Baaghi TV

Tag: جنگ بندی

  • ہم نے جنگ بندی کو علاقائی امن اور استحکام کے مفاد میں قبول کیا ہے،وزیراعظم

    ہم نے جنگ بندی کو علاقائی امن اور استحکام کے مفاد میں قبول کیا ہے،وزیراعظم

    اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے لکھا کہ ہم صدر ٹرمپ کی قیادت اور خطے میں امن کے لیے فعال کردار کے لیے شکریہ ادا کرتے ہیں پاکستان اس موقع پر سہولت فراہم کرنے پر امریکا کو سراہتا ہے اور ہم نے جنگ بندی کو علاقائی امن اور استحکام کے مفاد میں قبول کیا ہے۔

    وزیراعظم نے نائب امریکی صدر صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جنوبی ایشیا میں امن کے لیے ان کی گرانقدر خدمات انجام دیں پاکستان کا خیال ہے کہ جنگ بندی مسائل کے حل میں ایک نئی شروعات کی نشاندہی ہے، جس کے بعد امن، خوشحالی اور استحکام کا سفر شروع ہوگا۔

  • روس اور یوکرین  بحیرہ اسود میں جنگ بندی پر آمادہ

    روس اور یوکرین بحیرہ اسود میں جنگ بندی پر آمادہ

    روس اور یوکرین نے امریکی مذاکرات کے بعد بحیرہ اسود میں جنگ بندی پر آمادہ ہو گئے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کےمطابق سعودی عرب میں روس کے ساتھ مذاکرات کے بعد وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہ گیا ہے کہ دونوں ممالک جنگی قیدیوں کے تبادلے کے لیے پُرعزم ہیں،امریکا اور یوکرین پائیدار اور دیرپا امن کے لیے کام جاری رکھیں گے، امریکا روس کی زرعی برآمدات کی بحالی میں مدد کرے گا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ مستقل قیام امن کی راہ ہموار کرنے کی ایک کوشش ہے، یہ معاہدہ توانائی اور بنیادی ڈھانچے پر حملوں کو روکنے کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

    معاہدے کی تفصیلات:
    محفوظ نیویگیشن: تمام فریقین اس بات پر متفق ہوئے کہ بحیرہ اسود میں جہاز رانی کو محفوظ بنایا جائے گا۔طاقت کے استعمال کی ممانعت: کوئی بھی ملک یہاں طاقت کا استعمال نہیں کرے گا۔تجارتی جہازوں کا تحفظ: کمرشل بحری جہازوں کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔یوکرینی وزیر دفاع، روسٹم عمروف نے بھی تصدیق کی کہ "تمام فریقین نے ان نکات پر اتفاق کر لیا ہے۔”

    واضح رہے کہ یہ جنگ بندی معاہدہ خطے میں استحکام کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب توانائی اور تجارتی راستوں کی سلامتی ایک بڑا عالمی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

    سندھ پارلیمانی کمیٹی کی طلبا کو گریس مارکس دینے کی منظوری

    ایران نے فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے لیے کوالیفائی کر لیا

  • غزہ پر فضائی حملوں کے بعد اسرائیل کے زمینی حملے شروع

    غزہ پر فضائی حملوں کے بعد اسرائیل کے زمینی حملے شروع

    اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ اس کی فورسز نے غزہ کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں زمینی کارروائی شروع کردی ہے جبکہ تازہ کارروائیوں میں 38 فلسطینی شہید ہوگئے۔

    غیر ملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے کہا کہ فورسز نے نیتزارم راہداری کا کنٹرول سنبھال لیا جو شمال اور جنوبی علاقوں کے درمیان جزوی بفرزون ہے۔حماس نے بیان میں کہا کہ نیتزارم راہداری میں مداخلت دو مہینوں کی جنگ بندی کے دوران نئی اور بدترین خلاف ورزی ہے تاہم حماس نے معاہدے پر عمل پیرا رہنے کا اعادہ کیا اور مصالحت کاروں کو اپنی ذمہ داریاں شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔

    ادھر اقوام متحدہ نے بیان میں کہا کہ اسرائیلی فضائی کارروائیوں سے غیرملکی اہلکار جاں بحق اور عملے کے دیگر 5 ارکان زخمی ہوگئے ہیں جبکہ اسرائیل نے اس حملے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے حماس کو نشانہ بنایا ہے۔فلسطینی وزارت صحت نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کے تازہ حملوں میں شمالی غزہ میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا جہاں 4 افراد شہید اور 10 زخمی ہوگئے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ بیت الاہیا میں اسرائیلی فوج نے خیمے پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں 14 افراد شہید ہوگئے ہیں۔

    خیال رہے کہ اسرائیل کی جانب سے اکتوبر 2023 میں غزہ پر شروع کیے گئے حملوں میں اب تک 49 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے ہیں اور فلسطینی حکام نے بتایا کہ غزہ پٹی میں اشیائے خوردنوش اور دیگر بنیادی ضرورت کی اشیا کی قلت کا سامنا ہے۔

    عثمان خواجہ ایک بار پھر فلسطین کے لیے بول پڑے

    دبئی حکومت کا کم قیمت گھروں کی تعمیر کا اعلان

    کراچی سےحوالہ ہنڈی میں ملوث دو ملزمان گرفتار، غیر ملکی کرنسی برآمد

    ایسا امن معاہدہ لایا جائے جو روس کو دوبارہ حملہ کرنے سے روکے، فرانسیسی صدر

  • ایسا امن معاہدہ لایا جائے جو روس کو دوبارہ حملہ کرنے سے روکے، فرانسیسی صدر

    ایسا امن معاہدہ لایا جائے جو روس کو دوبارہ حملہ کرنے سے روکے، فرانسیسی صدر

    فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ ایسا امن معاہدہ پیش کیا جائے جو روس کو دوبارہ حملہ کرنے سے روکے رکھے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ شراکت دارممالک یوکرین میں امن و امان کیلئے مشترکہ منصوبہ پیش کریں۔انہوں نے کہا کہ امن منصوبہ یوکرین کومضبوط سیکیورٹی ضمانتیں فراہم کرے، فرانسیسی صدرنے 30 دن کی جنگ بندی پررضامندی پریوکرینی صدرکی تعریف بھی کی۔انہوں نے مزید کہا کہ ماسکو اورکیف کے درمیان تنازع ختم کرنے پرامریکی صدر ٹرمپ کی کوششوں ہیں اور اب روس پر ہے وہ یہ ثابت کرے کہ واقعی امن چاہتا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ جنگ بندی کی امریکی تجویز کی حمایت کرتے ہیں لیکن امریکا سے مزید تفصیلات درکار ہیں۔امریکا اور روس کے درمیان یوکرین میں جنگ بندی سے متعلق بات چیت کے بعد یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی امریکی تجویز پر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کریں گے۔ امریکی صدر سے گفتگو کا مقصد یہ جاننا ہوگا کہ روس نے امریکا کو کیا پیشکش کی ہے، یہ جاننا بھی چاہتے ہیں کہ امریکا نے روس کو کیا پیشکش کی۔

    بحیرہ روم میں تارکیں وطن کی کشتی ڈوب گئی، 6 افراد ہلاک ، 40 لاپتا

    شاہد آفریدی کی کرکٹ ٹیم میں رد و بدل پر شدید تنقید

    شرم کی بات ہے پی ٹی آئی پاکستان کے ساتھ کھڑا نہیں ہونا چاہتی، شرجیل میمن

  • غزہ جنگ بندی پہلا مرحلہ ختم، حماس کا توسیع سے انکار

    غزہ جنگ بندی پہلا مرحلہ ختم، حماس کا توسیع سے انکار

    اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ کی پٹی میں 19 جنوری کو نافذ ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کا پہلا مرحلہ ختم ہو گیا، تاہم دوسرا مرحلہ ابھی تک غیر واضح ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق دوسرے مرحلے کے حوالے سے اسرائیل، قطر اور حماس کے وفود کے درمیان قاہرہ میں ہونے والی مذاکرات کے بارے میں زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔حماس نے جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں 42 دن کی توسیع کی تجویز مسترد کردی ہے۔ حماس کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ یہ جنگ بندی کے معاہدے سے متصادم ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ اسرائیلی تجویز میں اضافی قیدیوں کے تبادلے کے بدلے ماہ رمضان کے دوران جنگ بندی میں توسیع کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    مصر کے دو سکیورٹی ذرائع نے گذشتہ روز انکشاف کیا تھا کہ قاہرہ میں اسرائیلی وفد نے پہلے مرحلے کو مزید 42 دن تک وسعت دینے کی کوشش ہے۔تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حماس نے توسیع کی ان کوششوں کو مسترد کر دیا، اور دوسرے مرحلے میں جانے کا مطالبہ کیا جیسا کہ معاہدے کے شروع میں طے پانے والے امور پر اتفاق کیا گیا تھا۔ ایک باخبر اسرائیلی ذریعے نے بتایا کہ تل ابیب حماس کو غیر مسلح کرنے سے قبل معاہدے کا پابند نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ "غزہ کے مستقبل پر بات کرنے، حماس کو غیر مسلح کرنے اور فلسطینی اتھارٹی کو کمزور کرنا چاہتا ہے”۔

    قابل ذکر ہے کہ 19 جنوری کو شروع ہونے والے تین مرحلوں پر مشتمل معاہدے کے پہلے مرحلے میں تقریباً 2000 فلسطینی قیدیوں کے بدلے 8 لاشوں سمیت 33 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا گیا تھا۔دوسرے مرحلے میں باقی ماندہ اسرائیلی قیدیوں کی حوالگی اور تباہ شدہ فلسطینی غزہ سے اسرائیلی انخلاء طے کیا گیا۔دوسرے مرحلے میں غزہ کی انتظامیہ اور تعمیر نو پر بات چیت شروع ہوئی ہے مگر اس میں کوئی پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔

    پاکستان:صنفی بنیاد پر تشدد، 2024 میں 36 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ

    رواں ماہ محسن نقوی کو ایک اور اہم عہدہ ملے گا

    شہید ابن شہید، مولانا حامد الحق،امت مسلمہ پھر سے یتیم،تحریر:عائشہ ندیم

    شہید ابن شہید، مولانا حامد الحق،امت مسلمہ پھر سے یتیم،تحریر:عائشہ ندیم

    چوہنگ میں فائرنگ سے پولیس اہلکار جاں بحق

  • جنگ بندی،اسرائیل نے90 فلسطینی قیدی رہا کر دیئے

    جنگ بندی،اسرائیل نے90 فلسطینی قیدی رہا کر دیئے

    غزہ میں 15 ماہ سے جاری اسرائیلی جارحیت کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پایا ہے، جس کے بعد دونوں طرف کی میڈیا رپورٹس نے مختلف پہلوؤں پر تبصرہ کیا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے حماس کی 20 بٹالینز کو مکمل طور پر ختم کرنے کا دعویٰ کیا، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ بٹالینز کس حد تک تباہ ہوئیں۔ دوسری جانب فلسطینی اور حماس کے میڈیا نے جنگ بندی کو حماس کی فتح کے طور پر پیش کیا ہے اور غزہ میں حماس کے کنٹرول کے قیام کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔حماس کے عسکری ونگ "القسام بریگیڈ” کے ترجمان ابو عبیدہ نے جنگ بندی معاہدے پر اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس اس معاہدے کا احترام کرنے کے لیے پُرعزم ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کی کامیابی کا انحصار اسرائیل کے عمل پر ہے۔ ابو عبیدہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی معاہدے کا احترام کرے، کیونکہ اسرائیل کی طرف سے کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پورے معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ غزہ پر اسرائیلی قبضہ تمام برائیوں کی جڑ ہے اور حماس اس قبضے کو ختم کرنے کے لیے اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ مزاحمت جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق، غزہ پر اسرائیل کا قبضہ ہی فلسطینی عوام کی مشکلات کی وجہ ہے، اور حماس اس قبضے کے خاتمے کے لیے مسلسل جدوجہد کرے گی۔

    قیدیوں کا تبادلہ: حماس اور اسرائیل کے اقدامات
    جنگ بندی کے تحت دونوں فریقوں نے قیدیوں کا تبادلہ کیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، حماس نے 3 اسرائیلی خواتین قیدیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کیا، جنہیں اسرائیلی فوج کے خصوصی یونٹ تک پہنچایا گیا اور پھر اسرائیلی فوجی اسپتال میں منتقل کیا گیا۔ اس کے بعد اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنے جیلوں سے 90 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا، جن میں 69 خواتین اور 21 بچے شامل تھے۔یہ قیدی اسرائیلی جیلوں میں طویل عرصے سے قید تھے، اور ان کی رہائی کے بعد مغربی کنارے میں ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں کا قافلہ دو بسوں میں مغربی کنارے کے شہر بیتونیہ پہنچا، جہاں ان کا فلسطینی عوام کی جانب سے استقبال کیا گیا۔ ایک فلسطینی طالبہ نے جو ان قیدیوں میں شامل تھی، بتایا کہ اسرائیلی حراست کے دوران انہیں خوراک اور پانی کی کمی کا سامنا تھا، اور حالات انتہائی خوفناک تھے۔حماس نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ قیدیوں کا اگلا تبادلہ 25 جنوری کو ہوگا، جس میں غزہ سے 4 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی جائے گی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اس تبادلے میں حماس سے رہائی پانے والے 4 اسرائیلی یرغمالی ہوں گے۔

    جنگ بندی کے بعد اسرائیلی میڈیا نے غزہ کی صورتحال پر اپنی رپورٹس میں کہا ہے کہ حماس کے کارکن سڑکوں پر دوبارہ سرگرم نظر آ رہے ہیں، اور یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ حماس نے غزہ میں اپنا کنٹرول دوبارہ قائم کر لیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ حماس کی پولیس دوبارہ منظم ہو رہی ہے اور غزہ کا انتظام سنبھال رہی ہے۔ غزہ میں امن و امان کی بحالی میں حماس کی پولیس آگے نظر آ رہی ہے۔اسرائیلی میڈیا نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ حماس نے غزہ میں سرنگوں سے نکل کر اپنی موجودگی کو دوبارہ ظاہر کیا ہے، اور اس کی مزاحمتی فورسز ٹرکوں میں گشت کرتی نظر آ رہی ہیں۔ اسرائیلی اخبار نے کہا کہ فلسطینی میڈیا جنگ بندی کو حماس کی فتح کے طور پر پیش کر رہا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حماس نے غزہ پر اپنے کنٹرول کو برقرار رکھنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔اسرائیل نے اپنی جنگی حکمت عملی میں دعویٰ کیا کہ اس نے حماس کی 20 بٹالینز کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ تاہم اسرائیلی میڈیا نے واضح کیا کہ یہ بٹالینز تباہ نہیں ہوئیں بلکہ ان کے آپریشنل اثرات کو کم کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود، حماس نے غزہ میں اپنی حکمت عملی کو برقرار رکھا ہے اور جنگ بندی کے دوران بھی غزہ کے انتظام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔حماس کی مزاحمتی فورسز اب بھی غزہ کے مختلف علاقوں میں گشت کرتی نظر آ رہی ہیں اور اس کا عزم ظاہر کر رہی ہیں کہ وہ اسرائیل کی جارحیت کے خلاف مزاحمت جاری رکھیں گے۔

    غزہ پر اسرائیل کی جارحیت گزشتہ 15 ماہ سے جاری تھی جس میں ہزاروں فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے۔ فلسطینی محکمہ صحت کے مطابق، اسرائیل کی کارروائیوں میں 47,899 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بچے اور خواتین شامل ہیں۔ ایک لاکھ 10 ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے ہیں اور ہزاروں افراد لاپتا ہیں۔ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی اور شہری انفراسٹرکچر بھی شدید متاثر ہوا۔ جنگ بندی معاہدہ اس طویل اور تباہ کن جنگ کا خاتمہ کرنے کی کوشش ہے، لیکن اس کی کامیابی کا دارومدار دونوں طرف کی سیاسی اور عسکری حکمت عملیوں پر ہے۔

    غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ایک اہم موڑ ہے، لیکن اس کے بعد کی صورتحال پیچیدہ اور غیر یقینی نظر آ رہی ہے۔ حماس نے اپنی مزاحمت اور غزہ پر کنٹرول کو دوبارہ مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے حماس کی عسکری طاقت کو کمزور کیا ہے۔ دونوں فریقوں کی جانب سے اپنے موقف اور اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ جنگ بندی معاہدہ پائیدار امن کا باعث بنے گا یا نہیں۔

  • حماس کی 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی

    حماس کی 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی

    غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی امید، حماس نے 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی ظاہر کر دی

    غیر ملکی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس نے ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے تحت 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ اس اہم پیشرفت کے بارے میں اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ دوحہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بات چیت کا عمل دوبارہ شروع ہو چکا ہے، جس میں قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی میں کئی ماہ سے کوششیں جاری ہیں۔خبر ایجنسی کے مطابق حماس کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے قیدیوں کے تبادلے کے لیے جو فہرست فراہم کی گئی ہے، اس میں سے 34 یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حماس تیار ہے۔ حماس رہنما نے مزید کہا کہ ابتدائی تبادلے میں تمام خواتین، بچے، عمر رسیدہ اور بیمار افراد شامل ہو سکتے ہیں جو غزہ میں اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہیں۔حماس رہنما نے یہ بھی کہا کہ یہ ممکن ہے کہ کچھ یرغمالی ہلاک ہو چکے ہوں، لیکن ان کی حالت کا تعین کرنے کے لیے حماس کو مزید وقت درکار ہے۔ ان کے مطابق غزہ میں موجود حماس کے جنگجوؤں سے رابطے اور زندہ یا ہلاک یرغمالیوں کی شناخت کے لیے کم از کم ایک ہفتے کا امن ضروری ہوگا۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق دوحہ میں فریقین کے نمائندہ وفود کے درمیان بات چیت دوبارہ شروع ہونے کی توقع تھی، جو ہفتے کے اختتام تک جاری رہنی تھی۔ تاہم، حماس رہنما کے بیان کے سوا اس بات چیت کی مزید تفصیل سامنے نہیں آ سکی۔ فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ فریقین پر معاہدے پر پہنچنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے تاکہ جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے لیے ایک معاہدہ طے پائے۔

    یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے حملے کے نتیجے میں 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ بعد میں ایک عارضی معاہدے کے تحت 80 اسرائیلی یرغمالی اور 240 فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہا کر دیا گیا تھا۔ تاہم، اس وقت بھی غزہ میں 96 یرغمالی حماس کے قبضے میں ہیں، جب کہ اسرائیلی فوج کے مطابق 34 یرغمالی ہلاک ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب، غزہ پٹی پر اسرائیلی حملے جاری ہیں اور صرف گزشتہ تین دنوں میں ہونے والے اسرائیلی حملوں میں تقریباً 100 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ پٹی پر اسرائیلی حملوں میں اب تک 45,805 فلسطینی شہید اور 98,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

    دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں، تاہم غزہ کی موجودہ صورتحال اور اسرائیلی حملوں کے باعث فوری طور پر امن قائم ہونے کی کوئی واضح امید نظر نہیں آ رہی۔ جنگ بندی کے معاہدے کے کامیاب ہونے کا انحصار فریقین کے درمیان مذاکرات اور عالمی دباؤ پر ہوگا۔

    بھارتی ہیلی کاپٹرز حادثات، فضائی عملے کی صلاحیتوں پر سنگین سوال

    کراچی،تاجر پر حملے کا مقدمہ ترجمان میئر کے خلاف درج

  • مزید 34 فلسطینی شہید، جنرل اسمبلی میں فوری جنگ بندی پر ووٹنگ آج ہوگی

    مزید 34 فلسطینی شہید، جنرل اسمبلی میں فوری جنگ بندی پر ووٹنگ آج ہوگی

    اسرائیل کے غزہ کی پٹی پر حملوں
    میں کم از کم 34 فلسطینی شہید ہو گئے، اسرائیلی ٹینکوں نے غزہ کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں گھس کر حملہ کیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق طبی حکام کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ کے علاقے بیت حنون میں اسرائیل کی فضائی فورسز کی جانب سے ایک بلند عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس میں کم از کم 25 افراد شہید اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔فلسطینی سول ایمرجنسی کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں زیادہ تر کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، آن لائن پوسٹ کی جانے والی تصاویر (جن کی رائٹرز فوری طور پر تصدیق نہیں کر سکا) میں لاشوں کو شہر کی ایک اجتماعی قبر میں قطار میں دیکھا جا سکتا ہے۔ وسطی غزہ میں نصرات پناہ گزین کیمپ میں ایک گھر پر ایک اور فضائی حملے میں کم از کم 7 افراد شہید ہوئے، طبی عملے اور فلسطینی سول ایمرجنسی سروس کا کہنا ہے کہ اس حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک اور شخص نے انکلیو کے جنوب میں رفح میں 2 افراد کو ہلاک کر دیا۔مقامی لوگوں کے مطابق ساحل کے قریب دیر البلاح میں اسرائیلی بحری افواج نے 6 فلسطینی ماہی گیروں کو حراست میں لے لیا، جو بحیرہ روم میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق 14 ماہ سے جاری اسرائیلی فوج کی مہم میں اب تک 44 ہزار 700 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔امریکا کے حمایت یافتہ عرب ثالثوں مصر اور قطر کی جانب سے جنگ بندی کی کوششیں ناکام رہی ہیں، لیکن اسرائیلی اور فلسطینی حکام میں امید کے حالیہ اشارے بتاتے ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے جلد کسی معاہدے پر پہنچا جاسکتا ہے۔اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ شام میں بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد حماس کی بڑھتی ہوئی تنہائی، قیدیوں کی واپسی کے معاہدے کے دروازے کھول سکتی ہے، لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا یہ کوششیں کامیاب ہوں گی یا نہیں۔

    کےالیکٹرک کے ایریا میں سب سے زیادہ اموات ہوئیں ، نیپرا رپورٹ

    روس جلد افغان حکومت کو تسلیم کر سکتا ہے

    پاک بحریہ کی رائل عمان اور اسپین کے ساتھ مشترکہ مشقیں

  • امریکی کوششوں سے جنگ بندی ممکن ہوئی، جوبائیڈن

    امریکی کوششوں سے جنگ بندی ممکن ہوئی، جوبائیڈن

    اسرائیل حماس جنگ بندی کا آج دوسرا دن ہے، امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ امریکا کی کوشش سے غزہ میں جنگ بندی ممکن ہوئی.

    امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ یرغمالیوں کی رہائی شروعات ہے، خوشی ہوئی کہ 13 اسرائیلی رہا ہوئے، ہماری کوشش تھی کہ پہلے مرحلے میں 50 یرغمالی رہا کروائے جائیں،اب وقت آ گیا ہے کہ دو ریاستی حل پر کام کیا جائے، جنگ بندی کے لئے میں نےخطے کے رہنماؤں سے بات کی ہے، امریکا جنگ بندی پر زور دیتا رہا تاکہ یرغمالیوں کو رہا کرایا جاسکے

    واضح رہے کہ گزشتہ روز حماس نے سات اکتوبر کو یرغمال بنائے گئے افراد میں سے 24 کو رہا کیا جس کے بعد اسرائیل نے 39 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا،حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ تھائی لینڈ کے شہریوں سمیت 24 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا ہے،یرغمالیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کیا، جو انہیں براستہ مصر اسرائیل لے کر گئے،رہا ہونے والے یرغمالیوں میں دہری شہریت کے حامل افراد سمیت 13 اسرائیلی، 10 تھائی اور ایک فلپائن کا شہری شامل تھا،

    حماس کی جانب سے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بعد اسرائیلی فوج نے بھی 39 فلسطینی قیدی خواتین اور بچوں کو رہا کیا تھا،فلسطینی قیدیوں کو اسرائیل کی مختلف جیلوں سے عوفر جیل منتقل کیا گیا جہاں سے 24 فلسطینی خواتین اور 15 بچوں کو اسرائیلی حکام رہا کرتے ہوئے ریڈ کراس کے حوالے کیا گیا، رہا ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل تھے، غزہ پہنچنے پر انتہائی جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے،فلسطینی شہریوں نے قیدیوں کا بھر پور استقبال کیا اور آتش بازی کرتے ہوئے حماس کے حق میں نعرے لگائے،

    اسسرائیلی جیل سے رہائی پانے والی سارہ عبداللہ نے قید سے آزاد ہوتے ہی سڑک پر سجدہ شکر ادا کیا ۔ نابلس کی رہائشی سارہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے حماس پر فخر ہے اور مجھے غزہ سے بہت پیار ہے، اور مجھے محمد الدیف اور السنور پر فخر ہے، کیونکہ یہ وہی ہیں جو ہمارے ساتھ کھڑے تھے،اسرائیلی جیل سے رہائی پانے والے ملک سلمان کا کہنا تھا کہ دمون جیل انتظامیہ نے 7 اکتوبر کے بعد ہمیں قیدِ تنہائی میں رکھا، غزہ پٹی کے تمام شہداء سے تعزیت کرتا ہوں،رہا ہونے والی فاطمہ شاہین کا کہنا تھا کہ غزہ کے عوام کو سلام جنہوں نے صبر کیا اور قیدیوں کی رہائی کے لیے اپنا خون بہایا،ہم سب کو حماس پر اعتماد ہے جو تمام قیدیوں کو آزاد کرانے کے لیے کام کر رہی ہے، فرید نامی شخص کا کہنا تھا کہ ہمیں اسرائیلی جیلوں کے اندر مسلسل زیادتی کا نشانہ بنایا گیا

    واضح رہے کہ اسرائیلی حملوں میں تقریبا 15 ہزار سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں جن میں چھ ہزار سے زائد بچے بھی شامل ہیں، حماس کے حملوں میں تقریبا 12 سو اسرائیلی بھی ہلاک ہوئے ہیں،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

    ایرنی قدس فورس کے کمانڈر کا حماس کی حمایت و مدد کا اعلان

    غزہ،الشفا ہسپتال مسمار،29 ہسپتال بند،50 ہزار حاملہ خواتین کی پریشانی میں اضافہ

    غزہ جنگ میں امریکا خاموشی سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی بڑھا رہا ہے،بلوم برگ

     اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر کی جانب مارچ شروع کر دیا 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

     حماس کی حمایت کرنے والوں کو ختم کر دینا چاہئے

    الجزیرہ کے مطابق، جنگ بندی کا عمل شروع ہوا تو آدھے گھنٹے بعد غزہ میں شہری گھروں سے باہر نکلے تا ہم ابھی تک وہ ڈرے ہوئے ہیں، کہ اسرائیل کہیں جنگ بندی کی خلاف ورزی نہ کردے،کیونکہ اسرائیل نے غزہ میں کوئی ایسی جگہ نہیں چھوڑی جہاں بمباری نہ کی ہو.ایک فلسطینی شہری زاک ہانیہ جو بے گھر ہو چکی کا کہنا ہے کہ ہمیں نہیں معلوم ہم جنگ بندی سے خوش ہوں یا غمگین، ہمارا تو سب کچھ ختم ہو چکا، گھر ملیا میٹ ہو گئے، ہمارے دل ٹوٹ گئے، اب سب کچھ ختم ہونے کے بعد جنگ بندی،نہیں پتہ زندگی کیسے گزرے گی،ہانیہ کا کہنا تھا کہ ہم گھر نہیں جا سکتے ،ملبے تک بھی نہیں جا سکتے کیونکہ اسرائیلی فوج اجازت نہیں دے گی.ہم اب یہی دعا کر رہے ہیں کہ جنگ بندی قائم رہے.

  • حماس،اسرائیل جنگ ، عارضی جنگ بندی کا اعلان

    حماس،اسرائیل جنگ ، عارضی جنگ بندی کا اعلان

    حماس اور اسرائیل کے مابین جنگ بندی،معاہدہ طے پا گیا، قطر نے اعلان کر دیا

    قطر کی کوششوں سے حماس اور اسرائیل کے مابین عارضی جنگ بندی کی گئی ہے،قطر کی وزارت خارجہ نے اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر جنگ میں وقفہ کیا جائے گا، جنگ بندی کا آغاز 24گھنٹے کے اندر ہوگا، معاہدے کے تحت درجنوں فلسطینی اور اسرائیلی قیدیوں کا تبادلہ ہوگا

    دوسری جانب اسرائیلی کابینہ نے بھی جنگ بندی کی منظوری دی جو عارضی ہو گی، اسرائیلی کابینہ کے اجلاس میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ مشکل لیکن درست ہے،اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ غزہ میں حماس کی قید میں موجود 50 افراد کی رہائی کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور عارضی جنگ بندی کےمعاہدے کی منظوری دے دی ہے،اسرائیل نے جنگ بندی کے خاتمے کے بعد غزہ میں حماس کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا

    حماس اور اسرائیل کے مابین جنگ بندی کے حوالہ سے ہونیوالے معاہدے کے تحت حماس پچاس اسرائیلی خواتین قیدیوں اور بچوں کو رہا کرے گا، وہیں اسرائیل 150 خواتین اور قیدی بچوں کو رہا کرے گا،غزہ میں امداد بھی مصر سے جانے دی جائے گی، ایندھن بھی پہنچایا جائے گا، روزانہ 300 ٹرک سامان کے جائیں گے

    قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان عارضی جنگ بندی معاہدہ انسانی بنیادوں پر ہوا، معاہدے کے تحت امدادی سامان غزہ لے جانے کی اجازت ہو گی، امدادی سامان میں ایندھن کی ترسیل بھی شامل ہے، پہلےمرحلے میں قید خواتین اور بچوں کی رہائی کا تبادلہ شامل ہے، 4 روزہ جنگ بندی میں 50 اسرائیلی خواتین بچوں کی مرحلہ وار رہائی ہو گی،حماس مزید اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا عہد کرے تو جنگ بندی میں توسیع ہو سکتی ہے

    جنگ بندی کے معاہدے کے مطابق اسرائیل نے حماس کے مطالبے پر رہا ہونیوالے قیدیوں کی فہرست جاری کی ہے،ابتدائی طور پر اسرائیل 150 قیدیوں کو رہا کرے گا تاہم اسرائیل نے 300 قیدیوں کی فہرست جاری کی ہے، اسرائیل جن قیدیوں‌کو رہا کرے گا ان میں سے 287 افراد کی عمریں 18 برس سے کم ہیں، انہیں ہنگامہ آرائی، پتھراؤ کے الزامات کی وجہ سے اسرائیل نے گرفتار کیا تھا،13 خواتین بھی اس فہرست میں شامل ہیں،

    حماس رہنما کا پوتا اسرائیلی بمباری میں شہید
    دوسری جانب اسرائیل کی غزہ پر مسلسل بمباری جاری ہے، حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کا پوتا اسرائیلی بمباری میں مارا گیا ہے،اسرائیلی بمباری سے غزہ کی کوئی جگہ محفوظ نہیں، سکولوں، ہسپتالوں،ایمبولینس گاڑیوں، پنا ہ گزینوں‌کے کیمپوں، مساجد، چرچ پر بھی اسرائیل نے بمباری کی،اسرائیلی بمباری سے 14 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں ،گزشتہ روز کے ایک حملے میں اسماعئل ہنیہ کا پوتا جمال محمد ہنیہ بھی نشانہ بن گیا، گزشتہ دنوں اسماعیل ہنیہ کی پوتی رؤی ہمام اسماعیل ہنیہ بھی اسرائیلی بمباری میں شہید ہوگئیں تھیں

    دوسری جانب اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کی قرار داد 28 کے مقابلے میں 90 ووٹوں سے منظورکرلی،اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر حمزہ یوسف نے لیبر رہنما کیئر اسٹارمر سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ بھی جنگ بندی کی حمایت کریں

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

    ایرنی قدس فورس کے کمانڈر کا حماس کی حمایت و مدد کا اعلان

    غزہ،الشفا ہسپتال مسمار،29 ہسپتال بند،50 ہزار حاملہ خواتین کی پریشانی میں اضافہ

    غزہ جنگ میں امریکا خاموشی سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی بڑھا رہا ہے،بلوم برگ

     اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر کی جانب مارچ شروع کر دیا 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

     حماس کی حمایت کرنے والوں کو ختم کر دینا چاہئے