonomy) پر زور دے رہا ہے، جو بعض اوقات دبئی کی کاروباری اور بین الاقوامی پالیسیوں سے مختلف ہوتی ہے۔ یہ اختلافات علاقائی تنازعات، جیسے سوڈان اور یمن، میں کردار کے حوالے سے بھی دیکھے جا رہے ہیں۔

    2. اوپیک (OPEC) سے علیحدگی اور تیل کی پالیسی:
    اپریل 2026ء میں متحدہ عرب امارات کا اوپیک (OPEC) اور اوپیک پلس (OPEC+) سے علیحدگی کا اعلان ابوظہبی اور ریاض کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نتیجہ سمجھا جا رہا ہے، جس نے یو اے ای کے اندرونی اتحاد کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ یہ اقدام بظاہر ابوظہبی کی اپنی تیل کی پیداوار بڑھانے کی خواہش کے تحت کیا گیا۔

    3. اقتصادی اور کاروباری مسابقت:
    دبئی اور ابوظہبی کے درمیان غیر ملکی سرمایہ کاری، ٹیلنٹ، اور کارپوریٹ ہیڈکوارٹرز کو راغب کرنے کی مسابقت میں شدت آ گئی ہے۔ ابوظہبی نے اپنی معاشی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے بین الاقوامی فرموں کو اپنی طرف راغب کرنے کی پالیسی اپنائی ہے۔

    4. علاقائی سیکیورٹی صورتحال (2026ء):
    فروری/مارچ 2026ء میں ایران کی جانب سے یو اے ای کے سیکیورٹی انفراسٹرکچر پر حملوں (ڈرون اور میزائل حملوں) نے دبئی کے ایک محفوظ تجارتی مرکز (Safe Haven) کی حیثیت کو چیلنج کیا ہے اس صورتحال نے دبئی کی معیشت اور دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے مستقبل پر اثر ڈالا ہے، جس سے انتظامی ترجیحات پر سوالات اٹھے ہیں۔

    5. قیادت کا ردعمل:
    اگرچہ 11 اپریل 2026ء کو سرکاری خبر رساں اداروں نے یہ رپورٹ کیا کہ شیخ محمد بن زاید اور شیخ محمد بن راشد نے ملاقات کی اور قومی یکجہتی پر زور دیا، لیکن مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ اختلافات انتظامی سطح پر موجود ہیں۔

    ان اطلاعات کے مطابق، دبئی اور ابوظہبی کے درمیان اب یہ کوئی چھپی ہوئی بات نہیں، بلکہ ایک کھلی مسابقت اور سٹریٹجک تضاد بن چکا ہے، جو مستقبل میں متحدہ عرب امارات کی پالیسی سازی، کابینہ یا انتظامی ڈھانچے میں کسی بڑے شیک اپ کی بنیاد بن سکتا ہے۔