Baaghi TV

Tag: جنگ بندی

  • روس کی 9 مئی کے دن یوکرین کو جنگ بندی کی پیشکش

    روس کی 9 مئی کے دن یوکرین کو جنگ بندی کی پیشکش

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے 9 مئی کے دن یوکرین کے ساتھ جنگ بند کرنے کی پیشکش کی ہے۔

    روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے 9 مئی کے موقع پر یوکرین کے ساتھ عارضی جنگ بندی کی پیشکش کی ہے جسے سفارتی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے 9 مئی کو روس نازی جرمنی پر سوویت یونین کی فتح کا دن مناتا ہے-

    فرانسیسی خبر ایجنسی نے روسی صدر کے سفارتی مشیر کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیوٹن نے یومِ فتح کی تقریبات کے دوران لڑائی روکنے پر آمادگی ظاہر کی تاکہ اس دن کو پرسکون ماحول میں منایا جا سکے،صدر ٹرمپ سے بات چیت کے دوران پیوٹن نے کہا کہ وہ اس بات پر تیار ہیں کہ روسی یوم فتح کی تقریبات کے دوران جنگ بندی رکھی جائے،امریکی صدر نے پیوٹن کی اس تجویز کی حمایت کی اور کہا کہ نازی جرمنی پر فتح کا دن ہماری مشترکہ فتح کا دن ہے۔

    تاہم اس ممکنہ جنگ بندی کے حوالے سے یوکرین کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ 9 مئی کو روس میں یوم فتح بھرپور انداز میں منایا جاتا ہے جو دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی کے خلاف سوویت یونین کی کامیابی کی یاد دلاتا ہے۔

  • ایران کے ساتھ ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے،امریکی صدر

    ایران کے ساتھ ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے،امریکی صدر

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے-

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو دیے گئے ٹیلیفونک انٹرویو میں ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے اہم پیش رفت کا اشارہ دیا ہےصدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے، امریکا اور ایران کے مذاکرات کار ممکنہ طور پر اسی ہفتے کے آخر میں ملاقات کریں گے، جہاں ایک حتمی معاہدے کو شکل دی جا سکتی ہے، یہ ممکنہ معاہدہ نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کر ے گا بلکہ اسرائیل کی سیکیورٹی کو بھی یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

    امریکی صدر نے لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ لبنان میں اسرائیلی حملے جنگ بندی کے حصے کے طور پر فوری بند ہوں، انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اسرائیل کو اپنی کارروائیاں روکنا ہوں گی،اسرائیل عمارتوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتا اور امریکا اس کی اجازت نہیں دے گا، ان کے اس بیان کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

  • امریکا اور ایران کچھ معاملات پر اتفاق تک پہنچ گئےتھے،ایرانی وزیر خارجہ

    امریکا اور ایران کچھ معاملات پر اتفاق تک پہنچ گئےتھے،ایرانی وزیر خارجہ

    تہران: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کچھ معاملات پر اتفاق تک پہنچ گئےتھے تاہم دو، تین اہم ایشوز کے سبب ڈیل نہ ہوسکی۔

    ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے کہنے کے بعد کہ امریکہ ایران مذاکرات میں کوئی معاہدہ نہیں ہوا اور واشنگٹن نے اپنی ‘بہترین، حتمی پیشکش’ کی ہے، اس کے بعد کسی کو بھی ایک ملاقات سے ڈیل کی توقع نہیں تھی ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والا مذاکرا ت کا یہ دور اس ایک سال میں مذاکرات کا طویل ترین دور تھا جو 24 یا 25 گھنٹے جاری رہا،دونوں فریق کچھ معاملات پر اتفاق تک پہنچ گئےتھے تاہم دو، تین اہم ایشوزکے سبب ڈیل نہ ہو سکی جبکہ دیگرامورپرنکتہ نظرمیں اختلاف موجود ہے۔

    اسماعیل بقائی نے کہا کہ سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی، یہ قومی مفادات کے تحفظ کا ایک ذریعہ ہے، یہ توقع نہیں ہونی چاہیےتھی کہ ہم ایک ہی نشست میں کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے، میرے خیال میں کسی کو بھی ایسی توقع نہیں تھی، ایران خطے میں پاکستان دیگردوستوں کے ساتھ رابطے میں رہےگا، پاکستان کی حکومت، عوام اور وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ اداکرتاہوں۔

  • مذاکرات کے موقع پر اپوزیشن کا جلسہ منسوخ کرنا قابل تعریف اقدام ہے، مفتی منیب الرحمن

    مذاکرات کے موقع پر اپوزیشن کا جلسہ منسوخ کرنا قابل تعریف اقدام ہے، مفتی منیب الرحمن

    سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمن نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں متوقع مذاکرات کے موقع پر اپوزیشن کا جلسہ منسوخ کرنا قابل تعریف اقدام ہے-

    مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ اپوزیشن کے مشترکہ رویے کی تحسین کرتے ہیں ایران امریکا جنگ بندی مثبت پیشرفت ہے اسلام آباد میں متوقع مذاکرات کے موقع پر اپوزیشن کا جلسہ منسوخ کرنا قابل تعریف اقدام ہے، یہ قدم قومی مفاد میں ہے باہمی تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے حکومت اور اپوزیشن مل کر متفقہ لائحہ عمل طے کریں تو بہتر نتائج حاصل ہو سکتے ہیں-

    انہوں نے کہا کہ اس پیشرفت سے پاکستان کو مشکلات سے نکلنے اور معیشت بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے،مثبت اقدامات سے قومی تشخص مضبوط ہوگا پاکستان کو ترکی، سعودی عرب اور امریکا کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہیے، جنگ بندی کو پٹڑی سے اتارنے کی کوششیں عالمی معیشت کے لیے نقصان دہ ہوں گی۔

    دوسری جانب قومی پیغام امن کمیٹی نے ملک بھر کے تمام مکاتب فکر کے علما و مشائخ، ذاکرین، واعظین اور خطبا سے اپیل کی ہے کہ کل بروز جمعۃ المبارک 10 اپریل 2026 کو یومِ تشکر و یومِ دعا کے طور پر منایا جائےحکومت پاکستان کی جانب سے بھی اس دن کو یومِ تشکر و دعا کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا ہے اس حوالے سے علما سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے خطباتِ جمعہ میں خصوصی طور پر شکرانے اور دعا کا اہتمام کریں۔

    چیئرمین پاکستان علما کونسل و کوآرڈینیٹر قومی پیغام امن کمیٹی حافظ محمد طاہر محمود اشرفی سمیت مفتی عبد الرحیم، سید ضیااللہ شاہ بخاری، علامہ عارف واحدی، حافظ طارق، علامہ توقیر عباس، ڈاکٹر آصف میر، مفتی محمد کریم خان، مفتی یوسف کشمیری، پیر نقیب الرحمان، علامہ محمد حسین اکبر اور مولانا افضل حیدری نے مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ دن اللہ رب العزت کے حضور شکر ادا کرنے کا ہے۔

    علمائے کرام نے کہا کہ پاکستان کی قیادت کی کوششوں اور سفارتی جدوجہد کے نتیجے میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی جبکہ عرب اسلامی ممالک اور ایران کے درمیان تصادم بھی رک گیا، یہ پیشرفت نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے اہم ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں خصوصی دعا کی جائے کہ یہ جنگ بندی مستقل امن میں تبدیل ہو اور مسلم امہ کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو فروغ ملے علما نے اس موقع پر عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ ملک و ملت کی سلامتی، استحکام اور عالمی امن کے لیے دعا کریں، پاکستان ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور بین الاقوامی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

  • پاکستان کے امن اقدامات کی حمایت،وزیراعظم شہباز شریف برطانیہ اور اتحادی ممالک کے مشکور

    پاکستان کے امن اقدامات کی حمایت،وزیراعظم شہباز شریف برطانیہ اور اتحادی ممالک کے مشکور

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے پاکستان کے امن اقدامات کی حمایت کی۔

    وزیرِ اعظم نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اپنے دوستوں اور شراکت داروں، بشمول برطانیہ، کے ساتھ مل کر خطے اور دنیا میں مستقل امن کے قیام کے لیے پرعزم ہے-

    برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان 2 ہفتوں کی جنگ بندی خوش آئند ہے اور اب مقصد جنگ کا پائیدار خاتمہ ہونا چاہیےبرطانیہ اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے کام کرے گا۔

    بدھ 8 اپریل 2026 کو جاری مشترکہ بیان میں برطانیہ سمیت فرانس، اٹلی، جرمنی، کینیڈا، ڈنمارک، نیدرلینڈز، اسپین، یورپی کمیشن، یورپی کونسل اور جاپان نے اس 2 ہفتوں کی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اور پاکستان سمیت تمام شراکت داروں کی کوششوں کو سراہا۔

    بیان میں کہا گیا کہ اب مذاکرات کے ذریعے جنگ کا جلد اور پائیدار خاتمہ ضروری ہے، اور یہ صرف سفارتی ذرائع سے ممکن ہے، جنگ بندی ایران کے شہریوں کے تحفظ، خطے میں سیکورٹی کی بحالی اور عالمی توانائی بحران کے خطرات کو کم کرنے کے لیے اہم ہے، تمام فریقین پر زور دیا گیا کہ جنگ بندی پر عمل درآمد کریں، جس میں لبنان بھی شامل ہے، اور خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی شراکت دار تعاون جاری رکھیں گے۔

  • وائٹ ہاؤس نے ایران سے جنگ بندی کیلئے پاکستان پر سفارتی دباؤ ڈالا، برطانوی اخبار کا دعویٰ

    وائٹ ہاؤس نے ایران سے جنگ بندی کیلئے پاکستان پر سفارتی دباؤ ڈالا، برطانوی اخبار کا دعویٰ

    برطانوی اخبار کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے قبل واشنگٹن نے پاکستان پر سفارتی دباؤ ڈالا تھا تاکہ تہران کو عارضی جنگ بندی پر آمادہ کیا جا سکے۔

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ ایک جانب ایران کے خلاف سخت بیانات دیتے رہے اور یہ دعویٰ کرتے رہے کہ ایران معاہد ے کے لیے بے تاب ہے، جبکہ دوسری جانب ان کی انتظامیہ پس پردہ جنگ بندی کے لیے سرگرم تھی امریکا کئی ہفتوں سے پاکستان سے رابطے میں تھا اور اس پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ ایران کو قائل کرے تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکے اور خطے میں کشیدگی کم ہو۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ایک اہم ثالث کے طور پر کردار ادا کیا، اور بطور مسلم اکثریتی ہمسایہ ملک ایران کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے میں کامیا بی حاصل کی ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں جاری بیک چینل سفارتکاری نے اہم پیشرفت ممکن بنائی یہ سفارتی کوششیں اس وقت کامیاب ہوئیں جب منگل کی رات امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان سامنے آیا، جسے خطے میں کشیدگی کم کر نے کی بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    منگل کو ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے ساتھ ہی،عاصم منیر نے ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور خصوصی ایلچی سٹیو وٹ کوف سمیت اعلیٰ امریکی حکام کو کال کرنے کا سلسلہ شروع کیا امریکہ اور پاکستان کا خیال تھا کہ اگر ایران ایک مسلم اکثریتی پڑوسی ریاست کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے جس نے تنازعہ کے دوران اپنی غیرجانبداری پر زور دیا تھا تو ایران امریکہ کی حمایت یافتہ پیشکش کو قبول کر سکتا ہے۔

    منیر کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے گفتگو کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے دو ہفتے کی تجویز کو سوشل میڈیا پر عام کیا شہباز شریف، جنہوں نے اس معاہدے کو پاکستان کی پہل قرار دیا، غلطی سے اپنی پوسٹ کے اوپری حصے میں ایک موضوع کی لکیر شامل کر دی: "مسودہ — پاکستانی وزیر اعظم کا پیغام X پر”-

    رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت سے چند گھنٹے قبل صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت دھمکیاں دی تھیں، جن میں تہذیب تباہ کرنے جیسے بیانات بھی شامل تھے تاہم پس پردہ وہ جنگ بندی کے خواہاں تھے، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور ایران کی غیر متوقع مزاحمت کے باعث ٹرمپ کم از کم 21 مارچ سے جنگ بندی کے حق میں تھے، جب انہوں نے ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی-

    ٹرمپ کی جانب سے آبنائے کو کھولنے کے لیے اپنا پہلا الٹی میٹم جاری کرنے کے فوراً بعد عاصم منیر اور دیگر سینئر پاکستانی حکام نے ایرانی سیاسی اور عسکر ی شخصیات اور وائٹ ہاؤس کے درمیان پیغامات بھیجنا شروع کر دیے۔

    انہوں نے اسلام آباد کو امن سربراہی اجلاس کے مقام کے طور پر پیش کیا، امریکہ کی طرف سے تیار کردہ 15 نکاتی تجویز اور پھر ایران کے پانچ اور 10 نکاتی ردعمل کا اشتراک کیا، اور 45 دن سے لے کر دو ہفتوں تک جنگ بندی کے آپشنز اٹھائے، دو علاقائی سفارت کاروں نے بتایا کہ دونوں فریق اپنے مطالبا ت میں بہت دور رہے، لیکن ایران، وقت گزرنے کے ساتھ، یورینیم کے اپنے ذخیرے کو کمزور کرنے اور اسے قبول کرنے کے لیے زیادہ موزوں ہو گیا-

    کئی ہفتوں کی امریکی اور اسرائیلی بمباری کے بعد، عراقچی اور تہران میں دیگر سیاسی رہنما اصولی طور پر ہرمز کے لیے عارضی جنگ بندی پر رضامند ہو گئے تھے، لیکن پاکستان کی زیر قیادت بیک چینل سے واقف دو لوگوں کے مطابق، وہ اسلامی انقلابی گارڈ کور سے حتمی منظوری حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے-

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بظاہر سخت بیانات کے باوجود سفارتی سطح پر جنگ کو روکنے کی سنجیدہ کوششیں جاری تھیں، جن میں پاکستان کا کردار کلیدی رہا۔

  • حکومت نے عارضی جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا،حافظ نعیم الرحمان

    حکومت نے عارضی جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا،حافظ نعیم الرحمان

    حافظ نعیم الرحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ عارضی جنگ بندی پر ایرانی قوم کے عزم کو سلام پیش کرتے ہیں، حکومت نے عارضی جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا، پوری پاکستانی قوم مبارک آباد کی مستحق ہے۔

    اپنے ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے گلف میں جاری کشیدگی کو نارملائز کیااور بڑی کامیابی حاصل کی، امریکہ اسرائیل کے پپٹ کے طور پر کام کررہا ہے، صہیونی دنیا بھر میں امریکہ کو استعمال کررہے ہیں، دنیا بھر میں باضمیر انسان امریکی دہشت گردی کے خلاف ہیں پاکستان کا کردار بہت اہم ہوگیا ہے،امریکہ کو اخلاقی، سفارتی اور فوجی شکست ہوئی ہے-

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان کو سب کے ساتھ مستحکم تعلقات رکھنے ہیں اور باہمی تجارتی تعاون کو بڑھانا ہے، ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کا عمل شروع کیا جائے،خلیجی ممالک اور ایران کے ساتھ آزاد تجارت اور ملکی گیس و پیٹرول کی ضروریات کو پورا کرنا ہوگا پاک سعودی عرب دفاعی معاہدے میں ترکیہ، ایران کو شامل کیا جائے اور خلیجی ممالک رضاکارانہ شریک ہوں۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ کا بیان اپنے اکاؤنٹ پر شیئر کر دیا

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ کا بیان اپنے اکاؤنٹ پر شیئر کر دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سرکاری بیان بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹروتھ سوشل پر شیئر کردیا-

    پاکستان کی اعلیٰ قیادت وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں سے امریکا اور ایران کے درمیان بڑے تصادم کو روکنے کی کامیاب کاوشوں کے بعد دونوں ممالک کی جانب سے مختلف بیانات دیئے گئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ہفتے کی جنگ بندی پر جہاں اپنی کامیابی کے قصیدے پڑھے تو وہیں انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سرکاری بیان بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹروتھ سوشل پر شیئر کیا۔

    جس عباس عراقچی انہوں نے شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کامیاب سفارتکاری اور مشرق وسطیٰ کو بحران سے بچانے میں اہم کردار ادا کرنے پر زبردست خراج تحسین پیش کیا ٹروتھ سوشل پر صدر ٹرمپ کے اکاؤنٹ سے شیئر ہونے والے اس بیان میں ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔

    بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست اور امریکہ کی جانب سے 15 نکاتی مذاکراتی تجویز کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی 10 نکاتی تجویز کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کرنے کے اعلان کے بعد ایران نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر اس کے خلاف حملے بند کیے جاتے ہیں تو اس کی مسلح افواج دفاعی کارروائیاں روک دیں گی۔

  • امریکا ایران جنگ بندی: سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

    امریکا ایران جنگ بندی: سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

    امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے-

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 28 فروری کو ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے سونے کی قیمت میں 8 فیصد سے زائد کمی آئی تھی،اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے دو ہفتوں کے لیے روکنے کے اعلان کے بعد مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کم ہوئی، جس کے باعث سرمایہ کاروں نے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کی خریداری بڑھا دی۔

    رپورٹ کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں 2.3 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 4,812 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا، جبکہ ایک موقع پر یہ 3 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 19 مارچ کے بعد بلند ترین سطح پر بھی گیا، امریکی گولڈ فیوچرز میں بھی 3.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا،دیگر دھاتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، چاندی کی قیمت 4.9 فیصد بڑھ کر 76.48 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 3.2 فیصد اضافے کے ساتھ 2,020 ڈالر جبکہ پیلیڈیم 4.1 فیصد اضافے کے بعد 1,529 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا۔

    ماہرین کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کو بڑھا سکتا ہے، جس کے باعث سونا ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر زیادہ پرکشش ہو جاتا ہے، تاہم بلند شرح سود کے ماحول میں اس کی کشش کم بھی ہو سکتی ہے۔

  • جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایرانی عوام میں جشن

    جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایرانی عوام میں جشن

    دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان ہوتے ہی ایران میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور خوشی کا اظہار کیا۔

    جنگ بندی کا اعلان ہوتے ہی ایران میں لوگ خوشی میں سڑکوں پر نکل آئے، اس دوران لوگوں نے قومی پرچم تھامے ہوئے تھے اور پرجوش نعرے بازی کی مظاہروں میں خواتین، بچے، بوڑھے ، جوان سب شامل رہے اور مختلف شہری تنصیبات کے گرد انسانی زنجیر بھی بنائی۔

    بدھ کی صبح جیسے ہی ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن سے جنگ بندی اور امریکا کی پسپائی کا اعلان کیا گیا، شہریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی۔ جہاں ایک طرف حکومت کے حامی مظاہرین فتح کے نعرے لگا رہے تھے، وہیں دوسری جانب ایک طبقہ اس معاہدے کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔

    مظاہرین کے ایک گروہ نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ان کے پرچم نذرِ آتش کیے مظاہرین کو پرامن رکھنے کے لیے منتظمین نے کوششیں کیں، لیکن عوام کا جوش و خروش کم نہ ہوا۔

    سڑکوں پر موجود لوگوں کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اس جنگ بندی کو تسلیم کر لیا ہے تو ہم بھی اس فیصلے پر راضی ہیں، کیونکہ ہمیں اپنے لیڈر کی بصیرت پر مکمل اعتماد ہے، تاہم، بہت سے شہریوں نے امریکا پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کبھی بھی قابلِ اعتبار نہیں رہا، کیونکہ ماضی میں بھی مذاکرات کے دوران حملے کیے گئے ہیں،شاید یہ جنگ بندی صرف اسرائیل کو دوبارہ منظم ہونے کے لیے وقت فراہم کرنے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔

    ادھر ایرانی موسیقار علی قمصری نے دماوند پاور پلانٹ کے باہر دھرنا دیا اور کہا حملے روکنے کے لیے موسیقی بجائیں گے دوسری جانب عراق کے دارالحکو مت بغداد میں بھی جنگ بندی پر جشن کا سماں رہا، لوگ رات گئے گھروں سے باہرنکل آئے، ایران پر مسلط جنگ روکے جانے کاخیرمقدم کیا۔