Baaghi TV

Tag: جنگ

  • جنگ دوبارہ ہوئی تو عالمی جنگ بن جائے گی،ایران کی وارننگ

    جنگ دوبارہ ہوئی تو عالمی جنگ بن جائے گی،ایران کی وارننگ

    ایران کے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کی گئی تو یہ ایک بڑی عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

    ایرانی فوج کے بریگیڈئیر جنرل محمد رضا نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کسی بھی صورت ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت کو ختم نہیں کر سکتا،ا یران اپنی دفاعی طاقت کو مزید مضبوط کر رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ حملے کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے، اگر ایران پر مسلط جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو اس بار رد عمل زیادہ شدید ہوگا اور حالیہ مہینے میں تیار کیے گئے جدید میزائلوں کے ذریعے جواب دیا جائے گا۔

    امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے تھے، جس کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کیں۔ دونوں فریقین کے درمیان تقریباً 40 روز تک شدید کشیدگی اور جھڑپیں جاری رہیں بعد ازاں پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادہ ہوئے۔ اس کے بعد 11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطح کے وفود کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے، جنہیں کشیدگی کم کرنے کی اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اس قسم کے بیانات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں اور اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

  • میڈیا کے کچھ حلقے ‘ٹرمپ دشمنی’ میں ایران کی فرضی کامیابیوں کا پرچار کررہے ہیں،امریکی صدر

    میڈیا کے کچھ حلقے ‘ٹرمپ دشمنی’ میں ایران کی فرضی کامیابیوں کا پرچار کررہے ہیں،امریکی صدر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اس وقت مکمل طور پر شکست کھا چکا ہے،آبنائے ہرمز جلد ہی کھل جائے گا، اور خالی بحری جہاز "لوڈ اپ” کے لیے امریکہ کی طرف بھاگ رہے ہیں، لیکن ‘فیک نیوز’ میڈیا حقائق کے برعکس تصویر کشی کررہا ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ میڈیا کے کچھ حلقے ‘ٹرمپ دشمنی’ میں مبتلا ہو کر ایران کی فرضی کامیابیوں کا پرچار کررہے ہیں، ایران کی بحریہ، فضائیہ، ریڈار سسٹم اور دفاعی نظام مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے،ڈرونز اور میزائل بنانے والی فیکٹریاں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں اور ایرانی قیادت اب منظر نامے سے غائب ہو چکی ہے۔

    امریکی صدر نے الحمدللہ کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہاکہ اب ایران کے پاس دنیا کو ڈرانے کے لیے کچھ نہیں بچا اس وقت سب سے بڑا خطرہ آبنائے ہرمز میں جہاز کے سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرا جانا ہے جس سے بڑی تباہی ہوسکتی ہے ایران کی بارودی سرنگیں بچھانے والی تمام 28 کشتیاں سمندر برد ہو چکی ہیں، امریکا اس خطرے کو ختم کرنے کے لیے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہتا رہا ہے اور یہ دنیا پر ہمارا بڑا احسان ہے۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا اب دنیا بھر کے ممالک بشمول چین، جاپان، جنوبی کوریا اور یورپی ممالک کے مفاد میں آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کا کام شروع کر رہا ہے، کیونکہ ان ممالک میں یہ کام کرنے کی ہمت نہیں تھی۔

    امریکی صدر نے ایک دلچسپ دعویٰ کرتے ہوئے کہاکہ دنیا بھر سے تیل کے خالی بحری جہاز اب امریکا کا رخ کر رہے ہیں تاکہ وہاں سے تیل بھر سکیںانہوں نے اسے امریکی معیشت اور توانائی کی طاقت کی فتح قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ دنیا اب توانائی کے لیے امریکا کی طرف دیکھ رہی ہے۔

    قبل ازیں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے بے ترتیب انداز میں بارودی سرنگیں بچھائیں۔

    امریکی حکام کے بقول ایران نے آبنائے ہرمز میں بچھائی گئیں ان بارودی سرنگوں کے درست مقامات کا ریکارڈ بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں رکھا جب کہ پانی کی لہروں کے باعث کچھ مائنز اپنی جگہ سے سرک یا بہہ گئیں یہی وجہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کا مکمل سراغ لگانے میں ناکام ہے اور ایرانی فورسز اسے ہٹانے کی فوری صلاحیت بھی نہیں رکھتیں۔

    امریکی حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ زمینی بارودی سرنگوں کے برعکس بحری سرنگوں کی تنصیب اور پھر ان کو وہاں سے ہٹانا زیادہ مشکل عمل ہے۔ جس میں مہارت اور صلاحیت درکار ہیں۔

  • ٹرمپ نے کیسے امریکا کو ایران جنگ میں گھسیٹا؟امریکی میڈیا نے پردہ فاش کر دیا

    ٹرمپ نے کیسے امریکا کو ایران جنگ میں گھسیٹا؟امریکی میڈیا نے پردہ فاش کر دیا

    نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ اچانک نہیں بلکہ خفیہ بریفنگز، اندرونی اختلافات اور ایک طاقتور اتحادی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دباؤ کے بعد کیا۔

    نیویارک ٹائمز کی کے مطابق فروری 2026 میں بنیامین نیتن یاہونے وائٹ ہاؤس میں ایک انتہائی خفیہ پریزنٹیشن دی، جس میں ایران پر بڑے حملے کا منصو بہ پیش کیا گیا اس بریفنگ میں اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے موساد کے سربراہ سمیت اعلیٰ عسکری حکام نے شرکت کی اور دعویٰ کیا کہ ایران کی قیاد ت کو نشانہ بنا کر اور اس کے میزائل نظام کو تباہ کر کے چند ہفتوں میں فیصلہ کن کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

    امریکی اور اسرائیلی حکام سب سے پہلے اوول آفس سے متصل کیبنٹ روم میں جمع ہوئے اس کے بعد نیتن یاہو مرکزی تقریب کے لیے نیچے کی طرف روانہ ہوئے: وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کے لیے ایران کے بارے میں ایک انتہائی درجہ بندی پریزنٹیشن، جسے غیر ملکی رہنماؤں کے ساتھ ذاتی ملاقاتوں کے لیے شاذ و نادر ہی استعمال کیا جاتا تھا۔

    ذرائع کے مطابق اس پریزنٹیشن نے صدر ٹرمپ کو بہت زیادہ متاثر کیا، اور انہوں نے ابتدائی طور پر ہی مثبت اشارہ دے دیا نیتن یاہو کی پریزنٹیشن سے چار مقاصد اخذ کیے گئےجن میں ، ایرانی اعلیٰ قیادت کا قتل، میزائل پروگرام کی تباہی، عوامی بغاوت اٹھانا اور رجیم چینج شامل تھے۔

    تاہم بعد میں امریکی انٹیلی جنس نے اس منصوبے کے پہلے دو حصوں کو قابل حصول اور آخری دو حصوں کو “حقیقت سے دور” قرار دیا، خاص طور پر ایران میں حکومت کی تبدیلی (Regime Change) کے امکان کو مسترد کر دیا گیا۔ وائٹ ہاؤس کے اندر ہونے والے اہم اجلاسوں میں شدید اختلافات سامنے آئے۔

  • ہمارے ہاتھ ٹریگر پر موجود ہیں، دشمن کی معمولی غلطی کا بھی بھرپور جواب دیا جائے گا، ایران

    ہمارے ہاتھ ٹریگر پر موجود ہیں، دشمن کی معمولی غلطی کا بھی بھرپور جواب دیا جائے گا، ایران

    سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کے بعد اپنی تمام فوجی یونٹس کو فائرنگ روکنے کا حکم دے دیا ہے۔

    ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے ذریعے جاری بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، تاہم تمام فوجی شاخیں سپریم لیڈر کے حکم کی پابندی کرتے ہوئے فائر بندی کریں۔

    ایران نے واضح کیا کہ اس سیزفائر کا مطلب جنگ کا خاتمہ نہیں اور اگر امریکا یا اسرائیل کی جانب سے کسی بھی قسم کی کارروائی کی گئی تو فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ جنگ بندی کو جنگ کے خاتمے سے تعبیر نہ کیا جائے بیان میں کہا گیا کہ ہمارے ہاتھ ٹریگر پر موجود ہیں، دشمن کی معمولی غلطی کا بھی بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملہ کیا تھا، جس میں جنگ کے پہلے ہی روز سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای جاں بحق ہوگئے تھے گزشتہ 39 دنوں کے دوران اس تنازع میں مختلف ممالک میں متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں،ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے تقریباً تمام اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں اور ایرانی عوام کی قربانیوں نے دشمن کو تاریخی شکست سے دوچار کیا ہے۔

    پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے معاہدے کے بعد ایران نے اسے امریکا اور اسرائیل کے خلاف اپنی ایک بڑی تاریخی کامیابی قرار دیا ہے تہران کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حملوں کی دھمکیاں واپس لینا اور مذاکرات پر آمادگی دراصل ایران کے دس نکاتی منصوبے کو اصولی طور پر تسلیم کرنا ہے۔

  • لبنان پر جنگ بندی معاہدے کا اطلاق نہیں ہوگا، اسرائیل

    لبنان پر جنگ بندی معاہدے کا اطلاق نہیں ہوگا، اسرائیل

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ مجوزہ جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہوگا۔

    اسرائیلی وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف حملے دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم یہ فیصلہ چند شرائط سے مشروط ہے، ایران کو فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنا ہوگا اور امریکا، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک پر حملے روکنا ہوں گے۔

    اسرائیلی حکام نے واضح کیا کہ یہ دو ہفتوں کی جنگ بندی صرف ایران تک محدود ہے اور اس میں لبنان شامل نہیں ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لبنان کے محاذ پر کشیدگی برقرار رہ سکتی ہے، اسرائیل امریکا کی ان کوششوں کی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد ایران کو جوہری، میزائل اور دہشت گردی کے خطرات سے روکنا ہے۔ اسرائیلی موقف کے مطابق ایران کو خطے میں سیکیورٹی خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔

    دوسری جانب ایران کی جانب سے اس بیان پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ لبنان کو جنگ بندی سے باہر رکھنے سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے لبنانی تنظیم حزب اللہ نے اس جنگ بندی پر اب تک کوئی براہِ راست تبصرہ نہیں کیا، لیکن سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک معنی خیز پیغام شیئر کیا ہے۔

    حزب اللہ نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا ایک پرانا بیان شیئر کیا ہے جس کے ساتھ پھٹے ہوئے امریکی اور اسرائیلی پرچموں کی تصویر لگائی گئی ہے،اس پیغام میں دو ٹوک الفاظ میں کہا گیا ہے کہ ہم دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے۔

    حزب اللہ کے اس انداز سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لبنان کے محاذ پر اسرائیل کے خلاف اپنی مزاحمت جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں اور تہران و واشنگٹن کے درمیان ہونے والے اس عارضی سمجھوتے سے ان کے عسکری موقف میں کوئی نرمی نہیں آئی۔

  • امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ سوشل میڈیا پر مذاق کا نشانہ بن گئے

    امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ سوشل میڈیا پر مذاق کا نشانہ بن گئے

    امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اس وقت سوشل میڈیا پر مذاق بن گئے ہیں، جب 6 اپریل 2026 کو کی گئی ان کی ایک اہم پریس بریفنگ کے دوران وائرل ہونے والی ویڈیو ہے۔

    انسٹاگرام، فیس بک اور ایکس جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین اس ویڈیو کلپ کو تیزی سے شیئر کر رہے ہیں اس ویڈیو کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ دورانِ تقریر ایک ایسی آواز سنائی دی جو بظاہر ’ریح خارج‘ ہونے کی معلوم ہوتی ہے،فی الحال یہ واضح نہیں کہ پیٹ ہیگسیتھ کی وائرل ہونے وا لی ویڈیو اصلی ہے یا اس میں کوئی ترمیم کی گئی ہے۔

    اس وائرل کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب وزیرِ دفاع امریکی حکومت کے عسکری موقف اور ایران کے خلاف ممکنہ حملوں پر بات کرنے کے لیے پوڈیم پر آئے تو اسی دوران ایک ناگوار آواز سنائی دیتی ہے۔

    یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب خطے میں شدید تناؤ پایا جاتا ہے اور وزیرِ دفاع ایران پر حملوں اور امریکی پائلٹس کی بحالی جیسے انتہائی حساس موضوعات پر بریفنگ دے رہے تھے۔

    پیٹ ہیگسیتھ کی اس ویڈیو کو کینیا میں موجود ایرانی سفارت خانے نے بھی شیئر کیا اور ساتھ میں طنزیہ لکھا: ”آبنائے کھل گئی“۔

    جس پر سوشل میڈیا صارفین نے بھی رد عمل دیا اور ایرانی سفارتخانے کی اس حس مزاح کی تعریف بھی کی،ایک ’ایکس‘ صارف نے لکھا کہ مریکی ہونے کو باوجود وہ ایران کی حسِ مزاح سے لطف اٹھاتے ہیں،ایک نے لکھا کہ ہیگستھ نے آبنائے ہرمز پر ایسی شدید بمباری کی کہ اسے ملیامیٹ کر کے رکھ دیا، ایک صارف نے لکھا کہ کیا ایران نے اپنے بہترین سوشل میڈیا ماہرین مختلف سفارت خانوں میں تعینات کیے ہیں یا پھر تمام سفارت خانوں کا عملہ ہی پوسٹنگ کرنے میں بہت ماہر ہے؟-

  • ایران میں فوجی تنصیب پر مبینہ حملے کے الزام میں ایک اور شخص کو پھانسی

    ایران میں فوجی تنصیب پر مبینہ حملے کے الزام میں ایک اور شخص کو پھانسی

    ایران میں فوجی تنصیب پر مبینہ حملے کے الزام میں ایک اور شخص کو پھانسی دے دی گئی ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے اسلامک اسٹوڈنٹس نیوز ایجنسی کے مطابق عدلیہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ علی فہیم نامی شخص کو اس وقت پھانسی دی گئی جب سپریم کورٹ نے اس کی سزائے موت کو برقرار رکھا۔

    دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان پھانسیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں غیر انسانی قرار دیا کہا کہ کئی ملزمان کے اعترافی بیانات مبینہ طور پر تشدد کے ذریعے حاصل کیے گئے۔

    امریکا و اسرائیل کے ایران پر حملے:تہران یونیورسٹی سمیت اہم تنصیبات تباہ

    دریں اثنا ایران نے ہفتے کے روز دو افراد کو پھانسی دی تھی جن کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ حزبِ اختلاف کے گروپ پیپلز مجاہدین آرگنائزیشن آف ایران (پی ایم او آئی) سے روابط اور مسلح حملے کرنے کے مرتکب تھے ٕٕٕگروپ کا کہنا تھا کہ ہفتے کے روز پھانسی پانے والے دونوں افراد جنوری 2024 میں گرفتار ہوئے تھے اور دسمبر 2025 میں ان کی سزائے موت برقرار رکھی گئی تھی۔

    دمشق میں اماراتی سفارت خانے پر حملہ،شامی وزارت داخلہ کی شدید الفاظ میں مذمت

    واضح رہے کہ جنوری میں شروع ہونے والی بدامنی ابتدا میں معاشی مشکلات کے خلاف احتجاج کے طور پر سامنے آئی تھی، تاہم بعد ازاں یہ ایک ملک گیر تحریک میں تبدیل ہو گئی جس میں حکومت کے خاتمے کے مطالبات بھی شامل تھے،حکام کی جانب سے ان مظاہروں کے خلاف سخت کارروائی کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں 1979 کے انقلاب کے بعد ملک میں سب سے زیادہ پرتشدد جھڑپیں دیکھنے میں آئیں اور ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

  • ٹرمپ آج اعلیٰ فوجی قیادت کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس کریں گے

    ٹرمپ آج اعلیٰ فوجی قیادت کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس کریں گے

    وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج اہم پریس کانفرنس کریں گے جس میں ایران سے جاری کشیدگی کے معاملے پر اہم گفتگو ہو گی۔

    ترجمان نے بتایا کہ صدر ٹرمپ امریکی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے جبکہ پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بجے میڈیا سے خطاب کریں گے،پریس کانفرنس وائٹ ہاؤس کے بریفنگ روم میں ہوگی اور اس میں اعلیٰ فوجی قیادت بھی صدر کے ہمراہ موجود ہوگی، یہ پریس کانفرنس امریکی میڈیا کے مسلسل اصرار پر منعقد کی جا رہی ہے جس میں صدر ٹرمپ ایران سے متعلق جاری صورتحال اور ممکنہ اقدامات پر سوالات کے جوابات دیں گے سیاسی و سفارتی حلقوں میں اس پریس کانفرنس کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے جہاں خطے کی موجودہ کشیدگی کے تناظر میں بڑے اعلانات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے-

    ٹرمپ کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات امریکا کو ایک زندہ جہنم میں دھکیل رہے ہیں،قالیباف

    کھیل معاشرتی مسائل کے حل کے لیے مثبت ماحول فراہم کرتے ہیں،شہباز شریف

  • ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کے لیے دی گئی مہلت کے حتمی وقت کا اعلان کر دیا

    ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کے لیے دی گئی مہلت کے حتمی وقت کا اعلان کر دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کے لیے دی گئی مہلت کے حتمی وقت کا اعلان کر دیا-

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کے لیے دی گئی مہلت کا حتمی وقت واضح کرتے ہوئے سوشل میڈیا ٹروتھ پر بتایا کہ ڈیڈ لائن منگل کو رات 8 بجے (ایسٹرن ٹائم) ختم ہوگی،عرب میڈیا کے مطابق یہی وقت ایران میں رات قریباً ساڑھے تین بجے جبکہ پاکستان میں بدھ کی صبح 5 بجے کے برابر بنتا ہے۔

    ایران امریکا جنگ بندی:پاکستان اور سعودی عرب کا خطے کی صورتحال کا جائزہ،دو مرحلوں پر مبنی ممکنہ معاہدے پر غور

    اس اعلان سے قبل ایک امریکی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی واضح ٹائم لائن کا تعین نہیں کر سکتے، تاہم خبردار کیا کہ اگر ایران نے منگل کی شام تک آبنائے ہرمز نہ کھولی تو اس کے بجلی گھروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے انہوں نے ایران کو تنبیہ کی کہ مقررہ وقت تک پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں نہ صرف پاور پلانٹس بلکہ دیگر اہم انفراسٹرکچر بھی محفوظ نہیں رہیں گے مشرقِ وسطیٰ کا تنازع ہفتوں نہیں بلکہ چند دنوں میں ختم ہونا چاہیے جبکہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    ایران کو دھمکی دینے پر امریکی سیاستدانوں نے صدرٹرمپ کو پاگل اور نااہل قرار دے دیا

  • ایران امریکا جنگ بندی:پاکستان اور سعودی عرب کا  خطے کی صورتحال کا جائزہ،دو مرحلوں پر مبنی  ممکنہ معاہدے پر غور

    ایران امریکا جنگ بندی:پاکستان اور سعودی عرب کا خطے کی صورتحال کا جائزہ،دو مرحلوں پر مبنی ممکنہ معاہدے پر غور

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دوسرے مرحلے میں مکمل جنگ بندی اور تنازع کے مستقل حل کے لیے باضابطہ معاہدہ طے پانے کا امکان ہے –

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا، ایران اور علاقائی ثالثوں پر مشتمل ایک گروپ جنگ کے خاتمے کے لیے دو مرحلوں پر مبنی ممکنہ معاہدے پر غور کر رہا ہے مجوزہ معاہدے کا پہلا مرحلہ تقریباً 45 روزہ جنگ بندی پر مشتمل ہوگا، جس کے دوران مستقل امن کے لیے مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے گا۔ اگر بات چیت کو مزید وقت درکار ہوا تو اس جنگ بندی میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق دوسرے مرحلے میں مکمل جنگ بندی اور تنازع کے مستقل حل کے لیے باضابطہ معاہدہ طے پانے کا امکان ہے اور آئندہ 48 گھنٹوں میں کسی فوری یا جزوی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات محدود ہیں، تاہم یہ کوششیں کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے اہم تصور کی جا رہی ہیں۔

    ایران کو دھمکی دینے پر امریکی سیاستدانوں نے صدرٹرمپ کو پاگل اور نااہل قرار دے دیا

    امریکی ویب سائٹ کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ بات چیت جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کی ایک اہم سفارتی کوشش ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے اس حوالے سے فی الحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔

    دوسری جانب نے ایران کو انتہائی سخت اور نازیبا الفاظ میں دھمکی دی ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو فوری طور پر نہ کھولا گیا تو منگل کے روز ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں پر قیامت ڈھا دی جائے گی۔

    آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے سخت نازیبا اور گالی نما الفاظ استعمال کیے اور لکھا کہ منگل کا دن ایران میں ’پاور پلانٹ ڈے‘ اور ’برج ڈے‘ (پلوں کو نشانہ بنانے کا دن) ہوگا، ایران نے ایسی تباہی پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی-

    ایران کو دھمکی دینے پر امریکی سیاستدانوں نے صدرٹرمپ کو پاگل اور نااہل قرار دے دیا

    امریکی صدر نے ایرانی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے مزید لکھا کہ آبنائے ہرمز کھولو، ورنہ تم جہنم میں پہنچا دیے جاؤ گے، بس دیکھتے جاؤ‘ امریکی صدر نے اپنے اس شدید غصے اور گالیوں پر مبنی دھمکی آمیز پیغام کے بالکل اختتام پر ”اللہ کی حمد و ثنا“ (Praise be to Allah) کے الفاظ بھی تحریر کیے ہیں۔

    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کو ڈیل یا کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مارچ کے آخری ہفتے کی تاریخ دی تھی لیکن پھر انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی حکام نے مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے، جس کے بعد اس الٹی میٹم میں 10 روز کی توسیع کرکے 6 اپریل کی ڈیڈلائن مقرر کی گئی تھی۔

    ہفتے کے روز انہوں نے ایک بار آبنائے ہرمز کھولنے یا کوئی نیا معاہدہ کرنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دی تھی اور دھمکی دی تھی کہ اس کے بعد ایران پر قیامت ڈھا دی جائے گی۔