Baaghi TV

Tag: ترکی

  • سپین نے خوسے انتونیو اورے کو پاکستان میں سفیر مقرر کردیا

    سپین نے خوسے انتونیو اورے کو پاکستان میں سفیر مقرر کردیا

    اسلام آباد:ہسپانوی حکومت نے پاکستان میں ہسپانوی سفارتخانے کے لئے نئے سفیر خوسے انتونیو کو نامزد کیاہے۔ ذرائع کے مطابق خوسے انتونیو جولائی کے پہلے ہفتے میں پاکستان روانہ ہوں گے۔

    میڈرڈ میں پیدا ہونے والے خوسے انتونیو1990 سے سفارتکاری کے شعبے میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ نیو یارک میں اقوام متحدہ کے مشنز، یونیسکو کے ہیون رائٹس آفس مین ڈائریکٹر کے طور پر کام کرچکے ہیں۔ وہ بگوتا، کولمبیا، اور دہلی میں بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔

    سپین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے وفد نے نامزد سفیر سے مادرید میں ملاقات کی۔ نیوز ڈپلومیسی سے بات کرتے ہوئے سیاسی و سماجی رہنما اقبال چوہدری نے کہاکہ ملاقات میں پاکستانی کمیونٹی کو پاکستان میں سپین ایمبیسی میں درپیش مسائل لے حوالے سے آگاہ کیاگیاہے۔ جن میں فیملی ریگروپاسیون کے کیسزمیں تاخیر، نیشنلٹی رکھنے والے پاکستانیوں کو درپیش مسائل اور کاغذات کی تصدیق جیسے معاملات کی نشاندہی کی گئی ہے.
    سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ترکی کے نامزد سفیر مہمت پاکیچی رواں ہفتے اسلام آباد پہنچیں گے۔تفصیلات کے مطابق مہمت پاکیچی موجود ترک سفیر احسان مصطفی یرداکل کی جگہ لیں گے، رواں ہفتے احسان مصطفی یرداکل کی وطن واپسی متوقع ہے، مہمت پاکیچی کا شمار ترک صدر رچپ طیپ اردوان کے قابلِ اعتماد حلقوں میں ہوتا ہے۔


    سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مہمت پاکیچی نے انقرہ یونیورسٹی کے شعبہ تھیالوجی ( دینیات) میں پی ایچ ڈی کر رکھا ہے، نامزد ترک سفیر انقرہ یونیورسٹی میں 1983 سے 2007 تک تدریس اور اکادیمیہ سے بھی منسلک رہے ہیں، مہمت پاکیچی 2014 سے 2019 تک ہولی سی میں بطور ترک سفیر ذمہ داریاں سر انجام دے چکے ہیں۔

    وہ انقرہ میں ایوان صدارت کے شعبہ مزہبی امور میں بطور ڈی جی خارجہ امور بھی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں، مہمت پاکیچی ترکی کے ایوان صدارت کے شعبہ مذہبی امور کی جانب سے بطور خصوصی ایلچی واشنگٹن ڈی سی میں ترک سفارت خانے میں بھی کام کر چکے ہیں۔

    مہمت پاکیچی کو دور جدید میں قرآن پاک سے متعلق سوالات کی تشریح اور تفسیر میں خصوصی مہارت حاصل ہے، پاکستان پہنچنے کے بعد نامزد ترک سفیر اپنی سفارتی اسناد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو پیش کریں گے۔

  • معروف ترک عالم دین کا انتقال، عمران خان اورمولانا فضل الرحمان کا دکھ کا اظہار

    معروف ترک عالم دین کا انتقال، عمران خان اورمولانا فضل الرحمان کا دکھ کا اظہار

    لاہور: سابق وزیراعظم عمران خان اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے ترکیہ کے عالم دین شیخ محمود آفندی کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین نے لکھا کہ ترکیہ کے معروف عالم دین شیخ محمود آفندی کے انتقال کے بارے میں جان کرنہایت افسردہ ہوں۔

     

    عمران خان نے لکھا کہ انہوں نے نہایت کٹھن حالات میں دین و سنت کا احیاء کیا اور ترکی سمیت دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کو متاثر کیا۔ ان کا وصال امت کیلئے ایک عظیم نقصان ہے۔

     

     

    اُدھر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے لکھا کہ شیخ محمود آفندی کی وفات حسرت آیات ترکی کے لئے بالخصوص اور عالم اسلام کے لئے بالعموم نا قابل تلافی نقصان ہے، ترکی میں سلسلہ نقشبندیہ کے روح رواں تھے ۔ وہ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد ترکی میں علوم اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کی علامت تھے ۔

     

    اس سے پہلے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی نے علامہ محمود آفندی رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال پراظہار تعزیت کرتےہوئے کہا ہے کہ موصوف عالم اسلام کی ایک بڑی شخصیت تھے

    تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ نے اپنے پیغام میں کہا ہےکہ پاکستانی قوم کی جانب سے اپنے ترک بھائیوں سے بالخصوص شیخ محمود آفندی سے وابستہ بھائیوں سے اظہار تعزیت کرتا ہوں، ان کا کہنا تھا کہ حضرت شیخ محمود آفندی رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال ملت اسلامیہ کا عظیم نقصان ہے

    دوجسم یک جان ترکی اورپاکستان،تحریک خلافت سے لے کرقیام پاکستان تک،ترکی اورپاکستان

    علامہ سعد رضوی نے کہا ہےکہ شیخ محمود آفندی علیہ الرحمہ کے انتقال کی خبر سن کر پاکستان کے اہل علم طبقات میں سوگ کا سماں ہے، فضیلۃ الشیخ حضرت محمود آفندی عظیم عاشق رسول تھے، باعمل عالم دین تھے، بہترین پیر طریقت تھے،

    ان کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان سے وابستہ ہر عالم دین، استاد، مدرس، شیخ طریقت، اراکین اسمبلی، ذمہ داران کارکنان شیخ محمود آفندی کے لیے خوب خوب ایصال ثواب کا اہتمام کریں،

    عالم اسلام کے عظیم مصلح، صوفی مزاج اسلامی داعی اور متحرک رہنما شیخ محمود آفندی قضائے الٰہی سے وفات پاگئے ہیں اور ان کی وفات پرتعزیت کا سلسلہ جاری ہے ،

    محمود افندی (محمود استی عثمان اوغلو) 1929 میں ترکی کے صوبے ترابزون کے اوف نامی گاؤں کے ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے، جو کہ موجودہ ترک صدر اردگان کی جائے پیدائش "ریزے” سے متصل شہر ہے۔دینی ماحول میں پرورش ہوئی.. کم عمری میں قرآن مجید حفظ کر لیا.. شیخ تسبیحی زادہ سے نحو صرف اور دیگر علوم عربیہ کو حاصل کیا. پھر شیخ محمد راشد عاشق کوتلو آفندی کی خدمت میں رہ کر ان سے قراءت اور علوم قرآن کی تعلیم حاصل کی، بعدازاں شیخ محمود آفندی نے شیخ دورسون فوزی آفندی (مدرس مدرسہ سلیمانیہ )، سے دینیات، تفسیر، حدیث، ، فقہ اور اس کے ماخذ، علم کلام اور بلاغت اور دیگر قانونی علوم کی تعلیم حاصل کی۔ مذکورہ اساتذہ سے انھوں نے علوم عقلیہ ونقلیہ میں اجازت حاصل کی اس وقت وہ 16 سال کی عمر میں تھے۔

    شخ محمود آفندی نے روحانی سلسلہ نقشبندیہ کمشنماونیہ کی اجازت اپنے شیخ احمد آفندی مابسیونی سے حاصل کی ، یہاں تک اللہ تعالیٰ کی توفیق آپ کی زندگی میں ایک نیا موڑ آیا. فوجی خدمات انجام دینے کا وقت آپ کے لیے میسر ہوا، یہاں ایک نئے شیخ کے ساتھ اپنی عملی زندگی کو پروان چڑھا نے کا موقع ملا. ملٹری سروس کا مرحلہ ان کی زندگی کا ایک روشن صفحہ اور عملی زندگی کا ایک نیا باب تھا جس میں ان کی ملاقات ان کے شیخ اور مرشد علی حیدر اخسخوی سے ہوئی۔ان سے آپ نے بہت کچھ سیکھا اور ان علوم ومعارف اور روحانی کمالات حاصل کیے۔

    شیخ محمود آفندی نے لوگوں کی نماز کی امامت کی اور اپنے گاؤں کی مسجد میں طلباء کو پڑھایا۔انھوں نے سال میں 3ہفتے ترکی کے اطراف کا دعوتی و تبلیغی سفر کے لیے وقف کررکھا تھا ۔انھوں نے جرمنی اور امریکہ سمیت کئی ممالک کے دعوتی اور تعلیمی دورے کیے، پھر 1954 میں استنبول میں اسماعیل آغا مسجد کے امام مقرر ہوئے۔ 1996 میں ریٹائر ہونے تک وہیں رہے، اور وہ استنبول میں درس و تبلیغ کرتے رہے اور بہت سے طلباء اور مسترشدین کو اپنی طرف متوجہ کرتے رہے، بلکہ سچ یہ ہے کہ کہ لوگوں کی بڑی تعداد خود آپ کی طرف کشاں کشاں چلی آتی تھی۔

    نتیجتاً ایک عظیم فکری وعملی منہج قائم کرنے میں وہ کامیاب رہے، جس کی بنیاد دعوت الی اللہ ، احیاء سنت اور ریاستی حکام سمیت معاشرے کے تمام طبقات کی حق کی طرف رہنمائی تھی ، انھوں نے ایسا اسلوب پیش کیا جس میں حق اور باطل میں واضح فرق قائم ہوجائے۔

    استنبول میں 12 ستمبر 1980 کو پیش آنے والی دوسری بغاوت سے پہلے، اور اسّی کی دہائی کے اوائل میں ملک میں پیدا شدہ انتشار کے دوران دائیں اور بائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان شیخ آفندی مضبوطی کے ساتھ یہ آواز بلند کر رہے تھے کہ ہماراقومی وملی فریضہ یہ ہے کہ ہم نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور ہمارا فرض لوگوں کو زندگی بخشنا ہے، انہیں مارنا نہیں۔

    شیخ آفندی کی فوج اور سیکولرازم کے ساتھ جد وجہد کی روشن تاریخ ہے۔ ترک عوام پر ان کے بہت زیادہ اثر و رسوخ کی وجہ سے، انہیں فوجی جرنیلوں اور ریپبلکنز (ریپبلکن پیپلز پارٹی) نے ہراساں کیا، خاص طور پر 1960 کی بغاوت اور ملک میں ہنگامی حالت میں داخل ہونے کے بعد،… فوجی انتظامیہ نے انہیں جلاوطنی کی سزا میں انھیں ترکی کے وسط میں واقع اسکی شہر بھیجنے کا فیصلہ کیا ، لیکن اس فیصلے پر عمل درآمد کی نوبت نہیں آئی نہیں. کئی آپ کے جاں نثار اس راہ میں ڈٹ گئے. اس وقت استنبول کے مفتی صلاح الدین قیا ان دفاع کرنے والوں میں سب سے آگے تھے ۔

    1982 میں، محمود آفندی پراسکودر خطہ کے مفتی شیخ حسن علی اونال کے قتل میں ملوث ہونے کا بے بنیاد الزام لگایا گیا. ڈھائی سال کے بعد عدالت نے انہیں اس الزام سے بری کر دیا۔ 1985 میں انہیں ریاستی سلامتی کی عدالت میں ماخوذ کیا گیا کیونکہ ان پر الزام تھا کہ ان کی تقریر وبیان ملکی سلامتی اور سیکولر شناخت کے لیے خطرہ ہے لیکن عدالت نے اس معاملے میں بھی ان کی بے گناہی کا فیصلہ سنایا۔

    2007 میں استنبول کے Çavuşpaşa محلے میں شیخ محمود آفندی کی نئی رہائش گاہ کے قریب ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی جہاں قریب کے اسپتال میں وہ زیر علاج تھے ،اس طور پر انھیں قتل کرنے کی کوشش کی گئی ، لیکن جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ” کے مصداق انھیں کوئی چوٹ نہیں آئی۔

    ان کے اثر و رسوخ کا دائرہ کافی وسیع اور اس کے پیروکاروں کی تعدادکثیر ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عربی حروف میں پڑھنے لکھنے والے خال خال ہی نظر آتے تھے اور 40 سے 50 سال کا عرصہ ایسا بھی گذرا کہ قرآن پڑھنے والے کم ہی نظر آتے تھے.عربی میں اذان تک پر پابندی تھی .. لیکن شیخ کی کوششوں سے مختصر عرصہ میں ہزاروں کی تعداد میں حفاظ قرآن کریم تیار ہوئے ۔ اور دسیوں ہزار طلباء و طالبات کو اسلامی نہج پر تربیت دی گئی اور شیخ پوری دنیا میں لاکھوں لوگوں میں اسلامی بیداری پیدا کرنے کا ذریعہ بنے ۔(بعض معلومات الجزیرہ نیٹ ورک کے صحافی احمد درویش کی تحریر سے مستفاد ہیں.)

    جدید ترکی، اور معاشرہ کی اصلاح میں آفندی رحمۃ اللہ علیہ کا بڑا اہم رول رہا ہے، ایسے وقت میں جبکہ ترکی دہریت کی دہلیز پار کرچکا تھا، اسلامی شعائر کو پامال کیا جارہا تھا؛ تب :مردے از غیب بیرون آید؛ کے مطابق اس مردِ مصلح نے توحید واصلاح بلکہ اعلاء کلمۃ اللہ کا آوازہ بلند کیا. اسی وجہ سے انھیں بعض اہل علم ترکی کا مجدد بھی کہتے ہیں۔

    ترکی زبان میں آپ کی زبردست تفسير روح الفرقان عظیم علمی کارنامہ ہے۔ 2010 میں، 42 ممالک کے 350 اسکالرز ممتاز ماہر تعلیم کی موجودگی میں شیخ محمود آفندی نقشبندی کو انسانیت کی خدمت کے لیے بین الاقوامی سمپوزیم ایوارڈ سے نوازنے کا فیصلہ کیا گیا یہ ایوارڈ پیش کرنے کی تقریب میں شرکت کے لیے ہزاروں اسکالرز استنبول پہنچے۔ اکتوبر کو استنبول میں ان کے لیے ایک اعزازی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ 24، 2010، اور انہیں امام محمد بن قاسم النانوتوی ایوارڈ پیش کیاگیا. جو اسلامی دعوت کے میدان میں اپنا اثر چھوڑنے والی شخصیات کو دیا جانے والا ایوارڈ ہے۔یہ ایوارڈ بانی دارالعلوم دیوبند حجۃ الاسلام مولانا امام قاسم نانوتوی سے منسوب ہے ۔

    اس طور پر اس عظیم شخصیت کا عملی دارالعلوم دیوبند سے رشتہ بھی قائم ہوجاتا ہے.. روحانی وعلمی رشتہ تو پہلے سے قائم تھا۔نومبر 2018ترکی، استنبول کے سفر میں راقم السطور بندہ خالد نیموی کی خواہش تھی کہ حضرت والا سے ملاقات و زیارت کا شرف حاصل کر لیں، لیکن ان ایام میں شیخ علاج و معالجہ کی سخت نگہداشت کے مراحل سے گذر رہے تھے، جس کی وجہ سے ہم ان کی ملاقات کے شرف سے محروم رہے ۔یہاں تک کہ ان کی وفات کی خبر صاعقہ بن کر گری۔

  • ترکی اورسعودی عرب نے پُرانی تلخیوں کوبھلاتے ہوئےنئے دورکا آغازکردیا

    ترکی اورسعودی عرب نے پُرانی تلخیوں کوبھلاتے ہوئےنئے دورکا آغازکردیا

    استنبول:ترکی اورسعودی عرب نے پُرانی تلخیوں کوبھلاتے ہوئےنئے دورکا آغازکردیا،اطلاعات کےمطابق ترکی دورے پرگئے ہوئے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان دونوں ملکوں نے صحافی جمال خاشقجی کی قتل سے پیدا ہونے والی پرانی تلخیوں کو بھلا کر "باہمی تعاون کا ایک نیا دور” شروع کرنے کا عہد کیا۔اور یہ بھی عہد کیاکہ دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ ملکر باہمی معاملات کوحل کریں گے

    مشن کشمیر،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرکی ترکی،سعودی عرب اورروسی ہم منصبوں سے الگ الگ

    اس حوالے سے عالمی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ استنبول میں سعودی سفارت خانے میں سن 2018 میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد ولی عہد محمد بن سلمان کا ترکی کا یہ پہلا دورہ تھا جس میں محمد بن سلمان نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے ساتھ تقریباً دو گھنٹے تک بات چیت کی۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ہونے والے اہم گفتگو کے بعد ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے،”باہمی تعلقات بشمول سیاسی، اقتصادی، فوجی، سکیورٹی اور ثقافتی تعلقات میں تعاون کا ایک نیا دور شروع کرنے کے مستحکم عزم کا عہد کیا گیا۔”

    مشترکہ اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ دونوں ملکوں نے تجارت کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے نیز مختلف شعبوں میں شراکت داری کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں ملکوں نے کہا کہ اگلے دس برسوں کو تعاون کے ایک نئے دور کے طور پر لیا جائے گا۔اس مشترکہ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماوں نے علاقائی اورعالمی مسائل کے حوالے سے اہم مسائل پر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے دو طرفہ تبادلہ خیال کو فعال بنانے سے بھی اتفاق کیا تاکہ "خطے میں سلامتی اور استحکام کی حمایت کی جاسکے اور تمام مسائل کے سیاسی حل میں مدد مل سکے۔”

    یاد رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنے سہ ملکی دورے کے آخری مرحلے پر بدھ کے روز ترکی پہنچے تھے۔ اس سے قبل وہ مصر اور اردن بھی گئے تھے۔ انقرہ پہنچنے پر ان کا شاندار روایتی استقبال کیا گیا۔ وہ اپنا دورہ مکمل کرکے وطن واپس لوٹ آئے ہیں۔ محمد بن سلمان نے ان تینوں ملکوں کا دورہ ایسے وقت کیا جب امریکی صدر جو بائیڈن اگلے ماہ سعودی عرب آنے والے ہیں۔

    سعودی عرب اور ترکی ایک ہونے جارہے ، اہل اسلام کے لیے خوشی کی خبر

    ترکی اور سعودی عرب کے تعلقات میں کشیدگی تقریباً دس برس قبل اس وقت شروع ہوئی تھی جب مصر میں عبدالفتح السیسی سن 2013 میں اخوان المسلمون کے رہنما محمد مرسی کی حکومت کو برطرف کرکے خود صدر بن گئے تھے۔ ترکی نے عبد الفتح السیسی کواس وقت صدر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

    گستاخانہ خاکے، فرانس کے خلاف ردعمل میں سعودی عرب کی پاکستان اور ترکی کے موقف کی

    رجب طیب ایردوآن نے سعودی عرب سےاپنےتعلقات کو ایک بار پھر بحال کرنےکا فیصلہ کیا ہے کیوں کہ اس وقت ترکی کو شدید اقتصادی مسائل کا سامناہےجبکہ اس کی تجارت میں سعودی عرب کا ایک بڑاحصہ ہے۔ایردوآن نے رواں برس اپریل کے اواخر میں سعودی عرب کا دورہ بھی کیا تھا۔ اس دوران ولی عہد محمد بن سلمان کےساتھ ان کےمعانقے کی تصویر وائرل ہوگئی تھی۔

    یوریشیا گروپ کی مشرق وسطیٰ ریسرچ ٹیم کےسربراہ ایہم کامل کا کہنا ہےکہ بائیڈن کےسعودی عرب کےدورے سے قبل ولی عہد کا تین ملکوں کایہ دورہ ریاض کے”علاقائی کردار کومستحکم کرنے اورمفاہمت کی کوششوں کو توسیع کرنے”کا حصہ ہے۔

     

    انہوں نے کہا کہ اس سے مصر اور ترکی کے درمیان ثالثی کرنے میں بھی مدد ملے گی جو سابق صدر مرسی کی معزولی کے بعد سے تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی کو دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

  • سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا تاریخی دورہ ترکی، طیب اردوان سے ملاقات

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا تاریخی دورہ ترکی، طیب اردوان سے ملاقات

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ترک صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ بات چیت کے لیے کئی برسوں میں پہلی مرتبہ ترکی کا دورہ کیا جس کا مقصد سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد دونوں ممالک کے درمیان خراب تعلقات کو مکمل طور پر معمول پر لانا ہے۔

     

    غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق اپریل میں رجب طیب اردوان نے علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے لیے ایک ماہ کی طویل مہم کے بعد سعودی عرب کا دورہ کیا تھا، ان کے دورہ سعودی عرب کے مقاصد میں استنبول میں جمال خاشقجی کے 2018 کے قتل کے مقدمے کو ختم کرنا بھی شامل تھا۔

     

    ترک صدر نے اپنے دورے کے دوران ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ون آن ون ملاقات کی تھی جس کے دوران انہوں نے بات چیت میں سعودی عرب کی جانب سے سرمایہ کاری کے امکانات کو وسعت دینے کی کوشش کی تاکہ ترکی کی مشکلات سے دوچار معیشت کو بحال کرنے میں مدد حاصل کی جائے۔

    رجب طیب اردوان نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ اور ریاض کے بااختیار رہنما شہزادہ محمد بن سلمان انقرہ میں ہونے والی بات چیت کے دوران اس بات پر تبادلہ خیال کریں گے کہ وہ دونوں ممالک کے تعلقات کو کس اعلیٰ سطح تک لے جا سکتے ہیں۔

    سینئر ترک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز سے گفتگو کرتےہوئے بتایا کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان بحران سے قبل جیسے تعلقات کی مکمل طور پر بحالی کی امید ہے جس سے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔

     

    سینئر ترک عہدیدار نے کہا کہ ترکی کے گرتے ہوئے زر مبادلہ کے ذخائر کو بحال کرنے میں مدد کرنے کی صلاحیت کی حامل ممکنہ کرنسی سویپ لائن پر بات چیت اور مذاکرات اتنی تیزی سے آگے نہیں بڑھ رہے جس رفتار سے ان میں پیش رفت ہونی چاہیے تھی اور اس معاملے پر رجب طیب اردوان اردگان اور شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ہونے والی ون آن ون ملاقات میں بات چیت کی جائے گی۔

    سینئر ترک عہدیدار نے دورے کی تفصیلات سے متعلق مزید بتایا کہ شہزادہ محمد بن سلمان کے دورے کے دوران توانائی، معیشت اور سیکیورٹی سے متعلق معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے جب کہ سعودی سرمایہ کاروں کی جانب سے ترکی میں سرمایہ کاری سے متعلق منصوبہ بھی زیر غور ہے۔

     

    سعودی ولی عہد کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب کہ ترکی کی معیشت لیرا کی قدر میں کمی اور مہنگائی کی شرح 70 فیصد سے زیادہ بڑھ جانے کی وجہ سے بری طرح دباؤ کا شکار ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی مالی حمایت اور غیر ملکی کرنسی رجب طیب اردوان کو جون 2023 تک انتخابات سے قبل حمایت حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہے

  • سعودی ولی عہد محمد بن سلمان آج ترکی کا دورہ کریں گے

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان آج ترکی کا دورہ کریں گے

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان آج ترکی کا دورہ کریں گے-

    باغی ٹی وی : سعودی ولی عہد دورے میں ترک صدر رجب طیب اردگان اور دیگر اعلی عہدیداروں سے ملاقات کریں گے دورے کے دوران توانائی، معیشت اور سیکیورٹی سے سمیت کئی معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے۔

    امریکا میں مستقبل قریب میں شدید معاشی بحران کا امکان پیدا ہو سکتا ہے،ایلون مسک

    ترک صدر رجب طیب اردگان اس سے قبل اپریل کے آخر میں سعودی عرب کا دورہ کر چکے ہیں، 2018 میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔

    انقرہ اور ریاض 2018 میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کو بھلا کر تعلقات آگے بڑھا رہے ہیں استنبول میں سعودی قونصل خانے کے اندر سعودی صحافی جمال خاشقجی کے وحشیانہ قتل کے بعد سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا ترکی کا یہ پہلا دورہ ہوگا۔

    اکتوبر 2018 میں سلطنت کے استنبول کے قونصل خانے میں صحافی جمال خاشقجی کو قتل کر کے ان کے جسم کے ٹکڑے کر دیئے تھے جمال خاشقجی سعودی عرب کے اندرونی معاملات سے باخبر صحافی تھے جو بعد میں سلطنت کی پالیسیوں کے نقاد بن گئے تھے، مقتول صحافی کے جسم کی باقیات اب تک نہیں ملیں۔

    رجب طیب اردوان نے پہلے کہا تھا کہ سعودی حکومت کی ‘اعلیٰ ترین قیادت’ نے صحافی کے قتل کا حکم دیا تھا ترکی نے اس قتل کیس کی بھرپور طریقے سے پیروی کرتے ہوئے تحقیقات کاآغاز کیا اور عالمی میڈیا کو قتل کی چشم کشا لرزہ خیز تفصیلات سے آگاہ کر کے سعودی حکمرانوں کو ناراض کیا سعودی عرب نے اس وقت ترکی کی معیشت پر دباؤ ڈالتے ہوئے ترکی کی درآمدات کا غیر سرکاری بائیکاٹ کیا تھا۔

    اب جب کہ ترکی کے صدارتی انتخاب میں ایک سال کا وقت رہ گیا ہے، اس لیے مہنگائی اور زندگی گزارنے کے لیے درکار بنیادی اشیا کی قیمتوں کے بحران کے دوران رجب طیب اردوان، خلیجی ممالک کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    چینی وزارت خا رجہ نے امریکہ کی چین سے متعلق پالیسی میں منافقت کو بے نقاب کر دیا

  • سعودی ولی عہد محمد بن سلمان 22 جون کو ترکی کا دورہ کریں گے

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان 22 جون کو ترکی کا دورہ کریں گے

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان 22 جون کو ترکی کا دورہ کریں گے، ایک سینئر ترک اہلکارکا کہنا ہے کہ جمال خاشجی کے قتل کے بعد دوملکوں کے درمیان پہلی بارحالات کے بہترہونے کی اُمید پیدا ہوئی ہے، محمد بن سلمان کے اس دورے کو بہت اہمیت دی جارہی ہے

    ادھر اس حوالےسے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ استنبول میں سعودی قونصل خانے کے اندرجمال خاشقجی کے وحشیانہ قتل کے بعد شہزادہ محمدبن سلمان کا ترکی کا یہ پہلا دورہ ہے،جمال خاشجی کے قتل نے دونوں ملکوں کےدرمیان حالات کو بہت زیادہ کشیدہ کردیا تھا

    عہدیدار نے کہا کہ دورے کی تفصیلات کا اعلان "ہفتے کے آخر میں” کیا جائے گا۔

    عہدیدار نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت اس اہم دورے کے دوران کئی معاہدوں پر دستخط کریں گے، جن کے دارالحکومت انقرہ میں ہونے کی امید ہے، لیکن مقام کی تصدیق ہونا باقی ہے۔

    ترک صدر رجب طیب اردگان پہلے ہی اپریل کے آخر میں سعودی عرب کا دورہ کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے مکہ جانے سے قبل محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی۔

    سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اس وقت اس دورہ کو خوش آئند قراردیتے ہوئے کہا تھا کہ برف پگھلنا شروع ہوگئی ہے ، اس موقع پر دونوں ملکوں کی قیادت نے "سعودی ترک تعلقات اور انہیں تمام شعبوں میں ترقی دینے کے طریقوں کا جائزہ لیا۔”

    گستاخانہ خاکے، فرانس کے خلاف ردعمل میں سعودی عرب کی پاکستان اور ترکی کے موقف کی…

    یاد رہے کہ غیرملکی میڈیا نے اس وقت یہ الزام عائد کیا تھا کہ سعودی ایجنٹوں نے اکتوبر 2018 میں مملکت کے استنبول قونصل خانے میں خاشقجی کو قتل کر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، اس کی باقیات کبھی نہیں ملیں۔

    اردگان نے پہلے کہا تھا کہ سعودی حکومت کی "اعلیٰ ترین قیادت ” نے قتل کا حکم دیا تھا اور ترکی نے اس کیس کی بھرپور طریقے سے پیروی کرتے ہوئے، تحقیقات کا آغاز کیا اور بین الاقوامی میڈیا کو قتل کی گھناؤنی تفصیلات سے آگاہ کر کے سعودیوں کو ناراض کیا۔

    سعودی عرب اورترکی میں شدید اختلافات،سعودی عرب کے ترکی پرالزامات اورترکی کےسعودی…

    ترکی کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پہلے ہی کشیدہ تھے کیونکہ اس نے خلیجی ریاست پر ریاض کی زیرقیادت ناکہ بندی کے دوران قطر کی حمایت کی تھی لیکن خاشقجی کے قتل کے بعد تین سال تک تعلقات منجمد رہے۔

    سعودی عرب نے اس وقت ترکی کی معیشت پر دباؤ ڈالتے ہوئے ترکی کی درآمدات کا غیر سرکاری بائیکاٹ کیا تھا۔اب صدارتی انتخابات سے ایک سال قبل مہنگائی اور مہنگائی کے بحران کے ساتھ اردگان خلیجی ممالک سے حمایت حاصل کر رہے ہیں۔

    سعودی عرب اور ترکی ایک ہونے جارہے ، اہل اسلام کے لیے خوشی کی خبر

  • ترکی کا ہیلی کاپٹر اٹلی میں لاپتہ

    ترکی کا ہیلی کاپٹر اٹلی میں لاپتہ

    استنبول:ترکی کا جہازاٹلی میں لاپتہ ،اطلاعات کے مطابق ترک سرکاری ذرائع اور مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایک ہیلی کاپٹر جس میں سات افراد سوار تھے، جن میں چار ترک اور دو لبنانی شہری شامل تھے، وسطی اٹلی میں لاپتہ ہو گیا ہے۔

    ایک اطالوی میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک انجن والا سرخ آگسٹا کوآلا ہیلی کاپٹر جس میں چار ترک، دو لبنانی اور ایک اطالوی پائلٹ تھے، جمعرات کی صبح لوکا کے کپانوری لوکا تاسائنانو ہوائی اڈے سے ٹریویزو کے لیے روانہ ہوا لیکن جلد ہی ریڈار سے غائب ہو گیا۔

    اٹلی کے سفارتی ذرائع نے انادولو ایجنسی کو بتایا کہ ہیلی کاپٹر پر ایک ترک نجی کمپنی کے لیے کام کرنے والے چار ترک شہری سوار تھے۔ابتدائی معلومات کے مطابق ہیلی کاپٹر Tuscany اور Emilia-Romagna کے درمیان سرحد پر لاپتہ ہوا۔

    تاہم ذرائع کے مطابق آخری اطلاعات کے آنے تک لاپتہ ہیلی کاپٹر کے مقام کے بارے میں کوئی حتمی معلومات نہیں ہیں۔ترک وزارت خارجہ نے کہا کہ روم میں ترک سفارت خانہ اطالوی حکام اور ترک کمپنی کے حکام دونوں کے ساتھ باقاعدہ رابطہ رکھا ہے۔

    روزنامہ کے مطابق، اطالوی حکام نے لوکا اور موڈینا کے صوبوں کے درمیان سرحد پر واقع اپنائن کے علاقے میں خاص طور پر ایلپے میں پیوپیلاگو اور سان پیلیگرینو کے درمیانی علاقے میں گشت شروع کیا۔

    ذرائع نے انادولو ایجنسی کو بتایا کہ جمعرات کی رات اندھیرے کی وجہ سے آپریشن کو معطل کر دیا گیا تھا اور جمعہ کی صبح دوبارہ شروع کیا گیا تھا۔

  • ہر معاملہ عمران خان، بشریٰ بی بی اور فرح گوگی سے جا کر ملتا ہے،مریم اورنگزیب

    ہر معاملہ عمران خان، بشریٰ بی بی اور فرح گوگی سے جا کر ملتا ہے،مریم اورنگزیب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ہر معاملہ عمران خان، بشریٰ بی بی اور فرح گوگی سے جا کر ملتا ہے،

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ 3 ارب 29 کروڑ روپے کے اشتہارات ہم نے نہیں، آپ نے دیے، عمران خان نے سیاسی انتقام کیلئے غیرملکی سرمایہ کاروں سے بدلہ لیا ،ترکی پاکستان اخبارات اشتہار کو ہائیکورٹ لے گئے ملک سے سرمایہ کاروں کو ناراض کیا ،اشتہار کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں لے جا کر کیا میسج دیا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف پاک ترک دوستی کے خلاف ہے؟ حسد انا کی خاطر ترک کمپنیوں کو جیلوں میں ڈالا ،عمران خان ملکی مسائل کا حل آپ انڈے اورکٹے میں تلاش کرتے رہے حکومت پاکستان کا یہ استحقاق ہے کہ ملکی مفاد، عوام کی دلچسپی کے لیے جو اشتہار حکومت بہتر سمجھتی ہے وہ دے سکتی ہے،عمران خان نے سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے لوگوں کی پگڑیا ں اچھالیں الیکشن چاہتے ہیں توسپیکرکے پاس استعفوں کی تصدیق کیلئے کیوں نہیں گئے عمران خان عوام کولوٹ کرگئے اوراشتہارات دیتے رہے کہ ہم مصروف ہیں۔

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ یہ صرف توشہ خانہ کی گھڑی اور بشریٰ بی بی کی انگوٹھی کا معاملہ نہیں ہے جو آپ نے کل دیکھا ایک آیڈیو لیک آئی جس میں فرخ گوگی ڈیل کر رہی ہیں کہ بشریٰ بی بی کو 3کریٹ نہیں پانچ کریٹ کی انگوٹھی پسند ہے،انگوٹھی کیلئے ملکی مفادات کو بیچا گیا، چار سال ملک کے ساتھ جو ہوتا رہا اس میں سنگین بات یہ ہے کہ کس طرح اپنے ذاتی مفادات کے لیے ذاتی فائدے کے لیے اپنی انکم میں اضافے کے لیے کس طرح اختیارات کا استعمال کیا گیا مافیا کی جیبیں بھریں گئیں اور عوام کی جیبیں خالی کی گئیں،

    قتل کو خود کشی کا رنگ دینے کی تمام سازشیں دم توڑ گئیں،تحقیقات کا حکم

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    کیوں ان صحافیوں کے پیچھے پڑ گئے جو حکومت یا کسی اور کے خلاف رائے دے رہے ہیں،عدالت

    مینار پاکستان واقعہ کے ملزم پکڑے جاسکتے تو صحافیوں کے کیوں نہیں؟ سپریم کورٹ

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا

  • دورہ ترکی،اخبارات میں تشہیر کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    دورہ ترکی،اخبارات میں تشہیر کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    دورہ ترکی،اخبارات میں تشہیر کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر
    وزیراعظم کے دورہ ترکی کی اخبارات میں تشہیر کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی

    پی ٹی آئی رہنما علی نواز اعوان نے بابر اعوان ایڈووکیٹ کے ذریعے درخواست جمع کرائی ،درخواست میں وزیراعظم، سیکریٹری فنانس، سیکریٹری اطلاعات اور پرنسپل انفارمیشن افسر کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست میں کہا گیا ہے کہ حکومتی ارکان اقتدار میں آنے کے بعد سے خزانہ خالی ہونے کے بیانات دے رہے ہیں، وزیراعظم کے ترکی دورہ کی پروجیکشن پر کروڑوں روپے کے اشتہارات جاری کیے گئے،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عوامی پیسے کے غلط استعمال اور جرم دہرانے پر کارروائی کی جائے، دورہ ترکی سے متعلق اشتہارات پر خرچ کی گئی روقوم قومی خزانے میں جمع کرانے کا حکم دیا جائے،

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے چند روز قبل دورہ ترکی کیا تھا، شہباز شریف کے دورہ ترکی کے دوران پاکستان کے قومی اخبارات میں اشتہارات دیئے گئے تھے جس پر تحریک انصاف نے تنقید کی تھی حالانکہ تحریک انصاف کی جب حکومت تھی وہ بھی میڈیا کو اسی قسم کے اشتہارات جاری کرتے رہے ہیں،عمران خان کی وفاقی حکومت اور پنجاب کی صوبائی حکومت نے بھی اشتہارات میڈیا کو جاری کئے تھے،

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ترکی بے پناہ افہام و تفہیم کے ساتھ علاقائی تعاون کے روڈ میپ پر گامزن ہیں اور دونوں ملکوں کی قیادت کے درمیان یکجہتی پائی جاتی ہے۔ وزیراعظم نے ترکی کے دورے کو غیرمعمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام تاریخی رشتے کے بندھن سے بندھے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے تقسیم برصغیر سے قبل کے زمانے کا ذکر کیا جب برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے ترک تحریک کی حمایت کی تھی

    پٹرول ذخیرہ کرنے والوں کوکس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ قادر پٹیل

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

  • سی پیک میں ترکی کی شرکت اقتصادی خوشحالی میں اضافہ کرے گی،شہباز شریف

    سی پیک میں ترکی کی شرکت اقتصادی خوشحالی میں اضافہ کرے گی،شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے آئندہ انتخابات سے قبل مہنگائی اور غربت میں کمی کے لیے قلیل مدتی اقدامات کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں آئندہ عام انتخابات 15 ماہ میں ہوں گے اور اس دوران ان کا ہدف مہنگائی اور غربت کے چیلنجز سے نمٹنا ہے، حکومت کو عالمی سطح پر ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنے پر مجبور کیا ہے۔ انقرہ کے اپنے تین روزہ سرکاری دورے کے دوران ترکی کے سرکاری ٹیلی ویژن ”ٹی آر ٹٰی“ کو انٹرویو میں وزیر اعظم نے کہا کہ کہ میرا وژن پاکستان کی تعمیر نو، غربت میں کمی لانے اور کفایت شعاری کو یقینی بنانے کے لیے سرکاری شعبہ کے بجٹ میں کٹوتی کے لیے اپنی پوری کوشش کرنا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے یہ بات زور دے کے کہی کہ ان کی حکومت انتخابات سے قبل عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے قلیل مدتی اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ عام انتخابات میں ان کی جماعت عوام کی مرضی کے مطابق اقتدار میں آتی ہے تو بے روزگاری اور غربت جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک مکمل ترقیاتی ایجنڈا شروع کیا جائے گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ عالمی سطح پر ایندھن کی آسمان سے چھوتی ہوئی قیمتوں نے حکومت کو تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنے پر مجبور کیا ہے۔ وزیراعظم نے پاکستان کی سیاسی صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار عدم اعتماد کا ووٹ کامیاب ہوا ہے، یہ اقتدار کی ایک آئینی اور قانونی منتقلی ہے جو آئین میں فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ”کوانٹم جمپ“ کی بجائے ایک بڑا قدم ہے۔

    وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ پاکستان میں یہ ایک قابل قبول معمول ہو گا کہ اگر پارلیمنٹیرین کی اکثریت محسوس کرتی ہے کہ ایک خاص حکومت ہو، تو انہیں ملک کے قانون کے تحت آزادانہ طور پر ووٹ دینے کی اجازت ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ماضی میں اسی طرح کے حالات میں مارشل لا اور فوجی مداخلت کا مشاہدہ ہوا ہے لیکن اب اس نے پوری صورتحال کو تبدیل کیا ہے اور اس کی حمایت کی جانی چاہیے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ترکی بے پناہ افہام و تفہیم کے ساتھ علاقائی تعاون کے روڈ میپ پر گامزن ہیں اور دونوں ملکوں کی قیادت کے درمیان یکجہتی پائی جاتی ہے۔ وزیراعظم نے ترکی کے دورے کو غیرمعمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام تاریخی رشتے کے بندھن سے بندھے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے تقسیم برصغیر سے قبل کے زمانے کا ذکر کیا جب برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے ترک تحریک کی حمایت کی تھی۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارے آبائو اجداد کا رشتہ آنے والی نسلوں کے لئے ایک مستقل بھائی چارہ بن گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پاک ترک دفاعی تعلقات کے بارے میں کہا کہ پاکستان ترکی کے ساتھ فوجی منصوبوں میں مشترکہ تعاون کا خواہاں ہے اور یہ کہ ملجم جنگی بحری جہاز کی حالیہ لانچنگ اسی وژن کے مطابق ہے۔ ترکی کے ساتھ 5 ارب ڈالر کی تجارت کے ہدف کے حصول کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد دونوں ممالک کے فائدے کے لیے مختلف شعبوں میں تجارت اور سرمایہ کاری کے دائرہ کار کو بڑھانا ہے۔

    وزیراعظم نے شام میں ”پی کے کے اور وائی پی جے“ کے دہشت گردوں کے خلاف ترکی کے انسداد دہشت گردی کے اقدامات پر کہا کہ چونکہ پاکستان دہشت گردی کا بڑا شکار رہا ہے، اس لیے اس نے اس لعنت کو ختم کرنے کی کوششوں پر ترک قیادت کی حمایت کی ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) میں شمولیت کے لیے چین، پاکستان اور ترکی کے درمیان سہ فریقی انتظامات پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک میں ترکی کی شرکت خطے کی اقتصادی خوشحالی میں اضافہ کرے گی، وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کو بھی یہ تجویز پیش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کی سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبوں کی تعمیر میں وسیع مہارت کئی ارب کے علاقائی منصوبے کو کامیاب بنا سکتی ہے۔

    وزیر اعظم نے پاکستان کی جانب سے ترکی اور خلیجی ملکوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے حوالے سے ایک سوال پر اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ترکی کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عالمی امن کے لیے اہم اور پورے خطے کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں اور فلسطینیوں سمیت محکوم اقوام کی حمایت جاری رکھے گا جو اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کررہے ہیں، یہ اسرائیل یا بھارت کا سوال نہیں بلکہ ایسے لوگوں کی اخلاقی حمایت کا سوال ہے، جب تک ان کے مطالبات پر توجہ نہیں دی جاتی اس وقت تک خطے میں امن واپس نہیں آسکتا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت نے گزشتہ تین سالوں میں بہت نقصان اٹھایا اور پاکستان معیشت کو درست کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کے ساتھ بات چیت کررہی ہے۔ وزیراعظم نے یوکرین میں روسی حملے پر پاکستان کے مئوقف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا غیر متزلزل موقف یہ ہے کہ ہم معاشروں کے آزاد حقوق کے لیے کھڑے ہیں، انہوں نے فریقین پر زور دیا کہ مذاکرات کی میز پر آجائیں