Baaghi TV

Tag: ترکیہ

  • صدارتی ترکیہ میں صدارتی انتخابات کےدوسرے مرحلے میں ووٹنگ جاری

    صدارتی ترکیہ میں صدارتی انتخابات کےدوسرے مرحلے میں ووٹنگ جاری

    ترکیہ میں صدارتی انتخابات کےدوسرے مرحلے میں ووٹنگ شروع ہوگئی ہے جس میں صدر رجب طیب اردوان اور کمال قلیچ دار اوغلو کے درمیان مقابلہ ہے۔

    باغی ٹی وی: پولنگ کا عمل مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے(پاکستانی وقت 7 بجے) تک جاری رہےگا ترکیہ میں 14 مئی کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں ووٹر ٹرن آؤٹ 90 فیصد رہا تاہم کسی بھی امیدوار کے 50 فیصد ووٹ حاصل نہ کرنے کے باعث صدر کا فیصلہ نہ ہو سکا اور انتخابی عمل دوسرے مرحلے میں داخل ہو گیا۔

    افغان طالبان اور ایرانی فورسز کے درمیان جھڑپ، 3 افراد ہلاک

    پہلے مرحلے میں رجب طیب ایردوان کو اپنے مخالف امیدوار پر 5 پوائنٹس کی برتری حاصل ہو گئی تھی تاہم وہ 50 فیصد ووٹ حاصل نہ کرپائے، وہ پہلے مرحلے میں 49.52 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

    ان کے مدمقابل اپوزیشن امیدوار کمال قلیچ دار اوغلو 44.89 فیصد ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے اور سنان اوغنان 5.17 فیصد ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے تھے جب کہ پارلیمانی انتخابات میں رجب طیب اردوان کے اتحادی بلاک نے واضح اکثریت حاصل کر لی تھی5 فی صد سے زائد ووٹ لےکر تیسرے نمبر پر آنے والے سنان اوغنان صدر ایردوان کی حمایت کر چکے ہیں۔

    ایران اور روس کے درمیان کارگو ٹریفک میں غیرمعمولی تیزی

    واضح رہے کہ ترکیہ میں ہر پانچ سال بعد انتخابات ہوتے ہیں، ترک قوانین کے مطابق گزشتہ انتخابات میں 5 فیصد ووٹ حاصل کرنے والی پارٹی صدارتی امیدوار نامزد کر سکتی ہے یا پھر ایسا شخص جس کی نامزدگی کو ایک لاکھ لوگوں کی دستخط کے ساتھ حمایت حاصل ہو وہ صدارتی امیدوار بن سکتا ہے۔

    قانون کے مطابق جو امیدوار برتری کے ساتھ 50 فیصد ووٹ حاصل کرلےگا وہ صدر منتخب ہو جائےگا تاہم 50 فیصد ووٹ حاصل نہ کرنے کی صورت میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والے دو امیدواروں کے درمیان دوسرے مرحلے میں ووٹنگ ہوتی ہے۔

    جھوٹےدعووں کےذریعہ ہی یوکرین مغربی ملکوں سےہتھیاراورمالی امداد حاصل کرسکتا ہے،ایران

  • ترکیہ انتخابات:ووٹوں کی گنتی جاری،طیب اردوان کوحزب اختلاف کےامیدوارکلیچ داراوغلوپرمعمولی برتری حاصل

    ترکیہ انتخابات:ووٹوں کی گنتی جاری،طیب اردوان کوحزب اختلاف کےامیدوارکلیچ داراوغلوپرمعمولی برتری حاصل

    ترکیہ کے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے بعد گنتی کا عمل شروع ہو گیا اور ابتدائی نتائج کے مطابق صدر رجب طیب اردوان کو مخالف امیدواروں پر برتری حاصل ہےالبتہ ان کے 50 فیصد ووٹ جیتنے کے امکانات نہیں ابتدائی نتائج کے مطابق صدررجب طیب ایردوآن کواپنے حریف امیدوار پر معمولی برتری حاصل ہے لیکن کمال کلیچ داراوغلو کے حامیوں نے بھی ان کی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ترک میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکیہ میں صدارتی انتخابات میں 98 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو گئی ہے صدارتی انتخابات کےاب تک کے نتائج کےمطابق صدر رجب طیب اردوان 49.34 فیصد ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ ان کے مخالف امیدوارکمال قلیچ دار اوغلو 45.69 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر ہیں جبکہ تیسرے امیدوار سنان اوغان اب تک 5.23 فیصد ووٹ لے سکے ہیں۔

    سپریم کورٹ کو بلیک میل کرنے کا عوامی قوت سے جواب دیا جائےگا،پی ٹی آئی

    صدر بننے کے لیے 50 فیصد سے زائد ووٹ درکار ہیں،اگر ووٹوں کی یہی شرح برقرار رہتی ہے اور کوئی بھی امیدوار50 فی صد ووٹ لینے میں کامیاب نہیں ہوتاتو فاتح کا فیصلہ کرنے کے لیے دوسرے مرحلے کی پولنگ ناگزیرہوگی 50 فیصد سے زائد ووٹ نہ لینے پر 28 مئی کو انتخابات کے دوسرے مرحلے میں فیصلہ ہوگا

    اس کے علاوہ پارلیمانی انتخابات میں بھی 98 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی ہے اور اب تک کے نتائج کے مطابق 600 کے ایوان میں صدر اردوان کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی 266 نشستیں جیت چکی ہے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے اناطولو کے مطابق 80.48 فی صد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد صدرایردوآن کو 50.43 فی صد کے ساتھ برتری حاصل ہے جبکہ کلیچ داراوغلو نے 43.77 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔

    حکومت اورمولانا فضل الرحمان کے درمیان مذاکرات کے باوجود ڈیڈلاک برقرار

    ترک ووٹروں نے اتوارکے روز پارلیمانی انتخابات کے لیے بھی اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔60۰36 فی صد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی ہے اورصدر ایردوآن کی انصاف اور ترقی پارٹی (آق) نے 37.91 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ کلیچ داراوغلو کی ریپبلکن پیپلزپارٹی (سی ایچ پی) نے 28.89 فی صد ووٹ حاصل کیے تھےانتخابات میں 88.23 فی صد رائے دہندگان نے حصہ لیا ہے۔

    قبل ازیں ترکیہ کے ہائی الیکشن بورڈ کے سربراہ نے انتخابی نتائج کی اشاعت پرعائد پابندی ختم کردی تھی اورکہا تھا کہ بورڈ کی جانب ابتدائی سرکاری نتائج کےاعلان تک انتظار کیا جائے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ترکیہ میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کیلئے ووٹنگ کا عمل مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہاغیر ملکی خبر رساں ادارے کےمطابق ترکیہ کی تاریخ میں پہلی بار24 پارٹیاں اور 151 آزاد امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، ترکیہ میں ساڑھے 6 کروڑ سے زائد ووٹرز رجسٹرڈ ہیں صدارتی انتخاب میں ترک صدر طیب اردوان اور اپوزیشن رہنما کمال قلیچ داراوغلو کےدرمیان سخت مقابلہ ہوا ہےصدارتی انتخابات میں 50 فیصد سے زائد ووٹ نہ لینے پر 28 مئی کو انتخابات کا دوسرا مرحلہ ہوگا۔

    پنجاب انتخابات کیس؛ ؛ سپریم کورٹ میں کل اہم سماعت ہوگی

    ترکیہ میں حالیہ برسوں میں ایک درجن انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے 69 سالہ ایردوآن کا کہنا ہے کہ وہ جمہوریت کا احترام کرتے ہیں اورآمرہونے سے انکار کرتے ہیں۔وہ جدید ترکیہ کی گذشتہ ایک صدی کی تاریخ میں سب سے طویل عرصہ حکمران رہنے والے سیاسی رہ نما ہیں۔

    ترکیہ میں یہ انتخابات جنوب مشرقی علاقوں میں تباہ کن زلزلے کے تین ماہ بعد ہورہے ہیں۔اس میں 50 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ متاثرہ صوبوں میں بہت سے لوگوں نے حکومت کے سست رو ردعمل پرغم وغصے کا اظہار کیا ہے لیکن اس بات کے بہت کم شواہد موجود ہیں کہ اس مسئلے نے لوگوں کے ووٹ ڈالنے کے طریقے کو تبدیل کر دیا ہے۔

    صدر ایردوآن نے استنبول میں ووٹ ڈالا،وہاں موجود انتخابی عملہ سے مصافحہ کیا اور پولنگ اسٹیشن میں ایک ٹی وی رپورٹر سے بات کی۔کہا کہ ہم اپنے ملک، قوم اور ترکیہ کی جمہوریت کے بہتر مستقبل کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں-

    عمران خان حکومت سے محاذ آرائی روک دے۔ انٹرنیشنل کرائسز گروپ کا مطالبہ

    ان کے حریف 74 سالہ کلیچ داراوغلو نے انقرہ میں ووٹ ڈالا۔ وہ جب پولنگ اسٹیشن پرپہنچےتو وہاں موجود ہجوم نےخیرمقدمی تالیاں بجائیں انھوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے ان تمام شہریوں کو اپنی مخلصانہ محبت اوراحترام پیش کرتا ہوں جو بیلٹ باکس میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔ ہم سب کو جمہوریت یادرکھنا چاہیے-

    پارلیمانی انتخابات میں ایردوآن کی اسلام پسند جماعت آق کے زیرقیادت قوم پرست ایم ایچ پی اور دیگر پرمشتمل عوامی اتحاد اورترکیہ کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کی قائم کردہ سیکولرری پبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) سمیت چھے اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل کلیچ داراوغلو کے زیرقیادت قومی اتحاد کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔

    مسلم لیگ نواز کے بعد اے این پی نے بھی پی ڈی ایم احتجاج …

  • ترکیہ : صدارتی اور  پارلیمانی انتخابات کیلئے ووٹنگ  کا عمل جاری،ترک صدر نے ووٹ ڈال دیا

    ترکیہ : صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کیلئے ووٹنگ کا عمل جاری،ترک صدر نے ووٹ ڈال دیا

    ترکیہ میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کیلئے ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔

    باغی ٹی وی:ترکیہ میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کیلئے ووٹنگ کا عمل صبح 8 بجے ( پاکستان وقت کے مطابق 10 بجے ) شروع ہوا، شروع ہونے والی ووٹنگ مقامی وقت کے مطابق شام 5 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے) تک جاری رہے گی۔

    ترک صدر رجب طیب اردوان نے استنبول میں اپنا ووٹ ڈالا اورحزب اختلاف کے سربراہ کمال کلیک دار اوغلونے انقرہ میں ووٹ ڈال دیا،طیب اردوان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن امریکی صدر بائیڈن کے ساتھ مل کر مجھے گرانا چاہتی ہے آج عوام بیلٹ کے ذریعے بائیڈن کو جواب دیں گے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکیہ کی تاریخ میں پہلی بار24 پارٹیاں اور 151 آزاد امیدوارانتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، ترکیہ میں ساڑھے 6 کروڑسےزائد ووٹرزرجسٹرڈ ہیں صدارتی انتخاب میں ترک صدرطیب اردوان اوراپوزیشن رہنماکمال قلیچ داراوغلو کےدرمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

    50 فیصد سے زائد ووٹ نہ لینے پر 28 مئی کو انتخابات کا دوسرا مرحلہ ہوگا، مختلف اندازوں کے مطابق 6 اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ امیدوارکمال قلیچ داراوغلو کو اردوان کے مقابلے میں ہلکی برتری مل سکتی ہے۔

    زلزلے سے متاثرہ جنوبی صوبوں میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کی سہولت کے لیے عارضی پولنگ اسٹیشن قائم ہیں۔ زلزلہ متاثرین کی عارضی پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹ ڈالنے کے لیے آبائی شہرآرہے ہیں۔

    ترکی میں اتوار کو ہونے والے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں صدر رجب طیب اردگان کو بے مثال چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا جو ان کی دو دہائیوں پر محیط حکمرانی کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔

    6 فروری کو آنے والے زلزلے میں 50,000 سے زیادہ افراد کی ہلاکت اور جنوبی ترکی اور شمالی شام میں 5.9 ملین سے زیادہ افراد کے بے گھر ہونے کے تین ماہ سے بھی کم عرصے کے بعد ووٹرز ترکی کی جمہوریت کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔

    دوسری جانب ترکیہ میں سالوں سے جاری معاشی بحران کے باعث اردوان کی حمایت میں کمی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے جب کہ اقتصادی پالیسیاں، فروری میں آنے والے تباہ کن زلزلے سے نمٹنے کی حکمت عملی سمیت مختلف چیلنجز اردوان کیلئے انتخابات میں مشکلات کھڑی کرسکتے ہیں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اردگان کی حکومت میں جمہوری انحطاط ہے۔

    تجزیہ کاروں نے اس سال ریکارڈ ووٹر ٹرن آؤٹ کی پیش گوئی کی ہے، اور اردگان اور حزب اختلاف کے مرکزی امیدوار، ریپبلکن پیپلز پارٹی (CHP) کے رہنما اور چھ جماعتی نیشن الائنس بلاک کے صدارتی امیدوار کمال کلیک دار اوغلو کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔

    ترک اخبار ڈیلی صباح نے بدھ کو ملک کے نائب وزیر خارجہ کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ بیرون ملک مقیم 1.8 ملین سے زیادہ ووٹرز نے 17 اپریل کو پہلے ہی اپنا ووٹ ڈالا ہے۔

    توقع کی جاتی ہے کہ ترکی کی آبادی بھی ایک کردار ادا کرے گی۔ فروری کے زلزلے کی زد میں آنے والے زیادہ تر صوبے اردگان اور ان کی اے کے پارٹی کے مضبوط گڑھ تھے۔ لیکن سپریم الیکشن کونسل (YSK) کے سربراہ احمد ینر نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں کم از کم 10 لاکھ ووٹرز اس سال بے گھر ہونے کی وجہ سے ووٹ نہیں ڈالیں گے۔

  • ترکیہ میں روس کی مدد سے تیار ہونے والےنیوکلیئر پلانٹ کا افتتاح

    ترکیہ میں روس کی مدد سے تیار ہونے والےنیوکلیئر پلانٹ کا افتتاح

    انقرہ: ترکیہ نے روس کے تعاون سے تعمیر کیے گئے ملک کے پہلے جوہری پاور پلانٹ کا افتتاح کردیا۔

    باغی ٹی وی :ترک خبررساں ایجنسی انادولو کے مطابق جمعرات کو ترک صدر رجب طیب ایردوان نے پہلی بارایکیو پاور پلانٹ کو جوہری ایندھن کی ترسیل کی تقریب سے اپنے ورچوئل خطاب کے دوران کہا کہ ترکی 60 سال کی تاخیر کےبعد دنیا میں جوہری طاقت رکھنے والے ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے، اکویو پاور پلانٹ کو ہوا اور سمندر کے ذریعے جوہری ایندھن کی ترسیل کے ساتھ اس پلانٹ نے اب ایک جوہری پلانٹ کا درجہ حاصل کرلیا ہے۔

    کراس بارڈر ادائیگیوں میں چینی کرنسی نے پہلی بارامریکی ڈالر کو پیچھے چھوڑ دیا


    ایکیو جوہری پلانٹ ترکیہ کے جنوبی صوبے مرسین میں تعمیر کیا گیا ہے جس کی پیداواری صلاحیت 4,800 میگاواٹ اور چار ری ایکٹرز تک متوقع ہے، جوہری پلانٹ اس سال کے آخر میں بجلی کی پیداوار شروع کرنے کے قابل ہوجائے گا۔

    ترک صدر طیب نے کہا کہ بہت سے اہم منصوبوں کی طرح اکویو کو فنانسنگ ماڈل کے ساتھ لاگو کیا گیا جو ہمارے قومی بجٹ پر بوجھ نہیں ہے اور روس کے ساتھ ہماری سب سے بڑی مشترکہ سرمایہ کاری ہےیہ منصوبہ ترکیہ کی قدرتی گیس کی درآمدات کو سالانہ 1.5 ارب ڈالر تک کم کرنے میں کردار ادا کرے گا اور قومی آمدنی میں اضافے کا بھی باعث بنے گا۔

    عمران خان اور فیض حمید کیخلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    واضح رہے کہ اکویو جوہری پلانٹ کے لیے ترکی اور روس کے درمیان ایک بین الحکومتی معاہدے پر مئی 2010 میں دستخط کیے گئے تھے اور پلانٹ کے سنگ بنیاد کی تقریب 3 اپریل 2018 کو منعقد ہوئی تھی جس کے بعد پہلے یونٹ پر تعمیر شروع ہوئی۔

  • ترکیہ و شام کے لیے امدادی سامان کی بڑی کھیپ روانہ

    ترکیہ و شام کے لیے امدادی سامان کی بڑی کھیپ روانہ

    ترکیہ و شام کے لیے امدادی سامان کی بڑی کھیپ بذریعہ سول بحری جہاز روانہ کردی گئی۔

    باغی ٹی وی: این ڈی ایم اے پاکستانی عوام کی جانب سے زلزلہ زدہ ترک و شامی بھائیوں کی مدد کیلئے مسلسل مصروف عمل ہے-

    ترجمان این ڈی ایم اے کےمطابق وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پرترکیہ وشام کےلیےامدادی سامان کی مذید کھیپ سول بحری جہازکے ذریعے روانہ کردی گئی ہے –


    ترجمان این ڈی ایم اے کےمطابق امدادی سامان سےلدے 65 کنٹینرز سول بحری جہاز کےذریعے روانہ کئے گئے ہیں جس میں زلزلہ متاثرین کے لیے 8 ہزار 200 لگ بھگ خیمے، 15 ہزار راشن بیگز اور دیگر ضروری اشیا شامل ہیں۔

    ترجمان این ڈی ایم اے کےمطابق امدادی سامان لے کر روانہ ہونے والا سول بحری جہاز 15 دنوں میں منزل پر پہنچے گا۔

    واضح رہے کہ ترکیہ اورشام میں قیامت خیز زلزلے کے نتیجے میں اب تک 50 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں، زلزلے سے ہزاروں عمارتیں منہدم ہونے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی جبکہ اربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے ۔

  • سعودی عرب کا ترکیہ کے مرکزی بینک میں 5 ارب ڈالر جمع کرانے کا معاہدہ

    سعودی عرب کا ترکیہ کے مرکزی بینک میں 5 ارب ڈالر جمع کرانے کا معاہدہ

    سعودی عرب نے ترکیہ کے مرکزی بینک میں پانچ ارب ڈالر جمع کرانے کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔یہ رقم سعودی فنڈ برائے ترقی (ایس ایف ڈی) کے ذریعے ترکیہ کے مرکزی بینک میں منتقل کی جارہی ہے۔

    باغی ٹی وی:"روئٹرز” کے مطابق ایس ایف ڈی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس رقم کی منتقلی کے سمجھوتے پرسوموار کو فنڈ کے چیئرمین احمد عقیل الخطیب اور ترکیہ کے مرکزی بینک کے گورنر صاحب کاوچی اوغلو نے دستخط کیے ہیں۔

    مکیش امبانی کے ڈرائیورز کی تنخواہ کتنی؟ جان کردنگ رہ جائیں

    سعودی وزیر خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان نے دسمبر میں مملکت کی جانب سے ترکیہ کو یہ خطیر رقم دینے کے ارادے کا اعلان کیا تھا۔یہ رقم انقرہ اور الریاض کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی مشترکہ کوششوں کے بعد منتقل کی جارہی ہے۔

    ترکیہ کے خالص زرمبادلہ کے ذخائر گذشتہ موسم گرما میں صرف 6 ارب ڈالر سے زیادہ تھے اور یہ کم سے کم 20 سال میں اپنی کم ترین سطح پر تھے۔فروری کے اوائل میں ترکیہ کی معیشت کوجنوبی علاقے میں آنے والے شدید زلزلے کے بعد سے قریباً 8.5 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔زلزلے کے نتیجے میں 45،000 سے زیادہ افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوگئے تھے۔

    چین کا دفاعی بجٹ میں 7.2 فیصد اضافے کا اعلان

    ترکیہ کے مرکزی بینک کے خالص بین الاقوامی ذخائر 24 فروری کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران میں 1.4 ارب ڈالر کم ہوکر 20.2 ارب ڈالر رہ گئے تھے۔

    سعودی ڈپازٹ انقرہ اور ریاض کی جانب سے استنبول میں مملکت کے قونصل خانے میں 2018 میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد ٹوٹنے والے تعلقات کو ٹھیک کرنے کی مشترکہ کوششوں کے بعد کیا گیا ہے۔

    حالیہ برسوں میں مارکیٹ میں حکومت کی مداخلت اور دسمبر 2021 میں کرنسی بحران کے تناظر میں ترکیہ کے زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔گذشتہ سال ڈالر کے مقابلے میں لیرا کی قدر میں 30 فی صد اور 2021 میں 44 فی صد کمی واقع ہوئی تھی۔

    800 سال پرانی ممی کو "روحانی گرل فرینڈ” بنانے والا نوجوان گرفتار

  • ترکیہ زلزلہ: 12 روز بعد ملبے سے بچے سمیت 3 افراد کو زندہ نکال لیاگیا

    ترکیہ زلزلہ: 12 روز بعد ملبے سے بچے سمیت 3 افراد کو زندہ نکال لیاگیا

    ترکیہ کے شہر انطاکیہ میں زلزلے کے 296 گھنٹے تقریباً (12 روز) بعد ملبے سے بچے سمیت 3 افراد کو زندہ نکال لیاگیا۔

    باغی ٹی وی: ترک میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکیہ میں 6 فروری کو آنے والے دو بڑے زلزلوں میں ہلاکتوں کی تعداد 40 ہزار سے تجاوز کرگئی اور ہزاروں افراد زخمی ہیں جبکہ ہزاروں گھر تباہ ہوچکے ہیں۔

    معاشی مشکلات کے باوجود ترکیہ کے بہن بھائیوں کی بھرپور مدد کریں گے

    ترک ڈیزاسٹر منیجمنٹ ایجنسی کےمطابق ترکیہ میں زلزلےسےہلاکتوں کی مجموعی تعداد 40642 ہوگئی،زلزلے کے بعد سے متاثرہ علاقوں میں 5700 آفٹرشاکس آچکے ہیں۔

    دوسری جانب شام میں ہلاکتوں کی تعداد 5800 ہوگئی اور یوں مجموعی طور پر اموات 46 ہزار 442 ہوگئیں۔

    ترکیہ میں زلزلوں کے 12 روز بعد بھی ملبے تلے زندگی کے آثار موجود ہیں اور ترک صوبے حاطے کے شہر انطاکیہ میں جاری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران ٹیموں نے بچے سمیت 3 افراد کو ملبے سے زندہ نکال لیا ریسکیو ٹیموں نے ملبے سے نکالے جانے والے افراد کو طبی امداد کیلئے اسپتال منتقل کردیا ہے۔

    دریں اثنا ترک صدررجب طیب اردوان نے قہرمان ماراش میں ملبے سے زندہ نکالے جانے والی 17 سالہ لڑکی کی ٹیلی فون پر ہمت بندھائی۔

    دوسری جا نب تر کیہ میں لگ بھگ 200 متاثرہ مقامات پر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور ترکیہ نے زلزلے سے تباہ شدہ گھروں کی ایک سال کے اندر اندر دوبارہ تعمیر کے عزم کے اظہار کیا ہے۔

    زلزلے سے متاثرہ عمارتوں کو منہدم کرنے کا کام جاری ہے اور 7 ہزار سے زائد ماہرین نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں، 6 لاکھ 84 ہزار سے زائد گھروں اور عمارتوں کا معائنہ مکمل کرلیاگیا ہے۔

    اس حوالے سے ترک اربانائزیشن وزیر کا کہناہےکہ تعمیر نو کا کام مارچ میں شروع کیا جائے گا اور کوئی عمارت تین سے چار منزلہ سے بلند نہیں ہوگی۔

    اُدھر ترک میڈيا کو انٹرویو میں وزیراعظم شہباز شریف نےکہاکہ ہماری توجہ سردیوں کےخیمےزیادہ سےزیادہ ترکیہ بھیجنےپر ہے، پاکستان میں سردیوں کے خیمے تیار کرنے والی کمپنیوں کا ہنگامی اجلاس بلایا ہے۔

    کوئٹہ سے مبینہ خود کش بمبار خاتون گرفتار

  • ترکیہ زلزلہ:ریسکیو ٹیم نے ملنے کی نیچے سے 140 گھنٹے بعد نوزائیدہ بچہ نکال لیا،ویڈیو

    ترکیہ زلزلہ:ریسکیو ٹیم نے ملنے کی نیچے سے 140 گھنٹے بعد نوزائیدہ بچہ نکال لیا،ویڈیو

    ترکیہ میں ریسکیو ٹیم نے140 گھنٹے بعد ریاست ہاتائی میں 7 ماہ کے بچے کو ملبے کے نیچے سے نکال لیا-

    باغی ٹی وی: گریٹر کوکیلی میونسپلٹی نے ایک بیان میں کہا کہ اس کی فائر فائٹنگ ٹیموں نے نوزائیدہ حمزہ کو ہاتائی کے علاقے انطاکیا میں ایک عمارت کے ملبے کے نیچے سے بچا لیا، ٹیموں نے 7 ماہ کےحمزہ کو ملبے تلے 140 گھنٹے رہنے کے بعد نکالا اور اسے اسپتال منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس ٹیم کے حوالے کر دیا۔

    ترکیہ:زلزلے کے بعد لوٹ مار کے الزام میں 48 افراد کو گرفتار


    واضح رہے کہ پیر کی صبح کے وقت، جنوبی ترکیہ اور شمالی شام میں 7.7 شدت کا زلزلہ آیا جس کے بعد چند گھنٹوں بعد 7.6 کی شدت کے ساتھ ایک اور زلزلہ آیا اور سینکڑوں پرشدید آفٹر شاکس آئے، جس سے دونوں ممالک میں بے پناہ جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔

    ترکیہ اور شام میں قیامت خیز زلزلے سے جاں بحق افراد کی تعداد تیس ہزار سے زائد ہوچکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق زلزلے سے ایک لاکھ سے زائد افراد زخمی ہیں۔ جنگ زدہ شام کے اکثر متاثرہ علاقوں میں اب تک امداد نہ پہنچ سکی، جہاں لوگ مدد کو پکار رہے ہیں۔ زندہ بچ جانے والوں کو شدید سرد موسم کا بھی سامنا ہے۔

    زلزلہ زدہ علاقوں میں آفٹرشاکس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ شام کے متاثرہ علاقوں میں امداد پہنچ رہی ہے نہ ریسکیو ٹیمیں پہنچ پا رہی ہیں۔ شام میں عوام اب مایوس ہوچکے ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ سردی اور بھوک اب ان کی جان لے لے گی۔ لوگ اپیلیں کررہے ہیں، شامی عوام نے فریاد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچے تو دہشت گرد نہیں، خدارا انہیں بچائیں۔

    ترکیہ اور شام زلزلہ: اموات 25 ہزار 800 سے متجاوز

    اقوام متحدہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور مارٹن گریفتھس کا خیال ہے کہ ترکیہ اور شام میں زلزلے کے متاثرین کی تعداد 40,000 سے تجاوز کر جائے گی۔

    گریفتھس نے ہفتے کے روز ’اسکائی نیوز‘ کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ ’صحیح اندازہ لگانا بہت مشکل ہے کیونکہ ابھی تک ملبہ نہیں ہٹایا گیا، لیکن مجھے یقین ہے کہ مرنے والوں کی تعداد دوگنا سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے-

    اقوام متحدہ کے مطابق شام میں پینسٹھ لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ ابتر صورت حال کو دیکھ کر امریکا نے چھ ماہ کے لئے شام پر سے پابندیاں اٹھالی ہیں، جس کے بعد امید ہے کہ اب شامی متاثرین کو امداد اور مدد دونوں ملے گی-

    پاکستان سے 4.7 ٹن امدادی سامان کی ایک اور کھیپ ترکیہ روانہ:اموات کی تعداد 30 ہزارتک پہنچ گئی

  • ترکیہ اور شام زلزلہ: اموات 25 ہزار 800 سے متجاوز

    ترکیہ اور شام زلزلہ: اموات 25 ہزار 800 سے متجاوز

    ترکیہ اور شام میں زلزلے سے اموات کی تعداد 25 ہزار 800 سے تجاوز کر گئی ہے۔

    باغی ٹی وی: رپورٹس کے مطابق ترکیہ میں زلزلے سے اموات کی تعداد 22 ہزار 327 تک جا پہنچی جبکہ شام میں زلزلے سے اب تک 3 ہزار 553 افراد جان سے جا چکے ہیں۔

    ابھی تک شامی زلزلہ متاثرین کیلئے بھیجی گئی امداد کافی نہیں. اقوام متحدہ

    امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پیر کو آنے والے 7.8 شدت کے زلزلے کے بعد 7.6 شدت کا ایک اور زلزلہ آیا، جس نے مزید تباہی پھیلائی۔

    زلزلے کے جھٹکے قبرص، یونان، شام، اردن، لبنان اور فلسطین میں بھی محسوس کیے گئے جب کہ قیامت خیز تباہی کے بعد 300 سے زیادہ آفٹر شاکس آچکے ہیں۔

    ترک وزیر صحت کے مطابق زلزلے سے ترکیہ میں 22 ہزار 327 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ 80 ہزار سے زائد زخمی ہیں ۔اسی طرح شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار 553 ہوگئی ہے۔

    ملبے تلے اب بھی متعدد افراد کے پھنسے ہونےکا خدشہ ہے، انہیں نکالنےکے لیے دن رات ریسکیو آپریشن جاری ہے تاہم شدید سردی اور بعض علاقوں میں برفباری کے باعث متاثرین کو کٹھن حالات کا سامنا ہے اور امدادی کارروائیوں میں بھی مشکلات پیش آرہی ہیں۔

    ادھر ترکیہ میں 104 گھنٹے بعد زلزلے کے باعث منہدم عمارت کے ملبے سے نکالی گئی ترک خاتون دم توڑ گئی ریسکیو اہلکاروں نے بتایا کہ جنوبی ترکیہ میں ایک منہدم عمارت کے ملبے سے نکالے جانے کے ایک دن بعد ایک خاتون اسپتال میں دم توڑ گئی، وہ پیر کے روز آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد سے 104 گھنٹے تک ملبے تلے پھنسی ہوئی تھی۔

    ترکیہ، شام زلزلہ؛ اموات 25 ہزار سے بھی تجاوز کرگئیں

    جرمن ریسکیو اہلکار نے جمعہ کے روز جنوبی ترکیہ کے قصبے کیریخان میں 40 سالہ زینب کہرامن کو ملبے سے باہر نکالا، انہوں نے اس کے زندہ رہنے کو ایک “معجزہ” قرار دیا کیونکہ دہائیوں میں خطے کے سب سے خطرناک زلزلے کے بعد تلاش اور ریسکیو کی کوششوں سے مزید لاشیں نکلتی رہیں۔

    جرمن انٹرنیشنل سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کے لیڈر اسٹیون بائر نے کہا کہ مذکورہ خاتوں کے بھائی اور بہن سے اطلاع ملی کہ زینب کا اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ انہوں نے ٹیم کو مطلع کیا کہ وہ خاتون بدقسمتی سے انتقال کر گئی ہیں۔

    ٹیم کے ڈاکٹر نے کہا کہ اس طرح کے پیچیدہ ریسکیو آپریشن کے بعد پہلے 48 گھنٹوں کے دوران خطرات خاص طور پر زیادہ تھے جب کہ کچھ ریسکیور اہلکار ایک دوسرے کو تسلی دیتے اور آنسو روکتے رہےوہ خاتون واقعی 100 گھنٹے سے زیادہ کے لیے ملبے تلے دفن رہی، پھنسی نہیں بلکہ دفن رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریسکیو والوں کی کوششیں رائیگاں نہیں گئیں۔

    دوسری جانب ترک وزارت انصاف نے ناقص تعمیرات میں ملوث افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے جبکہ 12 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    خبر رساں اداروں کے مطابق زلزلے کے باعث ترکیہ میں چھ ہزار عمارتیں تباہ ہوئی ہیں جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    اسمارٹ فون ملبے تلے دبے درجنوں افراد کو زندہ بچانے میں مدد گار

    ادھر زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے دورے پر گفتگو کے دوران ترک صدر کا کہنا تھا کہ ترکیہ میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں لاکھوں عمارتیں ناقابل رہائش ہوچکی ہیں، چند ہفتوں میں تباہ شدہ شہروں کی تعمیر نو شروع کرنے کے اقدامات کریں گے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتیریس کا کہنا ہےکہ امدادی پروگرام کےسربراہ ترکیہ، شام کا دورہ کریں گے، زلزلہ زدہ علاقوں میں لوگوں کومرنےسےبچانے کے لیے ہرممکن مدد کی ضرورت ہے۔

    پاکستان کی جانب سے ترکیہ میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بھیجی گئی UN-INSARAG کی سند یافتہ پاکستان ریسکیو ٹیم نے ترکیہ کے صوبہ ادیامان میں اپنا ریسکیو اور ریلیف آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا ہے جو کہ زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 صوبوں میں سے ایک ہے۔

    شام زلزلہ:ملبے تلے پیدا ہونیوالی نومولود بچی کو اسے بچانے والے نے گود لے لیا

    52 رکنی ٹیم کے کمانڈر رضوان نصیر نے نجی‌ خبررساں ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اربن سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن اختتام کو پہنچ گیا اور ٹیم پیر کے روز پاکستان کے لیے روانہ ہوگی۔

    رضوان نصیر کے مطابق پاکستان ریسکیو ٹیم (پی آر ٹی) پہلی بین الاقوامی ٹیم تھی جو امدادی کاموں کے لیے ترکیہ پہنچی، ریسکیو آپریشن 5 روز تک جاری رہا اور ترک حکومت نے اب ملبہ ہٹانے اور بچ جانے والوں کو ملک کے مختلف حصوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ زلزلے کے بعد تقریباً 6 دن گزر چکے ہیں، ملبے کے نیچے پھنسے ہوئے لوگوں کا زندہ بچنے کا امکان کم ہے جب کہ ٹیم نے لوکیٹرز کا استعمال کرتے ہوئے کم از کم 59 عمارتوں میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کی اور جو زندہ مل گئے انہیں بچایا۔

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز

  • ترکیہ، شام زلزلہ؛  اموات 25 ہزار سے بھی تجاوز کرگئیں

    ترکیہ، شام زلزلہ؛ اموات 25 ہزار سے بھی تجاوز کرگئیں

    ترکیہ اور شام میں زلزلے سے اموات کی تعداد 25 ہزار سے تجاوز کرگئی، ایک لاکھ سے زائد افراد زخمی ہیں.

    6 روز کے دوران 1500 سے زائد آفٹر شاکس آچکے ہیں. گرنے والی ہزاروں عمارتوں کے ملبے میں دبے افراد کو نکالنے کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے 100 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی کئی افراد کو زندہ نکال لیا گیا. دبے ہوئے افراد کے زندہ بچنے کی امیدیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہوتی جارہی ہیں۔ ترکیہ اور شام میں 6 فروری کی صبح آنے والے زلزلے کے باعث تباہ ہونے والی عمارتوں میں دبے افراد کو نکالنے کا کام جاری ہے. دونوں ممالک میں اب تک 24 ہزار سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ امدادی سرگرمیوں میں پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک کی ریسکیو ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔

    حکام اور طبی عملے کے مطابق ترکیہ میں 20 ہزار 665 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ شام میں ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار 553 ہے، دونوں ممالک میں تصدیق شدہ اموات کی تعداد 24 ہزار 218 تک پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب شام میں اب تک 3 ہزار 600 سے زائد اموات کی تصدیق کی گئی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ سرد موسم نے لاکھوں متاثرین کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے جبکہ بہت سے لوگوں کو امداد کی اشد ضرورت تھی۔

    عالمی ادارے نے کہا ہے کہ زلزلے کے بعد دونوں ممالک میں کم از کم 8 لاکھ 70 ہزار افراد کو فوری طور پر خوراک کی ضرورت ہے، صرف شام میں 53 لاکھ بے گھر افراد کو فوری پناہ درکار ہے۔ تباہ کن زلزلے کے دوران اپنے گھر کے ملبے کے نیچے پھنسی ہوئی شامی خاتون نے جس بچی کو جنم دیا تھا اس کا نام ’’آیا‘‘ رکھا گیا ہے، جس کا عربی میں مطلب ’خدا کی نشانی‘ ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نوزائیدہ بچی کے والدین اور اس کے تمام بہن بھائی قیامت خیز زلزلے کی نذر ہوگئے، بچی کی کفالت اب اس کے والد کے چچا کریں گے۔

    ترکیہ کے علاقے دیارباکر میں 103 گھنٹے بعد ماں بیٹے کو ملبے سے ریسکیو کرلیا گیا، تو اک بار پھر اُمید بندھ گئی۔ کہارامانمارس میں شدید زلزلے سے ٹرین کی پٹریاں اکھڑ گئیں، سڑکوں کا بھی برا حال ہوگیا، امدادی کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شام کی وزراء کونسل نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دے دیا۔ صدر بشار الاسد نے حلب کے اسپتال میں زلزلہ متاثرین سے ملاقات کی، رضا کار تنظیم کے اہلکاروں نے 2 ننھی بہنوں کو بچالیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    زلزلہ زدہ ادلب کے نواحی گاؤں کے قریب ایک چھوٹا ڈیم ٹوٹ گیا، پانی نے گھروں اور کھیتوں میں داخل ہوکر شہریوں کیلئے مزید مشکلات کھڑی کردیں ترکیہ کے جنوبی وسطی علاقے میں آباد انطاکیہ کا شہر ہزاروں سال پرانی تۃزیب کا حامل ہے لیکن اس شہر کا بہشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے. عرب نیوز چینل الجزیرہ کے مطابق شام کے شہر حلب میں بے گھر ہونے والے لوگوں کے لیے حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ سرکاری سطح پر آنے والے ماہرین نے شہر کی کم و بیش تمام ہی عمارتوں کو مخدوش قرار دے دیا ہے۔