Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • اے آر حمان نے اسلام کیوں قبول کیا؟

    اے آر حمان نے اسلام کیوں قبول کیا؟

    ممبئی: بھارتی موسیقار اللہ رکھا رحمان (اے آر رحمان ) نے انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے روحانی راستے کی تلاش میں اسلام قبول کیا اور انہیں اس فیصلے سے بے حد سکون ملا-

    باغی ٹی وی: بھارتی موسیقار اے آر رحمان نے 23 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا تھا بھارتی میڈیا کو سن 2000 میں دیئے گئے انٹرویو میں اے آر رحمان نے انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے روحانی راستے کی تلاش میں اسلام قبول کیا اور انہیں اس فیصلے سے بے حد سکون ملا، ایک صوفی ہستی نے ان کے والد کا کینسر کا علاج کیا تھا اور ان ہی صوفی شخصیت کے اثرات نے انہیں اسلام کی طرف مائل کیا اور انہوں نے 1980 میں اسلام قبول کرلیا-

    دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد اے آر رحمان کثیر العقائد پر مبنی گھرانے میں مقیم رہے ، اے آر رحمان کی والدہ ہندو مذہب پر عمل کرتی تھیں جب کہ ان کے گھر میں دیگر عقائد کی کتابیں اور تصاویر رکھی ہوتی تھیں،اللہ رکھا رحمان کا اصل نام دلیپ کمار راجگوپالا ہے جو 6 جنوری 1967 کو مدراس میں پیدا ہوئے، ان کے والد آر کے شیکھر کا تعلق مدلیار خاندان سے تھا جنہوں نے تامل اور ملیالم فلموں کے لیے بطور موسیقار اور کنڈیکٹر کے طور پر کام کیا۔

    والدین کی 29 سال بعد طلاق،اے آر رحمان کے بچوں کا ردعمل

    ایک انٹرویو میں اے آر رحمان نے اپنے نام کی تبدیلی پر بتایا تھا کہ ان کی والدہ نے ان کیلئے ’ اللہ رکھا ‘ کا نام کا خواب میں دیکھا تھا جس کے بعد انہوں نے اللہ رکھا کا انتخاب کیاجب کہ ’رحمان‘ خاندان کے دیگر افراد نے تجویز کیا تھا مجھے اپنا پیدائشی نام کبھی پسند نہیں آیاتھا، لیجنڈری اداکار دلیپ کمار کو تو اپنے نام پر کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن یہ نام میری اپنی تصویر کے ساتھ نہیں جچتا تھا۔

    واضح رہے کہ لیجنڈری موسیقار اے آر رحمان اور ان کی اہلیہ سائرہ بانو آج کل شادی کے 29 سال بعد ایک دوسرے سے علیحدگی کے باعث‌ شہہ سرخیوں میں ہیں ، اے آر رحمان نے 12 مارچ 1995 کو سائرہ بانو سے شادی کی تھی اور جوڑے کے تین بچے ہیں۔

    اے آر رحمان اور ان کی اہلیہ کے درمیان علیحدگی کا اعلان

  • سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس کا اعلامیہ جاری

    سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس کا اعلامیہ جاری

    اسلام آباد: اسلامی نظریاتی کونسل نے سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق اپنی رائے جاری کردی-

    باغی ٹی وی: اسلامی نظریاتی کونسل کا اجلاس علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی کی زیرصدارت منعقد ہوا، جس میں علامہ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، ملک اللہ بخش کلیار، جسٹس( ر) الطاف ابراہیم قریشی ، علامہ ڈاکٹر عبدالغفور راشد، محمد جلال الدین ایڈووکیٹ، علامہ ملک محمد یوسف اعوان، مفتی محمد زبیر،علامہ پیر شمس الرحمٰن مشہدی، علامہ سید افتخار حسین نقوی، پروفیسرڈاکٹر مفتی انتخاب احمد اور صاحبزادہ محمد حسان حسیب الرحمٰن شریک ہوئے جب کہ ڈاکٹر عزیر محمود الازہری اور فریدہ رحیم نے آن لائن شرکت کی۔

    اجلاس میں شریک تمام اراکین کونسل نے اتفاق رائے سے اتفاق کیا کہ سوشل میڈیا اپنے خیالات و آرا کے اظہار کا موثر ترین ذریعہ ہے،اس کو بجا طورپر اچھے اور عمدہ مقاصد کےلیے بھی استعمال کیاجا سکتا ہے اور منفی و غلط مقاصد کے لیے بھی اس کا استعمال ممکن ہے ایک مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اس کا استعمال اسلامی تعلیمات کی پیروی میں کرے-

    سوشل میڈیا کو اسلامی تعلیمات کے فروغ،اخلاق و کردار کی تعمیر ،تعلیم وتربیت کی ترویج و ترقی، تجارتی مقصد، ملکی امن و سلامتی کے استحکام اور دیگر جائز مقاصد کیلئے استعمال کرے سوشل میڈیا کو توہین و گستاخی،جھوٹ،فریب،دھو کہ دہی،غیر اخلاقی مقاصد ،بدامنی،فرقہ واریت ، انتہا پسندانہ اقدامات اور دیگر غیر قانونی و غیر شرعی مقاصد کے فروغ کیلئے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

    اعلامیے کے مطابق عمومی مشاہدہ ہے کہ انٹرنیٹ کے استعمال کے دوران دوران مختلف مقاصد کے حصول کے لیے وی پی این ایپ استعمال کی جاتی ہے ،کوئی وی پی این، سافٹ وئیر یا کوئی بھی ایپ بذات خود ناجائز یا غیر شرعی نہیں ہوتا، بلکہ ان کے درست اور غلط استعمال پر شرعی حکم کا دارومدار ہوتا ہے، اگر توہین،گستاخی،بدامنی، انارکی اور ملکی سلامتی کے خلاف کا مواد احصول یا پھیلاؤ ہو تو بلا شبہ ایسا استعمال شرعی لحاظ سے ناجائز ٹھہرے گااور حکومت وقت کو اختیار حاصل ہو گا کہ ایسے ناجائز استعمال کے انسداد کیلئے اقدامات کرے۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ اگر وی پی این کے استعمال سے کوئی جائز مقصد حاصل کرنا پیش نظر ہو، جیسا کہ بات چیت کیلئے کسی ایپ کا استعمال یا تعلیمی و تجارتی مقاصد کے لیے استعمال درست اور جائز ہوگا اور اس حوالے سے حکومت کے قوانین پر عمل کرنا چاہیے جیسا کہ حکومت نے وی پی این کی رجسٹریشن شروع کر دی ہے، لہٰذا رجسٹرڈ وی پی این کے استعمال کو ترجیح دی جائے،غیر رجسٹرڈ وی این استعمال کر نے سے حتی الامکان اجتناب کیا جائے۔

    اعلامیے کے مطابق ایک اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کیلئے درج بالا جائز مقاصد کے حصول کو آسان بنائے،اور ناجائز مقاصد کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کو روکنے کے لیے اقدامات کرے،میڈیا و سوشل میڈیا سے متعلق تمام حکومتی ادارے اس حوالے سے فعال کردار کریں اور اس سلسلے میں استعمال ہونے والے تمام پلیٹ فارمز اور ایپس کی نگرانی کریں، آئین کے آرٹیکل 19 کے مطابق اسلام کی عظمت، ملکی سالمیت، امن عامہ، تہذیب اور مناسب قانونی پابندیوں کے تابع ہر شہری کوتقریر ،اظہار خیال، پریس کی آزادی اورمعلومات تک رسائی کا حق دیا گیا ہے ۔

    اعلامیے کے مطابق سوشل میڈیا اور ٹیکنا لوجی کے دیگر جدید ذرائع کی اہمیت سےانکار ممکن نہیں اور ان کا مثبت استعمال وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے، لہذا ان جدید ذرائع کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے انتظامی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے کو نسل سمجھتی ہے کہ جدید ذرائع پر محض پابندی عائد کرنامسائل کاحل نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ان ذرائع کے مثبت استعمال کو ممکن بنانے یا ان کا مناسب متبادل پیش کرنے کے لیے بھی اقدامات کئے جائیں جبکہ کونسل نے ماہرین کے ساتھ مشاورت کے ذریعے اس موضوع پر شرعی حوالے سے مزید تحقیقی کام کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔

    دوسری جانب چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر راغب نعیمی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وی پی این کو کسی نے غیر شرعی یا ناجائز نہیں کہا،ہمارے جاری کردہ بیان میں ٹائپنگ کی غلطی ہوئی ا ہمارے جاری کردہ بیان میں ’’نہیں ‘‘ نہ لکھنے کے سبب غلط فہمی پیدا ہوئی،سوشل میڈیا کو اسلامی تعلیمات کے فروغ، ملکی سلامتی کیلئے استعمال ہونا چاہیے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا کوتوہین آمزید مواد،انتہا پسندانہ اقدامات کیلئے استعمال نہیں کرنا چاہیے،وی پی این یا کوئی اور ایسا سوشل میڈیا پلیٹ فارم غیر شرعی نہیں ،جدید ذرائع سے انکار ممکن نہیں مگر ان کا مثبت استعمال لازم ہے،رجسٹرڈ وی پی این کا استعمال ہی شرعی طور پر درست ہوگا،آئین کے تحت ہر شخص کو معلومات تک رسائی کاحق حاصل ہے ،جدید ذرائع پر پابندی مسائل کا حل نہیں البتہ مناسب متبادل ہونا چاہیے،آزادی اظہار رائے تسلیم شدہ اصول ہے اس کو بھی یقینی بنایا جائے،کونسل نے ماہرین سے مزید مشاورت کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

  • اے آر رحمان کی  گٹارسٹ کا بھی شوہر سے علیحدگی کا اعلان

    اے آر رحمان کی گٹارسٹ کا بھی شوہر سے علیحدگی کا اعلان

    ممبئی: بھارتی موسیقار اے آر رحمان کی اہلیہ سے طلاق کے بعد ان کی ساتھی گٹارسٹ موہنی ڈے نے بھی اپنے شوہر سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی : 19 نومبر کی شب اے آر رحمان کی اہلیہ سائرہ بانو کی وکیل وندنا شاہ کی جانب سے اے آر رحمان اور سائرہ کی علیحدگی کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ29 سال کی شادی کے بعد سائرہ نے اپنے شوہر اے آر رحمان سے علیحدگی کا مشکل فیصلہ کیا ہے، یہ فیصلہ ان کے تعلقات میں پیچیدگی کے باعث کیا گیا ہے-

    اس کے بعد اے آر رحمان نے بھی ایکس اکاؤنٹ سے پیغام جاری کیاجس میں لکھا تھا ہم نے شادی کے 30 برس تک پہنچنے کی امید کی تھی لیکن دنیا میں ہر چیز کا اختتام ہے جو کسی نے نہیں دیکھا، ٹوٹے ہوئے دلوں کے بوجھ سے خدا کا تخت بھی کانپ سکتا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق اے آر رحمان اور سائرہ کی علیحدگی کے کچھ گھنٹے بعد ہی اے آر رحمان کے گروپ کی گٹارسٹ موہنی ڈے نے اپنے شوہر سے علیحدگی کا اعلان سوشل میڈیا پر کیا۔

    والدین کی 29 سال بعد طلاق،اے آر رحمان کے بچوں کا ردعمل

    موہنی ڈے اور ان کے شوہر مارک کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ بھاری دل کے ساتھ، مارک اور میں یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم نے علیحدگی اختیار کر لی ہے، یہ ہمارا باہمی فیصلہ ہے، ہم اب بھی اچھے دوست رہیں گے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق 29 سالہ موہنی کولکتہ سے تعلق رکھنے والی ایک مشہور گٹارسٹ ہیں جنہوں نے اے آر رحمان کے ساتھ دنیا بھر میں 40 سے زائد شوز میں پرفارم کیا ہے۔

    اے آر رحمان اور ان کی اہلیہ کے درمیان علیحدگی کا اعلان

  • والدین کی 29 سال بعد طلاق،اے آر رحمان کے بچوں کا ردعمل

    والدین کی 29 سال بعد طلاق،اے آر رحمان کے بچوں کا ردعمل

    ممبئی: بالی وڈ گلوکار اور موسیقار اے آر رحمان اور ان کی اہلیہ کے درمیان طلاق کے بعد بیٹے اور دونوں بیٹیوں نے ردعمل دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارت کے معروف موسیقار اور گلوکار اے آر رحمان کی اہلیہ سائرہ بانو نے گزشتہ روز شادی کے 29 سال بعد شوہر سے علیحدگی کا اعلان کیا ،سائرہ بانو کی وکیل وندنا شاہ کی جانب سے اے آر رحمان اور سائرہ کی علیحدگی کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد اے آر رحمان نے بھی ایکس اکاؤنٹ پر بیان جاری کیا اور شادی کے 29 برس بعد اہلیہ سے علیحدگی کی تصدیق کی۔

    اے آر رحمان نے ایکس پوسٹ میں لکھا تھا کہ ہم نے شادی کے 30 برس تک پہنچنے کی امید کی تھی لیکن دنیا میں ہر چیز کا اختتام ہے جو کسی نے نہیں دیکھا، ٹوٹے ہوئے دلوں کے بوجھ سے خدا کا تخت بھی کانپ سکتا ہے، اگرچہ اس مشکل وقت سے گزرنے کی کوشش کررہے ہیں، بکھرے ہوئے ٹکڑے واپس جڑ نہیں سکتے، ہم اپنے دوست احباب کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے نیک خواہشات کا اظہار اور ہم سے ہمدردی کی اور ہماری پرائیویسی کا خیال رکھا-

    اب گلوکار کے بچوں کے بیانات سامنے آئے ہیں جو تینوں نے انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کیے،اے آر رحمان کے بیٹے اے آر امین نے اپنی اسٹوری میں لکھا ‘ہم سب سے گزارش کرتے ہیں کہ اس وقت ہماری پرائیویسی کا احترام کریں اور ہماری صورتحال سمجھنے کے لیے آپ سب کا شکریہ’۔
    showbiz
    اے آر رحمان کی بیٹی خدیجہ رحمان نے بھی بھائی کے الفاظ والی اسٹوری شیئر کی جب کہ دوسری بیٹی رحیمہ نے اسٹوری پر کہا کہ ‘یہ قابلِ تعریف ہوگا اگر آپ سب اس صورتحال کو ہماری پرائیویسی سمجھیں اور عزت دیں-
    showbiz
    واضح رہے کہ اے آر رحمان نے 12 مارچ 1995 کو سائرہ بانو سے شادی کی تھی، جوڑے کے تین بچے ہیں، اے آر رحمان اور سائرہ کی ارینج میرج ہوئی تھی، موسیقار نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ ان کی والدہ نے سائرہ سے شادی کرائی تھی۔

  • عبدالعلیم کی    آذربائیجان کو پی آئی اے  و دیگر اداروں کی نجکاری  میں شامل ہونے کی دعوت

    عبدالعلیم کی آذربائیجان کو پی آئی اے و دیگر اداروں کی نجکاری میں شامل ہونے کی دعوت

    اسلام آباد: وفاقی وزیر وزیر نجکاری اور سرمایہ کاری عبدالعلیم خان نے آذربائیجان کے شہر باکو میں وزیر اکانومی میکائیل جیباروف سے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی: وفاقی وزارت نجکاری سے جاری بیان کے مطابق وزیر نجکاری عبدالعلیم خان نے آذربائیجان کے ساتھ باہمی تعلقات مضبوط کرنے کا عزم دہراتے ہوئے اقتصادی امور کے وزیرمیکائیل جیباروف کو پی آئی اے سمیت دیگر اداروں کی نجکاری کے عمل میں شامل ہونے کی دعوت دے دی۔

    اعلامیے کے مطابق آذربائیجان کے وزیراکانومی سے ملاقات کے بعد باقاعدہ اجلاس میں وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے باہمی تجارت، دو طرفہ تعلقات اور تعاون میں اضافے پر بات چیت کی، وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ، نجکاری اور مواصلات عبدالعلیم خان نے وزیر معیشت میکائیل جیباروف سے باہمی دلچسپی بالخصوص تجارت میں اضافے اور باہمی معاہدوں سمیت مختلف آپشنز پر بات چیت کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ آذربائیجان میرا دوسرا گھر ہے اور یہ ہمارے دلوں کے نزدیک ملک ہے اورہم آذربائیجان کے ساتھ باہمی تعلقات مزید بڑھائیں گے۔

    وزارت نجکاری کے مطابق وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ عبدالعلیم خان کی اجلاس میں آذربائیجان کی حکومت سے پاکستان میں نجکاری کے حوالے سے جی ٹو جی اور بی ٹو بی کی طرز پر شراکت پر مذاکرات ہوئے، عبدالعلیم خان نے مذاکرات کے دوران وزیر اکانومی میکا ئیل جیباروف کو پی آئی اے، زرعی ترقیاتی بینک، ڈسکوز، یوٹیلیٹی اسٹورز اور دیگر منصوبوں کی نجکاری میں شامل ہونے کی دعوت دی۔

    آذربائیجان کے وزیر اکانومی میکائیل جیباروف نے پاکستان سے باکو تک براہ راست پرواز پراطمینان کا اظہارکیا اوران کا کہنا تھا کہ پاکستان سے باکو کی پرواز سے ہمارے سیاحت کے شعبے میں اضافہ ہوا ہے۔

    وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ، نجکاری اور مواصلات عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور آذربائیجان ایل این جی اور رینیوایبل انرجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں ہمیں تجارت کے حجم میں اضافے کے لیے ٹھوس اور قابل عمل اقدامات کرنے ہوں گے۔

    وفاقی وزیر نے پاکستان میں شعبہ مواصلات میں بھی آذربائیجان کو باہمی تعاون کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ سکھر سے کراچی موٹروے ایم 6 بندرگاہ سے براہ راست منسلک ہے، آذربائیجان اس میں حصہ لے،ہمیں اس باہمی تعاون اور دو طرفہ امور کو جوائنٹ وینچرز اور ایم او یوز سے آگے لے کر جانا ہے۔

  • پی ٹی آئی کا 24 نومبراحتجاج:پولیس کو آنسو گیس شیل، ربڑ کی گولیاں اور اینٹی رائٹ کٹس مہیا

    پی ٹی آئی کا 24 نومبراحتجاج:پولیس کو آنسو گیس شیل، ربڑ کی گولیاں اور اینٹی رائٹ کٹس مہیا

    اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اجتماع کو روکنے کی تیاریاں شروع کردیں۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے تاحال احتجاج یا دھرنے کی کوئی درخواست نہیں دی اور کسی بھی اجتماع کیلئے 7 دن پہلے اجازت لینا لازمی ہے۔

    دوسری جانب اسلام آباد انتظامیہ نے پی ٹی آئی کا احتجاج روکنے کیلئے تیاریاں شروع کردیں،پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں اور چھٹی پرگئے اہلکار واپس بلا لیے گئے ہیں جبکہ اسلام آباد انتظامیہ نے 8 ہزار پولیس اہلکار پنجاب، کشمیر اور سندھ سے مانگ لیے، پولیس کو آنسو گیس شیل، ربڑ کی گولیاں اور اینٹی رائٹ کٹس مہیا کر دی گئیں۔

    دوسرے صوبوں کے پولیس اہلکار 21 نومبر کی رات اسلام آباد رپورٹ کریں گے، وفاقی دارالحکومت میں رینجرز اور ایف سی اہلکار پہلے ہی تعینات ہیں، اسلام آباد کے گردونواح میں کنٹینرز پہنچانے کا کام شروع ہوگیا ہے-

    جبکہ پنجاب پولیس نے پی ٹی آئی کے اسلام آباد میں احتجاج کو روکنے کی تیاریاں شروع کر دیں اے آئی جی کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق پنجاب پولیس نے امن و امان کی صورتحال خراب کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے 24 نومبر کا احتجاج روکنے کیلئے صوبے بھر سے 10ہزار 700کی نفری اسٹینڈ بائی کردی ہے-

    پی ایچ پی سے 3500 جبکہ 500پہلے سے ،پی سی سے 1000جبکہ 3000 کی نفری پہلے سے ہے، ایس پی یو سے 1000، ٹریننگ ڈائریکٹریٹ سے 1200،گوجرانوالہ ریجن سے 1300جبکہ 600 نفری پہلے سے موجود ہے، اسی طرح سرگودھا ریجن سے 500 جب کہ 400نفری پہلے سے ہے، شیخوپورہ سے 200، ننکانہ صاحب سے100، ضلع سرگودھا سے 200، خوشاب سے 200،فیصل آباد سے 500جبکہ 800نفری پہلے سے، بہاولنگر سے 200،بہاولپور سے 300،مظفرگڑھ سے 300اوراوکاڑہ سے 200اہلکار اسٹینڈ بائی رکھے گئے۔

    مراسلے میں کہا گیا ہے کہ فورس اینٹی رائٹ سامان سے لیس، متعلقہ ضلع و یونٹ کا آرپی او ، سی پی او اور ڈی پی او فورس کے ٹرانسپور ٹ کا ذمہ دار ہو گا آئی جی پنجاب کے حکم پر اے آئی جی آپریشنز پنجاب نے متعلقہ افسران کو مراسلہ ارسال کردیا۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے 24 نومبر کو احتجاج کی فائنل کال دے رکھی ہے-

  • بانی پی ٹی آئی کو اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کیلئے 9 مئی کا پل عبور کرنا ہوگا،خواجہ آصف

    بانی پی ٹی آئی کو اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کیلئے 9 مئی کا پل عبور کرنا ہوگا،خواجہ آصف

    اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنمااور وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے لیے 9 مئی کا پل عبور کرنا ہوگا-

    باغی ٹی وی : وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثناء اللہ نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کی کال دے کر پی ٹی آئی نے سیاسی غلطی کی ہے، اس مس کال کا انہیں سیاسی طور پر نقصان ہوگا یہ (پی ٹی آئی) چاہتے ہیں کہ لاشیں گریں اور انہیں آگے رکھ کر فتنے کو پھیلائیں جس طرح 5 اکتوبر کو خیبرپختونخوا کے وزیرِاعلیٰ لاؤ لشکر لائے تھے کوشش ہے کہ اس بار یہ عمل نہ دہرایا جاسکے اس بار ان لوگوں کو روکنا کوئی مشکل نہیں ہوگا، 5 اکتوبر کو ڈی چوک پہنچے تھے تو اجازت سے پہنچے تھے اور آپ طے شدہ طریقہ کار کے مطابق واپس چلے گئے تھے، ایک قومی اسمبلی کے حلقے سے انہیں 20 ہزار لوگ لانا ہوں گے۔

    ایک سوال کے جواب میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بلاول بھٹو کی ناراضگی ہے، ہم سے بھی کچھ کوتاہی ہوئی، وزیراعظم نے ڈار صاحب کی ذمہ داری لگائی ہے، ہم بلاول بھٹو کی ناراضگی دور کریں گے بلاول بھٹو اتنے شدید ناراض نہیں ہیں۔

    وفاقی وزیر احسن اقبال نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ پی ٹی آئی جب بھی ریڈ زون میں آتی ہے یہ تشدد کرتے ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتی اس خطرے کا مقابلہ کریں گی، کسی قسم کی نرمی نہیں کی جائے گی، جب بھی ملک آگے چلنے لگتا ہے یہ انتشار پیدا کرتے ہیں۔

    خواجہ آصف کا بھی کہنا تھا کہ پی ٹی آئی 24 نومبر کے لئے رقوم اکٹھی کررہی ہے، رقوم دینے والے خیال کر لیں، اگر 24 نومبر کو کچھ نہ ہوا تو رقم واپس نہیں ملے گی، بعد میں گلہ نہ کرنا کے وقت پہ خبردار نہیں کیا، ہوسکتا یہ ڈرامہ ہی نہ ہو۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر عمران خان یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے 9 مئی کو کچھ نہیں کیا تو پھر حالات نہیں سدھر سکیں گے،نجی ٹی وی کے پروگرام میں انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں 99فیصد صوبے میں دہشت گردی کے حوالے سے بات کی۔

    انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈا پور نے تبرکاً ایپکس کمیٹی میں عمران خان کی قید اور ان کی بے گناہی اور جلسے کی اجازت پر ہلکی پھلکی بات کی، بانی پی ٹی آئی کو اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے لیے 9 مئی کا پل عبور کرنا ہوگا، اگر عمران خان یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے 9 مئی کو کچھ نہیں کیا تو پھر حالات نہیں سدھر سکیں گے۔

    علی امین گنڈاپور نے کہا کہ عمران خان ایک سال سے ناحق جیل میں قید ہے،بانی چیرمین پرقائم مقدمات بے بنیاد ہیں اس کے علاوہ ہمیں احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے زیادہ باتیں اپنے صوبے میں دہشتگردی کے حوالے سے کیں، آج کے اجلاس کا اہم پوائنٹ بھی دہشتگردی سے نمٹنے پر غوروخوض کرنا تھا اور کچھ اہم فیصلے بھی کیے گئے ہیں-

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 25 نومبر کو عمران خان پر فرد جرم عائد ہونے کے حوالے سے نہیں پتا،بانی پی ٹی آئی نے نو مئی کا ثبوت مانگا تھا انہوں نے ویڈیوز دے دیں، یہ اندر اسٹیبلمشمنٹ سے معافی تلافی سمیت سب کچھ کرنے پر تیار ہیں، باہر بڑھکیں مارتے ہیں اور نورا کشتی کرتے ہیں،گنڈاپور جو کچھ بھی کرتا ہے بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر کرتا ہے، بانی پی ٹی آئی کا ٹارگٹ آزادی نہیں ہے، وہ چاہتے ہیں اسٹیبلشمنٹ مجھے پھر بیٹا بنالے اور سب ہنسی خوشی رہیں۔

  • 24 نومبراحتجاج: جو  باہر نہ نکلا وہ پارٹی سے باہر ہو جائےگا،عمران خان

    24 نومبراحتجاج: جو باہر نہ نکلا وہ پارٹی سے باہر ہو جائےگا،عمران خان

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت نے کہاہے کہ پارٹی میں کوئی کتنا ہی پرانا ہو جو 24 نومبر کے احتجاج کیلئے باہر نہ نکلا تو وہ پارٹی سے باہر ہوگا ۔

    باغی ٹی وی : پی ٹی آئی کی سینئر قیادت کے مطابق بانی پی ٹی آئی نےکہا ہے کہ طاقتور حلقے جس کسی کو آگے کریں گے، پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کمیٹی ان سے تین مطالبات پر مذاکرات کرے گی کمیٹی تین مطالبات ‏26 ویں آئینی ترمیم کے خاتمے اور آئین کی بحالی کے علاوہ ‏مینڈیٹ کی واپسی اور ‏تمام بےگناہ سیاسی قیدیوں کی رہائی پر بات کرے گی۔

    پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہےکہ عمران خان نےکہا ہےکہ اگر تمام مسائل مذاکرات سے حل ہوں تو اس سے اچھی کیا بات ہوگی، مطالبا ت کی منظوری تک احتجاج اسلام آباد سے واپس نہیں جائے گا ، 24 نومبرکا احتجاج نہ مؤخر ہوگا نہ معطل ہوگا، 24 نومبرکو جو باہر نہ نکلا وہ پارٹی سے باہر ہو جائےگا، پارٹی میں چاہے کوئی کتنا بھی پرانا ہو باہر نہ نکلا تو اس کی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔

    واضح رہے کہ آج وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور اور چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے اڈیالہ جیل جا کر 2 گھنٹے تک بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی تھی، ملاقات میں 24 نومبر کے احتجاج اور حکومت سے پی ٹی آئی کے مذاکرات پر بات کی گئی۔

  • اے آر رحمان اور  ان کی اہلیہ کے درمیان علیحدگی کا اعلان

    اے آر رحمان اور ان کی اہلیہ کے درمیان علیحدگی کا اعلان

    ممبئی: معروف موسیقار اللہ رکھا المعروف اے آر رحمان کی اہلیہ نے شادی کے 29سال بعد علیحدگی کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : لیجنڈری میوزک کمپوزر اے آر رحمان اور ان کی اہلیہ سائرہ نے اپنی علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے، سوشل میڈیا پر آنے والی خبروں کے مطابق، تقریباً تین دہائیوں پر محیط ازدواجی زندگی ختم ہو گئی ہے۔

    سائرہ کی سرکاری وکیل وندنا شاہ اینڈ ایسوسی ایٹس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا کہ دونوں کے تعلقات میں جذباتی مسائل اور اختلافات پیدا ہو چکے ہیں، جنہیں حل کرنا ممکن نہیں رہا،ایک دوسرے کے لیے گہری محبت کے باوجود، کشیدگی اور مشکلات نے ان کے تعلقات میں ایک ایسی خلیج پیدا کر دی ہے جسے پُر کرنا اس وقت ممکن نہیں ہے،شادی کے کئی سالوں کے بعد، مسز سائرہ نے اپنے شوہر مسٹر اے آر رحمان سے علیحدگی کا مشکل فیصلہ کیا ہےسائرہ نے اس مشکل وقت میں عوام سے پرائیویسی اور ہمدردی کی درخواست کی ہے۔

    رحمان اور سائرہ، جنہوں نے 1995 میں شادی کی، ان کے تین بچے خدیجہ، رحیمہ اور امین ہیں،اے آر رحمان اور سائرہ کی ارینج میرج ہوئی تھی، موسیقار نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ ان کی والدہ نے سائرہ سے شادی کرائی تھی۔

  • 10،دس ہزار بندے لانے کی شرط،شیر افضل مروت نے بشریٰ بی بی کو آئینہ دکھا دیا، آڈیو لیک

    10،دس ہزار بندے لانے کی شرط،شیر افضل مروت نے بشریٰ بی بی کو آئینہ دکھا دیا، آڈیو لیک

    اسلام آباد: 24 نومبر کے احتجاج میں بشریٰ بی بی کی جانب سے دس دس ہزار لوگوں کو لانے کی ہدایت پر پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت نے شدید ردعمل دیا جس کی آڈیو لیک ہوگئی-

    باغی ٹی وی :‏شیر افضل مروت نے پنکی پیرنی کو آئینہ دکھا دیا جس کی آڈیو لیک ہوگئی، لیک آڈیو میں شیر افضل مروت کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ بشریٰ بی بی جو کہ آپ کو دس دس ہزار لوگوں کو لانے کا کہہ رہی ہیں پہلے آپ ان سے تصدیق کریں کہ کیا وہ خود احتجاج میں آئیں گی-
    https://x.com/BaaghiTV/status/1858933569902596607
    دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ ہم کیوں جائیں پشاور کے نوجوانوں سے درخواست ہے کہ 24 نومبر کو اسلام آباد کی جانب رخ نا کریں جو آپ کو لے کر جائیں گے ان کی اپنی اولاد گھر پر ہی ہو گی-

    واضح رہے کہ بشریٰ بی بی نے احتجاج کو فائنل کال قرار دیا اور ساتھ ہی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو بھی آخری وارننگ دے دی کہا کہ پی ٹی آئی ارکان اپنے ساتھ دس دس ہزار بندے لائیں ورنہ پارٹی ٹکٹ نہیں ملے گا بشریٰ بی بی اور علیمہ خان کے احکامات پر پی ٹی آئی رہنما اور کارکن پریشانی کا شکار ہوگئے،پارٹی رہنماؤں نے سر پکڑ لیے۔

    بشریٰ بی بی پی ٹی آئی ارکان پر ناراض ہوئیں اور کہا کہ مجھے گزشتہ احتجاج اور قافلوں کی رپورٹ ملی ہے، کئی عہدیدار اور ممبر صرف حاضری کے لیے احتجاج میں آئے اور مختلف مقامات سے واپس لوٹ گئے،عمران خان کی رہائی کے لیے فائنل کال ہے، ورکرز کو نکالنا ہوگا، فیملیز کو بھی نکالنے کی کوشش کریں۔

    بشریٰ بی بی نے پارٹی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ احتجاج کے دوران گرفتاریوں سے بچیں جب کہ احتجاج کے لیے موثر تحریک اور وفاداری کی بنیاد پر ہی پی ٹی آئی میں ان کے مسقبل کا فیصلہ ہوگا، احتجاج کے دوران توقعات پر پورا نہ اترنے والے رہنماؤں کی پارٹی کے ساتھ دیرینہ وابستگی بھی انتخابات میں پارٹی ٹکٹ کی ضامن نہیں ہوگی،اسلام آباد میں ہونے والا احتجاج پی ٹی آئی سے وفاداری کا امتحان ہے، ہمارا ہدف عمران خان کی رہائی کو یقینی بنانا ہے اور ہم ان کے بغیر اسلام آباد سے واپس نہیں آئیں گے۔

    ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی نے پارٹی رہنماؤں کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت کے مطابق تمام ایم این ایز اور ایم پی ایز اپنے حلقوں سے نکلتے وقت اپنے قافلے کے ہمراہ ویڈیوز بناکر بھیجیں گے قافلے میں خالی گاڑیاں شمار نہیں ہوں گی بلکہ تمام رہنماؤں کو گاڑی کے اندر موجود لوگوں کی ویڈیوز بنانا ہوں گی، احتجاج میں شرکت نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی، پچھلے احتجاج کے برعکس اس بار خیبرپختونخوا سے قافلے الگ الگ روانہ ہوں گے، اسلام آباد روانگی کے لیے ہر ایم پی اے کو 5 ہزار اور ایم این اے کو 10 ہزار افراد لانے کا ٹاسک دیا گیا ہے،

    ارکان اسمبلی 10 ہزار کارکن نکالنے کی شرط پر چکرا گئے ،اراکین نے کہا کہ 24 نومبر کا احتجاج کامیاب کیسے بنائیں، زیادہ سے زیادہ لوگ اسلام آباد کیسے لائیں، بشریٰ بی بی کے مشکل ٹاسک سے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی پریشان ہوگئے اور 10 ہزار بندے لانا ناممکن قرار دے دیا،بمشکل 500 بندے ارینج کرپاتے ہیں، 10 ہزار کیسے لائیں؟ بشریٰ بی بی اور علیمہ خان الگ الگ احکامات دیتی ہیں، ارکان اسمبلی کشمکش میں مبتلا ہیں،علی امین گنڈاپور بھی مجبور ہیں، ڈی چوک سے واپسی پر ان کی پوزیشن خراب ہوگئی، بشریٰ بی بی نے ان پر واضح کردیا کہ اس بار ڈیلیور نہ کیا تو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نہیں رہو گے۔

    واضح رہے کہ 13 نومبر کو پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان نے 24 نومبر کو احتجاج کی فائنل کال دے دی ہے مطالبات تسلیم کیے جانے تک احتجاج جاری رہے گا جبکہ قوم نے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہے کہ وہ آزادی میں رہنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا تھا کہ احتجاج کے لیے تیاریاں مکمل ہے، علیمہ خان نے احتجاج کی تاریخ کا اعلان کر دیا ہےاس بار کوئی واپسی نہیں ہے، جب تک ہماری مطالبات پورے نہیں ہوتے واپسی نہیں ہوگی۔

    اس سے قبل خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ احتجاج کی فائنل کال کے لیے تیاریوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور فائنل کال اتنی شدید ہوگی کہ شاید مریم نواز واپسی موخر کرکے وہیں رہنے میں عافیت سمجھیں احتجاج کی فائنل کال جعلی حکومت کے جنازے کی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی۔

    9 نومبر کو صوابی جلسے میں علی امین گنڈاپور نے کہا تھا کہ عمران خان اس ماہ احتجاج کی کال دیں گے تو ہمیں سروں پر کفن باندھ کر نکلنا ہوگا اور اس بار بانی پی ٹی آئی کو رہا کرا کر دم لیں گے۔

    دوسری جانب پنجاب پولیس نے پی ٹی آئی کے اسلام آباد میں احتجاج کو روکنے کی تیاریاں شروع کر دیں اے آئی جی کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق پنجاب پولیس نے امن و امان کی صورتحال خراب کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے 24 نومبر کا احتجاج روکنے کیلئے صوبے بھر سے 10ہزار 700کی نفری اسٹینڈ بائی کردی ہے-

    پی ایچ پی سے 3500 جبکہ 500پہلے سے ،پی سی سے 1000جبکہ 3000 کی نفری پہلے سے ہے، ایس پی یو سے 1000، ٹریننگ ڈائریکٹریٹ سے 1200،گوجرانوالہ ریجن سے 1300جبکہ 600 نفری پہلے سے موجود ہے، اسی طرح سرگودھا ریجن سے 500 جب کہ 400نفری پہلے سے ہے، شیخوپورہ سے 200، ننکانہ صاحب سے100، ضلع سرگودھا سے 200، خوشاب سے 200،فیصل آباد سے 500جبکہ 800نفری پہلے سے، بہاولنگر سے 200،بہاولپور سے 300،مظفرگڑھ سے 300اوراوکاڑہ سے 200اہلکار اسٹینڈ بائی رکھے گئے۔

    مراسلے میں کہا گیا ہے کہ فورس اینٹی رائٹ سامان سے لیس، متعلقہ ضلع و یونٹ کا آرپی او ، سی پی او اور ڈی پی او فورس کے ٹرانسپور ٹ کا ذمہ دار ہو گا آئی جی پنجاب کے حکم پر اے آئی جی آپریشنز پنجاب نے متعلقہ افسران کو مراسلہ ارسال کردیا۔