Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • گلوکار لیام پین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی

    گلوکار لیام پین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی

    برطانوی گلوکار لیام پین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی ہے-

    باغی ٹی وی: پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق لیام پین کی موت ہوٹل کی تیسری منزل سے گرنے کے باعث ہوئی، بتایا جارہا ہے کہ 31 سالہ گلوکار کو اندرونی اور بیرونی کئی قسم کی چوٹیں آئی تھیں جو ان کی موت کا سبب بنیں، گرتے وقت لیام بے ہوشی کی حالت میں تھے اور اس وقت ان کے کمرے میں دو خواتین موجود تھیں۔

    واضح رہے کہ معروف بینڈ ون ڈائریکشن کے سابق رکن 31 سالہ گلوکار لیام پین کی 16 اکتوبر کی رات ارجنٹینا کے دارالحکومت بیونس آئرس کے ایک ہوٹل کی تیسری منزل سے گِر کر موت ہوئی تھی، بیونس آئرس کی پولیس کا بتانا تھا انہیں ایک کال موصول ہوئی جس میں بتایا گیا کہ ایک شخص شدید منشیات اور شراب کے نشے میں ہے، جب پولیس ہوٹل پہنچی تو بتایا گیا کہ ہوٹل کے صحن میں زوردار آواز سنائی دی گئی جس کے بعد وہاں سے لیام کی لاش ملی۔

    جتنی بھی ترامیم کرلیں لیکن ہمیں اپنی آئینی تاریخ کو بھی دیکھنا ہوگا،فاروق ستار

    آئینی ترمیم :ایوان سے منظوری کے بعد بل پر صدر مملکت آج دستخط کریں …

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ کی عزت بحال کی،خواجہ آصف

  • لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس: علی امین گنڈا پور کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع

    لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس: علی امین گنڈا پور کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع

    اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے تحریک انصاف لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کر دی۔

    باغی ٹی وی : لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کی، پی ٹی آئی وکلاء سردار مصروف اور دیگر عدالت پیش ہوئے،علی امین گنڈاپور کی مسلسل عدم پیشی پرعدالت نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے تھے۔

    فیصل جاوید کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست عدالت نے منظور کرلی جبکہ عدم پیشی پر علی امین گنڈا پور کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کر دی،بعد ازاں انسداد دہشتگردی عدالت نے کیس کی سماعت 21 نومبر تک ملتوی کردی۔

  • زین قریشی کس کے کہنے پر روپوش ہوئے؟ویڈیو بیان جاری

    زین قریشی کس کے کہنے پر روپوش ہوئے؟ویڈیو بیان جاری

    ملتان: 26 ویں آئینی ترمیم سے متعلق پی ٹی آئی کے ایم این اے زین قریشی کا ویڈیو بیان میں کہنا ہے کہ میری کسی حکومتی اہلکارسے ملاقات ثابت ہوجائے تو سیاست چھوڑ دوں گا-

    باغی ٹی وی : ویڈیو بیان میں زین قریشی نے کہا کہ اپنے والد شاہ محمود قریشی کے کہنے پر روپوشی اختیار کی،والد نےلاہور بلایا اور کہا کسی صورت آئینی ترمیم منظورنہیں ہونی چاہیے، آئینی ترمیم کی حمایت سے متعلق میرے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، میرا قومی اسمبلی جانا تو دور کی بات میں قریب سے بھی نہیں گزرا، میری کسی حکومتی اہلکارسے ملاقات ثابت ہوجائے تو سیاست چھوڑ دوں گا، پارٹی پالیسی اور بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑا ہوں۔

    واضح رہے کہ رکن قومی اسمبلی زین قریشی کچھ دنوں سے منظر عام سے غائب تھے اور ان کی ہمشیرہ مہر بانو قریشی کی جانب سے زین قریشی سے رابطہ نا ہونے اور ان کو اغوا کیے جانے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا تھا،گزشتہ روز پی ٹی آئی کی جانب سے کہا گیا تھا کہ

  • بختاور زرداری کے ہاں تیسرے بیٹے کی پیدائش

    بختاور زرداری کے ہاں تیسرے بیٹے کی پیدائش

    دبئی: صدر مملکت آصف زرداری اور بے نظیر بھٹو شہید کی بڑی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری کے ہاں تیسرے بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹا گرام پر بختاور بھٹو اور ان کے شوہر محمود چوہدری نے یہ خوشخبری دی اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا کیا،بختاور بھٹو نے فی الحال اپنے تیسرے صاحبزادے کا نام نہیں بتایا لیکن انہوں نے بتایا ہے کہ تیسرے بیٹے کی پیدائش گزشتہ روز 20 اکتوبر 2024 کو ہوئی ہے۔

    بختاور بھٹو زرداری کے تیسری بار ماں بننے اور بیٹے کی پیدائش کی خبر پر مبارک باد اور نیک خواہشات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

    واضح رہے کہ بختاور بھٹو زرداری کی 31 جنوری 2021 کو محمود چوہدری کے ساتھ شادی ہوئی تھی اور تیسرے بیٹے سے بڑے دو بیٹے میر حاکم محمود چوہدری اور میر سجاول محمود چوہدری ہیں ان کے پہلے بیٹے میر حاکم محمود چوہدری کی پیدائش 11 اکتوبر 2021 کو اور دوسرے بیٹے میر سجاول محمود چوہدری کی پیدائش 05 اکتوبر 2022 کو ہوئی تھی۔

  • 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری پر جسٹس منصور اور جسٹس عائشہ کے ریمارکس

    26ویں آئینی ترمیم کی منظوری پر جسٹس منصور اور جسٹس عائشہ کے ریمارکس

    اسلام آباد: سینیٹ اور قومی اسمبلی سے منظور ہونے والی 26ویں آئینی ترمیم سے متعلق جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عائشہ ملک نے بھی ریمارکس دئیے ہیں۔

    باغی ٹی وی : موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام سے متعلق کیس پر سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ کا ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے دلچسپ مکالمہ ہوا،جسٹس منصور کا استفسار نے کیا موسمیاتی تبدیلی کے چیئرمین کا نوٹیفکیشن جاری ہوچکا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ابھی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ’اٹارنی جنرل کدھر ہیں‘ جس پرایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ’اٹارنی جنرل گزشتہ رات مصروف رہےاس لیے نہیں آئے،جسٹس منصور علی شاہ نے مسکراتے ہوئے استفسار کیا کہ ’اب تو ساری مصروفیت ختم ہو چکی ہوگی، عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔

    عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل پیش ہوں، مسابقتی کمیشن سےمتعلق اپیل پرسماعت کے دوران منصورشاہ نے آئین بینچ کا تذکرہ کیا کہا کہ کیا یہ کیس اب آئینی بنچ میں جائے گایاہم بھی سن سکتے ہیں، اب لگتا ہے یہ سوال سپریم کورٹ میں ہر روز اٹھے گا۔

    وکیل فروع نسیم نے کہا کہ سیاسی کیسز اب آئینی کیسز بن چکے ہیں، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیئے کہ چلیں جی اب آپ جانیں اور آپ کے آئینی بینچ جانیں۔

    جسٹس منصور شاہ نے کہا کہ تین ہفتوں تک کیس کی سماعت ملتوی کر رہے ہیں، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیئے کہ نئی ترمیم پڑھ لیں، آرٹیکل199 والا کیس یہاں نہیں سن سکتے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ویسےبھی ہمیں خود سمجھنے میں زرا وقت لگے گا۔

  • 26ویں آئینی ترمیم:چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے ججز کے انتخاب کا طریقہ کار کیا ہوگا؟

    26ویں آئینی ترمیم:چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے ججز کے انتخاب کا طریقہ کار کیا ہوگا؟

    اسلام آ باد: سینیٹ اور قومی اسمبلی نے26ویں آئینی تر میم کے بل کی منظوری سے پارلیمانی تاریخ کاا یک نیا باب رقم ہوا ہے تاہم 26 ویں آئینی ترمیم کے تحت اب چیف جسٹس پاکستان کا انتخاب3 سینئر ججز میں سے کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز سینیٹ سے منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں بھی 26ویں آئینی ترامیم کی تمام 27 شقیں منظور کرلی گئی ہیں، حکومت دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت ثابت کرنے میں کامیاب رہی ، مسودہ صدر مملکت کو بھجوا دیا گیا ہے، صدر آصف زرداری کے مسودہ پر دستخط کے ساتھ ہی چھبیسویں آئینی ترمیم آئین کا حصہ بن جائے گی۔

    چیف جسٹس پاکستان اور سپریم کورٹ کے ججز کا انتخاب

    سینئر ترین جج چیف جسٹس کے لیے آٹو میٹک چوائس نہیں ہوگا اس کے برعکس چیف جسٹس پاکستان کا انتخاب 3 سینئر ججز میں سے کیا جائے گا نئی ترمیم کے تحت چیف جسٹس کے نام کا فیصلہ 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی 2 تہائی اکثریت سے کرے گی،کمیٹی وزیراعظم کو چیف جسٹس کا نام بھیجے گی جس کے بعد وزیراعظم اب صدر مملکت کو منظوری کے لیے نام بھیجیں گے 26 ویں آئینی ترمیم کے مطابق 3 سینئر ججز میں سے کسی جج کے انکارکی صورت میں اگلے سینئرترین جج کا نام زیرغورلایا جائے گا جب کہ چیف جسٹس پاکستان کی عہدے کی مدت 3 سال یا ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد 65 سال ہوگی۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ کی عزت بحال کی،خواجہ آصف

    یہ تر میم پارلیمنٹ کی بطور ادارہ کا میابی ہےججز کی تقرری میں اب پارلیمنٹ کااختیار پوسٹ آفس کا نہیں، بلکہ پارلیمنٹ کی اجتماعی بصیرت کا مظہر ہو گا،جو 12 رکنی جوڈیشل کمیشن سپر یم کورٹ کے ججز کی تقرری کرے گا اس کمیشن کے سر براہ چیف جسٹس آف پا کستان ہوں گے ان کے علا وہ پریزائیڈنگ جج اور تین سینئر موسٹ جج اس کے ممبر ہوں گے دو ارکان قومی اسمبلی اور دو ارکان سینیٹ اس کے رکن ہوں گے۔

    وفاقی وزیر قانون و انصاف، اٹا ر نی جنرل آف پا کستان اور پا کستان بار کونسل کے نامز وکیل بھی اس کے ممبرہوں گے، سینیٹ اور قومی اسمبلی کے جو چار ارکان نامزد کئے جائیں گے ان میں سے دو کا تعلق حکومتی بینچوں اور دو کا اپو زیشن سے ہوگا لہٰذا یہ تاثر دینا کہ اس ترمیم کا مقصد حکومت کا اثر بڑھانا ہے درست نہیں ہے۔

    جتنی بھی ترامیم کرلیں لیکن ہمیں اپنی آئینی تاریخ کو بھی دیکھنا ہوگا،فاروق ستار

    آئینی ترمیم کے مطابق وزیراعظم یا کابینہ کی جانب سے صدرکو بھجوائی گئی ایڈوائس پرکوئی عدالت،ٹریبونل یا اتھارٹی سوال نہیں اٹھاسکتی،جبکہ سپریم کورٹ کے ججز کے تقررکے لیے 12 رکنی خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں تمام پارلیمانی جماعتوں کی متناسب نمائندگی ہوگی، 8 ارکان قومی اسمبلی 4 سینیٹ سے ہوں گے اور آرٹیکل184 تین کے تحت سپریم کورٹ اپنے طورپرکوئی ہدایت یا ڈکلیئریشن نہیں دے سکتی، جوڈیشل کمیشن سپریم کورٹ میں آئینی بینچز اور ججز کی تعداد کا تعین کرے گا۔

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ کی عزت بحال کی،خواجہ آصف

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ کی عزت بحال کی،خواجہ آصف

    اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ کی عزت بحال کی، وہ عزت سے گھر جا رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : یہ بات سینیٹ کے بعد 26 ویں آئینی ترمیم کی قومی اسمبلی سے منظوری کیلئے بلائے گئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہی ،انہوں نے کہا کہ چند سال سے عدلیہ میں جو جھگڑا چل رہا ہے وہ صرف ایک گروپ کی اجارہ داری کیلئے ہے، ہمیں عدلیہ کو آزاد کرنا تھا لیکن اتنا نہیں کہ وہ ہماری آزادی ہی چھین لے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ جو چار ووٹرز ایوان میں آئے ہیں وہ پی ٹی آئی کے نہیں، آزاد حیثیت میں الیکشن جیت کر اسمبلی میں آئے تھے ،انہوں نے سوال کیا کہ جب فوج میں آرمی چیف کیلئے 5 بندوں کا پینل آتا ہے تو عدلیہ میں کیوں نہیں آ سکتا؟

    خواجہ آصف نے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں کیا کچھ ہوا وہ یاد نہیں، قاسم سوری نے 30 منٹ میں 54 بل منظور کیے تھے جو الفاظ ادا کیے گئے ہیں انہیں کچھ تو شرم و حیا اور احساس ہونا چاہیے، وقت کے ساتھ پارٹیاں بدلنے سے انسانوں کے ضمیر نہیں بدلنے چاہئیں، بھڑکیں مارنے والا بانی مکافات عمل بھول گیا تھا، جیل میں بانی کو ملنے والا کھانا بڑے ہوٹلوں میں بھی نہیں ملتا۔

    جتنی بھی ترامیم کرلیں لیکن ہمیں اپنی آئینی تاریخ کو بھی دیکھنا ہوگا،فاروق ستار

    لاکھوں لوگ انصاف کیلئے ترس رہے ہیں، اس ترمیم سے انصاف آسان ہوگا،وزیراعظم شہباز شریف

    آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد وزیراعظم شہبازشریف نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج تاریخی دن ہے الحمدللہ، یہ صرف ترمیم نہیں بلکہ اتفاق رائے اور یکجہتی کی مثال ہے، آج نیا سورج طلوع ہوگا جس کی روشنی پورے ملک میں ہوگی۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ اس سے پہلے حکومتوں کو گھر بھیجا جاتا تھا، ملک کو اربوں کا نقصان ہوا، لاکھوں لوگ انصاف کیلئے ترس رہے ہیں، اس ترمیم سے انصاف آسان ہوگا میثاق جمہوریت پر دستخط 2006 میں لندن میں ہوئے تھے، میثاق جمہوریت پر نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے دستخط کئے، میثاق جمہوریت پر مولانا فضل الرحمان نے بھی دستخط کئے۔

    آئینی ترمیم :ایوان سے منظوری کے بعد بل پر صدر مملکت آج دستخط کریں …

    وزیراعظم نے کہا کہ آج حکومت، اتحادی جماعتوں، جے یو آئی اور آزاد ارکان نے ووٹ ڈالے، آج طے ہوگیا کہ پارلیمنٹ سپریم ہے، ہم پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے لیکن ابھی وقت نہیں کہ ان کا جواب دوں ملک کی تاریخ میں اچھے اور بڑے بڑے ججز بھی آئے ہیں، ایک پاناما تھا جو ختم ہوگیا، پھر اقامہ پر سزا دی گئی، آج میثاق جمہوریت کا ادھورا خواب پایہ تکمیل کو پہنچ گیا، ماضی میں جو ہوا اب کسی وزیراعظم کو گھر نہیں بھیجا جاسکے گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ بلاول بھٹو نے خلوص دل سے بے پناہ محنت کی، مولانا فضل الرحمان کا بھی دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں، اپنی ناراضی اور زوردار دلائل کے بعد مولانا نے اہم کردار ادا کیا، کاش پی ٹی آئی بھی اس میں شامل ہوتی تو بہت اچھا ہوتا، ملک کو پیغام گیا کہ ہاؤس میں موجود پارٹیوں نے ملک کیلئے ذاتی مفاد کو قربان کیا تمام جماعتوں نے آگے بڑھ کر 26 ویں ترمیم منظور کی، جو پاکستان کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھے گی۔

    قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو زرداری کا آئین اور مولانا فضل الرحمان کے کردار پر …

    26 ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ کی بالا دستی کے لیے ضروری تھی،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بیان میں کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے پارلیمنٹ کو مکمل آئینی اختیار اور وقار واپس ملا ہے، ترمیم سے بروقت انصاف ہوگا اور ہوتا نظر بھی آئے گا، 26 ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ کی بالا دستی کے لیے ضروری تھی۔

    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ 26 ویں ترمیم سے عدالتی نظام میں مثبت اصلاحات کا باب کھل گیا، یہ ترمیم پاکستان کو دنیا کی مثالی جمہور یت کی صف میں کھڑا کرے گی سود کے خاتمے کی شق کا خیرمقدم کرتی ہوں، عدلیہ کو خودمختار اور مزید مستحکم کیا گیا ہے اور انصاف تک عوامی رسائی کو یقینی بنایا گیا، 26 ویں آئینی ترمیم عوام کی آواز سب سے بلند ہونے کا واضح پیغام ہے۔

    اختر مینگل نے اپنے دو سینیٹرز سے استعفیٰ مانگ لیا

  • جتنی بھی ترامیم کرلیں لیکن ہمیں اپنی آئینی تاریخ کو بھی دیکھنا ہوگا،فاروق ستار

    جتنی بھی ترامیم کرلیں لیکن ہمیں اپنی آئینی تاریخ کو بھی دیکھنا ہوگا،فاروق ستار

    اسلام آباد: ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام کو مسائل سے نجات دلانی ہے، جتنی بھی ترامیم کرلیں لیکن ہمیں اپنی آئینی تاریخ کو بھی دیکھنا ہوگا-

    باغی ٹی وی : ایوان میں اظہار خیال کرےے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد آئین بنانے میں ہمیں 9 سال لگے، ہمیں مہنگائی اور بے روزگار ی ختم کرنا ہوگی، ایک باختیار، موثر بلدیاتی نظام ہی جمہوریت کو مضبوط بناسکتا ہے، بااختیار بلدیاتی نظام کو موثر بنایا جائے، پاکستان کے عوام کو مسائل سے نجات دلانی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے بعد اب ہم 26 ویں ترمیم قومی اسمبلی سے پاس کروانے کی پوزیشن میں ہیں، ملکی استحکام کیلئے آئینی ترمیم کا ساتھ دے رہے ہیں، سینیٹ کے بعد اب ہم 26 ویں ترمیم قومی اسمبلی سے پاس کروانے کی پوزیشن میں ہیں، ملکی استحکام کے لیے آئینی ترمیم کا ساتھ دے رہے ہیں۔

    قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو زرداری کا آئین اور مولانا فضل الرحمان کے کردار پر …

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سینیٹ سے منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں بھی 26ویں آئینی ترامیم کی تمام 27 شقیں منظور کرلی گئی ہیں۔ قومی اسمبلی سے بھی منظوری کے بعد مسودہ صدر مملکت کو بھجوا دیا گیا ہے، صدر آصف زرداری کے مسودہ پر دستخط کے ساتھ ہی چھبیسویں آئینی ترمیم آئین کا حصہ بن جائے گی۔

    آئینی ترمیم :ایوان سے منظوری کے بعد بل پر صدر مملکت آج دستخط کریں …

  • 26 ویں آئینی ترمیم :صدر مملکت کے دستخط کے بعد  گزٹ نوٹیفکیشن جاری

    26 ویں آئینی ترمیم :صدر مملکت کے دستخط کے بعد گزٹ نوٹیفکیشن جاری

    اسلام آباد:صدر مملکت آصف علی زرداری کے دستخط کے بعد 26ویں آئینی ترمیم کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق 26ویں آئینی ترمیم کا گزٹ نوٹیفکیشن قومی اسمبلی کی جانب سے جاری کیا گیا جس کے بعد 26ویں آئینی ترمیم بل 2024 ایکٹ آف پارلیمنٹ بن گیا، گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد 26ویں آئینی ترمیم لاگو ہوگئی۔

    26ویں آئینی ترمیم کے بعد سب سے پہلے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا جو نئے چیف جسٹس آف پاکستان کا تقرر کرے گی آرٹیکل 175اے کی شق 3 کے تحت نئے چیف جسٹس کا تقرر عمل میں لایا جائے گا۔

    چیف جسٹس آف پاکستان آرٹیکل 175اے کی ذیلی شق تین کے تحت تین سینیئر ججز کے نام پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائیں گے اور پارلیمانی کمیٹی تین ججز میں سے ایک جج کا تقرر کرے گی، خصوصی پارلیمانی کمیٹی چیف جسٹس آف پاکستان کا تقرر کر کے نام وزیر اعظم کو ارسال کرے گی اور وزیراعظم چیف جسٹس کے تقرر کی ایڈوائس صدر کو بھجوائیں گے۔

    آرٹیکل 175اے کی ذیلی شق 3اے کے تحت قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی 12ممبران پر مشتمل ہوگی۔ خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں 8اراکین قومی اسمبلی اور 4 سینیٹ سے لیے جائیں گے، چیف جسٹس آف پاکستان آرٹیکل 175اے کی ذیلی شق 3سی کے تحت ریٹائرمنٹ سے تین روز قبل 3 سینیئر ججز پر مشتمل پینل پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائیں گے، اسپیکر قومی اسمبلی خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیں گے۔

    قبل ازیں پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد 26 ویں آئینی ترمیم کی حتمی منظوری کا مرحلہ شروع ہوگیا وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے 26 ویں آئینی ترمیم کی توثیق کیلئے دستخط کرنے کے بعد اپنی ایڈوائس صدر پاکستان آصف علی زرداری کو بھجوا ئی تھی، جس پر صدر مملکت آصف علی زرداری آج دستخط کریں گے۔

    قبل ازیں ایوان صدر سیکرٹریٹ کے مطابق آئینی ترمیم پر صدر مملکت کے آج دستخط کرنے کی صبح 6 بجے منعقدہ تقریب ملتوی کردی گئی تھی ، تقریب کیلئے صبح 8 بجے کے وقت کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔

    وفاقی وزیر خزانہ امریکہ کے دورے پر روانہ، آئی ایم ایف اور ورلڈ …

    واضح رہے کہ سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دیدی ہے، حکومت دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

    قومی اسمبلی میں 26 ویں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری لی گئی، ایوان سے ترمیم کی منظوری کیلئے 224 ووٹ درکار تھے جبکہ ترمیم کے حق میں 225 ووٹ کاسٹ ہوئے،شق وار منظوری کے بعد 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کیلئے ڈویژن کے ذریعے ووٹنگ کی گئی، نوازشریف نے ڈویژن کے ذریعے ووٹنگ کے عمل میں سب سے پہلے ووٹ دیا آئینی ترمیم کیلئے 6 منحرف اراکین نے بھی اپنے ووٹ کاسٹ کیے، 5ارکان کا تعلق پی ٹی آئی سے بتایا جا رہا ہے جبکہ ایک کا تعلق ق لیگ سے تھا۔

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم کیلئے حکومتی اتحاد کو 224 ووٹ درکار تھے جبکہ حکومتی اتحاد 211 ارکان پر مشتمل ہے۔

    26ویں آئینی ترمیم قومی اسمبلی میں پیش: جمہوری اصلاحات اور عدلیہ میں اہم تبدیلیاں متعارف

    حکومتی بینچز پر قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن 111، پیپلزپارٹی کی 69 نشستیں ہیں، حکومتی بینچز پر ایم کیو ایم 22، ق لیگ 5، آئی پی پی کے 4 اراکین ہیں جبکہ مسلم لیگ ضیا، بلوچستان عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے ایک ایک رکن ہیں۔

    حکمران اتحاد کے 3 افراد کے خلاف ریفرنس دائر ہے، اس طرح یہ تعداد 211 ہے اور جے یو آئی کے 8 اراکین کی حمایت کے ساتھ یہ تعداد 219 ہوگی اور اب حکومت کو آئینی ترمیم پاس کروانے کیلئے مزید 5 ارکان کی ضرورت تھی کہ قومی اسمبلی میں جاری اجلاس کے دوران چوہدری الیاس، عثمان علی، مبارک زیب، ظہورقریشی اورنگزیب کھچی سمیت 5 آزاد اراکین ایوان میں پہنچ گئے تھے پانچوں ارکان پی ٹی آئی کی حمایت سےانتخابات میں کامیاب ہوئےتھے۔

    قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو زرداری کا آئین اور مولانا فضل الرحمان کے کردار پر …

  • ترمیم ترمیم کے کھیل میں سیاست دھندلا گئی ، قوم حیران- تجزیہ : شہزاد قریشی

    ترمیم ترمیم کے کھیل میں سیاست دھندلا گئی ، قوم حیران- تجزیہ : شہزاد قریشی

    ترمیم ترمیم کے کھیل میں سیاست دھندلا گئی،قوم حیران
    ایک دوسرے پر سبقت کی کوشش،25کروڑ عوام کی کسی کو فکر نہیں
    پنجاب میں وزیر اعلیٰ کے فلاحی اقدامات کو سبوتاژ کرنے کی سازش
    دو اور دو چار ہوتے ہیں،سیاستدانوں کا آئین پر حساب کتاب کمزورکیوں ؟
    تجزیہ،شہزاد قریشی

    سیاست کی دنیا میں دھند بڑھتی ہی جا رہی،باران رحمت کاانتظار،قوم حیران،کسی کو پچیس کروڑ عوام کی فکر نہیں،پنجاب میں عوام کی اس دھند زدہ سیاست میں فکر نظر آرہی،پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز کے عوامی خدمت کے ایجنڈے پر نوجوانوں کے ذریعے حملہ کیا گیا،من گھڑت کہانی بنا کر ترقی کرتے پنجاب کو عالمی سطح پر بدنام کیا گیا،ایسے تماشوں کا وزیراعلیٰ پنجاب کو مزید انتظار کرنے اور ان تماشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہنا ہوگا کیونکہ تماش بینوں کا کام صرف تماش بینی ہوتا ہے،اسلام آباد میں آئین کو لے کر سیاسی تماشے ہو رہے ہیں آئین کو ڈھال بنا کر سیاسی و مذہبی جماعتیں کون سا کھیل کھیلنے میں اور ایک دوسرے سے جیتنے میں مصروف ہیں جبکہ آئین تو دو اور دو کی طرح بالکل آسان ہے آئینی سوال کو مشکل ترین بنا دیا گیا،سب کو معلوم ہے آئین کیا ہے اکثریت کیا ہے معلوم نہیں ہمارے سیاستدانوں کا آئین کو لے کر حساب کتاب کیوں کمزور ہے؟ تاہم بات سمجھ سے بالاتر ہے کون کس کے ساتھ کیا گیم کھیل رہا ہے،امریکی سیاستدان الیکشن میں مصروف ہیں،دنیا کی نظریں امریکی انتخابات پر لگی ہیں ڈونلڈ ٹرمپ یا کملا ہیرس ،وائٹ ہائوس کانیا مکین کون ہوگا امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ کی کامیابی یقینی ہو سکتی ہے امریکی عوام کی اکثریت کوئی معاوضہ لئے بغیر ٹرمپ کی انتخابی مہم چلا رہی، اگر ٹرمپ کامیاب ہو گئے تو ان کی بھرپور توجہ معیشت پر ہوگی،امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے اپنی صدارت کا آخری دورہ یورپ کا کر لیا ہے، یورپی یونین کی چند ریاستیں ٹرمپ کی دوسری صدارت کا خیر مقدم کریں گی۔
    تجزیہ