Baaghi TV

Tag: تحقیق

  • آخر کچھ گانے ذہن سے چپک کیوں جاتے ہیں اور ان کو نکالنا کیسے ممکن ہے؟

    آخر کچھ گانے ذہن سے چپک کیوں جاتے ہیں اور ان کو نکالنا کیسے ممکن ہے؟

    کئی بار ہم کوئی گانا سنتے ہیں تو اس کے بول بار بار ذہن میں ابھرنے لگتے ہیں ماہرین نے اس پر حال ہی میں تحقیق کی ہے ایسا کیوں ہوتا ہے آخر کچھ گانے ذہن سے چپک کیوں جاتے ہیں اور ان کو نکالنا کیسے ممکن ہے؟-

    باغی ٹی وی: "دی گارڈین” کے مطابق جرنل میوزک اینڈ سائنس میں شائع آسٹریلیا کی نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی کے آرٹس اینڈ میڈیا اسکول کے محققین کے مطابق مخصوص گانے اپنی دھن کی وجہ سےنہیں بلکہ اس لیے ذہن سے چپکنے میں کامیاب ہوتےہیں کیونکہ ان میں ایسی تکرار ہوتی ہے جو ہمارے دماغ کے لیے جانی پہچانی ہوتی ہے۔

    محققین نے بتایا کہ بیشتر ایسے گانے بنیادی طور پرکورس سانگ (ایسے گانے جو کئی افراد مل کر گاتے ہیں) ہوتے ہیں۔اس طرح کے گانوں پر اب تک جو تحقیق ہوئی ہے اس میں یہ توجہ مرکوز نہیں کی گئی کہ گانے کا کونسا پہلو ذہن سے چپکنے کا باعث بنتا ہے،درحقیقت زیادہ ترگانوں کی موسیقی کا اس میں کوئی کردار نہیں ہوتا بلکہ اس کی موسیقی کے اسٹرکچر میں موجود تکرار اس حوالے سے اہم ثابت ہوتی ہے۔

    تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ تکرار اس پہیلی کا ایک پہلو ہے، کئی اور چیزیں بھی اس حوالے سے کردار ادا کرتی ہیں، جیسے گانا نیا ہو اور اس کی موسیقی جانی پہچانی محسوس ہوتی ہو اسی طرح کوئی گانا اس وقت ذہن میں بار بار ابھرتا ہے جب ہم بہت سکون کی حالت میں ہوتے ہیں اور کچھ کرنے کی بجائے خیالی پلاؤ پکا رہے ہوتے ہیں، اگر کسی کام میں مصروف ہوں تو پھر ایسا تجربہ ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔

    اس تحقیق کے مصنف پروفیسر ایمری شوبرٹ نے کہا کہ یہ ایسے گانے ہوتے ہیں جو بار بار ذہن میں ابھرتے ہیں، ان کے بول ذہن میں گونجتے ہیں اور یہ پورا عمل مسلسل ہوتا ہے اور اس کا تجربہ بیشتر افراد کو ہوتا ہے بیشتر افراد اس طرح کے گانوں کو اپنے لیے مسرت بخش سمجھتے ہیں، تاہم جب انہیں موسیقی پسند نہ آئے اور گانا ذہن سے چپک جائے تو پھر وہ چڑچڑے ہو جاتے ہیں۔اس سلسلے کو کافی حد تک شعوری طور پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے، جیسے اس گانے کو مکمل سن لیں یا شعوری طور پر کسی اور گانے کے بارے میں سوچنا شروع کردیں۔

  • رات کو تھوڑی تاخیر سے کھانا کھانا صحت کیلئےنقصان دہ نہیں،تحقیق

    رات کو تھوڑی تاخیر سے کھانا کھانا صحت کیلئےنقصان دہ نہیں،تحقیق

    لندن: یہ جانا پہچانا مشورہ ہے کہ رات کو دیر تک کھانا وزن میں اضافے اور صحت کی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ لیکن تحقیق سے اب پتہ چلا ہے کہ رات کا کھانا رات 9.30 بجے ختم کرنا بالکل ٹھیک ہے یعنی اگر آپ اگلے دن کا ناشتہ تھوڑی تاخیر سے کرنے والے ہیں تو رات کو تھوڑی تاخیر سے کھانا کھانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

    باغی ٹی وی : کنگز کالج لندن میں جینیٹک ایپڈیمیولوجی کے پروفیسر ٹِم اسپیکٹر نے برطانیہ میں 80 ہزار افراد پر تحقیق کی مطالعے میں انہوں نے کھانے کے مختلف اوقات اور وہ جن اوقات میں لوگ کھانا کھاتے ہیں ان کا جائزہ لیا۔

    ماہ رمضان ذائقے: دنیا بھر میں افطار کے خصوصی پکوان

    ذاتی غذائیت کی کمپنی Zoe کے ذریعے جمع کیے گئے تحقیق کے مکمل نتائج اس سال کے آخر تک شائع نہیں کیے جائیں گے لیکن ابتدائی نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ افراد صحت اور وزن کے مسائل سے بچتے ہوئے رات 9 بج کر 30 منٹ تک کی تاخیر سے کھانا کھا سکتے ہیں۔

    رات کے کھانے میں تاخیر کے سبب کسی مسئلے سے بچنے کا اہم طریقہ اگلے روز کا ناشتہ تاخیر سے کرنا ہے (صبح 11:30 یا اس کے بعد) تاکہ میٹابولزم کے لیے بہتر عامل اور 14 گھنٹوں کے فاقے کے دورانیے کو حاصل کیا جاسکے فاقے کا یہ دورانیہ بڑے پیمانے پر لوگوں کے لیے مؤثر تھا چاہے انہوں نے کتنی ہی تاخیر سے کھانا کھایا ہو۔

    انزائٹی کا حیرت انگیز علاج دریافت

    پروفیسر ٹِم اسپیکٹر کے مطابق رات کا کھانا جلدی کھانے کے فوائد کا خیال کم عمر افراد پر کیے جانے والے بہت کم مطالعوں پر مبنی ہے، جس میں فاقے کے دورانیے کو شامل نہیں کیا گیا تھاان مطالعوں میں رات کا کھانا جلدی کھانے کے انتہائی معمولی فوائد سامنے آئے اس لیے پروفیسر ٹِم کا خیال ہے کہ ان فوائد کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے۔

    تحقیق میں دیکھا گیا کہ وہ لوگ جنہوں نے رات کو تاخیر سے کھانا کھایا لیکن ہر دن 14 گھنٹوں کا فاقہ کیا انہوں نے خود کے زیادہ توانا ہونے کے متعلق بتایا اور یہ مطالعات پہلے رات کا کھانا کھانے کا صرف ایک معمولی فائدہ ظاہر کرتی ہیں لہذا اس کا خیال ہے کہ فوائد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔

    پروفیسر سپیکٹر، کتاب فوڈ فار لائف: دی نیو سائنس آف ایٹنگ ویل کے مصنف، وقت کی پابندی کے ساتھ کھانے کا ایک چیمپئن ہے، جسے بہت سے مطالعات نے میٹابولک صحت اور وزن کم کرنے کے لیے مفید پایا ہے اور مطالعہ میں، جو لوگ دیر سے کھاتے ہیں لیکن دن میں 14 گھنٹے روزہ رکھتے ہیں ان میں زیادہ توانائی ہوتی ہے۔

    بریانی اے ٹی ایم مشین، جہاں گرما گرم بریانی آرڈر کرسکتے ہیں

  • اگر پودوں کو مناسب مقدار میں پانی نہیں دیاجائے یا کاٹا جائے تو وہ آہ و بکا کرتے ہیں،تحقیق

    اگر پودوں کو مناسب مقدار میں پانی نہیں دیاجائے یا کاٹا جائے تو وہ آہ و بکا کرتے ہیں،تحقیق

    تل ابیب: ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر پودوں کو مناسب مقدار میں پانی نہیں دیاجائے یا کاٹا جائے تو وہ آہ و بکا کرتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: ماضی میں کی جانے والے ایک تحقیق میں سینسر کو استعمال کرتے ہوئے پودوں سے نکلنے والی الٹرا سونک لہروں کو ریکارڈ کیا جاچکا ہےحال ہی میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق میں پہلی بار یہ بات سامنے آئی ہے کہ پودے آواز نکالتے ہیں جس کے متعلق محققین نے اندازہ لگایا کہ تیز سماعت رکھنے والے جانور یہ آوازیں 16 فٹ کی دوری سے سن سکتے ہیں۔

    100 دن کیلئےزیرآب موجود سائنسدان کا نئی نوع دریافت کرنےکا دعویٰ

    سائنسئ جرنل نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق میں مصنفین نے پایا کہ جن پودوں کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے یا جن کے تنوں کو حال ہی میں کاٹا گیا ہے وہ فی گھنٹہ تقریباً 35 آوازیں پیدا کرتے ہیں۔ لیکن اچھی طرح سے ہائیڈریٹڈ اور کٹے ہوئے پودے زیادہ پرسکون ہوتے ہیں، جو فی گھنٹہ صرف ایک آواز پیدا کرتے ہیں۔

    آپ نے شاید کبھی پیاسے پودے کو شور کرتے نہیں سنا ہوگا کہ آوازیں الٹراسونک ہیں تقریباً 20-100 کلو ہرٹز۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ اتنے اونچے ہیں کہ بہت کم انسان انہیں سن سکتے ہیں۔ کچھ جانور، تاہم، شاید کر سکتے ہیں چمگادڑ، چوہے اور کیڑے ممکنہ طور پر پودوں کی آوازوں سے بھری ہوئی دنیا میں رہ سکتے ہیں، اور اسی ٹیم کےپچھلے کام سے پتہ چلا ہےکہ پودے بھی جانوروں کی آوازوں کا جواب دیتے ہیں۔

    انسان چوںکہ بلند فریکوئنسی کی آواز نہیں سکتا اس لیے محققین نے ان آوازوں کی فریکوئنسی کم کی تاکہ ان آوازوں کی سماعت کی جاسکے اور اس طرح معلوم ہوا کہ ان آوازوں کی تیزی اتنی ہی ہوتی ہے جتنی انسانی گفتگو کی ہوتی ہے۔

    نیند کی کمی دوسروں کی مدد کرنے کے رجحان کو کم کرسکتی ہے،تحقیق

    عام طور پر پودے پاپ کارن کے پھٹنے جیسی آوازیں ہر گھنٹے میں اوسطاً ایک سے کم بار نکالتے ہیں۔ ان آوازوں کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تنے میں بننے والے بلبلوں کے پھٹنے سے پیدا ہوتی ہیں۔

    لیکن تحقیق میں دیکھا گیا کہ ٹماٹر کے پودے جن کو پانچ دنوں تک پانی نہیں دیا گیا ان پودوں میں سے آوازیں زیادہ شدت کے ساتھ نکلیں۔ یہ پودے ہر دو منٹ میں اوسطاً ایک سے زیادہ بار ایسی آوازیں نکالتے تھے جب ان پودوں کو کاٹا جاتا تب یہ پودے ہر ڈھائی منٹ میں ایک تنبیہی آواز نکالتے تھے۔

    تحقیق میں شامل محقق ہاڈنی کا کہنا ہے کہ پودوں میں آواز کی ہڈی یا پھیپھڑے نہیں ہوتے ہیں۔ موجودہ نظریہ کہ پودے اپنے زائلم پر شور کا مرکز کیسے بناتے ہیں، وہ ٹیوبیں جو پانی اور غذائی اجزاء کو اپنی جڑوں سے اپنے تنوں اور پتوں تک پہنچاتی ہیں۔ زائلم میں پانی کو سطح کے تناؤ سے ایک ساتھ رکھا جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے پانی پینے کے تنکے سے چوسا جاتا ہے۔ جب زائلم میں ہوا کا بلبلہ بنتا ہے یا ٹوٹ جاتا ہے، تو یہ تھوڑا سا پاپنگ شور کر سکتا ہے، اور خشک سالی کے دباؤ کے دوران بلبلے کی تشکیل کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن درست طریقہ کار کو مزید مطالعہ کی ضرورت ہے-

    پاکستان میں فیس بک اور انسٹاگرام کو ویریفائیڈ کروانے کی فیس کتنی اور کن شرائط …

  • نزلے کے دوران دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، نئی تحقیق

    نزلے کے دوران دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، نئی تحقیق

    ماہرین کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نزلے کے دوران دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں میں نزلہ زکام کی تشخیص ہو ان میں ایک ہفتے کے دوران دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ نزلے سے متاثرہ ہونے کے بعد ایک ہفتے میں دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ 6 گنا بڑھ جاتا ہے یہ تحقیق نزلہ زکام کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کو دل کے دورے کی علامات سے متعلق آگاہی بھی دیتی ہے۔ماہرین کی ٹیم نے 16 لیبارٹریز سے حاصل ہونے والے نتائج کا جائزہ لیا اور اس کا موازنہ اموات سے کیا۔2008 سے 2019 کے درمیان 26 ہزار 221 کیسز کی تصدیق ہوئی اور اس گروہ میں 401 مریضوں کو ایک سال قبل یا نزلے کے دورانیے کے بعد دل کا دورہ پڑا تھا کچھ مریضوں کو ایک سے زیادہ دل کے دورے پر پڑے تھے یوں ٹوٹل 419 افراد کو دل کے دورے پڑے تھے۔

  • شکر گزاری کا جذ بہ شدید ذہنی تناؤ کو کم کر سکتا ہے،تحقیق

    شکر گزاری کا جذ بہ شدید ذہنی تناؤ کو کم کر سکتا ہے،تحقیق

    ماہرین کا کہنا ہے کہ شکر کرنا شدید ذہنی تناؤ کی کیفیت کو کم کرسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: مغربی دنیا میں اس موضوع پر بڑی تحقیق ہوئی ہے۔ اور اس سلسلے میں لکھنے یا تحقیق کرنے والے دو باتوں پر متفق نظر آتے ہیں۔ پہلی بات کہ شکرگزاری ایک ایسی اخلاقی قدر یا نیکی ہے جس کو بہت کمتر یا بے معنی سمجھا جاتا ہے اور دوسری بات کہ دنیا کے تمام عظیم انسانوں میں یہ خوبی عام لوگوں کی نسبت بہت زیادہ پائی جاتی ہے جس کا وہ برملا اظہار کرتے ہیں۔

    اس ضمن میں ایک چھوٹے سے گروہ پر تحقیق کی گئی ہے لیکن اس کی اہمیت نظرانداز نہیں کی جاسکتی سائنسدانوں نے نے 18 سے 57 سال کے 68 افراد کو بھرتی کیا جن میں 24 مرد اور 44 خواتین شامل تھی اس کے لیے تجربہ گاہ میں ایک فرضی ماحول بنایا گیا تھا ڈیزائن کے تحت تجربہ گاہ میں کچھ ایسے کام کئے گئے جو تناؤ کی وجہ بنے اور اس کے بعد شرکا کے دل کے ردِ عمل اور بحالی کو نوٹ کیا گیا۔ اس طرح پوری ترتیب کے ساتھ یہ تجربہ انجام دیا گیا۔

    مطالعے میں نوٹ کیا گیا کہ جو لوگ اسٹریس سے گزرے لیکن شکر کا دامن تھامے رکھا تب بھی ان کا بلڈ پریشر معمول کے تحت تھا۔ یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ اکیوٹ سائیکولوجیکل اسٹریس کی صورت میں قلبی ردِ عمل اور بحالی میں جذبہ تشکر ایک دیوار کی طرح حائل رہا۔

    محققین کےمطابق اگرکوئی شخص شدید نفسیاتی تناؤ (اکیوٹ سائیکولوجیکل اسٹریس) کا شکار ہے تو بھی شکر کا جذبہ اسے کیفیت سے تحفظ فراہم کرتا ہےچونکہ دماغ جسم کا صدر مقام ہے تو ڈپریشن اور تناؤ پورے جسم کومتاثرکرتا ہےپھر اس سے بلڈ پریشر، ذیابیطس اور امراضِ قلب میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اسی لیےماہرین اسٹریس بفر یعنی تناؤ سے مزاحم عوامل بہت زور دیتے ہیں۔

    یونیورسٹی آف مے نوتھ سے وابستہ برائن لیوی اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ اگرچہ شکراورڈپریشن میں کمی میں تعلق پر بہت تحقیق ہوئی ہے لیکن حقیقی طور پر نفسیاتی تناؤ اور امراضِ قلب سے بحالی پر بہت کم تحقیق کی گئی ہے۔

    جذبہ شکرایک طاقتورکیفیت ہے جو ہمیں بہت سے مسائل سے بچاتی ہے۔ 2010 میں کی گئی تحقیق کے مطابق شکر کے چھوٹے چھوٹے عمل ہماری صحت کو بہتر کرتی ہے۔ اسی طرح 2016 میں امراضِ قلب کے شکار افراد سے شکرانے کی ڈائری لکھنے کو کہا تو ان کی کیفیت بہتر ہونے لگی اور وہ تیزی سے بحال ہوئے-

    رابرٹ ایمنذ ، میک کلااور ان کے کئی ایک ساتھیوں نے شکرگزاری کے موضوع پر کافی تحقیق کی ہے ۔ان کے مطابق دنیا کے تمام مذاہب میں شکرگزاری ایک ایسی نیکی ہے جوبہترین انسانی کردار کی ضمانت کے طور پر جانی جاتی ہے یہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کا لازمی جز وہ خوشگوار احساس ہے جو نعمت پہنچانے والے کے ساتھ منسلک ہوتاہے ۔

    پچھلی دو دہائیوں میں نفسیات کے میدان میں انسانی جذبات اور انہیں سمجھنے پر کافی تحقیق ہوئی ہے اور اس موضوع پر لکھی گئی کئی ایک کتابیں اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ ایک اہم انسانی صفت ہے جسے ما ہرِ نفسیات اور فلاسفرز مختلف انداز میں بیان کرتے ہیں شکرگزاری کی تعریف کئی مشہور شخصیات سے منسوب ہے ڈیوڈ ہارنیڈ (1997) کے مطابق شکر گزاری ایک ایسےرویے کو ظاہر کرتا ہے جوبذاتِ خود نعمت یا تحفے کی طرف اور نعمت دینے والے کی طرف اس عزم کے ساتھ ہوتا ہے کہ اس نعمت یا احسان یا تحفے کو دینے والے کی مرضی کے مطابق بہترین انداز میں استعمال کیا جائے ۔

    ۔اوپرا ونفری امریکہ کی مشہور ایکٹریس، مصنفہ اور ٹاک شو ہوسٹ ہے، اس کے مطابق اگر’’ہم اس (نعمت)کے شکر گزار ہیں جو ہمارے پاس ہے تو ہمیں مزید ملے گا‘‘۔امریکہ ہی کے مشہور روحانی پیشوا نارمن ونسنٹ پیل کے مطابق’’ ایک بنیادی قانون (یہ ہے کہ) جتنا زیادہ تم شکر ادا کرو گے اتنے زیادہ تمہیں شکر ادا کرنے کے موقعے ملتے رہیں گے‘‘۔

    سیلف ہیلپ پر کئی کتابیں لکھنے والی مصنفہ میلوڈی بیٹی کے مطابق ، ’’شکر گزاری ماضی کو قابلِ فہم، آج کو پرسکون اور آنے والے کل کو مقاصد تخلیق کرنے کے قابل بناتی ہے-

    فرانسیسی جرنلسٹ اور ناولسٹ الفونسی کار شکرگزاری کے جذبے کے تحت زندگی کو مثبت انداز میں دیکھنے کے عادی ہے اور کہتے ہیں کہ کچھ لوگ شکایت کرتے ہیں کہ گلاب کے پھولوں کے ساتھ کانٹے ہوتے ہیں جبکہ میں اس بات کا شکر ادا کرتا ہوں کہ کانٹوں کے ساتھ گلاب ہیں-

    ۔رابرٹ ایمنذ اپنی کتاب، ’شکریہ‘ میں تحریر کرتے ہیں کہ وہ لوگ جو شکر ادا کرنے والے یا شکرگزاری کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں وہ دوسروں سے محبت کرنے والے، آسانی سے معاف کرنے والے، پرجوش اور خوشی کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں۔ یہی جوش اور خوشی انہیں کامیابیوں سے ہمکنار کرتا ہے۔

  • ماؤنٹ ایورسٹ پر صدیوں سے کوہ پیماؤں کی کھانسی اور چھینک کے جراثیم محفوظ، تحقیق

    ماؤنٹ ایورسٹ پر صدیوں سے کوہ پیماؤں کی کھانسی اور چھینک کے جراثیم محفوظ، تحقیق

    امریکی یونیورسٹی کی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پہاڑوں پر جمی برف میں انسان کے کھانسنے اور چھینکنے کے جراثیم صدیوں تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی:"ڈیلی میل” کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی یونیورسٹی آف کولاراڈو کے محققین نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سے حاصل کردہ مٹی کے نمونوں کا تجزیہ کیا جس میں انسانوں سے وابستہ جراثیم پائے گئے۔

    پانی کی عام بوتلوں میں کسی ٹوائلٹ سے بھی 40 ہزار گنا زیادہ جراثیم موجود …

    ماضی میں محققین نے زمین پر سرد ترین علاقوں میں مٹی کا مطالعہ کیا لیکن اس میں انسانوں سےوابستہ جراثیم کی تعداد نہ ہونے کے برابر پائی گئی اب آرکٹک، انٹارکٹک، اور الپائن ریسرچ میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق میں امریکی ٹیم نے جدید ترین جین ترتیب دینے والی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے مٹی کا تجزیہ کیانیہ مٹی کے نمونے 2019 میں ایورسٹ مہم کےدوران ماؤنٹ ایورسٹ کےساؤتھ کول سے جمع کیے گئے تھے۔

    ساؤتھ کول ماؤنٹ ایورسٹ اور لوٹسے چوٹی کے درمیان ایک چٹانی فاصلہ ہے،جو کوہ پیماؤں کے لیے دنیا کے بلند ترین پہاڑ پر اپنا سفر شروع کرنے سے پہلے آخری اسٹاپ ہے۔

    چوہے بھی کورونا وائرس کے ایلفا، ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹس سے متاثر ہو سکتے ہیں،تحقیق

    تحقیق کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ کی مٹی کے نمونوں میں ملنے والے یہ جراثیم (Staphylococcus جو کہ فوڈ پوائزننگ اور نمونیا سے منسلک ہے) اور (Streptococcus جو گلے کی سوزش کا سبب بنتا ہے) کے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔

    محقیقن کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ کی مٹی میں جو جراثیم پائےگئے ان میں سے زیادہ تر کو غیر فعال سمجھا جاتا تھا لیکن یہ برفانی حصے میں انسانی سرگرمیوں کے قریب کافی وقت سے محفوظ رہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے حاصل کردہ نتائج سے یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ دنیا سے باہر دوسرے منجمد سیاروں پر زندگی کے آثار موجود ہو سکتے ہے۔

    تحقیق میں معلوم ہوا کہ اس مٹی سے جو انسانی جراثیم پائے گئے وہ کوہ پیماؤں کے چھینکنے اور کھانسنے کی صورت میں وہاں محفوظ رہے۔

    کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک کی فہرست جاری

  • پانی کی عام بوتلوں میں کسی ٹوائلٹ سے بھی 40 ہزار گنا زیادہ جراثیم موجود ہو سکتے ہیں،ماہرین

    پانی کی عام بوتلوں میں کسی ٹوائلٹ سے بھی 40 ہزار گنا زیادہ جراثیم موجود ہو سکتے ہیں،ماہرین

    امریکا میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے نکشاف کیا ہے کہ پانی کی عام بوتلوں میں کسی ٹوائلٹ سے بھی 40 ہزار گنا زیادہ جراثیم موجود ہو سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: تحقیق میں تو پانی کی بار بار استعمال ہونے والی بوتلوں کو لیبارٹریز میں جراثیموں کو محفوظ رکھنے والی پیٹری ڈش قرار دیا گیا۔

    "ڈیلی میل” کے مطابق واٹر فلٹر گرو نامی ویب سائٹ کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ان بوتلوں میں 2 اقسام کے بیکٹریا موجود ہوتے ہیں جو gram-negative rods اور bacillus ہیں۔

    gram-negative بیکٹریا کی متعدد اقسام ہوتی ہیں اور وہ سنگین امراض جیسے نمونیا کا خطرہ بڑھاتے ہیں اسی طرح bacillus کی کچھ اقسام متلی، قے اور ہیضے سمیت نظام ہاضمہ کے مختلف امراض کا باعث بنتی ہیں اس تحقیق میں عام استعمال کی جانے والی 4 اقسام کی پانی کی بوتلوں کی جانچ پڑتال کی گئی تھی۔

    تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پانی کی بوتلوں میں اوسطاً 2 کروڑ سے زائد جراثیم موجود ہوتے ہیں جبکہ ایک ٹوائلٹ میں یہ تعداد 515 ہوتی ہے،اسی طرح بوتلوں میں جراثیموں کی تعداد کمپیوٹر ماؤس (50 لاکھ) سے 4 گنا سے زیادہ ہوتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگرچہ پانی کی بوتلوں میں جراثیموں کی تعداد بہت زیادہ ہوسکتی ہے مگر ضروری نہیں کہ وہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں، کیونکہ انسانی منہ میں بڑی تعداد میں مختلف اقسام کے بیکٹریا موجود ہوتے ہیں۔

    البتہ انہوں نے مشورہ دیا کہ بوتلوں میں بیکٹریا کو جمع ہونے سے روکنے کے لیے انہیں روزانہ گرم پانی سے دھونا عادت بنائیں۔

    گرام منفی بیکٹیریا ایسی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں جو دوائیوں کے خلاف زیادہ سے زیادہ مزاحم ہوتی جا رہی ہیں، جب کہ کچھ بیسیلس انواع ہاضمہ کے مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔

    بوتلوں کی صفائی کا عام گھریلو اشیاء سے موازنہ کرنے سے بھی ایک بھیانک تصویر سامنے آئی: وہ کمپیوٹر کے ماؤس سے دوگنا جراثیم، کچن کے سنک سے دوگنا، اور پالتو جانوروں کے پانی کے برتن سے 14 گنا زیادہ جراثیم رکھتے ہیں۔

    امپیریل کالج لندن کے مالیکیولر مائیکروبائیولوجسٹ ڈاکٹر اینڈریو ایڈورڈز کا کہنا ہے کہ “انسانی منہ بڑی تعداد میں مختلف بیکٹیریا کا گھر ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ ہم جو برتن استعمال کرتے ہیں وہ جراثیم سےڈھکے ہوئے ہیں۔

    رپورٹ میں ایک اور مائکرو بایولوجسٹ ڈاکٹر سائمن کلارک کا حوالہ دیا گیا جنہوں نے کہا کہ اگرچہ بوتلیں بیکٹیریا کی افزائش کا ایک بڑا ذریعہ ہیں، لیکن یہ ہمیشہ خطرناک نہیں ہوتیں۔

    کلارک نے کہا کہ اس نے کبھی پانی کی بوتل سے کسی کے بیمار ہونے کے بارے میں نہیں سنا پانی کی دوبارہ استعمال ہونے والی بوتلیں ان جراثیمز کی وجہ سے آلودہ ہوسکتی ہیں جو پہلے ہی لوگوں کے منہ میں موجود ہوں۔

    محققین نے دوبارہ قابل استعمال بوتل کو دن میں کم از کم ایک بار گرم صابن والے پانی سے دھونے اور ہفتے میں کم از کم ایک بار اسے صاف کرنے کی تجویز دی ہے۔

  • چوہے بھی کورونا وائرس کے ایلفا، ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹس سے متاثر ہو سکتے ہیں،تحقیق

    چوہے بھی کورونا وائرس کے ایلفا، ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹس سے متاثر ہو سکتے ہیں،تحقیق

    سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ چوہے بھی کورونا وائرس کے ایلفا، ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی :عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق امیرکن سوسائٹی فار مائیکروبایولوجی میں شائع ہونےوالی تحقیق میں معلوم ہوا ہےکہ نیویارک شہر میں کورونا وائرس جنگلی چوہوں کو متاثر کر چکا ہے تحقیق میں محققین نے وائرسز کے ساتھ ممکنہ تعلق دریافت کیا جو عالمی وباء کے ابتدائی دنوں کے دوران انسانوں میں پھیل رہا تھا۔

    سعودی عرب کا ایران میں جلد بڑی سرمایہ کاری کرنے کا عندیہ

    امریکی دفترِ زراعت اورجانور اور پودوں کی ہیلتھ انسپیکشن سروس نے 79 ناروییئن چوہوں کےنمونوں کا تجزیہ کیا تاکہ کوویڈ 19 انفیکشن کے شواہد دیکھے جاسکیں۔ حاصل کیے گئے 79 نمونوں میں 13 چوہوں کا کووڈ ٹیسٹ مثبت آیا۔

    تحقیق میں محققین کے سامنے یہ بات آئی کہ ایلفا، ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹس چوہوں میں انفیکشن کا سبب بن سکتے ہیں۔

    یونیورسٹی آف مِزری کے پروفیسر ڈاکٹر ہینری وین کا کہنا تھا کہ یہ اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس ویریئنٹس امریکا کے شہری علاقوں کے بڑے حصے میں جنگلی چوہوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

    شہد کی بچہ مکھیاں بڑی مکھیوں سے رقص‌ سیکھتی ہیں،رپورٹ

  • فضائی آلودگی سے ڈپریشن کا خطرہ بڑھتا ہے. تحقیق

    فضائی آلودگی سے ڈپریشن کا خطرہ بڑھتا ہے. تحقیق

    فضائی آلودگی سے معمر افراد میں ڈپریشن سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔
    جرنل JAMA Network Open میں شائع ہونی والی تحقیق کے مطابق ہارورڈ ٹی ایچ چن اسکول آف پبلک ہیلتھ کی تحقیق میں طویل عرصے تک فضائی آلودگی سے متاثرہ جگہ پر رہنے اور بڑھاپے میں ڈپریشن کی تشخیص کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا تھا۔ جسم پر ظاہر ہونے والی وہ علامات جو ڈپریشن کا نتیجہ ہوتی ہیں

    ڈپریشن ایک سنگین بیماری ہے جو دماغ کے ساتھ ساتھ جسمانی صحت کو بھی متاثر کرتی ہے۔ اس تحقیق کے لیے 89 لاکھ افراد کے طبی ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گی جن میں سے 15 لاکھ میں ڈپریشن کی تشخیص ہوئی تھی۔ محققین نے یہ بھی جائزہ لیا کہ جن افراد میں ڈپریشن کی تشخیص ہوئی تھی، ان کے علاقوں میں فضائی آلودگی کی صورتحال کیا تھی۔

    نتائج سے معلوم ہوا کہ فضائی آلودگی سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے افراد میں ڈپریشن سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ محققین نے بتایا کہ فضائی آلودگی کی تمام اقسام سے بڑھاپے میں ڈپریشن کی تشخیص کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ فضائی آلودگی کس طرح معمر افراد میں ڈپریشن کا باعث بنتی ہے۔

  • سطح زمین سے 161 کلو میٹر نیچے ایک نئی پرت دریافت

    سطح زمین سے 161 کلو میٹر نیچے ایک نئی پرت دریافت

    سائنس دانوں نے سطح زمین سے 161 کلو میٹر نیچے ایک نئی تہہ دریافت کی ہے جس سے سیارے کا تقریباً 44 فیصد حصہ ڈھکا ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: ماہرین کے مطابق پگھلی ہوئی چٹانوں کا یہ خطہ، جس کے متعلق پہلے کچھ معلوم نہیں تھا، ایستھینواسفیئر کا حصہ ہے جو ٹیکٹونک پلیٹوں کے نیچے اور مینٹل کے اوپری حصے میں موجود ہے۔ یہ خطہ نرم سرحد تشکیل دیتا ہے جس کے سبب ٹھوس چٹانوں کی سلیں حرکت کرتی ہیں۔

    سعودی عرب میں نبطی دور کی حنوط شدہ خاتون کا چہرہ بحال

    یہ نئی دریافت عرصے سے رکھے جانے والے ان نظریات کو غلط ثابت کرتی ہے کہ پگھلی ہوئی چٹانیں ایستھینواسفیئر کے گاڑھے پن کو متاثر کرتی ہیں۔

    محققین نے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ کون سے عوامل asthenosphere کو نرم بناتے ہیں اور پگھلی ہوئی چٹانوں کو اس کا حصہسمجھتے ہیں۔ اگرچہ زمین کا اندرونی حصہ زیادہ تر ٹھوس ہے، چٹانیں وقت کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ منتقل اور حرکت کر سکتی ہیں۔

    جیونلن ہوا، آسٹن کی یونیورسٹی آف ٹیکساس کے جیکسن اسکول آف جیو سائنسز میں پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو، اپنی ڈاکٹریٹ کی تحقیق کے لیے ترکی کے نیچے واقع زمین کے پردے کی زلزلہ کی تصاویر کا مطالعہ کر رہے تھے جب انھوں نے جزوی طور پر پگھلی ہوئی چٹان کے آثار دیکھے۔ اس نے اپنا کام 2020 میں شروع کیا جب وہ براؤن یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کے طالب علم تھے۔

    50 ہزار سال بعد پہلی بار زمین کے قریب سے گزرنے والا سبز دم دار ستارہ آج آسمان پر…

    جیونلِن ہوا کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ جب ہم کسی چیز کے پگھلنے کے متعلق سوچتے ہیں تو ہم خود بخود یہ سوچنے لگ جاتے ہیں کہ یہ مائع مادے کے گاڑھے ہونے میں بڑا کردار ادا کرتا ہوگا۔ لیکن ہمیں یہ معلوم ہوا کہ جہاں پر پگھلا ہوا مادہ زیادہ مقدار میں بھی تھا وہاں بھی مینٹل کے بہاؤ پر انتہائی معمولی اثر ڈال رہا تھا۔

    سائنسدانوں نے پہلے اس چٹان کی تہہ کے کچھ حصوں کو دیکھا تھا اور سوچا تھا کہ یہ ایک بے ضابطگی ہے، لیکن جیونلن اور اس کے ساتھی محققین کو اس بات کا ثبوت ملا کہ اس کی وسیع تر موجودگی تھی۔

    تحقیقی ٹیم نے اس بات کی تصدیق کی کہ asthenosphere ٹھوس اور پگھلی ہوئی چٹان دونوں پر مشتمل ہے اور اگرچہ یہ چٹان بعد میں جزوی طور پر پگھلی ہوئی ہے، لیکن یہ پلیٹوں کی نقل و حرکت میں حصہ نہیں ڈالتی اور نہ ہی ان کے لیے حرکت کرنا آسان بناتی ہے۔

    اس سے قبل یہ نظریہ تھا کہ ان ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکات ان پگھلی ہوئی چٹانوں سے منتقل ہونے والی تپش کے سبب ہوتی ہے۔ لیکن یہ نئی دریافت واضح کرے گی کہ ٹھوس چٹانوں کی سلیں سطح کے نیچے کس طرح بآسانی حرکت کرتی ہیں۔

    زمین کی مقناطیسی میدان میں خلل پرندوں کو ان کی منزل سے بھٹکاسکتا ہے،تحقیق