Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • 26ویں ترمیم (ن) اور (ش) کے گلے پڑے گی ،شیخ رشید

    26ویں ترمیم (ن) اور (ش) کے گلے پڑے گی ،شیخ رشید

    راولپنڈی: سابق وفاقی وزیر شیخ رشید نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے 26 ویں ترمیم کا جنازہ نکال دیا۔

    باغی ٹی وی : راولپنڈی کی انسداددہشتگردی عدالت کے باہر میڈیاسےگفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ 27 ویں ترمیم کے خواب دیکھنا چھوڑ دیں،27 ویں ترمیم کے خلاف مولانا فضل الرحمان کال دیں گے تو ان کو لگ پتا جائے گا مولانا فضل الرحمان نے 26 ویں ترمیم کا جنازہ نکالا ہے، یہ ترمیم (ن) اور (ش) کے گلے پڑے گی اور انہیں کچھ نہیں ملے گا،یہ جو خواب دیکھ رہے تھے سب چکنا چور ہو گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ راولپنڈی میں انسدادِ دہشت گردی عدالت میں 9 مئی کے مقدمات کی سماعت ہوئی، شیخ رشید، عمر ایوب، زرتاج گل، راشد حفیظ، صداقت عباسی اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے مقدمے کی سماعت کی راشد حفیظ، صداقت عباسی، واثق قیوم عباسی اور زرتاج گل کو چالان کی نقول تقسیم کی گئیں،8 نومبر کو آئندہ سماعت پر ملزمان کے خلاف فردِ جرم کی کارروائی کی جائے گی۔ ملزمان پر 9 مئی کو توڑ پھوڑ، ہنگامہ آرائی، اہم تنصیبات پر حملے اور جلاؤ گھیراؤ کا الزام ہے۔

  • چینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی،اسحاق ڈار

    چینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی،اسحاق ڈار

    اسلام آباد:پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے کہا کہ ہم مل کر ان دہشت گردوں کے خلاف کریک ڈاؤن کر سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ (پی سی آئی) کے زیر اہتمام ’’چائنا ایٹ 75: اے جرنی آف پروگریس، ٹرانسفارمیشن اینڈ لیڈرشپ‘‘ کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے کہا کہ ہم مل کر ان دہشت گردوں کے خلاف کریک ڈاؤن کر سکتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ چین دہشت گردانہ حملوں کے مرتکب افراد کے خلاف اقدامات دیکھنا چاہتا ہے اور ایسے حملوں میں ملوث تمام افراد کو سزا دی جا سکتی ہے یہ چین کے لیے ناقابل قبول ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستانی فریق پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہر یوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چینی سفیر کو یقین دلایا کہ چینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی،وہ جلد ہی پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے ساتھ چین کا دورہ کریں گے تاکہ نومبر کے اوائل میں مذاکرات میں شرکت کریں جس کی دعوت چینی صدر نے دی ہے وہ اس بارے میں قطعی تفصیلات بتائیں گے کہ حکومت نے کس طرح کارروائی کی اور دہشت گردانہ حملوں کے مرتکب افراد کو زمینی قانون کے تحت لائی اور ان میں سے بہت سے پہلے ہی پکڑے جا چکے ہیں، وہ تمام تفصیلات عوا می طور پر شیئر نہیں کر سکتے۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ دنیا میں پاکستان واحد استثنیٰ ہے جہاں چینی حکومت اپنے شہریوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع کے باوجود اپنے منصو بوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ (سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید) کا نام لیے بغیر کہا کہ جب کوئی کابل گیا اور چائے کے کپ کی تصویر لے کر آیا اور ’مفاہمت‘ کے نام پر 102 کٹر مجرموں کو رہا کیا، افغانستان کے ساتھ سرحدیں غیر محفوظ ہیں جس کے نتیجے میں 35000 سے 45000 طالبان پاکستان میں گھس آئے ہیں انہوں نے کہا کہ چینی پریشان ہیں اور ہمیں اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا چاہیے لیکن جو لوگ ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں ان کو سزا کون دے گا۔

  • پاکستان میں استادوں کو  اعلیٰ تربیت دینے کیلئے آکسفورڈ یونیورسٹی اور ملالہ فنڈ میں معاہدہ

    پاکستان میں استادوں کو اعلیٰ تربیت دینے کیلئے آکسفورڈ یونیورسٹی اور ملالہ فنڈ میں معاہدہ

    پاکستان میں اساتذہ کو تعلیم دینے والے استادوں کو اعلیٰ تربیت دینے کے لیے آکسفورڈ یونیورسٹی اور ملالہ فنڈ میں معاہدہ ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی اور ملالہ فنڈ نے اس حوالے سے معاہدے پر دستخط کر دئیے،معاہدے کے تحت غیر سرکاری تنظیم دوربین اساتذہ کو تربیت فراہم کرےگی۔

    گلوکار اور سماجی کارکن شہزاد رائے نے نجی خبررساں ادارے سے گفتگو میں جنوبی ایشیا میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام ہے،اور معاہد ے کے تحت غیر سرکاری تنظیم دور بین اساتذہ کو تربیت فراہم کرے گی مجوزہ پروگرام پاکستان ٹیچرز ٹریننگ انسٹی ٹیوشن میں بی ایڈ پروگر ام کے تحت پڑھایا جائےگا یہ منصوبہ روایتی نظام کو نئی جہت دےگا جس کا فائدہ آنے والی نسلوں کو بھی ہوگا، اس منصوبے کے تحت سرکاری اسکولوں کی تربیت کے لیے بھی ٹیچرز ایجوکیٹرز تیار کیے جائیں گے۔

    پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس ٹیم پر حملہ کرنے والے 3 خوارجی ہلاک

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر ایان تھامسن کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے اساتذہ کو پڑھانے والے ایجوکیٹرز کو بہت فائدہ ہوگا۔

    ملالہ فنڈ ایک بین الاقوامی ، غیر منافع بخش تنظیم ہے جو لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کام کرتی ہے اس کی بنیاد ملالہ یوسف زئی ، جو پاکستان میں خواتین تعلیم کے لیے سرگرم کارکن اور سب سے کم عمر نوبل انعام یافتہ ہیں اور ان کے والد ضیاء الدین، نے مل کر رکھی،تنظیم کا بیان کردہ ہدف یہ ہے کہ ہر لڑکی کے لیے 12 سال تک مفت ، محفوظ اور معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنائی جائے،بمطابق جولائی 2020 ، تنظیم کا عملہ 48 ہے اور اسے افغانستان ، برازیل ، ایتھوپیا ، ہندوستان ، لبنان ، نائیجیریا ، پاکستان اور ترکی میں کام کرنے والے 58 وکلا کی مدد حاصل ہے۔

  • بلوچستان: اسکول کلرک نے امتحانی فیس کے 23 لاکھ روپے  جوئے میں ہار دیئے

    بلوچستان: اسکول کلرک نے امتحانی فیس کے 23 لاکھ روپے جوئے میں ہار دیئے

    ژوب: بلوچستان کے ضلع ژوب میں اسکول کلرک نے امتحانی فیس کے 23 لاکھ روپے جوئے میں ہار دیئے-

    باغی ٹی وی : گورنمنٹ ماڈل اسکول ژوب میں نویں اور دسویں جماعت کے 878 طلبہ نے امتحانی فیس کی مد میں 23 لاکھ روپے کلرک آفس میں جمع کرائے لیکن اسکول کلرک شہزاد جمال مبینہ طور پر یہ رقم آن لائن جوئے میں ہار گیا، جس بات کا اسکول انتظامیہ کو 26 اکتوبر کو پتا چلا،واقعہ کا علم ہونے پر اسکول پرنسپل نے کلرک کے خلاف ژوب تھانے میں مقدمہ درج کروایا، اور پولیس نے جوئے کے شوقین کلرک کو گرفتار کرلیا۔

    گورنمنٹ ماڈل اسکول ژوب میں نویں اور دسویں جماعت کے 878 طلبہ پریشانی کا شکار ہیں، بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈر ی ایجوکیشن میں میٹرک کے لیے فیس جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 اکتوبر مقرر ہے، بروقت فیس جمع نہ ہونے کی صورت میں طلبہ کا امتحان متاثر ہونے کا خدشہ ہے-

    بلوچستان بورڈ کے چیئرمین اعجاز بلوچ نے طالب علموں کی پریشانی کو مدنظر رکھتے ہوئے گورنمنٹ ماڈل اسکول ژوب کے 878 طالب علموں کو امتحانی فیس جمع کرانے میں 10 دن کی رعایت دی ہے۔

  • قاضی فائز عیسیٰ مڈل ٹیمپل میں” بینچر”منتخب،پی ٹی آئی کا ادارے کے باہر احتجاج

    قاضی فائز عیسیٰ مڈل ٹیمپل میں” بینچر”منتخب،پی ٹی آئی کا ادارے کے باہر احتجاج

    برطانیہ کی قانونی درسگاہ مڈل ٹیمپل میں سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بطور بینچرمنتخب کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ حکام کے مطابق سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو اس سال مئی میں تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی، قاضی فائز عیسیٰ نے مڈل ٹیمپل کی انتظامیہ کو آگاہ کیا تھا کہ وہ 25 اکتوبر کو اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد ہی شرکت کر سکتے ہیں جس پر ان کے اعزاز میں تقریب کی تاریخ 29 اکتوبر مقرر کی گئی، اس موقع پر مڈل ٹیمپل انتظامیہ نے بینچرز کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام بھی کر رکھا ہے۔

    قاضی فائز عیسیٰ کو مڈل ٹیمپل میں بطور بینچر شامل کیا گیا تو تحریک انصاف نے ادارے کے باہر سابق چیف جسٹس کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے اس سلسلے میں نہ صرف پارٹی کی برطانیہ میں مقامی قیادت متحرک ہو چکی ہے بلکہ مرکزی قیادت نے بھی کارکنان کو اس احتجاج میں شامل ہونے کی کال دے دی ہے-

    سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے بھی برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے اس احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے،پی ٹی آئی کے کارکن شام سے لندن کے مڈل ٹیمپل کے باہر احتجاج کر رہے تھےاس موقع پر ملیکہ بخاری، ذلفی بخاری، اظہر مشوانی اور دیگر نے مظاہرین سے خطاب بھی کیا تھا۔

    مڈل ٹیمپل لندن کی چار تاریخی اور معتبر قانونی اداروں میں سے ایک ہے، ان اداروں میں قانون کے طلبہ کو تربیت دی جاتی ہے اور وکالت میں داخلہ کے لیے لائسنس دیا جاتا ہے،اس کے ممبران میں نہ صرف برطانوی بلکہ عالمی سطح پر کئی اہم قانونی شخصیات شامل رہی ہیں، مڈل ٹیمپل کے گریجویٹس میں سر تھامس مور، ایڈمنڈ برک اور مہاتما گاندھی جیسی اہم شخصیات شامل ہیں۔

    قاضی فائز عیسیٰ نے اسی عظیم قانونی درسگاہ سے قانون کی تعلیم حاصل کی تھی اور ان کے والد قاضی عیسیٰ بھی مڈل ٹیمپل کے گریجویٹ تھے جبکہ قاضی فائز عیسیٰ نے بھی 42 سال قبل یہیں سے قانون کی تعلیم مکمل کی جبکہ ان کی صاحبزادی سحر قاضی نے بھی اسی ادارے سے قانون کی ڈگری مکمل کر رکھی ہے۔

  • ن لیگ کا بشریٰ بی بی کی پشاورموجودگی پراعتراض سمجھ سے بالاتر ہے،بیرسٹر سیف

    ن لیگ کا بشریٰ بی بی کی پشاورموجودگی پراعتراض سمجھ سے بالاتر ہے،بیرسٹر سیف

    پشاور: صوبائی مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے بشریٰ بی بی سے متعلق خواجہ آصف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف سمیت پوری ن لیگ کا بشریٰ بی بی کی پشاورموجودگی پراعتراض سمجھ سے بالاتر ہے۔

    باغی ٹی وی : بیرسٹر سیف نے کہا کہ نااہل ٹولے کو پتہ ہونا چاہئیے کہ پشاور پاکستان کا حصہ ہے لندن کا نہیں، نااہل لیگ کا خیال ہے کہ بشری بی بی نواز شریف اور مریم نواز کی طرح لندن کیوں نہیں گئیں، لندن وہ بھاگتے ہیں جو ڈیل کرتے ہیں بشری بی بی نے ڈیل نہیں کی ہے، بشری بی بی پاکستان کی شہری ہے اور پشاور پاکستان کا حصہ ہے، وہ جب تک چاہیں پشاور میں رہ سکتی ہیں، بشری بی بی نے بہادری کے ساتھ 9 ماہ قید کاٹی۔

    بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ پنجاب میں مریم نواز کے ایماء پر خواتین کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا ہے وہ سب کے سامنے ہے، راج کماری مریم نواز کی جعلی حکومت میں خواتین کی عزتیں اچھالی جارہی ہیں، مریم نواز کو ایک دن اپنے کئے کا حساب دینا ہوگا۔

    واضح رہے کہ وزیر دفاع اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے کہا تھا کہ بشریٰ بی بی کی رہائی اور گنڈاپور کا غائب ہو کر پھر نمودار ہونا، یہ دونوں عوامل نورا کشتی اور معافی تلافی کی خبر دیتے ہیں اور یہ سب کچھ بانی پی ٹی آئی کی مرضی کے بغیر نہیں ہورہا۔

    ایکس پر پوسٹ میں انہوں ںے کہا تھا کہ ‏بیگم صاحبہ کی رہائی اور پشاور روانگی معمول کی کارروائی نہیں، اسی طرح گنڈاپور کی چالیں ہیں کہ پہلے بھڑکیاں مارنا، دھمکیاں دینا پھر جلسے جلوسوں سے غائب ہونا پھر نمودار ہونا، آنیاں جانیاں‘،اب پنجاب کو خیرباد کہہ کے بیگم صاحبہ کا پشاور وزیراعلیٰ ہاؤس کی انیکسی میں ڈیرے ڈالنا پس پردہ داستان کی نشاندہی ہے، یہ دونوں شخصیتیں کسی نورا کشتی کی اور معافی تلافی کی خبر دیتی ہیں اور یہ بانی پی ٹی آئی کی مرضی کے بغیر نہیں ہورہا یہ سب مل کر اپنے کارکنوں کو بے وقوف بنارہے ہیں-

  • آلودگی کے اعتبار سے لاہور دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر

    آلودگی کے اعتبار سے لاہور دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر

    لاہور: آلودگی کے اعتبار سے لاہور دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر ہے-

    باغی ٹی وی : شہر میں سموگ کی اوسط شرح 235 ریکارڈ کی گئی ہے،لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن کا ایئر کوالٹی انڈیکس 410، سید مراتب علی روڈ کا اے کیو آئی 276 جبکہ ڈی ایچ اے کے علاقے کا ایئر کوالٹی انڈیکس 260 ریکارڈ کیا گیا ہے، بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے باعث گلے، سانس لینے میں دشواری اور آنکھوں میں جلن جیسی بیماریاں بڑھنے لگی۔

    دوسری جانب شہر لاہور کا آج کم سے کم درجہ حرارت 21 جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے، علاوہ ازیں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سموگ کی صورتحال میں جنگی بنیادوں پر کام کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے تمام محکموں کو ماحولیاتی قوانین پر سخت ترین عمل درآمد کرنے کی ہدایات کی ہیں۔

    پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس ٹیم پر حملہ کرنے والے 3 خوارجی ہلاک

    ادیبہ،شاعرہ ، مترجم اور صحافی،ثمینہ راجہ

    پنجاب میں سوشل میڈیا کے جھوٹے دعوے کا سراغ، نئی جے آئی ٹی تشکیل

  • ادیبہ،شاعرہ ، مترجم اور صحافی،ثمینہ راجہ

    ادیبہ،شاعرہ ، مترجم اور صحافی،ثمینہ راجہ

    ہم کسی چشم فسوں ساز میں رکھے ہوئے ہیں
    خواب ہیں ، خواب کے انداز میں رکھے ہوئے ہیں

    ثمینہ راجہ

    ادیبہ،شاعرہ ، مترجم اور صحافی

    30 اکتوبر 2012: یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ثمینہ راجا ﺑﮩﺎﻭﻟﭙﻮﺭ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﺎﮔﯿﺮﺩﺍﺭ ﮔﮭﺮﺍﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﯿﮟ ۔ ﺑﺎﺭﮦ ﺗﯿﺮﮦ ﺑﺮﺱ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﺳﮯ ﺷﻌﺮ ﮔﻮﺋﯽ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺟﻠﺪ ﮨﯽ ﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﻼﻡ ﭘﺎﮎ ﻭ ﮨﻨﺪ ﮐﮯ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﺍﺩﺑﯽ ﺟﺮﺍﺋﺪ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﺋﻊ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﭘﺎﺑﻨﺪﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺷﻌﺮﯼ ﻭ ﺍﺩﺑﯽ ﻣﺤﻔﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﮐﺖ ﮐﮯ ﻣﻮﺍﻗﻊ ﺣﺎﺻﻞ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﮯ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺍﯾﮏ ﻃﻮﯾﻞ ﻋﺮﺻﮯ ﺗﮏ ﺻﺮﻑ ‘ ﻓﻨﻮﻥ، ﻧﻘﻮﺵ، ﺍﻭﺭﺍﻕ ،ﻧﯿﺎ ﺩﻭﺭ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﭗ، ﺟﯿﺴﮯﺍﺩﺑﯽ ﺟﺮﺍﺋﺪ ﺍﻭﺭ ﺳﻨﺠﯿﺪﮦ ﺣﻠﻘﻮﮞ ﺗﮏ ﮨﯽ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﺭﮨﯽ ۔ ﺍﯾﮏ ﻋﻤﺮ ﮐﯽ ﺟﺪﻭﺟﮩﺪ ﺍﻭﺭ ﺭﯾﺎﺿﺖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﺎﻵﺧﺮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﻦ ﮐﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻻﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮﺋﯿﮟ ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﺘﻮﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺼﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﻧﺎﻣﺴﺎﻋﺪ ﺍﻭﺭ ﻧﺎ ﻣﻮﺍﻓﻖ ﺣﺎﻻﺕ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﺍﺋﻮﯾﭧ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺭﺩﻭ ﺍﺩﺏ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﻢ ﺍﮮ ﮐﯿﺎ ۔

    1992 ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﺩﺑﯽ ﺟﺮﯾﺪﮮ ﮐﺎ ﺍﺟﺮﺍﺀ ﮐﯿﺎ ﺟﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﺮﺻﮯ ﺗﮏ ﺟﺎﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﺳﮑﺎ ۔ 1998 ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻧﯿﺸﻨﻞ ﺑﮏ ﻓﺎﺅﻧﮉﯾﺸﻦ ﮐﮯ ﺭﺳﺎﻟﮯ ﻣﺎﮨﻨﺎﻣﮧ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﻣﺪﯾﺮ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ 1998 ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺩﺑﯽ ﻣﺠﻠﮧ ﺁﺛﺎﺭ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺭﺕ ﺳﻨﺒﮭﺎﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺭﯼ ﺍﺭﺩﻭ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﯾﮏ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻭﺷﻨﺎﺧﺖ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﯽ ۔ ﻭﮦ ﮐﺌﯽ ﺑﺮﺱ ﺳﮯ ﻣﻌﺮﻭﻑ ﺍﺩﺑﯽ ﺟﺮﯾﺪﮮ ﺁﺛﺎﺭ ﮐﯽ ﻣﺪﯾﺮ ﮨﯿﮟ ۔
    ﺛﻤﯿﻨﮧ ﺭﺍﺟﮧ ﮐﺎ ﺍﺭﺩﻭ ﺷﺎﻋﺮﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﮨﯽ ﻣﻘﺎﻡ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻥ ﻡ ﺭﺍﺷﺪ ﮐﺎ ﺍﺭﺩﻭ ﺷﺎﻋﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ۔ ﺭﺍﺷﺪ ﮐﻮ ﺷﺎﻋﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﺷﺎﻋﺮ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﮐﮯ ﻣﻀﺎﻣﯿﻦ، ﺍﻭﺭﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﻣﻔﺮﺱ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﯽ ﺫﮨﻨﯽ ﺳﻄﺢ ﺳﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﺑﻠﻨﺪ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ ﻋﻮﺍﻡ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﻣﻘﺒﻮﻟﯿﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﺎ ﺟﻮ ﻋﺎﻡ ﻓﮩﻢ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﮐﮯ ﺣﺎﻣﻞ ﺷﻌﺮﺍ ﮐﻮ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺛﻤﯿﻨﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﭽﮯ ﭘﮑﮯ ﻧﺴﻮﺍﻧﯽ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺑﻠﻨﺪ ﻓﻀﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ ﺳﻨﺠﯿﺪﮦ ﻗﺎﺭﺋﯿﻦ ﺗﮏ ﮨﯽ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﺭﮨﯿﮟ ۔ ﺟﻨﺎﺏ ﺍﺣﻤﺪ ﻧﺪﯾﻢ ﻗﺎﺳﻤﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﺎﺏ ﺍﺣﻤﺪ ﻓﺮﺍﺯ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺑﮯﺷﻤﺎﺭ ﻣﺸﺎﮨﯿﺮ ﮐﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺁﺭﺍﺀ ﺳﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻨﻔﺮﺩ ﻣﻮﺿﻮﻋﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯﺍﺭﺩﻭﺯﺑﺎﻥ ﮐﮯ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﺑﻠﮑﮧ ﺁﺋﻨﺪﮦ ﻣﻨﻈﺮﻧﺎﻣﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺍﮨﻢ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﻣﻘﺎﻡ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﯿﮟ ۔

    ﺷﻌﺮﯼ ﻣﺠﻤﻮﻋﮯ:

    1995 ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﺎ ﭘﮩﻼ ﺷﻌﺮﯼ ﻣﺠﻤﻮﻋﮧ ﮨﻮﯾﺪﺍ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺷﺎﺋﻊ ﮨﻮﺍ ۔ ﺗﺐ ﺳﮯ ﺍﺏ ﺗﮏ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﻣﺠﻤﻮﻋﮯ ، ﮨﻮﯾﺪﺍ – ﺷﮩﺮ ﺳﺒﺎ – ﺍﻭﺭﻭﺻﺎﻝ – ﺧﻮﺍﺑﻨﺎﺋﮯ – ﺑﺎﻍ ﺷﺐ – ﺑﺎﺯﺩﯾﺪ – ﮨﻔﺖ ﺁﺳﻤﺎﻥ – ﭘﺮﯼ ﺧﺎﻧﮧ – ﻋﺪﻥ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ – ﺩﻝ ِ ﻟﯿﻠٰﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺸﻖ ﺁﺑﺎﺩ ﺷﺎﺋﻊ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺩﻭ ﺿﺨﯿﻢ ﮐﻠﯿﺎﺕ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﺋﻊ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ ۔

    ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ 30 ﺍﮐﺘﻮﺑﺮ 2012 ﮐﻮ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎﺋﯽ ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    منتخب کلام:

    ﮨﻢ ﮐﺴﯽ ﭼﺸﻢ ﻓﺴﻮﮞ ﺳﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ
    ﺧﻮﺍﺏ ﮨﯿﮟ،ﺧﻮﺍﺏ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ

    ﺗﺎﺏ، ﺍﻧﺠﺎﻡ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﺑﮭﻼ ﮐﯿﺎ ﻻﺗﮯ
    ﻧﺎ ﺗﻮﺍﮞ ﺩﻝ، ﻭﮨﯿﮟ ﺁﻏﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ

    ﺟﻠﺘﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﺮﺍﻏﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﺮﺍﻍ
    ﺟﺐ ﺗﺮﯼ ﺍﻧﺠﻤﻦ ﻧﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ

    ﺍﮮ ﮨﻮﺍ ! ﺍﻭﺭ ﺧﺰﺍﺅﮞ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
    ﻭﺳﻮﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺗﺮﯼ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ

    ﺍﮎ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﮐﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺻﺒﺢ ﺗﻠﮏ ﻟﮯ ﺁﺋﯽ
    ﺑﯿﺸﺘﺮ، ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺁﻏﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ

    ﮐﭧ ﮐﮯ ﻭﮦ ﭘﺮ ﺗﻮﮨﻮﺍﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﮌ ﺑﮭﯽ ﮔﺌﮯ
    ﺩﻝ ﯾﮩﯿﮟ ﺣﺴﺮﺕ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ

    ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺁﺝ ﻃﻠﺐ ﮔﺎﺭ ﮨﮯ ﮐﭽﮫ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﮐﯽ
    ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﭼﺸﻢ ﭘﺮ ﺍﻋﺠﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ

    ﮨﻢ ﺗﻮ ﮨﯿﮟ ﺁﺏ ﺯﺭ ﻋﺸﻖ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺣﺮﻑ
    ﺑﯿﺶ ﻗﯿﻤﺖ ﮨﯿﮟ،ﺑﮩﺖ ﺭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ﮨﻢ ﺗﻮ ﯾﻮﮞ ﺍﻟﺠﮭﮯ ﮐﮧ ﺑﮭﻮﻟﮯ ﺁﭖ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﺧﯿﺎﻝ
    ﮨﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮔﺎ ﺑﮭﻮﻟﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺧﯿﺎﻝ

    ﺍﯾﮏ ﭘﺘﮭﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﮈﻭﺑﺘﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺩﻝ
    ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﮩﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﮔﮩﺮﺍ ﺧﯿﺎﻝ

    ﺁﺏ ﺣﯿﺮﺍﮞ ﭘﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﻋﮑﺲ ﺟﯿﺴﮯ ﺟﻢ ﮔﯿﺎ
    ﺁﻧﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﺑﺲ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺤﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭨﮭﮩﺮﺍ ﺧﯿﺎﻝ

    ﭘﮭﺮ ﺗﻮ ﮐﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﮨﮯ ﮐﺐ ﮐﺎﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺭﮨﮯ
    ﺟﺐ ﺳﮯ ﮨﻢ ﭘﺮ ﭼﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﺟﺎﻥ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ

    ﻧﻘﺶ ﺣﯿﺮﺕ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﯿﺮﺍﻧﯽ ﭘﮧ ﭼﺸﻢ
    ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺧﺎﻧﮧ ﺧﯿﺎﻝ

    ﺷﺎﻡ ﮔﮩﺮﯼ ﮨﻮ ﮐﮯ ﭘﮭﺮ ﺍﺗﺮﯼ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﺩﻝ ﮐﻮ ﻟﮕﺎ
    ﺍﮎ ﺧﯿﺎﻝ ﺍﯾﺴﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺍﯾﺴﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺍﯾﺴﺎ ﺧﯿﺎﻝ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺟﮭﻮﭦ ﺳﮩﯽ ﻋﺸﻖ ﻓﺴﺎﻧﮧ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ
    ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ

    ﺧﺎﮎ ﮐﯽ ﻟﻮﺡ ﭘﮧ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﮔﯿﺎ ﻧﺎﻡ ﻣﺮﺍ
    ﺍﺻﻞ ﻣﻘﺼﻮﺩ ﺗﺮﺍ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻣﭩﺎﻧﺎ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ

    ﺧﻮﺍﺏ ﻋﺮﯾﺎﮞ ﺗﻮ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺗﺮ ﻭ ﺗﺎﺯﮦ ﮨﮯ
    ﮨﺎﮞ ﻣﺮﯼ ﻧﯿﻨﺪ ﮐﺎ ﻣﻠﺒﻮﺱ ﭘﺮﺍﻧﺎ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ

    ﺍﯾﮏ ﺍﮌﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﯿﺎﺭﮮ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ
    ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻣﮑﺎﻥ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﻮﻕ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ

    ﮐﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﺁﻧﮑﮫ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺳﻮﺍ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﮯ
    ﯾﮧ ﺟﮩﺎﻥ ﮔﺰﺭﺍﮞ ﺁﺋﻨﮧ ﺧﺎﻧﮧ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ

    ﺩﻝ ﮐﺎ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺳﺮ ﺩﺳﺖ ﺍﭨﮭﺎ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ
    ﺧﯿﺮ ﮐﭽﮫ ﺭﻭﺯ ﮐﻮ ﺗﮑﻤﯿﻞ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ﺻﻔﺤۂ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺗﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﻣﭩﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﺮ ﻟﮕﯽ
    ﭘﻮﺭﯼ ﺍﮎ ﻋﻤﺮ ﮐﯽ ﺩﯾﺮ !

    ﺍﺷﮏ ﻏﻢ۔۔۔ ﻗﻄﺮۂ ﺧﻮﮞ۔۔۔ ﺁﺏ ﻣﺴﺮﺕ ﺳﮯ
    ﻣﭩﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ
    ﺭﻧﮓ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﯽ ﻣﻼ۔۔۔ ﺭﻧﮓ ﺗﻤﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ
    ﻣﮑﺘﺐ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺟﺘﻨﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﺒﻖ ﯾﺎﺩ ﮐﯿﮯ
    ﯾﺎﺩ ﺭﮨﮯ
    ﻋﺮﺻﮧٔ ﺯﯾﺴﺖ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﺮﺍﺑﮯ ﺗﮭﮯ ﺑﮩﺖ
    ﺍﻥ ﺧﺮﺍﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ
    ﺧﯿﺎﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﮕﺮ ﺟﺘﻨﮯ ﺑﮭﯽ ﺁﺑﺎﺩ ﮐﯿﮯ
    ﯾﺎﺩ ﺭﮨﮯ !

    ﮔﻮﺷﮧٔ ﺭﻧﺞ ﻣﯿﮟ ﮨﻨﮕﺎﻣۂ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﭘﺮﮮ
    ﮐﻮﻥ ﺍﮎ ﮨﺠﺮ ﮐﮯ ﺷﯿﺸﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ
    ﺗﺮﮮ ﻋﮑﺲ ﺩﻵﺭﺍﻡ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ
    ﮐﺲ ﮐﯽ ﺍﻣﯿﺪ ﮐﮯ ﺭﺳﺘﮯ ﭘﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺍﺋﺮﮦٔ ﻧﻮﺭ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ
    ﮐﺲ ﮐﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮑﮭﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ
    ﺗﻤﻨﺎ ﮐﮯ ﺍﺟﺎﻟﮯ ﺑﮭﯽ۔۔۔ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ
    ﺭﻭﺯ ﺭﻭﺷﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ
    ﮐﺲ ﺩﻝ ﮐﮯ ﻣﻀﺎﻓﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺕ،

    ﺗﻮ ﻧﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ
    ﺍﻭﺭ ﺗﺮﯼ ﺧﻮﺩ ﺳﺎﺧﺘﮧ ﺑﮯ ﺧﺒﺮﯼ ﮐﻮ
    ﻗﺼۂ ﺩﺭﺩ ﺳﻨﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﺮ ﻟﮕﯽ
    ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﺳﮯ ﻣﺮﺍ ﺁﺋﯿﻨﮧٔ ﻏﻢ ﺩﮬﻨﺪﻻﯾﺎ
    ﺍﯾﮏ ﺳﺮﺩﺍﺑﮧٔ ﺩﻭﺭﺍﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﭘﻮﺷﯿﺪﮦ ﻭ ﻧﺎﺩﯾﺪﮦ ﺭﮨﯽ
    ﺗﮭﯽ

    ﺍﺏ ﺗﮏ
    ﺍﺱ ﺗﻦ ﺯﺍﺭ ﮐﻮ۔۔۔ ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮨﯽ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﯽ
    ﺩﻝ ﺳﮯ ﻟﭙﭩﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﯾﮏ ﺭﻧﮓ ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ
    ﺭﻧﮓ ﻭ ﺭﺍﻣﺶ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﯽ ﺯﻧﺪﮦ ﺩﻟﯽ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﯽ
    ﭘﺮ ﺗﺮﯼ ﺷﮑﻞ ﺑﮭﻼﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﺮ ﻟﮕﯽ
    ﭘﻮﺭﯼ ﺍﮎ ﻋﻤﺮ ﮐﯽ ﺩﯾﺮ

    ﻋﻤﺮ۔۔۔
    ﺟﻮ ﻟﻤﺤﮧٔ ﺟﺎﮞ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ
    ﻋﻤﺮ۔۔۔ ﺟﻮ ﺗﯿﺮﯼ ﺗﻤﻨﺎ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ
    ﺑﺲ ﻭﮨﯽ ﻋﻤﺮ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ۔۔۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﺮ ﻟﮕﯽ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ

    ﮐﮩﯿﮟ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﺁ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ،
    ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﺑﻮ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﻮﺟﮭﻞ۔۔۔ ﻧﺸﯿﻠﯽ ﮨﻮﺍﺋﯿﮟ

    ﮨﻮﺍﺋﯿﮟ
    ﺟﻮ ﺳﺎﺣﻞ ﮐﯽ ﺧﺴﺘﮧ ﺗﻤﻨﺎ ﺳﮯ ﭨﮑﺮﺍ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ
    ﮨﻮﺍﺋﯿﮟ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﺭﺍﺯ ﺩﮨﺮﺍ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ
    ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺫﺭﺍ ﻓﺎﺻﻠﮯ ﭘﺮ ﻧﮕﺮ ﮨﮯ
    ﺟﮩﺎﮞ ﻟﻮﮒ ﺑﺴﺘﮯ ﮨﯿﮟ
    ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻤﻮﺷﯽ ﻣﯿﮟ ﮈﻭﺑﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮ۔۔۔ ﺳﮩﺎﺭﺍ
    ﺩﯾﮯ
    ﻟﻮﮒ ﺭﻭﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﯿﮟ
    ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ
    ﮨﻮﺍﺋﯿﮟ
    ﭘﺮﺍﻧﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﻣﻨﮉﯾﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﭨﮑﺮﺍ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ
    ﭘﺮﺍﻧﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﭼﮭﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ۔۔۔ ﺣﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ
    ﭘﺮﺍﻧﮯ ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﮨﯿﮟ ﺁﺷﯿﺎﻧﮯ
    ﭘﺮﺍﻧﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻣﮑﯿﻨﻮﮞ ﮐﮯ
    ﺍﭘﻨﮯ ﻓﺴﺮﺩﮦ ﻓﺴﺎﻧﮯ،
    ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﮐﺎ ﻓﺴﺎﻧﮧ
    ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
    ﻧﺸﯿﻠﯽ ﮨﻮﺍﺅﮞ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﻧﮕﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﮩﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
    ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﺷﻮﺭﯾﺪﮦ ﺧﻮ ﮔﺮﻡ ﻣﻮﺟﻮﮞ ﭘﮧ ﺑﮩﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ
    ﮨﮯ

    ﺳﻤﻨﺪﺭ
    ﻧﮕﺮ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﺗﻨﮓ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ
    ﻣﯿﺮﮮ ﺗﻦ ﮐﮯ ﺗﭙﯿﺪﮦ ﺟﺰﯾﺮﮮ ﺗﻠﮏ ﺁ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ
    ﺳﻤﻨﺪﺭ۔۔۔ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﻥ ﯾﺎﺩ ﺳﮯ
    ﺭﻭﺡ ﮐﮯ ﺩﺷﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﺎﻧﮑﺘﺎ ﮨﮯ
    ﺳﻤﻨﺪﺭ۔۔۔ ﻣﺮﮮ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﺳﺮﺥ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﺰﻥ
    ﻧﯿﻨﺪ ﮐﮯ ﺯﺭﺩ ﻣﯿﮟ ﻧﻌﺮﮦ ﺯﻥ ﮨﮯ

    ﺳﻤﻨﺪﺭ
    ﻣﯿﺮﮮ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﮯ ﺳﺒﺰ ﭘﺮ ﺧﻨﺪﮦ ﺯﻥ ﮨﮯ
    ﻣﺮﮮ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ۔۔۔ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﯽ ﺑﻮﺳﯿﺪﮔﯽ ﮐﯽ
    ﺭﺩﺍﺋﯿﮟ
    ﻣﺮﮮ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﺧﻨﺪﮦ ﺯﻥ ﮨﯿﮟ۔۔۔ ﯾﮧ ﺗﺎﺯﮦ ﻧﺸﯿﻠﯽ
    ﮨﻮﺍﺋﯿﮟ
    ﺍﺯﻝ ﮐﺎ ﺳﻤﻨﺪﺭ۔۔۔ ﻣﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﺳﮯ ﺑﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ
    ﺍﺑﺪ ﮐﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﺎ ﺟﺎﺩﻭ
    ﻣﺮﮮ ﺩﻝ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ

    منقول

  • پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس ٹیم پر حملہ کرنے والے 3 خوارجی ہلاک

    پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس ٹیم پر حملہ کرنے والے 3 خوارجی ہلاک

    اورکزئی: سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع اورکزئی میں کارروائی کرتے ہوئے 3 خوارجی دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

    باغی ٹی وی: ہلاک ہونے والے دہشت گردوں نے گزشتہ روز خیبرپختونخوا کے ضلع اورکزئی میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس ٹیم پر حملہ کر کے 2 اہلکاروں کو شہید کیا تھاعوام کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کی اس کارروائی پر خوشی کا اظہار کیا گیا اور سیکیورٹی فورسز کے حق میں نعرے بازی بھی کی گئی، عوام نے خوشی میں ایف سی اہلکاروں کو کندھوں پر اٹھا لیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے ضلع اورکزئی میں دہشت گردوں نے پولیو ٹیم پر فائرنگ کردی، ہنگو پولیس کے مطابق دہشت گردوں کے پولیو ٹیم پر حملے کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار شہید جبکہ دوسرا زخمی ہوا ہے، بعد ازاں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان مقابلے میں دو دہشت گرد بھی ہلاک ہو گئے،واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ایف سی موقع پر پہنچ گئی جس کے بعد ملزمان کی گرفتاری کیلئے سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔

    رواں سال ملک بھر میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 39 ہوگئی ہے سندھ میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 12 ہے، رواں سال کراچی سے پولیو کے 4 کیس رپورٹ ہوئے، بلوچستان میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 20 ہے جب کہ خیبرپختونخوا میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 5، پنجاب اور اسلام آباد سے ایک ایک بچہ پولیو وائرس سے متاثر ہوا۔

  • کیمیکل فیکٹری کی آڑ میں  منشیات کی تیاری، 95 کلو گرام میتھمفیٹامائن  برآمد

    کیمیکل فیکٹری کی آڑ میں منشیات کی تیاری، 95 کلو گرام میتھمفیٹامائن برآمد

    بھارت کے گریٹر نوئیڈا شہر میں پولیس نے بھاری مقدار میں 95 کلو گرام غیر قانونی منشیات برآمد کی ہے۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس نے 25 اکتوبر کو نوئیڈا کی ایک خفیہ (Methamphetamine Lab) کیمیکل لیب کا پردہ فاش کیا جسے ایک تاجر اور ممبئی میں مقیم ایک کیمسٹ غیر قانونی طور پر چلا رہے تھے-

    رپورٹ کے مطابق بھارت کے نارکوٹکس کنٹرول بیورو (NCB) اور دہلی پولیس کے خصوصی سیل کی ایک مشترکہ ٹیم نے گریٹر نوئیڈا میں کارروائی کرتے ہوئے چھاپہ مار کر فیکٹری ضبط کرلی چھاپہ اس وقت مارا گیا جب اس بات کا پتہ چلا کہ میکسیکن ڈرگ ’کارٹیل ڈی جالیسکو نیووا جنریشین‘ کے ارکان بھی منشیات کی تیاری کے عمل میں ملوث ہیں۔

    دہشتگردوں سے مل کر 12 کلو سونا لوٹنے والے سی ٹی ڈی اہلکار سمیت دو …

    رپورٹ کے مطابق آپریشن کے دوران تقریباً 95 کلو گرام میتھمفیٹامائن ٹھوس اور مائع شکل میں برآمد کی گئی، اس کے ساتھ ساتھ مختلف کیمیکلز اور جدید مینوفیکچرنگ مشینری بھی برآمد ہوئی منشیات بنانے کے عمل کی نگرانی کے لیے ممبئی کے ایک کیمسٹ کی خدمات حاصل کی گئیں، دریں اثنا، دہلی میں مقیم کارٹیل کے ایک رکن نے تیار کردہ ادویات کے معیار کی بھی جانچ کی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق چاروں مشتبہ افراد کو 27 اکتوبر کو عدالت میں پیش کیا گیا اور جج نے انہیں مزید پوچھ گچھ کے لیے مزید تین دن کے لیے پولیس کی تحویل میں رکھنے کا حکم دیا، ایک اور پیشرفت میں، پولیس نے بعد میں راجوری گارڈن میں بزنس مین کے ایک ساتھی کو گرفتار کیا۔

    انسداد پولیو مہم،مشکلات کا سامنا، فائرنگ،سیکورٹی اہلکاروں سےاسلحہ چھین لیا گیا