Baaghi TV

Tag: جنگ

  • روس کا یوکرین پر حملہ ، چین کا سخت ردعمل :امریکہ کوذمہ دارقراردیا

    روس کا یوکرین پر حملہ ، چین کا سخت ردعمل :امریکہ کوذمہ دارقراردیا

    بیجنگ : روس کا یوکرین پر حملہ ، چین کا سخت ردعمل :امریکہ کوذمہ دارقراردیا ،اطلاعات کے مطابق چین نے یوکرین میں افراتفری کا ذمہ دار امریکا کو ٹھہرادیا اور کہا واشنگٹن نے کشیدگی کو ہوا دی اور جنگ کے خطرات کو بھڑکایا۔

    تفصیلات کے مطابق چینی وزارت خارجہ نے یوکرین پر روسی حملے کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ یوکرین روس تنازع کو بات چیت سے حل کرنا ہوگا ، تنازع پر صورتحال کاجائزہ لے رہے ہیں۔

    چینی وزارت خارجہ نے امریکا کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا واشنگٹن نے کشیدگی کو ہوا دی اور جنگ کے خطرات کو بھڑکایا،جنگ کوبڑھاوادینے والےتمام اقدامات پرشدیداعتراض ہے، امریکا یوکرین کو ہتھیار دے کر معاملے کو بڑھا رہاہے۔

    چین نے امریکا کی جانب سے روس پر پابندیوں اور یوکرین کو اسلحے کی فراہمی کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو خطے میں جنگ کے مترادف قرار دیا اور کہا جوبائیڈن انتظامیہ یوکرین کے معاملے کو ہوا دے رہی ہے۔

    ترجمان ہوا چوئیننگ نے امریکا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی جلتی پر تیل ڈالے اور اس کا الزام بھی دوسروں پر دھرے تو یہ غیر زمہ دارانہ اور غیر اخلاقی عمل کہلائے گا۔

    ترجمان وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ یوکرین تنازع پر تمام فریقین کو ایک دوسرے کو اہمیت دیں اور ایک دوسرے کے سیکیورٹی خدشات کو دور کریں تاکہ مشاورت اور مذاکرات سے اس مسئلے کا پُرامن حل نکل سکے۔

  • یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم

    یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم

    ماسکو:یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم،اطلاعات کے مطابق یوکرین کے وزیردفاع نے یوکرینی فوجیوں کو جنگ کے لیے تیار رہنےکا حکم دے دیا۔

    روس کی طرف سے یوکرین کوٹکڑے ٹکڑے کرنے کی سازش کے خلاف یوکرینی وزیردفاع اولیکسی ریزنیکوف نے وزارت دفاع کی ویب سائٹ پر جذباتی پیغام پوسٹ کیا۔ اور کہا کہ روس نے جنگ کی بنیاد رکھ دی ہے

    اولیکسی ریزنیکوف نے اپنے پیغام میں فوجیوں کو کہا کہ وہ جنگ کے لیے تیار رہیں، مشکلات ہوں گی، نقصانات ہوں گے، ہمیں درد کو برداشت کرنا ہوگا، ہمیں خوف اور مایوسی پر قابو پانا ہوگا، روس کے خلاف یقینی فتح ہوگی۔

    یوکرینی وزیردفاع کا کہنا تھا کہ کریملن نے سوویت یونین کی بحالی کے لیے ایک اور قدم اٹھایا ہے،کل پیوٹن نے اپنا اصلی چہرہ دکھایا، مجرم کاچہرہ ، جوپوری آزاد دنیا کویرغمال بنانا چاہتا ہے۔

    خیال رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے مشرقی یوکرین کے دو علیحدگی پسند علاقوں کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے انتظامی آرڈر پر دستخط کردیے ہیں۔

    گذشتہ روز پیوٹن نے قوم سے خطاب میں اعلان کیا کہ انہوں نے یوکرین کے دو علاقوں کو آزاد ریاستوں کے طور پر تسلیم کرنے کے حکم نامے پر دستخط کردیے ہیں اور روسی پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ وہ جلد از جلد اس کی توثیق کرے۔پیوٹن نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ روسی عوام کی حمایت حاصل ہوگی’۔

    دوسری جانب یوکرین کےصدر ولودی میرزیلنسکی نے روسی اقدام کےجواب میں ‘نورڈ اسٹریم ٹو پراجیکٹ’ فوری طورپرروکنےکامطالبہ کیاہے.

    یوکرین کےصدر کا کہناہے روس سے نیچرل گیس بذریعہ بالٹک سمندر جرمنی بھیجنے کا پراجیکٹ نورڈاسٹریم ٹو فوری طورپر روکا جائے، روس کو مشرقی یوکرین کےدو علاقوں کو آزاد ریاست تسلیم کرنے پر فوری پابندیوں کی سزا کے ساتھ یہ سزا بھی ملنی چاہیے۔

  • یوکرین تنازع،فرانسیسی صدر کا روسی صدر سے رابطہ،اہم پیشرفت

    یوکرین تنازع،فرانسیسی صدر کا روسی صدر سے رابطہ،اہم پیشرفت

    یوکرین تنازع،فرانسیسی صدر کا روسی صدر سے رابطہ،اہم پیشرفت

    امریکہ نے اقوام متحدہ کو مطلع کیا ہے کہ اگر روس یوکرین پر حملہ کرتا ہے تو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے امکانات کی اطلاعات ہیں

    واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یوکرین میں اغوا اور تشدد کی کاروائیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے، روس کی ہنگامی صورتحال کی وزارت کا کہنا ہے کہ مشرقی یوکرین میں خود ساختہ ڈونیٹسک اور لوہانسک عوامی جمہوریہ سے 60 ہزار سے زیادہ پناہ گزین گذشتہ ہفتے حکام کی طرف سے جاری کردہ انخلاء کے احکامات کے بعد روس میں داخل ہوئے ہیں

    ترجمان کریملن کا کہنا ہے کہ امریکی روسی صدور کی ملاقات کا ٹھوس منصوبہ نہیں .ترجمان نے کہا ہے کہ یوکرین کے معاملے پر بائیڈن پیوٹن ملاقات سے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ امریکی اور روسی صدور ضرورت پڑنے پر کال یا ملاقات کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیںانہوں نے کہا ہے کہ یوکرین کے معاملے پر سفارتی رابطے فعال ہیں۔ رواں ہفتے روسی اور امریکی وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات کاامکان ہے

    اس سے پہلے امریکی پریس سکریٹری جین ساکی نے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ حملہ نہ ہونے تک سفارت کاری کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ صدر جوبائیڈن نے اصولی طور پر صدر پیوٹن کے ساتھ ملاقات کو قبول کیا ہے لیکن اگر حملہ ہوتا ہے تو روس کو بہت جلد سنگین مسائل کا سامنا کرنا ہوگا

    یوکرین تنازع بات چیت سے حل ہونے کی طرف اہم پیش رفت ہو گئی ہے ،امریکہ اور روس، یوکرین کے معاملہ پر سمٹ کے انعقاد پر متفق ہوگئے ہیں جس کی تصدیق وائٹ ہاوس کی جانب سے کی گئی ہے امریکی پریس سکریٹری جین ساکی نے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ حملہ نہ ہونے تک سفارت کاری کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے صدر جوبائیڈن نے اصولی طور پر صدر پیوٹن کے ساتھ ملاقات کو قبول کیا ہے لیکن اگر حملہ ہوتا ہے تو روس کو بہت جلد سنگین مسائل کا سامنا کرنا ہوگا

    عالمی میڈیا کے مطابق یوکرین سمٹ کی تجاویز روس، امریکہ اور فرانس کے اعلی سفارت کار مرتب کریں گے، فرانسیسی صدر کا روسی صدر کے درمیان طویل ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا جس میں دونوں صدرور کے درمیان 2 گھنٹے تک گفتگو ہوئی۔

    امریکی صدر جوبائیڈن کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ساتھ بھی اہم میٹنگ ہوئی جس میں روس کی جانب سے یوکرین کی سرحد پر فوج کی تعیناتی پر غور کیا گیا قبل ازیں روس یوکرین کشیدگی پر ماسکو میں امریکی سفارتخانے نے اعلامیہ جاری کر دیا ہے امریکی سفارتخانے کی طرف سے اپنے شہریوں کو روس میں حملوں سے متعلق وارننگ دی گئی ہے، یوکرین سرحد کے ساتھ روس کے شہریوں علاقوں میں حملہ کا خدشہ ہے،ا مریکی سفارتخانہ کا کہنا ہے کہ شاپنگ سینٹرز، ریلوے اور میٹرو اسٹیشنز پر بھی حملے ہوسکتے ہیں،ماسکو اور سینٹ پیٹر زبرگ میں حملوں کو خطرہ ہے۔

    قبل ازیں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سفارتکاری کے ذریعے یوکرین بحران میں کمی کے لیے متحرک ہوگئے ہیں، ترجمان برطانوی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ بورس جانسن اتحادیوں سے مل کر کشیدگی میں کمی کی کوشش کریں گے، یوکرین پر حملہ خود روس کے لیے بھی تباہ کن ہوگا

    روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

    ہ برطانیہ سمیت کئی دوسرے ممالک نے بھی اپنے شہریوں کو وہاں سے نکل جانے کی اپیل

    امریکی صدر جوبائیڈن سے جرمن چانسلر اولاف شُولس کی وائٹ ہاوس میں ملاقات

    وس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی

    بھارت مکاری کا شہنشاہ:مفاد پرمبنی پالیسیاں:چین کے خلاف امریکہ کا اتحادی:یوکرین پرامریکہ کا مخالف

    یوکرینی شہریوں نے جنگی مشقوں کا آغاز کر دیا

  • خدا حافظ جنگ جیو گروپ۔ امین حفیظ نے الوداع کہہ دیا

    خدا حافظ جنگ جیو گروپ۔ امین حفیظ نے الوداع کہہ دیا

    لاہور:خدا حافظ جنگ جیو گروپ۔ امین حفیظ نے الوداع کہہ دیا،اطلاعات کے مطابق جنگ جیو گروپ کو برسوں کندھا دینے والے معرف صحافی اور ایک کامیاب اور حقیقی رپورٹر امین حفیظ نے آج جنگ جیو گروپ کو خدا حافظ کہتے ہوئے اس سے برسوں پرانے تعلقات کو خدا حافظ کہہ دیا ہے

    اس حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اہل پاکستان کے نام اپنے پیغام میں امین حفیط نے پاکستانیوں کو یہ خبردیتے ہوئے حیران کردیا کہ وہ اب جنگ جیو کا حصہ نہیں رہے اور انہوں نے جنگ جیو کو خدا حافظ کہہ کراپنا سفر ایک نئے پلیٹ فارم سے شروع کیا ہے جو بہت جلد مقبول ہوجائے گا

     

     

     

    اس حوالے سے ٹویٹر پراپنے پیغام میں امین حفیظ کا کہنا تھاکہ وہ پچھلے 40 سالے سے صحافت کے شعبہ سے منسلک ہیں اور ہراہم ایشو اور موقع پر اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے ، ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ اب وہ جنگ اور جیو کے ساتھ مزید نہیں چلے سکتے

    امین حفیظ کا کہنا تھا کہ ابن وہ اپنے یوٹیو ب چینل پر توجہ دیں‌گے اور اہل وطن کےلیے اچھوتے اوراہم ترین موضوعات پر تازہ ترین انفارمیشن دیا کریں گے ،ان کایہ بھی کہنا تھا کہ اب وہ اپنےیوٹیوب چینل جوکہ ان کے نام سے ہی متعارف ہوگا اب بہت جلد عوام کے سامنے ہوگا ،

    یاد رہے کہ امین حفیظ کو کارکردگی کی بنیاد پر پرائیڈ آٍف پرفارمنس بھی دیا گیا ہے

  • روس بچ کےنہ جائے”نیٹو اتحاد کا اہم اعلان:روس بھی پریشان

    روس بچ کےنہ جائے”نیٹو اتحاد کا اہم اعلان:روس بھی پریشان

    ماسکو: روس بچ کے نہ جائے” نیٹو اتحاد کا اہم اعلان:روس بھی پریشان ،اطلاعات کے مطابق یوکرین سے منسلک سرحد پر تعینات روسی فوجی دستے چھاونیوں میں واپس لوٹنے لگے تھے کہ نیٹو کےطرز عمل نے پھر خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نیٹو کے اس اعلان نے روس کو بہت پریشان کردیا ہے ، یہ بھی سُننے کو آرہا ہے کہ روس امریکہ اور نیٹو اتحاد سے محاذ آرائی کی سکت نہیں رکھتا

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق نیٹو اتحاد نے یوکرین سرحد کے قریب سلواکیہ میں فوجی مشقوں کا اعلان کیا ہے، فوجی مشقیں سلواکیہ کی یوکرین کے ساتھ مشرقی سرحد کے قریب ہوں گی، یہ مشقیں مارچ کے پہلے ہفتے میں کی جائیں گی۔

    رپورٹ کے مطابق اتحاد میں شامل امریکا، جرمنی، پولینڈ سمیت سات ممالک سلواکیہ میں فوجی مشقیں کریں گے، ان مشقوں میں شرکت کے لئے امریکا کےدو ہزار فوجیوں کا دستہ اور سینکڑوں گاڑیاں جرمنی سے جمہوریہ چیک میں داخل ہوگئی ہیں۔

    ادھر سلواکیہ کے وزارتِ دفاع سلواکیہ کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا کہ فوجی مشقوں کا روس یوکرین تنازعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز یوکرین تنازعے میں نیا موڑ اس وقت آیا جب روسی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ فوجی مشقیں اختتام پذیر ہونے کے بعد یوکرینی سرحد کے نزدیک تعینات روسی فوجیوں کو واپس چھاونیوں میں بھیج دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب یوکرین نے خبردار کیا کہ جب تک انہیں فوجیوں کی واپسی کا ثبوت نہیں مل جاتا وہ اس پر کوئی رد عمل نہیں دیں گے۔گذشتہ روز اپنے بیان میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا تھا کہ صاف ظاہر ہے کہ روس یورپ میں جنگ نہیں چاہتا، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ روس کے سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھا جائے۔

  • روس نے یوکرین کو 3 سمتوں سے گھیرے میں لے لیا:جنگ کے امکانات بڑھ گئے:امریکی میڈیا

    روس نے یوکرین کو 3 سمتوں سے گھیرے میں لے لیا:جنگ کے امکانات بڑھ گئے:امریکی میڈیا

    واشنگٹن :روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور رپورٹس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ روس نے یوکرین کو 3 سمتوں سے گھیر لیا ہے۔سی این این کے مطابق حالیہ ہفتوں میں یوکرین کی سرحد کے قریب روس ایک لاکھ سے زائد فوجیوں کو اکٹھا کرچکا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روس نے یوکرین کو 3 سمتوں سے گھیر لیا ہے، روس یوکرین سرحد کے علاوہ یوکرین سے الگ ہونے والے علاقے کریمیا میں بھی روس کی افواج موجود ہیں جبکہ روس کا اتحادی ملک بیلاروس بھی روس کا لانچنگ پیڈ ہوسکتا ہے۔

    اُدھر پیسیفک جزائر کے قریب امریکی آبدوز کی جانب سے روسی سمندری حدود کی خلاف ورزی پر روس نے امریکی فوجی اتاشی کو طلب کرلیا ہے۔بگڑتے حالات کے باعث سوئیڈن اور اردن نے بھی اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کی ہدایت کردی جبکہ ہالینڈ کی ائیر لائن نے یوکرین کیلئے اپنی پروازیں روک دی ہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز روس یوکرین کشیدگی کے معاملے پر امریکی صدر جو بائیڈن نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلیفونک رابطہ کیا تھا۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر بائیڈن نے پیوٹن سے کہا ہے کہ روس نے یوکرین میں دراندازی کی تو اسے فیصلہ کُن ردعمل کا سامناہوگا، روسی جارحیت سے بڑے پیمانے پر مشکلات ہوں گی، روس کا مؤقف کمزورپڑجائےگا۔

  • یوکرائن پر حملہ کرنے پر روس کوایسی سزا دیں گے کہ نسلیں یاد رکھیں گی:امریکا

    یوکرائن پر حملہ کرنے پر روس کوایسی سزا دیں گے کہ نسلیں یاد رکھیں گی:امریکا

    واشنگٹن: یوکرائن پر حملہ کرنے پر روس کوایسی سزا دیں گے کہ نسلیں یاد رکھیں گی:اطلاعات کے مطابق امریکا نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو ایسی پابندیاں عائد کریں گے جس سے وہ مکمل طور پر اپاہج ہوجائے گا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرائن کے معاملے پر سخت حریفوں امریکا اور روس کے صدور نے ٹیلی فونک گفتگو کی تاہم دونوں رہنماؤں کے کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پانے کے باعث خطے میں تناؤ اور کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

    جوبائیڈن اور پوٹن ٹیلی فونک گفتگو کی ناکامی کے بعد امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے فجی کے قائم مقام وزیر اعظم ایاز سید خیوم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں روس کو خبردار کیا کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو امریکا اس پر ’اپاہج‘ کردینے والی پابندیاں عائد کر دے گا۔

    چند روز قبل فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے بھی روس اور یوکرائن کا دورہ کیا تھا لیکن یہ دورہ بھی کسی مثبت پیشرفت کے بغیر ہی ختم ہوگیا تھا۔ جرمنی کے چانسلر نے بھی اس حوالے سے وائٹ ہاؤس میں صدر جوبائیڈن سے ملاقات کی تھی۔

    قبل ازیں ممکنہ روسی حملے کے پیش نظر امریکا اور برطانیہ نے یوکرائن سے اپنے سفارتی عملے اور ان کے اہل خانہ کو واپس بلالیا تھا اور اب صرف ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے نہایت مختصر اور ضروری عملہ ہی موجود ہے۔

    ہر گزرتے لمحے کے ساتھ وائٹ ہاؤس کا اصرار بڑھتا جا رہا ہے کہ روس کی یوکرائن پر جارحیت کی صورت میں سخت پابندیاں عائد کردی جائیں گی جن میں ممکنہ طور پر ایل این جی کی فروخت بھی شامل ہے۔

    روس یورپی ممالک کو ایل این جی فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور پابندی کی صورت میں مغربی ممالک میں توانائی کا بحران پیدا ہوجائے گا جس کے لیے امریکا نے قطر سے مدد مانگ لی ہے۔

    ادھر روس نے بھی ممکنہ پابندی کی صورت میں ہونے والے مالی نقصان سے بچنے کے لیے چین کا دورہ کیا اور چینی صدر کے ساتھ اربوں ڈالر کے ایل این کی فروخت کا معاہدہ کیا تھا۔

  • روس کا گرد گھیرا تنگ:روسی وزیر خارجہ احتجاجا مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

    روس کا گرد گھیرا تنگ:روسی وزیر خارجہ احتجاجا مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

    ماسکو:روس کا گرد گھیرا تنگ:روسی وزیر خارجہ احتجاجا مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے،اطلاعات ہیں کہ یوکرین کے معاملے پرروس کوتنقید کا نشانہ بنانے پرروسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف برطانوی ہم منصب کے ساتھ کی جانے والی پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے۔یہ منظراس قدر اہمیت اختیار کرگیا کہ دنیا بھر میں اس حوالے سے چہ میگوئیاں جاری ہیں‌

    برطانوی میڈیا کے مطابق یوکرین کے مسئلے پربرطانوی تنقید سے ناراض روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف برطانوی وزیرخارجہ لز ٹریس کے ساتھ کی جانے والی مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کرچلے گئے۔ کچھ منٹوں کے بعد برطانوی وزیرخارجہ بھی کانفرنس ہال سے چلی گئی۔برطانوی اور امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں برطانیہ کی وزیرخارجہ، دولت مشترکہ اورترقیاتی امورکی وزیرلزٹریس یوکرین کے مسئلے پرمذاکرات کے لئے ماسکو پہنچی تھیں۔

    برطانوی وزیرخارجہ لز ٹریس کا کہنا تھا کہ انہوں نے روس کوآگاہ کیا ہے کہ یوکرین کے معاملے پراسے پڑوسی کی سرحد عبور کرنے سے باز رہنا اورسرد جنگ جیسے رویے سے گریز کرنا ہوگا۔انہوں نے ماسکو کو خبردارکیا کہ وہ یوکرین کے مسئلے پردنیا کوبیوقوف بنانے کی کوششیں نہ کرے۔روسی وزیرخارجہ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی وزیرکے ساتھ ملاقات ایسی رہی جیسے کسی گونگے اوربہرے سے ملاقات کی جائے۔

    سرگئی لاروف کا ٹویٹ میں مزید کہنا تھا کہ ایک برطانوی عہدیدارنے ماسکو کا دورہ ایسے کیا جیسے برطانوی سامراج میں حکام اپنے مفتوحہ علاقوں کا دورہ کرتے تھے۔سرگئی لاروف کا کہنا تھا کہ مغربی طاقتیں روس کویوکرین سے متعلق ڈرانے اوردھمکیاں دینے سے باز رہیں۔

    دوسری طرف امریکہ اور نیٹو اتحادی اس وقت یوکرائن کے ساتھ مکمل تعاون کررہے ہیں اور بھر پور فوجی امداد دے رہے ہیں ،کہا جارہا ہے کہ ان اقدامات سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ ار اتحادی اس صورت حال میں ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں‌گے جنگ سے بچنے کے لیے روس کو ہی حکمت عملی کے تحت واپس جانا پڑے گا یا پھرٹکراو کے لیے تیار رہنا ہوگا

  • روس سےتنازع:امریکی صدرکامشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم:روس بھی پیشقدمی کرنےلگا

    روس سےتنازع:امریکی صدرکامشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم:روس بھی پیشقدمی کرنےلگا

    واشنگٹن:روس سے تنازع؛ امریکی صدر کا مشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم:روس بھی پیشقدمی کرنے لگا ،اطلاعات کے مطابق یوکرائن کے مسئلے پر روس سے پیدا ہونے والے تنازع پر امریکی صدر جوبائیڈن نے مشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم دیدیا۔

    وال اسٹریٹ جنرل کے مطابق یوکرائن پر روس کے ممکنہ حملے کے پیش نظر امریکی صدر جوبائیڈن نے 3 ہزار سے زائد فوجیوں کی مشرقی یورپ میں تعیناتی کا حکم دیدیا ہے۔

    وال اسٹریٹ جنرل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوجی پولینڈ اور جرمنی میں تعینات کیے جائیں گے جب کہ ایک ہزار کے قریب فوجیوں کو جرمنی سے رومانیہ منتقل کیا جائے گی۔
    مشرقی یورپ میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا حتمی فیصلہ امریکی صدر جوبائیڈن نے وزیر دفاع اور امریکی فوج کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اہم میٹنگ کے بعد کیا۔

    اس حوالے سے پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے وال اسٹریٹ جنرل کو بتایا کہ تعینات کیے جانے والے فوجیوں کی اہم اور خطرناک مشن کو پورا کرنے کے لیے خصوصی تربیت دی گئی ہے جو جدید اسلحے اور ضروری ساز و سامان سے لیس ہیں۔

    خیال رہے کہ روس کے مبینہ حملے اور جارحیت کے پیش نظر امریکا اور برطانیہ نے یوکرائن کو فوجی مدد کی یقین دہانی کرائی ہے اس حوالے سے نیٹو افواج کی پہلے ہی سرحدوں پر تعینات کیا جا چکا ہے۔

    دوسری جانب روس نے یوکرائن پر حملے کو امریکا اور برطانیہ کا خطے میں مداخلت کا بہانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ من گھڑت جواز پیدا کر کے خطے پر قبضے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

  • یوکرین امریکہ اور نیٹو کے ہاتھ کا کھلونا بن گیا:روس     :    :خطے میں جنگ ہوئی تو روس ذمہ دارہوگا،امریکہ

    یوکرین امریکہ اور نیٹو کے ہاتھ کا کھلونا بن گیا:روس : :خطے میں جنگ ہوئی تو روس ذمہ دارہوگا،امریکہ

    ماسکو:یوکرین امریکہ اور نیٹو کے ہاتھ کا کھلونا بن گیا:روس::خطے میں جنگ ہوئی تو روس ذمہ دارہوگا،امریکہ ،اطلاعات کے مطابق ایک بارپھر چند گھنٹوں کی خاموشی کےبعد روس اور امریکہ کے درمیان محاذ آرائی شروع ہوگئی ہے، اس حوالے سے غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دیمتری میدویدیف نے کہا ہے کہ یوکرین کو روس پر جغرافیائی و سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے یہ ایک حقیقت ہے کہ یوکرین نیٹو اور امریکہ کے ہاتھ میں کھلونا بن کر رہ گیا ہے کیونکہ یوکرین کو روس پر جغرافیائی سیاسی دباؤ کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

    ماسکو میں روسی وزارت دفاع نے اطلاع دی کہ فضائی دفاعی افواج کے دستے ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کے ساتھ جمہوریہ بیلاروس کی سرزمین پر مشقوں کے لیے پہنچ رہے ہیں۔محکمہ نے کہا کہ لاجسٹک یونٹس نے پہلے ہی امور ریجن میں ٹرین پلیٹ فارمز پر ہتھیار پہنچا دیے تھے۔

    واضح رہے کہ یوکرین کے مسئلہ پر روس کی نیٹو اتحاد ،امریکہ اور یورپی ممالک کے ساتھ کشیدگی میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

    ادھر امریکی صدر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی صدرجوبائیڈن نے خبردارکیا ہے کہ روس فروری میں یوکرین پرحملہ کرسکتا ہے۔وائٹ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق امریکی صدرجوبائیڈن نے یوکرینی ہم منصب سے گفتگومیں خبردارکیا کہ روس فروری میں یوکرین پرحملہ کرسکتا ہے۔

    امریکی صدرجوبائیڈن نے یوکرین کے صدرسے ٹیلی فون پرگفتگومیں کہا کہ اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ روس فروری میں یوکرین کیخلاف کوئی جارحانہ کارروائی کرے۔ امریکا گزشتہ کئی ماہ سے روس کی یوکرین کیخلاف ممکنہ جارحیت کے بارے میں خبردارکررہا ہے۔
    روس کے حکام نے یوکرین کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کومسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین کے بحران سے متعلق مذاکرات اب بھی ممکن ہیں۔

    امریکا اوراس کے نیٹواتحادی حالیہ ہفتوں میں ماسکوکی جانب سے یوکرین کے قریب ایک لاکھ روسی فوجیوں کی تعیناتی پربھی تشویش کا اظہارکرچکے ہیں۔