Baaghi TV

Tag: جنگ بندی

  • بھارتی فوج کےجنگ بندی برقرار رکھنے کیلئے مثبت اشارے

    بھارتی فوج کےجنگ بندی برقرار رکھنے کیلئے مثبت اشارے

    اسلام آباد:بھارتی رہنماؤں کے متعصبانہ بیانات کے باوجود بھارتی فوج جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے مثبت اشارے دے رہی ہے،بھارتی فوج نے کہا کہ 12 مئی کو پاکستان اور انڈیا کے درمیان طے پانیوالے جنگ بندی معاہدے کی کوئی ایکسپائری ڈیٹ نہیں۔

    بھارتی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اتوار کو ڈی جی ایم اوز کی بات چیت طے نہیں تھی جہاں تک جہاں تک دونوں ملکوں کے ڈائیریکٹر جنرلز ملٹری آپریشنز کے درمیان ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی بات ہے تو اس کی میعاد ختم ہونے کی کوئی تاریخ نہیں ہے،12 مئی کو پاکستان اور انڈیا کے درمیان طے پانیوالے جنگ بندی معاہدے کی کوئی ایکسپائری ڈیٹ نہیں

    حقیقت یہ ہے کہ بھارت امریکہ نہیں، اور پاکستان افغانستان نہیں،ترجمان پاک فوج

    ذرائع کا کہنا ہے کہ توقع ہے کہ پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز جنگ بندی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے منگل کو مذاکرات کا اگلا دور کریں گے ذرائع نے بتایا کہ بھارتی رہنماؤں کے متعصبانہ بیانات کے باوجود بھارتی فوج جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے مثبت اشارے دے رہی ہے۔
    پاک چائنہ دفاعی تعاون جنگی برتری میں تبدیل،عالمی میڈیا کا واضح اعتراف

  • جنگ بندی کے عزم پر قائم ہیں، وزیراعظم  کی برطانوی وزیر خارجہ سے ملاقات

    جنگ بندی کے عزم پر قائم ہیں، وزیراعظم کی برطانوی وزیر خارجہ سے ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف نے برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی سے ملاقات میں پاکستان کے جنگ بندی کے لیے پرعزم موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بھارتی جارحیت کے باوجود صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق، ملاقات اسلام آباد میں ہوئی جہاں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور پاک-بھارت سیز فائر پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور خطے میں استحکام کے لیے پرامن حل کا حامی ہے۔ بھارت کی بلااشتعال جارحیت کے باوجود پاکستان نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔”انہوں نے برطانیہ کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو امن کی بحالی میں اپنا فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

    اس سے قبل اسحٰق ڈار سے ملاقات
    اس ملاقات سے قبل ڈیوڈ لیمی نے وزارت خارجہ پاکستان کا دورہ کیا، جہاں ان کی ملاقات وفاقی وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ہوئی۔ اسحاق ڈار نے پاک بھارت جنگ بندی میں کردار ادا کرنے پر برطانیہ کی کوششوں کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کی خودمختاری کے خلاف بلااشتعال اور جارحانہ اقدام اُٹھایا، جو نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین المُلکی تعلقات کے بنیادی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔”

    وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق 51 کے تحت دفاع میں ایک محدود اور نپا تُلا جواب دیا، جس میں سویلین آبادیوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی گئی۔

    بھارت میں ترک کمپنی سیکیورٹی کلیئرنس منسوخ کرنے پر عدالت پہنچ گئی

    ملک بھر میں مون سون بارشوں کی تباہ کاریاں، اموات کی تعداد 820 تک جا پہنچی

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی اندرونی کہانی منظر عام پرآگئی

    بلاول بھٹو کی برطانوی سیکریٹری خارجہ سے ملاقات، پاک بھارت کشیدگی پر تبادلہ خیال

  • اقوام متحدہ کا پاک بھارت جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم

    اقوام متحدہ کا پاک بھارت جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم

    نیویارک: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے پاک بھارت جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔

    انتونیو گوٹریس نے کہا کہ امید ہے کہ جنگ بندی دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے گی اور جنوبی ایشیا میں استحکام کا باعث بنے گی۔”

    عالمی ردعمل کے تسلسل میں سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر نے پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے رابطہ کیا، جس میں اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے تعمیری اور مثبت کردار کو سراہا۔

    متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے بھی وزیر خارجہ پاکستان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے کی امید کا اظہار کیا۔

    ایران کی وزارت خارجہ نے بیان جاری کیا کہ یہ موقع دونوں ممالک کو کشیدگی کم کرنے اور خطے میں پائیدار امن کے فروغ کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔”

    جرمنی اور برطانیہ نے بھی جنگ بندی کا خیر مقدم کیا اور واضح کیا کہ صرف بات چیت ہی خطے میں پائیدار امن کی کنجی ہے۔

  • خطے کو آگ وخون میں دھکیلنے کی بھارتی و اسرائیلی سازش ناکام ہوئی ہے،مولانا فضل الرحمان

    خطے کو آگ وخون میں دھکیلنے کی بھارتی و اسرائیلی سازش ناکام ہوئی ہے،مولانا فضل الرحمان

    لاہور:جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پاک-بھارت جنگ بندی پر کہا ہے کہ خطے کو آگ وخون میں دھکیلنے کی بھارتی و اسرائیلی سازش ناکام ہوئی ہے۔

    جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مشکل گھڑی میں بھارتی جارحیت کے مقابلے میں اللہ کریم کی مدد ونصرت اور قوم کی ثابت قدمی نے پاکستان کو سرخرو کیا پوری قوم، سیاسی قائدین اور افواج پاکستان کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور حالیہ تنازع میں بے گناہ شہریوں کی شہادت کو اللہ کریم شرف قبولیت عطا فرمائے۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ خطے کو آگ وخون میں دھکیلنے کی بھارتی اور اسرائیلی سازش ناکام ہوئی ہے، مضبوط دفاعی قوت کے پس پشت سیاسی قیادت اور قوم کے اتحاد نے دشمن کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا،حالیہ تنازع میں برادر ملکوں خصوصاً سعودی عرب اور دیگر کے مثبت کرادار کو سراہتے ہیں اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

    انہوں نے دعا کی کہ اللہ کریم آئندہ بھی ہر قسم کے آزمائشوں سے محفوظ رکھے، وطن عزیز کو سلامت رکھے اور قوم کو صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست کی بہاریں نصیب ہوں۔

  • ہم نے جنگ بندی کو علاقائی امن اور استحکام کے مفاد میں قبول کیا ہے،وزیراعظم

    ہم نے جنگ بندی کو علاقائی امن اور استحکام کے مفاد میں قبول کیا ہے،وزیراعظم

    اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے لکھا کہ ہم صدر ٹرمپ کی قیادت اور خطے میں امن کے لیے فعال کردار کے لیے شکریہ ادا کرتے ہیں پاکستان اس موقع پر سہولت فراہم کرنے پر امریکا کو سراہتا ہے اور ہم نے جنگ بندی کو علاقائی امن اور استحکام کے مفاد میں قبول کیا ہے۔

    وزیراعظم نے نائب امریکی صدر صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جنوبی ایشیا میں امن کے لیے ان کی گرانقدر خدمات انجام دیں پاکستان کا خیال ہے کہ جنگ بندی مسائل کے حل میں ایک نئی شروعات کی نشاندہی ہے، جس کے بعد امن، خوشحالی اور استحکام کا سفر شروع ہوگا۔

  • روس اور یوکرین  بحیرہ اسود میں جنگ بندی پر آمادہ

    روس اور یوکرین بحیرہ اسود میں جنگ بندی پر آمادہ

    روس اور یوکرین نے امریکی مذاکرات کے بعد بحیرہ اسود میں جنگ بندی پر آمادہ ہو گئے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کےمطابق سعودی عرب میں روس کے ساتھ مذاکرات کے بعد وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہ گیا ہے کہ دونوں ممالک جنگی قیدیوں کے تبادلے کے لیے پُرعزم ہیں،امریکا اور یوکرین پائیدار اور دیرپا امن کے لیے کام جاری رکھیں گے، امریکا روس کی زرعی برآمدات کی بحالی میں مدد کرے گا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ مستقل قیام امن کی راہ ہموار کرنے کی ایک کوشش ہے، یہ معاہدہ توانائی اور بنیادی ڈھانچے پر حملوں کو روکنے کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

    معاہدے کی تفصیلات:
    محفوظ نیویگیشن: تمام فریقین اس بات پر متفق ہوئے کہ بحیرہ اسود میں جہاز رانی کو محفوظ بنایا جائے گا۔طاقت کے استعمال کی ممانعت: کوئی بھی ملک یہاں طاقت کا استعمال نہیں کرے گا۔تجارتی جہازوں کا تحفظ: کمرشل بحری جہازوں کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔یوکرینی وزیر دفاع، روسٹم عمروف نے بھی تصدیق کی کہ "تمام فریقین نے ان نکات پر اتفاق کر لیا ہے۔”

    واضح رہے کہ یہ جنگ بندی معاہدہ خطے میں استحکام کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب توانائی اور تجارتی راستوں کی سلامتی ایک بڑا عالمی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

    سندھ پارلیمانی کمیٹی کی طلبا کو گریس مارکس دینے کی منظوری

    ایران نے فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے لیے کوالیفائی کر لیا

  • غزہ پر فضائی حملوں کے بعد اسرائیل کے زمینی حملے شروع

    غزہ پر فضائی حملوں کے بعد اسرائیل کے زمینی حملے شروع

    اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ اس کی فورسز نے غزہ کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں زمینی کارروائی شروع کردی ہے جبکہ تازہ کارروائیوں میں 38 فلسطینی شہید ہوگئے۔

    غیر ملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے کہا کہ فورسز نے نیتزارم راہداری کا کنٹرول سنبھال لیا جو شمال اور جنوبی علاقوں کے درمیان جزوی بفرزون ہے۔حماس نے بیان میں کہا کہ نیتزارم راہداری میں مداخلت دو مہینوں کی جنگ بندی کے دوران نئی اور بدترین خلاف ورزی ہے تاہم حماس نے معاہدے پر عمل پیرا رہنے کا اعادہ کیا اور مصالحت کاروں کو اپنی ذمہ داریاں شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔

    ادھر اقوام متحدہ نے بیان میں کہا کہ اسرائیلی فضائی کارروائیوں سے غیرملکی اہلکار جاں بحق اور عملے کے دیگر 5 ارکان زخمی ہوگئے ہیں جبکہ اسرائیل نے اس حملے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے حماس کو نشانہ بنایا ہے۔فلسطینی وزارت صحت نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کے تازہ حملوں میں شمالی غزہ میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا جہاں 4 افراد شہید اور 10 زخمی ہوگئے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ بیت الاہیا میں اسرائیلی فوج نے خیمے پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں 14 افراد شہید ہوگئے ہیں۔

    خیال رہے کہ اسرائیل کی جانب سے اکتوبر 2023 میں غزہ پر شروع کیے گئے حملوں میں اب تک 49 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے ہیں اور فلسطینی حکام نے بتایا کہ غزہ پٹی میں اشیائے خوردنوش اور دیگر بنیادی ضرورت کی اشیا کی قلت کا سامنا ہے۔

    عثمان خواجہ ایک بار پھر فلسطین کے لیے بول پڑے

    دبئی حکومت کا کم قیمت گھروں کی تعمیر کا اعلان

    کراچی سےحوالہ ہنڈی میں ملوث دو ملزمان گرفتار، غیر ملکی کرنسی برآمد

    ایسا امن معاہدہ لایا جائے جو روس کو دوبارہ حملہ کرنے سے روکے، فرانسیسی صدر

  • ایسا امن معاہدہ لایا جائے جو روس کو دوبارہ حملہ کرنے سے روکے، فرانسیسی صدر

    ایسا امن معاہدہ لایا جائے جو روس کو دوبارہ حملہ کرنے سے روکے، فرانسیسی صدر

    فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ ایسا امن معاہدہ پیش کیا جائے جو روس کو دوبارہ حملہ کرنے سے روکے رکھے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ شراکت دارممالک یوکرین میں امن و امان کیلئے مشترکہ منصوبہ پیش کریں۔انہوں نے کہا کہ امن منصوبہ یوکرین کومضبوط سیکیورٹی ضمانتیں فراہم کرے، فرانسیسی صدرنے 30 دن کی جنگ بندی پررضامندی پریوکرینی صدرکی تعریف بھی کی۔انہوں نے مزید کہا کہ ماسکو اورکیف کے درمیان تنازع ختم کرنے پرامریکی صدر ٹرمپ کی کوششوں ہیں اور اب روس پر ہے وہ یہ ثابت کرے کہ واقعی امن چاہتا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ جنگ بندی کی امریکی تجویز کی حمایت کرتے ہیں لیکن امریکا سے مزید تفصیلات درکار ہیں۔امریکا اور روس کے درمیان یوکرین میں جنگ بندی سے متعلق بات چیت کے بعد یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی امریکی تجویز پر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کریں گے۔ امریکی صدر سے گفتگو کا مقصد یہ جاننا ہوگا کہ روس نے امریکا کو کیا پیشکش کی ہے، یہ جاننا بھی چاہتے ہیں کہ امریکا نے روس کو کیا پیشکش کی۔

    بحیرہ روم میں تارکیں وطن کی کشتی ڈوب گئی، 6 افراد ہلاک ، 40 لاپتا

    شاہد آفریدی کی کرکٹ ٹیم میں رد و بدل پر شدید تنقید

    شرم کی بات ہے پی ٹی آئی پاکستان کے ساتھ کھڑا نہیں ہونا چاہتی، شرجیل میمن

  • غزہ جنگ بندی پہلا مرحلہ ختم، حماس کا توسیع سے انکار

    غزہ جنگ بندی پہلا مرحلہ ختم، حماس کا توسیع سے انکار

    اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ کی پٹی میں 19 جنوری کو نافذ ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کا پہلا مرحلہ ختم ہو گیا، تاہم دوسرا مرحلہ ابھی تک غیر واضح ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق دوسرے مرحلے کے حوالے سے اسرائیل، قطر اور حماس کے وفود کے درمیان قاہرہ میں ہونے والی مذاکرات کے بارے میں زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔حماس نے جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں 42 دن کی توسیع کی تجویز مسترد کردی ہے۔ حماس کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ یہ جنگ بندی کے معاہدے سے متصادم ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ اسرائیلی تجویز میں اضافی قیدیوں کے تبادلے کے بدلے ماہ رمضان کے دوران جنگ بندی میں توسیع کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    مصر کے دو سکیورٹی ذرائع نے گذشتہ روز انکشاف کیا تھا کہ قاہرہ میں اسرائیلی وفد نے پہلے مرحلے کو مزید 42 دن تک وسعت دینے کی کوشش ہے۔تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حماس نے توسیع کی ان کوششوں کو مسترد کر دیا، اور دوسرے مرحلے میں جانے کا مطالبہ کیا جیسا کہ معاہدے کے شروع میں طے پانے والے امور پر اتفاق کیا گیا تھا۔ ایک باخبر اسرائیلی ذریعے نے بتایا کہ تل ابیب حماس کو غیر مسلح کرنے سے قبل معاہدے کا پابند نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ "غزہ کے مستقبل پر بات کرنے، حماس کو غیر مسلح کرنے اور فلسطینی اتھارٹی کو کمزور کرنا چاہتا ہے”۔

    قابل ذکر ہے کہ 19 جنوری کو شروع ہونے والے تین مرحلوں پر مشتمل معاہدے کے پہلے مرحلے میں تقریباً 2000 فلسطینی قیدیوں کے بدلے 8 لاشوں سمیت 33 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا گیا تھا۔دوسرے مرحلے میں باقی ماندہ اسرائیلی قیدیوں کی حوالگی اور تباہ شدہ فلسطینی غزہ سے اسرائیلی انخلاء طے کیا گیا۔دوسرے مرحلے میں غزہ کی انتظامیہ اور تعمیر نو پر بات چیت شروع ہوئی ہے مگر اس میں کوئی پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔

    پاکستان:صنفی بنیاد پر تشدد، 2024 میں 36 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ

    رواں ماہ محسن نقوی کو ایک اور اہم عہدہ ملے گا

    شہید ابن شہید، مولانا حامد الحق،امت مسلمہ پھر سے یتیم،تحریر:عائشہ ندیم

    شہید ابن شہید، مولانا حامد الحق،امت مسلمہ پھر سے یتیم،تحریر:عائشہ ندیم

    چوہنگ میں فائرنگ سے پولیس اہلکار جاں بحق

  • جنگ بندی،اسرائیل نے90 فلسطینی قیدی رہا کر دیئے

    جنگ بندی،اسرائیل نے90 فلسطینی قیدی رہا کر دیئے

    غزہ میں 15 ماہ سے جاری اسرائیلی جارحیت کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پایا ہے، جس کے بعد دونوں طرف کی میڈیا رپورٹس نے مختلف پہلوؤں پر تبصرہ کیا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے حماس کی 20 بٹالینز کو مکمل طور پر ختم کرنے کا دعویٰ کیا، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ بٹالینز کس حد تک تباہ ہوئیں۔ دوسری جانب فلسطینی اور حماس کے میڈیا نے جنگ بندی کو حماس کی فتح کے طور پر پیش کیا ہے اور غزہ میں حماس کے کنٹرول کے قیام کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔حماس کے عسکری ونگ "القسام بریگیڈ” کے ترجمان ابو عبیدہ نے جنگ بندی معاہدے پر اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس اس معاہدے کا احترام کرنے کے لیے پُرعزم ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کی کامیابی کا انحصار اسرائیل کے عمل پر ہے۔ ابو عبیدہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی معاہدے کا احترام کرے، کیونکہ اسرائیل کی طرف سے کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پورے معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ غزہ پر اسرائیلی قبضہ تمام برائیوں کی جڑ ہے اور حماس اس قبضے کو ختم کرنے کے لیے اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ مزاحمت جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق، غزہ پر اسرائیل کا قبضہ ہی فلسطینی عوام کی مشکلات کی وجہ ہے، اور حماس اس قبضے کے خاتمے کے لیے مسلسل جدوجہد کرے گی۔

    قیدیوں کا تبادلہ: حماس اور اسرائیل کے اقدامات
    جنگ بندی کے تحت دونوں فریقوں نے قیدیوں کا تبادلہ کیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، حماس نے 3 اسرائیلی خواتین قیدیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کیا، جنہیں اسرائیلی فوج کے خصوصی یونٹ تک پہنچایا گیا اور پھر اسرائیلی فوجی اسپتال میں منتقل کیا گیا۔ اس کے بعد اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنے جیلوں سے 90 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا، جن میں 69 خواتین اور 21 بچے شامل تھے۔یہ قیدی اسرائیلی جیلوں میں طویل عرصے سے قید تھے، اور ان کی رہائی کے بعد مغربی کنارے میں ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں کا قافلہ دو بسوں میں مغربی کنارے کے شہر بیتونیہ پہنچا، جہاں ان کا فلسطینی عوام کی جانب سے استقبال کیا گیا۔ ایک فلسطینی طالبہ نے جو ان قیدیوں میں شامل تھی، بتایا کہ اسرائیلی حراست کے دوران انہیں خوراک اور پانی کی کمی کا سامنا تھا، اور حالات انتہائی خوفناک تھے۔حماس نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ قیدیوں کا اگلا تبادلہ 25 جنوری کو ہوگا، جس میں غزہ سے 4 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی جائے گی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اس تبادلے میں حماس سے رہائی پانے والے 4 اسرائیلی یرغمالی ہوں گے۔

    جنگ بندی کے بعد اسرائیلی میڈیا نے غزہ کی صورتحال پر اپنی رپورٹس میں کہا ہے کہ حماس کے کارکن سڑکوں پر دوبارہ سرگرم نظر آ رہے ہیں، اور یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ حماس نے غزہ میں اپنا کنٹرول دوبارہ قائم کر لیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ حماس کی پولیس دوبارہ منظم ہو رہی ہے اور غزہ کا انتظام سنبھال رہی ہے۔ غزہ میں امن و امان کی بحالی میں حماس کی پولیس آگے نظر آ رہی ہے۔اسرائیلی میڈیا نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ حماس نے غزہ میں سرنگوں سے نکل کر اپنی موجودگی کو دوبارہ ظاہر کیا ہے، اور اس کی مزاحمتی فورسز ٹرکوں میں گشت کرتی نظر آ رہی ہیں۔ اسرائیلی اخبار نے کہا کہ فلسطینی میڈیا جنگ بندی کو حماس کی فتح کے طور پر پیش کر رہا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حماس نے غزہ پر اپنے کنٹرول کو برقرار رکھنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔اسرائیل نے اپنی جنگی حکمت عملی میں دعویٰ کیا کہ اس نے حماس کی 20 بٹالینز کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ تاہم اسرائیلی میڈیا نے واضح کیا کہ یہ بٹالینز تباہ نہیں ہوئیں بلکہ ان کے آپریشنل اثرات کو کم کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود، حماس نے غزہ میں اپنی حکمت عملی کو برقرار رکھا ہے اور جنگ بندی کے دوران بھی غزہ کے انتظام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔حماس کی مزاحمتی فورسز اب بھی غزہ کے مختلف علاقوں میں گشت کرتی نظر آ رہی ہیں اور اس کا عزم ظاہر کر رہی ہیں کہ وہ اسرائیل کی جارحیت کے خلاف مزاحمت جاری رکھیں گے۔

    غزہ پر اسرائیل کی جارحیت گزشتہ 15 ماہ سے جاری تھی جس میں ہزاروں فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے۔ فلسطینی محکمہ صحت کے مطابق، اسرائیل کی کارروائیوں میں 47,899 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بچے اور خواتین شامل ہیں۔ ایک لاکھ 10 ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے ہیں اور ہزاروں افراد لاپتا ہیں۔ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی اور شہری انفراسٹرکچر بھی شدید متاثر ہوا۔ جنگ بندی معاہدہ اس طویل اور تباہ کن جنگ کا خاتمہ کرنے کی کوشش ہے، لیکن اس کی کامیابی کا دارومدار دونوں طرف کی سیاسی اور عسکری حکمت عملیوں پر ہے۔

    غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ایک اہم موڑ ہے، لیکن اس کے بعد کی صورتحال پیچیدہ اور غیر یقینی نظر آ رہی ہے۔ حماس نے اپنی مزاحمت اور غزہ پر کنٹرول کو دوبارہ مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے حماس کی عسکری طاقت کو کمزور کیا ہے۔ دونوں فریقوں کی جانب سے اپنے موقف اور اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ جنگ بندی معاہدہ پائیدار امن کا باعث بنے گا یا نہیں۔