Baaghi TV

Tag: جنگ

  • یو اے ای کا  ایران کے  2 بیلسٹک میزائل اور 3 ڈرونز کو تباہ  کرنے کا دعویٰ

    یو اے ای کا ایران کے 2 بیلسٹک میزائل اور 3 ڈرونز کو تباہ کرنے کا دعویٰ

    متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے داغے گئے 2 بیلسٹک میزائل اور 3 ڈرونز کو تباہ کردیا ہے-

    جمعے کو متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 8 مئی 2026 کو یو اے ای کے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے لانچ کیے گئے 2 بیلسٹک میزائل اور 3 ڈرونز (یو اے ویز) کو تباہ کیا ہےایران کے یو اے ای پر اس حملے کے دوران 3 افراد زخمی بھی ہوئے، متحدہ عرب امارات پر ایرانی حملوں کے آغاز سے اب تک فضائی دفاعی نظام مجموعی طور پر 551 بیلسٹک میزائل، 29 کروز میزائل اور 2 ہزار 263 ڈرونز کو نشانہ بنا چکا ہے۔

    وزارت دفاع کے مطابق اب تک زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 230 تک پہنچ چکی ہے، جن میں مختلف ممالک کے شہری شامل ہیں زخمیوں میں اماراتی، پاکستانی، مصری، سوڈانی، ایتھوپیئن، فلپائنی، ایرانی، بھارتی، بنگلادیشی، سری لنکن، آذربائیجانی، یمنی، یوگنڈین، لبنانی، افغانی، بحرینی، ترک، عراقی، نیپالی، نائجیرین، عمانی، اردنی، فلسطینی، انڈونیشین، تیونسی، مراکشی اور روسی شہری شامل ہیں۔

    متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ہلاک افراد کی مجموعی تعداد 3 ہوگئی ہے، جن میں ایک مراکشی شہری بھی شامل ہے، جو مسلح افواج کے ساتھ معاہدے کے تحت خدمات انجام دے رہا تھا جب کہ شہری ہلاکتوں کی تعداد 10 بتائی گئی ہے ان میں پاکستانی، نیپالی، بنگلادیشی، فلسطینی، بھار تی اور مصری شہری شامل ہیں ملک کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور قومی سلامتی، خود مختاری اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

  • اسرائیل کا حزب اللہ کے مزید دو سینئر کمانڈرز شہید  کرنے کا دعویٰ

    اسرائیل کا حزب اللہ کے مزید دو سینئر کمانڈرز شہید کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان میں حالیہ فضائی حملوں کے دوران حزب اللہ کے مزید دو سینئر کمانڈرز شہید ہو گئے ہیں، جب کہ بیروت حملے میں ایک اعلیٰ عہدیدار کی شہادت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔

    اسرائیلی اخبار ’ٹائم آف اسرائیل‘ کے مطابق اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے کہا ہے کہ لبنان میں گزشتہ روز کیے گئے فضائی حملوں میں حزب اللہ کے دو اہم کمانڈرز شہید ہو گئے ہیں، شہید ہونے والوں میں محمد علی بازی شامل ہیں، جو حزب اللہ کے نصر ریجنل ڈویژن میں انٹیلی جنس کے سربراہ تھے، جب کہ حسین حسن رمانی حزب اللہ کے فضائی دفاعی یونٹ کے سربراہ تھے۔

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ دونوں کمانڈرز اسرائیلی فوج اور شہریوں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں میں ملوث تھے16 اپریل کو لبنان میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اب تک 220 سے زائد حزب اللہ ارکان کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جنہیں اسرائیل اپنی سکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے، گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اسرائیلی افواج نے حزب اللہ کے 85 ارکان کو شہید کیا، جب کہ تنظیم سے متعلق 180 سے زائد فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا یہ کارروائیاں لبنان سے اسرائیل کے خلاف ممکنہ حملوں کو روکنے کیلئے کی جا رہی ہیں۔

    دوسری جانب حزب اللہ کی جانب سے تاحال اسرائیل کے ان دعوؤں پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا –

  • ایران کی کسی بھی قسم کی دھمکیاں اور مداخلت کو قابل قبول نہیں، یو اے ای

    ایران کی کسی بھی قسم کی دھمکیاں اور مداخلت کو قابل قبول نہیں، یو اے ای

    متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ اس کی خودمختاری اور سلامتی کے خلاف کسی بھی قسم کی دھمکی قابلِ قبول نہیں۔

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں ایران کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے اماراتی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور آزاد فیصلہ سازی کے خلاف کسی بھی الزام یا دھمکی کو قطعی طور پر رد کرتی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے بین الاقوامی تعلقات اور دفاعی شراکت داریاں مکمل طور پر اس کی خودمختار پالیسی کا حصہ ہیں اور کسی بھی فریق کو ان تعلقات کو دھمکی، مداخلت یا اشتعال انگیزی کے لیے استعمال کرنے کا حق حاصل نہیں، ملک کی سلامتی، شہری بنیادی ڈھانچے اور عوام کے تحفظ کو براہِ راست یا بالواسطہ نشانہ بنانے والی کوئی بھی زبان غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہے، جو بین الاقوامی قوانین، اچھے ہمسائیگی کے اصولوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کے مترادف ہے متحدہ عرب امارات اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر قانونی، سفارتی اور ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ساتھ ہی اس بات پر زور دیا گیا کہ دباؤ یا الزامات کی کوئی بھی کوشش امارات کے مؤقف کو تبدیل نہیں کر سکتی۔

    گذشتہ روز ایران کی مسلح افواج نے متحدہ عرب امارات کے خلاف کسی بھی میزائل یا ڈرون حملے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اماراتی وزارتِ دفاع کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا تھا ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے کہا کہ ایرانی افواج نے حالیہ دنوں میں متحدہ عرب امارات پر کوئی حملہ نہیں کیا اور اگر ایسا کوئی اقدام ہوتا تو اس کا باقاعدہ اعلان کیا جاتا، ایران اب تک تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہے، تاہم اگر امارات کی سرزمین سے ایران کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو اس کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے امارات پر الزام عائد کیا کہ اس کی سرزمین خطے میں بیرونی فوجی موجودگی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جو علاقائی امن کے لیے خطرناک ہے۔

  • پابندیوں کی خلاف ورزی پر ایرانی آئل ٹینکر کو امریکی افواج نے غیر فعال کر دیا،سینٹکام

    پابندیوں کی خلاف ورزی پر ایرانی آئل ٹینکر کو امریکی افواج نے غیر فعال کر دیا،سینٹکام

    امریکی فوج کے مرکزی کمانڈ سینٹ کام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے پرچم والے ایک خالی آئل ٹینکر کو امریکی افواج نے غیر فعال کر دیا۔

    سینٹ کام کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایم ٹی حسنا نامی ٹینکر بین الاقوامی پانیوں میں ایران کی جانب سفر کر رہا تھا اور اس کا رخ ایک ایرانی بندرگاہ کی طرف تھا، امریکی افواج نے جہاز کو متعدد بار وارننگ جاری کی اور عملے کو آگاہ کیا کہ وہ امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

    سینٹ کام کے مطابق جب ٹینکر کے عملے نے ہدایات پر عمل نہ کیا تو امریکی بحریہ کے طیارے نے کارروائی کرتے ہوئے جہاز کے اسٹیئرنگ سسٹم کو نشانہ بنایا، جس کے باعث ٹینکر اپنی منزل کی جانب سفر جاری رکھنے کے قابل نہیں رہا،یہ طیارہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن سے پرواز کرکے آیا تھا۔

  • ایران کے فضائی حملوں میں فوجی تنیبات کو حکومتی دعوؤں سے کہیں زیادہ نقصان پہنچا ، واشنگٹن پوسٹ

    ایران کے فضائی حملوں میں فوجی تنیبات کو حکومتی دعوؤں سے کہیں زیادہ نقصان پہنچا ، واشنگٹن پوسٹ

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران کے فضائی حملوں کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو امریکی حکومت کے دعوؤں سے کہیں زیادہ نقصان پہنچا ہے-

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے جاری کردہ سیٹلائٹ تصاویر کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ کے آغاز سے اب تک ایرانی فضائی حملوں میں کم از کم 15 امریکی فوجی اڈوں پر 228 عمارتوں اور فوجی ساز و سامان کو نقصان پہنچا، جن میں 217 عمارتیں اور 11 فوجی اثاثے شامل ہیں، متاثر ہونے والی تنصیبات میں ہینگرز، بیرکس، ایندھن کے ذخائر، طیارے، ریڈار سسٹمز، مواصلاتی آلات اور فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ نقصانات کی یہ سطح امریکی حکومت کے عوامی سطح پر دیے گئے بیانات اور اس سے قبل سامنے آنے والی رپورٹس سے کہیں زیادہ ہے تاہم وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

    واشنگٹن پوسٹ کے مطابق زیادہ تر نقصان بحرین میں امریکی بحری بیڑے کے ہیڈ کوارٹر اور کویت کے تین فوجی اڈوں پر ہوا، جہاں حملے زیادہ شدت کے ساتھ کیے گئے ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ان مقامات کو ممکنہ طور پر اس لیے نشانہ بنایا گیا کیوں کہ وہاں سے کارروائیاں کی جا رہی تھیں بحرین اور کویت میں پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام تباہ ہوئے جب کہ بحرین میں نیول سپورٹ ایکٹیویٹی کے مقام پر سیٹلائٹ ڈش کو بھی نقصان پہنچا۔

    اس کے علاوہ اردن اور متحدہ عرب امارات میں تھاڈ ریڈار سسٹمز کو بھی نشانہ بنایا گیا سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر ایک E-3 سینٹری طیارہ تباہ ہوا جب کہ ایک ایندھن بردار طیارہ بھی ضائع ہوا بحرین میں نیول سپورٹ ایکٹیویٹی کو شدید نقصان پہنچا، جس کے باعث امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو فلوریڈا منتقل کرنا پڑا جب کہ بعض امریکی حکام کے مطابق مستقبل میں خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی واپسی کا امکان کم ہو سکتا ہے۔

    بعض خلیجی ممالک نے اپنی سرزمین سے امریکی جارحانہ کارروائیوں کی اجازت نہیں دی تاہم بحرین اور کویت کے اڈے سب سے زیادہ متاثر ہوئے جس کی ممکنہ وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہاں سے HIMARS جیسے امریکی راکٹ سسٹمز کے ذریعے ایران پر حملے کیے جارہے تھے یہ جائزہ صرف دستیاب سیٹلا ئٹ تصاویر پر مبنی جزوی تخمینہ ہے اور اصل نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔

  • امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باقاعدہ خاتمے کا 14 نکاتی فارمولا تیار،امریکی میڈیا

    امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باقاعدہ خاتمے کا 14 نکاتی فارمولا تیار،امریکی میڈیا

    امریکی حکام اور وائٹ ہاؤس کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باقاعدہ خاتمے اور ایٹمی مذاکرات کے نئے فریم ورک پر اتفاق کے لیے ایک صفحے کی مفاہمتی یادداشت (MOU) تیار کر لی گئی ہے۔

    امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایکسیوس‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے اور ایٹمی مذاکرات کے لیے ایک مختصر مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کے بہت قریب پہنچ چکا ہےرپورٹ میں دو امریکی حکام اور باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ فریقین اس وقت معاہدے کے اتنے قریب ہیں جتنا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک کبھی نہیں رہے۔

    امریکا کو توقع ہے کہ اگلے 48گھنٹوں کے دوران ایران کئی اہم نکات پر اپنا جواب دے گا، تاہم رپورٹ میں خبردار بھی کیا گیا ہے کہ ابھی تک کسی حتمی بات پر اتفاق نہیں ہوا ہےاس14 نکات پر مشتمل ایک صفحے کی مفاہمتی یادداشت کے لیے امریکی مندوبین اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر براہ راست اور ثالثوں کے ذریعے ایرانی حکام سے مذاکرات کر رہے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی موجودہ شکل کے تحت خطے میں جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا جائے گا اور 30 دن کا ایک ایسا دورانیہ شروع ہوگا جس میں آبنائے ہرمز کو کھولنے، ایران کے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے اور امریکی پابندیاں ختم کرنے کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوگی اس30 دن کے عرصے کے دوران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر ایرانی پابندیاں اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی بتدریج ختم کر دی جائے گی۔

    ایکسیوس کے مطابق ایک امریکی اہلکار نے اس حوالے سے واضح کیا کہ اگر یہ مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو امریکی افواج دوبارہ ناکہ بندی کرنے یا فوجی کارروائی شروع کرنے کا اختیار رکھیں گی اس معاہدے کی دیگر اہم شرائط میں ایران کی جانب سے ایٹمی افزودگی روکنے کا عزم، امریکا کی طرف سے پابندیوں کا خاتمہ، منجمد ایرانی فنڈز کی واپسی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے آمد و رفت پر دونوں اطراف سے پابندیاں اٹھانا شامل ہے۔

    خبر کے مطابق ایران نے مبینہ طور پر اپنا اعلیٰ افزودہ یورینیئم ملک سے باہر منتقل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ایک تجویز کے مطابق یہ مواد امریکا منتقل کیا جا سکتا ہے، جو کہ تہران کی سابقہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہے اس کے بدلے میں امریکا ایران کے منجمد اربوں ڈالرز ریلیز کرے گا اور پابندیوں میں بتدریج نرمی کی جائے گی۔

    وائٹ ہاؤس کا ماننا ہے کہ ایرانی قیادت اس وقت مختلف دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے اتفاقِ رائے پیدا کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے صورتِ حال کو ’انتہائی پیچیدہ اور تکنیکی‘ قرار دیا ہے، اگرچہ انہوں نے سفارتی حل کی اُمید ظاہر کی، لیکن ساتھ ہی ایرانی قیادت کے بعض حصوں پر سخت تنقید بھی کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اعتماد کی فضا ابھی مکمل بحال نہیں ہوئی۔

    یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکی افواج بحری محاصرہ دوبارہ بحال کرنے اور فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہیں،جبکہ ایران نے بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ امن معاہدہ صرف اسی صورت میں قبول کرے گا جب وہ منصفانہ ہوگا۔

    واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے شروع کیے گئے بحری مشن ’پروجیکٹ فریڈم‘ کو بھی روک دیا ہے، جس کی وجہ سے ایک ماہ پرانی جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی تھی اگرچہ وائٹ ہاؤس اور محکمہ خارجہ نے ابھی تک اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، لیکن اس خبر کے سامنے آتے ہی امریکی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی ہے۔

  • ایران کی ایٹمی ہتھیار بنانے کیلئے درکار وقت میں تبدیلی نہیں آئی،امریکی  انٹیلیجنس

    ایران کی ایٹمی ہتھیار بنانے کیلئے درکار وقت میں تبدیلی نہیں آئی،امریکی انٹیلیجنس

    امریکی انٹیلیجنس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے درکار وقت میں پچھلے سال کے مقابلے میں اب بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے،حالانکہ گزشتہ سال ماہرین کا خیال تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں نے اس عمل کو ایک سال تک پیچھے دھکیل دیا ہے۔

    رائٹرز کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق یہ اندازے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شروع کی گئی دو ماہ کی جنگ کے باوجود وہیں برقرار ہیں، جبکہ اس جنگ کا ایک بڑا مقصد ایران کو ایٹمی بم بنانے سے روکنا تھا28 فروری سے جاری حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں زیادہ تر ایران کے روایتی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم اسرائیل نے چند اہم ایٹمی تنصیبات پر بھی حملے کیے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ماہرین کا ماننا ہے کہ ایٹمی ہتھیار بنانے کے وقت میں تبدیلی نہ آنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایران کے ایٹمی پروگرام میں کوئی بڑی رکاوٹ ڈالنی ہے تو اس کے لیے تہران کے پاس موجود انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم کرنا یا وہاں سے ہٹانا ضروری ہوگا۔

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے عوامی سطح پر کہا ہے کہ امریکا کا مقصد یہ ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

    اس سے قبل انٹیلی جنس اداروں کا خیال تھا کہ ایران 3 سے 6 ماہ میں ایٹمی بم بنا سکتا ہے، لیکن جون میں نطنز، فردو اور اصفہان کی ایٹمی تنصیبات پر امر یکی حملوں کے بعد یہ اندازہ 9 ماہ سے 1 سال تک بڑھا دیا گیا تھاتاہم اقوام متحدہ کے ایٹمی نگراں ادارے کا کہنا ہے کہ وہ تفتیش معطل ہونے کی وجہ سے 60 فیصد تک افزودہ 440 کلوگرام یورینیم کے ٹھکانے کی تصدیق نہیں کر سکا، جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ اصفہان میں زیر زمین سرنگوں میں چھپا یا گیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے ایران کے خلاف ہونے والی فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں آپریشن مڈ نائٹ ہیمر نے ایران کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کر دیا تھا، وہیں آپریشن ایپک فیوری نے ایران کے اس دفاعی صنعتی ڈھانچے کو ختم کر دیا جسے وہ اپنے ایٹمی پروگرام کی حفاظت کے لیے استعمال کرتے تھے ،صدر ٹرمپ نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا اور وہ محض باتیں نہیں کرتے۔

    اگرچہ اسرائیل نے ایٹمی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، لیکن امریکا نے زیادہ توجہ ایران کی فوجی طاقت اور قیادت پر مرکوز رکھی ہےسابق امریکی انٹیلی جنس تجزیہ کار ایرک بریور کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس جائزوں میں تبدیلی نہ آنا حیران کن نہیں ہے کیونکہ حالیہ حملوں میں ایٹمی تنصیبات کو ترجیح نہیں دی گئی، جہاں تک ہمیں معلوم ہے، ایران کے پاس اب بھی تمام ایٹمی مواد موجود ہے جو غالباً ایسی گہری زیر زمین جگہوں پر ہے جہاں امریکی بموں کی رسائی نہیں ہے۔

    دوسری جانب سابق انسپکٹر ڈیوڈ البرائٹ کا ماننا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایرانی ایٹمی سائنس دانوں کے قتل نے تہران کی بم بنانے کی صلاحیت کو مشکوک بنا دیا ہے سب اس بات پر متفق ہیں کہ علم کو بمباری سے ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن کام کرنے کی مہارت کو ضرور تباہ کیا جا سکتا ہے۔

  • ایران ہر قسم کی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے،ایران

    ایران ہر قسم کی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے،ایران

    ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ملک ہر ممکن صورتِ حال کے لیے تیار ہے اور امریکا کو اب سفارت کاری یا محاذ آرائی میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرنا ہوگا،-

    ’الجزیرہ‘ کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران ہر قسم کی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

    تہران میں تعینات سفیروں اور غیر ملکی سفارتی مشنز کے سربراہان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران مفادات پر مبنی سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے اور تنازعات کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے ایران نے جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے اپنی تجویز پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچائی۔

    انہوں نے واضح کیا کہ اب فیصلہ امریکا کو کرنا ہے کہ وہ سفارت کاری کا راستہ اختیار کرتا ہے یا محاذ آرائی کو جاری رکھتا ہے ان کا کہنا تھا کہ ایران دونوں راستوں کے لیے تیار ہے تاکہ اپنے قومی مفادات اور سلامتی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے، تاہم امریکا کے حوالے سے بداعتمادی برقرار ہے۔

    یاد رہے کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کا تنازع فروری کے آخر میں شروع ہوا تھا اور8 اپریل سے جنگ بندی نافذ ہے، جب کہ پاکستان اس تنازع میں مؤثر انداز میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے تاہم اب تک کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

  • ایران جنگ کے اثرات: امریکا کی سستی ترین ایئرلائن کا آپریشن بند کرنے کا اعلان

    ایران جنگ کے اثرات: امریکا کی سستی ترین ایئرلائن کا آپریشن بند کرنے کا اعلان

    امریکا کی مشہور اور سستی ترین فضائی کمپنی ’اسپرٹ ایئرلائنز‘ نے ہفتے کے روز اپنا آپریشن مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے-

    خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران جیٹ فیول کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ ہوچکا ہے، جس کے باعث پہلے سے مالی مشکلات کا شکار اسپرٹ ایئرلائنز اپنا آپریشن جاری نہ رکھ سکی،امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹ شان ڈفی حکومت نے کہا ہے کہ کمپنی کو بچانے کے لیے بھرپور کوشش کی، تاہم قرض د ہندگان نے امدادی پیکج مسترد کر دیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی 50 کروڑ ڈالر کی امداد کی تجویز دی تھی لیکن ان کے فیصلے کو سیاسی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ’اسپرٹ‘ پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار تھی لیکن ایران جنگ نے ایندھن کی قیمتوں میں جو اضافہ کیا، وہ کمپنی کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔ کمپنی نے اپنے بحالی کے منصوبے میں ایندھن کی قیمت کا 2.24 ڈالر فی گیلن تخمینہ لگایا تھا تاہم موجودہ قیمت 4.51 ڈالر تک پہنچ جانے سے تمام تخمینے غلط ثابت ہوئے۔

    رپورٹ کے مطابق کمپنی کے بند ہونے سے تقریباً 15 ہزار ملازمین اور کنٹریکٹرز متاثر ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی ہزاروں مسافر مختلف ایئرپورٹس پر پھنس گئے، جن کی مدد کے لیے دیگر بڑی ایئرلائنز میدان میں آ گئی ہیں۔

    یونائیٹڈ ایئرلائنز، ڈیلٹا ایئر لائنز، جیٹ بلیو اور ساؤتھ ویسٹ ایئرلائنز نے اسپرٹ کے متاثرہ مسافروں کے لیے ٹکٹ کی قیمتوں میں کمی اور خصوصی سہولتیں فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کچھ ایئرلائنز نے ’اسپرٹ‘ کے عملے کو مفت سفر کی سہولت بھی فراہم کرنا شروع کردی ہے تاکہ وہ اپنے گھروں تک پہنچ سکیں۔

    ماہرین کے مطابق اسپرٹ ایئرلائنز کی بندش امریکا کی ایوی ایشن انڈسٹری کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے کیونکہ گزشتہ دو دہائیوں میں اس حجم کی کوئی ایئرلائن بند نہیں ہوئی یہ کمپنی کم قیمت ٹکٹ فراہم کر کے مارکیٹ میں مقابلے کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی تھی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ایئرلائن کی بندش سے اس کے حریف اداروں کو فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ واقعہ عالمی معیشت اور جنگی حالات کے اثرات کو واضح کرتا ہے۔

  • ایران کے ساتھ جاری جنگ سے امریکا جلد بازی میں پیچھے نہیں ہٹے گا،ٹرمپ

    ایران کے ساتھ جاری جنگ سے امریکا جلد بازی میں پیچھے نہیں ہٹے گا،ٹرمپ

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ سے امریکا جلد بازی میں پیچھے نہیں ہٹے گا کیونکہ ایسا کرنے سے مسئلہ دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا اس بار ’’کام مکمل کیے بغیر‘‘ ایران سے نہیں نکلے گا تاکہ چند سال بعد دوبارہ ایران سے اسی نوعیت کے بحران کا سامنا نہ کرنا پڑےفلوریڈا میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران جنگ سے جلدی میں انخلا کیا تو 3 سال بعد یہی مسئلہ دوبارہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اس بار مکمل اور دیرپا حل ضروری ہے۔

    صدر ٹرمپ کے بقول ایران جنگ کو امریکا درست طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے اور وہ جنگ کے کسی بھی عارضی معاہدے یا حکمت عملی کو قبول نہیں کریں گے، صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں یہ واضح نہیں کیا کہ امریکا کون سے کام کو مکمل کیئے بغیر واپس نہیں جائے گا؟ تاہم اس سے قبل وہ متعدد بار رجیم چینج کا عندیہ دے چکے ہیں۔

    جنگ کے آغاز کے پہلے روز اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت کو امریکا کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ متعدد بار ایران میں نئی قیادت لانے کے عزم کا اظہار کرچکے ہیں۔