Baaghi TV

Tag: تحقیق

  • ہائپرٹینشن کورونا کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    ہائپرٹینشن کورونا کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    لاس اینجلس: ایک نئی تحقیق کے مطابق ہائپرٹینشن کورونا کے خطرات بڑھا دیتا ہے-

    باغی ٹی وی: امریکا کی سینٹرز فار ڈیزیزکنٹرول اینڈ پریوینشن جرنل ہائپرٹینشن میں شائع کی گئی رپورٹ کے مطابق یہ خطرہ بڑے پیمانے پر پھیلا ہوا ہے، امریکا میں ہر دو میں سے ایک فرد ہائپر ٹینشن کا شکار ہے۔

    لاس اینجلس میں قائم سیڈرز سینائی کے اسمدٹ ہارٹ انسٹیٹیوٹ کے محققین کی جانب سے کی جانے والی تحقیق کے سربراہ مصنف جوزیف ای ایبنگر کا کہنا تھا کہ ہدایت یہ ہےکہ انفیکشن سےبچنا انتہائی ضروری ہے اس وائرل ویریئنٹ کےمتعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اکثر لوگوں میں معمولی بیماری کا سبب بنتا ہے۔

    الیکٹرونک میڈیکل ریکارڈ کا مطالعہ کرتے ہوئے سیڈر-سینائی محققین نے 912 لوگوں کی شناخت کی جو ایم آر این اے ویکسین سے مکمل طور پر ویکسین شدہ تھے،ان کو بُوسٹر شاٹ بھی لگ چکا تھا اورکوویڈ کے دوران یکم دسمبر 2021 سے 20 اپریل 2022 کےدرمیان جنوبی کیلیفورنیا میں جب اومی کرون کی لہر بڑھ رہی تھی تو وہ لوگ وائرس میں مبتلا ہوئے۔ ان میں 145 کو اسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت پیش آئی تھی۔

    تحقیق کی سینئر مصنفہ اور انسٹیٹیوٹ کی ایک ڈائریکٹر سوزین چینگ کا کہنا تھا کہ محققین یہ جان کر حیران ہیں کہ کئی لوگ جو کورونا کی وجہ سے اسپتال میں داخل ہوئے ان میں ہائپرٹینشن کے علاوہ کوئی اورعوامل موجود نہیں تھے انہوں نے کہا کہ یہ بات تشویشناک ہے کہ امریکا کے تقریباً نصف افراد ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہیں۔

    واضح رہے کہ کورونا نے 79 سالہ عمر رسیدہ امریکی صدر جو بائیڈن کو بھی شکارکرلیاہے ، اطلاعات ہیں کہ جوبائیڈن پہلی بار کورونا میں مبتلا ہوگئے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرین جین پیئر کے مطابق جو بائیڈن میں کورونا کی علامات محسوس ہوئی تھیں جس کے بعد انکا ٹیسٹ کیا گیا جو مثبت آیا ہے۔

    پریس سیکریٹری کے مطابق 79 سالہ امریکی صدر بائیڈن کو کورونا ویکسین کی دونوں ڈوز کے علاوہ دو بوسٹر ڈوز بھی لگ چکی ہیں۔ ترجمان کے مطابق جو بائیڈن وائٹ ہاؤس میں ہی آئیسولیٹ ہوچکے ہیں اور وہیں سے معمول کے مطابق اپنی ذمہ داریاں انجام دینگےصدر بائیڈن کو جمعرات کی صبح بخار نہیں تھا، انکی زکام اور خشک کھانسی کی شکایت ہے اور وہ کچھ تھکاوٹ کا سامنا کر رہے ہیں۔

    جو بائیڈن نے جنوری 2021 میں فائزر/بائیو ٹیک کوویڈ 19 ویکسین کی پہلی دو خوراکیں حاصل کی تھیں، ستمبر میں ان کو پہلی بوسٹر ڈوز اور 30 ​​مارچ کو دوسری بوسٹر ڈوز دی گئی تھی عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے جو بائیڈن کو کورونا سے زیادہ خطرہ لاحق ہے اگرچہ کہ امریکی مرکز برائے ڈیزیز کنٹرول کہہ چکا ہے کہ بڑی عمر کے بالغ افراد کو مکمل طور پر ویکسین اور بوسٹر ڈوز لگانے کے بعد موت کے خطرے میں نمایاں کمی آجاتی ہے-

  • اسرائیل اورمتحدہ عرب امارات کےدرمیان کینسراورذیابیطس پرتحقیق کا معاہدہ

    اسرائیل اورمتحدہ عرب امارات کےدرمیان کینسراورذیابیطس پرتحقیق کا معاہدہ

    اسرائیل اورمتحدہ عرب امارات کے درمیان کینسر اور ذیابیطس پر تحقیق کا معاہدہ طے پا گیا،نیز خطے میں وٹامن ڈی کی کمی کے مسئلے پر بھی مشترکہ طور پر تحقیقات کی جائیں گی۔

    باغی ٹی وی : اسرائیل کے ریسرچ سنٹر ‘کے ایس ایم ‘ (The Kahn-Sagol-Maccabi (KSM) research and innovation centre) اور اماراتی ہیلتھ آرگنائزیشن صحہ (SEHA) نے رواں ہفتے ابوظبی میں معاہدے پر دستخط کیے ہیں معاہدے کا بنیادی مقصد میڈیکل ریسرچ اور ٹیکنالوجی کی ترقی و فروغ میں باہم تعاون کرنا ہے۔

    معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب کے دوران متحدہ عرب امارات میں اسرائیلی سفیر امیر حایک اور اسرائیل کے معاشی اتاشی افیاد تمیر بھی موجود تھے متحدہ عرب امارات کے ادارے ‘صحہ’ ( SEHA) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سعید الکویتی بھی موجود تھے۔

    واضح رہے امریکی ثالثی میں ہونے والے معاہدہ ابراہم کے تحت اسرائیل اور عرب امارات کے درمیان 2020 میں سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد یہ اسرائیلی میڈیکل ریسرچ کے ادارے اور اماراتی ادارے صحہ کے درمیان یہ پہلا باضابطہ اور اہم معاہدہ ہے۔

    رواں ماہ مارچ میں دونوں ملکوں نےموٹاپےاور ذیابیطس سےنمٹنے کےلیے ایک علاقائی فورم قائم کیا تھا کیونکہ دونوں ملکوں میں ذیابیطس کا مرض مقابلتاً زیادہ ہے اسی طرح دونوں ممالک میں موٹاپا باقی دنیا سے زیادہ ہےمتحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے اس معاہدے سے قبل بحرین اور اسرائیل کے درمیان بھی ایسا ہی معاہدہ اسی اسرائیلی ادارے ‘کے ایس ایم ‘ کے ساتھ کیا جا چکا ہے بحرین اور امارات نے اکٹھے ہی 2020 میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔

    علاوہ ازیں اسرائیل اور امارات کے صحت سےمتعلقہ ادارے اس معاہدے کےعلاوہ امارات میں کلینیکل ڈیٹا مرتب اور محفوظ کرنے کے لیے ایک ‘جینومک ریسرچ رجسٹری’ بھی قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں گذشتہ سال دونوں ملکوں کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے ۔ اس معاہدے کا مقصد بھی صحت کے شعبے میں تعاون بڑھانا ہے۔

  • بچوں کے20 منٹ تک ورزش کرنے کے بہت سے فوائد،

    بچوں کے20 منٹ تک ورزش کرنے کے بہت سے فوائد،

    بچوں کے 20 منٹ تک ورزش کرنے کے بہت سے فوائد،

    باغی ٹی وی: میری لینڈ میں ایک تحقیق کی گئی ہے۔جس میں اس بات کا انکشاف کیا جا چکا ہے کہ اگر لڑکے اور لڑکیاں روز پورے 20 منٹ کیلئے ورزش کریں تو اس سے بہتر طبی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ ورزش کے بعد ان لوگوں کی صحت پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔

    مزید تفصیلات سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ جرنل پیڈیا ٹرکس نے ایک رپورٹ شائع کی ہے۔اگر بچے روزانہ 20 منٹ ورزش کرتے ہیں تو اس سے ان کی صحت بہت اچھی رہتی ہے۔20 منٹ روزانہ ورزش کرنے کے بعد دل بہتر طریقے سے کام کرتا ہے۔ اور پھیپھڑے بھی تندرست رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے سانس لینے میں بہت آسانی ہوتی ہے۔ اور آکسیجن کی کمی بھی نہیں ہوتی ہے۔

    مزید برآں یہ کہ جب یہ تحقیق کی جا رہی تھی تو اس تحقیق میں 300 سے زائد بچے شامل کئے گئے تھے۔ اور ان بچوں کی عمر 15 برس سے کم تھی اور اس دوران ان سب بچوں کو ان کی کلائیوں پر شدت دیکھنے کیلئے سینسر پہنائے گئے تھے۔ کیونکہ ان بچوں کو دو سال اسکول کے دوران تحقیق کرنے کیلئے ورزش کے عمل سے گزارا گیا تھا۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا تھا کہ 20 منٹ تک مسلسل ورزش کرنے سے بچوں کی صحت میں بہت اچھے اثرات مرتب ہوۓ ہیں۔

    ورزش کرنے اور اپنے آپ کو فٹ رکھنے کے حوالے سے ماہرین نے لڑکے اور لڑکیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایک گھنٹہ پیدل چلنے کے بجاۓ اگر 20 منٹ ورزش کر لیں تو یہ عمل ان کیلئے زیادہ بہتر۔ثابت ہو گا۔

  • معروف دانشور پروفیسر فتح محمد ملک کی آج چھیاسویں سالگرہ  منائی گئی

    معروف دانشور پروفیسر فتح محمد ملک کی آج چھیاسویں سالگرہ منائی گئی

    پروفیسر فتح محمد ملک 18 جون 1936 کو ضلع چکوال تحصیل تلہ گنگ کے چھوٹے سے گاؤں ٹہی میں ایک غریب کسان ملک گل محمد کے ہاں پیدا ہوئے۔ والدگل محمد کی تعلیم میٹرک تک تھی لیکن وہ اپنے بیٹے فتح محمد ملک کو ہمیشہ تقاریر، مناظرے اور علمی مجالس میں لے جایا کرتے تھے۔ اور گھر میں بھی بچوں کے مطالعہ کیلئے کتب رکھی ہوئی تھی تاکہ ان میں ذوق مطالعہ بڑھے۔ آج پروفیسر فتح محمد ملک کی انکے اسلام آباد کے گھر پر چھیاسویں سالگرہ منائی گئی۔


    پروفیسر فتح محمد ملک نے اردو اور انگریزی زبان میں درجن بھر کتب لکھی ہیں، جن میں “تعصبات، انداز نظر، تحسین و تردید، فلسطین اردو ادب میں، اقبال فکر و عمل، اقبال فراموشی، اقبال اسلام اور روحانی جمہوریت، فیض شاعری اور سیاست، ن م راشد شخصیت اور شاعری، منٹو ایک نئی تعبیر، ندیم شناسی، انتظار حسین شخصیت اور فن، انجمن ترقی پسند مصنفین، فیض کا تصور انقلاب، اردو زبان ہماری پہچان، پاکستان کا روشن مستقبل، اقبال کی سیاسی فکر، پاکستان کے صوفی شعرا، پنجابی شناخت، اسلام بمقابلہ اسلام” وغیرہ شامل ہیں۔ اور یہ جتنی بھی کتابیں ہیں ساری اکٹھی کرکے نیشنل بک فاؤنڈیشن نے دو جلدوں میں چھاپی ہیں جن میں ایک کا نام “آتش رفتہ کا سراغ” اور دوسری “کھوئے ہوؤں کی جستجو” ہے۔ یعنی یہ دو کتابیں باقی تمام کتب کا مجموعہ ہیں۔جبکہ حال ہی میں پروفیسر محمد ملک کی نئی کتاب Spiritual Heritage of Pakistan کے نام سے شائع ہوئی ہے۔

    باغی وی سے بات کرتے ہوئے پروفیسر فتح محمد ملک نے کہا کہ: میرا جزبہ اور جنوں درس و تدریس اورتحقیق ہے اور میں چاہتا ہوں کہ نوجوان نسل زیادہ سے زیادہ علامہ محمد اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح کا مطالعہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ: اساتذہ کو مشورہ دیتا ہوں کہ آپ اپنا کردار ایسا بنائیں کہ طالب علم کو آپ کو اپنا رول ماڈل سمجھیں کیونکہ اساتذہ ہی طالب علموں کے دل میں علمی تجسس پیدا کرکے انہیں ترقی دے سکتے ہیں۔

  • موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    ایک تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافے سے دنیا بھر میں لوگوں کی نیند کا دورانیہ گھٹ گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبررساں ادارے ” دی گارجئین” کے مطابق تحقیق کے نتائج جرنل ون ارتھ میں شائع کئے گئے تحقیق کے مطابق اچھی نیند صحت اور شخصیت کے لیے ناگزیر ہوتی ہے مگر موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں رات کے وقت کےد رجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے نیند متاثر ہوتی ہے اوسطاً عالمی سطح پر ایک فرد ہر سال 44 گھنٹے کی نیند سے محروم ہورہا ہے یا 11 راتوں تک وہ 7 گھنٹے سے بھی کم سوتا ہے جو کہ ناکافی نیند کا طے شدہ معیار ہے –

    بچوں کی پیدائش آپریشن سے کیوں؟ نئی تحقیق میں وجہ سامنے آگئی

    نیند کے کمی کا وقت درجہ حرارت میں اضافے سے بڑھ رہا ہے مگر کچھ گروپس دیگر کے مقابلے میں زیادہ متاثر ہوئے ہیں خواتین میں یہ شرح مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے جبکہ 65 سال کی عمرکے افراد دگنا زیادہ اور کم ترقی یافتہ ممالک کے رہائشی 3 گنا زیادہ متاثر ہو رہے ہیں اس تحقیق کے لیے68 ممالک سے تعلق رکھنے والے 47 ہزار افراد کے رسٹ بینڈ سلیپ ٹریکرز کا ڈیٹا استعمال کیا گیا تھا۔

    درجہ حرارت میں اضافہ صحت کو نقصان پہنچاتا ہے جبکہ ہارٹ اٹیک، خودکشیوں اور ذہنی صحت کے بحران میں اضافہ ہورہا ہے نیند کی کمی سے بھی ان اثرات کا خطرہ بڑھتا ہے اور محققین نے بتایا کہ تحقیق سے عندیہ ملتا ہے کہ نیند کی کمی سے جسم کا وہ اہم ترین میکنزم متاثر ہوتا ہے جو درجہ حرارت کے صحت پر مرتب اثرات کے حوالے سے کام کرتا ہے تاہم ڈیٹا سے ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ لوگ گرم راتوں کے مطابق نیند کو بہتر بنانے کی قابلیت رکھتے ہیں۔

    تحقیقی ٹیم کے قائد اور ڈنمارک کی کوپن ہیگن یونیورسٹی کے پروفیسر کیلٹن مائنر نے کہا کہ ہم سب کے لیے نیند روزمرہ کے معمولات کا ایک حصہ ہے اور ہم اپنی زندگیوں کا ایک تہائی حصہ سوتے ہوئے گزارتے ہیں، مگر متعدد ممالک میں ایسے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے جو مناسب وقت تک سو نہیں پاتے اس تحقیق میں ہم نے پہلی بار ایسے شواہد فراہم کیے ہیں کہ اوسط سے زیادہ درجہ حرارت انسانی نیند کو متاثر کرتا ہے، ہمارے خیال میں تو لوگوں پر اس کے اثرات تحقیق کے نتائج سے زیادہ بدتر ہوں گے۔

    فیٹی لیور ایک اور موذی مرض کی وجہ بن سکتا ہے،تحقیق

    محققین نے پایا کہ گرم راتوں کا نیند پر اثر تمام ممالک میں دیکھا گیا، چاہے وہ قدرتی طور پر ٹھنڈا ہو یا گرم موسم، جب رات کے وقت درجہ حرارت 10 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہوتا ہے تو اس کا اثر واضح ہوتا ہے غریب ممالک میں لوگ زیادہ نیند کھو سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کھڑکیوں کے شٹر، پنکھے اور ایئر کنڈیشننگ جیسی ٹھنڈک خصوصیات تک رسائی کم ہے۔

    تشویشناک بات یہ ہے کہ ہمیں یہ ثبوت بھی ملے ہیں کہ پہلے سے ہی گرم آب و ہوا میں رہنے والے لوگوں کو درجہ حرارت میں اضافے کے حساب سے زیادہ نیند کی کمی کا سامنا کرنا پڑا،‘‘ مائنر نے کہا۔ "ہم نے توقع کی تھی کہ ان افراد کو بہتر طریقے سے ڈھال لیا جائے گا۔” مزید برآں، اعداد و شمار کے مطابق، لوگوں نے بعد کے اوقات میں نیند پوری نہیں کی۔

    مائنر نے کہا کہ اس تحقیق کے پالیسی سازوں کے لیے اہم مضمرات ہیں، جنہیں یہ یقینی بنانے کی ضرورت تھی کہ شہروں، قصبوں اور عمارتوں کو گرمی سے اچھی طرح ڈھال لیا جائے تاکہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے صحت کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ یوکے حکومت کے سرکاری مشیروں نے 2021 میں خبردار کیا تھا کہ وہ لوگوں کو موسمیاتی بحران کے تیزی سے بڑھتے ہوئے خطرات بالخصوص ہیٹ ویوز سے بچانے میں ناکام ہو رہی ہے۔

    خشک سالی میں پیاسے درخت اطراف کے ندی نالوں کا پانی جذب کر لیتے ہیں،تحقیق

    مطالعہ میں استعمال ہونے والا ڈیٹا بنیادی طور پر امیر ممالک سے آیا، حالانکہ اس میں بھارت، چین، کولمبیا اور جنوبی افریقہ سے کچھ شامل تھے۔ کلائی پر پٹیاں ایسے لوگ پہنتے ہیں جنہیں گرم درجہ حرارت کی وجہ سے نیند میں خلل کا خطرہ کم ہوتا ہے، جیسے ادھیڑ عمر، امیر مرد۔

    مائنر نے کہا کہ "کم آمدنی والے لوگوں کو اعداد و شمار میں کم دکھایا گیا ہے اور ہم اس کے بارے میں بہت شفاف ہیں۔” انہوں نے کہا کہ مزید تحقیق کی ضرورت ہے، خاص طور پر ان جگہوں پر جو پہلے ہی دنیا کے گرم ترین علاقوں میں شامل ہیں، جیسے افریقہ، وسطی امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے بڑے حصے۔ تحقیق نیند کے معیار کا اندازہ لگانے سے قاصر تھی، جیسے کہ نیند کے مختلف مراحل، لیکن لوگوں کی رات میں جاگنے کی تعداد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

    مائنر نے کہا کہ دنیا نے جو راستہ اس لحاظ سے چنا ہے کہ سیارہ کتنا گرم ہے اس کے نتائج ہر ایک کی نیند کے لیے ہوں گے۔”ہمارے فیصلوں، اجتماعی طور پر معاشرے کے طور پر، نیند کے لحاظ سے کی گئی تحقیق پر کافی لاگت آئے گی۔”

    عالمی تپش اور کلائمٹ چینج:برطانوی پھول ایک ماہ پہلے کھلنے لگے

  • آسٹریلوی سائنسدان کا "برمودا ٹرائی اینگل”کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ

    آسٹریلوی سائنسدان کا "برمودا ٹرائی اینگل”کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ

    جنگ عظیم دوئم کے زمانے سے برمودا ٹرائی اینگل ساری دنیا کی توجہ کا خصوصی مرکز رہا ہے اور اس کے بارے میں غیر ماورائی معاملات مشہور ہیں برمودا ٹرائی اینگل بحر اوقیانوس کا ایک مخصوص حصہ ہے، اس علاقے کا ایک کونا برمودا، دوسرا پورٹوریکو اور تیسرا میامی سے متصل ہے اور ان تینوں کونوں کے درمیانی حصے کو برمودا تکون یا مثلث کہا جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : اس مقام سے وابستہ چند داستانیں ایسی ہیں جن کے باعث اس کو شیطانی مثلث بھی کہا گیا ہے، ان داستانوں میں انسانوں کا غائب ہوجانا اور بحری اور فضائی جہازوں کا کھو جانا جیسے غیر معمولی واقعات شامل ہیں برمودا ٹرائی اینگل سمندر کے اندر ایک ایسا پُراسرار علاقہ ہےجہاں اب تک بہت سے طیارے،کشتیاں اور جہاز غائب ہو چکے ہیں اور ان کا آج تک کوئی سراغ نہیں مل سکا

    سری لنکا میں پر تشدد جھڑپیں: 5 ہلاک، 190 سے زائد زخمی، مستعفی وزیراعظم کا گھر نذر آتش، کرفیو نافذ

    اس حوالے سے کئی قیاس آرائیاں کی جاتیں ہیں لیکن آج تک کوئی بھی واضح طور پر برمودا ٹرائی اینگل کا معمہ حل نہیں کرسکا تاہم اب ایک آسٹریلوی سائنسدان نے برمودا ٹرائی اینگل کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آسٹریلیا کی سڈنی یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ‘ کارل کروزیلنکی'(Karl Kruszelnicki) نے یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ برمودا ٹرائی اینگل میں طیاروں اورکشتیوں کی پراسرار گمشدگی کے پیچھے مافوق الفطرت وجوہات نہیں ہیں۔

    ان کا خیال ہے کہ یہ واقعات ممکنہ طور پر خراب موسم اور انسانی غلطی کا نتیجہ تھے جبکہ انہوں نے ان مقبول نظریات کو بھی رد کیا ہے جن میں کہا جاتا ہے کہ ان گمشدگیوں کا تعلق مافوق الفطرت اسباب سے ہے۔

    انہوں نے 2017 میں ایک جگہ کہا تھا کہ یہ علاقہ خط استوا کے قریب ہے اس لیے یہاں بہت ٹریفک ہے جبکہ لائیڈز آف لندن اور امریکن کوسٹ گارڈ کے مطابق برمودا ٹرائی نگل میں گمشدگیوں کی تعداد فیصد کی بنیاد پر دنیا میں کہیں گمشدہ ہونے کی تعداد کے برابر ہے اس کے علاوہ کارل نے اپنے نظریے میں اس فلائٹ 19 کا بھی ذکر کیا جو برمودا ٹرائی اینگل کی تمام گمشدگیوں میں سب سے زیادہ مشہور ہے۔

    یہ پرواز پانچ طیاروں پر مشتمل تھی جس نے 5 دسمبر 1945 کو فلوریڈا کے فورٹ لاؤڈرڈیل سے اڑان بھری تھی اور اس میں عملے کے 14 ارکان سوار تھے لیکن امریکی بحریہ کے بمبار طیاروں کا (جو معمول کے تربیتی مشن پر کام کر رہے تھے) پانچوں طیاروں سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

    چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ طیارے غائب ہوگئے اور عملہ یا ملبہ کبھی نہیں ملا جبکہ فلائٹ 19 کی تلاش کے لیے روانہ کیا گیا ایک طیارہ بھی اسی رات غائب ہو گیا تاہم کارل کا خیال ہے کہ فلائٹ 19 اس دن بحر اوقیانوس میں 15 میٹر کی بلند لہروں کی وجہ سے غائب ہوئی پرواز میں واحد تجربہ کار پائلٹ لیفٹیننٹ چارلس ٹیلر تھا جس کی انسانی غلطی اس سانحہ کا سبب بن سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ اب تک اس مقام پر 2 ہزار بحری جہاز اور 200 طیارے لاپتہ ہوچکے ہیں ایسی برقی لہریں اور مقناطیسی کشش بھی موجود ہے جو بڑے بڑے جہازوں کو تروڑ مروڑ کر رکھ دیتی ہیں امریکی میڈیا پر ان ہی جگہوں پر خلائی اور دیگر حقائق سامنے لانے والوں کو قتل بھی کیا جا چکا ہے۔

    تاہم اس علاقے میں پیش آنے والا ایک اور واقعہ ایسا ہے جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں، یہ واقعہ ایسا ہے جسے سن کر ریڑھ کی ہڈی میں سرد سی لہر دوڑ جاتی ہے4 دسمبر 1970 کی ایک روشن صبح بروس گارنن نامی ایک پائلٹ نے بہاماس کے جزیرے اینڈروس سے اڑان بھری، اس کے چھوٹے جہاز میں صرف 2 مسافر سوار تھے اور ان کی منزل فلوریڈا کا شہر میامی تھایہ ایک معمول کی پرواز تھی جس پر بروس اس سے پہلے درجنوں بار جاچکا تھا جب طیارہ 1 ہزار فٹ کی بلندی پر پہنچا تو طیارے کے سامنے ایک چھوٹا سا سیاہ بادل آگیا جو دیکھتے ہی دیکھتے ہی اپنا حجم بڑھانے لگا، بروس کو مجبوراً اس بادل کے اندر سے گزرنا پڑا۔

    پولیس نے قتل کیس کے شواہد چوری کرنے کا الزام بندر پر لگا دیا

    آگے جا کر جب طیارہ 11 ہزار 500 فٹ کی بلندی پر پہنچا تو پائلٹ کے سامنے ایک اور پراسرار سیاہ بادل آگیا۔ یہ بادل بہت بڑا تھا اور طیارے کو اس کے اندر سے گزارنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا بروس نے طیارے کو بادل کے اندر داخل کردیا، اندر سیاہ گھپ اندھیرا تھا لیکن یہ طوفانی بادل نہیں تھا تھوڑی دیر بعد اچانک بادل کے اندر سفید روشنی کے جھماکے سے ہونے لگے۔ پائلٹ نے لمحے میں جان لیا کہ یہ روشنی آسمانی بجلی نہیں تھی، کچھ اور تھی بادل کے اندر طیارے کا سفر نصف گھنٹہ جاری رہا، اچانک بروس کو محسوس ہوا کہ یہ وہی بادل تھا جو 10 ہزار فٹ کی بلندی پر اس سے ٹکرایا تھا اور یہ احساس ہوتے ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔

    بادل اب ایک سرنگ کی سی شکل اختیار کرچکا تھا اور یوں لگتا تھا کہ اب یہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ اچانک پائلٹ کو سامنے روشنی کی ہلکی سی کرن دکھائی دی جس کا مطلب تھا کہ بادل کی سرنگ ختم ہورہی ہے پائلٹ کے جسم میں نئی جان دوڑ گئی، لیکن جیسے جیسے روشنی قریب آنے لگی اچانک طیارے کے آلات ایک کے بعد ایک خرابی کا سگنل دینے لگے تمام انڈیکیٹرز جلنے بجھنے لگے اور کچھ دیر بعد پائلٹ طیارے پر سے اپنا کنٹرول کھو بیٹھا، لیکن طیارہ تب بھی اڑتا رہا۔

    بروس کا کہنا تھا کہ اس وقت ایسا لگ رہا تھا جیسے طیارے کو کوئی اور قوت چلا رہی ہو، یا آسمان میں کوئی کرنٹ ہو جس کے باعث طیارہ خود بخود اڑ رہا ہو کچھ دیر بعد طیارہ بالآخر بادل کی سرنگ سے نکل آیا، اور اس کے ساتھ ہی طیارے کے آلات ایسے کام کرنے لگے جیسے ان میں کبھی کوئی خرابی ہوئی ہی نہیں تھی بادل سے نکلنے کے بعد بھی طیارہ کچھ منٹ مزید گہری سفید دھند میں سفر کرتا رہا۔ اس دوران اس نے گراؤنڈ کنٹرول سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ اسے اس کی موجودہ لوکیشن بتائیں۔

    کہاں ہوگی بارش؟ کہاں چلیں گی گرم ہوائیں؟

    گراؤنڈ کنٹرول کی جانب سے جواب ملا کہ طیارہ ریڈار پر دکھائی نہیں دے رہا جس سے بروس پریشان ہوگیا پھر اچانک دبیز دھند ختم ہوگئی اور بروس نے دیکھا کہ وہ عین میامی یعنی اپنی منزل کے اوپر تھا یہ ایک اور حیران کن بات تھی، یہ فاصلہ 217 میل تھا جسے ایک گھنٹہ 15 منٹ میں طے کیا جانا تھا، لیکن طیارے کو اپنا سفر شروع کیے صرف 47 منٹ ہی گزرے تھے بہرحال طیارہ بحفاظت میامی ایئرپورٹ پر لینڈ کر گیا۔

    لینڈ کرتے ہی بروس نے طیارے کا فیول چیک کیا تو وہ اتنا خرچ نہیں ہوا تھا جتنا طے شدہ فاصلے کے مطابق اسے خرچ ہونا چاہیئے تھا بروس نے سفر سے متعلق تمام دستیاب معلومات چیک کیں تو اس پر انکشاف ہوا کہ اس کا طیارہ سفر کے نصف وقت میں اپنی منزل پر پہنچا اس نے فوری طور پر ایوی ایشن ماہرین نے رابطہ کیا اور انہیں خود پر گزرنے والی صورتحال بتائی، لیکن کوئی بھی اس کا تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔

    بالآخر بروس نے خود ہی اس بارے میں معلومات جمع کیں اور ان سے ایک نتیجہ نکالا کہ بادل کے اندر روشنی کے سفید جھماکے دراصل الیکٹر ک فوگ تھی کچھ افراد نے ایک ممکنہ خیال پیش کیا کہ بروس ڈارک انرجی کی وجہ سے وقت کو جلدی طے کرنے میں کامیاب ہوا، یہ وہی توانائی ہے جس کی وجہ سے ہماری کائنات پھیلتی ہے۔

    یہ توانائی بلیک ہول کی طرح وقت اور مقام میں خلل (ٹائم ٹریول قسم کے حالات) پیدا کرسکتی ہے، اسی کی وجہ سے بادل کی ایک سرنگ پیدا ہوئی، بروس اتفاق سے اس سرنگ میں جا نکلا اور خوش قسمتی سے زندہ سلامت نکلنے میں کامیاب رہا کچھ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے بادل اس علاقے میں عام ہیں اور اکثر پائلٹس کو ان کا سامنا کرنا پڑتا ہے تاہم اس کی وضاحت کوئی نہ دے سکا کہ بروس نے اپنے سفر کا نصف وقت کیسے پار کرلیا، بروس گارنن کی یہ فلائٹ آج بھی ایک راز ہے جو حل طلب ہے۔

    دشمن ممالک کو خوش کرنے کیلئےعمران نیازی ایک خطرناک ایجنڈے پر گامزن ہیں،شرجیل میمن

    کیا دجال برمودا ٹرائی اینگل میں رہتا ہے؟

    رسول اکرم ﷺ کی ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آج سے چودہ سو سال پہلے ہی دجال پیدا ہوچکا تھا اور اب وہ اپنی رہائی کا منتظر ہے دجال کے رہنے کی جگہ ایک غیرآباد جزیرہ ہے، اس کے کارندے لمحہ با لمحہ دنیا اور انسانوں سے آگاہ کرتے رہتے ہیں، دجال کو غیر معمولی طاقتیں دی جائیں گی۔

    صحیح مسلم کی حدیث کے مطابق حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جان لو کہ دجال نہ شام کے سمندر میں ہے اور نہ ہی یمن کے سمندر میں، وہ مشرق میں ہے اب عرب سے مشرق کی جانب دیکھا جائے تو ’ڈیول سی‘ یا شیطانی سمندر اور بحر اوقیانوس کے ’برمودا ٹرائی اینگل‘ ہی وہ دو جگہیں جنہیں یہودی بھی جہنم کا دروازہ مانتے ہیں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دونوں جگہوں کا ہی آخری سرا امریکا سے جا کر ملتا ہے۔

    مصری محقق عیسیٰ داؤد نے اپنی کتاب ’مثلث برمودا‘ میں کہا کہ دجال بحر الکاہل کے ان غیرآباد اور ویران جزائر میں تھا، اور حضور ﷺ کے وصال تک وہ بیڑیوں میں جکڑا تھا مگر آخری رسول ﷺ کے وصال کے بعد اسکی بیڑیاں ٹوٹ گئیں، اور وہ آزاد ہوگیا، مگر اسے خروج کی اجازت نہیں تھی، لہذا اب وہ ’ڈیول سی‘ سے ’برمودا ٹرائی اینگل تک رابطے میں ہےجس کے قریب شیطانی تہذیب پروان چڑھ کر نقطہ عروج کو پہنچنے والی ہے۔

    مولانا فضل الرحمان عمران خان کے ساڑھے تین سالہ دور اقتدار کی چارج شیٹ جاری کردی

  • رنگ گورا کرنے والی کریموں میں مرکری کی  مقدار خطرناک حد تک زیادہ ہے، عالمی تحقیق

    رنگ گورا کرنے والی کریموں میں مرکری کی مقدار خطرناک حد تک زیادہ ہے، عالمی تحقیق

    بیلجیئم:مرکری کو’’سیال چاندی‘‘بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ عام درجہ حرارت پر مائع حالت میں ہوتا ہے تھرمامیٹر سے لے کر دندان سازی، برقی آلات کاسمیٹکس تک، سینکڑوں مصنوعات و آلات میں مرکری کا استعمال کیا جاتا ہےلیکن ہر شعبے میں پارے کے استعمال کی محفوظ حدود متعین ہیں جن کے حوالے سے عالمی قوانین بھی موجود ہیں۔

    باغی ٹی وی : ایک عالمی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ رنگ گورا کرنے والی کریموں اور دیگر مصنوعات کی بڑی تعداد میں پارے (مرکری) کی مقدار خطرناک حد تک زیادہ ہے۔

    رنگ گورا کرنے والی 59 میں سے 57 کریموں میں کینسر پیدا کرنے والے عناصر شامل ہوتے…

    کاسمیٹک مصنوعات میں پارے کی ’’محفوظ مقدار‘‘ ایک حصہ فی دس لاکھ (1 پی پی ایم) یا اس سے کم قرار دی جاتی ہے لیکن 17 ممالک میں کی گئی تازہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ رنگ گورا کرنے والی 48 فیصد مصنوعات میں پارے کی مقدار اس محفوظ حد سے کہیں زیادہ ہے۔

    تحقیق کیلئے ماہرین نے ایمیزون، ای بے اور علی ایکسپریس سمیت 40 ای کامرس پلیٹ فارمز سے رنگ گورا کرنے والی 271 مصنوعات خرید کر ان کا الگ الگ تجزیہ کیا گیا۔

    جس سے معلوم ہوا کہ ان میں سے 129 مصنوعات میں پارے کی مقدار 1 پی پی ایم کی محفوظ حد سے کہیں زیادہ تھی رپورٹ میں ایک اور تشویشناک انکشاف یہ بھی کیا گیا ہے کہ زیادہ مرکری والی 43 فیصد مصنوعات یا تو پاکستان میں تیار شدہ ہیں یا پھر ان کی پیکنگ پاکستان میں کی گئی ہے ان میں رنگ گورا کرنے والی کچھ مشہور پاکستانی کریموں اور دوسری متعلقہ مصنوعات کے نام بھی شامل ہیں۔

    آمنہ الیاس رنگ گورا کرنے والی کریموں کی تشہیر کرنے والی اداکاراؤں پر برہم

    حیران کن بات یہ ہے کہ یہ مصنوعات ایمیزون اور ای بے سمیت، دنیا کے تقریباً تمام بڑے ای کامرس پلیٹ فارمز پر دستیاب ہیں جو امریکا سے آسٹریلیا تک 100 سے زیادہ ممالک میں بلا روک ٹوک خریدی جارہی ہیں-

    یہ تحقیقی رپورٹ پارے کی آلودگی کے خاتمے پر کام کرنے والے عالمی ادارے ’’زیرو مرکری ورکنگ گروپ‘‘ نے مختلف ملکوں میں غیرسرکاری تنظیموں کے تعاون و اشتراک سے شائع کی ہے۔

    آمنہ الیاس کا گہری رنگت کے حوالے سے ایک اہم پیغام

  • مچھروں کو مفلوج کرنیوالی مچھردانی

    مچھروں کو مفلوج کرنیوالی مچھردانی

    لندن: ایک طویل تحقیق کے بعد کئی اداروں کی جانب سے بنائی گئی مچھر دانی پردوسالہ آزمائش کے بعد ماہرین نے اسے بہت امید افزا قرار دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : طبی جریدے لینسٹ میں چھپنے والی تحقیق کے مطابق روایتی مچھردانیوں میں دوا لگی ہوتی ہے جو مچھروں کے اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہے جبکہ مذکورہ مچھر دانی کی جالی میں مچھر پھنس کر بے بس ہوجاتے ہیں اوراور اڑنے کے قابل نہیں رہتے وہیں مرجاتے ہیں۔

    پاکستانی انجینئرزکا استعمال شدہ کوکنگ آئل سے ماحول دوست بائیو ڈیزل تیار کرنیکا…

    لندن اسکول ہر ہائجن اینڈ ٹراپیکل میڈیسن، نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار میڈیکل ریسرچ، کلیمنجارو میڈیکل یونیورسٹی کالج تنزانیہ اور کینیڈا کی جامعہ اوٹاوہ نے تنزانیہ میں دو برس تک اس مچھردانی کی آزمائش کی گئی ہے۔ مطالعے میں کل 39000 گھرانوں میں اسے لگایا گیا اور 6 ماہ سے 14 برس تک کے 4500 بچوں کا مطالعہ کیا گیا۔ مچھر دانی میں دو طرح کی مچھر مار ادویہ یعنی کلورفیناپائر اور پائرتھروئڈ لگائی گئی تھیں۔ دونوں ادویہ لانگ لاسٹنگ انسیکٹی سائڈل نیٹ (ایل ایل آئی این)نامی مچھر دانی میں لگائی گئی تھی اس کے بہترین نتائج برآمد ہوئے اور روایتی طریقوں کے مقابلے میں ملیریا کے واقعات میں 44 فیصد کمی ہوئی جبکہ ملیریا پھیلانے والے مچھروں کو جکڑنے میں 85 فیصد کامیابی ملی۔

    خشک سالی میں پیاسے درخت اطراف کے ندی نالوں کا پانی جذب کر لیتے ہیں،تحقیق

    ملیریا اور مچھروں کے امراض سے اموات میں افریقہ سب سے بڑا ملک ہے۔ لیکن یہاں مچھردانی کو ہی ان سے بچاؤ کا کامیاب ذریعہ قرار دیا جاتا ہے اس کے باوجود بھی سالانہ 6 لاکھ سے زائد بچے ملیریا کا لقمہ بن کر مرجاتے ہیں دوسالہ تحقیق میں 72 ایسے گاؤں منتخب کئے گئے جہاں ملیریا کی وبا ہولناک ہوچکی تھی کیونکہ مچھر روایتی ادویہ سے مزاحمت پیدا کرچکے تھے بارشوں کے موسم کے بعد دو سے تین اقسام کی مچھردانیاں آزمائی گئیں جن میں نئی دوا والی مچھر دانی بھی شامل تھی۔

    فرعون کا شاہی خنجر شہاب ثاقب سے حاصل کردہ لوہے سے تیار کیا گیا تھا، ماہرین

    اب جن بچوں کے بستروں پر کلورفیناپائر ایل ایل آئی این والی مچھردانیوں پر رکھا گیا تو ان میں ملیریا کے واقعات 37 فیصد کم دیکھے گئے۔ پہلے 12 ماہ میں روایتی پائرتھروئڈ ادویہ والی مچھردانی سے ملیریا کے مرض میں 27 فیصد کمی ہوئی لیکن مچھروں نے خود کو بدلا اور دوا کی تاثیر بھی کم ہوگئی اور مچھردانی میں سوراخ بھی بننے لگے۔ جب ان دونوں ادویہ یعنی کلورفیناپائر اور پائرتھروئڈ کو استعمال کیا گیا تو بہترین نتائج سامنے آئے کیونکہ مچھر پرواز کے قابل نہ رہے تھے اور خون چوسنے والے مادائیں بھی نسل آگے نہ بڑھاسکیں جبکہ کلورفیناپائر ایل ایل این کی تیاری بہت کم خرچ ہے اور انسانی استعمال کے لیے یکسر مفید بھی ہے۔

    ڈھائی ہزار سال قبل ستاروں کی سیدھ میں بنایا گیا مقدس تالاب

  • خشک سالی میں پیاسے درخت اطراف کے ندی نالوں کا پانی جذب کر لیتے ہیں،تحقیق

    خشک سالی میں پیاسے درخت اطراف کے ندی نالوں کا پانی جذب کر لیتے ہیں،تحقیق

    نارتھ کیرولائنا اسٹیٹ یونیورسٹی کے ارضی تجزیاتی مرکز سے وابستہ طالبہ کیٹی مک کوئلن نے انکشاف کیا ہے کہ خشک سالی میں پیاسے درخت اطراف کے ندی نالوں کا پانی چرانے لگتے ہیں-

    باغی ٹی وی : انہوں نے امریکا میں بلیو رج ماؤنٹین کے پہاڑی سلسلے پر لگے جنگلات اور درختوں پر غور کیا گیا تو معلوم ہوا کہ خشک موسم زیادہ دیر برقرار رہیں تو پیاسے درخت اطراف کے ندی نالوں کا پانی چرانے لگتے ہیں درخت جتنی بلندی پر ہوں گے وہ اتنا ہی پانی استعمال کریں گے-

    گرین لینڈ کی برفانی پرتوں کے نیچے تیزی سے پگھلاؤ،سمندروں کی سطح میں اضافہ کا سبب…

    ان کی تحقیق سے ثابت ہے کہ پہاڑی علاقے کے لوگوں کو یہ جاننا ہوگا کہ اگر پہاڑوں پر جنگلات ہیں اور آبادی بلندی سے آنے والے پانی استعمال کرتی ہے تو خشک سالی میں اس پانی کی کمی ہوسکتی ہے یہاں تک کہ پانی کا کال پڑسکتا ہے۔

    اس ضمن میں گریٹ اسموکی ماؤنٹین پارک پر تحقیق کی گئی ہےجو اوک رج پہاڑی سلسلے کا ہی حصہ ہے اس ضمن میں 1984 سے 2020 تک سیٹلائٹ تصاویر اور ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا یہ تصاویر تھرمل انفراریڈ پر مبنی تھیں۔ اس ضمن میں لگ بھگ 15000 مربع میل جنگلات کا ڈیٹا پڑھا گیا تھا جو کئی امریکی ریاستوں پر محیط ہے۔

    عالمی تپش اور کلائمٹ چینج:برطانوی پھول ایک ماہ پہلے کھلنے لگے

    پہاڑیوں پر واقع جنگلات انتہائی صاف اور صحت بخش پانی بناتے ہیں جو کسی معدنی مائع سے کم نہیں ہوتا اس طرح یہ قیمتی پانی ہوتا ہے۔ ڈیٹا کےمطابق جب بھی خشک سالی آئی درختوں نے پانی زیادہ استعمال کیا اور یوں پانی کا بہاؤ شدید متاثر ہوا کیونکہ یہ پانی ہزاروں لاکھوں درختوں سے گزرتا ہے اور ہر درخت اس میں سے اپنا حصہ حاصل کرتا ہے۔

    ماہرین نے کہا ہے کہ اس کیفیت کو سمجھ کر ہم پہاڑی جنگلات کے دامن میں موجود آبادیوں، جانداروں اور کھیتوں میں پانی پہنچنے یا اس کی قلت کی پیشگوئی کرسکتے ہیں یہ پیشگوئی بالخصوص خشک سالی کے دوران بہت معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

    دنیا میں درختوں کی 9000 سے زائد انواع آج تک نامعلوم ہیں، ماہرین

  • کورونا وائرس چین کے شہر ووہان کی ایک مارکیٹ سے پھیلا ،تحقیق

    کورونا وائرس چین کے شہر ووہان کی ایک مارکیٹ سے پھیلا ،تحقیق

    کورونا وائرس کسی لیبارٹری سے نہیں بلکہ چین کے شہر ووہان کی ایک وائلڈ لائف مارکیٹ سے پھیلا یہ بات بین الاقوامی سائنسدانوں کی 2 بڑی تحقیقی رپورٹس میں سامنے آئی۔

    باغی ٹی وی : کورونا وائرس کہاں سے آیا اور کس طرح پھیلا جیسے سوالات تنازعات کا باعث بنے ہیں کیونکہ امریکا کی جانب سے یہ الزامات عائد کیے گئے کہ یہ وائرس چین کی کسی لیبارٹری سے لیک ہوا مگر اب نئی تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ ایسا نہیں ہوا بلکہ یہ وائرس ووہان کی مارکیٹ سے پھیلا۔

    کورونا وائرس کا شاید اب کبھی بھی خاتمہ نہ ہو،عالمی ادارہ صحت

    عالمی خبررساں ادارے ” دی گارجئین” میں شائع کی گئی رپورٹ کے مطابق ایک تحقیق میں شامل ایریزونا یونیورسٹی کے مارہ مائیکل ووربے نے بتایا کہ جب آپ تمام شواہد کو اکٹھا کرکے دیکھیں تو غیرمعمولی حد تک واضح تصویر نظر آتی ہے کہ یہ وبا ووہان کی مارکیٹ سے شروع ہوئی۔

    ایک تحقیق کی سمری میں بتایا گیا کہ جغرافیائی طور پر کووڈ 19 کے اولین کیسز اور زندہ جانوروں کی مارکیٹ کے دکانداروں کے مثبت نمونون سے عندیہ ملتا ہے کہ ہوانان سی فوڈ مارکیٹ کووڈ 19 کا ماخذ ہے جبکہ دوسری تحقیق کی مختصر وضاحت میں بتایا گیا کہ وباؤں کے حالات کو سمجھنا ان کی روک تھام کے لیے ضروری ہے۔

    بل گیٹس کی کورونا وبا سے متعلق نئی پیشگوئی

    دونوں تحقیقی رپورٹس میں متعدد ذرائع سے حاصل ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد نتیجہ نکالا گیا کہ کورونا وائرس ممکنہ طور پر اس وائلڈ لائف مارکیٹ کے کسی زندہ جانور میں 2019 کے آخر میں تھا اور یہ کم از کم 2 بار وہاں کام کرنے والے یا خریداری کرنے والے لوگوں میں منتقل ہوا۔

    ایک تحقیق میں ایسے شواہد پیش کیے گئے کہ دسمبر 2019 میں فروخت ہونے والے زندہ ممالیہ جانوروں میں ممکنہ کورونا وائرس موجود تھاچائنیز سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کی ایک الگ تحقیق میں جنوری 2020 میں وائلڈ لائٖف مارکیٹ میں اکٹھے کیے گئے جینیاتی سراغوں کی جانچ پڑتال کی گئی تھی۔

    نتائج سے معلوم ہوا کہ اس وائلڈ لائف مارکیٹ میں ہی سب سے پہلے کووڈ کے کیسز سامنے آئے تھے اور اس کے پھیلاؤ کے 2 ماخذ تھے۔

    2022 میں کورونا وبا کا خاتمہ ہونے کی توقع ہے ،سربراہ ڈبلیو ایچ او

    ڈاکٹر مائیکل نے بتایا کہ وہ چین کی اس تحقیق سے آگاہ نہیں تھے مگر اس کے نتائج ان کی تحقیق سے مطابقت رکھتے ہیں کہ یہ وائرس مارکیٹ میں 2 جگہوں سے پھیلا۔

    ان کی ٹیم نے تحقیق کے دوران ووہان کے 156 کیسز کے طول بلد اور عرض بلڈ کا تخمینہ لگایا اور معلوم ہوا کہ زیادہ تر کیسر وائلڈ لائف مارکیٹ سے تعلق رکھتے تھے اس کے بعد انہوں نے جنوری اور فروری 2020 کے کیسز کا نقشہ تیار کیا اور اس مقصد کے لیے چینی سوشل میڈیا سائٹ ویبو سے سائنسدانوں کے ڈیٹا کو اکٹھا کیا۔

    کوویڈ 19 بائیو ویپن کے طور پر تیار نہیں ہوا امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی

    تحقیق کے مطابق نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ مارکیٹ ہی وائرس کے پھیلاؤ کا باعث بنی، جہاں سے وہ پہلے ارگرد کے علاقوں تک پہنچا اور پھر شہر بھر میں پہنچ گیا محققین نے بتایا کہ یہ بہت ٹھوس شماریاتی شواہد ہیں کہ ایسا کسی حادثے سے نہیں ہوا۔

    چینی سائنسدانوں کے مطابق انہوں نے مارکیٹ کی سطح اور کچرے کے درجنوں نمونوں میں وائرس کو دریافت کیا مگر کسی بھی جانور میں سواب ٹیسٹ میں اس کی تصدیق نہیں ہوسکی-

    دونوں تحقیقی رپورٹس ابھی تک کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئی بلکہ ان کے نتائج آن لائن جاری کیے گئے ہفتے کے روز جاری ہونے والی تحقیق کو امریکہ، جنوبی کوریا، سنگاپور، ملائیشیا، آسٹریلیا، برطانیہ (آکسفورڈ، ایڈنبرا اور گلاسگو)، کینیڈا، نیدرلینڈز اور بیلجیم کے سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر تحریر کیا تھا۔

    دنیا اگلے 60 سالوں میں کورونا سے بڑے وبائی مرض سے نمٹنے کے لیے تیاررہے ماہرین

    کرونا وائرس ہم نے نہیں بنایاالبتہ ہم نے کرونا پرتجربات کئے ہیں وہان لیبارٹری کا اقرار، چین مارا گیا ، نئی جنگ شروع ہوسکتی ہے