Baaghi TV

Tag: تیل

  • سعودی عرب کا ایشیا کیلئےعرب لائٹ خام تیل کی سرکاری قیمت میں کمی کا اعلان

    سعودی عرب کا ایشیا کیلئےعرب لائٹ خام تیل کی سرکاری قیمت میں کمی کا اعلان

    ریاض‌:سعودی عرب نے ایشیا کیلئے جنوری میں عرب لائٹ خام تیل کی سرکاری قیمت میں کمی کردی۔اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے جنوری میں ایشیا کیلئے عرب لائٹ خام تیل کی سرکاری قیمت فروخت (او ایس پی) کو کم کردیا ہے اور وہ عمان / دبئی کی اوسط کے مقابلے میں 3.25 ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہے۔

    سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے پیر کے روز اطلاع دی ہے کہ نئی مقرر کردہ قیمت دسمبر کی او ایس پی کے مقابلے میں 2.20 ڈالر فی بیرل کم ہے۔

    دنیا میں تیل کے سب سے بڑے برآمدکنندہ ملک نے جنوری کیلئے آئی سی ای برینٹ کے مقابلے میں شمال مغربی یورپ کیلئے اپنے عرب لائٹ کی سرکاری قیمت فروخت منفی 0.10 ڈالر فی بیرل مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے ریاست ہائے متحدہ امریکا کیلئے اے ایس سی آئی کے مقابلے میں قیمت 6.35 ڈالر فی بیرل مقرر کی ہے۔

    ادھریورپی یونین ممالک کی جانب سے روس سے سمندری راستے تیل کی درآمد پر پابندی اور 60 ڈالر فی بیرل کی حد مقرر کرنے کے فیصلے پر آج سے عمل درآمد شروع ہو گیا ہے۔

    یورپی یونین ممالک کی جانب سے ماہ جون میں قبول کردہ، روس سے سمندری راستے سے تیل کی درآمد پر پابندی پر مشتمل چھٹاپیکیج ٹرانزٹ مدت کے خاتمے کے بعد آج سے نافذ العمل ہوا ہے۔یورپی یونین کے رکن ممالک نے تیل پر پابندی پر جامع مذاکرات کئے۔

    یورپی یونین کے ممالک اتفاق رائے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، تازہ ترین پیکج میں روس سے ٹینکروں کے ذریعے تیل کی خریداری اور پائپ لائنوں کو پابندیوں سے خارج کرنے کے لیے نظر ثانی کی گئی۔یورپی یونین کے ممالک نے معاہدے تک پہنچنے کے لیے روس سے تیل کی ترسیل ہونے والی ڈرزبا پائپ لائن کو پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دے دیا۔

  • یورپی یونین کےبعد جی سیون ممالک اورآسٹریلیا کا بھی روسی تیل کی قیمتیں 60 ڈالر فی بیرل تک رکھنے پر اتفاق

    یورپی یونین کےبعد جی سیون ممالک اورآسٹریلیا کا بھی روسی تیل کی قیمتیں 60 ڈالر فی بیرل تک رکھنے پر اتفاق

    یورپی یونین کے بعد جی سیون ممالک اور آسٹریلیا نے بھی روسی تیل کی قیمتیں 60 ڈالر فی بیرل تک محدود رکھنے پر اتفاق کرلیا۔

    باغی ٹی وی : گروپ آف سیون (G7) ممالک، آسٹریلیا اور یورپی یونین نے روس کی توانائی کی فروخت کے ذریعے یوکرین کے خلاف اپنی جنگ میں مالی اعانت کی صلاحیت کو روکنے کے لیے بین الاقوامی مہم کے ایک حصے کے طور پر روسی سمندری خام تیل پر فی بیرل کی قیمت کی حد 60 ڈالر پر اتفاق کیا ہے۔

    امریکی رکن کانگریس نے پاکستان کیلئے سیلاب کی امداد بڑھانے کیلئے خط لکھ دیا

    ہولڈ آؤٹ پولینڈ کی طرف سے حمایت دینے کے بعد یورپی یونین نے جمعہ کو قیمت پر اتفاق کیا، جس سے ہفتے کے آخر میں رسمی منظوری کی راہ ہموار ہوئی۔

    جی سیون اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام سے یوکرین پر روسی جارحیت کم کرنے میں مدد ملے گی۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق روس اپنی تیل آمدن کا زیادہ حصہ یوکرین جنگ میں استعمال کررہا ہے۔

    G7 اور آسٹریلیا نے ایک بیان میں کہا کہ قیمت کی حد 5 دسمبر یا اس کے بہت جلد بعد نافذ ہو جائے گی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پرائس کیپ کولیشن کی تاثیر کو یقینی بنانے کے لیے مزید کارروائی پر بھی غور کر سکتا ہے مزید کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں اس بارے میں فوری طور پر کوئی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔

    قیمت کی حد، ایک G7 خیال، کا مقصد 5 دسمبر سے روسی خام تیل پر یورپی یونین کی پابندی کے نفاذ کے بعد تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کو روکتے ہوئے تیل کی فروخت سے روس کی آمدنی کو کم کرنا ہے۔

    پولینڈ نے $60 کی مجوزہ سطح کی مزاحمت کی تھی اور اس نے یورپی یونین کے مذاکرات میں روس کو ہونے والی آمدنی کو کم کرنے اور جنگ کی مالی اعانت کرنے کی ماسکو کی صلاحیت کو محدود کرنے کے لیے حد تک کم کرنے پر زور دیا تھا۔

    پولینڈ کے یورپی یونین کے سفیر اندرزیج ساڈوس نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے ملک نے یورپی یونین کے معاہدے کی حمایت کی ہے، جس میں تیل کی قیمت کی حد کو مارکیٹ ریٹ سے کم از کم 5 فیصد کم رکھنے کا طریقہ کار شامل ہے۔

    امریکی حکام نے کہا کہ یہ معاہدہ بے مثال تھا اور اس نے یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کی مخالفت کرنے والے اتحاد کے عزم کا اظہار کیا۔


    جمعہ کو بات چیت کے بعد، یورپی یونین کی صدارت، جو اس وقت جمہوریہ چیک کے پاس ہے، نے ٹویٹ کیا کہ "سفیروں نے روسی سمندری تیل کی قیمت کی حد پر ابھی ایک معاہدہ کیا ہے-

    امریکا نےپاکستان سمیت 12 ممالک کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنیوالےممالک کی فہرست میں شامل کرلیا

  • اوپیک پلس کے فیصلے، پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

    اوپیک پلس کے فیصلے، پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

    اسلام آباد:پاکستان نے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک پلس کے فیصلے کے تناظر میں سعودی عرب کے خلاف بیانات پر مملکت کی قیادت کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔

    اوپیک پلس فیصلے کے خلاف آنے والے بیانات پر پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ اظہاریکجہتی کا کھل کراعلان کیا ہے

    ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی قیادت کےساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے عالمی اقتصادی استحکام کو یقینی بنانےکیلئے سعودی عرب کے خلوص اوراحساس کودرست اور سراہتے ہیں

    ’پاکستان باہمی احترام پر مبنی ایسے معاملات پر تعمیری نقطہ نظر کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔‘دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم مملکت سعودی عرب کے ساتھ اپنے دیرینہ، پائیدار اور برادرانہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہیں۔‘

    ہفتے کےدن تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک کی تنظیم اوپیک کے سیکریٹری جنرل نے کہا تھاکہ ’تیل پیداوار میں کمی سے متعلق اوپیک پلس کا فیصلہ درست اور بروقت ہے۔‘اوپیک کے سیکریٹری جنرل علی بن سبت نے ایک بیان میں عندیہ دیا کہ ’اس فیصلے میں عالمی معیشت کے اردگرد کی غیر یقینی صورت حال، تیل منڈی میں عدم توازن خاص طور پر طلب اور رسد کے پہلووں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔‘

    تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک کی تنظیم اوپیک میں سعودی عرب، الجزائر، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، مصر، شام، عراق، تیونس اور لیبیا شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ اوپیک پلس نے پانچ اکتوبر کو ویانا میں اجلاس کے دوران نومبر میں تیل کی یومیہ پیداوار 20 لاکھ بیرل کم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔اجلاس کے موقع پر سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کا کہنا تھا کہ ’اوپیک پلس عالمی معیشت کے استحکام کا بنیادی ستون ہے اور رہے گا۔‘

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، گیس کی قیمت میں کمی

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، گیس کی قیمت میں کمی

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ گیس کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد تک اضافہ ہوگیا جس کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 98 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

    امریکہ نے ڈرون حملوں کی پالیسی میں تبدیلی کر دی

    ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت 93 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔

    دوسری جانب دوران ٹریڈنگ عالمی منڈی میں گیس کی قیمت میں 5 فیصڈ کمی ریکارڈ کی گئی ہے-

    قبل ازیں تیل برآمد کنندگان کی تنظیم اوپیک اورغیراوپیک ممالک پر مشتمل گروپ (اوپیک پلس) نے امریکہ سمیت دیگر ممالک کے دباؤ کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے تیل کی پیداوار میں نمایاں کٹوتی کرنے پر اتفاق کی تھا اتفاق رائے کے تحت تیل کی پیداوار میں یومیہ 20 لاکھ بیرل کی کٹوتی کی جائے گی۔

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل اور نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹس میں بتایا تھا کہ یہ اتفاق رائے ویانا میں منعقدہ اجلاس میں کیا گیا واضح رہے کہ سعودی عرب اور روس اوپیک پلس میں مرکزی کردار کے حامل ممالک ہیں۔

    واضح رہے کہ 2020 میں عالمی وبا قرار دیے جانے والے کووڈ 19 کے بعد تیل کی پیداوار میں نمایاں کمی پر پہلی مرتبہ اتفاق کیا گیا ہے۔

    امریکی صدر جوبائیڈن نے عالمی ایٹمی جنگ کے خطرے سے آگاہ کردیا

    دلچسپ امر ہے کہ یہ اتفاق رائے اییک ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب پہلے ہی تیل کی مارکیٹ سکڑ رہی ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کی بحالی میں مدد مل سکے گی۔

    عالمی مارکیٹ میں اقتصادی کساد بازاری، امریکہ میں سود کی بڑھتی ہوئی شرح اور مضبوط ڈالر کے خوف سے تیل کی فی بیرل قیمت 98 ڈالر تک ہو گئی ہے جب کہ صرف تین ماہ قبل عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی فی بیرل قیمت 120 ڈالرز تھی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اگر پیداوار میں بڑے پیمانے پر کی جانے والی کٹوتی کی وجہ سے اضافہ ہوتا ہے تویہ ممکنہ طور پر امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے قبل جو بائیڈن انتظامیہ کے لیے سخت پریشانی کا سبب بنے گا۔

    ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ مغربی ممالک کے ساتھ اوپیک پلس ممالک کے تناؤ میں اضافے کا بھی سبب بن سکتا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق امریکہ کی طرف سے اس اقدام کے جواب میں سیاسی ردعمل سامنے آسکتے ہیں جن میں اسٹریٹجک ذخیرے سے مزید اجرا اور وائلڈ کارڈز شامل ہیں جب کہ جے پی مورگن کا کہنا تھا کہ واشنگٹن تیل کے مزید ذ خائرجاری کرکے جوابی اقدامات کرے گا۔

    میانمار کی عدالت نے جاپانی فلم ساز کو 10 سال قید کی سزا سنادی

    قبل ازیں فوربز نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ OPEC+ کی جانب سے یومیہ 2 ملین بیرل تیل کی پیداوار کم کرنے پر رضامندی کے بعد پمپ کی قیمت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، یہ کوویڈ 19 وبائی امراض کے بعد پہلی مجوزہ ہدف میں کمی ہے۔ اب کیوں؟ یہ تنظیم ممکنہ طور پر عالمی اقتصادی ترقی کی رفتار میں کمی کے پیش نظر تیل کی قیمتوں میں اضافے کی کوشش کر رہی ہے۔

    یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب OPEC+ پہلے ہی اپنے ہدف سے کم پیداوار کر رہا ہے۔ اس اقدام کے اعلان کے بعد ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کا ایک بیرل تقریباً 88 ڈالر فی بیرل تھا، ستمبر کے آخر سے 11 فیصد اضافہ ہوا-

    تحقیقی تجزیہ کار نوح بیرٹ نے کہا تھا کہ مندی کی طرف، کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ اوپیک + میں کمی اس بات کا اشارہ ہے کہ تیل کی عالمی طلب کے بارے میں معنی خیز خدشات ہیں اور اوپیک + اضافی صلاحیت میں اضافہ قیمت سے کچھ کمی کے پریمیم کو لے جاتا ہے-

    ارب پتی تاجر مکیش امبانی اور ان کی اہلیہ کو قتل کی دھمکیاں

    تحقیقی تجزیہ کار نوح بیرٹ نے کہا تھا کہ جانس ہینڈرسن انویسٹرز میں توانائی اور افادیت کے لیے۔ "تیزی کی طرف، کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ OPEC+ تیل کی قیمتوں کو سپورٹ کرنے کی ایک مضبوط خواہش کا اشارہ دے رہا ہے اور مارکیٹ میں تیل کی سپلائی زیادہ قیمتوں کے لیے مثبت ہے۔

    اوپیک اور اس کے روسی اتحادی کی طرف سے پیداوار میں کمی عالمی توانائی کے صارفین کے لیے صرف ایک اور دھچکا ہے، جو روس کے یوکرین پر بلا اشتعال حملے کے بعد بہت سے مغربی ممالک کی طرف سے ماسکو پر عائد پابندیوں کے اوپر ڈھیر ہے۔

    تیل کی قیمتیں اب کہاں جائیں گی؟ مخالف سمتوں کی طرف اشارہ کرنے والی متضاد داستانوں سے جواب پیچیدہ ہے اوپیک کی پیداوار میں کمی کا مطلب تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔

  • عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں فی بیرل 80 ڈالرتک گرگئیں

    عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں فی بیرل 80 ڈالرتک گرگئیں

    نیویارک :عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں فی بیرل 80 ڈالرتک گرگئیں ہیں لیکن پاکستان میں قیمتیں بلند ہورہی ہیں بلومبرگ کےمطابق آج عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بہت زیادہ گرگئی ہیں اور اس کی بڑی وجہ روس یوکرین تنازعہ ہے

    عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کی مانٹرنگ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ جمعہ کو جنوری کے بعد پہلی بار 80 ڈالر فی بیرل سے نیچے گرا اور اس میں کمی کے چوتھے ہفتے کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔

    امریکہ اور دیگراتحادی ملکوں میں کساد بازاری کا ماحول ہے اورتیل کی گرتی ہوئی قیمتوں نے امریکی معیشت کو اور دہچکا دیا ہے ،

    دوسری طرف نائیجیریا کے وزیر تیل ٹیمپری سلوا نے کہا کہ اگر خام تیل مزید گرتا ہے تو پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم پیداوار میں کمی پر مجبور ہوسکتی ہے۔ گروپ اور اس کے اتحادیوں نے اس ماہ کے شروع میں ایک سال سے زیادہ عرصے میں پہلی سپلائی میں کمی پر اتفاق کیا۔

    بلومبرگ کا کہنا ہے کہ روس کے تیل پر یورپی یونین کی جانب سے پابندی عائد کرنے سے آگے مزید حالات خراب ہوسکتے ہیں ۔

    اس بحران پر قابوپانے کے لیے علیحدہ طور پر، رکن ممالک بھی ہفتوں کے اندر ایک سیاسی معاہدہ کرنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں جو روسی تیل پر قیمت کی حد کو نافذ کرے گا۔ صدر ولادیمیر پوٹن کی جانب سے اس ہفتے یوکرین میں جنگ کو بڑھاتے ہوئے فوجیوں کو متحرک کرنے کا اعلان کرنے کے بعد زور پکڑ گیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں سال کے آخر تک تیل کی قیمتوں میں 50 فیصد تک کمی آنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مالیاتی ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ خام تیل کی قیمتیں رواں سال کے اختتام تک 65 ڈالر فی بیرل تک گر جائیں گی۔رپورٹ کے مطابق 2023ء کے اختتام تک خام تیل کی قیمت 45 ڈالر فی بیرل ہونے کی توقعات ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کساد بازاری سے محدود ہوتی طلب کے سبب خام تیل کی قیمتیں گر سکتی ہیں۔

    رپورٹ میں خام تیل کا آؤٹ لک اوپیک اور دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک کی مداخلت کے بغیر وضع کیا گیا ہے

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • عالمی منڈی میں خام تیل مزید سستا ہوگیا

    عالمی منڈی میں خام تیل مزید سستا ہوگیا

    لندن:عالمی منڈی میں خام تیل مزید سستا ہوگیا،اطلاعات کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قدر میں 3 ڈالر فی بیرل سے زائد کمی ہوئی ہے۔مگرپاکستان میں تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھائی جارہی ہیں

    برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت 3.72 ڈالر کمی کے بعد 83.16 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔
    برطانوی خام تیل برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 3.61 ڈالر کمی کے بعد 89.22 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق فروری میں یوکرین پر روس کے حملےکے بعد یہ خام تیل کی کم ترین قیمت ہے جس کی وجہ عالمی سطح پرکساد بازاری کا خوف اور چین میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر لاک ڈاؤن کے خدشات کے باعث خام تیل کی طلب میں کمی ہے۔

    خیال رہے کہ 24 فروری 2022 کو روس نے یوکرین پر حملہ کردیا تھا جس کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں تھیں تاہم اب ان میں کمی آرہی ہے۔

    ادھر پاکستان میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کا پیٹرولیم مصنوعات کوڈی ریگولیٹ کرنے کے معاملے پر اہم اجلاس ہوا ہے۔ترجمان کے مطابق اوگرا میں ڈی ریگولیشن کے پہلےمرحلے سے متعلق اجلاس میں تیل کمپنیوں کے حکام نے شرکت کی۔

    ترجمان کا کہنا تھاکہ تیل کمپنیوں نے ڈی ریگولیشن سے متعلق اپنا مؤ قف اور تجاویزپیش کیں۔

    ترجمان نے بتایا کہ اوگرا دوسرے مرحلے میں تیل ریفائنریز اور دیگرشراکت داروں سےبات کرےگا، شراکت داروں سے ڈی ریگولیشن کا روڈ میپ تیارکرنے پر تجاویز لی جائیں گی۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • کوئٹہ: لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 20 گھنٹوں تک پہنچ گیا:صوبے کے دیگرعلاقوں کا توبہت بُرا حال

    کوئٹہ: لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 20 گھنٹوں تک پہنچ گیا:صوبے کے دیگرعلاقوں کا توبہت بُرا حال

    کوئٹہ:ایک طرف سیلاب کی تباہ کاریاں ہیں تو دوسری طرف اس مشکل صورت حال میں بلوچستان والوں کو دوہرے مسائل اورمصائب کا سامنا ہے ، اطلاعات ہیں کہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 20 گھنٹے تک پہنچ گیا جب کہ دیگر اضلاع میں بجلی غائب ہے۔حالیہ بارشوں کے سیلاب سے بلوچستان ملک میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں متاثرین لقمہ اجل بن چکے ہیں، سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن کر گھروں سے کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

    تمام صوبوں سے نجی اور سرکاری املاک کی تباہی اور علاقے میں گیس کی معطلی کے باعث بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔ .

    صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں 24 گھنٹے کے دوران صرف 4 گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے اور لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 20 زون تک پہنچ جاتا ہے جب کہ دیگر اضلاع میں بجلی دستیاب نہیں ہے۔

    دوسری جانب بجلی کے متبادل کے طور پر استعمال ہونے والے سولر پینلز کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں اور دکاندار من مانی قیمتوں پر سولر پینل فروخت کر رہے ہیں۔سولر پینلز کی بڑھتی ہوئی مانگ کے ساتھ ساتھ کوئٹہ میں بجلی کی قلت کے باعث پینلز کی قیمتوں میں بھی 6 ہزار روپے تک کا اضافہ ہوگیا ہے۔

    شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کی منظوری

    دکانداروں کا کہنا ہےکہ دوسرے صوبوں سے منقطع ہونے کےبعد اشیا نایاب ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا ہےصارفین کی سپلائی فوری طور پر بحال کی جائے تاکہ ان کی مشکلات میں کمی آئے۔

    دنیا میں تیل کی قیمت گررہی جبکہ حکومت مہنگا کررہی. شیخ رشید

    ایگزیکٹو آفیسر کیسکو کا کہنا ہے کہ سیلاب سے 27 بجلی کی لائنیں اور 336 فیڈرز متاثر ہوئے ہیں جن کی بحالی کا کام ایک ہفتے میں مکمل کر لیا جائے گا، ایک ہفتے میں بجلی کی فراہمی بحال کر دی جائے گی۔

  • روس نےیاری کاحق ادا کردیا:ہندوستان پرنوازشات ہی نوازشات

    روس نےیاری کاحق ادا کردیا:ہندوستان پرنوازشات ہی نوازشات

    ماسکو:روس نےیاری کاحق ادا کردیا:ہندوستان پرنوازشات ہی نوازشات ،اطلاعات کے مطابق روس نے تیل کی قیمت اپنے اوپیک اتحادی سعودی عرب کے مقابلے میں کم کر دی ہے۔ ہندوستانی حکومت کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق اپریل سے جون کے دوران روسی بیرل سعودی کروڈ کے مقابلے سستے تھے۔ روس نے جون میں سعودی عرب کو پیچھے چھوڑ کر ہندوستان کو دوسرا سب سے بڑا سپلائی کیا۔

    روس، چین کو سستے داموں سب سے زیادہ خام تیل سپلائی کرنے والا ملک بن گیا

    ہندوستان اور چین روسی خام تیل کے رضامند صارف بن گئے ہیں کیونکہ روس-یوکرین جنگ کے بعد بیشتر دوسرے خریداروں نے روس سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔

    جنوبی ایشیائی ملک اپنی تیل کی ضروریات کا 85 فیصد درآمد کرتا ہے اور سستی سپلائی کچھ معاشی ریلیف فراہم کرتی ہے، کیونکہ ملک کو افراط زر اور تجارتی فرق کا سامنا ہے۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق،عالمی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ ایندھن کی مانگ میں اضافے کے بعد دوسری سہ ماہی میں ملک کا خام تیل کا درآمدی بل بڑھ کر 47.5 بلین ڈالر تک پہنچ گیا۔یہ پچھلے سال کی اسی مدت میں 25.1 بلین ڈالر کے مقابلے میں، جب قیمتیں اور حجم کم تھے۔

    یوکرین پر حملے کے بعد بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود انڈیا کو سب سے زیادہ تیل فروخت کرنے والے ممالک کی فہرست میں روس، سعودی کو پیچھے چھوڑ کر دوسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔ عراق اب بھی پہلے نمبر پر ہے۔

    حکومت کاپٹرول اورڈیزل کی قیمت میں30روپےفی لٹراضافہ:عمران خان کی حکومت پرشدید تنقید

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق روس سے رعایتی نرخوں پر تیل لینے والی انڈین ریفائنری نے مئی کے مہینے میں ہی 25 ملین بیرل تیل درآمد کیا جو کل درآمدات کا 16 فیصد ہے۔رواں سال اپریل میں سمندر کے ذریعے انڈیا میں خام تیل کی کل درآمدات میں روس کا حصہ پانچ فیصد رہا، جو کہ پچھلے پورے سال اور سنہ 2022 کی پہلی سہ ماہی میں ایک فیصد سے بھی کم تھا۔

    پاک آئل ریفائنریز کا روسی تیل خریدنے سے انکار

    دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کرنے والا ملک انڈیا، یوکرین پر حملے کے بعد روس پر عائد پابندیوں کے درمیان روس سے سستے نرخوں پر تیل خریدنے کے اپنے فیصلے کا مسلسل دفاع کر رہا ہے۔

  • سعودی عرب نےحسب روایت مشکل وقت میں پاکستان کوموخرادائیگی پرتیل دینےکی حامی بھرلی

    سعودی عرب نےحسب روایت مشکل وقت میں پاکستان کوموخرادائیگی پرتیل دینےکی حامی بھرلی

    ریاض:پاکستان کو سعودی عرب سے مؤخر ادائیگی پر تیل کی اضافی سہولت ملنے کا امکان ہے اور تیل کی سہولت 1.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2.4 ارب ڈالر ہونے کا بھی امکان ہے۔

    عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاض میں حکام وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، اس سلسلے میں برادراسلامی ملک سعودی عرب نے پاکستان کو موخر ادائیگی پر تیل کی اضافی سہولت دینے کی حامی بھرلی ہے۔وزارت خزانہ حکام کا کہنا ہے کہ برادر ملک نے باضابطہ طور پر آگاہ کردیا ہے، تاہم اس حوالے سے اعلان وہ خود کریں گے۔

    حکام وزارت خزانہ نے بتایا کہ تیل کی سہولت 1.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2.4 ارب ڈالر ہونے کا امکان ہے۔وزارت خزانہ حکام کے مطابق چین بھی اب تک 4.3 ارب ڈالر کا قرضہ رول اوور کر چکا ہے، جس میں 2.3 ارب ڈالر کا کمرشل قرضہ اور 2 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس شامل ہیں۔

    ذرائع نے بتایا کہ اس وقت پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے ماہانہ 10 کروڑ ڈالر کا ادھار تیل فراہم کیا جارہا ہے، اور اگر پیکج میں توسیع ہوجاتی ہے تو پاکستان کو ماہانہ 30 کروڑ ڈالر کا ادھار تیل فراہم کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کی مشکل وقت میں مدد کی ہے ، سیلاب ہوں یا آفات،یا پھرمعاشی مشکلات سعودی حکومت اور سعودی عوام نے پاکستان کے ساتھ دل کھول کر تعاون کیا ، پاکستان کو معاشی طورپرمضبوط دیکھنے کے لیے پاکستان کے بینکوں میں اربو ڈالرز رکھے ،پاکستان کو مفت بھی تیل دیا اورجب بھی ضرورت پڑی پاکستان کو سستے نرخوں پر ادھارتیل دے کر پاکستان کی ترقی کے پہیے کو رکنے نہیں دیا

  • پولینڈ کے تیل اور گیس کے شعبوں میں مہارت سے مستفید ہونا چاہتے ہیں،مصدق ملک

    پولینڈ کے تیل اور گیس کے شعبوں میں مہارت سے مستفید ہونا چاہتے ہیں،مصدق ملک

    پاکستان میں پولینڈ کے سفیر میسیج پیسارسکی نے پولش آئل اینڈ گیس کمپنی (پی او جی سی) کے وفد کے ہمراہ وزیر مملکت برائے پٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک سے منگل کو ملاقات کی اور تیل و گیس سمیت مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔

    پولش وفد کی سربراہی رابرٹ پرکووسکی، نائب صدر و چیف آپریٹنگ آفیسر اور مینجمنٹ بورڈ کے نائب صدر مسٹر آرتھر کر رہے تھے۔وزیر مملکت نے تیل اور گیس کے شعبے میں پولینڈ کی تکنیکی مہارت سے فائدہ اٹھانے میں پاکستان کی دلچسپی کا اظہارکیا۔

    پولینڈ کا شمار یورپ میں سب سے پہلے پیٹرولیم ذخائر کی دریافت کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ پولش سفیر نے تیل اور گیس کے شعبہ میں شراکت کو پاک پولش تعلقات کا اہم ستون قرار دیا اور پاکستان میں تیل اور گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری اور ترقی میں پولینڈ کی دلچسپی کا اعادہ کیا۔

    وفد نے وزیر مملکت کے تعاون پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پی جی این آئی جی گروپ کی انتظامیہ حکومت پاکستان اور حکام کی جانب سے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ انہوں نےکہا کہ پی جی این آئی جی پرامید ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحول میں بہتری آئے گی اور وہ پاکستان کی انرجی سیکیورٹی میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے پرعزم ہے۔

    پی جی این آئی جی جسے پولش آئل اینڈ گیس کمپنی (پی او جی سی) بھی کہا جاتا ہے پاکستان میں 1997 سے پی جی این آئی جی گروپ پولینڈکے برانچ آفس کے طور پر کام کر رہا ہے۔ پاکستان کے پہلے ٹائٹ گیس کے ذخائر کی دریافتوں کا سہرا بھی اسی کمپنی کے سر ہے۔