Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • پی ٹی آئی احتجاج:پنجاب پولیس کا  سختی سے نمٹنے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی احتجاج:پنجاب پولیس کا سختی سے نمٹنے کا فیصلہ

    لاہور: پنجاب پولیس نے پی ٹی آئی کے اسلام آباد میں احتجاج کو روکنے کی تیاریاں شروع کر دیں-

    باغی ٹی وی ” اے آئی جی کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق پنجاب پولیس نے امن و امان کی صورتحال خراب کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے 24 نومبر کا احتجاج روکنے کیلئے صوبے بھر سے 10ہزار 700کی نفری اسٹینڈ بائی کردی ہے۔

    پی ایچ پی سے 3500 جبکہ 500پہلے سے ،پی سی سے 1000جبکہ 3000 کی نفری پہلے سے ہے، ایس پی یو سے 1000، ٹریننگ ڈائریکٹریٹ سے 1200،گوجرانوالہ ریجن سے 1300جبکہ 600 نفری پہلے سے موجود ہے، اسی طرح سرگودھا ریجن سے 500 جب کہ 400نفری پہلے سے ہے، شیخوپورہ سے 200، ننکانہ صاحب سے100، ضلع سرگودھا سے 200، خوشاب سے 200،فیصل آباد سے 500جبکہ 800نفری پہلے سے، بہاولنگر سے 200،بہاولپور سے 300،مظفرگڑھ سے 300اوراوکاڑہ سے 200اہلکار اسٹینڈ بائی رکھے گئے۔

    مراسلے میں کہا گیا ہے کہ فورس اینٹی رائٹ سامان سے لیس، متعلقہ ضلع و یونٹ کا آرپی او ، سی پی او اور ڈی پی او فورس کے ٹرانسپور ٹ کا ذمہ دار ہو گا آئی جی پنجاب کے حکم پر اے آئی جی آپریشنز پنجاب نے متعلقہ افسران کو مراسلہ ارسال کردیا۔

  • عالمی بینک کا پاکستان میں ریونیو بڑھانے کی کوششوں کیلئے حمایت جاری رکھنے کا عزم

    عالمی بینک کا پاکستان میں ریونیو بڑھانے کی کوششوں کیلئے حمایت جاری رکھنے کا عزم

    اسلام آباد: چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے عالمی بینک کے وفد نے ملاقات کی، جس میں عالمی بینک نے پاکستان میں محصولات بڑھانے کے لیے کوششوں میں اپنا تعاون جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔

    ایف بی آر سے جاری اعلامیے کے مطابق ایف بی آر ہیڈکوارٹرز میں چیئرمین ایف بی آرراشد محمود لنگڑیال سے عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹرناجی بیہنسن کی سربراہی میں وفد نے ملاقات کی اورملاقات میں پاکستان ریزز ریونیو پراجیکٹ کو ایف بی آر کے ٹرانسفارمیشن پلان کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ چیئرمین ایف بی آر نے عالمی بینک کی ٹیم کو ایف بی آر کے ٹرانسفارمیشن پلان کے بارے میں حکومت کے وژن سے آگاہ کیا اور کہا کہ ٹرانسفارمیشن پلان کامقصد محصولات میں اضا فہ اور ٹیکس کمپلائنس میں سہولت فراہم کرنا ہے،چیئرمین ایف بی آرکا کہنا تھا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن اورانسانی وسائل کی صلاحیت بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں، ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت ایف بی آر کی ٹیکس ایڈمنسٹریشن میں وسیع تر اصلاحات کی جارہی ہیں۔

    ایف بی آر نے اعلامیے میں کہا کہ چیئرمین ایف بی آر نے عالمی بینک کی ٹیم سے ان اصلاحاتی ا قدامات کے لیے مزید تعاون کا کہا جن میں ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز کا قیام، سپلائی چین کی ڈیجیٹلائزیشن اور ان اقدمات کے لیے درکار فزیبلٹی اسٹڈیز شامل ہیں، عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نے پاکستان میں ریونیو بڑھانے کی کوششوں کے لیے حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستان ریونیو پروجیکٹ کے تحت ایف بی آر کے ٹرانسفارمیشن پلان کی سرگرمیوں میں تعاون کے لیے مل کر کام کریں گے۔

    عالمی بینک کے وفد میں لیڈ کنٹری اکانومسٹ ٹوبیاس اختر حق، پبلک سیکٹر اسپیشلسٹ ارم توقیراور سینئرآپریشنزآفیسرایوا لیزلوٹ لیسکرا ویٹ شامل تھے۔

  • احتجاج سے قبل علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری جاری

    احتجاج سے قبل علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری جاری

    لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے رنگ روڈ لاہور-سیالکوٹ موٹر وے پر توڑ پھوڑ کے معاملے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا (کے پی) علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے-

    باغی ٹی وی : انسداد دہشت گردی عدالت کے ایڈمن جج منظر علی گل ے لاہور کے تھانہ مناواں میں درج مقدمے کے تفتیشی افسر کی درخواست پر سماعت کی اور وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے سماعت کے دوران تھانہ مناواں لاہور کے مقدمے میں تفتیشی افسر نے عدالت سے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا کی تھی-

    تھانہ مناواں لاہور میں علی امین گنڈا پور کے خلاف رنگ روڈ لاہور-سیالکوٹ موٹر وے پر توڑ پھوڑ کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا اورمقدمہ نمبر 4499/24 کے تفتیشی افسر نے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں وارنٹ گرفتاری کی استدعا کی تھی جس پر انسداد دہشت گردی عدالت نے مقدمہ میں علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کئے ہیں ۔

    تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزم مقدمہ میں تفتیش کیلئے پیش نہیں ہوا ہے، وارنٹ گرفتاری جاری کئے جائیں، عدالت کے ایڈمن جج منظرعلی گل نے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے ہیں۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد میں احتجاج کے اعلان کے بعد راولپنڈی پولیس کی جانب سے کارکنان کی پکڑ دھکڑ جاری ہے، تھانہ آر اے بازار نے پی ٹی آئی کے 5 کارکنان کو گرفتار کر لیا ہے۔

    راولپنڈی پولیس کے مطابق پی ٹی آئی کارکنان بکرا منڈی کے مقام پر احتجاج کے سلسلے میں مہم چلا رہے تھے، جس پر ان کے خلاف کارروائی کی گئی،تحریک انصاف کے گرفتار ہونے والے کارکنوں میں راجہ شاہد، راجہ ابرار، حسن خالد، ناصرقریشی اور نعمان انصر شامل ہیں، انہیں متعلقہ تھانے میں رکھا گیا ہے۔

  • ضمنی بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی،جماعت اسلامی نےا لیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی

    ضمنی بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی،جماعت اسلامی نےا لیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی

    کراچی: جماعت اسلامی نے 14 نومبر کے ضمنی بلدیاتی انتخابات میں مبینہ طور پر بدترین دھاندلی و مینڈیٹ پر ڈاکے کے خلاف الیکشن کمیشن آف پاکستان اسلام آباد میں درخواست دائر کردی۔

    باغی ٹی وی: جماعت اسلامی کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں درخواست ضمنی انتخابات کے امیدوار یوسی 7 ٹی ایم سی ماڈل ٹاؤن ضلع کورنگی انصار اللہ اور یوسی 7 وارڈ 1 ٹی ایم سی ضلع کورنگی کامران سولنگی نے جمع کرائی درخواست میں کہا گیا کہ پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی)، حکومت سندھ اور صوبائی الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے دھاندلی کی گئی جبکہ درخواست کے ساتھ فارم 11 اور12 سمیت تمام تحریری ثبوت بھی الیکشن کمیشن آف پاکستان میں پیش کردیئے گئے ہیں۔

    جماعت اسلامی کے امیدواروں نے درخواست میں کہا کہ ان کے پولنگ ایجنٹوں نے متعلقہ پولنگ اسٹیشنز کے پریزائیڈنگ افسران سے ان کے دستخط شدہ فارم 11 اور12 حاصل کیے تھے جن کے مطابق جماعت اسلامی کے امیدوار بھاری اکثریت کامیاب قرار پائے،انہوں نے مؤقف اپنایا کہ فارم 11 اور 12 میں کامیابی کے باوجود آراو آفس سے جاری شدہ انیکس اے اور فارم 13 میں نتائج تبدیل کر کے پیپلزپارٹی کے امیدواروں کو کامیاب ظاہر کیا گیا۔

    امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ صوبائی الیکشن کمیشن کو دھاندلی شدہ نشستوں کے حتمی نتائج جاری کرنے سے روکے جماعت اسلامی ضمنی بلدیاتی انتخابات میں پری پول دھاندلی اورالیکشن نتائج تبدیل کرنے کے حوالے سے انتخابات سے پہلے اور ووٹنگ کے دوران بھی الیکشن کمیشن کو تحریری طور پر آگاہ کرچکی ہے، جماعت اسلامی بد ترین دھاندلی اورعوامی مینڈیٹ پر قبضے کے خلاف آئینی، قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔

  • دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر پاکستانی سپاہی ہے،آرمی چیف

    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر پاکستانی سپاہی ہے،آرمی چیف

    اسلام آباد: آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر پاکستانی سپاہی ہے-

    باغی ٹی وی : وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں نیشنل ایکشن پلان پر ایپکس کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوا،اجلاس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر، ڈی جی آئی ایس آئی سمیت انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی شریک ہوئے،اجلاس کا مرکزی ایجنڈا پاکستان کی انسداد دہشت گردی (CT) مہم کو دوبارہ فعال کرنا تھا۔ شرکاء کو ملک کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک کی اندرونی و بیرونی سکیورٹی صورتحال پر غور کیا گیا اور کمیٹی کو خیبر پختونخوا، بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی،کمیٹی نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے سکیورٹی فورسزکےآپریشنزپر اطمینان کا اظہار کیا،نیشنل ایکشن پلان کی وفاقی ایپکس کمیٹی نے بلوچستان میں دہشتگرد تنظیموں کےخلاف جامع فوجی آپریشن کی منظوری دے دی۔

    اجلاس میں طے کیا گیا کہ مذہبی انتہا پسندی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی، جرائم اور دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے دشمن قوتوں کی طرف سے پھیلائی گئی گمراہ کن مہمات کا سدباب کیا جائے گا، ان چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے ایک متحد سیاسی آواز اور قومی بیانیہ ضروری ہے۔

    سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے اور مکمل قومی ہم آہنگی کو انسداد دہشت گردی مہم کی کامیابی کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا، اجلاس میں نیکٹا (NACTA) کو دوبارہ فعال کرنے اور قومی و صوبائی سطح پر انٹیلی جنس فیوژن اور تھریٹ اسسمنٹ سینٹرز کے قیام پر اتفاق کیا گیا۔

    اجلاس میں ایک جامع حکمت عملی اپنائی گئی جس میں سفارتی، سیاسی، معلوماتی، انٹیلی جنس، سماجی و اقتصادی اور عسکری کوششوں کو شامل کیا گیا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی تعاون کو یقینی بنانے کے لیے اضلاع کی سطح پر کوآرڈی نیشن کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

    اپیکس کمیٹی کے مطابق اجلاس میں بلوچستان میں دہشت گرد تنظیموں، بشمول مجید بریگیڈ، بی ایل اے، بی ایل ایف اور بی آر اے ایس کے خلاف ایک جامع فوجی آپریشن کی منظوری دی گئی۔ ان تنظیموں پر الزام ہے کہ وہ معصوم شہریوں اور غیر ملکیوں کو نشانہ بنا کر پاکستان کی اقتصادی ترقی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی اجلاس سے خطاب میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے پاکستان کی سلامتی کو لاحق ہر خطرے کو ختم کرنے کے لیے پاک فوج کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا اور حکومت کی جانب سے امن و استحکام کے اقدامات کو بھرپور حمایت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر پاکستانی سپاہی ہے، اس جنگ میں کوئی یونیفارم میں ہے اور کوئی یونیفارم کے بغیر اور ہم سب کو مل کردہشت گردی کے ناسور سے لڑنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم سب پر آئین پاکستان مقدم ہے، آئین ہم پرپاکستان کی اندرونی اور بیرونی سکیورٹی کی ذمہ داری عائد کرتا ہے اور جوبھی پاکستان کی سکیورٹی میں رکاوٹ بنے گا، ہمیں کام کرنے سے روکے گا اسے نتائج بھگتنا ہوں گے پاکستان آرمی اورقانون نافذ کرنے والے ادارےگورننس میں موجود خامیوں کو روزانہ اپنے شہیدوں کی قربانی دےکرپوراکر رہے ہیں۔

    اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھاکہ پاکستان کی معیشت سب کی کاوشوں سے استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے، اہم پہلو ملک کی ترقی اور خوشحالی ہے، ترقی اور خوشحالی کیلئے ملک میں معاشی اور سیاسی استحکام اہم ہے۔

    وزیراعظم نے کہاکہ صوبوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے آئی ایم ایف پروگرام کیلئے وفاق کی مدد کی، آج پاکستان کا اسٹاک ایکسچینج تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے، ہماری آئی ٹی ایکسپورٹس میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، ترقی تب ہوگی جب ملک میں اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری ہو اور میری دعا ہے یہ آئی ایم ایف پروگرام آخری ہو۔

    وزیراعظم کا کہنا تھاکہ آئی ایم ایف پروگرام کیلئے ہمیں سعودی عرب، یو اے ای اور چین کی مدد لینا پڑی ہمیں ٹیکس بیس بڑھانا ہے لیکن یہ راتوں رات نہیں ہوگا، سب کو ہاتھ بٹانا ہوگا، ہمارے پاس اربوں روپے کے معدنی ذخائر ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب نے ایگری کلچر ٹیکس میں لیڈ لی ہے، وزیراعلیٰ کے پی نے بھی کابینہ سے ایگری کلچر ٹیکس منظور کرالیا ہے۔

    شہباز شریف کا کہنا تھاکہ کیا دھرنا پاکستان کے مفاد ہے؟ ہمیں بیٹھ کرٹھنڈے دل سے سوچنا ہے، فیصلہ کرنا ہے دھرنے اورلانگ مارچ کریں یا ترقی کیلئےکام کریں؟ کیا ملک اس وقت دھرنے، جلوس اور لانگ مارچ کامتحمل ہوسکتاہے؟ ہمیں ملکی خوشحالی کیلئے مل بیٹھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔

    وزیراعظم نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی کہ وہ طے شدہ اقدامات کو تندہی سے آگے بڑھائیں اور ان کے بروقت نفاذ کو یقینی بنائیں،وزیراعظم نے پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ، عوام کے تحفظ اور اقتصادی و سماجی استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے مربوط اور مستقل کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

  • یوکرین کا روس پر امریکی ساختی میزائل سے پہلا حملہ، تیسری جنگ عظیم کا خدشہ

    یوکرین کا روس پر امریکی ساختی میزائل سے پہلا حملہ، تیسری جنگ عظیم کا خدشہ

    کیف: یوکرین نے روس کے برائنسک علاقے میں یوکرائنی سرحد سے 75 میل کے فاصلے پر کاراچیف میں گولہ بارود کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا-

    باغی ٹی وی: روس کے سرکاری میڈیا نے منگل کو رپورٹ کیا کہ روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ یوکرین نے ملک کو امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ ATACMS میزائلوں سے نشانہ بنایا،پانچ میزائلوں کو مار گرایا گیا اور ایک کو نقصان پہنچا، جس کے ٹکڑوں کی وجہ سے خطے میں ایک فوجی تنصیب میں آگ لگ گئی یہ فوجی مرکز کاراچیف میں واقع تھا، جو وسطی کرسک سے تقریباً 100 میل شمال میں تھا۔

    یہ بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے ATACMS میزائلوں کے استعمال کی اجازت دینے کے چند دن بعد آیا ہے اس خدشے کے باوجود کہ یہ تنازعہ کو قابو سے باہر کر سکتا ہے۔

    تاس نیوز ایجنسی کے مطابق روسی وزارت دفاع نے بتایا کہ ماسکو وقت کے مطابق 03:25 پر، یوکرین کی مسلح افواج نے برائنسک کے علاقے میں چھ ATACMS بیلسٹک میزائلوں سے ایک ہدف کو نشانہ بنایا "فضائی دفاعی نظام نے برائنسک کے علاقے میں پانچ ATACMS میزائلوں کو مار گرایا، ایک کو نقصان پہنچا ، اے ٹی اے سی ایم ایس کے ٹکڑے برائنسک کے علاقے میں ایک فوجی سہولت کے تکنیکی علاقے پر گرے، آگ لگ گئی، اسے بجھا دیا گیا –

    منگل کو یہ اطلاع ملی تھی کہ روسی صدر نے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی حد کو کم کرتے ہوئے ایک نئے نظریے پر دستخط کیے ہیں اگر یوکرین روس کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے مغربی فراہم کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا استعمال کرے۔

    کریملن کے پریس سکریٹری دمتری پیسکوف نے کہا کہ روسی فیڈریشن جارحیت کی صورت میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا حق محفوظ رکھتی ہے، یوکرین کو روس کے اندرونی علاقوں پر حملہ کرنے کے لیے امریکی ساختہ ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دینے کے امریکہ کے فیصلے سے کشیدگی میں اضافہ ہو گا اور تنازع میں امریکہ کی شمولیت مزید گہری ہو جائے گی، سبکدوش ہونے والی جو بائیڈن انتظامیہ یوکرین میں تنازع کو بڑھانا چاہتی ہے۔

    منگل کو روسی صدر ولادیمیر پوتین نے ایک حکم نامے پر دستخط کیے جس میں ملک کے لیے ایک تازہ ترین جوہری نظریے کی منظوری دی گئی جو کہ موجودہ سیاسی صورتحال سے ہم آہنگ نقطہ نظرہے۔

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے منظور کی گئی نئی نیوکلئیر ڈاکٹرائن میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی غیر جوہری ملک کا روس پر حملہ، اگر کسی جوہری طاقت کی حمایت سے ہو تو وہ دونوں ممالک کا روس پر مشترکہ حملہ تصور کیا جائے گا روس یا اس کے اتحادی بیلا روس پر اگر روایتی ہتھیاروں سے ایسا حملہ کیا گیا جو اس کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے کسی بڑے خطرے کا سبب بنے تو اس صورت میں بھی روس جوہری ہتھیار استعمال کرسکتا ہےکسی فوجی اتحاد یا بلاک کے رکن کیجانب سے روس پر جارحیت پورے اتحاد کی جار حیت تصور کی جائے گی۔

    نئی ڈاکٹرائن کے تحت روس پر کسی بڑے فضائی حملے کی صورت میں جوہری ردعمل دیا جا سکتا ہے روس کی یہ نئی جوہری ڈاکٹرائن ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کو امریکا کے فراہم کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے روس کے اندر حملے کی اجازت دی ہے۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے واضح کیا کہ اس دستاویز کی اشاعت کا وقت پہلے سے طے شدہ تھا اور پیوٹن نے رواں سال کے آغاز میں اس ڈاکٹرائن کو موجودہ صورتحال کے مطابق تبدیل کرنے کی ہدایت دی تھی۔

    دوسری جانب یورپی یونین کے خارجہ اور سکیورٹی پالیسی کے اہلکار جوزپ بوریل نے اعتراف کیا ہے کہ یورپی یونین کے کچھ ممالک نے چپکے سے اپنے ہتھیاروں کو یوکرین کی سرزمین سے روس میں گہرائی میں حملہ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

    بوریل نے کہا کہ "امریکہ نے روسی سرزمین کے اندر 300 کلومیٹر کی گہرائی میں اپنے ہتھیاروں کے ساتھ حملوں کی اجازت دینے کا ایک اہم فیصلہ کیا۔ دیگر ممالک نے اس کا اعلان کیے بغیر روس کے اندر حملوں پر پابندیاں ہٹا دیں۔ یہ یورپی یونین میں قومی طور پر (ہر ملک کے لیے) ایک اعزاز سمجھا جاتا ہے۔

    اس سے قبل’نیویارک ٹائمز‘ نے اپنے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے ’اٹاکمز‘ میزائل کا استعمال کرتے ہوئے روسی علاقے کو نشانہ بنانے کی اجازت دی تھی۔ اخبار نے بتایا تھا کہ فرانس اور برطانیہ نے بھی اسکالپ اور سٹارم شیڈو کے ذریعے حملوں کی اجازت دی تھی، اس خبر کی سرکاری تصدیق جاری کر دی گئی ہے۔

  • پی ٹی آئی سے بے تُکے مطالبات پر بات نہیں ہوسکتی، سینیٹر عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی سے بے تُکے مطالبات پر بات نہیں ہوسکتی، سینیٹر عرفان صدیقی

    اسلام آباد: سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی پارٹی لیڈر اور خارجہ امور کی قائمہ کمیٹی کے سربراہ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی 24 نومبر کو احتجاج کا اعلان کرکے بند گلی میں آ چکی ہے۔

    باغی ٹی وی: نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں عرفان صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چار مطالبات خیالی غبارے ہیں، ان پر حکو مت کسی طرح کے کوئی مذاکرات نہیں کر رہی ہے نہ پی ٹی آئی کو اس سلسلے میں کوئی رعایت دی جاسکتی ہےیہ چاروں مطالبات نان سارٹر ہیں، پی ٹی آئی 24 نومبر کو احتجاج کا اعلان کرکے بند گلی میں آ چکی ہے وہ اس سے نکلنے کے لئے کسی بہانے کی تلاش میں ہے، خود پی ٹی آئی کے سینئر رہنما رسوائی سے بچنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔

    عرفان صدیقی نے کہا کہ انہیں سنجیدہ مذاکرات کا نام نہیں دیا جاسکتا، عمران خان نے اپنی حکومت کے دوران، غداری، ایفی ڈرین، ہیروئن اور کرایہ داری جیسے جھوٹے اور مضحکہ خیز مقدمات بنا کر اپوزیشن کو جیلوں میں ڈالا جبکہ ہم نے ایسا ہرگز نہیں کیا، عمران خان اور ان کے تمام ساتھیوں پر ٹھوس مقدمات ہیں۔

    بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کیلئے اسٹیبلشمنٹ کا کہا ہے،علیمہ خان

    اس سوال کے جواب میں کہ کیا نوازشریف، عمران خان کو جیل میں دیکھنا چاہتے ہیں؟ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہاکہ نوازشریف اس نوع کا سیاستدان نہیں، اُس نے تو لندن سے آتے ہی ماضی کو بھلا دینے کی بات کی تھی۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنے سنگین جرائم کی وجہ سے جیل میں ہیں اور مقدمات بھگت رہے ہیں، کیا توشہ خانہ کی گھڑیاں اور زیورات نوازشریف نے دبئی کے بازاروں میں بیچنے کے لئے کہا تھا؟ کیا 190 ملین پاؤنڈ کے عوض زمین ہتھیانے اور نام نہاد القادر ٹرسٹ بنانے کے لئے نوازشریف نے کہا تھا؟ کیا اڑھائی سو فوجی تنصیبات پر حملے نوازشریف نے کرائے تھے۔

    شرجیل انعام میمن کی بلاول بھٹو سے ملاقات

    سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ اگر کوئی معقول مطالبات ہیں تو آئیں بات کریں لیکن 26 ویں ترمیم ختم کرنے، مینڈیٹ واپس کرنے، مقدمات ختم کرنے اور تمام قیدیوں کو رہا کردینے جیسے بے تُکے مطالبات پر بات نہیں ہوسکتی، 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کا اقرار تو جنرل باجوہ کرچکے ہیں، انہوں نے مولانا فضل الرحمن سے کہا تھا کہ ”ہاں ہم نے عمران خان کو جتانا تھا لیکن مصالحہ کچھ زیادہ لگ گیا، پی ٹی آئی 24 نومبر کی کال واپس لے لے تو اچھا ہے ورنہ حکومت آئین وقانون کے تحت عوام کی جان ومال کے تحفظ کے لئے اپنا فرض ادا کرے گی۔

  • شرجیل انعام میمن کی بلاول بھٹو  سے ملاقات

    شرجیل انعام میمن کی بلاول بھٹو سے ملاقات

    کراچی: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے سندھ حکومت کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے بلاول ہاؤس میں ملاقات کی-

    باغی ٹی وی: ملاقات میں شرجیل میمن نے بلاول بھٹو کو صوبائی حکومت کی کارکردگی کو اجاگر کرنے سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی،شرجیل میمن نے چیئرمین بلاول بھٹو کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں عوام کی خدمت کے تسلسل کے عمل کو اجاگر کرنے کے لیے صوبائی محکمہ اطلاعات اپنے فرائض ادا کررہا ہے، سندھ میں پبلک ٹرانسپورٹ کا جال بچھایا جارہا ہے اور اس سلسلے میں پیدا ہونے والے عوامی مسائل کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جارہا ہے۔

    اس موقع پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ عوام میں اس احساس کو بھی مزید اجاگر کرنا ضروری ہے کہ حکومت ہر قدم پر عام آدمی کے ساتھ کھڑی ہے۔

  • بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کیلئے اسٹیبلشمنٹ کا  کہا ہے،علیمہ خان

    بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کیلئے اسٹیبلشمنٹ کا کہا ہے،علیمہ خان

    راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کیلئے اسٹیبلشمنٹ کا ہی کہا ہے،انہوں نے علی امین گنڈا پور اور بیرسٹرگوہر کو مذاکرات کی اجازت دی ہے

    باغی ٹی وی: اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں علیمہ خان کا کہنا تھاکہ آج بانی پی ٹی آئی سے طویل ملاقات ہوئی ہے، بانی پی ٹی آئی نے علی امین گنڈا پور اور بیرسٹرگوہر کو مذاکرات کی اجازت دی ہے، انہوں نے دونوں رہنماؤں کواپنے مطالبات پرمذاکرات کی اجازت دی ہے بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے دونوں رہنماؤں نے مذاکرات کی اجازت مانگی ہے، 24 نومبر پاکستان کیلئے اہم دن ہے، 8فروری کی طرح 24 نومبر کو بھی نکلیں۔

    علیمہ خان کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے ہمارا احتجاج پرُامن ہوگا، مینڈیٹ کی واپسی، کارکنوں، رہنماؤں کی رہائی اورجمہوریت کی بحالی کیلئے مذاکرات کاکہاگیا اور جمعرات تک کا وقت دیا ہے،چوری شدہ مینڈیٹ واپس ہوتاہےتو 24 نومبرکا احتجاج جشن میں تبدیل ہوجائےگا، بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کیلئے اسٹیبلشمنٹ کا ہی کہا ہے، حکومت تو خود کہتی ہے اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے، حکومت والے تو ٹی وی پرکہہ رہےہیں ہمارےہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔

    انہو ں نے کہا کہ جب جماعتوں نےکہہ دیا ہمارےہاتھ میں کچھ نہیں پھرانہیں سےمذاکرات کریں گےجن کے ہاتھ میں ہے، بانی پی ٹی آئی نے یہی کہا ہے پریکٹیکل چیز ہے اور حالات بھی اس وقت یہی ہیں۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف پنجاب کے رہنماؤں نے 24 نومبر کو احتجاج کی کال پر کھل کر اختلاف کردیا پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق پنجاب کے رہنماؤں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اراکین نے شکوے کیے کہ پشاور میں ہونے والا اجلاس پنجاب کا تھا مگر پنجاب کے رہنماؤں کو نظر انداز کیا گیا، علی امین گنڈا پور نے حماد اظہر اور میاں اسلم اقبال کو پنجاب کے حوالے بات ہی نہیں کرنے دی۔

    ارکان نے شکوہ کیا کہ پنجاب میں کیا مشکلات ہیں، احتجاج کے حوالے سے پلاننگ پر کوئی بات چیت نہیں کی گئی، کارکنوں اکٹھا کرکے اسلام آباد لے جانے میں مشکلات ہیں، پنجاب میں کرایہ پر گاڑیاں ہی نہیں مل رہیں جب کہ ٹرانسپورٹرز بھی گاڑی دینے کو تیار نہیں ہیں،احتجاج کے حوالے سے پنجاب کے رہنماؤں سے مشاورت کی جاتی تو بہتر ہوتا۔

  • نواز شریف ، اسحاق ڈار کا معاشی استحکام میں اہم کردار، تجزیہ : شہزاد قریشی

    نواز شریف ، اسحاق ڈار کا معاشی استحکام میں اہم کردار، تجزیہ : شہزاد قریشی

    امریکہ کے نومنتخب صدر ٹرمپ امریکی معیشت جو پہلے ہی مستحکم ہے وہ امریکی معیشت کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیتے رہے الیکشن کے دوران وہ امریکی عوام کو مزید خوشحال بنانے روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر زور دیتے دنیا کی سپر پاور کے صدر ٹرمپ جانتے ہیں کہ اگر امریکہ معاشی مستحکم ہوگا تو وہ دنیا پر حکمرانی کر سکیں گے۔ پاکستان میں نوازشریف کو جب بھی اقتدار ملا ان کی توجہ کا مرکزملکی معیشت ہی رہی آپ نوازشریف سے سیاسی اختلافات کر سکتے ہیں ایسا بھی نہیں کہ نوازشریف کسی ولی یا فرشتے کا نام ہے تاہم ان کی توجہ کا مرکز ملکی معیشت کے ساتھ ہے۔ بیروزگاری کے خاتمے، نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے پاکستان کے عوام کے لئے جدید سہولتیں فراہم کرنے ، جس میں موٹر ویز جدید ایئرپورٹ اور بہت سے میگا پراجیکٹ شامل ہیں موجودہ وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کا معیشت کو مستحکم کرنے میں بڑا کردار رہا۔ نوازشریف کے دور حکومت میں معیشت کو ملکی اور بین الاقوامی ماہرین اقتصادیات بھی سراہتے رہے لیکن بدقسمتی سے ان کی حکومت کے خلاف ملک کے اندر ایسی ایسی سازشیں ہوئیں ترقی کرتا پاکستان دوبار کمزور معیشت کی حذف جانے لگا اور عوام کے لئے بنیادی مسائل کھڑے ہوتے رہے۔ نوازشریف کے دور حکومت میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ پاکستان عالمی مالیاتی اداروں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے قریب پہنچ چکا تھا۔ پھر ہنستے بستے عوام اور پاکستان کی مضبوط ترین معیشت کو کمزور کرنے اور نوازشریف کی حکومت کیخلاف دھرنوں کاآغاز ہوا عالمی دین طاہر القادری اور عمران خان کی شکل میں جلسے جلوس دھرنے دیئے گئے اس وقت کی عدلیہ کے ججوں نے اہم کردار ادا کیا اور مستحکم معیشت کے حامل پاکستان اور عوام ایک بار پھر کھائی میں جاگرے تادم تحریر پاکستان کی معیشت مستحکم نہ ہو سکی جس کا خمیازہ پاکستان بطور ریاست اور عوام بھگت رہے ہیں موجودہ امریکی الیکشن میں معیشت سب سے اہم موضوع تھا۔ بدقسمتی سے پاکستان کی عوام کو گمراہ کردیا گیا نوازشریف کو جب جب اقتدار ملا انہوں نے اپنی توجہ معیشت پر دی آج امریکی صدر کی توجہ بھی معیشت پر ہے جنگوں پر نہیں سوال یہ ہے کہ چند لوگوں نے اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل کی خاطر پاکستان کے مفادات کو پس پشت کیوں ڈال دیا؟-

    (تجزیہ شہزاد قریشی)