Baaghi TV

Tag: تحقیق

  • سچ بولنے والے بچے بدتمیز اور خطرناک سمجھے جاتے ہیں،تحقیق

    سچ بولنے والے بچے بدتمیز اور خطرناک سمجھے جاتے ہیں،تحقیق

    ایک حالیہ تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ جو بچے ’کھرا سچ‘ بولتے ہیں، انہیں والدین یا دوسرے افراد ’بدتمیز‘ سمجھتے ہیں –

    باغی ٹی وی : جرنل آف مورل ایجوکیشن میں شائع تحقیق کے مطابق ماہرین نے بچوں کے سچ اور جھوٹ بولنے کے سماجی زندگی پر پڑنے والے اثرات کے لیے 267 بچوں اور بالغ افراد پر تحقیق کی تحقیق میں شامل 171 افراد بالغ تھے، جن کی عمریں 18 سال سے 67 سال تک تھیں جب کہ دو درجن کے قریب افراد کی عمر 6 سال سے 15 تک تھی اور باقی افراد بھی درمیانی عمر کے نابالغ افراد تھے۔

    دنیا کے پرندوں کی تقریباً نصف اقسام کی آبادی کم ہو رہی ہے،رپورٹ

    جن میں سے نصف خواتین تھیں اور تمام افراد کو ویڈیوز دکھا کر ان سے سوال و جوابات کیے گئے جب کہ ویڈیوز کے بعد ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اگر وہ کسی کے والدین ہوتے تو اپنے ہی دیئے گئے جواب پر کیا رد عمل دیتے؟-

    تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن بچوں نے ’دو ٹوک الفاظ‘ میں سچ بولا، انہیں زیادہ ’بدتمیز‘ اور خطرناک سمجھا گیا اور ایسے ہی بچوں کے لیے والدین نے بتایا کہ ان کے ایسے کھرے سچ بولنے کی وجہ سے انہیں بعض اوقات شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق جیسا کہ کوئی بچہ اپنے والدین یا دوسرے رشتے داروں یا دوستوں کی جانب سے ملنے والے کسی تحفے کو ناپسند کرتے ہوئے کوئی لحاظ کیے بغیر دو ٹوک الفاظ میں بولتا ہےکہ اسے مذکورہ تحفہ پسند نہیں، وہ بیکاراور خراب ہے’ تو ایسے کھرے سچ پر والدین کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ ایسے جواب پر ان بچوں کو ’بدتمیز‘ بھی سمجھا جا سکتا ہے۔

    سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

    تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ پھر بھی، جبکہ والدین اور دوسرے بچوں کو دو ٹوک ایماندارانہ سچ بولنے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، وہ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ جھوٹ بولنا غلط ہےمگر ان میں وقت کے حساب سے سچ اور جھوٹ بولنے کی صلاحیت کی کمی ہے۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ بچے یہ سمجھ نہیں سکتے کہ سماجی طور پر کون سی باتیں، سچائی یا جھوٹ قابل قبول ہے اور کون سی بات کس طرح کی جائے، جس وجہ سے وہ عام طور پر دو ٹوک الفاظ میں بات کرتے ہیں، جس سے انہیں ’بدتمیز‘ سمجھا جاتا ہے تاہم بچوں کو وقت اور موقع کو دیکھتے ہوئے جھوٹ بولنے کی مہارت سیکھنی ہوگی اور اسی عمل سے ہی ان میں ترقی کے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔

    ماہرین کے مطابق بچوں کو موضوع، وقت اور حالات کو دیکھتے ہوئے دوسروں کا دل یا بھرم رکھنے کے لیے بعض باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا فن سیکھنا ہوگا، انہیں مبہم انداز میں سچ بولنا یا پھر جھوٹ بول کر دوسروں کو مطمئن کرنا سیکھنا ہوگا۔

    رواں سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن 25 اکتوبر کو ہوگا

  • خواتین ڈاکٹروں کے پاس مشکل اور ایمرجنسی کیسز زیادہ ہوتے ہیں،تحقیق

    خواتین ڈاکٹروں کے پاس مشکل اور ایمرجنسی کیسز زیادہ ہوتے ہیں،تحقیق

    جاپان میں ہونے والی حالیہ تحقیق کے مطابق خواتین ڈاکٹروں کے پاس مشکل اور ایمرجنسی کیسز زیادہ ہوتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : برطانوی جریدے ’دی بی ایم جے‘ کے محققین کے مطابق مرد اور خواتین سرجن کی جراحی کی پیچیدگیاں اور شرحِ اموات یکساں ہوتی ہیں جبکہ خواتین ڈاکٹروں کے پاس مشکل اور ایمرجنسی کیسز زیادہ ہوتے ہیں خواتین کی تعداد اس شعبے میں کم ہیں لیکن ان کی صلاحیتیں مختلف نہیں ہیں۔

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    محققین کے مطابق گزشتہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کینیڈا اور امریکا میں خواتین ڈاکٹرز اور سرجن صلاحیت کے اعتبار سے اپنے ہم پیشہ مردوں کے برابر یا پھر ان سے بہتر ہوتی ہیں۔

    مذکورہ تحقیق کے لیے جاپان نیشنل کلینیکل ڈیٹا بیس ( NCD) کے ڈیٹا کے مطابق محققین نے 2013ء سے 2017ء تک مرد و خواتین ڈاکٹرز اور سرجنوں کے آپریشن کے نتائج کا موازنہ کیا اس موازنے میں 149193 ڈسٹل گیسٹریکٹومی سرجری، 63417 گیسٹریکٹومی سرجری اور 81593 کم آپریشنز شامل تھے۔

    اینٹی ڈپریسنٹ کا دیر پا استعمال قلبی امراض کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے،تحقیق

    ان آپریشنز میں سے صرف 5 فیصد آپریشنز خواتین سرجنز نے انجام دیئے اور آپریشن کے نتائج میں شرح مردوں کے مقابلے میں بہتر پائی گئی تحقیق کے مطابق اسپتال انتظامیہ مشکل اور پیچیدہ کیسز کے لیے خواتین ڈاکٹرز یا سرجنز کا ہی انتخاب کرتی ہے۔

    محققین کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران خواتین ڈاکٹرز کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے2019ء کے ایک سروے کے مطابق صرف کینیڈا میں 28 فیصد اور امریکہ میں 22 فیصد خواتین سرجن ہیں 2017ء کے ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں 33 فیصد خواتین ڈاکٹرز سرجن ہیں، تاہم جاپان میں صورتحال مزید ابتر ہے۔

    سروے کے مطابق صرف 22 فیصد خواتین جنرل فزیشن اور 5.9 فیصد خواتین سرجنز ہیں دونوں کی صلاحیتوں اور کارکردگی میں کوئی فرق نہ ہونے کے باوجود خواتین کو کم مواقع ملتے ہیں۔

    سبزی کھانے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ دو گنا زیادہ ہوتا ہے،تحقیق

  • رات  دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں معلوم کیا ہے کہ رات کو دیر تک جاگنا جسم میں چکنائی بننے کا سبب سکتا ہے جس کے نتیجے میں ٹائپ 2 ذیا بیطس لاحق ہونے کے خطرات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی ریاست نیو جرسی کے شہر نیو برنس وِک میں قائم رُٹگرز یونیورسٹی کے محققین کو ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ رات کو دیر تک جاگنے والوں کو غیر معمولی نیند کی معمول کے سبب متاثر میٹابولزم کی وجہ سے ذیا بیطس کے خطرات ہوتے ہیں۔

    وہ لوگ جو صبح جلدی اٹھتے ہیں وہ چکنائی کو آرام یا ورزش کے دوران توانائی کے ذریعے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ نتیجتاً ان میں چکنائی کم جمع ہوتی ہے اور ان میں بیماری کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔

    اس سے قبل بھی رواں سال کے ابتداء میں شائع ہونے والی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ سوتے وقت روشنی کا موجود ہونا کسی بھی فرد میں ذیابیطس ہونے امکانات بڑھا دیتا ہے جس سے تقریباً 10 فی صد امریکی متاثر ہوتے ہیں۔

    یونیورسٹی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر فرائض انجام دینے والے ڈاکٹر اسٹیون میلِن کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ جلدی اٹھنے والوں اور رات دیر سے سونے والوں کے درمیان چکنائی کے میٹابولزم میں فرق یہ بتاتا ہیں کہ جسم کی اندرونی گھڑی (سونےجاگنے کا سائیکل) ہمارے جسم کے انسولین کے استعمال کو متاثر کرسکتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ انسولین ہارمون کے جواب میں حساس یا کمزور صلاحیت ہماری صحت پر بڑے اثرات ڈال سکتی ہے۔ تحقیق کے نتائج نے ہمارے جسم کی اندرونی گھڑی کے ہماری صحت پر اثرات کے متعلق سمجھ میں اضافہ کیا ہے۔

    قبل ازیں ایک تحقیق میں ماہرین کا کہنا تھا کہ روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینے اوردہی کھانے سے ٹائپ 2 ذیا بیطس سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے، بیف،مٹن، پروسیسڈ اور چکن کا گوشت کا زیادہ استعمال متضاد اثرات کا سبب بن سکتا ہے۔

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    اطالوی تحقیق میں حاصل ہونے والے نتائج کی بنا پر محققین نے زیادہ گوشت کھانے والوں کو مچھلی کا گوشت اور انڈے بطور متبادل غذا کے تجویز کئے ہیں،سائنسدانوں کی جانب سے یہ نتائج ڈیری اشیاء کے خلاف بڑھتےرجحان کے دوران آئے ہی-ں

    ماہرین کے مطابق دودھ، مکھن اور پنیر میں بڑی مقدار میں کیلوریزاورسوچوریٹڈ چکنائی(وہ چکنائی جو عام درجہ حرارت پر نہیں پِگھلتی) ہوتی ہے جو متعدد صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

    ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرات کو کم کرنے کے لیے ماہرین پودوں پر اگنے والی غذا یعنی اجناس، سبزیاں، پھل، دالیں اور کم چکنائی والا دودھ اور دہی کھانے کی ہدایت کرتے ہیں۔

    موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا

  • روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینا اوردہی کھانا  ٹائپ 2 ذیا بیطس کیلئے مفید ہے،تحقیق

    روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینا اوردہی کھانا ٹائپ 2 ذیا بیطس کیلئے مفید ہے،تحقیق

    ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینے اوردہی کھانے سے ٹائپ 2 ذیا بیطس سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے، بیف،مٹن، پروسیسڈ اور چکن کا گوشت کا زیادہ استعمال متضاد اثرات کا سبب بن سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : اطالوی تحقیق میں حاصل ہونے والے نتائج کی بنا پر محققین نے زیادہ گوشت کھانے والوں کو مچھلی کا گوشت اور انڈے بطور متبادل غذا کے تجویز کئے ہیں،سائنسدانوں کی جانب سے یہ نتائج ڈیری اشیاء کے خلاف بڑھتےرجحان کے دوران آئے ہیں-

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    ماہرین کے مطابق دودھ، مکھن اور پنیر میں بڑی مقدار میں کیلوریزاورسوچوریٹڈ چکنائی(وہ چکنائی جو عام درجہ حرارت پر نہیں پِگھلتی) ہوتی ہے جو متعدد صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

    ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرات کو کم کرنے کے لیے ماہرین پودوں پر اگنے والی غذا یعنی اجناس، سبزیاں، پھل، دالیں اور کم چکنائی والا دودھ اور دہی کھانے کی ہدایت کرتے ہیں۔

    موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا

    یونیورسٹی آف نیپلز فیدڑریکو دوم کےماہرین کہتےہیں کہ جانوروں سے حاصل ہونے والی پروٹین کی تمام اقسام مساوی طور پر غذائیت سے بھرپور نہیں ہوتیں ٹائپ 2 ذیابیطس تب واقع ہوتی ہے جب خلیے انسولین کےمزاحم بن جاتے ہیں۔انسولین وہ ہارمون ہوتا ہے جو بلڈ شوگر کو مستحکم رکھتا ہے۔

    اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ مہلک ثابت ہوسکتا ہے اور امرضِ قلب، ہاتھ پیروں کے کاٹے جانے اور بینائی کے چلے جانے سمیت دیگر سنجیدہ مسائل کا سبب بن سکتا ہے خاموش قاتل کے طور پر جانے جانی والی یہ بیماری ہر سال 45 برطانیوں اور 3 کروڑ امریکیوں کو متاثر کرتی ہے۔

  • تیز چلنا مختلف امراض اور موت کا خطرہ کم کرتا ہے، تحقیق

    تیز چلنا مختلف امراض اور موت کا خطرہ کم کرتا ہے، تحقیق

    ایک نئی تحقیق کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ اچھی صحت کو یقینی بنانا چاہتے ہیں تو دن بھر میں چند ہزار قدم چلنا عادت بنالیں۔

    باغی ٹی وی : یونیورسٹی آف سڈنی اور یونیورسٹی آف سدرن ڈنمارک کے محققین کے مطابق دن بھر میں 10 ہزار قدم چلنا مختلف امراض اور موت کا خطرہ کم کرتا ہےتحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ تیزرفتاری سے چلنا صحت کے لیے بہت زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

    اداسی محسوس ہو تو دریا یا نہر پر چلے جانا مزاج کو بہتر کر سکتا ہے،تحقیق

    تحقیق کے دوران 2013 سے 2015 کے دوران 78 ہزار سے زیادہ برطانوی شہریوں کی مانیٹرنگ وئیر ایبل ٹریکرز کے ذریعے کی گئی اور سات سال بعد ان کی صحت کے نتائج سے اس کا موازنہ کیا،اس تحقیق کے نتائج جرنل جاما انٹرنل میڈیسین اور جاما نیورولوجی میں شائع ہوئے۔

    ڈاکٹر میتھیو احمدی، جو اس مقالے کے مرکزی مصنف اور یونیورسٹی آف سڈنی کے ریسرچ فیلو ہیں، نے کہا کہ اس تحقیق سے پتا چلا ہے کہ روزانہ 10 ہزار قدم چلنے سے دماغی تنزلی کا خطرہ 50 فیصد جبکہ دل کی شریانوں کے امراض اور کینسر کا خطرہ 30 سے 40 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

    تیز رفتاری سے چلنا ڈیمنشیا، دل کی بیماری، کینسر اور موت سمیت تمام نتائج کے مزید فوائد سے وابستہ تھا تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ دن بھر میں 38 سو قدم چلنے سے بھی دماغی تنزلی کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

    تحقیق میں یہ بھی پتا چلا کہ ہر 2,000 قدموں پر قبل از وقت موت کا خطرہ 8 سے 11 فیصد تک کم ہو جاتا ہے ، جو کہ ایک دن میں تقریباً 10،000 قدموں تک ہے۔

    گاڑیوں کا دھواں مردوں سے زیادہ خواتین کی صحت کو متاثر کر سکتا ہے،محققین

    محققین نے کہا کہ جب دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھتی ہے اور خون زیادہ تیزی سے شریانوں میں بہتا ہے تو اس سے شریانوں کی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔ خون کا اضافی بہاؤ پورے جسم، دماغ اور مسلز سمیت دیگر اعضا کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے کینسر اور جسمانی ورم کے درمیان تعلق موجود ہے اور ورزش ورم کو کم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

    2019 میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، آپ کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے روزانہ 10,000 قدم چلنے کا خیال اصل میں ایک جاپانی کمپنی کی مارکیٹنگ حکمت عملی کے حصے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

    یونیورسٹی آف ساؤتھ آسٹریلیا کے رویے سے متعلق وبائی امراض کے محقق پروفیسر ٹِم اولڈز نے کہا کہ لوگوں کی اکثریت کے لیے وہ جتنی زیادہ ورزش کریں گے اتنا ہی بہتر ہوگا-

    محققین نے کہا کہ معمولات زندگی میں 10 ہزار قدم چلنا عادت بنانا زیادہ مشکل ہدف نہیں بس اس ہدف پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے معتدل آغاز کریں اور قدموں کی تعداد کو بتدریج بڑھاتے چلے جائیں۔

    دنیا کی پہلی اسپورٹس کارہوا میں پرواز کرنے کے لیے تیار

  • پہلی نظر میں محبت کا ہونا صرف افسانوی باتیں ہیں،تحقیق

    پہلی نظر میں محبت کا ہونا صرف افسانوی باتیں ہیں،تحقیق

    ایسے لوگوں کی کہانیاں سننا عام ہے جو دعوی کرتے ہیں کہ "پہلی نظر میں محبت” کا تجربہ کیا ہے تاہم محققین کا کہنا ہے کہ پہلی نظر میں محبت کا ہونا صرف افسانوی باتیں ہیں-

    باغی ٹی وی : برطانوی محققین کی حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزمرہ کی بنیاد پر اگرکسی سے بھی صرف چار منٹ کی مختصر گفتگو کی جائےتو انہیں جاننے میں مدد دیتی ہے لوگ بہت جلد دوسروں کے حوالے سے اندازہ لگا کر ان کے حوالے سے ایک تاثر قائم کرلیتے ہیں۔

    اداسی محسوس ہو تو دریا یا نہر پر چلے جانا مزاج کو بہتر کر سکتا ہے،تحقیق

    محققین کا کہنا ہے کہ پہلی نظر میں محبت کا ہونا صرف افسانوی باتیں ہیں کیوں کہ تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ کسی شخص کے لیے رومانوی جذبے کو بیدار ہونے میں کم سے کم تقریباً دو منٹ کی بات چیت کا ہونا ضروری ہے۔

    پچھلے مطالعات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ لوگ مختلف شخصیات سے ذاتی طور پر ملاقات اور بات چیت کے دوران ان کے بارے میں تیزی سے قیاس آرائیاں کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔

    اس مطالعے کے لیے محققین نے مختلف انجان لوگوں سے آن لائن گفتگو کی، اس مشاہدے سے انہوں نے محسوس کیا کہ مختلف افراد کے مزاج ان کے شرمیلے پن یا پھر باتوں اور سماجی رابطوں کے شوقین رویے کے باعث یکسر مختلف تھے۔

    اس تحقیق کے دوران 168 شرکاء نے حصہ لیا اورایک دوسرے کے ساتھ چار منٹ کی گفتگو کے بعد انہوں نے ایک دوسرے کی شخصیت کے بارے میں اپنے تاثرات لکھے پھر انہیں اس شخص کے ساتھ اسٹریٹجک گیم کھیلنے کی ہدایت کی گئی۔

    رشتہ دار نہ ہونے کےباوجود 2 افراد کی شکلیں ایک جیسی کیوں ہوتی ہیں؟

    مطالعہ کرنے کی خاطر موازنہ کرنے کے لیے انہیں دیگر 170 شرکاء کے ساتھ بھی اسٹریٹجک گیمز کھیلنے کا کہا گیا جن سے انہوں نے پہلے کبھی کوئی بات نہیں کی تھی۔

    جو افراد گیمز سے قبل ایک دوسرے سے بات چیت کرچکے تھے انہوں نے ایک تاثر قائم کرلیا تھا جس کے باعث ان کے کھیل کی حکمت عملی متاثر ہوئی ایک کھیل کے دوران شرکاء نے ان افراد کے ساتھ، جو ایک سے باتیں کرنے اور سماجی رابطوں کے شوقین تھے، باہمی تعاون کا رویہ اختیار کیا۔

    قبل ازیں کئی دہائیوں کی تحقیق نے ماہرین نفسیات کو یہ تجویز کرنے پر مجبور کیا ہے کہ پہلی نظر میں محبت کا تصور ایک افسانہ ہے اور یہ کہ سچی محبت کو پروان چڑھنے میں کچھ وقت لگتا ہے۔

    ذیابیطس سے بینائی سے محروم ہونیوالوں کیلئے کم لاگت والا نیا لیزر علاج دریافت

    سائیکالوجی ٹوڈے، یونیورسٹی آف گروننگن کے محققین کے 2017 کے مطالعے میں پہلی نظر میں محبت کو ‘مثبت وہم’ قرار دیا گیا اس نے تجویز کیا کہ جوڑوں نے سوچا ہوگا کہ انہیں فوری محبت کا تجربہ ہوا ہے کیونکہ وہ برسوں بعد کیسا محسوس کرتے ہیں اس کے باوجود، محققین کا خیال تھا کہ پہلی نظر میں محبت کے احساس کے پیچھے ایک سائنس ہے۔

    ماہرین نفسیات اور سائنس دانوں نے یکساں طور پر کہا کہ یہ دماغ کا کیمیائی رد عمل ہے جو آپ کو محبت کا احساس دلاتا ہے۔ جب ہم اپنی پسند کے کسی سے ملتے ہیں تو ہمارا دماغ ڈوپامائن اور سیروٹونن خارج کرتا ہے۔ہمارا دماغ ان کیمیکلز کو چھوڑنے سے معدے میں تتلیوں، پتلیوں کی خستہ حالی اور بلندی محسوس ہو سکتی ہے۔ یہ ہمیں اس شخص کی طرف فوری طور پر کھینچنے کا احساس کرنے کا باعث بھی بن سکتا ہے، اور جب کوئی باہمی لگاؤ ​​محسوس کرتا ہے، تو ایک تعلق بننا شروع ہو جاتا ہے اور اسے اکثر پہلی نظر میں محبت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔

    گزشتہ برس جرنل آف نیورو سائنس میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ‘پہلی نظر میں محبت’ ابتدائی کشش کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ ان کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ اگر لوگ کسی کو پرکشش پاتے ہیں تو تقریباً فوراً بتا سکتے ہیں۔ اس لیے ‘پہلی نظر میں محبت’ کو ‘پہلی نظر میں کشش’ کہنے سے بہتر ہو سکتا ہے۔

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

  • اداسی محسوس ہو تو  دریا یا نہر پر چلے جانا مزاج کو بہتر کر سکتا ہے،تحقیق

    اداسی محسوس ہو تو دریا یا نہر پر چلے جانا مزاج کو بہتر کر سکتا ہے،تحقیق

    ندن: ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ جب آپ اداس محسوس کر رہے ہوں تو سیر کے لیے دریا یا نہر پر چلے جانا آپ کے مزاج کو بہتر کر سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : 31 اگست 2022 کو پلس ون ( Plos One journal) نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں مزید کہا گیا کہ نہریں اور دریا کی سیر 24 گھنٹے تک آپ کی صحت کو بہتر بنا سکتی ہیں۔

    گرین لینڈ میں پگھلنے والی برف سطح سمندرمیں ایک فِٹ تک کا اضافہ کرسکتی ہے، تحقیق

    کنگز کالج لندن میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ایسی جگہیں جہاں پانی اور سبزہ زار سمیت جنگلی حیات موجود ہو اس کا ہماری صحت پر صرف سبز ماحول کی نسبت زیادہ بہتر اثرات ہوتے ہیں۔

    محققین نے اربن مائنڈ نامی ایک فون ایپ کا استعمال کرتے ہوئے ہزاروں لوگوں کی جگہ اور ذہنی صحت کے متعلق اس وقت کے احساسات اکٹھے کیے اس تحقیق میں مجموعی طور پر 299 افراد کے 7,975 جائزے مکمل کیے، جن میں سے 87 افراد ذہنی مسائل میں مبتلا تھے-

    پروفیسر اینڈریا میکلی نے کہا کہ نہروں اور ندیوں میں نہ صرف پانی ہوتا ہے بلکہ درختوں اور پودوں کی بھی کثرت ہوتی ہے، جس کا مطلب ہےکہ سبزے اور پانی سے جُڑے کئی گُنا فوائد کی وجہ سے یہ ماحول ذہنی صحت کو بہتر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نہریں اور دریا متعدد جنگلی حیات کا مسکن ہوتے ہیں اور ایک دوسرے مطالعے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جنگلی حیات کے بھی ذہنی صحت پر مثبت اثرات ہوتے ہیں-

    اپنی نوعیت کی منفرد تحقیق کے نتائج میں ذہنی صحت اور دریاؤں اور نہروں کی سیر کے درمیان مثبت تعلق پایا گیا۔ تحقیق میں اس ماحول کا دیگر ماحول کی نسبت تحفظ کا احساس اور سماجی شمولیت کے حوالےسے مثبت تجربہ بھی پایا گیا۔

    رشتہ دار نہ ہونے کےباوجود 2 افراد کی شکلیں ایک جیسی کیوں ہوتی ہیں؟

    وہ لوگ جنہوں نے آبی ذخائر کے قریب زیادہ وقت گزارا انہوں نے دیگر تمام مقامات کے مقابلے میں حفاظت اور سماجی شمولیت کے جذبات کا اظہار کیا، جیسے گھر کے اندر، باہر شہری ماحول میں، یا پانی سے محروم علاقوں کے قریب۔عمر، جنس، تعلیمی سطح اور دماغی صحت کے مسئلے کی تشخیص سمیت متغیرات پر غور کرنے کے بعد بھی یہ ربط برقرار رہا۔

    مطالعہ میں بتایا گیا کہ ذہنی صحت کے مسائل کو منظم کرنے کے لیے سماجی تجویز کردہ پروگراموں میں دریاؤں اور نہروں کے دورے کو شامل کیا جانا چاہیے۔

    میکلی نے مزید کہا، یہ نتائج اس بات کا ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ ہم پانی اور بہبود کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور اس تجویز کی حمایت کرتے ہیں کہ نہروں اور دریاؤں کے دورے سماجی تجویز کردہ اسکیموں کا حصہ بن سکتے ہیں، جو دماغی صحت کی حمایت میں کردار ادا کرتے ہیں۔

    زیادہ سوچنا دماغ میں زہریلے کیمیکلز کی نشوونما کا باعث بن سکتا ہے،تحقیق

    مطالعہ کے نتائج میں نوٹ کیا گیا کہ شہری اور دیہی مناظر کی منصوبہ بندی اور تخلیق کرنے کے لیے جو تمام باشندوں کی ذہنی صحت کو سپورٹ کرتے ہیں، ان ماحولیاتی نظام کے اثرات کے بارے میں زیادہ گہرے علم کی ضرورت ہوگی۔

    شرکاء نے اپنے اسمارٹ فونز پر اربن مائنڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کی اور مخصوص تحقیقی مطالعہ تک رسائی کے لیے پاس کوڈ ‘واٹر’ درج کیا۔ انہیں متعدد اسکرینیں دکھائی گئیں جن میں ان کی باخبر رضامندی کی درخواست کرنے سے پہلے مطالعہ کے اہداف کی تفصیل دی گئی تھی۔

    اس کے بعد، شرکاء کو ایک بنیادی سروے مکمل کرنے کی ضرورت تھی جس میں ان سے ان کی عمر، جنس، نسل، تعلیم کی سطح اور دیگر سماجی-آبادیاتی تفصیلات کے ساتھ ساتھ ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔

    شرکاء سے 14 دنوں میں، تقریباً 2 منٹ تک جاری رہنے والا ایک مختصر ماحولیاتی لمحاتی جائزہ (EMA) مکمل کرنے کی درخواست کی گئی۔ EMAs کے لیے پش نوٹیفیکیشنز شرکاء کو روزانہ تین بارمختلف وقفوں میں تقسیم کیے گئے-

    تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

  • امریکی محققین نے ذیابیطس کی وجوہات دریافت کر لیں

    امریکی محققین نے ذیابیطس کی وجوہات دریافت کر لیں

    تحقیق میں ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ رگوں کا مخصوص نظام اگر غیر فعال ہو جائے تو ایسی میٹابولک تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو ذیابیطس اور اس سے ملحقہ بیماریوں کا باعث بنتی ہیں۔

    باغی ٹی وی : ذیابیطس کا مرض دنیا بھر میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے، اگر مرض قابو میں نہ رہے تو ذیابیطس کے مریضوں کو مختلف اور سنگین پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا

    جریدے سرکولیشن ریسرچ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق امریکی محققین نے ذیابیطس کی وجوہات دریافت کی ہیں جن کے مطابق رگوں کا نظام غیر فعال ہونے سے ایسی میٹابولک تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو ذیابیطس کا باعث بنتی ہیں بعدازاں ذیابیطس کے مریضوں کو اس کے سبب دیگر مختلف سنگین بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    ماہرِ میڈیسین پروفیسر تھامس جے بیٹسن نے بتایا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ سفید چربی اور ورم خون کی شریانوں کو غیر فعال کرنے کا باعث بنتے ہیں، جس سے ذیابیطس کے مریض قلب، بینائی اور گردوں کے امراض کا سامنا کرتے ہیں تاہم حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ درحقیقت خون کی رگیں اور شریانیں اس حوالے سے اہم کردار ادا کرتی ہیں جس کا ہمیں پہلے علم نہیں تھا۔

    ذیابیطس کو خون کی شریانوں پر منفی اثرات کے ساتھ ساتھ جسم میں براؤن فیٹ کے ذخیرے میں کمی سے بھی جوڑا جاتا ہے جو جسمانی درجہ حرارت اور جسمانی وزن کو کنٹرول کرنے اور توانائی کی فراہمی کا کام کرتا ہے۔

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    اس تحقیق کے دوران ذیابیطس سے متاثرہ چوہوں پر مختلف تجربات کیے گئے جن سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ان میں انسولین کی حساسیت اس وقت بڑھی جب خون کی شریانوں کا وزن کم ہوا اس کے نتیجے میں ان چوہوں میں براؤن فیٹ کی مقدار بڑھ گئی اور خون کی شریانوں کو پہنچنے والا نقصان کم ہو گیا۔

    ماہرین نے یہ بھی دریافت کیا ہے کہ انسانی جسم میں انسولین خون کی شریانوں کو خلیات بھیجنے میں مدد فراہم کرتی ہے، اس کی مدد سے نائٹرک آکسائیڈ بننے کا عمل شروع ہو جاتا ہے جس سے براؤن فیٹ کے خلیات بنتے ہیں اس کے مقابلے میں انسولین کی مزاحمت پر یہ عمل الٹا ہو جاتا ہے اور نائٹرک آکسائیڈ کی کمی کے باعث دل کی شریانوں کے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

    محققین نے کہا ہے کہ پہلے سمجھا جاتا تھا کہ ذیابیطس سے دل کی شریانوں کے مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے مگر نتائج سے یہ عمل الٹا محسوس ہوتا ہے مزید تحقیق سے ذیابیطس کے نئے طریقہ علاج کو دریافت کرنے میں مدد مل سکے گی۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

  • جی سی سی ممالک میں بانجھ پن کی شرح میں اضافہ

    جی سی سی ممالک میں بانجھ پن کی شرح میں اضافہ

    ایک حالیہ تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اورخلیج تعاون کونسل(جی سی سی) میں شامل دوسرے ممالک میں بانجھ پن کی شرح میں اضافہ ہورہا ہےاوریہ عالمی اوسط سے دُگنا ہے-

    باغی ٹی وی : "العربیہ ڈاٹ نیٹ” کےمطابق ماہرین نےاس ضمن میں طرززندگی کےانتخاب، غذائی عادات اورغیر تشخیص شدہ طبی حالات کے رجحان کی نشان دہی کی ہے اے آر ٹی فرٹیلٹی کلینک نے، جس کے جی سی سی بھر میں طبی مراکزہیں،بانجھ پن کی بڑھتی ہوئی شرح کے پیش نظرپورے خطےمیں گہری تحقیق کی اس کے اعدادوشمار سےپتاچلتا ہے کہ اگرچہ بانجھ پن کے عالمی تخمینے قریباً 15 فصد ہیں لیکن جی سی سی میں اس کی شرح 35 سے 40 فی صد تک زیادہ ہے۔

     

    وکیل نے 22 سال بعد 20 روپے کی قانونی جنگ جیت لی

    اے آرٹی فرٹیلٹی دبئی کے کلینک کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹرکیرول کوفلان نے العربیہ کو بتایا کہ ہم اپنے خطے میں بنیادی اورثانوی بانجھ پن میں مسلسل اوپر کی طرف رجحان دیکھ رہے ہیں جس کی وجہ جزوی طورپرثقافتی اور طرز زندگی سے متعلق مسائل ہیں۔ اس کلینک کی تحقیق سے پتاچلا ہے کہ جی سی سی کے مخصوص خطے میں اضافی عوامل موجود ہیں جو بانجھ پن کی شرح میں اضافے میں اہم کردار ادا کرتے ہیںاس تحقیق میں بانجھ جوڑوں کی موجودہ معیاری تشخیص میں خطے کے لیے مخصوص مشاورت اورعلاج کے طریقوں کو شامل کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی ہے-

    ڈاکٹر کوفلان نے بتایا کہ عالمی سطح پر موٹاپے میں اضافہ ہورہا ہے اور مشرق اوسط کے خطے میں تو موٹاپے کی شرح میں انتہائی زیادہ اضافہ ہورہا ہے۔اس کی وجہ سست طرزِزندگی، جسمانی ورزش کی کمی اور زیادہ کیلوری والی غذائیں ہیں۔یہ موٹاپے کی شرح میں عام معاون عوامل ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ بلند باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) ہارمون کی بے ضابطگیوں اور بیضوی خرابی کا سبب بن رہا ہے اور نتیجۃً بانجھ پن کاخطرہ بھی بڑھ رہا ہےطبی ماہرین کو لوگوں کے طرزِ زندگی کے عوامل پرغورکرنے کی ضرورت ہے-

    ڈاکٹر کوفلان کے نزدیک عالمی سطح پر بانجھ پن کی بہت سی وجوہات ہیں۔ان میں زچگی کی عمر میں اضافہ، پولی سسٹک اووری سینڈروم، انڈومیٹریوسیس، یوٹرن فائبرائیڈز اور اکثر کم رپورٹ کیے جانے والے مردانہ عوامل بھی شامل ہیں۔

    بھارت میں جوڑے کے ہاں شادی کے 54 سال بعد بچے کی پیدائش

    ان کی رائے میں بعض عوامل ہر ملک میں مختلف ہو سکتے ہیں اور ان کا تعلق آب و ہوا، سماجی، ثقافتی، معاشی یا مذہبی تفاوت سے ہوسکتا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ہر معاملے کا انفرادی طور پر جائزہ لیا جائے اور انفرادی تقاضوں کے مطابق مناسب علاج تجویز کیا جائے۔

    اے آر ٹی فرٹیلٹی کلینکس گروپ کے میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹرحومن فاطمی کا کہنا تھا کہ بانجھ پن کے بارے میں کافی بات نہیں کی جاتی اور اس معاملے کے بارے میں محدود آگاہی ہے۔

    العربیہ کے مطابق ابوظبی کے الریم جزیرے میں واقع برجیل ڈے سرجری سنٹرمیں زچگی اور گائناکالوجی کی ماہر اور شعبہ کی سربراہ ڈاکٹرمونیکاچوہان نے بھی شرح تولید میں کمی دیکھی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کچھ حالیہ مطالعات اوراعدادوشمار کے مطابق متحدہ عرب امارات میں شرح تولید میں کمی کا رجحان ہے جس کی وجہ موٹاپے اور طرز زندگی کے انتخاب جیسی مختلف وجوہات ہیں۔ان میں سست طرزِزندگی اورمضر صحت غذائی عادات شامل ہیں مطالعات سے پتاچلتا ہے کہ ان مسائل کی وجہ سے پورے جی سی سی خطے میں بانجھ پن کا مسئلہ بڑھ رہا ہے۔لیکن بانجھ پن کا شکار جوڑوں کی بڑی تعداد اپنے مسائل کا حل چاہتی ہے اور اس ضمن میں رہ نمائی کی خواہاں ہے-

    شرح تولید میں کمی کا مسئلہ آفاقی ہے اورعام عوامل کی طرف اشارہ کرتا ہے جیسے شادی اور بچے پیدا کرنے میں تاخیر کے ساتھ ساتھ غیر صحت مند طرز زندگی اورغذائی عادات اپنانا وغیرہ۔

    یورپ میں شدید گرمی: جرمنی ،فرانس اور برطانیہ میں الرٹس جاری

    اسی کلینک کے گائناکولوجسٹ سرجن ڈاکٹرسندیش کڈے نے واضح کیا کہ بانجھ پن کو مرد اور عورت دونوں کے مسئلے کے طور پر دیکھا جائے۔بانجھ پن کے علاج کے لیے سب سے پہلے مرد اورخواتین کے عوامل کی نشان دہی کی جانی چاہیے۔ مسئلے کی جلد شناخت کے بعد اسے طب,جراحی کے ذریعے درست کیا جا سکتا ہے۔

    ڈاکٹر نے کہا کہ ہارمونل عدم توازن کے لیے طبی انتظام اور یوٹرین، ٹیوبل اور بیضوی مسائل کے لیے سرجیکل مینجمنٹ عام طور پر جوڑوں کو حاملہ ہونے میں مدد کر سکتی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ پولی سسٹک بیضہ دانی اور انڈومیٹریوسیس کے ارتقائی مسائل کو بھی مناسب دیکھ بھال اور انتظام کی ضرورت ہے۔

    العربیہ نے رپورٹ میں بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے ایم بی زیڈ سٹی کے برین انٹرنیشنل اسپتال میں زچگی اور گائناکالوجی کی ماہر ڈاکٹرنظوراصدیقی نے بھی تصدیق کی ہےکہ جی سی سی ممالک میں شرح تولیدمیں مجموعی طور پرکمی آئی ہے۔یہ کم شرح بنیادی طور پر معاشی عوامل کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ خواتین کی دیرسے شادیوں کی وجہ سے ہے،خواتین زیادہ تعلیم یافتہ اورکیریئرکے انتخاب کی وجہ سے اپنی شادی ملتوی کررہی ہیں اور پہلی بار دیر سے بچے کو جنم دینے کو ترجیح دیتی ہیں۔ یہ تمام عوامل حمل میں دشواری کا باعث بنتے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ شرح تولید کی کم شرح کی دیگر وجوہات میں ماحولیاتی عوامل میں تبدیلی، فاسٹ فوڈ کا بڑھتا ہوااستعمال، ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے کیس، موٹاپا اور پولی سسٹک بیضہ دانی شامل ہیں۔

    لڑکی نے محبت ثابت کرنے کیلئےعجیب و غریب اور انتہائی قدم اٹھا لیا

  • اپنے خیالات میں کھو جانا مسائل کے حل کے لیے فائدہ مند ہے،تحقیق

    اپنے خیالات میں کھو جانا مسائل کے حل کے لیے فائدہ مند ہے،تحقیق

    ٹیوبِنگن: ماہرین نے ایک تحقیق میں اپنے خیالات میں کھو جانا مسائل کے حل کے لیے فائدہ مند قرار دیا ہے-

    باغی ٹی وی : ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کسی کا اپنے خیالوں میں کھونا یا ذہن کا ادھر اُدھر بھٹکنا ایک ایسی سرگرمی ہے جس کو کم اہمیت دی جاتی ہے لیکن یہ ایسی چیز ہے جس کو جتنا کیا جائے اتنا فائدہ مند ہے۔

    جنوبی جرمنی میں قائم یونیورسٹی آف ٹیوبِنگن کے محققین یہ جاننے کے لیے بے تاب تھے کہ انسان عام طور پر اپنے سوچنے کی صلاحیت کو استعمال کرنے سے جھجھکتا کیوں ہے۔

    فرانسیسی سائنسدان نےساسیج کے ٹکڑے کو ستارہ قرار دینے پر معافی مانگ لی

    250 افراد کے گروپ کا مطالعہ کرنے والے نفسیات دانوں نے بےمقصد سوچ بچار کےعمل کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ جتنی تحقیق کے شرکاء نےسوچی تھی یہ سرگرمی اس سے زیادہ اطمینان بخش تھی۔

    محققین کا کہنا تھا کہ ان کی تحقیق میں تجربوں کے تسلسل سے یہ بات سامنے آئی کہ اگر لوگوں کو ان کے اذہان بھٹکانے کا موقع دیا جائے تو وہ اس سے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں البتہ کچھ لوگ اس فعل کو محنت طلب سرگرمی سمجھتے ہیں۔

    ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ اپنے خیالات میں کھو جانے کا عمل مسائل کو حل کرنے، تخلیقی صلاحیت بڑھانے، تصور کرنے کی صلاحیت بڑھانے اور اپنی اہمیت کے خیال سے آشنا کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ ان فوائد کے باوجود اکثر افراد اپنے خیال میں کھونے یا کھڑکی کے باہر کسی چیز کو بےمقصد تکنے کے بجائے اپنی توجہ میں خلل دیئے جانے کو پسند کرتے ہیں اسمارٹ فون اس کی واضح مثال ہے جو اس آزادنہ سوچنے کی عادت کو ختم کر رہا ہے۔

    ناسا نے زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پرکہکشاں کی رنگین تصاویر جاری کر دیں

    تحقیق میں شامل ڈاکٹر سکولر نے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے خیالات تخلیقی صلاحیتوں کو جنم دیں، تو آپ تھوڑا مختلف انداز اختیار کرنا چاہیں گے اور اس کے بجائے ان خیالات پر توجہ مرکوز کریں گے جو آپ کو متجسس اور دلچسپ معلوم ہوں۔ وہ اس مشق کو "ذہن حیرت انگیز” کہتے ہیں انہوں نے کہا کہ کسی کتاب یا مضمون میں پیش کردہ خیالات کے بارے میں سوچیں جو آپ پڑھ رہے ہیں یا ایک پوڈ کاسٹ جسے آپ نے سنا ہے۔

    ڈاکٹر سکولر اوران کے ساتھیوں نے پایا کہ لوگ مسائل کےحل کی کوشش سے وقفہ لینےاور دن میں خواب دیکھتے ہوئےایک غیر ضروری کام کرنے کے بعد ان کے مزید تخلیقی حل تلاش کرتے ہیں جب وہ اس وقفے کے دوران دوسری چیزیں کرتےتھے یا تو خاموشی سے بیٹھتے تھے یا کسی مختلف مشکل کام پر توجہ مرکوز کرتے تھے یا جب انہوں نے بالکل بھی وقفہ نہیں لیا تھا، تو مسئلہ حل کرنا زیادہ مشکل تھا۔

    انہوں نے کہا کہ ’’ذہن کو حیرت میں ڈالنا‘‘ ناول کے ساتھ آنے کا ایک موقع ہوسکتا ہے، مختلف نقطہ نظر جن کے بارے میں آپ نے پہلے سوچا بھی نہیں تھا اگر آپ کا دماغ خراب جگہوں پر جاتا ہے تو ذہن سازی کی کوشش کریں۔

    فٹبال کے حجم کی نئی غیر معمولی جیلی فش دریافت

    اونٹاریو میں کوئنز یونیورسٹی کےماہر نفسیات جوناتھن سمال ووڈ نے کہا، تاہم، کچھ مسائل دن میں خواب دیکھنے کے ذریعے حل نہیں ہوتے ہیں اور آپ کو یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ دن میں خواب دیکھنا آپ کو ان کی طرف واپس لاتا ہے اور آپ پر دباؤ ڈالتا ہے۔

    ڈاکٹر سکولر نے کہا کہ اس صورت حال میں، ذہن سازی کی مشق کرنا ایک ذہنی حالت جس میں آپ موجودہ لمحے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں مسلسل چہچہاہٹ پر لگام ڈالنے میں مدد کر سکتی ہے،” ڈاکٹر سکولر نے کہا۔ جیسے ہی آپ نے محسوس کیا کہ آپ کے خیالات تناؤ یا افسردہ ہو گئے ہیں، توقف کریں اور اپنی توجہ کو موجودہ لمحے کی طرف موڑنے کی کوشش کریں اپنی سانسوں اور ان احساسات کے بارے میں سوچیں جو آپ محسوس کرتے ہیں اس کےبعد، اپنے دن کے خوابوں کو زیادہ مثبت سمت میں ڈھالنا،ایک خوشگوار یادداشت کے بارے میں سوچیں، کہیں، یا ایک ٹی وی شو جو آپ کو تفریح فراہم کرے-

    ناسا ایک بار پھر چاند پرمشن روانہ کیلئے تیار