Baaghi TV

Tag: جنگ بندی

  • حماس کی 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی

    حماس کی 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی

    غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی امید، حماس نے 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی ظاہر کر دی

    غیر ملکی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس نے ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے تحت 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ اس اہم پیشرفت کے بارے میں اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ دوحہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بات چیت کا عمل دوبارہ شروع ہو چکا ہے، جس میں قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی میں کئی ماہ سے کوششیں جاری ہیں۔خبر ایجنسی کے مطابق حماس کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے قیدیوں کے تبادلے کے لیے جو فہرست فراہم کی گئی ہے، اس میں سے 34 یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حماس تیار ہے۔ حماس رہنما نے مزید کہا کہ ابتدائی تبادلے میں تمام خواتین، بچے، عمر رسیدہ اور بیمار افراد شامل ہو سکتے ہیں جو غزہ میں اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہیں۔حماس رہنما نے یہ بھی کہا کہ یہ ممکن ہے کہ کچھ یرغمالی ہلاک ہو چکے ہوں، لیکن ان کی حالت کا تعین کرنے کے لیے حماس کو مزید وقت درکار ہے۔ ان کے مطابق غزہ میں موجود حماس کے جنگجوؤں سے رابطے اور زندہ یا ہلاک یرغمالیوں کی شناخت کے لیے کم از کم ایک ہفتے کا امن ضروری ہوگا۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق دوحہ میں فریقین کے نمائندہ وفود کے درمیان بات چیت دوبارہ شروع ہونے کی توقع تھی، جو ہفتے کے اختتام تک جاری رہنی تھی۔ تاہم، حماس رہنما کے بیان کے سوا اس بات چیت کی مزید تفصیل سامنے نہیں آ سکی۔ فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ فریقین پر معاہدے پر پہنچنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے تاکہ جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے لیے ایک معاہدہ طے پائے۔

    یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے حملے کے نتیجے میں 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ بعد میں ایک عارضی معاہدے کے تحت 80 اسرائیلی یرغمالی اور 240 فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہا کر دیا گیا تھا۔ تاہم، اس وقت بھی غزہ میں 96 یرغمالی حماس کے قبضے میں ہیں، جب کہ اسرائیلی فوج کے مطابق 34 یرغمالی ہلاک ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب، غزہ پٹی پر اسرائیلی حملے جاری ہیں اور صرف گزشتہ تین دنوں میں ہونے والے اسرائیلی حملوں میں تقریباً 100 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ پٹی پر اسرائیلی حملوں میں اب تک 45,805 فلسطینی شہید اور 98,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

    دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں، تاہم غزہ کی موجودہ صورتحال اور اسرائیلی حملوں کے باعث فوری طور پر امن قائم ہونے کی کوئی واضح امید نظر نہیں آ رہی۔ جنگ بندی کے معاہدے کے کامیاب ہونے کا انحصار فریقین کے درمیان مذاکرات اور عالمی دباؤ پر ہوگا۔

    بھارتی ہیلی کاپٹرز حادثات، فضائی عملے کی صلاحیتوں پر سنگین سوال

    کراچی،تاجر پر حملے کا مقدمہ ترجمان میئر کے خلاف درج

  • مزید 34 فلسطینی شہید، جنرل اسمبلی میں فوری جنگ بندی پر ووٹنگ آج ہوگی

    مزید 34 فلسطینی شہید، جنرل اسمبلی میں فوری جنگ بندی پر ووٹنگ آج ہوگی

    اسرائیل کے غزہ کی پٹی پر حملوں
    میں کم از کم 34 فلسطینی شہید ہو گئے، اسرائیلی ٹینکوں نے غزہ کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں گھس کر حملہ کیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق طبی حکام کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ کے علاقے بیت حنون میں اسرائیل کی فضائی فورسز کی جانب سے ایک بلند عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس میں کم از کم 25 افراد شہید اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔فلسطینی سول ایمرجنسی کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں زیادہ تر کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، آن لائن پوسٹ کی جانے والی تصاویر (جن کی رائٹرز فوری طور پر تصدیق نہیں کر سکا) میں لاشوں کو شہر کی ایک اجتماعی قبر میں قطار میں دیکھا جا سکتا ہے۔ وسطی غزہ میں نصرات پناہ گزین کیمپ میں ایک گھر پر ایک اور فضائی حملے میں کم از کم 7 افراد شہید ہوئے، طبی عملے اور فلسطینی سول ایمرجنسی سروس کا کہنا ہے کہ اس حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک اور شخص نے انکلیو کے جنوب میں رفح میں 2 افراد کو ہلاک کر دیا۔مقامی لوگوں کے مطابق ساحل کے قریب دیر البلاح میں اسرائیلی بحری افواج نے 6 فلسطینی ماہی گیروں کو حراست میں لے لیا، جو بحیرہ روم میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق 14 ماہ سے جاری اسرائیلی فوج کی مہم میں اب تک 44 ہزار 700 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔امریکا کے حمایت یافتہ عرب ثالثوں مصر اور قطر کی جانب سے جنگ بندی کی کوششیں ناکام رہی ہیں، لیکن اسرائیلی اور فلسطینی حکام میں امید کے حالیہ اشارے بتاتے ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے جلد کسی معاہدے پر پہنچا جاسکتا ہے۔اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ شام میں بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد حماس کی بڑھتی ہوئی تنہائی، قیدیوں کی واپسی کے معاہدے کے دروازے کھول سکتی ہے، لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا یہ کوششیں کامیاب ہوں گی یا نہیں۔

    کےالیکٹرک کے ایریا میں سب سے زیادہ اموات ہوئیں ، نیپرا رپورٹ

    روس جلد افغان حکومت کو تسلیم کر سکتا ہے

    پاک بحریہ کی رائل عمان اور اسپین کے ساتھ مشترکہ مشقیں

  • امریکی کوششوں سے جنگ بندی ممکن ہوئی، جوبائیڈن

    امریکی کوششوں سے جنگ بندی ممکن ہوئی، جوبائیڈن

    اسرائیل حماس جنگ بندی کا آج دوسرا دن ہے، امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ امریکا کی کوشش سے غزہ میں جنگ بندی ممکن ہوئی.

    امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ یرغمالیوں کی رہائی شروعات ہے، خوشی ہوئی کہ 13 اسرائیلی رہا ہوئے، ہماری کوشش تھی کہ پہلے مرحلے میں 50 یرغمالی رہا کروائے جائیں،اب وقت آ گیا ہے کہ دو ریاستی حل پر کام کیا جائے، جنگ بندی کے لئے میں نےخطے کے رہنماؤں سے بات کی ہے، امریکا جنگ بندی پر زور دیتا رہا تاکہ یرغمالیوں کو رہا کرایا جاسکے

    واضح رہے کہ گزشتہ روز حماس نے سات اکتوبر کو یرغمال بنائے گئے افراد میں سے 24 کو رہا کیا جس کے بعد اسرائیل نے 39 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا،حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ تھائی لینڈ کے شہریوں سمیت 24 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا ہے،یرغمالیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کیا، جو انہیں براستہ مصر اسرائیل لے کر گئے،رہا ہونے والے یرغمالیوں میں دہری شہریت کے حامل افراد سمیت 13 اسرائیلی، 10 تھائی اور ایک فلپائن کا شہری شامل تھا،

    حماس کی جانب سے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بعد اسرائیلی فوج نے بھی 39 فلسطینی قیدی خواتین اور بچوں کو رہا کیا تھا،فلسطینی قیدیوں کو اسرائیل کی مختلف جیلوں سے عوفر جیل منتقل کیا گیا جہاں سے 24 فلسطینی خواتین اور 15 بچوں کو اسرائیلی حکام رہا کرتے ہوئے ریڈ کراس کے حوالے کیا گیا، رہا ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل تھے، غزہ پہنچنے پر انتہائی جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے،فلسطینی شہریوں نے قیدیوں کا بھر پور استقبال کیا اور آتش بازی کرتے ہوئے حماس کے حق میں نعرے لگائے،

    اسسرائیلی جیل سے رہائی پانے والی سارہ عبداللہ نے قید سے آزاد ہوتے ہی سڑک پر سجدہ شکر ادا کیا ۔ نابلس کی رہائشی سارہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے حماس پر فخر ہے اور مجھے غزہ سے بہت پیار ہے، اور مجھے محمد الدیف اور السنور پر فخر ہے، کیونکہ یہ وہی ہیں جو ہمارے ساتھ کھڑے تھے،اسرائیلی جیل سے رہائی پانے والے ملک سلمان کا کہنا تھا کہ دمون جیل انتظامیہ نے 7 اکتوبر کے بعد ہمیں قیدِ تنہائی میں رکھا، غزہ پٹی کے تمام شہداء سے تعزیت کرتا ہوں،رہا ہونے والی فاطمہ شاہین کا کہنا تھا کہ غزہ کے عوام کو سلام جنہوں نے صبر کیا اور قیدیوں کی رہائی کے لیے اپنا خون بہایا،ہم سب کو حماس پر اعتماد ہے جو تمام قیدیوں کو آزاد کرانے کے لیے کام کر رہی ہے، فرید نامی شخص کا کہنا تھا کہ ہمیں اسرائیلی جیلوں کے اندر مسلسل زیادتی کا نشانہ بنایا گیا

    واضح رہے کہ اسرائیلی حملوں میں تقریبا 15 ہزار سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں جن میں چھ ہزار سے زائد بچے بھی شامل ہیں، حماس کے حملوں میں تقریبا 12 سو اسرائیلی بھی ہلاک ہوئے ہیں،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

    ایرنی قدس فورس کے کمانڈر کا حماس کی حمایت و مدد کا اعلان

    غزہ،الشفا ہسپتال مسمار،29 ہسپتال بند،50 ہزار حاملہ خواتین کی پریشانی میں اضافہ

    غزہ جنگ میں امریکا خاموشی سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی بڑھا رہا ہے،بلوم برگ

     اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر کی جانب مارچ شروع کر دیا 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

     حماس کی حمایت کرنے والوں کو ختم کر دینا چاہئے

    الجزیرہ کے مطابق، جنگ بندی کا عمل شروع ہوا تو آدھے گھنٹے بعد غزہ میں شہری گھروں سے باہر نکلے تا ہم ابھی تک وہ ڈرے ہوئے ہیں، کہ اسرائیل کہیں جنگ بندی کی خلاف ورزی نہ کردے،کیونکہ اسرائیل نے غزہ میں کوئی ایسی جگہ نہیں چھوڑی جہاں بمباری نہ کی ہو.ایک فلسطینی شہری زاک ہانیہ جو بے گھر ہو چکی کا کہنا ہے کہ ہمیں نہیں معلوم ہم جنگ بندی سے خوش ہوں یا غمگین، ہمارا تو سب کچھ ختم ہو چکا، گھر ملیا میٹ ہو گئے، ہمارے دل ٹوٹ گئے، اب سب کچھ ختم ہونے کے بعد جنگ بندی،نہیں پتہ زندگی کیسے گزرے گی،ہانیہ کا کہنا تھا کہ ہم گھر نہیں جا سکتے ،ملبے تک بھی نہیں جا سکتے کیونکہ اسرائیلی فوج اجازت نہیں دے گی.ہم اب یہی دعا کر رہے ہیں کہ جنگ بندی قائم رہے.

  • حماس،اسرائیل جنگ ، عارضی جنگ بندی کا اعلان

    حماس،اسرائیل جنگ ، عارضی جنگ بندی کا اعلان

    حماس اور اسرائیل کے مابین جنگ بندی،معاہدہ طے پا گیا، قطر نے اعلان کر دیا

    قطر کی کوششوں سے حماس اور اسرائیل کے مابین عارضی جنگ بندی کی گئی ہے،قطر کی وزارت خارجہ نے اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر جنگ میں وقفہ کیا جائے گا، جنگ بندی کا آغاز 24گھنٹے کے اندر ہوگا، معاہدے کے تحت درجنوں فلسطینی اور اسرائیلی قیدیوں کا تبادلہ ہوگا

    دوسری جانب اسرائیلی کابینہ نے بھی جنگ بندی کی منظوری دی جو عارضی ہو گی، اسرائیلی کابینہ کے اجلاس میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ مشکل لیکن درست ہے،اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ غزہ میں حماس کی قید میں موجود 50 افراد کی رہائی کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور عارضی جنگ بندی کےمعاہدے کی منظوری دے دی ہے،اسرائیل نے جنگ بندی کے خاتمے کے بعد غزہ میں حماس کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا

    حماس اور اسرائیل کے مابین جنگ بندی کے حوالہ سے ہونیوالے معاہدے کے تحت حماس پچاس اسرائیلی خواتین قیدیوں اور بچوں کو رہا کرے گا، وہیں اسرائیل 150 خواتین اور قیدی بچوں کو رہا کرے گا،غزہ میں امداد بھی مصر سے جانے دی جائے گی، ایندھن بھی پہنچایا جائے گا، روزانہ 300 ٹرک سامان کے جائیں گے

    قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان عارضی جنگ بندی معاہدہ انسانی بنیادوں پر ہوا، معاہدے کے تحت امدادی سامان غزہ لے جانے کی اجازت ہو گی، امدادی سامان میں ایندھن کی ترسیل بھی شامل ہے، پہلےمرحلے میں قید خواتین اور بچوں کی رہائی کا تبادلہ شامل ہے، 4 روزہ جنگ بندی میں 50 اسرائیلی خواتین بچوں کی مرحلہ وار رہائی ہو گی،حماس مزید اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا عہد کرے تو جنگ بندی میں توسیع ہو سکتی ہے

    جنگ بندی کے معاہدے کے مطابق اسرائیل نے حماس کے مطالبے پر رہا ہونیوالے قیدیوں کی فہرست جاری کی ہے،ابتدائی طور پر اسرائیل 150 قیدیوں کو رہا کرے گا تاہم اسرائیل نے 300 قیدیوں کی فہرست جاری کی ہے، اسرائیل جن قیدیوں‌کو رہا کرے گا ان میں سے 287 افراد کی عمریں 18 برس سے کم ہیں، انہیں ہنگامہ آرائی، پتھراؤ کے الزامات کی وجہ سے اسرائیل نے گرفتار کیا تھا،13 خواتین بھی اس فہرست میں شامل ہیں،

    حماس رہنما کا پوتا اسرائیلی بمباری میں شہید
    دوسری جانب اسرائیل کی غزہ پر مسلسل بمباری جاری ہے، حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کا پوتا اسرائیلی بمباری میں مارا گیا ہے،اسرائیلی بمباری سے غزہ کی کوئی جگہ محفوظ نہیں، سکولوں، ہسپتالوں،ایمبولینس گاڑیوں، پنا ہ گزینوں‌کے کیمپوں، مساجد، چرچ پر بھی اسرائیل نے بمباری کی،اسرائیلی بمباری سے 14 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں ،گزشتہ روز کے ایک حملے میں اسماعئل ہنیہ کا پوتا جمال محمد ہنیہ بھی نشانہ بن گیا، گزشتہ دنوں اسماعیل ہنیہ کی پوتی رؤی ہمام اسماعیل ہنیہ بھی اسرائیلی بمباری میں شہید ہوگئیں تھیں

    دوسری جانب اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کی قرار داد 28 کے مقابلے میں 90 ووٹوں سے منظورکرلی،اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر حمزہ یوسف نے لیبر رہنما کیئر اسٹارمر سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ بھی جنگ بندی کی حمایت کریں

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

    ایرنی قدس فورس کے کمانڈر کا حماس کی حمایت و مدد کا اعلان

    غزہ،الشفا ہسپتال مسمار،29 ہسپتال بند،50 ہزار حاملہ خواتین کی پریشانی میں اضافہ

    غزہ جنگ میں امریکا خاموشی سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی بڑھا رہا ہے،بلوم برگ

     اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر کی جانب مارچ شروع کر دیا 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

     حماس کی حمایت کرنے والوں کو ختم کر دینا چاہئے

  • عرب اتحاد کا یمن میں رمضان المبارک میں جنگ بندی کا اعلان

    عرب اتحاد کا یمن میں رمضان المبارک میں جنگ بندی کا اعلان

    یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لئے سرگرم عرب اتحاد نے رمضان المبارک میں جنگ بندی کا اعلان کیا ہے تاکہ امن مذاکرات کے لئے سازگار ماحول قائم کیا جا سکے۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق اتحاد کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل ترکی المالکی نے اپنے بیان میں بتایا کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی آرزو پر عرب اتحاد کی قیادت نے 30 مارچ کو صبح 6 بجے سے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے تاکہ امن مذاکرات کی کامیابی کے لئے سازگار ماحول بنایا جائے اور ماہ مقدس رمضان المبارک کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یمن میں سلامتی اور استحکام لایا جاسکے۔

    اتحاد کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل ترکی المالکی نے مزید کہا کہ عرب اتحاد کا یہ اقدام اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے یمن اور سعودی حکومت کی جانب سے یمنی بحران کے خاتمے کے سیاسی حل کی کوششوں کا ہی حصہ ہے۔

    نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے اسرائیل میں 5 افراد ہلاک

    عرب اتحاد کی جانب سے یہ اعلان خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر نائف الحجرف کی طرف سے یمن میں جنگ بندی کے مطالبے کے کچھ ہی گھنٹے بعد کیا گیا ہے۔

    منگل کو خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل نایف الحجرف نے یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے عرب فوجی اتحاد کی قیادت اور تمام یمنی فریقین سے مشاورت کو کامیاب بنانے کے لیے فوجی کارروائیاں بند کرنے کی اپیل کی تھی-

    سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ یہ کال تمام جماعتوں کے لیے ہے جبکہ انصار اللہ کو ایک بار پھر دعوت دی گئی ہے کہ وہ اپنے ’یمنی بھائیوں‘ کے ساتھ بات چیت میں شریک ہوں اور یمنی عوام کی مشکلات کو دور کرنے اور یمن کے مفاد کے لیے کے لیے آگے آئیں۔

    سعودی عرب کی دھمکی کام کرگئی:حوثی باغیوں کا تین روز کیلئےحملےبند کرنےکا اعلان

    واضح رہے کہ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت اور ایران نواز حوثی ملیشیا کے درمیان امن کے قیام کے لئے امریکا اور اقوام متحدہ کی سربراہی میں سعودی عرب میں مذاکرات کے دور کا پہلا دن منگل کو منعقد ہوا تھا حوثی باغیوں نے ان مذاکرات میں شمولیت سے انکار کر دیا تھا اور حالیہ سالوں میں مذاکرات میں شمولیت کی بار بار دعوتوں کے باوجود کسی پر امن حل کی کوشش کا حصہ بننے سے انکار کرتے آئے ہیں۔

    اس سے قبل امریکی خصوصی نمائندہ برائے یمن ٹم لینڈرکنگ خطے کے دورے پر پہنچے جو کہ ان کے دفتر کے مطابق یمن میں جاری تنازعے کے پر امن حل اور یمنی عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کی امریکی سفارتی کوششوں کا تسلسل رکھیں گے امریکی وزارت خارجہ کے مطابق لینڈرکنگ بھی ان مذاکرات کا حصہ بنیں گے اور یمنی شرکاء سے بات چیت کریں گے-

    سعودی عرب :جدہ میں تیل کی ترسیل کے اہم اسٹیشن پر حوثی باغیوں کا حملہ:ہرطرف آگ ہی…

    خیال رہے کہ جمعے کو ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا نے جدہ میں تیل کے ذخیرے پر حملہ کیا تھا جس کے بعد آگ لگ گئی تھیاتحاد کی جانب سے بعدازاں اعلان کیا گیا کہ اس پر قابو پا لیا گیا ہے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا حملوں کے بعد سعودی عرب کی جانب سے واضح کیا گیا تھا کہ حوثی حملوں کی وجہ سے اگر عالمی مارکیٹ کو تیل کی فراہمی متاثر ہوئی تو وہ (سعودی عرب) اس کا ذمہ دار نہیں ہو گا جنوبی جدہ میں واقع پلانٹ میں ڈیزل، گیسولین اور دوسرا ایندھن شہر کے استعمال کے لیے ذخیرہ کیا جاتا ہے۔

    بھارتی بحرین میں بھی باز نہ آئے، حجاب پہنے خاتون کو ریسٹورینٹ میں داخل ہونے سے روک…

    جمعے کے روز ہونے والے حملے سے سعودی ایئر ڈیفنس نے حوثیوں کی جانب سے چھوڑے جانے والے سات ڈرونز کو راستے میں مار گرایا تھا جن کا ٹارگٹ مملکت کے جنوبی علاقے تھے۔

    عرب اتحاد نے حملوں کے بعد کہا تھا کہ حملوں جان بوجھ شہری آبادیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی جبکہ توانائی کے مراکز بھی ان کا ہدف تھے عرب اتحاد نے حملوں کو علاقائی اور بین الاقوامی سکیورٹی کے لیے شدید خطرناک بھی قرار دیا تھا۔

    کرناچاہتا ہے:دوسری جنگ عظیم کی طرزکی سازش ہے: روسی وزیر…

  • روس نے یوکرین کو بات چیت کی مشروط پیشکش کردی

    روس نے یوکرین کو بات چیت کی مشروط پیشکش کردی

    روس نے یوکرین کو بات چیت کی مشروط پیشکش کردی

    نیٹو کی مدد سے مایوس ہو کر یوکرینی صدرنے روس کو مذاکرات کی دعوت دے دی
    یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ یورپ نے روس کے خلاف جنگ میں مدد نہیں کی،یورپ روس کے خلاف اپنا دفاع کس طرح کرے گا؟ یوکرینی فوج نے خود اپنے ملک کا دفاع کرنا ہے،غیرجانبدار ملک ہونے کا اعلان کرنے کے معاملے پر روس سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں،

    یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ ہمارے جوانوں نے موت گلے لگا لی، ہتھیارنہیں ڈالے، ہلاک فوجیوں کوہیرو آف یوکرین کے اعزازسے نوازا جائے گا،

    ترجمان روسی صدارتی محل کا کہنا ہے کہ مذاکرات کیلئے بیلاروس کے دارالحکومت منسک وفد بھیجنے کیلئے تیار ہیں، روس نے نیٹو ممالک پر جوابی پابندیاں لگانےکا فیصلہ کیا ہے کریملن کے مطابق نیٹوممالک کی پابندیوں کاجواب پابندیوں سے دیں گے،پابندیوں کاجواب دینے کے لیے مشاورت جاری ہے،

    ترک صدر نے نیٹواوریورپی یونین پرتنقید کی ہے اور کہا کہ یورپی یونین اورنیٹویوکرین پرمتفقہ موقف اپنانےمیں ناکام رہے،نیٹو کوجنگ روکنے کے لئے فیصلہ کن اقدامات کرنے چاہئیں تھے،

    قبل ازیں چینی صدر کا روسی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے چینی صدر نے مسئلہ مذاکرات سے حل کرنے پرزور دیا ہے ،روسی صدر نے چینی صدر کو بتایا کہ وہ یوکرین کے ساتھ مذاکرات کے لئے تیار ہے اور اعلیٰ سطح مذاکرات چاہتے ہیں ،روسی صدر کا کہنا تھا کہ نیٹو نےروس کے جائزسیکیورٹی مطالبات کونظرانداز کیا،نیٹو نے مشرقی یورپ میں فوج تعینات کرکے چیلنج کیا،

    قبل ازیں چین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ روس اور یوکرین کے ساتھ ‘نارمل’ تجارتی تعلقات برقرار رکھے گا ،روس کے ساتھ چین کے تعلقات صدر شی جن پنگ کے دور میں مضبوط ہوئے ہیں جنہوں نے رواں ماہ بیجنگ میںروسی صدر سے ملاقات کی۔ چین واحد بڑی حکومت ہے جس نے روس کے حملے کی مذمت کرنے سے گریز کیا۔ ترجمان چینی وزارت خارجہ نے روس کے یوکرین پر حملے کے ردعمل میں کہا تھا کہ ہم اب بھی امید کرتے ہیں کہ متعلقہ فریق امن کے دروازے بند نہیں کریں گے اور بات چیت ٕ کے ذریعے مسئلے کو حل کریں گے

    دریں اثنا، یوکرین میں چین کے سفارت خانے نے وہاں کے اپنے شہریوں سے کہا کہ وہ گھروں میں رہیں اور اگر سفر کرنے کی ضرورت ہو تو اپنی گاڑی کے اندر یا اس پر چینی جھنڈا لگا دیں۔ بیجنگ نے یوکرین کے تنازعے کا ذمہ دار واشنگٹن اور اس کے یورپی اتحادیوں کو ٹھہرایا ہے۔

    روسی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ یوکرین کی فوج ہتھیار ڈال دے تو مذاکرات کیلئے تیار ہیں،ہم یوکرین پر نازیوں کی حکومت نہیں چاہتے،روس کے سرکاری میڈیا کے مطابق روسی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ یوکرینی افواج کے ہتھیار ڈالتے ہی روس کیف کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ ہم کسی بھی وقت بات چیت کے لیے تیار ہیں، جیسے ہی یوکرین کی مسلح افواج ہمارے صدر کی کال کا جواب دیں، مزاحمت بند کر دیں اور اپنے ہتھیار پھینک دیں۔ کوئی بھی ان پر حملہ یا ظلم نہیں کرے گا،انہوں نے روسی حکومت کے پہلے بیانات کا اعادہ کیا کہ ماسکو یوکرین کو غیر فوجی بنانا چاہتا ہے۔ کوئی بھی یوکرین پر قبضہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

    روسی وزیر خارجہ نے یوکرین کے ان دعوؤں کی تردید کی کہ روسی افواج نے رہائشی علاقوں کو نقصان پہنچانے کے وسیع ثبوت کے باوجود شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے۔ قبل ازیں کریملن کے پریس سیکرٹری دیمتری پیسکوف نے بھی کہا کہ ماسکو یوکرین میں جاری روسی فوجی کارروائی کے حوالے سے کیف کے ساتھ ہتھیار ڈالنے کی شرائط پر بات چیت کے لیے تیار ہے

    روسی وزارت دفاع نے کارروائیوں کی نئی تفصیلات جاری کردیں ،روسی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ یوکرین کی 118 عسکری تنصیبات تباہ کی جا چکی ہیں،ایئر فیلڈ، 13 میزائل سسٹم، 5لڑاکا طیارے تباہ کیے،ایک یوکرینی ہیلی کاپٹراور 5 ڈرونز مارگرائے،یوکرینی فوج کے 150 اہلکارہتھیارڈال چکے ہیں،

    عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے روسی سفارت خانے کا دورہ کیا پوپ فرانسس نے روسی سفیر سے جنگ پر تشویش کا اظہار کیا

    قبل ازیں یوکرین کے دارالحکومت کیف میں پیٹرول کی قلت ہو گئی ہے ،یوکرینی فوج کا کہنا ہے کہ کیف میں پیٹرول کی شدید قلت کا سامنا ہے روس بیلاروس میں گومیل ایئر فیلڈ کو کیف پر حملے کیلئے استعمال کر رہا ہے،

    روس نے برطانوی ایئرلائنز پر پابندی عائد کردی ،روسی ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ برطانیہ روسی فضائی حدود کا استعمال نہیں کر سکے گا،برطانیہ اپنی پروازوں کوروس کے ہوائی اڈوں پر نہیں اتارےگا،اقدام روسی جہازوں کی پروازوں پر پابندی کے بعد کیا گیا ہے

    یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن سے رابطہ ہوا ہے،امریکہ نے کیف پر روس کے حملوں کے بارے میں اطلاع دی،یوکرین کو پہلے سے زیادہ شراکت داروں کے تعاون کی ضرورت ہے، روس پر پابندیوں کو مزید مضبوط کیا جانا چاہیے،

    یوکرین نے ٹوئٹر سے روس پر پابندی کا مطالبہ کردیا ہے ،یوکرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر روس کے لیے کوئی جگہ نہیں، یوکرینیوں کو قتل کرنے والوں کو سوشل میڈیا کے استعمال کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے،

    یوکرینی وزیر خارجہ دمتروکلیبا کا کہنا ہے کہ کیف کے حالات دوسری جنگِ عظیم جیسے ہوگئے ہیں، روس حملے کے بعد کیف کی صورتحال دوسری عالمی جنگ میں دیکھی گئی تھی 1941میں دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنی نے دارالحکومت پر حملہ کیا تھا،نازی جرمنی نے جب کیف پر حملہ کیا تب ایسے ہی حالات تھے،ماضی میں ان حملوں کو شکست دی اور اب وہ اسے بھی شکست دیں گے

    روسی صدر پیوٹن نے یوکرین میں فوجی آپریشن کا حکم دے دیا-

    :یوکرائن میں ایمرجنسی نافذ:سائرن بج گئے:شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم

    برطانیہ آسٹریلیا اور جاپان نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کا آغاز کردیا ہ

    پوتن کوملک سے باہر روسی فوج کی تعیناتی:نیٹو کے جنگی طیارے سائرن بجانےلگے:پابندیاں بھی لگ گئیں‌ 

    :روس جنگ کےلیے تیار:ولادی میرپوتن نے ملک سے باہر فوج استعمال کرنے کیلیے قانونی رائے مانگ لی

    یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم،

    پانچ روسی طیارے، ایک ہیلی کاپٹر گرا دیا، یوکرینی وزارت دفاع کا دعویٰ

    کون ہے جو ہمارا ساتھ دے؟ یوکرینی صدر کی دہائی