Baaghi TV

Tag: جنگ

  • ایران کا مریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکان کا عندیہ

    ایران کا مریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکان کا عندیہ

    ایران ک ایران کی مسلح افواج کے سینئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد جعفر اسدی نے امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکان کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی افواج کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہیں۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے سینئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد جعفر اسدی نے ہفتے کے روز ایک ٹی وی انٹرویو میں خطے کی حالیہ صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ جنگ کا امکان موجود ہےماضی گواہ ہے کہ امریکا کسی بھی معاہدے، وعدے یا بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری نہیں کرتا ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکا کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی کی گئی تو ایران کی مسلح افواج پوری طاقت کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی دفاعی تیاری مکمل ہے اور دشمن کی کسی بھی ممکنہ کارروائی کا فیصلہ کُن اور سخت جواب دیا جائے گا دشمن کی سازشوں کے باوجود ریاست کے تمام ستون ایرانی قیادت کی ہدایات کے مطابق مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی پیشکش کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی قیادت کے اندر شدید اختلافات کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے اپنی نئی مذاکراتی تجویز جمعرات کو ثالث ملک پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچائی، تاہم اس کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    دوسری جانب امریکی حکام نے بھی ایرانی تجویز کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، تاہم رپورٹس کے مطابق امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے ایسی ترامیم پیش کی ہیں جن کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کو دوبارہ مذاکرات کا حصہ بنایا گیا ہے، ان مطالبات میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران بمباری سے متاثرہ جوہری تنصیبات سے افزودہ یورینیم منتقل نہ کرے اور نہ ہی وہاں سرگرمیاں دوبارہ شروع کرے۔

    جمعہ کو فلوریڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اپنے مقاصد حاصل کیے بغیر ایران کے ساتھ جاری جنگ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    دوسری جانب سفارتی محاذ پر پاکستان کی امن کوششوں میں ایک بڑا بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ ایران نے مذاکرات کے لیے اپنی نئی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکا کو بھجوا دی ہیں تاہم صدر ٹرمپ نے فی الحال ایرانی تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی قیادت کو زیادہ مناسب تجاویز پیش کرنی چاہئیں۔

  • امید ہے ہمارے نئے ہتھیار کو دیکھ کر امریکا کو دل کا دورہ نہیں پڑے گا،ایران

    امید ہے ہمارے نئے ہتھیار کو دیکھ کر امریکا کو دل کا دورہ نہیں پڑے گا،ایران

    ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ جلد ہی ایک ایسا نیا ہتھیار دنیا کے سامنے لانے والی ہے جس سے اس کے مخالفین شدید خوفزدہ ہیں۔

    ایرانی بحریہ کے سربراہ شہرام ایرانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ بہت جلد اپنے دشمنوں کا سامنا ایک ایسے ہتھیار سے کرے گا جو بالکل ان کے برابر میں موجود ہو گا،مجھے امید ہے اس ہتھیار کو دیکھ کر امریکا کو دل کا دورہ نہیں پڑے گا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق بحریہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ دشمن نے ایران کے خلاف بلا اشتعال جارحیت کے ذریعے اپنے مقاصد کو کم سے کم وقت میں حاصل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اب ان کا یہ مفروضہ فوجی اکیڈمیوں میں ایک لطیفہ بن چکا ہے ایرانی افواج نے جوابی کارروائیوں کے دوران امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کو سات بار میزائل حملوں سے نشانہ بنایا جس کی وجہ سے وہاں سے طیاروں کی پروازیں عارضی طور پر رک گئیں۔

    شہرام ایرانی نے مزید دعویٰ کیا کہ 28 فروری کو جنگ کے آغاز سے اب تک ایرانی مسلح افواج نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اہداف پر کم از کم 100 لہروں کی صورت میں جوابی حملے کیے ہیں ان کارروائیوں میں مغربی ایشیا کے وسیع جغرافیائی علاقے میں موجود حساس مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    بحریہ کے سربراہ نے کہا کہ امریکا نے ابتدائی ناکامی کے بعد خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا ہے اور مزید تباہ کن بحری جہاز اور میزائل پلیٹ فارم تعینات کیے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ آگے بڑھنے میں ناکام رہے ہیں امریکا کی تمام تر کوششیں ابھی تک رکی ہوئی ہیں اور وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا ہے۔

  • ایران کے 35 اداروں اور شخصیات پر امریکی پابندیاں عائد

    ایران کے 35 اداروں اور شخصیات پر امریکی پابندیاں عائد

    امریکی حکومت نے ایران کے 35 اداروں اور شخصیات پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان اداروں اور شخصیات پر الزام ہے کہ وہ ایران کے بینکنگ کے شعبے کی مدد کر رہے ہیں اور انہوں نے اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی تیل کی ترسیل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

    اس حوالے سے امریکی محکمہ خزانہ کے ذیلی ادارے ’او ایف اے سی‘ نے ایک سخت وارننگ بھی جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ تمام بینک بھی ان پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں جو ایسی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کر رہے ہیں جو ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے بدلے ادائیگیاں کرتی ہیں۔

    امریکی حکام نے اس موقع پر چین کے صوبے شینڈونگ میں قائم آئل ریفائنریز کا خاص طور پر ذکر کیا اور کہا کہ وہاں کئی آزاد چینی کمپنیاں ایرانی تیل درآمد کرنے یا اسے صاف کرنے کے عمل میں ملوث ہیں۔

    دوسری جانب امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایران کی اہم بندرگاہ چاہ بہار میں اس وقت بیس سے زائد تجارتی جہاز پھنس کر رہ گئے ہیں،امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ایرانی معاشی سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے۔

    اسی دوران بحیرہ عرب میں بھی امریکی بحریہ کی جانب سے سخت نگرانی کا عمل جاری ہےامریکی سینٹرل کمانڈ ( سینٹکام )نے بتایا کہ امریکی میرینز نے سمندر میں ایک مشکوک تجارتی جہاز ’ایم وی بلیو اسٹار تھری‘ کو روک کر اس کی تلاشی لی ہے،انہیں شبہ تھا کہ یہ جہاز امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہو ئے ایران کی جانب جانے کی کوشش کر رہا ہے تاہم مکمل تلاشی لینے اور اس بات کی تصدیق ہونے کے بعد کہ جہاز کا رخ کسی ایرانی بندرگاہ کی طرف نہیں ہے، اسے سفر جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی۔

  • ٹرمپ نے ایران کو 3 دن کا الٹی میٹم  دیدیا

    ٹرمپ نے ایران کو 3 دن کا الٹی میٹم دیدیا

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پاس صرف 3 دن ہیں، اس کے بعد ان کا تیل انفراسٹرکچر ختم ہوجائے گا۔

    اتوار کو امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کو دیے گئے انٹر ویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے وفد کو اس لیے نہیں بھیجا کہ 18 گھنٹے کی فلائٹ ہے، ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور اس صورت حال میں امریکا کو فتح حاصل ہوگی، اگر ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے تو وہ براہِ راست فون کے ذریعے رابطہ کر سکتا ہے کیوں کہ یہ معاملہ فون پر بھی طے کیا جا سکتا ہے ایران میں جن فریقین سے امریکا کا سامنا ہے ان میں کچھ قابلِ قبول ہیں جب کہ کچھ نہیں تاہم انہیں امید ہے کہ ایران اس معاملے میں دانشمندی کا مظاہرہ کرے گا۔

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے افزودہ یورینیم سے متعلق معاملہ بھی جاری مذاکرات کا حصہ ہے اور امریکا اس تک رسائی حاصل کرے گا۔ چین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ زیادہ مایوس نہیں ہیں لیکن بیجنگ اس معاملے میں مزید تعاون کر سکتا ہے ایران سے متعلق صورت حال میں نیٹو امریکا کے ساتھ نہیں تھا اور جب جنگ کے خاتمے کے بعد برطانیہ نے بحری جہاز بھیجنے کی پیشکش کی تو یہ ایک غیر مناسب اقدام تھا۔

    امریکی صدر نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی 2025 میں ہونے والی جنگ کا ذکر چھیڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے دور میں انہوں نے 8 مختلف جنگی تنازعات کو رکوانے میں کردار ادا کیا، جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بھی شامل ہے پاک بھارت کشیدگی اس حد تک بڑھ رہی تھی کہ صورتحال جوہری تصادم کی طرف جا سکتی تھی، اس دوران 11 جہاز تباہ ہوئے، وزیراعظم پاکستان نے میرے حوالے سے کہا کہ میں نے کردار ادا کر کے لاکھوں جانیں بچائی ہیں، وہ پاکستان کا بہت احترام کرتے ہیں اور وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل بہت اچھے اور ان کے لیے قابل احترام ہیں۔

  • ایران میں اسرائیل کیلئے مبینہ جاسوسی پر دو افراد کو سزائے موت

    ایران میں اسرائیل کیلئے مبینہ جاسوسی پر دو افراد کو سزائے موت

    تہران میں اسرائیل کیلئے جاسوسی کے الزام میں دو افراد کو سزائے موت سنا دی گئی-

    ایرانی عدالتی ذرائع کے مطابق ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے حساس معلومات دشمن ملک تک پہنچائیں جسے قومی سلامتی کے خلاف سنگین جرم قرار دیا گیا ہے مقدمے کی سماعت کے بعد عدالت نے دونوں افراد کو سزائے موت کا حکم دیا حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں پر سخت کارروائی جاری رہے گی اور اس حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔

    ماہرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اس نوعیت کے مقدمات اور فیصلے زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں۔

  • ایرانی حملوں میں تل ابیب کے ہزار سے زائد اپارٹمنٹس  تباہ

    ایرانی حملوں میں تل ابیب کے ہزار سے زائد اپارٹمنٹس تباہ

    اسرائیلی شہر تل ابیب کے میئر رون ہلڈائی نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں شہر کے ایک ہزار سے زائد اپارٹمنٹس رہائش کے قابل نہیں رہے ہیں-

    تل ابیب کے میئر رون ہلڈائی نے اسرائیلی چینل 12 کو بتایا ہے کہ ایرانی حملوں کے باعث شہر کے ایک ہزار سے زیادہ اپارٹمنٹس شدید نقصان کا شکار ہو چکے ہیں اور اب ان میں رہائش ممکن نہیں رہی ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں نے شہری انفراسٹرکچر کو بھی متاثر کیا ہے، جس کے بعد متعدد عمارتوں کو خالی کرایا گیا ہے۔

    اس سے قبل رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں میں کم از کم 26 اسرائیلی شہری ہلاک جبکہ 2600 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، دوسر ی جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں اب تک 3,468 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  • ایران نہ تو جنگ کو بڑھانا چاہتا ہے اور نہ ہی کبھی کوئی جنگ یا تنازع شروع کیا،ایرانی صدر

    ایران نہ تو جنگ کو بڑھانا چاہتا ہے اور نہ ہی کبھی کوئی جنگ یا تنازع شروع کیا،ایرانی صدر

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران نہ تو جنگ کو بڑھانا چاہتا ہے اور نہ ہی اس نے کبھی کوئی جنگ یا تنازع شروع کیا-

    عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا ہے کہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ایران کو اس کے پرامن جوہری حقوق سے محروم کرنے کی بات کرے ایران کا بنیادی مؤقف خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے تحفظ پر مبنی ہےایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران نہ تو جنگ کو بڑھانا چاہتا ہے اور نہ ہی اس نے کبھی کوئی جنگ یا تنازع شروع کیا ہے ایران کا مؤ قف ہمیشہ دفاعی رہا ہے اور ملک اپنے دفاع کے قانونی اور جائز حق کو استعمال کر رہا ہے۔

    مسعود پزشکیان کے مطابق ایران کسی بھی ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا اور نہ ہی خطے میں کشیدگی بڑھانا چاہتا ہےدشمن اپنے طے شدہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے ایران پر حملوں کے دوران انفرا اسٹرکچر، اسکولوں اور اسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا، جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے ایسے اقدامات انسانی اصولوں اور عالمی ضوابط کے خلاف ہیں ایران کی تہذیب کو تباہ کرنے اور اسے پتھر کے دور میں دھکیلنے جیسے بیانات دشمن کے اصل عزائم کو بے نقاب کرتے ہیں۔

  • جنگ دوبارہ ہوئی تو عالمی جنگ بن جائے گی،ایران کی وارننگ

    جنگ دوبارہ ہوئی تو عالمی جنگ بن جائے گی،ایران کی وارننگ

    ایران کے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کی گئی تو یہ ایک بڑی عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

    ایرانی فوج کے بریگیڈئیر جنرل محمد رضا نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کسی بھی صورت ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت کو ختم نہیں کر سکتا،ا یران اپنی دفاعی طاقت کو مزید مضبوط کر رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ حملے کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے، اگر ایران پر مسلط جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو اس بار رد عمل زیادہ شدید ہوگا اور حالیہ مہینے میں تیار کیے گئے جدید میزائلوں کے ذریعے جواب دیا جائے گا۔

    امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے تھے، جس کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کیں۔ دونوں فریقین کے درمیان تقریباً 40 روز تک شدید کشیدگی اور جھڑپیں جاری رہیں بعد ازاں پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادہ ہوئے۔ اس کے بعد 11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطح کے وفود کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے، جنہیں کشیدگی کم کرنے کی اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اس قسم کے بیانات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں اور اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

  • میڈیا کے کچھ حلقے ‘ٹرمپ دشمنی’ میں ایران کی فرضی کامیابیوں کا پرچار کررہے ہیں،امریکی صدر

    میڈیا کے کچھ حلقے ‘ٹرمپ دشمنی’ میں ایران کی فرضی کامیابیوں کا پرچار کررہے ہیں،امریکی صدر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اس وقت مکمل طور پر شکست کھا چکا ہے،آبنائے ہرمز جلد ہی کھل جائے گا، اور خالی بحری جہاز "لوڈ اپ” کے لیے امریکہ کی طرف بھاگ رہے ہیں، لیکن ‘فیک نیوز’ میڈیا حقائق کے برعکس تصویر کشی کررہا ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ میڈیا کے کچھ حلقے ‘ٹرمپ دشمنی’ میں مبتلا ہو کر ایران کی فرضی کامیابیوں کا پرچار کررہے ہیں، ایران کی بحریہ، فضائیہ، ریڈار سسٹم اور دفاعی نظام مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے،ڈرونز اور میزائل بنانے والی فیکٹریاں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں اور ایرانی قیادت اب منظر نامے سے غائب ہو چکی ہے۔

    امریکی صدر نے الحمدللہ کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہاکہ اب ایران کے پاس دنیا کو ڈرانے کے لیے کچھ نہیں بچا اس وقت سب سے بڑا خطرہ آبنائے ہرمز میں جہاز کے سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرا جانا ہے جس سے بڑی تباہی ہوسکتی ہے ایران کی بارودی سرنگیں بچھانے والی تمام 28 کشتیاں سمندر برد ہو چکی ہیں، امریکا اس خطرے کو ختم کرنے کے لیے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہتا رہا ہے اور یہ دنیا پر ہمارا بڑا احسان ہے۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا اب دنیا بھر کے ممالک بشمول چین، جاپان، جنوبی کوریا اور یورپی ممالک کے مفاد میں آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کا کام شروع کر رہا ہے، کیونکہ ان ممالک میں یہ کام کرنے کی ہمت نہیں تھی۔

    امریکی صدر نے ایک دلچسپ دعویٰ کرتے ہوئے کہاکہ دنیا بھر سے تیل کے خالی بحری جہاز اب امریکا کا رخ کر رہے ہیں تاکہ وہاں سے تیل بھر سکیںانہوں نے اسے امریکی معیشت اور توانائی کی طاقت کی فتح قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ دنیا اب توانائی کے لیے امریکا کی طرف دیکھ رہی ہے۔

    قبل ازیں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے بے ترتیب انداز میں بارودی سرنگیں بچھائیں۔

    امریکی حکام کے بقول ایران نے آبنائے ہرمز میں بچھائی گئیں ان بارودی سرنگوں کے درست مقامات کا ریکارڈ بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں رکھا جب کہ پانی کی لہروں کے باعث کچھ مائنز اپنی جگہ سے سرک یا بہہ گئیں یہی وجہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کا مکمل سراغ لگانے میں ناکام ہے اور ایرانی فورسز اسے ہٹانے کی فوری صلاحیت بھی نہیں رکھتیں۔

    امریکی حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ زمینی بارودی سرنگوں کے برعکس بحری سرنگوں کی تنصیب اور پھر ان کو وہاں سے ہٹانا زیادہ مشکل عمل ہے۔ جس میں مہارت اور صلاحیت درکار ہیں۔

  • ٹرمپ نے کیسے امریکا کو ایران جنگ میں گھسیٹا؟امریکی میڈیا نے پردہ فاش کر دیا

    ٹرمپ نے کیسے امریکا کو ایران جنگ میں گھسیٹا؟امریکی میڈیا نے پردہ فاش کر دیا

    نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ اچانک نہیں بلکہ خفیہ بریفنگز، اندرونی اختلافات اور ایک طاقتور اتحادی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دباؤ کے بعد کیا۔

    نیویارک ٹائمز کی کے مطابق فروری 2026 میں بنیامین نیتن یاہونے وائٹ ہاؤس میں ایک انتہائی خفیہ پریزنٹیشن دی، جس میں ایران پر بڑے حملے کا منصو بہ پیش کیا گیا اس بریفنگ میں اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے موساد کے سربراہ سمیت اعلیٰ عسکری حکام نے شرکت کی اور دعویٰ کیا کہ ایران کی قیاد ت کو نشانہ بنا کر اور اس کے میزائل نظام کو تباہ کر کے چند ہفتوں میں فیصلہ کن کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

    امریکی اور اسرائیلی حکام سب سے پہلے اوول آفس سے متصل کیبنٹ روم میں جمع ہوئے اس کے بعد نیتن یاہو مرکزی تقریب کے لیے نیچے کی طرف روانہ ہوئے: وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کے لیے ایران کے بارے میں ایک انتہائی درجہ بندی پریزنٹیشن، جسے غیر ملکی رہنماؤں کے ساتھ ذاتی ملاقاتوں کے لیے شاذ و نادر ہی استعمال کیا جاتا تھا۔

    ذرائع کے مطابق اس پریزنٹیشن نے صدر ٹرمپ کو بہت زیادہ متاثر کیا، اور انہوں نے ابتدائی طور پر ہی مثبت اشارہ دے دیا نیتن یاہو کی پریزنٹیشن سے چار مقاصد اخذ کیے گئےجن میں ، ایرانی اعلیٰ قیادت کا قتل، میزائل پروگرام کی تباہی، عوامی بغاوت اٹھانا اور رجیم چینج شامل تھے۔

    تاہم بعد میں امریکی انٹیلی جنس نے اس منصوبے کے پہلے دو حصوں کو قابل حصول اور آخری دو حصوں کو “حقیقت سے دور” قرار دیا، خاص طور پر ایران میں حکومت کی تبدیلی (Regime Change) کے امکان کو مسترد کر دیا گیا۔ وائٹ ہاؤس کے اندر ہونے والے اہم اجلاسوں میں شدید اختلافات سامنے آئے۔