Baaghi TV

Tag: ترکیہ

  • ترکیہ، شام زلزلہ؛  اموات 25 ہزار سے بھی تجاوز کرگئیں

    ترکیہ، شام زلزلہ؛ اموات 25 ہزار سے بھی تجاوز کرگئیں

    ترکیہ اور شام میں زلزلے سے اموات کی تعداد 25 ہزار سے تجاوز کرگئی، ایک لاکھ سے زائد افراد زخمی ہیں.

    6 روز کے دوران 1500 سے زائد آفٹر شاکس آچکے ہیں. گرنے والی ہزاروں عمارتوں کے ملبے میں دبے افراد کو نکالنے کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے 100 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی کئی افراد کو زندہ نکال لیا گیا. دبے ہوئے افراد کے زندہ بچنے کی امیدیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہوتی جارہی ہیں۔ ترکیہ اور شام میں 6 فروری کی صبح آنے والے زلزلے کے باعث تباہ ہونے والی عمارتوں میں دبے افراد کو نکالنے کا کام جاری ہے. دونوں ممالک میں اب تک 24 ہزار سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ امدادی سرگرمیوں میں پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک کی ریسکیو ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔

    حکام اور طبی عملے کے مطابق ترکیہ میں 20 ہزار 665 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ شام میں ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار 553 ہے، دونوں ممالک میں تصدیق شدہ اموات کی تعداد 24 ہزار 218 تک پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب شام میں اب تک 3 ہزار 600 سے زائد اموات کی تصدیق کی گئی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ سرد موسم نے لاکھوں متاثرین کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے جبکہ بہت سے لوگوں کو امداد کی اشد ضرورت تھی۔

    عالمی ادارے نے کہا ہے کہ زلزلے کے بعد دونوں ممالک میں کم از کم 8 لاکھ 70 ہزار افراد کو فوری طور پر خوراک کی ضرورت ہے، صرف شام میں 53 لاکھ بے گھر افراد کو فوری پناہ درکار ہے۔ تباہ کن زلزلے کے دوران اپنے گھر کے ملبے کے نیچے پھنسی ہوئی شامی خاتون نے جس بچی کو جنم دیا تھا اس کا نام ’’آیا‘‘ رکھا گیا ہے، جس کا عربی میں مطلب ’خدا کی نشانی‘ ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نوزائیدہ بچی کے والدین اور اس کے تمام بہن بھائی قیامت خیز زلزلے کی نذر ہوگئے، بچی کی کفالت اب اس کے والد کے چچا کریں گے۔

    ترکیہ کے علاقے دیارباکر میں 103 گھنٹے بعد ماں بیٹے کو ملبے سے ریسکیو کرلیا گیا، تو اک بار پھر اُمید بندھ گئی۔ کہارامانمارس میں شدید زلزلے سے ٹرین کی پٹریاں اکھڑ گئیں، سڑکوں کا بھی برا حال ہوگیا، امدادی کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شام کی وزراء کونسل نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دے دیا۔ صدر بشار الاسد نے حلب کے اسپتال میں زلزلہ متاثرین سے ملاقات کی، رضا کار تنظیم کے اہلکاروں نے 2 ننھی بہنوں کو بچالیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    زلزلہ زدہ ادلب کے نواحی گاؤں کے قریب ایک چھوٹا ڈیم ٹوٹ گیا، پانی نے گھروں اور کھیتوں میں داخل ہوکر شہریوں کیلئے مزید مشکلات کھڑی کردیں ترکیہ کے جنوبی وسطی علاقے میں آباد انطاکیہ کا شہر ہزاروں سال پرانی تۃزیب کا حامل ہے لیکن اس شہر کا بہشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے. عرب نیوز چینل الجزیرہ کے مطابق شام کے شہر حلب میں بے گھر ہونے والے لوگوں کے لیے حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ سرکاری سطح پر آنے والے ماہرین نے شہر کی کم و بیش تمام ہی عمارتوں کو مخدوش قرار دے دیا ہے۔

  • اسمارٹ فون ملبے تلے دبے درجنوں افراد کو زندہ بچانے میں مدد گار

    اسمارٹ فون ملبے تلے دبے درجنوں افراد کو زندہ بچانے میں مدد گار

    فون ملبے تلے دبے درجنوں افراد کو زندہ بچانے میں مدد گار ثابت ہو رہے ہیں.

    ترکیہ میں زلزلے کی تباہ کاریوں کے بے شمار مناظر سامنے آ رہے ہیں۔ ترکیہ میں شام کی سرحد کےقریب بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔ ریسکیو آپریشن میں ایک شخص کو زلزلے کے 104 گھنٹے گذرنے کے بعد ایک عمارت کے ملبے کے نیچے سے زندہ نکالا گیا ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ ہفتےکی صبح آنے والے زلزلے کے نتیجے میں جنوبی ترکیہ کے شہروں انطاکیہ، مرعش، اضنا، غازی عنتاب، ادی یمان، دیار بکر بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

    جمعے کی صبح سے گردش کرنے والے ایک ویڈیو کلپ میں ایک بچے کو بچاتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو 6 فروری کی صبح زلزلہ آنے کے بعد سے ملبے تلے دب گیا تھا۔ امدادی ٹیمیں بچی کو نکالنے میں کامیاب ہوگئیں۔ بچی زندہ تھی حالانکہ اس نے انطاکیا شہر میں ملبے کے نیچے 103 گھنٹے گزارے۔ ترکیہ میں انطاکیا دوسرا شہر ہے جو اس مہلک زلزلے سے متاثر ہوا ہے۔ اس علاقے میں اس کے بعد گذشتہ پیر کی صبح سے لے کر اب تک ایک ہزار سے زیادہ آفٹر شاکس آئے ہیں۔

    ترک ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی اتھارٹی نے بتایا کہ زندہ نکالی جانے والی بچی بے ہوش تھی لیکن ابتدائی طبی امداد کے بعد اس کی صحت بحال ہوگئی۔ مقامی ترک میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کے مطابق ملک کے شمال وسطی اور مغربی حصوں میں زبردست انسانی اور مادی نقصان ہوا ہے۔ مرعش اور غازی عنتاب شہروں میں بھی ایسا ہی منظر تھا۔ پہلے شہر میں ریسکیو ٹیمیں ایک شخص کو 104 گھنٹے تک پھنسے رہنے کے بعد ملبے کے نیچے سے نکالنے میں کامیاب ہوئیں جبکہ دوسرے شہر میں وہ ایک 66 سالہ شخص کو نکالنے میں کامیاب ہو گئیں۔ یہ شخص بھی 103 گھنٹے تک ملبے کے نیچے پھنسا رہا۔

    ساٹھ کی دہائی کا یہ شخص اپنے فون کے ذریعے زلزلے کے آنے کے چند گھنٹوں بعد تک اپنے خاندان سے رابطے میں تھا، جس کا مطلب ہے کہ ملبے کے نیچے پھنسے افراد کو تلاش کرنے میں مواصلاتی سروسز کا اہم کردار ہے۔ غازی عنتاب شہر سے تعلق رکھنے والے ایک تُرک صحافی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اسمارٹ فونز نے ملبے تلے دبے بہت سے لوگوں کو بچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا، خاص طور پر چونکہ ٹیلی کمیونیکیشن کا شعبہ زلزلے سے زیادہ متاثر نہیں ہوا تھا۔ اس کے برعکس بجلی کا نظام زیادہ متاثر ہوا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ "ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں نےغیرمعمولی نقصان کے باوجود اپنی خدمات بند نہیں کیں اور اس سے ان کے گھروں سے باہر زندہ بچ جانے والوں اور ان لوگوں کے درمیان رابطے میں مدد ملی جو انہیں ملنے سے قاصر تھے۔” ویڈیو کلپس میں اپنے گھروں کے باہر زندہ بچ جانے والوں اور ملبے تلے دبے دیگر لوگوں کے درمیان فون کالز دکھائی گئی ہیں جس سے امدادی ٹیموں کے لیے ان تک پہنچنا آسان ہو گیا۔ دوسروں نے مدد کے لیے کال کرنے کے لیے لائیو براڈکاسٹ فیچر کا استعمال کیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے
    جمعہ کو دوپہر کے وقت ترک صدر نے اعتراف کیا کہ زلزلے کا ردعمل اتنا تیز نہیں تھا جتنا ہم چاہتے تھے. انہوں نے کہا کہ اس وقت ایک لاکھ چالیس ہزار افراد امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ صدر طیب اردوآن نے کہا کہ زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد 18,991 اور زخمیوں کی تعداد 76,000 تک پہنچ گئی ہے۔

  • ترکیہ اور شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 22 ہزار سے تجاوز

    ترکیہ اور شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 22 ہزار سے تجاوز

    رواں ہفتے کے آغاز پر ترکیہ اور شام میں آنے والے زلزلے کے باعث اموات کی تعداد 22 ہزار سے تجاوز کرگئی، ریسکیو کے کام میں مصروف حکام کا کہنا ہے کہ یہ وقتی تعداد ہے جس میں ہر گھنٹے بعد نیا اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : زمین کی ہولناک لرزش کو4 روز گزرنے کے بعد ملبےسے بچوں سمیت کئی افراد کو زندہ نکال لیاگیا جب کہ گزرتے وقت کے ساتھ مزید افراد کے زندہ نکلنے کی امیدیں دم توڑنے لگی ہیں ریسکیو عملہ مسلسل خون جما دینے والےموسم میں انسانی جانیں بچانے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔

    ہر گذرتے لمحے کے بعد شام اور ترکیہ کے تباہ کن زلزلے اور اس کے بعد آنے والے آفٹر شاکس کو دیکھتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں کسی بھی فرد کے زندہ بچنے کی امیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں۔

    گذشتہ سوموار کی صبح ترکی اور شام میں آنے والا زلزلہ جس میں ہزاروں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں کو کئی دہائیوں میں آنے والے سب سے زیادہ خونی زلزلے کا نام دیا جا رہا ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتیریس کا کہنا ہےکہ امدادی پروگرام کےسربراہ ترکیہ، شام کا دورہ کریں گے، زلزلہ زدہ علاقوں میں لوگوں کومرنےسےبچانے کے لیے ہرممکن مدد کی ضرورت ہے۔

  • حکومتی امدادی کارروائیوں پر تنقید، ترکیہ میں ٹوئٹر سروس بند

    حکومتی امدادی کارروائیوں پر تنقید، ترکیہ میں ٹوئٹر سروس بند

    ترکیہ میں تباہ کن زلزلے پر حکومتی امدادی کارروائیوں پر بڑھتی ہوئی آن لائن تنقید کے بعد اب ترکیہ میں ٹوئٹر سروس بند کردی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترکیہ میں ٹوئٹر سروس بند ہے جبکہ شہریوں کو سوشل میڈیا کے استعمال کرنے کیلئے وی پی این سروس استعمال کرنی پڑ رہی ہے۔

    سوشل میڈیا پر سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے ادارے نیٹ بلاکس ڈاٹ او آر جی کے مطابق پہلے ٹوئٹر کو کنٹرول کیا گیا اور پھر تمام موبائل فون سروسز پر اس کو مکمل طور پر بلاک کر دیا گیا۔

    تاہم انٹرنیٹ مانیٹرنگ کمپنی نیٹ بلاکس کا کہنا ہے کہ ترکی میں ٹوئٹر تک رسائی بحال کر دی گئی ہے، مواد کو ہٹانے اور غلط معلومات پر پھیلانے پر حکام نے ٹوئٹر انتظامیہ کے ساتھ میٹنگ کی اور ان کی ذمہ داریاں یاد کرائیں، جس کے بعد ٹوئٹر سروس بحال کی گئی ہے۔

    ترکیہ میں سوشل میڈیا میں صدر طیب اردوان کی حکومت کی امدادی سرگرمیوں کو شدید تنقید کا سامنا ہے جہاں لوگ حکومت کی جانب سے ریسکیو کی ناکافی کوششوں کی شکایت کررہے ہیں۔

    واضح رہے اس سے پہلے بھی ترکیہ میں ایمرجنسی اور بڑے حادثات کے دوران سوشل میڈیا پر اس طرح کی پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں-

    امریکی جیولوجیکل سروے کےمطابق پیر کو آنے والے زلزلے کی شدت 7.8 اورگہرائی 17.9 تھی زلزلے کا مرکز ترکیہ کے جنوب مشرقی صوبے غازیان کے نردوی کے قریب تھا اس کے بعد 7.6 شدت کا ایک اور زلزلہ آیا،زلزلے کے جھٹکے قبرص، یونان، شام، اردن،لبنان اور فلسطین میں بھی محسوس کیےگئے جبکہ قیامت خیز تباہی کےبعد 300 سے زیادہ آفٹر شاکس آچکے ہیں۔

    ملبے تلے اب بھی متعدد افراد کے پھنسے ہونےکا خدشہ ہے، انہیں نکالنےکے لیے دن رات ریسکیو آپریشن جاری ہے تاہم شدید سردی اور بعض علاقوں میں برفباری کے باعث متاثرین کو کٹھن حالات کا سامنا ہے اور امدادی کارروائیوں میں بھی مشکلات پیش آرہی ہیں، ترکیہ میں عمارتوں کےملبوں سے8 ہزار سے زائد افراد کو نکالا جا چکاہے۔

    ترک وزیر صحت کے مطابق زلزلے سے 32 ہزار کے قریب افراد زخمی ہیں اور متاثرہ علاقوں میں 5 ہزار 775 عمارتیں تباہ ہوچکی ہیں، زلزلے میں مرنے والوں میں57 فلسطینی بھی شامل ہیں۔

    ترک میڈیا کے مطابق ملبے تلے دبے زلزلہ متاثرین موبائل فون سے ویڈیوز، وائس نوٹس اور لائیو لوکیشن بھیج رہے ہیں،ترکیہ میں 3 لاکھ 80 ہزار زلزلہ متاثرین کو شیلٹرز میں منتقل کردیا گیا، ترکیہ میں زلزلے سے ایک کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

  • ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز کرگئی، ترکیہ میں 12 ہزار 391 اور شام میں 2 ہزار 992 افراد ہلاک ہوئے ہیں،جبکہ ابھی مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پیر کو آنے والے زلزلے کی شدت 7.8 اورگہرائی 17.9 تھی زلزلے کا مرکز ترکیہ کے جنوب مشرقی صوبے غازیان کے نردوی کے قریب تھا اس کے بعد 7.6 شدت کا ایک اور زلزلہ آیا،زلزلے کے جھٹکے قبرص، یونان، شام، اردن،لبنان اور فلسطین میں بھی محسوس کیےگئے جبکہ قیامت خیز تباہی کےبعد 300 سے زیادہ آفٹر شاکس آچکے ہیں۔

    ملبے تلے اب بھی متعدد افراد کے پھنسے ہونےکا خدشہ ہے، انہیں نکالنےکے لیے دن رات ریسکیو آپریشن جاری ہے تاہم شدید سردی اور بعض علاقوں میں برفباری کے باعث متاثرین کو کٹھن حالات کا سامنا ہے اور امدادی کارروائیوں میں بھی مشکلات پیش آرہی ہیں، ترکیہ میں عمارتوں کےملبوں سے8 ہزار سے زائد افراد کو نکالا جا چکاہے۔

    یورپی یونین کی جانب سے شام کے لیے 35 لاکھ یورو کی امداد کا اعلان کیا گیا ہے، یورپی یونین نے اسی امدادی پروگرام کے تحت ترکی کوبھی 30 لاکھ یورودینےکا اعلان کر رکھا ہے،دوسری جانب پاکستان،عراق، ایران، اردن، متحدہ عرب امارات اورمصرسے امدادی پروازیں شام پہنچ رہی ہیں۔

    ترک وزیر صحت کے مطابق زلزلے سے 32 ہزار کے قریب افراد زخمی ہیں اور متاثرہ علاقوں میں 5 ہزار 775 عمارتیں تباہ ہوچکی ہیں، زلزلے میں مرنے والوں میں57 فلسطینی بھی شامل ہیں۔

    ترک میڈیا کے مطابق ملبے تلے دبے زلزلہ متاثرین موبائل فون سے ویڈیوز، وائس نوٹس اور لائیو لوکیشن بھیج رہے ہیں،ترکیہ میں 3 لاکھ 80 ہزار زلزلہ متاثرین کو شیلٹرز میں منتقل کردیا گیا، ترکیہ میں زلزلے سے ایک کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت نے دونوں ملکوں میں 40 ہزار اموات اور 2 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہونےکا خدشہ ہے جن میں 14 لاکھ بچے بھی شامل ہیں۔

    ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں کا دورہ کیا ہے، کئی لوگوں کا شکوہ ہے کہ حکومت نے اب تک کوئی خاص اقدامات نہیں کیے ہیں اور ان تک مدد نہیں پہنچی ہے یہ اتحاد و یکجہتی کا وقت ہے جبکہ تباہی کی پیشگی تیاری ممکن نہیں ہے۔

    ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے 10 صوبوں میں 3 ماہ کے لیے ہنگامی حالت نافذ کردی ہے ہولناک زلزلے کے باعث نقصانات سے امدادی کاموں میں دشواری ہے۔

    انہوں نے اعلان کیا کہ جنوبی ترکیہ میں زلزلے کا شکار 10 شہروں کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے اور ان متاثرہ علاقوں میں 3 ماہ کے لیے ہنگامی حالت نافذ کردی گئی جبکہ امدادی کاموں کے لیے 5 ارب ڈالرز مختص کیے ہیں۔

    ترک صدر کا کہنا تھا کہ بے گھر ہونے والے افراد کے لیے 45 ہزار پناہ گاہیں جنگی بنیادوں پر تعمیرہوں گی جب کہ زلزلہ زدگان کو اناطولیہ کے ہوٹلوں میں عارضی طور رکھنے پرغور کیا جارہا ہےترکیہ اس وقت دنیا کے سب سے بڑے سانحہ سے گزر رہا ہے، 70 سے زائد ممالک نے امداد اور امدادی کارروائیوں میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔

    ترکیہ میں زلزلے کی تباہی کے بعد کاروباری مندی بھی ہو گئی ہے جس کے بعد ترک حکام نے استنبول اسٹاک ایکسچینج کو 5 روز کے لیے بند رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ استنبول اسٹاک ایکسچینج 24 سال میں پہلی مرتبہ بند ہوئی ہے۔


    دوسری جانب شام میں زخمیوں کی تعداد 8 ہزار سے زائد بتائی جارہی ہے شام میں ملبے تلے دبی ایک خاتون بچےکو جنم دے کر زندگی ہارگئی، لوگ دل تھام کر بیٹھ گئے جب کہ سوشل میڈیا پر ایک اور ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ملبے میں دبی شامی بچی کو خود سے زیادہ ننھے بھائی کی فکر ہے، شامی شہر ادلب میں ایک خاندان کو چالیس گھنٹوں بعد ملبے سے نکالے جانے پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔

  • ترکیہ و شام زلزلہ: شاہ سلمان اور شہزادہ محمد بن سلمان کی متاثرہ علاقوں میں فضائی پل بنانے کی ہدایت

    ترکیہ و شام زلزلہ: شاہ سلمان اور شہزادہ محمد بن سلمان کی متاثرہ علاقوں میں فضائی پل بنانے کی ہدایت

    سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے شاہ سلمان انسانی امداد اورریلیف مرکز(کے ایس آر ای ایف) کوشام اور ترکیہ میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں فوری امداد مہیّا کرنے کے لیے ایک فضائی پل بنانے کی ہدایت کی ہے۔

    باغی ٹی وی: سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق اس فضائی پل کے ذریعے زلزلے سے متاثرہ شامی اور ترک عوام کو طبی سامان، ادویہ ،رہائش کے لیے خیمے، خوراک کا سامان مہیا کیا جائے گا اس کے علاوہ یہ لاجسٹک معاونت بھی مہیّا کرے گا۔

    ترکی و شام میں زلزلہ، اموات 8 ہزار کے قریب،پاک فضائیہ،این ڈی ایم اے کی امداد روانہ

    خادم الحرمین الشریفین اورولی عہد کی ہدایات میں دونوں ممالک میں زلزلے سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے "سہیم” پلیٹ فارم کے ذریعے ایک مہم کا انعقاد بھی شامل ہے۔

    واضح رہے کہ ترکیہ اور شام میں زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد 9 ہزار سے تجاوز کر گئی،ترکیہ میں 7ہزار108،شام میں2 ہزار530 افراد جاں بحق ہوئے،،ترکیہ میں زلزلے سے 31 ہزار777 افرادزخمی ہوئے، زلزلےسےمتاثرہ علاقوں میں5 ہزار775عمارتیں تباہ ہوئی ہیں، زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں 10ہزارخیمےلگا دیے گئے –

    جاپانی پروفیسر کی مشرقی وسطی میں مزید زلزلوں کی پیشگوئی

    ترک صدر رجب طیب اردگان کا کہنا ہے کہ ترکیے میں زلزلے سے اموات میں کتنا اضافہ ہوگا اس کا ابھی اندازہ نہیں لگا سکتے۔ ترک صدر نے ملک بھر میں ایک ہفتے کے سوگ کا اعلان کردیا، ترکیہ میں ایک ہفتے تک پرچم سرنگوں رہے گا۔

  • شام زلزلہ متاثرین کیلئے خصوصی امدادی کھیپ روانہ

    شام زلزلہ متاثرین کیلئے خصوصی امدادی کھیپ روانہ

    ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق شام زلزلہ متاثرین کیلئے خصوصی امدادی کھیپ روانہ کر دی گئی ہے-

    باغی ٹی وی: این ڈی ایم اے کے مطابق شام زلزلہ متاثرین کیلئے سامان میں خیمے اور کمبل شامل ہیں ،سامان اسلام آباد سے خصوصی چارٹرڈ طیارے کے ذریعے دمشق بھیجا گیا،امدادی سامان شام میں تعینات پاکستانی سفیر شاہد علوی وصول کریں گے-

    پاک فضائیہ کا سی 130 طیارہ امدادی سامان لے کر ترکیہ پہنچ گیا

    ترجمان کے مطابق زلزلہ سے متاثر ین کیلئے مزید امدادی سامان جلد بھیجا جائے گا پاکستان نے مشکل کی اس گھڑی میں شام کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے،مزید امدادی سامان براستہ روڈ شام اور ترکیہ کیلئے جلد روانہ کیا جائے گا-

    دوسری جانب ترجمان ریسکیو کے مطابق پاکستانی ریسکیوٹیم نے ترکیہ میں آپریشن شروع کردیا ہے،پہلا آپریشن سیکٹر آدیامن میں قائم کردیا گیا ہے،اربن سرچ اینڈ ریسکیو کے ٹیم کمانڈر رضوان نصیر ہیں،دوسری جانب 51رکنی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم انٹرنیشنل ریسپانس کا حصہ ہیں-

    ترکیہ میں ایک بار پھر شدید زلزلہ، شدت 5.6 ریکارڈ

    ترجمان ریسکیوکے مطابق ریسکیو ٹیم کے ارکان اربن سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے ا سپشلائزڈ ہیں،اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم یونائیٹڈ نیشن انسراگ سے سرٹیفائیڈ ہے،مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان ریسکیو، ترک بھائیوں کیساتھ ہے-

  • ترکیہ اور شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 7 ہزار200 سے تجاوز کرگئی

    ترکیہ اور شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 7 ہزار200 سے تجاوز کرگئی

    ترکیہ اور شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 7 ہزار200 سے تجاوز کرگئی ہے.

    ترکیہ اور شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 7 ہزار200 سے تجاوز کرگئی، ملبے میں پھنسے زندہ افراد کو بچانےکے لیے ریسکیو ورکرز کی کوششیں جاری ہیں، زلزلے کے بعد سے اب تک 120 سے زائد آفٹر شاکس آچکے ہیں۔ شدید سردی اور بعض علاقوں میں برفباری کے باعث متاثرین کو کٹھن حالات کا سامنا ہے اور آفٹرشاکس کے باعث لوگ شدید خوفزدہ بھی ہیں۔7.8 شدت کے زلزلے نے تباہی مچادی ہے، دونوں ممالک میں اموات کی مجموعی تعداد 7000 سے تجاوز کرگئی ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق 7.8 شدت کے زلزلے کے بعد7.6 شدت کا ایک اور زلزلہ آیا، جس نے مزید تباہی پھیلائی۔ ترکیہ اور شام میں کم و بیش 6ہزار سے زائد عمارتوں کو نقصان پہنچا، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زلزلے سے ترکیہ میں 5ہزار 434 جب کہ شام میں ایک ہزار 832 افراد جان سےگئے، مجموعی طور پر 16ہزار سے زائد افراد زخمی ہیں۔ زلزلےکی شدت 7.8 شدت کے تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 10 ہزار سے بھی بڑھنے کا اندیشہ ہے۔

    امریکی زلزلہ پیمامرکز کا کہنا ہے کہ47 فیصد امکان ہے کہ ترکیہ اور شام میں زلزلے سے اموات ایک ہزار سے 10 ہزار تک ہوسکتی ہیں جبکہ 20 فیصد امکان ہے کہ اموات کی تعداد 10 ہزار سے ایک لاکھ تک جا سکتی ہے۔ واضح رہے کہ ترکیہ میں زلزلے سے اموات کی تعداد سات ہزار ہوگئی ہے جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہیں۔ ترک صدر رجب طیب اردگان کا کہنا ہے کہ ترکیے میں زلزلے سے اموات میں کتنا اضافہ ہوگا اس کا ابھی اندازہ نہیں لگا سکتے۔ ترک صدر نے ملک بھر میں ایک ہفتے کے سوگ کا اعلان کردیا، ترکیہ میں ایک ہفتے تک پرچم سرنگوں رہے گا۔دوسری جانب شام میں زلزلے سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد 968 ہوچکی ہے جبکہ سیکڑوں زخمی ہیں۔امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق پیرکی صبح 4 بجکر 17 منٹ پر آیا جب لوگ گہری نیند میں تھے۔

    صوبے کی آبادی تقریباً 20 لاکھ ہے اور یہ صوبہ شام کے قریب ہے جس کی وجہ سے شام میں بھی بڑے پیمانے پر تباہی مچی۔ ترک میڈیا کے مطابق زلزلے کے شدید ترین جھٹکے ایک منٹ تک محسوس کیے گئے، جھٹکوں کے باعث لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ زلزلے کے جھٹکے قبرص، یونان، شام، اردن،لبنان اور فلسطین میں بھی محسوس کیےگئے۔ فوٹورائٹرز.9 کلومیٹر تھی، اس صوبے کی آبادی تقریباً 20 لاکھ ہے اور یہ صوبہ شام کے قریب ہے جس کی وجہ سے شام میں بھی بڑے پیمانے پر تباہی مچی۔ ترک میڈیا کے مطابق زلزلے کے شدید ترین جھٹکے ایک منٹ تک محسوس کیے گئے، جھٹکوں کے باعث لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ زلزلے کے جھٹکے قبرص، یونان، شام، اردن،لبنان اور فلسطین میں بھی محسوس کیےگئے۔ خوفناک زلزلے کے بعد شام میں ایک عمارت کے ملبے سے ریسکیو اہلکاروں نے ایک نوزائیدہ بچے کو بچالیا، جس کی ماں اور دیگر اہل خانہ جاں بحق ہوگئے۔ ترکی اور شام میں زلزلے سے تباہ عمارتوں کے ملبے میں دبے لوگوں کو نکالنے کیلئے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
    شام میں ریسکیو اہلکاروں نے جب کمسن بچی کو ملبے تلے سے نکالا تو اس موقع پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے.


    مزید یہ بھی بڑھیں؛
    جسم پر ظاہر ہونے والی وہ علامات جو ڈپریشن کا نتیجہ ہوتی ہیں
    وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی عالمی بینک کے ریجنل ڈائریکٹر سے ملاقات
    برطانیہ میں تقریباً 52 ہزار جائیدادیں گمنام سرمایہ کاروں کی ملکیت. رپورٹ
    دوسری جانب پاک فضائیہ کا سی-130 ہرکولیس طیارہ سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کے ارکان اور کمبل لے کر پی اے ایف بیس نور خان سے ترکیہ پہنچ گیا ہے۔ طیارہ پاکستانی عوام کی طرف سے زلزلہ سے متاثرہ ترک بھائیوں کے لیے امدادی سامان لے کر پہنچا ہے۔ پاک فضائیہ کا ٹرانسپورٹ بیڑا اندرون اور بیرون ملک قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔

  • ترکیہ میں ایک بار پھر شدید زلزلہ، شدت 5.6 ریکارڈ

    ترکیہ میں ایک بار پھر شدید زلزلہ، شدت 5.6 ریکارڈ

    ترکیہ میں ایک بار پھر زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق سینٹرل ترکیہ میں منگل کے روز ایک بار پھر زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے جن کی شدت 5.6 ریکارڈ کی گئی جب کہ زلزلے کی گہرائی زیر زمین 2 کلومیٹرتھی زلزلے کے تازہ جھٹکوں سے فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

    وزیراعظم کی ہدایت پر ریسکیو ٹیم اور امدادی سامان خصوصی طیارے سے ترکیہ روانہ

    واضح رہے کہ ترکیہ میں 6 فروری کو آنے والے ہولناک زلزلے کے نتیجے میں 2 ہزار سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق ہوچکی ہے جب کہ 3700 سے زائد عمارتیں گرنے سے متعدد افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے جنہیں نکالنے کے لیےریسکیو آپریشن جاری ہے۔


    ترکیہ میں زلزلے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کئی دردناک اور دل دہلادینے والی ویڈیوز سامنے آرہی ہیں جن میں کہیں عمارتوں کو زمین بوس ہوتے تو کہیں ملبے میں پھنسے افراد کو مدد کیلئے پکارتے دیکھا جاسکتا ہے۔

    ترکیہ میں تباہ کن زلزلہ،گرتے اسپتال سےنرسوں نےمریضوں کو تنہا چھوڑکرجانےسےانکارکردیا

    ترکیہ میں زلزلے سے ہونے والی تباہی اور اس سے پہلے کی تصاویر کو موازنہ کرکے نقصانات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ترکی کے شہر غازی انتیپ کی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ زلزلے سے قبل جو رہائشی عمارتیں پہلے آباد تھیں وہ اب ملبے کا ڈھیر بنی ہوئی ہیں۔


    ایک اور تصویر میں قلعہ شہر غازی انتیپ میں قائم ہے جو 2000 سال سے زائد عرصے سے قائم تھا لیکن زلزلے کے نتیجے میں اس تاریخی قلعے کو بھی شدید نقصان پہنچا یہ قلعہ رومی سلطنت کے دوران تعمیر کیا گیا تھاحال ہی میں اسے ایک میوزیم کے طور پر استعمال کیا جارہا تھا۔


    ایک اور تصویر مسجد مالاطیہ کے ہیں جو زلزلے سے پہلے قائم تھی اور اب اسے بری طرح نقصان پہنچا ہےتاریخی مالاطیہ مسجد زلزلے کے مرکز سے 100 میل دور تھی، 1894 میں بھی آنے والے زلزلے نے اس مسجد کو نقصان پہنچایا تھا جس کی تعمیر دوبارہ کی گئی جب کہ 1964 میں بھی زلزلے نے مسجد کو ہلا کر رکھا دیا تھا۔

    ہاتائے صوبے میں بحیرہ روم کی بندرگاہ کے قریب واقع شہر اسکندرون میں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں اسکندرون کے چرچ کی تباہ حال تصویر بھی دیکھی جاسکتی ہے۔

    https://twitter.com/nanotrades24/status/1622781334384168960?s=20&t=cRvUjYrEc1ni6DwpcNFR_w
    سوشل میڈیا پر ترکیہ میں زلزلے سے قبل کی بھی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں آسمان پر علی الصبح پرندوں کو بے چین سی کیفیت میں ادھر سے ادھر پھڑپھڑاتے دیکھا جاسکتا ہے پرندوں کے غیر معمولی رویے کے حوالے سے شیئر کی جانے والی وائرل ویڈیو سے متعلق دعویٰ کیا جارہا ہے یہ ویڈیو پیر کے روز آنے والے زلزلے سے پہلے کی ہے۔

    ترکیہ کے زلزلہ متاثرین کی امداد کے لیے وزیراعظم ریلیف فنڈ قائم

  • ترکیہ کے زلزلہ متاثرین کی امداد کے لیے وزیراعظم ریلیف فنڈ قائم

    ترکیہ کے زلزلہ متاثرین کی امداد کے لیے وزیراعظم ریلیف فنڈ قائم

    ترکیہ اور شام کے زلزلہ متاثرین کی امداد کے لیے وزیراعظم ریلیف فنڈ قائم کر دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی: وزیراعظم نے مخیر حضرات سے ترکیہ اور شام زلزلہ متاثرین کی امداد کی اپیل کی ہے وفاقی کابینہ ارکان کی ایک ماہ کی تنخواہ ریلیف فنڈ میں دینے کا اعلان کیا ہے-

    ترکیہ اور شام میں زلزلے سے 10ہزار سے زائد اموات کا خدشہ

    دوسری جانب آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی ہدایت پر پاک فوج نے 2 دستے امدادی سامان لے کر ترکیہ روانہ ہو گئے ہیں۔ ترکیہ جانے والے پاک فوج کے دستوں میں ربن سرچ اینڈ ریسکیو اورمیڈیکل ٹیم شامل ہے۔

    اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم میں ماہرین، سراغ رساں کتے، جدید آلات شامل ہیں، آرمی ڈاکٹرز، نرسنگ سٹاف اور ٹیکنیشنز پر مشتمل میڈیکل ٹیم بھی ترکیہ روانہ ہوئی ہے۔

    30 بستروں والا موبائل ہسپتال، خیمے، کمبل اور دیگر امدادی اشیا بھی ترکی بھجوائی گئی ہیں، امدادی کاموں اور ریسکیو آپریشن تک دستے ترکیہ میں ہی رہیں گے۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کل صبح انقرہ روانہ ہوں گے، وہ صدر اردوان سے زلزلے کی تباہی، جانی نقصان پر افسوس اور تعزیت،ترکیہ کے عوام سے یک جہتی کریں گے اور زلزلہ متاثرین علاقوں کا دورہ بھی کریں گے-

    واضح رہے کہ ترکیہ اور شام میں 7.8 شدت کے زلزلے نے تباہی مچادی ہے، رات گئے آنے والے زلزلے نے لوگوں کو بچنے کا موقع ہی نہ دیا، بلند و بالا عمارتیں لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، 50 سے زائد آفٹر شاکس کا سلسلہ بھی کئی گھنٹوں تک جاری رہا، دونوں ممالک میں اموات کی مجموعی تعداد 5 ہزار سے تجاوز کر گئی،شام اور ترکیہ میں زلزلے میں مزید ہلاکتوں کا خدشہ ،امدادی سرگرمیاں جاری ہیں-

    ترکیہ و شام زلزلہ: ماہر موسمیات نے سوشل میڈیا پر 3 دن قبل ہی خبردار کردیا تھا