Baaghi TV

Tag: جنگ بندی

  • ایران نے امریکا سے تمام رابطے روک دیئے،ایرانی میڈیا

    ایران نے امریکا سے تمام رابطے روک دیئے،ایرانی میڈیا

    ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کے ثالثوں کے ساتھ رابطے روک دیے ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان اطلاعات کو ”غلط اور بے بنیاد“ قرار دیا ہے-

    ایران کی خبر رساں ایجنسیوں فارس اور تسنیم نے، جنہیں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھا جاتا ہے، رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے مذاکرات کاروں نے جنگ بندی کے لیے ثالثی کرنے والے فریقوں سے رابطے معطل کر دیے ہیں یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنان میں ایران نواز تنظیم حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات پر بھی پڑ رہے ہیں۔

    ثالثی کے عمل میں شامل ایک علاقائی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایران نے منگل کے روز ثالثوں کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا تہران نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ مذاکرات کے جاری رہنے کے لیے پہلے لبنان میں جنگ بندی کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی رابطوں کے خاتمے سے متعلق خبریں ”غلط اور گمراہ کن“ ہیں ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے، چار روز پہلے بھی رابطہ تھا، تین روز پہلے بھی، دو روز پہلے بھی، ایک روز پہلے بھی اور آج بھی رابطہ موجود ہے،یہ مذاکرات کہاں پہنچتے ہیں، اس کا کسی کو علم نہیں، لیکن جیسا کہ میں نے ایران سے کہا ہے، اب معاہدہ کرنے کا وقت آ گیا ہے، ایک نہ ایک طریقے سے۔“

    ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واشنگٹن میں کانگریس کی ایک سماعت کے دوران رابطوں کے تعطل سے متعلق رپورٹس پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا تاہم انہوں نے جوہری مذاکرات کے حوالے سے محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیش رفت کے امکانات موجود ہیں، اگرچہ اس بات کی کوئی ضما نت نہیں کہ فریقین ایسے معاہدے تک پہنچ جائیں گے جو سب کے لیے قابل قبول ہو،مذاکرات جاری ہیں، لیکن کسی حتمی اور قابل قبول معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

  • حزب اللہ  اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق

    حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق

    حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان امریکی تجویز کے تحت جزوی جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا۔

    لبنانی صدر جوزف عون اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے رابطے کے بعد لبنانی حکام نے تصدیق کی کہ حزب اللہ نے امریکی تجویز قبول کر لی ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان کی سفیر ندا معوض کو بتایا کہ نیتن یاہو بھی اس منصوبے پر آمادہ ہیں۔

    واشنگٹن میں لبنانی سفارتخانے کے مطابق حزب اللہ اسرائیل پر حملے روک دے گی جبکہ اسرائیل بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر فضائی حملے بند کرے گا، منگل اور بدھ کو ہونے والے مذاکرات میں جنگ بندی کے دائرہ کار کو پورے لبنان تک توسیع دینے پر بات چیت کی جائے گی، اس سے قبل اسرائیل نے بیروت کے جنوبی علاقے الضاحیہ پر حملوں کا اعلان کیا تھا۔

    دوسری جانب نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی، اگر حزب اللہ نے اسرائیلی شہروں پر حملے بند نہ کیے تو اسرائیل بیروت میں اہداف کو نشانہ بنائے گا۔

    دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ایک انتہائی مفید ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہاتھا کہ بیروت کی جانب کوئی فوج نہیں بھیجی جائے گی اور جو فوجی دستے روانہ ہوچکے ہیں انہیں واپس موڑ دیا گیا ہےاعلیٰ سطح کے نمائندوں کے ذریعے ان کا حزب اللہ کے ساتھ بھی بہت اچھا رابطہ ہوا، جس میں جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے اس مفاہمت کے تحت اسرائیل حزب اللہ پر حملہ نہیں کرے گا اور حزب اللہ بھی اسرائیل پر حملہ نہیں کرے گی۔

  • اگلے ہفتے کے دوران ایران کیساتھ معاہدہ ہو جائے گا ، ڈونلڈ ٹرمپ

    اگلے ہفتے کے دوران ایران کیساتھ معاہدہ ہو جائے گا ، ڈونلڈ ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں آئندہ ایک ہفتے کے دوران ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا جائے گا۔

    امریکی چینل اے بی سی نیوزکو انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔ تہران کی جانب سے مذاکراتی عمل روکنے کے حوالے سے واشنگٹن کو ابھی تک باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا گیا تاہم اگر ایران خاموشی اختیار کرنا چاہتا ہے تو امریکا کو اس پر کوئی اعتراض نہیں اور وہ انتظار کر سکتا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ میرے خیال میں ہم بہت زیادہ بات کر چکے ہیں، اگر سچ پوچھیں تو خاموش رہنا بہتر ہوگا انہوں نے واضح کیا کہ مذاکراتی عمل میں تعطل کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا دوبارہ وسیع پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے جارہا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم وہاں جا کر ہر طرف بمباری شروع کر دیں گے، ہم صرف خاموش رہیں گے اور ناکہ بندی برقرار رکھیں گے تاہم فوری طور پر کسی نئی فوجی مہم کا ارادہ نہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے پاس اب بھی ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے ذرائع موجود ہیں اور وہ کسی معاہدے کے لیے جلد بازی میں نہیں ہیں،میرے خیال میں میں اتنا انتظار کر سکتا ہوں جتنا وہ کرنا چاہیں۔

    امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی میڈیا میں یہ رپورٹس گردش کر رہی ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکا کے ساتھ پیغامات اور مذاکراتی رابطوں کا تبادلہ روک دیا ہے جب کہ ایران نے اس فیصلے کی وجہ اسرائیل کی جانب سے لبنان اور غزہ میں جاری کارروائیوں اور مبینہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو قرار دیا ہے۔

    دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باوجود صدر ٹرمپ نے اس بات کا اشارہ دیا کہ واشنگٹن فی الحال سفارتی اور اقتصادی دباؤ کی حکمت عملی پر قائم رہے گا جب کہ کسی ممکنہ معاہدے کے حوالے سے حتمی فیصلہ مستقبل کی پیش رفت پر منحصر ہوگا۔

    ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایران اور اس کے اتحادی آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے اور دیگر محاذوں کو فعال کرنے جیسے اقدامات پر غور کر رہے ہیں تاہم ایرانی حکام کی جانب سے تاحال مذاکرات کی معطلی کے حوالے سے کوئی باضابطہ سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔

    ایران کے وزیر خارجہ نے زور دیا کہ لبنان میں مکمل جنگ بندی امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے ایک بنیادی شرط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی کسی ایک محاذ پر ہوتی ہے تو اسے تمام محاذوں پر خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

  • مذاکراتی عمل کو بڑا دھچکا،امریکا نے ایران پر پھر حملہ کر دیا

    مذاکراتی عمل کو بڑا دھچکا،امریکا نے ایران پر پھر حملہ کر دیا

    جنگ بندی اور مذاکرات کی کوششوں کے دوران امریکا نے جنوبی ایران میں فضائی حملے کیے ، جس میں ڈرون لانچنگ تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

    سی این این کی رپورٹ کے مطابق سینٹکام نے بتایا کہ بارودی سرنگین بچھانے والی ایرانی کشتیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا امریکی فوج جاری جنگ بندی کے دوران تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی افواج کا دفاع کرے گی۔

    سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹموتھی ہاکنز نے بتایا کہ امریکی فوجیوں اور جنگی بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے یہ کارروائی ضروری تھی ، امریکی افواج کو ایرانی فوجی سرگرمیوں سے خطرہ محسوس ہو رہا تھا،اس سے پہلے ایران کے شہر بندر عباس میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں ایرانی میڈیا نے کہا تھا کہ بندرعباس میں صورتحال کنٹرول میں ہے اور تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔

  • روس کی 9 مئی کے دن یوکرین کو جنگ بندی کی پیشکش

    روس کی 9 مئی کے دن یوکرین کو جنگ بندی کی پیشکش

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے 9 مئی کے دن یوکرین کے ساتھ جنگ بند کرنے کی پیشکش کی ہے۔

    روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے 9 مئی کے موقع پر یوکرین کے ساتھ عارضی جنگ بندی کی پیشکش کی ہے جسے سفارتی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے 9 مئی کو روس نازی جرمنی پر سوویت یونین کی فتح کا دن مناتا ہے-

    فرانسیسی خبر ایجنسی نے روسی صدر کے سفارتی مشیر کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیوٹن نے یومِ فتح کی تقریبات کے دوران لڑائی روکنے پر آمادگی ظاہر کی تاکہ اس دن کو پرسکون ماحول میں منایا جا سکے،صدر ٹرمپ سے بات چیت کے دوران پیوٹن نے کہا کہ وہ اس بات پر تیار ہیں کہ روسی یوم فتح کی تقریبات کے دوران جنگ بندی رکھی جائے،امریکی صدر نے پیوٹن کی اس تجویز کی حمایت کی اور کہا کہ نازی جرمنی پر فتح کا دن ہماری مشترکہ فتح کا دن ہے۔

    تاہم اس ممکنہ جنگ بندی کے حوالے سے یوکرین کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ 9 مئی کو روس میں یوم فتح بھرپور انداز میں منایا جاتا ہے جو دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی کے خلاف سوویت یونین کی کامیابی کی یاد دلاتا ہے۔

  • ایران کے ساتھ ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے،امریکی صدر

    ایران کے ساتھ ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے،امریکی صدر

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے-

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو دیے گئے ٹیلیفونک انٹرویو میں ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے اہم پیش رفت کا اشارہ دیا ہےصدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے، امریکا اور ایران کے مذاکرات کار ممکنہ طور پر اسی ہفتے کے آخر میں ملاقات کریں گے، جہاں ایک حتمی معاہدے کو شکل دی جا سکتی ہے، یہ ممکنہ معاہدہ نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کر ے گا بلکہ اسرائیل کی سیکیورٹی کو بھی یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

    امریکی صدر نے لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ لبنان میں اسرائیلی حملے جنگ بندی کے حصے کے طور پر فوری بند ہوں، انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اسرائیل کو اپنی کارروائیاں روکنا ہوں گی،اسرائیل عمارتوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتا اور امریکا اس کی اجازت نہیں دے گا، ان کے اس بیان کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

  • امریکا اور ایران کچھ معاملات پر اتفاق تک پہنچ گئےتھے،ایرانی وزیر خارجہ

    امریکا اور ایران کچھ معاملات پر اتفاق تک پہنچ گئےتھے،ایرانی وزیر خارجہ

    تہران: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کچھ معاملات پر اتفاق تک پہنچ گئےتھے تاہم دو، تین اہم ایشوز کے سبب ڈیل نہ ہوسکی۔

    ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے کہنے کے بعد کہ امریکہ ایران مذاکرات میں کوئی معاہدہ نہیں ہوا اور واشنگٹن نے اپنی ‘بہترین، حتمی پیشکش’ کی ہے، اس کے بعد کسی کو بھی ایک ملاقات سے ڈیل کی توقع نہیں تھی ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والا مذاکرا ت کا یہ دور اس ایک سال میں مذاکرات کا طویل ترین دور تھا جو 24 یا 25 گھنٹے جاری رہا،دونوں فریق کچھ معاملات پر اتفاق تک پہنچ گئےتھے تاہم دو، تین اہم ایشوزکے سبب ڈیل نہ ہو سکی جبکہ دیگرامورپرنکتہ نظرمیں اختلاف موجود ہے۔

    اسماعیل بقائی نے کہا کہ سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی، یہ قومی مفادات کے تحفظ کا ایک ذریعہ ہے، یہ توقع نہیں ہونی چاہیےتھی کہ ہم ایک ہی نشست میں کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے، میرے خیال میں کسی کو بھی ایسی توقع نہیں تھی، ایران خطے میں پاکستان دیگردوستوں کے ساتھ رابطے میں رہےگا، پاکستان کی حکومت، عوام اور وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ اداکرتاہوں۔

  • مذاکرات کے موقع پر اپوزیشن کا جلسہ منسوخ کرنا قابل تعریف اقدام ہے، مفتی منیب الرحمن

    مذاکرات کے موقع پر اپوزیشن کا جلسہ منسوخ کرنا قابل تعریف اقدام ہے، مفتی منیب الرحمن

    سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمن نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں متوقع مذاکرات کے موقع پر اپوزیشن کا جلسہ منسوخ کرنا قابل تعریف اقدام ہے-

    مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ اپوزیشن کے مشترکہ رویے کی تحسین کرتے ہیں ایران امریکا جنگ بندی مثبت پیشرفت ہے اسلام آباد میں متوقع مذاکرات کے موقع پر اپوزیشن کا جلسہ منسوخ کرنا قابل تعریف اقدام ہے، یہ قدم قومی مفاد میں ہے باہمی تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے حکومت اور اپوزیشن مل کر متفقہ لائحہ عمل طے کریں تو بہتر نتائج حاصل ہو سکتے ہیں-

    انہوں نے کہا کہ اس پیشرفت سے پاکستان کو مشکلات سے نکلنے اور معیشت بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے،مثبت اقدامات سے قومی تشخص مضبوط ہوگا پاکستان کو ترکی، سعودی عرب اور امریکا کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہیے، جنگ بندی کو پٹڑی سے اتارنے کی کوششیں عالمی معیشت کے لیے نقصان دہ ہوں گی۔

    دوسری جانب قومی پیغام امن کمیٹی نے ملک بھر کے تمام مکاتب فکر کے علما و مشائخ، ذاکرین، واعظین اور خطبا سے اپیل کی ہے کہ کل بروز جمعۃ المبارک 10 اپریل 2026 کو یومِ تشکر و یومِ دعا کے طور پر منایا جائےحکومت پاکستان کی جانب سے بھی اس دن کو یومِ تشکر و دعا کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا ہے اس حوالے سے علما سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے خطباتِ جمعہ میں خصوصی طور پر شکرانے اور دعا کا اہتمام کریں۔

    چیئرمین پاکستان علما کونسل و کوآرڈینیٹر قومی پیغام امن کمیٹی حافظ محمد طاہر محمود اشرفی سمیت مفتی عبد الرحیم، سید ضیااللہ شاہ بخاری، علامہ عارف واحدی، حافظ طارق، علامہ توقیر عباس، ڈاکٹر آصف میر، مفتی محمد کریم خان، مفتی یوسف کشمیری، پیر نقیب الرحمان، علامہ محمد حسین اکبر اور مولانا افضل حیدری نے مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ دن اللہ رب العزت کے حضور شکر ادا کرنے کا ہے۔

    علمائے کرام نے کہا کہ پاکستان کی قیادت کی کوششوں اور سفارتی جدوجہد کے نتیجے میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی جبکہ عرب اسلامی ممالک اور ایران کے درمیان تصادم بھی رک گیا، یہ پیشرفت نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے اہم ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں خصوصی دعا کی جائے کہ یہ جنگ بندی مستقل امن میں تبدیل ہو اور مسلم امہ کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو فروغ ملے علما نے اس موقع پر عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ ملک و ملت کی سلامتی، استحکام اور عالمی امن کے لیے دعا کریں، پاکستان ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور بین الاقوامی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

  • پاکستان کے امن اقدامات کی حمایت،وزیراعظم شہباز شریف برطانیہ اور اتحادی ممالک کے مشکور

    پاکستان کے امن اقدامات کی حمایت،وزیراعظم شہباز شریف برطانیہ اور اتحادی ممالک کے مشکور

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے پاکستان کے امن اقدامات کی حمایت کی۔

    وزیرِ اعظم نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اپنے دوستوں اور شراکت داروں، بشمول برطانیہ، کے ساتھ مل کر خطے اور دنیا میں مستقل امن کے قیام کے لیے پرعزم ہے-

    برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان 2 ہفتوں کی جنگ بندی خوش آئند ہے اور اب مقصد جنگ کا پائیدار خاتمہ ہونا چاہیےبرطانیہ اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے کام کرے گا۔

    بدھ 8 اپریل 2026 کو جاری مشترکہ بیان میں برطانیہ سمیت فرانس، اٹلی، جرمنی، کینیڈا، ڈنمارک، نیدرلینڈز، اسپین، یورپی کمیشن، یورپی کونسل اور جاپان نے اس 2 ہفتوں کی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اور پاکستان سمیت تمام شراکت داروں کی کوششوں کو سراہا۔

    بیان میں کہا گیا کہ اب مذاکرات کے ذریعے جنگ کا جلد اور پائیدار خاتمہ ضروری ہے، اور یہ صرف سفارتی ذرائع سے ممکن ہے، جنگ بندی ایران کے شہریوں کے تحفظ، خطے میں سیکورٹی کی بحالی اور عالمی توانائی بحران کے خطرات کو کم کرنے کے لیے اہم ہے، تمام فریقین پر زور دیا گیا کہ جنگ بندی پر عمل درآمد کریں، جس میں لبنان بھی شامل ہے، اور خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی شراکت دار تعاون جاری رکھیں گے۔

  • وائٹ ہاؤس نے ایران سے جنگ بندی کیلئے پاکستان پر سفارتی دباؤ ڈالا، برطانوی اخبار کا دعویٰ

    وائٹ ہاؤس نے ایران سے جنگ بندی کیلئے پاکستان پر سفارتی دباؤ ڈالا، برطانوی اخبار کا دعویٰ

    برطانوی اخبار کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے قبل واشنگٹن نے پاکستان پر سفارتی دباؤ ڈالا تھا تاکہ تہران کو عارضی جنگ بندی پر آمادہ کیا جا سکے۔

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ ایک جانب ایران کے خلاف سخت بیانات دیتے رہے اور یہ دعویٰ کرتے رہے کہ ایران معاہد ے کے لیے بے تاب ہے، جبکہ دوسری جانب ان کی انتظامیہ پس پردہ جنگ بندی کے لیے سرگرم تھی امریکا کئی ہفتوں سے پاکستان سے رابطے میں تھا اور اس پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ ایران کو قائل کرے تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکے اور خطے میں کشیدگی کم ہو۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ایک اہم ثالث کے طور پر کردار ادا کیا، اور بطور مسلم اکثریتی ہمسایہ ملک ایران کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے میں کامیا بی حاصل کی ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں جاری بیک چینل سفارتکاری نے اہم پیشرفت ممکن بنائی یہ سفارتی کوششیں اس وقت کامیاب ہوئیں جب منگل کی رات امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان سامنے آیا، جسے خطے میں کشیدگی کم کر نے کی بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    منگل کو ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے ساتھ ہی،عاصم منیر نے ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور خصوصی ایلچی سٹیو وٹ کوف سمیت اعلیٰ امریکی حکام کو کال کرنے کا سلسلہ شروع کیا امریکہ اور پاکستان کا خیال تھا کہ اگر ایران ایک مسلم اکثریتی پڑوسی ریاست کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے جس نے تنازعہ کے دوران اپنی غیرجانبداری پر زور دیا تھا تو ایران امریکہ کی حمایت یافتہ پیشکش کو قبول کر سکتا ہے۔

    منیر کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے گفتگو کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے دو ہفتے کی تجویز کو سوشل میڈیا پر عام کیا شہباز شریف، جنہوں نے اس معاہدے کو پاکستان کی پہل قرار دیا، غلطی سے اپنی پوسٹ کے اوپری حصے میں ایک موضوع کی لکیر شامل کر دی: "مسودہ — پاکستانی وزیر اعظم کا پیغام X پر”-

    رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت سے چند گھنٹے قبل صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت دھمکیاں دی تھیں، جن میں تہذیب تباہ کرنے جیسے بیانات بھی شامل تھے تاہم پس پردہ وہ جنگ بندی کے خواہاں تھے، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور ایران کی غیر متوقع مزاحمت کے باعث ٹرمپ کم از کم 21 مارچ سے جنگ بندی کے حق میں تھے، جب انہوں نے ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی-

    ٹرمپ کی جانب سے آبنائے کو کھولنے کے لیے اپنا پہلا الٹی میٹم جاری کرنے کے فوراً بعد عاصم منیر اور دیگر سینئر پاکستانی حکام نے ایرانی سیاسی اور عسکر ی شخصیات اور وائٹ ہاؤس کے درمیان پیغامات بھیجنا شروع کر دیے۔

    انہوں نے اسلام آباد کو امن سربراہی اجلاس کے مقام کے طور پر پیش کیا، امریکہ کی طرف سے تیار کردہ 15 نکاتی تجویز اور پھر ایران کے پانچ اور 10 نکاتی ردعمل کا اشتراک کیا، اور 45 دن سے لے کر دو ہفتوں تک جنگ بندی کے آپشنز اٹھائے، دو علاقائی سفارت کاروں نے بتایا کہ دونوں فریق اپنے مطالبا ت میں بہت دور رہے، لیکن ایران، وقت گزرنے کے ساتھ، یورینیم کے اپنے ذخیرے کو کمزور کرنے اور اسے قبول کرنے کے لیے زیادہ موزوں ہو گیا-

    کئی ہفتوں کی امریکی اور اسرائیلی بمباری کے بعد، عراقچی اور تہران میں دیگر سیاسی رہنما اصولی طور پر ہرمز کے لیے عارضی جنگ بندی پر رضامند ہو گئے تھے، لیکن پاکستان کی زیر قیادت بیک چینل سے واقف دو لوگوں کے مطابق، وہ اسلامی انقلابی گارڈ کور سے حتمی منظوری حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے-

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بظاہر سخت بیانات کے باوجود سفارتی سطح پر جنگ کو روکنے کی سنجیدہ کوششیں جاری تھیں، جن میں پاکستان کا کردار کلیدی رہا۔