Baaghi TV

Tag: جنگ

  • یوکرین میں غیرملکی دہری مصیبت میں ، ایک طرف جنگ تو دوسری طرف امتیازی نسلی سلوک

    یوکرین میں غیرملکی دہری مصیبت میں ، ایک طرف جنگ تو دوسری طرف امتیازی نسلی سلوک

    ماسکو :یوکرین میں غیرملکی دہری مصیبت میں ، ایک طرف جنگ تو دوسری طرف امتیازی نسلی سلوک ،اطلاعات ہیں کہ یوکرین میں پھنسے غیرملکی اس وقت دوہری مصبیبت میں مبتلا ہیں ، ایک طرف جنگ جاری ہے اور جنگ میں ہر طرف لاشیں ہی لاشیں اور زخمی تڑپ تڑپ کر جان دے رہے ہیں اور تو دوسری طرف وہاں سے غیرملکیوں کو جان بچانے میں مشکلات حائل کی جارہی ہیں ،

    اس حوالے سے تازہ ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ یوکرین بحران میں صورتحال اس کے برعکس نظر آرہی ہے۔ یوکرین میں مقیم عرب اور افریقی تارکین کا کہنا ہے کہ ملک سے انخلا میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جارہا ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بہت سے غیر ملکی طلبہ جن کی اکثریت کا تعلق عرب اور افریقی ممالک سے ہے، یوکرین افواج اور سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں نسلی امتیاز کا شکار ہے۔
    مزید پڑھیں

    ایک افریقی طالبہ نے بتایا ہے کہ یوکرین اور پولینڈ سرحد پر غیر یوکرینی مسافروں کو بسوں سے اتارا گیا اور ان سے صاف الفاظ میں کہا گیا کہ بس میں صرف یوکرینی شہری سوار ہوسکتے ہیں۔نائیجیریا سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ نے کہا ہے کہ ’سرحد میں بس سے اتارا گیا اور کہا گیا کہ آپ کو پیدل سفر کرنا ہے‘۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں اس وقت یوکرینی دار الحکومت سے 400 کلو میٹر دور ایک سرحدی علاقے میں محصور ہوں‘۔

     

    یوکرین میں غیرملکیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کے چشم دید گواہوں کا کہنا ہے کہ یوکرینی فوج ان پر تشدد کرتی ہے۔ ایک انڈین طالبہ ساکشی نے بتایا ہے کہ انہیں اور ان کے ساتھ بیسیوں غیر ملکی طالبات کو سرحد نہیں عبور کرنے دی گئی۔’ان کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک کیا گیا اور مردوں کو مارا گیا یہاں تک ایک شخص کو احتجاج کرنے پر مارمار کر لہو لہان کردیا گیا ‘۔

    افریقی تارکین کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے پر افریقی ممالک کے اتحاد نے بھی احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یوکرین سے انخلا کا تمام افراد کو حق ہے۔ اس سلسلے میں امتیازی اور نسلی تفریق کرنا انسانی حقوق کے خلاف ہے‘۔ اتحاد نے کہا ہے کہ ’یوکرین میں افریقی طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا قابل مذمت ہے‘۔

    دریں اثنا سوشل میڈیا پر ایک مراکشی شخص کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جو ریل کے دروازے پر چھری لیے کھڑا ہے اور ریل یوکرین کے باہر جارہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ریل میں غیر ملکیوں کو جگہ نہ ملنے پر مراکشی شخص نے چھری نکال لی اور غیر ملکیوں کو ریل میں سوار کردیا۔

  • جوبائیڈن نےروسی تیل اورگیس کی تمام درآمدات پرپابندی لگا دی:روس نےجوابی کارروائی کی دھمکی دےدی

    جوبائیڈن نےروسی تیل اورگیس کی تمام درآمدات پرپابندی لگا دی:روس نےجوابی کارروائی کی دھمکی دےدی

    واشنگٹن: جو بائیڈن نے روسی تیل اور گیس کی تمام درآمدات پر پابندی لگا دی:روس نے جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی ،اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے ملک میں روسی تیل اور گیس کی درآمدات پر پابندی کا اعلان کردیا ہے۔

    عالمی میڈیا کے مطابق امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ روسی تیل اور گیس اب امریکی بندرگاہوں پر قابلِ قبول نہیں۔ ہم روس کے صدر ولادمیر پوٹن کو جنگ میں کوئی ’مالی معاونت‘ فراہم نہیں کرنا چاہتے۔

    جوبائیڈن نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ یورپی اتحادیوں کے ساتھ مشاورت سے کیا ہے تاہم وہ پابندی میں امریکہ کا ساتھ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکہ یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تا کہ روسی تیل اور گیس پر انحصار کم کرنے کے لیے “طویل مدتی حکمت عملی” تیار کی جا سکے۔

    واضح رہے کہ اس پابندی سے روسی معیشت کو ایک تباہ کن دھچکا پہنچنے کی توقع ہے جو ملک کی آمدنی کا 40 فیصد سے زائد تیل اور گیس کی پیداوار پر انحصار کرتی ہے۔روس نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ روسی تیل کو مسترد کرنے سے عالمی مارکیٹ میں قیمت 300 ڈالر بیرل تک پہنچ جائے گی۔

    روسی نائب صدر الیگزینڈر نوواک کے مطابق اگر روس کے تیل کو مسترد کیا گیا تو اس کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے اور تیل کی قیمت 300 ڈالر بیرل تک پہنچ جائے گی۔ اگر تیل کی برآمد پر پابندی لگائی گئی تو جواب میں جرمنی جانے والی گیس کی مین پائپ لائن کو بند کیا جا سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ اس وقت عالمی مارکیٹ میں 2008ء کے بعد سے تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر ہیں۔

  • روس کے خلاف بغاوت :یوکرین کیلیے خزانے کے منہ کھول دیے گئے

    روس کے خلاف بغاوت :یوکرین کیلیے خزانے کے منہ کھول دیے گئے

    خارکیف :روس کے خلاف بغاوت :یوکرین کیلیے خزانے کے منہ کھول دیے ،اطلاعات کے مطاابق روس کے خلاف لڑائی کی وجہ سے روس مخالف قوتوں کی طرف سے خزانوں کے منہ کھول دیئے گئے ہیں‌، روس سے جنگ میں تباہی پر ورلڈبینک نے یوکرین کے لیے بڑا امدادی پیکیج منظور کر لیا۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹر نے یوکرین کے لیے 489 ملین ڈالرز کا سپورٹ پیکیج منظور کیا ہے۔پیکیج میں یوکرین کے لیے 350 ملین کا ضمنی قرض اور 139 ملین ڈالرز گانٹیز شامل ہے۔ پیکیج کا مقصد روس سے جنگ میں تباہ کاریوں پر یوکرین کی امداد کرنا ہے۔

    اس حوالے سے عالمی بینک کا کہنا ہے کہ سپورٹ پیکیج سے یوکرین کے لوگوں کو خدمات فراہم کرنے کا موقع ملے گا۔

    واضح رہے کہ ایک جانب عالمی برداری روس پر پابندیاں عائد کر رہی ہے تو دوسری جانب امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین سمیت کئی ممالک یوکرین کی مکمل سپورٹ کر رہے ہیں۔امریکا کے صدر جو بائیڈن نے یوکرین کے لیے 350 ملین ڈالرز فوجی امادا کی منطوری دے دی ہے.

    صدر جو بائیڈن نے محکمہ خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ یوکرین کو امریکی اسٹاک سے 350 ملین ڈالر مالیت کے اضافی ہتھیار فراہم کیے جائیں کیوں کہ یوکرین روسی حملے کو پسپا کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔

    دیگر ممالک نے بھی یوکرین کو فوجی سامان دینے کا وعدہ کیا ہے کیوں کہ یوکرین کی روسی فوج کے خلاف لڑ رہی ہے۔ بیلجیم نے 2,000 مشین گن اور 3,800 ٹن ایندھن دینے کا وعدہ کیا ہے۔

    فرانس نے روس کے حملے کے خلاف یوکرین کو دفاعی فوجی ساز و سامان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فرانسیسی فوج کے ترجمان نے ہفتے کے روز کہا کہ جارحانہ ہتھیار بھیجنے کا معاملہ ابھی زیر غور ہے۔

  • خارکیف میں روسی جنرل ہلاک: مذاکرات ناکام:حالات مزید بگڑنے لگے

    خارکیف میں روسی جنرل ہلاک: مذاکرات ناکام:حالات مزید بگڑنے لگے

    کیف: خارکیف میں روسی جنرل ہلاک: مذاکرات ناکام:حالات مزید بگڑنے لگے ،اطلاعات کے مطابق یوکرین نے جنگ کے دوران روسی میجرجنرل کوہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    یوکرین کی وزارت دفاع کے مطابق روسی میجرجنرل وتالی گریسموف خارکیف کے قریب یوکرینی فوجیوں سے جھڑپ کے دوران ہلاک ہوئے۔جھڑپ میں متعدد دیگرروسی فوجی بھی ہلاک اورزخمی ہوئے۔

    یوکرینی حکام کا کہنا تھا کہ روسی میجر جنرل چیچنیا اورشام میں بھی روسی فوجی آپریشن میں شریک تھے۔روس نے میجر جنرل کی ہلاکت کی اطلاعات پرکوئی ردعمل نہیں دیا۔

    دوسری جانب یوکرین پرشدید روسی شیلنگ کے باعث شہریوں کا محفوظ مقامات کی جانب انخلا رک گیا۔یوکرین میں ہزاروں افراد بجلی سے محروم ہیں۔ ماریپول شہرمیں خوراک اورپانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق روس اوریوکرین کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور میں کوئی خاص پیشرفت نہ ہوسکی۔

    دوسری طرف روسی حملے کے بعد سے یوکرینی مہاجرین مسلسل اپنی اور بچوں کی زندگیاں بچانے کے لیے سرحدی ممالک مالدووا، پولینڈ اور رومانیہ کا رخ کیے ہوئے ہیں۔ یوکرینی شہروں تاتاربوناری، اوڈیسا کے علاوہ سرحدی شہر گالاٹی سے بڑے پیمانے پر ہجرت جاری ہے۔ روس نے اپنے خلاف پابندیوں کو ایرانی جوہری مذاکرات سے کیوں جوڑا؟ ان شہروں سے بے شمار لوگ پاپیادہ روانہ ہیں اور کئی افراد اپنی کاروں پر راہِ فرار اختیار کیے ہوئے ہیں۔ان علاقوں میں موسم ابھی بھی سرد ہے اور درجہ حرارت دو ڈگری سیلسیئس ہے جب کہ تیز ہوا نے اس موسم کو اور سرد کر رکھا ہے۔ سردی کی وجہ سے بڑی عمر کے مہاجرین کو شدید گہری پریشانی کا سامنا ہے۔

    مغرب کی سمت جانے والے مہاجرین ہزاروں یوکرینی مہاجرین روزانہ کی بنیاد سے جنگی حالات سے پریشان ہو کر ہمسایہ ممالک پہچنے کی کوشش میں ہیں۔ ان میں بہت سارے اپنی موٹر گاڑیوں پر سوار ہیں۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی یوکرینی شہروں کے پچھتر فیصد لوگ مغرب کی سمت رومانیہ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ رومانیہ کی وزارتِ داخلہ نے ڈھائی ہزار کے قریب یوکرینی مہاجرین کے پہنچنے کی تصدیق کی ہے۔

    رومانیہ کی سرحد پر کئی مہنگی کاریں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔یہ کاریں یوکرین کے متمول افراد کی ہیں۔ یہ امیر افراد زیادہ تر بحیرہ اسود کے کنارے پر واقع خوبصورت بندرگاہی شہر اوڈیسا میں رہتے ہیں۔

    رومانیہ کی سرحد پر کئی رضاکار یوکرینی مہاجرین کی رہنمائی کے لیے موجود ہیں۔ ایک رضاکار لڑکی ماریانا کا کہنا ہے کہ یہاں شدید سردی میں بے شمار مہاجرین کو بڑی مشکل کا سامنا ہے اور ان کے پاس آگے کہیں جانے کی ٹرانسپورٹ بھی نہیں۔ ماریانا اس صورت حال پر خاصی برہم اور پریشان ہیں کہ کئی بڑی بڑی کاروں میں صرف دو افراد بیٹھ کر پولینڈ اور مالدووا پہنچ رہے ہیں اور اور وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ کچھ اور افراد کو اپنے ساتھ بٹھا کر آگے مہاجرین کے مرکز تک لے جائیں۔

    بظاہر رومانیہ کی سرحد پر انتظامات بہتر دکھائی دیتے ہیں اور لوگوں کو سرحد عبور کرنے میں تاخیر نہیں ہو رہی۔ اس سرحدی مقام پر مالدووا کی سرحد بھی ملتی ہے اور اس جانب بھی مہاجرین کی ایک بڑی تعداد داخل ہونے کی خواہشمند ہے۔

    ابھی تک مالدووا اور رومانیہ میں مہاجرین کو خوش آمدید کہنے کا جذبہ بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ ان سرحدوں پر بے شمار رضا کار مہاجرین کی رہنمائی کے لیے موجود ہیں۔ وہ ان مہاجرین کو ہر طرح کی معلومات اور مدد فراہم کرتے ہیں

  • یوکرائن کا مشرقی شہرچوہویو پردوبارہ قبضے اور دو روسی کمانڈوز کو مارنے کا دعویٰ

    یوکرائن کا مشرقی شہرچوہویو پردوبارہ قبضے اور دو روسی کمانڈوز کو مارنے کا دعویٰ

    کیف: یوکرائن کے دفاعی حکام نے اعلان کیا ہے کہ یوکرائنی افواج نے مشرقی یوکرائن کے قصبے چوہویو پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی : "ڈیلی میل” کے مطابق یوکرائن کے جنرل اسٹاف نے کہا کہ دفاعی فورسز نے شہر کو روسیوں سے چھین لیا ہے اور پیوٹن کی فوج اور جنگی آلات کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔

    یوکرائنی حکام نے دعویٰ کیا کہ اس لڑائی میں دو اعلیٰ ترین روسی کمانڈربھی ہلاک ہوئے ہیں-

    روس یوکرین جنگ نے تیل مزید مہنگا کر دیا

    چوہویو 31,000 افراد پر مشتمل اسٹریٹجک شہر خارکیو سے 23 میل کے فاصلے پر واقع ہے، جو یوکرین کا دوسرا بڑا شہر ہے جسے شدید بمباری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

    جنرل اسٹاف نے فیس بک پر کہا: ‘جھڑپ کے دوران، چوہویو شہر کو آزاد کرالیا گیا قابض فوج کے اہلکاروں اور آلات کا بھاری نقصان پہنچا۔

    ‘روسی مسلح افواج کی 61 ویں علیحدہ میرین بریگیڈ کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل دمتری سفرونوف اور روسی مسلح افواج کی 11ویں علیحدہ ایئر بورن اسالٹ بریگیڈ کے ڈپٹی کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل ڈینس گلیبوف ہلاک ہو گئے۔’

    اس شہر کو جنگ کے آغاز سے ہی شدید گولہ باری کا سامنا کرنا پڑا تھا، اور یہ ایک فضائی حملے کا مقام تھا جس میں 52 سالہ خاتون شدید زخمی ہوئی تھی-

    شدید بمباری کے باوجود، یوکرین اب روس کو روکنے اور شہر پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لیے جوابی حملے کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

    نیوزی لینڈ کا روس کے خلاف پابندیوں کا اعلان،کیف کے قریب ائیرپورٹ بھی مکمل تباہ

    یہ اس وقت ہوا جب آج صبح ولادیمیر پوتن کے حملے کے بارہویں دن میں داخل ہونے کے ساتھ ہی شہروں کو دوبارہ بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔

    یوکرائنی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ‘خدا معاف نہیں کرے گا’ اور یوکرین روسیوں کے ہاتھوں شہریوں کے قتل عام کو نہیں ‘بھولے گا’، یہ کہتے ہوئے کہ ان کے لیے ‘قیامت کا دن’ آنے والا ہے۔

    زیلنسکی نے ‘معافی اتوار’ کے آرتھوڈوکس عیسائی تعطیل کے موقع پر اپنے ہم وطنوں سے رات گئے خطاب میں، کہا کہ کس طرح چار افراد پر مشتمل ایک کنبہ ان آٹھ شہریوں میں شامل تھا جو روسی مارٹر گولوں سے مارے گئے تھے جب کہ کیف کے قریب – ارپن شہر سے فرار ہونے کی کوشش کی تھی۔

    انہوں نے خطاب کے دوران کہا یہ سب ‘ہم معاف نہیں کریں گے۔ ہم نہیں بھولیں گے انہوں نے مزید کہا۔ ‘خدا معاف نہیں کرے گا۔ آج نہیں. کل نہیں۔ کبھی نہیں۔’

    روس، یوکرین میں جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے:امریکہ

    انہوں نے اس وقت بات کی جب روس نے دعویٰ کیا کہ وہ ماریوپول، خارخیو، سومی اور کیف سمیت گھیرے ہوئے شہروں سے باہر ‘انسانی ہمدردی کی راہداری’ کھول رہا ہے جو آج برطانیہ کے وقت کے مطابق صبح 7 بجے شروع ہو رہا ہے تاکہ عام شہریوں کو انخلا کی اجازت دی جا سکے – حالانکہ کچھ لوگ توقع کرتے ہیں کہ پوٹن کے آدمی عارضی جنگ بندی کی پابندی کریں گے۔ ہفتے کے آخر میں اسی طرح کے دو کوریڈور ناکام ہو گئے۔

    شہریوں کی ہلاکتوں کی صحیح تعداد واضح نہیں ہے، حالانکہ یوکرین کے اندازے کے مطابق یہ ہزاروں میں ہے کیونکہ بڑے شہروں کے رہائشی علاقوں پر تھرموبارک اور کلسٹر گولہ بارود کا استعمال کرتے ہوئے اندھا دھند بمباری کی جاتی ہے جس کے شواہد کے درمیان ‘ہٹ اسکواڈز’ شہری گاڑیوں کو نشانہ بناتے ہیں اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ 1.5 ملین لوگ لڑائی سے فرار ہو چکے ہیں۔

    66 ہزاریوکرینی مرد روس سے لڑنے کیلئے بیرون ملک سے وطن واپس لوٹ آئے

    یہاں تک کہ جب روس نے پیر کی صبح سے جنگ بندی کا اعلان کیا اور کئی علاقوں میں انسانی ہمدردی کی راہداری کھول دی، اس کی مسلح افواج نے یوکرین کے شہروں کو نشانہ بنانا جاری رکھا، متعدد راکٹ لانچروں نے رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا۔

    محدود جنگ بندی کا اعلان ایک دن کے بعد سامنے آیا ہے جب یوکرین کے مرکز، شمال اور جنوب میں شہروں پر روسی گولہ باری سے لاکھوں یوکرائنی شہری حفاظتی پناہ کی طرف بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے۔ دونوں اطراف کے حکام نے پیر کو بات چیت کے تیسرے دور کا منصوبہ بنایا۔

    یوکرین کے جنرل اسٹاف نے پیر کی صبح کہا کہ روسی افواج نے اپنی جارحیت جاری رکھتے ہوئے، دارالحکومت کیف سے 480 کلومیٹر جنوب میں میکولائیو شہر پر فائرنگ کی۔ امدادی کارکنوں نے بتایا کہ وہ راکٹ حملوں کی وجہ سے رہائشی علاقوں میں لگنے والی آگ پر قابو پا رہے ہیں۔

    کیف کے مضافاتی علاقوں بشمول ارپین میں بھی گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے جہاں تین دن سے بجلی، پانی اور حرارتی نظام منقطع ہے۔

    اسرائیلی فورسزکی فائرنگ سے فلسطینی نوجوان شہید

    جنرل اسٹاف نے کہا کہ ‘روس یوکرین کے شہروں اور بستیوں پر راکٹ، بم اور توپ خانے سے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔’ ‘حملہ آور یوکرین پر فضائی حملے کرنے کے لیے بیلاروس کے ایئر فیلڈ نیٹ ورک کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں۔’

    جنرل اسٹاف کے مطابق، روسی انسانی ہمدردی کی راہداریوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں، خواتین اور بچوں کو یرغمال بنا رہے ہیں اور شہروں کے رہائشی علاقوں میں ہتھیار رکھ رہے ہیں۔

    ایک روسی ٹاسک فورس نے کہا کہ جنگ کے 12 ویں دن پیر کی صبح جنگ بندی شروع ہو جائے گی، کییف، جنوبی بندرگاہی شہر ماریوپول، یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیو اور سومی کے شہریوں کے لیے۔ یہ فوری طور پر واضح نہیں تھا کہ آیا ٹاسک فورس کے بیان میں جن علاقوں کا ذکر کیا گیا ہے اس سے آگے لڑائی رکے گی یا جنگ بندی کب ختم ہوگی۔

    فیصلے میں غلط ہوسکتا ہوں، ٹونی بلیئر

    یہ اعلان ماریوپول سے شہریوں کو نکالنے کی دو ناکام کوششوں کے بعد کیا گیا ہے، جہاں سے ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے اندازے کے مطابق 200,000 لوگ بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    روس اور یوکرین نے ناکامی کا الزام لگایا ہے روسی ٹاسک فورس نے کہا کہ پیر کی جنگ بندی اور راہداری کھولنے کا اعلان فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی درخواست پر کیا گیا، جنہوں نے اتوار کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے بات کی۔

    روس کی آر آئی اے نووستی خبر رساں ایجنسی نے وزارت دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے انخلاء کے راستوں کو شائع کیا ہے کہ عام شہری روس اور بیلاروس کو روانہ ہو سکیں گے۔ ٹاسک فورس نے کہا کہ روسی افواج ڈرون کے ساتھ جنگ ​​بندی کا مشاہدہ کریں گی۔

    پیوٹن نے کہا کہ ماسکو کے حملے صرف اس صورت میں روکے جا سکتے ہیں جب کیف دشمنی بند کر دے جیسا کہ اس نے اکثر کیا ہے، پیوٹن نے یوکرین کو جنگ کا ذمہ دار ٹھہرایا، اتوار کے روز ترک صدر رجب طیب اردون سے کہا کہ کیف کو تمام دشمنیوں کو روکنے اور ‘روس کے معروف مطالبات’ کو پورا کرنے کی ضرورت ہے۔

    یوکرین کی طرح مسلمان ممالک پر حملوں کی مذمت کیوں نہیں کی جاتی؟ بیلا حدید کا دنیا…

  • یوکرین کا روسی ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ‌:ولادی میرپوتن نے اور بات کہہ دی

    یوکرین کا روسی ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ‌:ولادی میرپوتن نے اور بات کہہ دی

    ماسکو :یوکرین کا روسی ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ‌:ولادی میرپوتن نے اور بات کہہ دی،اطلاعات کے مطابق یوکرین کی فوج نے روس کا فوجی ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    روس نے 24 فروری کو یوکرین پر حملہ کردیا تھا جس کے بعد سے اب یوکرینی دارالحکومت کیف سمیت متعدد شہر روسی افواج کے محاصرے میں ہیں۔روسی فوج نے دو یوکرینی شہروں سے شہری آبادی کے انخلا کیلئے عارضی جنگ بندی کی تھی تاہم دونوں ملکوں کے درمیان جنگ اب بھی جاری ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یوکرینی فوج نے روسی فوجی ہیلی کاپٹر مار گرایا۔ یوکرینی فوج نے روسی فوجی ہیلی کاپٹر کو میزائل سے نشانہ بناکرگرایا۔یوکرینی آرمڈ فورسز کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ہیلی کاپٹر گرانے کی ویڈیو بھی جاری کی گئی تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ روسی ہیلی کاپٹر کب اور کہاں مار گرایا گیا۔

    خیال رہے کہ حالیہ جنگ میں یوکرین کی جانب سے روسی افواج کے بھاری جانی اور مالی نقصان کے دعوے کیے گئے ہیں تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

    دوسری طرف روس نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین غیر ملکیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

    روس کی وزارت دفاع کے ترجمان نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ یوکرینی عسکریت پسندوں کے پاس پانچ ہزار غیر ملکی ہیں، غیر ملکیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

    وزارت دفاع نے کہا کہ غیر ملکیوں میں 16 طلبہ پاکستانی، 1500 بھارتی طلبہ ہیں، اردن کے 200، مصر کے 40، ویتنام کے 15 شہریوں کو خارکیو میں رکھا گیا ہے، بھارت کے 576، تنزانیہ کے 159، چین کے 121، گھانا کے 100 طلبہ، مصر کے 60، اردن کے 45، تیونس کے 15 اور سومی شہر میں زیمبیا کے 14 شہری ہیں۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ یوکرین نے خارکیو اور سومی میں انسانی راہداری کھولنے سے انکار کیا ہے، یوکرینی قوم پرستوں نے 20 افراد پر مشتمل پاکستانی گروپ پر تشدد بھی کیا، 20 افراد پر مشتمل پاکستانی گروپ کو سجا چیک پوائنٹ پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

    وزارت دفاع نے کہا کہ یوکرین قوم پرستوں کے تشدد کے باعث پاکستانی گروپ واپس چلا گیا، یوکرین میں نسلی بنیادوں پر امتیازی سلوک کے واقعات بھی بڑھ گئے، یوکرینی قوم پرست غیر ملکیوں کو نکالنے سے روک رہے ہیں۔

    ترجمان نے مزید کہا کہ یوکرینی قوم پرست پاکستان، بھارت، انڈونیشیا اور مصر کے شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    ادھر روس کے صدر ولادمیر پیوٹن نے روسی ایئر لائن ایرو فلوٹ کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا ہے۔ اس موقع پر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ یوکرین میں نازیوں کی حمایت کرنے والے گروہ ہیں، روس کو خطرے کا سامنا ہے مغربی پابندیاں جنگ کا اعلان ہے، ہم ڈنباس کا دفاع کرنا چاہتے ہیں۔

  • یوکرین پر نو فلائی زون بنانیوالے ملک  روس پرحملہ آورسمجھے جائیں گے: پیوٹن

    یوکرین پر نو فلائی زون بنانیوالے ملک روس پرحملہ آورسمجھے جائیں گے: پیوٹن

    ماسکو : یوکرین پر نو فلائی زون بنانیوالے ملک روس پرحملہ آورسمجھے جائیں گے: اطلاعات کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے خبردار کیا ہےکہ اگر کسی بھی ملک نے یوکرین کو نو فلائی زون بنایا تو اسے جنگ میں براہ راست شریک سمجھا جائےگا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق پیوٹن نے ماسکو میں روس کی قومی ائیرلائن کے صدر دفترکا دورہ کیا اور ملازمین سے خطاب کیا۔روسی صدرکا کہنا تھا کہ یوکرین کی فضائی حدود کو نوفلائی زون بنانا مشکل کام ہے، یوکرین میں نو فلائی زون بنانےکو جنگ میں براہ راست شرکت سمجھا جائےگا۔

    پیوٹن کا کہنا تھا کہ ہم نے مشرقی یوکرین میں حالات کشیدہ کیے بغیر معاہدوں اور وعدوں پر عمل درآمد کی کوششیں کی، تاہم یوکرینی حکومت کئی سال وعدوں کی تکمیل سے راہ فرار اختیار کرتی رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یوکرین میں محفوظ راہداریاں قائم کرنےکی پیشکش کی ہے، یوکرینی حکام نے شہریوں کو یرغمال بنا کر رکھاہے، یوکرینی حکام نے غیر ملکی طلبا کو بھی یرغمال بنالیا ہے۔

    انہوں نےکہا کہ روس کی سلامتی کو حقیقی خطرات کا سامنا ہے، روس چاہتا ہے یوکرین غیر جانبدار ملک بنے، یوکرین کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کو بنانے اور ترقی دینےکی صلاحیت ہے، روس کے پاس مقررہ عسکری کارروائی کی تکمیل کےلیے وافر طاقت موجود ہے۔

    پیوٹن نے مزید کہا کہ روس پر عائد پابندیاں اعلان جنگ جیسا ہے، ہم یوکرین کی جانب سے مہلک ہتھیاروں کےحصول کی خواہش کا خاتمہ چاہتےہیں، مذاکرات کی میز پر اپنے مطالبات سے یوکرین کو آگاہ کرچکے ہیں،جواب کا انتظار ہے۔

    خیال رہے کہ روس کے حملے کے بعد سے یوکرینی صدر کی جانب سے یوکرین کو نو فلائی زون قرار دینے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے تاہم نیٹو یوکرین میں ’نوفلائی زون‘ قائم کرنےکا مطالبہ مسترد کرچکا ہے۔
    کل اس حوالے سے نیٹو کے جنرل سیکرٹری اسٹالٹن برگ کا کہناتھاکہ یوکرین میں نو فلائی زون کے قیام سے جنگ دیگر یورپی ملکوں تک پھیل سکتی ہے۔

  • روس کے خلاف امریکہ اور اتحادی نیا کھیل کھیلنے لگے:جنگ جنگ اور ہرجگہ جنگ عام ہوگئی

    روس کے خلاف امریکہ اور اتحادی نیا کھیل کھیلنے لگے:جنگ جنگ اور ہرجگہ جنگ عام ہوگئی

    ماسکو:روس کے خلاف امریکہ اور اتحادی نیا کھیل کھیلنے لگے:جنگ جنگ اور ہرجگہ جنگ عام ہوگئی ،اطلاعات کے مطابق لائیو ویڈیو اسٹریمنگ ویب سائٹ ٹوئچ نے بھی گمراہ کن معلوما ت پھیلانے پر روس کے سرکاری میڈیا پر پابندی عائد کردی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایمیزون کی ذیلی کمپنی ٹوئچ کی جانب سے روسی ٹی وی RT اور Sputnik پر پابندی لگا دی گئی ہے، جب کہ یورپی یونین کی جانب سے ان ٹی وی چینلز کو پہلے ہی پابندی کا سامنا ہے۔

    ٹوئچ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق کمپنی نے ایسے روسی صارفین پر بھی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو اس لائیو ویڈیو اسٹریمنگ ویب سائٹ پر مستقل جعلی اور گمراہ معلومات پھیلا رہے ہیں۔
    ویڈیو گیمرز میں مقبول پلیٹ فارم ٹوئچ کے مطابق یہ قانون دنیا بھر میں موجود ایسے تمام صارفین پر بھی لاگو ہوگا، جن کی آن لائن موجودگی کا مقصد ہی غلط معلومات اور سازشی تھیوریز کو فروغ دینا ہے۔
    ٹوئچ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ روس کا سرکاری میڈیا مستقل اپنے اصل مقصد سے ہٹ کر غلط خبریں نشر کر رہا ہے۔

    یاد رہے کہ روس کے سرکاری ٹیلے ویژن RT نے گزشتہ روز ہی ایک اور امریکی ویڈیو اسٹریمنگ پلیٹ فارم’ رمبل‘ پر منتقل ہونے کا اعلان کیا تھا۔انتظامیہ کی جانب سے یہ فیصلہ ٹوئٹر، میٹا اور گوگل کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد عائد کی جانے والی پابندی کے تناظر میں کیا گیا۔

    کینیڈا کے اس ویڈیو پلیٹ فارم کو امریکا کے سیاسی حلقوں میں کافی دیکھا جاتا ہے۔ ٹوئچ کی جانب سے عائد پابندی کے حوالے سے مذکورہ ٹی وی چینلز کو کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

    یورپی یونین کی جانب سے عائد پابندی کے بعد سے دنیا کی مقبول ترین ویڈیو شیئرنگ ایپ اور نیٹ فلکس بھی روس کے سرکاری میڈیا پر پابندیاں اور روس میں جاری اپنے منصوبوں کو روک چکے ہیں۔

  • روسی صدرکے لہجے سے لگتا ہےکہ "’ یوکرین پر مکمل قبضے تک جنگ مسلط رہے گی ‘:فرانسیسی صدر

    روسی صدرکے لہجے سے لگتا ہےکہ "’ یوکرین پر مکمل قبضے تک جنگ مسلط رہے گی ‘:فرانسیسی صدر

    پیرس:روسی صدرکے لہجے سے لگتا ہےکہ "’ یوکرین پر مکمل قبضے تک جنگ مسلط رہے گی ‘اطلاعات کے مطابق فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ روسی صدر کی باتوں سے لگتا ہے کہ یوکرین پر مکمل قبضے تک جنگ جاری رہے گی۔

    فرانس کے صدر کے ترجمان کے مطابق فرانسیسی صدر اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن کے درمیان فون کال کے ذریعے رابطہ ہوا ہے جس کے بعد لگتا ہے کہ یوکرین میں ’ابھی برا ہونا باقی ہے۔‘

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے درمیان فون پر 90 منٹ طویل بات چیت ہوئی ہے۔اس بات چیت کے حوالے سے فرانسیسی صدر کے معاون نے کہا ہے کہ ’پیوٹن کے ارادے پورے ملک پر قبضے کرنے کے نظر آ رہے ہیں۔‘

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانسیسی صدر کے ایک سینیئر معاون نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا کہ ’صدر کے خیال میں صدر پیوٹن نے جو کچھ بتایا اس سے لگتا ہے کہ برا وقت ابھی آنا ہے۔‘

    معاون نے مزید بتایا کہ ’صدر پیوٹن نے جو کچھ ہمیں بتایا اس میں یقین دلانے والی کوئی بات نہیں تھی۔ انہوں نے آپریشن جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ولادیمیر پیوٹن ’پورے یوکرین پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے الفاظ میں یوکرین کو آخر تک ’ڈی نازیفائی‘ کرنے کے لیے اپنا آپریشن انجام دیں گے۔‘

    معاون نے کہا: ’آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ الفاظ کس حد تک چونکا دینے والے اور ناقابل قبول ہیں اور صدر نے انہیں بتایا کہ یہ جھوٹ ہے۔‘ایمانوئل میکرون نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن پر زور دیا کہ وہ عام شہری ہلاکتوں سے گریز کریں اور انسانی رسائی کی اجازت دیں۔معاون نے کہا کہ اس پر ’صدر پیوٹن نے جواب دیا کہ وہ کوئی وعدہ کیے بغیر اس کے حق میں ہیں۔‘

  • مالدووا نےبھی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست دے دی :روس کوتنہا کرنے کی کوششیں

    مالدووا نےبھی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست دے دی :روس کوتنہا کرنے کی کوششیں

    پیرس :جنگ کے پیشِ نظر مالدووا نےبھی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست دے دی :روس کوتنہا کرنے کی کوششیں،اطلاعات کے مطابق یورپی ملک مالدووا نے بھی یوکرین میں جاری روسی جنگ کے باعث یورپی یونین میں شمولیت کیلئے درخواست دے دی۔

    برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق مالدوواکی صدر مایا ساندو نے جمعرات کے روز یورپی یونین میں شمولیت کے لیے ایک باضابطہ درخواست پر دستخط کردیے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق مالدوواکی جانب سے یہ فیصلہ کچھ دن قبل یوکرینی صدر ولودومیر زیلینسکی کی یورپی یونین کی فوری رکنیت کے لیے درخواست پر دستخط کیے جانے کے چند دن بعد سامنے آیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق مایا ساندو، وزیر اعظم اور پارلیمانی اسپیکر نے دارالحکومت چیسیناؤ میں ایک بریفنگ کے دوران یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست پر دستخط کیے۔واضح رہے کہ 1991 میں مالدووا کی سوویت یونین سے آزادی کے بعد سے چیسیناؤ میں روس اور یورپی یونین کے حامی کنٹرول حاصل کرنے کیلئے لڑچکے ہیں۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر مایا ساندو نے دستاویزات پر دستخط کرنے سے پہلے کہا کہ’ مالدوواکو یہاں تک پہنچنے کیلئے 30 سال لگے لیکن آج ملک اپنے مستقبل کی ذمہ داری خود لینے کے لیے تیار ہے’۔

    انہوں نے کہا کہ ہم امن، خوشحالی،آزاد دنیا کا حصہ بننا چاہتے ہیں جبکہ کچھ فیصلوں میں وقت لگتا ہے تاہم دوسروں کو فوری اور فیصلہ کن طریقے سے اور بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ آنے والے مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز بھیج دی جائے گی۔دوسری جانب سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین میں شامل ہونے کیلئے یوکرین اور مالدووا کے حوالے سے مذاکرات ابھی تک شروع نہیں ہوئے ۔

    تاہم یورپی یونین کے رہنما یوکرین کی درخواست پر اگلے ماہ ایک غیر رسمی سربراہی اجلاس میں تبادلہ خیال کر سکتے ہیں۔