Baaghi TV

Tag: تمباکو نوشی

  • ورلڈ نو ٹوبیکو ڈے ،کرومیٹک کی طرف سے پوسٹ کارڈ سیزن 3 مقابلوں کا کامیاب انعقاد

    ورلڈ نو ٹوبیکو ڈے ،کرومیٹک کی طرف سے پوسٹ کارڈ سیزن 3 مقابلوں کا کامیاب انعقاد

    غیرسرکاری تنظیم کرومیٹک کی طرف سے ورلڈ نو ٹوبیکو ڈے کی مناسبت سے پوسٹ کارڈ سیزن 3 مقابلوں کا کامیاب انعقاد کیا گیا۔ پاکستان بھر سے نوجوانوں نے خوبصورت ڈرائنگ کے ذریعے تمباکو اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے معاشرے پر مثبت اثرات کو اجاگر کیا۔ ملک بھر سے موصول ہونے والے ڈیزائنز میں سے 3 بہترین ڈایزائن بنانے والے نوجوانوں کو نقد انعامات دیئے گے۔

    اس حوالے سے اسلام آباد کے ایک نجی ہوٹل میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی جس کے مہمان خصوصی وزیرمملکت فیصل کریم خان کنڈی اور وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم سومرو تھے، تقریب میں سول سوسائٹی کے نمائندوں، طلباء اور صحافیوں نے بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر کرومیٹک کے چیف ایگزیکٹیو شارق خان نے پوسٹ کارڈ مقابلوں کی اہمیت اور نتائج کے حوالے سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ شارق خان نے کہا کہ تمباکو نوشی کا بہت تیزی سے نوجوانوں میں پھیلنا تباہ کن ہے، ہمیں اپنی نسلوں کے بہتر مستقبل اور ان کی اچھی صحت کے لئے تمباکو نوشی کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور اس حوالے سے حکومت پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ شارق خان نے تمباکو مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمباکو مصنوعات مہنگی ہونے کے دورس مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ کسی دبائو کو خاطر میں لائے بغیر صحت عامہ کے مفادات اور خاص طور پر نوجوانوں کو تمباکو کے ناسور سے بچانے کے لئے تمباکو مصنوعات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سمیت دیگر ٹیکسز کو برقرار رکھنا اور تمباکو مصنوعات کی قیتموں میں اضافہ انتہائی ضروری ہے۔ شارق خان نے موجودہ حکومت کی طرف سے رواں سال فروری میں تمباکو مصنوعات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے نفاذ کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس حکومتی فیصلے سے نہ صرف حکومتی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا بلکہ تمباکو مصنوعات مہنگے ہونے سے تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد میں بھی کمی دیکھنے کو مل رہی ہے، شارق خان نے کہا کہ تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے سے نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کے رجحان کو روکا جا سکتا ہے، شارق خان نے کہا کہ پاکستان جیسے غریب ملک میں تمباکو کے استعمال سے صحت عامہ پر آنے والے اخراجات معاشی چیلنج سے کم نہیں کیونکہ تمباکو پر خرچ ہونے والی رقم صحت عامہ کے منصوبوں، تعلیم اور دیگر منصوبوں پر خرچ کی جا سکتی ہے۔

    تقریب کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان ٹوبیکو کنٹرول سیل کے سابق ہیڈ ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام نے کہا کہ پاکستان میں تمباکو کے استعمال سے پھیلنے والی بیماریوں کے نتیجے میں ہرسال ایک لاکھ ستر ہزار افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ ملکی معیشت کو ہر سال 615 بلین روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تمباکو مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف ملکی معیشت کو سہارا دے سکتا ہے بلکہ اس سے تمباکو نوشی کے ناسور کو کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام نے کہا کہ پاکستان میں روزانہ 6 سے 15 سال کے 12 سو بچے تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں اور یہ تشویشناک صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ حکومت تمباکو نوشی کے خلاف قوانین کو مزید سخت بنائے۔ ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام نے تمباکو کی جدید مصنوعات شیشہ، ای سگریٹ اور نکوٹین پائوچز پر بھی فوری پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ سگریٹ کے متبادل اشیاء مضرصحت نہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ شیشہ، نکوٹین پائوچز اور ای سگریٹ بھی روایتی سگریٹ ہی کی طرح خطرناک ثابت ہورہی ہیں اور نوجوان ان کے استعمال سے گلے اور پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام نے حکومت پر زور دیا کہ سگریٹ کے متبادل اشیاء کی فروخت پر فوری پابندی لگا کر نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جائے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی کی ممبر آمنہ حسن شیخ نے کہا کہ نوجوان ہمارا سرمایہ ہیں، نوجوانوں کے بہتر مستقبل کے لئے ضروری ہے کہ تمباکو نوشی کے ناسور کا معاشرے سے خاتمہ کیا جائے۔ آمنہ حسن شیخ نے کہا کہ بچوں کو تمباکو نوشی سے محفوظ بنانے میں والدین کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ تقریب تقسیم انعامات کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے معروف صحافی عامر رفیق بٹ نے کہا کہ تمباکو نوشی کے خاتمے میں میڈیا کے کردار سے انکار ممکن نہیں، انہوں نے اس امر کی ضرورت پر زور دیا کہ سوشل میڈیا سمیت دیگر پلیٹ فارمز پر تمباکو مصنوعات کی حوصلہ شکنی کی جائے، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمباکو نوشی کے خاتمہ کے لئے نیشنل پریس کلب ہر طرح سے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ تقریب کے شرکاء سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم کے خصوصی مشیر فیصل کریم کنڈی نے پوسٹ کارڈ سیزن 3 مقابلوں میں حصہ لینے والے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو سراہا، انہوں نے کہا کہ ملک میں روزانہ 12 سو بچوں کا سگریٹ شروع کرنا تشویش ناک بات ہے، ساتھ ہی فیصل کریم کنڈی نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ سگریٹ کے کاروبار سے وابستہ افراد مختلف طریقوں سے نوجوانوں کو سگریٹ نوشی اور تمباکو کی دیگر جدید مصنوعات کی طرف راغب کررہے ہیں جس کی روک تھام بہت ضروری ہے۔ تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ سومرو نے کرومیٹک کی طرف سے پوسٹ کارڈ سیزن 3 مقابلوں کے کامیاب انعقاد پر کرومیٹک کی پوری ٹیم کو مبارکباد دی، انہوں نے کہا کہ نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں اس لئے ان کی اچھی صحت اور عادات کے بارے میں فکرمند ہونا ایک فطری عمل ہے، انہوں نے کہا کہ سگریٹ نوشی نوجوان نسل کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے جس کے خلاف نوجوانوں کو خود کھڑا ہونا ہوگا۔ ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ سومرو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحت عامہ کے حوالے سے اقدامات حکومتی ترجیحات میں شامل ہیں اور وہ نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے محفوظ بنانے کے لئے ہرفورم پر اپنا بھرپور کردار ادا کریں گی۔

    انہوں نے پوسٹ کارڈ مقابلوں میں نوجوانوں کی پاکستان بھر سے بھرپور شرکت اور اس ایونٹ کی کامیابی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایسے مقابلوں کا انعقاد تمباکو نوشی کے خلاف آگاہی فراہم کرنے کے ساتھ نوجوانوں کو اس لعنت سے محفوظ بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

  • ” رُک جانا بہتر ہے ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” رُک جانا بہتر ہے ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    سگریٹ کیا ہے؟

    سگریٹ ایک بیلن کی شکل میں خصوصی کاغذ کو گویا لحاف کی طرح بناکر اور اس کے اندر تمباکو بھر دیا جاتا ہے۔

    سگریٹ صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے اور ماحولیاتی آلودگی اور عوامی صحت کی تباہی کا اہم سبب ہے. اس کے علاوہ سگریٹ نوشی کرنے والے یاد رکھیں کہ سگریٹ نوشی سے منہ کا کینسر بھی بنتا ہے۔

    امریکا کے سائنسدانوں کی ایک 2010ء کی تحقیق کے مطابق کسی بھی انسان کے جسم میں پہلی مرتبہ پیے جانے والے سگریٹ کے پہلے اولین کش ہی لمحوں میں ایسے جینیاتی نقصانات کی وجہ بن سکتے ہیں، جن کا تعلق سرطان سے ہوتا ہے۔اس کا مستقل استعمال صحت پر کئی مضر اثرات کا باعث ہوتا ہے۔

    تمباکو نوشی نہ صرف اُس شخص کے لیے جو اِس عادت کا شکار ہے بلکہ اُن افراد کے لیے بھی نقصان دہ ہے جو اُس کے آس پاس رہتے ہیں، جسے سیکنڈ ہینڈ سموکنگ کہتے ہیں۔ یعنی، آپ خود تو سگریٹ نہیں پی رہے ہوتے لیکن دوسروں کی سگریٹ کا دھواں آپ کے پھیپھڑوں کو اور آپ کے نظامِ صحت کو بھی انتہائی نقصان پہنچاتا ہے جتنا خود سگریٹ پینے والوں کو۔

    طبی ماہرین ایک طویل عرصہ سے لوگوں کو تمباکو نوشی ترک کرنے کے بارے میں بتا رہے ہیں، لیکن اگر امریکا کی طرح دنیا بھر میں سماجی طور پر بھی سگریٹ نوشی کو روکا جائے تو یقینی طور پر سگریٹ پینے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہوگی۔ عالمی ادارہٴ صحت کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی دنیا بھر میں موت کا سبب بننے والی آٹھ اہم وجوہات میں سے چھ میں سب سے زیادہ خطرے کی وجہ سمجھی جاتی ہے۔

    عالمی ادارہٴ صحت کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر سال تمباکو نوشی کرنے والے کم از کم 50لاکھ افراد پھیپھڑوں کے سرطان، دل کے امراض اور دوسری وجوہات کی بنا پر انتقال کرجاتے ہیں۔ ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا، تو سنہ 2030 میں تمباکو نوشی سے منسلک وجوہات کی بنا پر مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 80لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

    ہم میں سے کوئی بھی اِن اعداد و شمار کا حصہ ہو سکتا ہے،اس لئے احتیاط بہت ضروری ہے اپنے گھر سے آغاز کیا جائے۔ اپنے بچوں کو شروع سے ہی تمباکو نوشی کے خطرات کے بارے میں بتایا جائے اور اس بات کی خبر رکھیئے کہ کہیں وہ چوری چھپے سگریٹ تو نہیں پیتے۔ بچوں کو روکنے کا سب سے بڑا طریقہ یہ ہے کہ بڑے اُن کے سامنے سگریٹ نہ پئیں۔

  • بارے کچھ پاکستان پیکٹ اور ٹرسٹ کرامیٹک کی جانب سے منعقدہ اینٹی ٹوبیکو پوسٹ کارڈ مقابلہ کے!!! — بلال شوکت آزاد

    بارے کچھ پاکستان پیکٹ اور ٹرسٹ کرامیٹک کی جانب سے منعقدہ اینٹی ٹوبیکو پوسٹ کارڈ مقابلہ کے!!! — بلال شوکت آزاد

    مجھے بچپن سے سیگریٹ /تمباکو نوشوں اور کسی بھی طرح کے نشے کے عادی لوگوں سے شدید الرجی ہے۔ ۔ ۔ نفرت نہیں کہوں گا کیونکہ یہ بہت ہی سخت اور شدید جذبہ ہے جس کی ذد میں میرے بہت سے پیارے اور دوست احباب بھی آجائیں گے البتہ مجھے سیگریٹ/تمباکو نوشوں سے الرجی ہے یہ بات ان کو معلوم ہے اور وہ جب میری معیت میں ہوں تو میرا لحاظ اور احترام کرتے ہوئے سیگریٹ/تمباکو نوشی یا تو کرتے ہی نہیں یا پھر مجھ سے فاصلہ اختیار کرکے اپنا شوق یا نشہ پورا کرلیتے ہیں۔

    کہتے ہیں جیسی نیت ویسی مراد۔ ۔ ۔ میری اولین نوکری ایک سیفٹی آفیسر کے طور پر جنوبی پنجاب کی ایک بہت بڑی فرٹیلائزر فیکٹری کی کنسٹرکشن کے وقت وہاں تعیناتی سے شروع ہوئی, میری کنسٹرکشن کمپنی جس کا میں ملازم تھا وہ چائنہ کی مشہور و معروف کیمیکل انجنیئرنگ کمپنی تھی اور جنہوں نےسیفٹی ڈیپارٹمنٹ جس کو انگریزی میں Health, Safety & Environment کہا جاتا ہے میں سب لوکل پاکستانی ہی بھرتی کیے تھے۔

    تب میرا کام ورکنگ اینڈ کنسٹرکشن سائیٹ پر سیفٹی میعارات بتانا اور لاگو کروانا تھا جس میں سب سے زیادہ زور جن باتوں پر ہوتا ان میں سیگریٹ/تمباکو نوشی سرفہرست تھی۔ اس بابت بہت سخت قوانین تھے جن کی ذد میں اکثر لیبر سے لیکر مینجمنٹ لیول تک لوگ آتے اور جرمانہ و سرزنش کا سامنا کرتے لیکن اس بدبخت نشے سے توبہ تائب نہ ہوتے۔

    میں اس عادت یا نشے سے اس قدر عاجز ہوں کہ میرا بس چلے تو میں پاکستان میں اس حوالے سخت قوانین کی داغ بیل ڈالوں لیکن یہ میرے بس میں تو کیا میرے جیسے اور سیگریٹ/تمباکو بیزار لوگوں کے بھی بس کی بات نہیں۔

    ہاں البتہ اس پر آگاہی مہم اور تحریک چلائی جاسکتی ہے تاکہ ہمارے پیارے, اپنے اور دوست اس قبیح فعل سے بچ جائیں اور اپنی صحت اور جیب اور اخلاقی اقدار کو بچالیں۔

    میں ایک ایسی ہی تحریک سے آج ہی روشناس ہوا ہوں جو ایک لمبے عرصے سے پاکستان بھر میں سیگریٹ/تمباکو نوشی کے خلاف جدوجہد میں پیش پیش ہے۔

    اس تنظیم/تحریک کا نام "تمباکو کے استعمال کے خلاف عہد” المعروف "Pledge Against the Consumption of Tobacco” ہے جس کی شارٹ فارم PACT ہے جو پاکستان میں تمباکو کنٹرول کی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لیے سول سوسائٹی کے کارکنوں اور ماہرین صحت کے تعاون سے ایک ملک گیر سیگریٹ/تمباکونوشی روک تھام مہم ہے۔ چونکہ تمباکو دنیا میں کثیر اموات کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے اور پاکستان میں اس سے سالانہ 175,000 اموات ہوتی ہیں لہذا اس صورتحال میں عوامی آگاہی کے لیے کام کرنےکی اشد ضرورت ہے لیکن تمباکو کنٹرول کی پالیسیوں کو تمباکو انڈسٹری کے لابنگ گروپس کی طرف سے سخت مخالفت ملتی ہے، اس لیے اس پلیٹ فارم کا مقصد بھی ایسے کسی بھی حربے کو بے نقاب کرنا اور عوامی آگاہی اجاگر کرنا ہے۔

    مزید یہ کہ ان کا مقصد حکومت پر زور دینا ہے کہ وہ ایسی اصلاحات متعارف کرائے جو ہمارے بچوں کو مہلک سگریٹ سے محفوظ رکھیں۔

    اس عظیم مقصد کے تحت "تمباکو کے استعمال کے خلاف عہد” المعروف "Pledge Against the Consumption of Tobacco” یا PACT مختلف ایونٹس اور مقابلوں اور آگاہی پروگراموں کا انعقاد کرتی رہتی ہے۔ جس سے بچوں بڑوں سب میں سیگریٹ/تمباکو نوشی کے خلاف نفرت پیدا کی جائے اور وہ صحت مند معاشرے کی بنیاد بن سکیں۔

    اسی سلسلے کی ایک کڑی میں PACT اور Trust Chromatic لائے ہیں ایک انوکھا مقابلہ جس کا پہلا سیزن بھی کامیاب رہا تھا سو اب اسی کا دوسرا سیزن لایا گیا ہے جس میں پاکستان کا کوئی بھی شہری حصہ لیکر بیس سے پچاس ہزار روپے تک کا نقد انعام جیت سکتا ہے۔

    مقابلے کی تفصیلات کچھ اسطرح سے ہیں کہ

    آغاز مقابلہ بتاریخ 12 اگست 2022 ہے اور اس مقابلے کا عنوان ہے

    "CHROMATIC PRESENTS POST CARD COMPETITION SEASON 02”

    جبکہ اس کی پرائز منی بالترتیب اول انعام 50000 روے اور دوم انعام 20000 روپے ہوگا جبکہ جیتنے والے امیدواروں کو انعامات ایک بہت بڑی تقریب میں پاکستان کے مین سٹریم میڈیا کے سامنے دیا جائے گا۔

    اس مقابلے کی تھیم "Ban Nicotine Pouches” اور "Ban Modren Tobacco Products” ہے لہذا جس کو ان میں سے جس موضوع بابت دلچسپی یا معلومات ہو وہ اسی پر پوسٹ کارڈ ڈیزائن کرسکتا ہے۔

    یاد رہے یہ ایک گرافک ڈیزائننگ مقابلہ ہے لیکن اس میں ہر خاص و عام کو موقع دیا جائے گا اس لیے اس مقابلے میں عمر کی حد آٹھ سال سے 25 سال رکھی گئی ہے کیونکہ اس مقابلے کا مقصد ہی بچوں اور نوجوانوں کو سیگریٹ/تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا حصہ بنانا اور ان کو سیگریٹ/تمباکو نوشی کے نقصانات سے آگاہ کرنا ہے۔

    آپ اس مقابلے میں کیسےشامل ہوسکتے ہیں؟

    بہت آسان ہے, آپ اپنا ڈیزائن ڈیجیٹلی فوٹوشاپ, الیسٹریٹر, کینوا یا کسی بھی اور سافٹ ویئر و ایپ پر بناسکتے ہیں بلکہ یہاں تک کہ آپ کو کمپیوٹر کی الف ب نہیں معلوم لیکن آپ ڈرائنگ کرسکتے ہیں تو آپ ہاتھ سے ڈرا کرکے بھی مقابلے کا حصہ بن سکتے ہیں۔

    آپ اپنی تخلیق کیسے جمع کرواسکتے ہیں؟

    یہ اور بھی آسان ہے, آپ نے PACT کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو فالو کرنا ہے, اپنا ڈیزائن PACT کے فیسبک, انسٹا گرام اور ٹوئٹر اکاؤنٹس پر ٹیگ کرنا ہے اور ساتھ ہی اپنا ڈیزائن بذریعہ PACT ای میل (نام, شہر, عمر اور موبائل نمبر کے ساتھ) ارسال کرنا ہے۔

    "تمباکو کے استعمال کے خلاف عہد” المعروف "Pledge Against the Consumption of Tobacco” یا PACT کا مقابلے لیے دیا گیا ای میل ایڈریس درج ذیل ہے۔

    POSTCARDCOMPETITION2022@GMAIL.COM

    مزید معلومات کے لیے PACT کی آفیشل ویب سائٹ www.pakistanpact.com کا وزٹ کرسکتے ہیں۔

    دیکھیں سیگریٹ/تمباکو نوشی ایک بری عادت ہی نہیں بلکہ جان لیول شوق بھی ہے۔ اس کے عادی افراد ناصرف اپنے لیے بلکہ اپنے پیاروں کے لیے بھی خطرہ ہیں کیونکہ جتنا نقصان ایک سیگریٹ/تمباکو نوش کو ہوتا ہے اتنا ہی اس کے اردگرد موجود لوگوں کو بھی ہوتا ہے۔

    سیگریٹ/تمباکو نوشی کینسر اور ٹی بی جیسے امراض کے پھیلاؤ کی بھی بنیادی وجہ ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ ماحولیاتی و اخلاقیاتی آلودگی کی بھی اہم وجہ ہے۔

    آئیے PACT, Trust Chromatic اور باغی ٹی وی کے سنگ اس بری اور جان لیوا عادت و نشے کے خلاف مہم کا حصہ بنیں اور معاشرے کو صحت مند و توانا بنانے میں اپنا حصہ ڈالیے, مقابلے میں حصہ لیں, اپنے خیالات اور معلومات کو رنگوں اور لکیروں سے مزین کریں اور معاشرے کی بہتری میں حصہ ڈالیں اور ساتھ ہی نقد انعام جیتنے کا موقع بھی حاصل کریں۔

  • ٹیکس کی عدم ادائیگی،جعلی سیگریٹس سے بھرے دو ٹرک ضبط

    ٹیکس کی عدم ادائیگی،جعلی سیگریٹس سے بھرے دو ٹرک ضبط

    میرپور میں قائم والٹن تمباکو کمپنی کے پچاس لاکھ کی ایکسائز ڈیوٹی کی عدم ادایئگی جعلی سیگریٹس سے بھرے دو ٹرک محکمہ ایکسائز نے علی بیگ چوکی پر ضبط کرلئے ۔

    والٹن تمباکو کمپنی کے ضبط کئے گئے ایک ٹرک میں 4500 کلو گرام تمباکو جبکہ دوسرے میں 150 کاٹن سیگریٹس تھے والٹن تمباکو کمپنی نے نے ماضی میں محکمہ کی جانب سے اپریل میں سیل کی گئی نیشنل تمباکو کمپنی کے برانڈز کلاسک اور ہیرو برانڈز کے جعلی سیگریٹس تیار کرکے تقریبا پچاس لاکھ روپے کی ایکسائز ڈیوٹی بھی ادا نہیں کی اور رات کے اندھیرے میں سیگریٹس سے بھرے دونوں ٹرک پنجاب کے مختلف شہروں میں فروخت کے لئے بھجوانے تھے جنہیں محکمہ ایکسائز میں تحویل میں لیکر ضبط کرلیا ہے ۔

    چلغوزے سستے،پڑھا لکھا ایس ایچ او،تمباکو کی قیمت ،مردم شماری کیلئے فنڈ ،کابینہ کے فیصلے

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

    کرومیٹک ٹرسٹ نے تمباکو نوشی کی جدید اقسام کے خلاف پوسٹ کارڈ آگاہی مہم کا آغاز کر دیا

    دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے سے پاکستان کی معیشت بہتر ہو سکتی ہے، تحریک انصاف کی حکومت کو تجاویز دینے کے باوجود انہوں نے کچھ نہ کیا، اب نئی حکومت تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نہ صرف غریبوں کی صحت کا خیال کر سکتی ہے بلکہ بجٹ خسارہ بھی اس ٹیکس سے پورا کر سکتی ہے، اپنی آمدن میں حکومت اضافہ کر سکتی ہے،

    کرومیٹک ٹرسٹ کے سی ای او شارق محمود خان کا کہنا ہے کہ کہ تمباکو پر ٹیکس میں اضافہ کر کے سگریٹ نوشی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے نئی حکومت سے اپیل کی کہ وہ شعور بیدار کریں اور تمباکو کنٹرول قوانین پر عمل درآمد کرنے اور تمباکو کے ٹیکس میں اضافہ کرنے میں مدد کریں تاکہ کھپت کو کم کیا جا سکے اور اضافی آمدنی حاصل کی جا سکے۔

    خلیل احمد کا کہنا تھا کہ تمباکو کے استعمال سے سالانہ 615 ارب کا معاشی بوجھ پڑتا ہے جو پاکستان کی جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہے۔ اس کی وجہ سے اہم منفی خارجی عوامل شامل ہیں، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمباکو کے استعمال کے صحت اور معاشی اخراجات ٹیکس کی وصولیوں سے پانچ گنا زیادہ ہیں، چونکہ تمباکو پر ٹیکس پچھلی حکومت کو دلچسپی نہیں تھی، یہ موجودہ حکومت کے لیے ایک موقع ہے۔ تمباکو پر ٹیکس بڑھا کر ریونیو حاصل کرکے خسارے کو کم کیا جا سکتا ہے،

    ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام، کا کہنا تھا کہ تمباکو کی صنعت غیر قانونی تجارے کے حوالہ سے حکومت کو گمراہ کرتی ہے۔ جنوری 2021 میں تمباکو انڈسٹری کے اعداد و شمار کے مطابق غیر قانونی سگریٹ کی معیشت کو 40 ارب کی لاگت آئی، اور فروری 2021 میں انہوں نے بغیر کسی جواز کے 77 ارب کا حوالہ دیا،تمباکو کا استعمال بچوں کی صحت پر براہ راست اور بالواسطہ اثرات مرتب کرتا ہے۔ روزانہ 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔ تمباکو پر ٹیکس بڑھانے سے یہ تعداد کم ہو جائے گی۔

  • تمباکو نوشی کے خلاف پوسٹ کارڈ آگاہی مہم کا آغاز

    تمباکو نوشی کے خلاف پوسٹ کارڈ آگاہی مہم کا آغاز

    کرومیٹک ٹرسٹ نے تمباکو نوشی کی جدید اقسام کے خلاف پوسٹ کارڈ آگاہی مہم کا آغاز کر دیا

    آگاہی مہم کا آغاز آج اسلام آباد کی فیصل مسجد میں اسلامی یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں طلبا و طالبات، میڈیا اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی موجودگی میں کیا گیا۔اس ڈیجیٹل آگاہ مہم کا مقصد بچوں میں تمباکو نوشی کی جدید اقسام کے خلاف آگہی بیدار کرنا ہے ۔ اس مہم میں بچے انسداد تمباکو سے متعلق پوسٹ کارڈ ڈیزائن کرکے کرومیٹک ٹرسٹ کے دئئے گئے ای میل ایڈریسل یا وٹس ایپ نمبر پہ بھیجیں گے۔ یہ آگاہی مہم ایک ماہ تک جاری رہے گی اور اس مقابلے میں ونر کے لیے پچاس ہزار روپے اور رنر اپ کے لیے بیس ہزار روپے کی انعامی رقم رکھی ہے۔

    کرمیٹک ٹرسٹ کے سی ای او نے کہا کہ پوسٹر مقابلے میں اول اور دوئم آنے والوں کے ڈیزائن نہ صرف وزیراعظم پاکستان کو بھی پیش کیے جائیں گے بلکہ جیتنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کی میڈیا کے ذریعے بھی تشہیر کی جائے گی تاکہ ہمارے نوجوانوں کو اس کے متعلق آگاہی ملے ۔

    کرومیٹک ٹرسٹ کے سی ای او شارق خان نے میڈیا کو بتایا کہ ہم ڈیجیٹل دور میں جی رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے بچوں کے لیے ایک ماہ طویل مہم کو خاص طور پر ڈیزائن کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مہم نہ صرف ان کی تفریح کا باعث بنے گی بلکہ انہیں سگریٹ نوشی کی جدید اقسام کے خطرات کو جاننے میں بھی مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ پوسٹ کارڈ مہم پچھلے سال کے مقابلے کا تسلسل ہے جس کے ذریعے ہم نے پاکستان بھر کے لاکھوں بچوں کو سگریٹ نوشی کے خطرات اور اس سے صحت کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں آگاہی فراہم کی ۔

    شارق خان نے کہا کہ گزشتہ سال یہ مہم ایک بڑی کامیابی تھی اور اس نے ہمیں سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو تمباکو کے استعمال کے مضر اثرات سے آگاہ کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے پر مجبور کیا۔ شارق خان نے کہا کہ ہماری مسلسل کوششوں نے حکومت کو تمباکو پر ٹیکس بڑھانے پر آمادہ کیا جو کہ گزشتہ چار سالوں میں ایک بڑی کامیابی ہے۔

    شارق خان نے مزید کہا کہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ معاشرے کے تمام افراد اس کے مشن میں ہمارا ہاتھ بٹائیں تاکہ اس انسداد تمباکو آگاہی مہم کے ذریعے پاکستان کو سگریٹ نوشی کی جدید اقسام سے پاک ملک بنا کر بچوں کے مستقبل کو بچایا جا سکے ۔

    چلغوزے سستے،پڑھا لکھا ایس ایچ او،تمباکو کی قیمت ،مردم شماری کیلئے فنڈ ،کابینہ کے فیصلے

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

  • رواں بجٹ میں تمباکو کی صنعت پر ٹیکس بڑھایا جائے،شارق خان

    رواں بجٹ میں تمباکو کی صنعت پر ٹیکس بڑھایا جائے،شارق خان

    رواں بجٹ میں تمباکو کی صنعت پر ٹیکس بڑھایا جائے،شارق خان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کل جمعہ کو بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے

    بجٹ پیش کرنے سے قبل ٹرسٹ کرومیٹک کے سی ای او شارق خان نے ن لیگ رہنما مریم نواز اور وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو ٹیگ کرتے ہوئے ایک ٹویٹ کی ہے،شارق خان کا کہنا تھا کہ چار سال ہو گئے ہیں تمباکو پر ٹیکس نہیں لگا، حکومت کو بجٹ میں چاہئے کہ تمباکو کی مصنوعات پر بھاری ٹیکس لگایا جائے،

    دوسری جانب تمباکو مصنوعات پر ٹیکس لگانے کے لئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹرینڈ بھی جمعرات کو ٹاپ پر رہا، صارفین نے حکومت سے تمباکو کی صنعت پر ٹیکس بڑھانے کا مطالبہ کیا، اب اتحادیوں جماعتوں کی حکومت ہے اور یہ حکومت پہلا بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے، اس سے قبل تحریک انصاف کی حکومت نے گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں تمباکو پر ٹیکس میں کسی قسم کا کوئی اضافہ نہیں کیا تھا،اب عوامی حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ سگریٹ کی قیمت میں اضافہ کیا جائے،

    حکومت سے اپیل ہے کہ عوامی نمائندہ ہونے کے ناطے بیماریوں میں اضافہ کی وجہ بننے والے دو غیر ضروری عوامل تمباکو اور میٹھے مشروبات پر ٹیکس میں اضافہ پر سنجیدگی سے سوچے،ان پر ٹیکس میں اضافہ سے نہ صرف قومی خزانے کو سالانہ 105 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوگا،بلکہ ہیلتھ برڈن میں بھی نمایاں طور پر کمی واقع ہوگی

    چلغوزے سستے،پڑھا لکھا ایس ایچ او،تمباکو کی قیمت ،مردم شماری کیلئے فنڈ ،کابینہ کے فیصلے

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

    https://twitter.com/fahad4014/status/1534800506375356416?s=21&t=b-GhCgIY1BE3we6sDRq8gA

  • عوامی نمائندوں کو تمباکو کے انسداد بارے آگاہی پیدا کرنی چاہیے، یوسف رضا گیلانی

    عوامی نمائندوں کو تمباکو کے انسداد بارے آگاہی پیدا کرنی چاہیے، یوسف رضا گیلانی

    تمباکو نوشی کے خلاف عالمی دن کے موقعے پہ آگاہی سیمینار کاانعقاد کیا گیا ، یوسف رضا گیلانی نے ٹیکس بڑھانے کیلیے آواز اٹھانے کا عہد کیا-

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق تمباکو سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے ملک میں روزانہ اوسطاً 5,000 افراد ہسپتالوں میں داخل ہوتے ہیں اور ہر سال 100,000 سے زیادہ موت کےمنہ میں چلےجاتے ہیں۔ اگر تمباکو کا استعمال موجودہ رفتار سے جاری رہا تو 2030 تک اس تعداد میں نمایاں اضافہ متوقع ہے ایسی صورتحال پاکستان کو پائیدار ترقی کے ایجنڈے کو حاصل کرنے سے روک دے گی، جس کا مقصد 2030 تک تمباکو سے متعلقہ بیماریوں سے ہونے والی اموات کو ایک تہائی تک کم کرنا ہے۔

    ریاست کے خلاف لانگ مارچ ہوا تو سختی سے پیش آیا جاۓ گا، رانا ثناء اللہ

    ورلڈ نو ٹوبیکو ڈے” کےحوالےسے کرومیٹک ٹرسٹ نےتمباکو کے استعمال کے خطرات اور تمباکو کے استعمال کو محدود کرنے اور لوگوں کی بہترین صحت کے حق کے تحفظ کے عہد کے بارے میں عوامی بیداری بڑھانے کے لیے انسداد تمباکو کلبوں کی ملک گیر مہم کا آغاز کیا۔

    کرومیٹک ٹرسٹ نے CTFK اور پارٹنر تنظیموں کے ساتھ مل کر اینٹی ٹوبیکو کلبز بنائے ہیں تاکہ تمباکو کنٹرول پر گفتگو میں طلباء کی شرکت کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔ ان کلبوں کے ذریعے طلباء تمباکو کے استعمال کے نقصانات کے بارے میں عوام میں بیداری پیدا کریں گے۔ نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ختم کرنے کے لیے عوام کو حساس بنائیں گے اور تمباکو پر زیادہ ٹیکس لگانے کی وکالت کریں گے۔

    شہبازحکومت کوشش نہ کرتی تو حج 11 لاکھ روپے تک پہنچ جاتا، مفتی عبدالشکور

    سی ای او کرومیٹک ٹرسٹ شارق محمود خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی نوجوان کل آبادی کا تقریباً 60 فیصد ہیں۔ بچوں کو تمباکو کی لعنت سے تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ تمباکو کی مصنوعات پر بھاری ٹیکس لگانے سے نہ صرف تمباکو کے استعمال میں کمی آئے گی بلکہ بچوں کو تمباکو سے دور رکھا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایکشن لینے کی ضرورت ہے اور چونکہ بجٹ قریب ہے، یہ مناسب وقت ہے کہ تمباکو پر کم از کم 30 فیصد ٹیکس بڑھایا جائے۔

    سی ٹی ایف کے کے نمائندہ ملک عمران احمد نے کہا کہ پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر 6 سے 15 سال کی عمر کے تقریباً 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ترقی یافتہ ممالک اپنے عوام بالخصوص نوجوانوں کے لیے تمباکو کو کم قابل رسائی بنانے کے لیے پالیسی میں تبدیلی اور زیادہ ٹیکس لگانے جیسے اقدامات کا استعمال کرکے آنے والی نسلوں کو تمباکو سے پاک بنانے کی راہ پر گامزن ہیں۔

    آصف زرداری سے رابطوں بارے عمران خان نے خاموشی توڑ دی

    انہوں نے کہا کہ یہ کلب ہمارے نوجوانوں کی حقیقی آواز کی نمائندگی کرتے ہیں اور لوگوں کو تمباکو کے مضر اثرات سے آگاہ کرنا ان کا مقصد ہے۔

    پاکستان کے سابق وزیر اعظم سینیٹر یوسف رضا گیلانی نے نوجوانوں میں تمباکو نوشی کے موجودہ اعدادوشمار سے پریشان طلباء پر زور دیا کہ وہ صحت مند طرز زندگی اپنائیں اور زیادہ ٹیکس لگانے کی ضرورت پر زور دیا جس سے طلباء کو نہ صرف تمباکو کے استعمال سے روکا جائے گا بلکہ آمدنی بھی بہتر ہو گی اور ٹیکس کی مد میں حاصل ہونے والی رقم سے تعلیم کے شعبے میں استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

    یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ عوامی نمائندوں کو تمباکو کے انسداد کے اقدامات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنی چاہیے اور میں یقین دلاتا ہوں کہ تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے کے حوالے سے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بحث کی جائے گی اور اس مسئلے کو قومی سطح پہ اجاگر کیا جائے گا تاکہ تمباکو کے استعمال کو روکنے کے لیے مضبوط قانون سازی کی جا سکے۔

    یوسف رضا گیلانی نے مزید کہا کہ اس سماجی مقصد کے لیے طلباء کی فعال شرکت کو دیکھ کر مجھے اس قدر فخر ہو رہا ہے کہ پاکستان کا مستقبل صحیح ہاتھوں میں ہے ۔

    تمباکو نوشی کی روک تھام کا عالمی دن،ٹویٹر پر #TobaccoExposed ٹاپ ٹرینڈ

    مسلم لیگ ن کی ممبر سینٹرل ورکنگ کمیٹی اور ماہر قانون آمنہ شیخ نے طلباء سے خطاب میں کہا کہ تمباکو کی اس لعنت کو روکنے میں حصہ لینا ہماری سماجی ذمہ داری ہے۔ ہر جلتے ہوئے سگریٹ سے ہم اپنے بچوں کا مستقبل تباہ کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے مقابلے پاکستان میں سگریٹ کی قیمتیں سب سے کم ہیں اس لیے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ اسے نوجوانوں کی قوت خرید سے باہر کیا جا سکے۔

    کنٹری لیڈ وائٹل سٹریٹیجیز اور سابق ٹیکنیکل ہیڈ آف ٹوبیکو کنٹرول سیل ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام نے کہا کہ تمباکو نوشی کے عالمی دن کے موقع پر حکومت کے لیے تمباکو کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ضروری ہے کیونکہ پاکستان میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی اکثریت اسے چھوڑنے کا انتخاب کرے گی اس لیے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی اور حکومت کی آمدنی کو بڑھانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر مضبوط قانون سازی کی گئی تو وہ وقت دور نہیں کہ پاکستان کے نوجوان تمباکو سے پاک ہوجائیں گے۔

    تقریب کا اختتام مختلف سکولوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء کے پوسٹر ڈسپلے اور تقاریر کے ساتھ ہوا-

    عمران خان نے ملک کے ساتھ کھلواڑ کیا، کسی کوامن تباہ نہیں کرنے دیں گے، عطا تارڑ

  • تمباکو نوشی کی روک تھام کا عالمی دن،ٹویٹر پر #TobaccoExposed ٹاپ ٹرینڈ

    تمباکو نوشی کی روک تھام کا عالمی دن،ٹویٹر پر #TobaccoExposed ٹاپ ٹرینڈ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تمباکو نوشی کی روک تھام کے لئے عالمی دن آج منایا جا رہا ہے

    تمباکو نوشی کے خلاف عالمی دن کے موقع پر کرومیٹک کے زیر اہتمام وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں شرکاء کو تمباکو نوشی کے نقصانات کے حوالہ سے آگاہ کیا گیا،تمباکو نوشی کی روک تھام اور کمسن بچوں کو تمباکو نوشی سے بچانے کے لئے شرکا کو بریفنگ دی گئی، دیگر شہروں میں بھی تمباکو نوشی کے خلاف آگاہی مہم کے سلسلہ میں واک،سیمینار کا انعقاد کیا گیا

    دوسری جانب تمباکو نوشی کے خلاف عالمی دن کے موقع پر #TobaccoExposed ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بھی رہا ،صارفین نے ٹویٹرپر ٹویٹس کیں اور اپنے جذبات کا اظہار کیا، صارفین نے مطالبہ کیا کہ تمباکو سے بچوں کو بچانے کے لئے ٹیکس میں اضافہ کیا جائے تا کہ سگریٹ بچوں کی پہنچ سے دور ہو، سگریٹ نوشی کے حوالہ سے بنائے گئے قوانین پر سختی سے عمل کروایا جائے اور تعلیمی اداروں اور اسکے اطراف مین سگریٹ کی خریدو فروخت پر پابندی ہونی چاہئے،

    #سگریٹ_ٹیکس_بڑھاؤ ، ٹویٹر پر صارفین کا مطالبہ

    چلغوزے سستے،پڑھا لکھا ایس ایچ او،تمباکو کی قیمت ،مردم شماری کیلئے فنڈ ،کابینہ کے فیصلے

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

    تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نئی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پا سکتی ہے،ماہرین

    تمباکو اور میٹھے مشروبات پر ٹیکس میں اضافہ آنیوالے بجٹ میں کیا جائے، ثناء اللہ گھمن

    تمباکو پر ٹیکس، صحت عامہ ، آمدنی کے لئے جیت

    سگریٹ مافیا کتنا تگڑا ہے؟ اسد عمر ،شبر زیدی نے کھرا سچ میں بتا دیا

    https://twitter.com/ASP0028/status/1531501376441880578?t=0v2mNzLPtd3Ew9052fCBYw&s=09

    https://twitter.com/talha_abubakar4/status/1531508851849166850?s=20&t=9G-6wWGZAaYvwLiuC3jEpA

    https://twitter.com/Ahtweeted/status/1531504733978079233?t=kMbvjWjUhzVGlkkU8dyxIg&s=08

  • تمباکو، ماحولیات، معیشت اور صحت عامہ کو لاحق خطرات،ڈاکٹر ضیا الدین اسلام

    تمباکو کی وبا صحت عامہ کے سب سے اہم خطرات میں سے ایک ہے جس کا سامنا انسانی نسل کو کرنا پڑا ہے، ایک سال میں عالمی سطح پر 80 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں سے ٧ ملین سے زیادہ اموات براہ راست تمباکو کے استعمال کے نتیجے میں ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تقریبا 12 لاکھ تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کو سیکنڈ ہینڈ دھوئیں کا سامنا کرنے کا نتیجہ ہیں۔
    عالمی ادارہ صحت کی شرکاء ریاستوں نے تمباکو کی وبا اور اس سے ہونے والی قابل روک تھام موت اور بیماری کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی پیدا کرنے کے لئے 1987 میں تمباکو کا عالمی دن منایا۔ 1987 میں عالمی صحت اسمبلی نے قرارداد ڈبلیو ایچ اے 40.38 منظور کی جس میں 7 اپریل 1988 کو "تمباکو نوشی نہ کرنے کا عالمی دن” بننے کا مطالبہ کیا گیا۔ 1988 میں قرارداد ڈبلیو ایچ اے 42.19 منظور کی گئی جس میں ہر سال 31 مئی کو تمباکو کا عالمی دن منانے کا مطالبہ کیا گیا۔
    اس سال عالمی یوم تمباکو 2022 کا موضوع "ماحولیات کا تحفظ” ہے جس میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ تمباکو اپنے پورے زندگی کے چکر میں کرہ ارض کو آلودہ کرتا ہے اور تمام لوگوں کی صحت کو نقصان پہنچاتا ہے۔
    محققین نے انکشاف کیا کہ سیگریٹ فلٹرز سیلولوز ایسیٹیٹ سے تیار ہوتے ہیں۔ یہ پلاسٹک صرف شدید حیاتیاتی حالات میں تنزلی کا شکار ہوتا ہے، جیسے کہ جب فلٹر سیوریج میں جمع ہوتے ہیں۔ عملی طور پر سگریٹ کے بٹ سڑکوں، دفاتر میں پھینکے جاتے ہیں ،اور پارکوں میں ان کی حیاتیاتی تنزلی نہیں ہوتی۔ زیادہ تر سازگار حالات میں، سگریٹ کے بٹ کو ختم ہونے میں کم از کم نو ماہ لگ سکتے ہیں۔ سورج سگریٹ کے بٹوں کو توڑ سکتا ہے ، لیکن صرف فضلے کے چھوٹے ٹکڑوں میں جو پانی/ مٹی میں پتلا ہو جاتا ہے۔

    یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ سگریٹ کا فضلہ مٹی، ساحلوں اور آبی گزرگاہوں کو آلودہ کر سکتا ہے۔ تحقیقی مطالعات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ سگریٹ کا فضلہ جنگلی حیات کے لئے نقصان دہ ہے۔ یہ سگریٹ کے بٹ آلودگی کا سبب بنتے ہیں، جیسا کہ زیادہ پھیلاؤ، نالیوں اور وہاں سے دریاؤں، ساحلوں اور سمندروں تک لے جایا جاتا ہے۔ پائلٹ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ نامیاتی مرکبات (جیسے نکوٹین، کیڑے مار ادویات کی باقیات، اور دھات) سگریٹ کے بٹوں سے سمندری ماحولیاتی نظام میں داخل ہوتے ہیں، جو مچھلی اور خرد حیاتیات کے لئے شدید زہریلے ہو جاتے ہیں۔
    تمباکو کا ابھرتا ہوا، کاروبار، گندا پانی، مٹی، ساحل، پارک، اور کیمیکل، زہریلا فضلہ، سگریٹ کے بٹ، اور مائیکرو پلاسٹک فضلہ کے ساتھ گلیاں. یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ تمباکو انسانوں کی صحت کو منفی طور پر متاثر کرتا ہے۔ یہ ماحولیات کی صحت کو بھی خطرہ ہے۔ یہ بات اچھی طرح ثابت ہو چکی ہے کہ سگریٹ کے بٹوں کو صحیح طریقے سے ٹھکانے نہیں لگایا جا سکتا۔ یہ پانی، ہوا اور زہریلے کیمیکلز، بھاری دھاتوں اور باقی ماندہ نکوٹین کے ساتھ زمین کو آلودہ کرکے ماحول کی قیمت خرچ کرتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال 766,571 میٹرک ٹن سگریٹ کے بٹ ماحول پر برا اثر انداز ہوتے ہیں۔

    تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ تمباکو کی ترقی جنگلات کی کٹائی کو فروغ دیتی ہے، خاص طور پر پاکستان جیسی ترقی پذیر دنیا میں۔ تمباکو کے باغات کے لئے جنگلات کی کٹائی مٹی کی تنزلی اور "ناکام پیداوار” کو فروغ دیتی ہے ، یا زمین کے لئے کسی بھی دوسری فصلوں یا نباتات کی نشوونما میں مدد کرنے کی صلاحیت کو فروغ دیتی ہے۔ تمباکو کی صنعت ہر سال تقریبا ٦٠٠ ملین درختوں کو کاٹ تی ہے۔ اوسطا، ہر درخت سگریٹ کے 15 پیکٹوں کے لئے کافی کاغذ تیار کرتا ہے۔ پاکستان میں جنگلات کی کٹائی کے سب سے منفی اثرات سیلاب، موسمیاتی تبدیلیاں، زمین کی سلائیڈنگ، زمین کی تنزلی، مٹی کا کٹاؤ اور صحرا سازی ہیں۔ تمباکو کی صنعت کے منفی اثرات او رجنگلات کی کٹائی بھی موسمیاتی تبدیلیوں، صحرا سازی، کم فصلوں، سیلاب، ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں میں اضافے اور مقامی لوگوں کے لئے بہت سے مسائل کا باعث بنتی ہے۔
    ہر سال پاکستان اپنے جنگلات کا 42 ہزار ہیکٹر یا 2.1 فیصد کھو دیتا ہے۔ حکام کا خیال ہے کہ گلوبل وارمنگ کے اثرات کو کم کرنے کا واحد طریقہ جنگلات ہے۔ ان کی رائے میں اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ پانی زندگی کے لئے ضروری عنصر ہے اور جنگلات کی کٹائی ہمیں ہر گزرتے دن کے ساتھ اس ضرورت سے محروم کرتی ہے۔ تمباکو کی کاشت میں مسلسل اضافہ زمین پر اس کی مشقت لیتا ہے۔ چونکہ تمباکو نے اپنے غذائی اجزاء کی مٹی کو ختم کر دیا تھا، اس لئے زمین کے ایک پلاٹ پر صرف تین کامیاب بڑھتے ہوئے موسم ہو سکتے تھے۔ پھر زمین کو دوبارہ استعمال کرنے سے پہلے تین سال تک پرتی پڑی رہنا پڑی۔ اس سے نئے کھیت کے لئے کافی حد تک ڈرائیو پیدا ہوئی۔ تمباکو کی یہ کاشت مٹی کی زرخیزی اور زیر زمین پانی کے وسائل کو تباہ کرنے کے لئے پائی گئی ہے۔ یہ ملکی معیشت اور ماحولیات پر بری طرح اثر انداز ہوتا ہے۔
    تمباکو کی صنعت، موت کے تاجر، ماحول کو نقصان پہنچا کر آمدنی پیدا کر رہے ہیں اور ماحولیاتی تباہی کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہئے اور ان فضلوں کو جمع کرنے کی لاگت کی وصولی سمیت فضلے اور نقصانات کی ادائیگی کرنے کی ضرورت ہے۔

    2018 میں دنیا کے چھ بڑے سگریٹ سازوں نے 55 ارب امریکی ڈالر سے زائد کا منافع (انکم ٹیکس سے پہلے) کمایا۔ اس طرح کے بڑے پیمانے پر منافع ممکن ہے کیونکہ تمباکو کمپنیوں کی فروخت پر بہت زیادہ منافع مارجن ہے. ۔ پاکستان ٹوبیکو کمپنی کی جانب سے 2019ء میں اعلان کردہ خالص آمدنی 80.09 ملین امریکی ڈالر تھی جو بڑھ کر 223.06 ملین امریکی ڈالر کے مجموعی منافع کے ساتھ 117.2 امریکی ڈالر ہوگئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں ملک میں ٹیکس وں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے لیکن ٹی آئی کو اپنے منافع میں بہت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔ 1 (جبکہ فلپ مورس (پاکستان) لمیٹڈ (پی ایم پی کے ایل) نے 31 دسمبر 2021 کو ختم ہونے والے سال کے لئے پی کے آر 2,307 ملین ٹیکس کے بعد منافع حاصل کیا جبکہ گزشتہ سالوں کی اسی مدت کے لئے پی کے آر 1,765 ملین کے بعد منافع ہوا تھا۔

    تمباکو کی صنعتوں کو ان کی مصنوعات سے پیدا ہونے والے فضلے کے زبردست حجم اور ان کی مصنوعات کو ماحولیاتی طور پر محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے میں سہولت فراہم کرنے کے لئے جوابدہ ہونا چاہئے۔ ملک کی صورتحال کو سنجیدگی سے سنبھالنے میں ابھی زیادہ دیر نہیں ہوگی اور ان کی مصنوعات کے منفی ماحولیاتی نتائج کو کم کرنے کے لئے فضلے کی مقدار کو کم کرنے کے لئے مالی جرمانے کے ساتھ مناسب مضبوط ضوابط کی ضرورت ہے۔ مزید برآں، ماحولیاتی زہریلے پن اور سگریٹ کے فضلے کو لینڈ فل میں پھینکنے کے خطرات کے بارے میں وکالت اور آگاہی کی شدید ضرورت ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والوں کو ان مصنوعات کا استعمال مکمل طور پر چھوڑنے کی ترغیب دینا تمباکو مصنوعات کے فضلے سے ماحول کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے۔

    ڈاکٹر ضیا الدین اسلام
    کنٹری لیڈ ٹوبیکو کنٹرول، وایٹل اسٹریٹجی
    گلوبل ٹوبیکو اینڈ پبلک ہیلتھ کنسلٹنٹ، اسلام آباد.
    zislam@vitalstrategies.org
    ٹوئٹر: ضیا الدین اسلام

    مصنف این ایچ ایس آر سی کی وزارت کے سابق ٹیکنیکل ہیڈ ٹی سی سی، ڈبلیو ایچ اوز ایف سی ٹی سی کے لئے حکومت پاکستان کے سابق فوکل پرسن، ہیلتھ اکانومسٹ، گلوبل پبلک ہیلتھ فزیشن، ریسرچ اسکالر انسٹی ٹیوٹ آف ٹوبیکو کنٹرول، جانز ہاپکنز یونیورسٹی، بالٹیمور امریکہ ہیں۔

  • کرومیٹک ٹرسٹ کے زیر اہتمام تمباکو کے استعمال کے خلاف آگاہی مہم

    کرومیٹک ٹرسٹ کے زیر اہتمام تمباکو کے استعمال کے خلاف آگاہی مہم

    پاکستان کے سرکردہ سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر اثر انداز ہونے والے رضاکاروں نے پاکستان میں تمباکو کے استعمال کے خلاف آگاہی پیدا کرنے کا عہد کیا۔ یہ عزم انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیم کرومیٹک ٹرسٹ کے زیر اہتمام ایک کانفرنس میں کیا۔ کانفرنس کا انعقاد مری کے ایک نجی ہوٹل میں کیا گیا ۔

    کانفرنس کا آغاز ایک جامع پریزنٹیشن سے ہوا جس میں تمباکو کے صارفین کی تازہ ترین تحقیق اور ڈیٹا، صحت کے شعبے پر اثرات اور ٹیکس شامل تھے۔ پراجیکٹ مینیجر کرومیٹک ٹرسٹ، طیب رضا نے کانفرنس کے شرکاء کو پریزنٹیشن کے دوران بتایا کہ تمباکو نوشی کس طرح بیماری، معذوری اور موت کا باعث بنتی ہے۔کانفرنس میں سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والے رضاکاروں پر زور دیا گیا کہ وہ تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر سگریٹ نوشی کی وجہ سستے سگریٹ کی دستیابی ہے۔

    سی ای او کرومیٹک ٹرسٹ شارق خان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے سروے کے مطابق پاکستان میں روزانہ 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کر دیتے ہیں جو کہ تشویشناک ہے اور ہمیں اپنے نوجوانوں کو اس لعنت سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت تمباکو کی تشہیر اور اسپانسر شپ کے حوالے سے اپنے قانون کو مزید مضبوط کرے۔

    سی ٹی ایف کے کے کنٹری ہیڈ ملک عمران احمد نے کہا کہ دنیا بھر میں ہر دس میں سے ایک موت تمباکو کے استعمال سے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں تمباکو کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے جس کی وجہ آبادی میں مسلسل اضافہ، کم قیمتیں، اس کے خطرات سے آگاہی کی کمی اور تمباکو کی صنعت کی مارکیٹنگ کی جارحانہ کوششیں ہیں ۔

    انہوں نے کانفرنس میں شریک سوشل میڈیا کے رضا کاروں سے درخواست کی کہ اگر اس وقت عوام میں تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے حوالے سے مہم چلاٸی جاۓ تو یقینا حکومت آٸندہ بجٹ میں اس پہ ٹیکس لگانے پہ مجبور ہوگی ۔

    ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام، کنٹری لیڈ ٹوبیکو کنٹرول، وائٹل اسٹریٹیجیز اور سابقہ ​​ہیڈ ٹوبیکو کنٹرول سیل منسٹری آف NHSRC ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام نے تمباکو نوشی کو اس کی اصل روح کے مطابق لاگو کرنے کا مطالبہ کیا، جس میں سگریٹ کے پیکٹ پر تصویری صحت کے انتباہات کا سائز بڑھانا ، کھلے سگریٹ کی فروخت اور اشتہارات پر پابندی کا نفاذ شامل ہیں ۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ تمباکو پر ٹیکس میں اضافہ کیا جائے کیونکہ پانچ سال سے کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سگریٹ کو ناقابل فروخت بنانے کے لیے ہیلتھ لیوی یا ہیلتھ ٹیکس کو لاگو کرنے کی ضرورت ہے جسے صحت کے شعبے میں معیشت کو فائدہ پہنچانے اور نوجوانوں کو سگریٹ نوشی سے روکنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

    #سگریٹ_ٹیکس_بڑھاؤ ، ٹویٹر پر صارفین کا مطالبہ

    چلغوزے سستے،پڑھا لکھا ایس ایچ او،تمباکو کی قیمت ،مردم شماری کیلئے فنڈ ،کابینہ کے فیصلے

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

    تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نئی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پا سکتی ہے،ماہرین

    تمباکو اور میٹھے مشروبات پر ٹیکس میں اضافہ آنیوالے بجٹ میں کیا جائے، ثناء اللہ گھمن

    تمباکو پر ٹیکس، صحت عامہ ، آمدنی کے لئے جیت

    سگریٹ مافیا کتنا تگڑا ہے؟ اسد عمر ،شبر زیدی نے کھرا سچ میں بتا دیا