Baaghi TV

Tag: جنگ

  • ٹرمپ کو گارڈ کی نوکری کرنے کا  شوق ہے تو وہ لنزے گراہم کی قبر پر مجاور بن جائیں،ابراہیم رضائی

    ٹرمپ کو گارڈ کی نوکری کرنے کا شوق ہے تو وہ لنزے گراہم کی قبر پر مجاور بن جائیں،ابراہیم رضائی

    ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان پر سخت اور طنزیہ ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے کسی بیرونی لیبر کی ضرورت نہیں۔

    ابراہیم رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز کا محافظ بننا چاہتے ہیں، لیکن ہمیں آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے بیرونی لیبر نہیں چاہیے، اگر ٹرمپ کو گارڈ کی نوکری کرنے کا اتنا ہی شوق ہے تو وہ لنزے گراہم کی قبر پر مجاور بن جائیں۔

    ابراہیم رضائی کی جانب سے یہ ردعمل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے آبنائے ہرمز اور خطے کی سلامتی سے متعلق اظہارِ خیال کیا تھا۔

    قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’فاکس نیوز‘ کو ٹیلی فونک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم آبنائے ہرمز کو محفوظ رکھیں گے اور ممکن ہے اسے ہم ہی چلائیں، ہم اس آبنائے کے نگہبان بن جائیں گے، شاید اسے گارڈین اینجل آف دی اسٹریٹ کہیں، اور اس کے لیے ہمیں معاوضہ ملنا چاہیے۔

    صدر ٹرمپ نے انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز کی حفاظت کے بدلے میں بہت زیادہ رقم حاصل کرے گا، ان کے بقول دیگر ممالک بہت خوش حال ہیں، وہ امریکا کے ساتھ ہیں اور امریکا سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ یہ ذمہ داری بلا معاوضہ انجام دے، اسی گفتگو میں ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا نے گزشتہ رات ایرانی فوجی سازوسامان کو شدید نقصان پہنچایا،ایران کے بیشتر عسکری آلات تباہ ہو چکے ہیں اور امریکی کارروائیوں میں فضائی دفاعی نظام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

    واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار سمندری راستے سے منتقل کی جاتی ہے، اسی لیے اس علاقے میں پیدا ہونے والی کشیدگی پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز رہتی ہیں۔

  • امریکی فوج کے مسلسل تیسری رات ایران پر حملے،ایران نے دو اماراتی سُپر آئل ٹینکرزتباہ کر دیئے

    امریکی فوج کے مسلسل تیسری رات ایران پر حملے،ایران نے دو اماراتی سُپر آئل ٹینکرزتباہ کر دیئے

    امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ یعنی سینٹ کام نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ایران پر پانچ گھنٹے تک بمباری کی ہےایران نے بھی جوابی کارروائی میں تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    سینٹ کام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں بتایا کہ اس نے تیرہ جولائی کی رات ایران پر پانچ گھنٹے طویل بمباری کا ایک بہت بڑا مرحلہ مکمل کر لیا ہے اس حملے میں ایران کے ساحلی علاقوں بشمول بوشہر، چاہ بہار، جاسک، کنارک، ابو موسیٰ اور بندر عباس میں قائم فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    امریکی فورسز کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایران کے ساحلی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون اڈوں کو تباہ کرنے کے لیے انتہائی جدید ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے تاکہ ایران کی طرف سے سمندری جہازوں پر حملے کرنے کی طاقت کو ختم کیا جا سکے اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں پچاس ہزار سے زیادہ امریکی فوجی الرٹ اور ہر وقت کارروائی کے لیے تیار کھڑے ہیں۔

    ادھرایرانی نیوز ایجنسی ’مہر’ کے مطابق، صوبہ خوزستان کے شہر امیدیہ میں ہونے والے حملوں میں چار لوگ زخمی ہوئے ہیں اس کے علاوہ ایران کے جزیروں قشم، ابو موسیٰ اور کیش میں بھی دھماکوں کی ہولناک آوازیں سنی گئی ہیں عراق کے شمالی علاقے اربیل سے بھی یہ خبر آئی ہے کہ وہاں ایران کے مخالف کرد گروپ کے ایک ٹھکانے پر میزائل گرا ہے، تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    امریکا کے ان حملوں کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایکشن لیتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے دو بڑے تیل بردار سُپر ٹینکرز کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے اس حملے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے عمان کی سمندری حدود میں ان کے دو بڑے جہازوں ’مومباسا‘ اور ’باہیہ‘ پر دو کروز میزائل داغے جس سے دونوں جہازوں میں شدید آگ لگ گئی اس حملے میں جہاز پر سوار عملے کا ایک بھارتی شہری ہلاک ہو گیا جبکہ 8 دیگر افراد شدید زخمی ہوئے ہیں جن میں چار بھارتی اور دو یوکرینی باشندے شامل ہیں۔

    متحدہ عرب امارات نے اس حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ اسے بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے اثاثوں کا دفاع کرنے کا پورا حق حاصل ہے اور وہ ایران کے خلاف ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔

    دوسری طرف، ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے سرکاری ٹی وی پر بیان دیا ہے کہ یہ دونوں جہاز قانون توڑ رہے تھے اور ”امریکا کے بہکاوے میں آ کر“ اپنے نیویگیشن (راستہ بتانے والے) سسٹم بند کر کے عمانی سمندری حدود سے گزر رہے تھےا بار بار خبردار کرنے کے باوجود جب یہ جہاز نہ رکے تو ان پر حملہ کر کے انہیں ناکارہ بنا دیا گیا۔

    اس کے ساتھ ہی ایران نے بحرین میں قائم امریکی فوجی اڈے ’الجفیر‘ پر بھی میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے جہاں ہتھیاروں کے گودام اور امریکی فوجیوں کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

  • کوئی بھی ملک ایران پر وعدہ خلافی کا الزام نہیں لگا سکتا،اسماعیل بقائی

    کوئی بھی ملک ایران پر وعدہ خلافی کا الزام نہیں لگا سکتا،اسماعیل بقائی

    ایرانی وزارت خارجہ ںے کہا ہے کہ ایران کو دفاع پر موردِ الزام ٹھہرانا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے، کیونکہ ایران نے کسی بھی حملے میں پہل نہیں کی اور اس کے تمام اقدامات حقِ خود دفاع کے تحت کیے گئے، کوئی بھی ملک ایران پر وعدہ خلافی کا الزام نہیں لگا سکتا۔

    تہران میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ امریکی اڈوں پر کی جانے والی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کے مطابق حقِ دفاع کے دائرے میں تھیں امریکا کو فوجی اڈے فراہم کرنے والے ممالک سے بھی اس حوالے سے سوال کیا جانا چاہیے۔

    اسماعیل بقائی نے کہا کہ اقوام متحدہ نے ایران کے مؤقف کو نظر انداز کیا، جبکہ امریکا نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی کھلی خلاف ورزی کی ہےتہران اور واشنگٹن کے درمیان مفاہمتی یادداشت اس وقت بحران کا شکار ہے ایران کبھی بھی اپنے وعدے توڑنے میں پہل نہیں کرتا،اور جب تک امریکا اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا، ایران بھی اس پر عمل درآمد نہیں کرے گا۔

    ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکا نے معاہدے کی ابتدائی ایک ماہ کی مدت مکمل ہونے سے پہلے ہی اسے سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، لہٰذا کوئی بھی ایران پر اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کا الزام نہیں لگا سکتا،امریکی انتظامیہ کا طرزِ عمل اب پوری دنیا کے سامنے واضح ہو چکا ہے ایران نے امریکا کے ساتھ طے پانے والی یادداشت ’اسلام آباد ایم او یو‘ کے تحت اپنے تمام وعدے پورے کیے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہر معاملے میں ہمارے اور دوسری پارٹی کے فرائض بالکل صاف تھے، اور یہ بات دستاویزات کے ساتھ ثابت کی جا سکتی ہے کہ دوسر ی پارٹی یعنی امریکا نے مختلف بہانوں سے اس معاہدے کے کئی حصوں کی خلاف ورزی کی ہے،انہوں نے امریکا پر زور دیا کہ وہ عارضی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔

    انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہر مذاکرات میں ایرانی قوم کے فائدے اور تحفظ کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیشہ سنجیدگی دکھائی ہے، اور جب بھی کوئی معاہدہ ہوا، ایران نے اسے پورا کرنے میں ہمیشہ سچائی دکھائی ہے جب بھی دوسری پارٹی اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی، ہم نے بھی اپنے قدم پیچھے ہٹا لیے، اور ہم آگے بھی اسی طرح کا رویہ اپنائیں گے۔

    اس کے ساتھ ہی ایرانی ترجمان نے یہ بھی اعلان کیا کہ اپنے سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور مارے جانے والے تمام شہریوں کے خون کا انصاف لینا ایرانی حکومت کا ایک اہم ترین اصول ہے،حکومت کا فرض بالکل صاف ہے اور وزارتِ خارجہ اس کام میں لگی ہوئی ہے،ہم امریکا اور اسرائیل کے جرائم کو دنیا کے سامنے لانے اور انصاف قائم کرنے کے لیے تمام قانونی اور بین الاقوامی راستے اور موقعے استعمال کریں گے۔

    آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران جہازرانی کے تحفظ کے لیے عمان کے ساتھ مشترکہ طریقہ کار وضع کر رہا ہے، تاہم امریکا کی جانب سے عمان پر دباؤ کے باعث اس سلسلے میں پیش رفت متاثر ہوئی ہےایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق عمان کے ساتھ مشاورت بھی کی ہے، جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی کا حالیہ دورۂ عمان کامیاب رہا۔

    اسماعیل بقائی نے ایک بار پھر زور دیا کہ ایران کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے، انہوں نے اسرائیل پر لبنان اور فلسطین میں مسلسل حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ہر مرحلے پر مذاکرات میں قومی عزم اور عوامی مفادات کو مقدم رکھا، تاہم امریکی رویے نے سفارتی عمل کو نقصان پہنچایا ہے۔

  • امریکا کے ایران پر تازہ حملے ،مختلف مقامات پر درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا

    امریکا کے ایران پر تازہ حملے ،مختلف مقامات پر درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا

    امریکی افواج نے ایران پر دوبارہ حملے شروع کردئیے،امریکی سینٹ کام کے مطابق مختلف مقامات پر درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا،حملوں کامقصد آبنائے ہرمزمیں ایرانی صلاحیت کوکمزورکرناہے۔

    امریکی سینٹ کام کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار مراکز، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کونشانہ بنایا،ایران کی چھوٹی بحری کشتیوں کو لڑاکا طیاروں، بحری جہازوں، ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیاایران کے خلاف نئی کارروائی مکمل کرلی گئی ہےآبنائے ہرمز انتہائی اہم عالمی تجارتی بحری گزرگاہ ہے ،ایران اس پر کنٹرول نہیں رکھتا،تجارتی جہازوں کی آزادانہ آمدورفت برقراررکھنے کویقینی بنانے کیلئے تیار ہیں۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق ان امریکی حملوں کے بعد ایران کے اہم ساحلی شہر بندر عباس، جزیرہ قشم، سیرک اور جاسک میں انتہائی زوردار دھماکے سنے گئے امریکی فوج نے پہلی بار اس جنگ میں لڑاکا طیاروں اور بحری جہازوں کے ساتھ ساتھ ہوا اور سمندر میں خود ہی جا کر پھٹنے والے خودکش ڈرون طیاروں کا استعمال بھی کیا ہے جن کی مدد سے ایران کے فوجی ریڈاروں، میزائلوں، اور چھوٹی جنگی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا-

    ایران کے صوبے خوزستان کے ڈپٹی گورنر ولی اللہ حیاتی نے بتایا کہ امریکی فورسز نے ان کے صوبے کے8 مختلف مقامات پر رات کے اندھیرے میں بمباری کی ماہشہر کے علاقے میں کھیتوں کو پانی دینے والے ایک سرکاری واٹر پمپنگ اسٹیشن پر امریکی پروجیکٹائل لگنے سے وہاں موجود ایک چوکیدار جاں بحق ہو گیا ہے جبکہ چار دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    دوسری طرف، ایران نے بھی ان امریکی حملوں کا انتہائی سخت جواب دیتے ہوئے خطے کے ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کئے،ایران کی نیوز ایجنسی ’نور‘ کے مطابق، ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب نے خطے میں موجود ’”دشمن کے اڈوں“ پر بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے الگ الگ بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اردن کے ’پرنس حسن ایئربیس‘ پر میزائل داغ کر وہاں موجود امریکی تیل کے گوداموں اور بارود کے ذخائر کو آگ لگا دی ہے، جبکہ بحرین کے ’شیخ عیسیٰ ایئربیس‘ پر بھی حملہ کر کے امریکی فوج کے ہیلی کاپٹروں اور ڈرو ن کنٹرول روم کو نشانہ بنایا گیا ہے، ایران کے کویت پر حملے میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں، ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی بیلسٹک میزا ئل امریکی ’اے ٹی اے سی ایم ایس‘ میزائل سسٹم پر لگے جس میں تین امریکی فوجی مارے گئے۔

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے گزشتہ24گھنٹے کے دوران امریکا کے فوجی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے وحشیانہ حملے اقوام متحدہ کے منشورکی کھلی خلاف ورزی ہیں امریکی حملوں نے مغربی ایشیا میں امن بحالی کی کوششوں کونقصان پہنچایاہے،جنگ بندی معاہدہ کے صرف 25 روز بعد امریکا نےتمام اہم شقوں کی خلا ف ورزی کی،امریکا نے آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی سے متعلق ایران کے قانونی اقدامات میں بھی مداخلت کی۔

    ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکا نے بعض ممالک کی سرزمین استعمال کرکے انہیں غیر قانونی جنگ کا حصہ بنا دیا ،ایران حملے کے ذرائع اور مقامات ہمارے دفاعی حملوں کا جائز ہدف بن سکتے ہیں،مسقط مذاکرات سے متعلق امریکی صدر کے دعوے حقیقت کے منافی ہیں یواین سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل حملہ آوروں کا احتساب کریں،امریکی فوج کی غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث آبنائے ہرمز کوبند کر دیا گیا ہے۔

    علاوہ ازیں آبنائے ہرمزسے بحری ٹریفک گزرنے سے متعلق امریکی نیوز ویب سائٹ نے حکام کے حوالے سے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمزسے گزشتہ24گھنٹے میں 20تجارتی جہازامریکی فوج سے رابطہ کرکے گزرے،کئی جہاز امریکی فوج کے ساتھ رابطے کے بغیر بھی آبنائے ہرمز سے گزرے۔

  • امریکا نے اپنے دو طیارہ بردار بحری جہاز ایران کے قریب پہنچا دیے

    امریکا نے اپنے دو طیارہ بردار بحری جہاز ایران کے قریب پہنچا دیے

    امریکا نے یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش نامی طیارہ بردار بحری جہاز ایران کے قریب تعینات کر دیے ہیں۔

    امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق اس نگرانی کا مقصد مقصد خطے میں بحری سلامتی کو یقینی بنانا، تجارتی جہازوں کے تحفظ کو مضبوط بنانا اور ضرورت پڑنے پر ایران پر عسکری و سفارتی دباؤ بڑھانا ہے،بحری نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اداروں نے بتایا کہ دونوں امریکی کیریئر اسٹرائیک گروپس خلیجِ عمان میں پہنچ چکے ہیں جہاں سے وہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں ہونے والی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھ سکیں گے۔

    یہ آبی گزرگاہ عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے کیونکہ دنیا میں سمندر کے راستے منتقل ہونے والے خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے اگرچہ امریکی حکام نے کسی ممکنہ فوجی کارروائی کی تصدیق نہیں کی تاہم خطے میں جنگی اثاثوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہوچکی ہے اگرچہ سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے دروازے بدستور کھلے ہیں۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ کے مختلف سمندری علاقوں میں امریکی بحریہ کے 20 سے زائد جنگی جہاز تعینات ہیں اور امریکی افواج اپنے مشن کے مطابق معمول کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    جب امریکی حکام سے یہ پوچھا گیا کہ آیا بحری قوت میں یہ اضافہ ایران کے خلاف ممکنہ بحری ناکہ بندی کی تیاری ہے تو سینٹ کام نے آپریشنل معاملات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

  • گزشتہ روز سے جاری امریکی حملوں میں 14 افراد جاں بحق اور 78 زخمی ہوئے، ایرانی وزارت صحت

    گزشتہ روز سے جاری امریکی حملوں میں 14 افراد جاں بحق اور 78 زخمی ہوئے، ایرانی وزارت صحت

    تہران: ایرانی وزارت صحت نے کہا ہے کہ گزشتہ روز سے جاری امریکی حملوں میں اب تک 14 افراد جاں بحق جبکہ 78 زخمی ہو چکے ہیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی وزارت صحت نے کہا ہے کہ امریکی حملوں سے اب تک ملک کے پانچ صوبے متاثر ہوئے ہیں جہاں امداد ی اور طبی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں صوبہ خوزستان میں آج ہونے والے حملوں میں 3 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

    دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز صرف ایران کے طے کردہ انتظامات کے تحت کھلی رہے گی اور اسے امریکا کی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت ہرگز نہیں کھولا جائے گا آبنائے ہرمز ایران کی قومی سلامتی اور اس کے تزویراتی مفادات کا اہم حصہ ہے۔ اس لیے اس آبی گزرگاہ سے متعلق ہر فیصلہ صرف ایران کے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گاایران کسی بھی بیرونی دباؤ یا دھمکی کے سامنے جھکنے والا نہیں اور آبنائے ہرمز کے بارے میں فیصلے صرف ایران کے طے کردہ انتظامات اور پالیسی کے مطابق ہوں گے۔

  • روس کے یوکرین پٔرمیزائلوں اور ڈرونز سے حملہ،8 افراد ہلاک ، متعدد زخمی

    روس کے یوکرین پٔرمیزائلوں اور ڈرونز سے حملہ،8 افراد ہلاک ، متعدد زخمی

    روس نے یوکرین پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق حملوں میں رہائشی عمارتوں، بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا،یوکرینی حکام کے مطابق حملوں کا نشانہ کئی شہر بنے جہاں فضائی دفاعی نظام نے متعدد ڈرونز اور میزائل تباہ کیے تاہم کچھ اپنے اہداف تک پہنچ گئے۔ امدادی کارکنوں نے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو کارروائیاں کیں۔

    روس کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ حملوں میں فوجی اور دفاعی صنعت سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ یوکرین کا مؤقف ہے کہ زیادہ تر حملوں کا رخ شہری علاقوں کی طرف تھا جس سے عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔

    واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں روس اور یوکرین کے درمیان فضائی حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں نے شہری ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق شہریوں اور شہری تنصیبات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

  • اپنے قومی مفادات اور معاہدوں کے احترام پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے،ایران

    اپنے قومی مفادات اور معاہدوں کے احترام پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے،ایران

    ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر ابراہیم رضائی نے کہا ہے کہ امریکا نے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی اس کا جواب فوری اور فیصلہ کن ہو گا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر ابراہیم رضائی نے امریکا پر آبنائے ہرمز میں کشیدگی پیدا کرکے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا،انہوں نے کہا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز میں تناؤ پیدا کر کے طے شدہ مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ اس اقدام کا جواب فوری، فیصلہ کن اور مؤثر انداز میں دیا جائے گا، ایران اپنے قومی مفادات، علاقائی سلامتی اور معاہدوں کے احترام پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور کسی بھی خلاف ورزی پر مناسب رد عمل دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    واضح رہے کہ عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر حملے کے بعد امریکی فوج نے ایران کے خلاف فضائی حملے کیے، جس کی امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی،سینٹرل کمانڈ کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے ایک تجارتی جہاز پر حملے کے جواب میں کارروائی کی گئی، امریکی طیاروں نے ایران کے میزائل اور ڈرون اسٹوریج کے مقامات اور ساحلی ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا۔

  • امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرار داد منظور ،ٹرمپ کے ساتھی بھی ساتھ چھوڑنے لگے

    امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرار داد منظور ،ٹرمپ کے ساتھی بھی ساتھ چھوڑنے لگے

    امریکا اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات کے دوران امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرار داد منظور کی گئی ہے جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی فوج کی کسی بھی قسم کی کارروائی کو فوری طور پر روک دیں۔

    امریکی تاریخ میں 1973 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں یعنی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان (کانگریس) نے متفقہ طور پر ایک ایسا قانون پاس کیا ہے جو صدر کو اپنی مرضی سے جنگ کرنے سے روکتا ہے،واں سال 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر کیے گئے حملے کے بعد شروع ہونے والی اس جنگ پر خود صدر ٹرمپ کی اپنی پارٹی کے اندر بھی شدید تشویش پائی جا رہی ہے، سینیٹ میں ہونے والی اس ووٹنگ میں بل کے حق میں 50 اور مخالفت میں 48 ووٹ آئے۔

    ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر ٹم کین نے سینیٹ میں تقریر کرتے ہوئے اس بل کی حمایت میں کہا کہ ملک کو جنگ میں دھکیلنے کا حق آئین نے پارلیمنٹ کو دیا ہے نہ کہ صدر کو، اور پارلیمنٹ کو اب اپنی یہ ذمہ داری خود اٹھانی ہو گی۔ نیویارک کے نمائندے گریگوری میکس نے کہا کہ میرے نزدیک یہ قانون صدر پر ہر صورت لاگو ہوتا ہے اور حکومت کو اس کا پابند بنانے کے لیے ہم ہر قانونی راستہ اختیار کریں گے،سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کے اکثریتی لیڈر جان تھون نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر حکومت ایران کے ساتھ کوئی امن معاہدہ کرتی ہے تو پارلیمنٹ اس کا باریک بینی سے جائزہ لے گی اور اس پر دوبارہ ووٹنگ کرائی جائے گی۔

    یہ ووٹنگ اگرچہ علامتی دکھائی دیتی ہے لیکن یہ صدر ٹرمپ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے جنہیں اب تک اپنی ہی ریپبلکن پارٹی کی طرف سے اندھی حمایت حاصل تھی، مگر اب نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم الیکشن کے خوف سے ان کے اپنے ساتھی بھی ان کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں اس قانون کی منظوری ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ٹرمپ حکومت اس جنگ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے پارلیمنٹ سے اربوں ڈالر کا نیا فنڈ مانگنے کی تیاری کر رہی ہے۔

    دوسری طرف امریکی عوام بھی اس جنگ سے تنگ آ چکے ہیں، کیونکہ حال ہی میں سامنے آنے والے ایک سروے کے مطابق صرف 25 فیصد امریکیوں کا ماننا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کرنا ایک درست فیصلہ تھا۔

    سینیٹ کے اس فیصلے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ یہ ووٹنگ انتہائی غلط وقت پر کی گئی ہے اور بالکل بے معنی ہے، ایسا کرنے والوں نے ایران کو فائدہ پہنچایا ہے اور میرا کام مزید مشکل بنا دیا ہے۔

  • ایران جنگ کے خاتمے کا مطلب لبنان میں جنگ کا مکمل اختتام بھی ہے،عباس عراقچی

    ایران جنگ کے خاتمے کا مطلب لبنان میں جنگ کا مکمل اختتام بھی ہے،عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کا مطلب لبنان میں جنگ کا مکمل اختتام بھی ہے، اور جب تک اسرائیلی افواج جنگ کے دوران قبضے میں لیے گئے لبنانی علاقوں سے واپس نہیں جاتیں جنگ کو مکمل طور پر ختم نہیں سمجھا جا سکتا۔

    ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق عباس عراقچی نے منگل کے روز غیر ملکی سفارت کاروں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ لبنان میں جنگ کا خاتمہ اس کے مکمل خاتمے کا ایک لازمی اور ناقابلِ علیحدگی حصہ ہے جب تک اسرائیلی افواج ان علاقوں سے انخلا نہیں کرتیں جن پر انہوں نے اس جنگ کے دوران قبضہ کیا، جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی لبنان پر اسرائیل کے کسی بھی مزید حملے کو ایران کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گاجمعہ کو جنیوا میں دونوں مذاکراتی ٹیموں کے سربراہان ملیں گے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فورا بعد ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوگا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں، تاہم معاہدے کی تفصیلات تاحال منظرعام پر نہیں آئیں جبکہ دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ مستقل جنگ بندی کے لیے ابھی مزید مذاکرات ہونا باقی ہیں صدر ٹرمپ نے پیر کے روز فرانس پہنچنے کے بعد جی 7 ممالک کے سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ معاہدے پر مکمل دستخط ہو چکے ہیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جمعے کے روز جنیوا میں ہونے والی ایک باضابطہ دستخطی تقریب میں شرکت کریں گے۔