Baaghi TV

Tag: جنگ

  • روس اورجرمنی میں اختلافات شدت اختیارکرگئے:   40جرمن سفارت کاروں کوملک چھوڑنےکاحکم

    روس اورجرمنی میں اختلافات شدت اختیارکرگئے: 40جرمن سفارت کاروں کوملک چھوڑنےکاحکم

    روس نے جوابی اقدام کے طور پر جرمنی کے 40 سفارت کاروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دیتے ہوئے ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ یہ تعداد روس میں تعینات جرمن سفارت کاروں کی ایک تہائی بنتی ہے۔

    اِس سے قبل روس یوکرین جنگ کے تناظر میں جرمنی نے روسی سفارت کاروں کو جرمنی سے نکل جانے کا کہا تھا جس پر روس کی وزارتِ خارجہ نے ملک میں متعین جرمن سفارت کار کو طلب کر کے جرمن حکومت کے اس فیصلے پر شدید احتجاج کیا تھا۔

    اب روس نے اپنے ردعمل میں 40 جرمن سفارت کاروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے تاہم جرمنی کی وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے الزام عائد کیا ہے کہ جرمنی سے بے دخل کیا گیا روس کا سفارتی عملہ سفارت کاروں کی بجائے جاسوسوں پر مشتمل تھا۔

    جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے مزید کہا ہے کہ روس سے بے دخل کیے جانے والے سفارت ک‍اروں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ انہوں نے روسی حکومت کے اِس اقدام کو نا انصافی پر مبنی فیصلہ قرار دیا ہے۔روس نے کہا ہے کہ دنیا سنگین جوہری جنگ کے خطرے کو سنجیدگی سے دیکھے، یہ قابل غور ہے۔

    روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے سرکاری ٹی وی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو یوکرین کو ہتھیاروں کی سپلائی کرکے دراصل روس کے ساتھ بالواسطہ جنگ میں مصروف ہے۔ اِن ہتھیاروں سے یقینی طور پر روسی افواج کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ روس جوہری تصادم کے بڑھا چڑھا کر پیش کیے جانے والے مصنوعی خطرات کے امکانات کو کم کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا اصولی مؤقف ہے جس پر تمام کارروائیاں ہورہی ہیں۔

    وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا تھا یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ جنگ روس اور یوکرین کے مابین ایک معاہدے پر دستخط ہونے کے ساتھ ہی ختم ہو جائے تاہم اس معاہدے کی شرائط اس وقت ملک میں فوجی صورتحال پر منحصر ہوں گی۔

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے انٹرویو کے بعد یوکرین کے وزیر خارجہ دیمترو کولیبا نے ٹویٹ کیا کہ روس دنیا کو ڈرانے کا آخری موقع بھی کھو چکا ہے اور اس کا صرف ایک ہی مطلب ہے کہ اُسے اپنی شکست کا اندازہ ہو گیا ہے۔

    یوکرین کے خلاف روس کی فوجی کارروائی کے تین ماہ گزر جانے کے باوجود اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسیاں مشرقی یوکرین کے محصور علاقوں میں شہریوں تک پہنچنے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس آج سے روس کا تین روزہ دورہ شروع کر رہے ہیں جس کے بعد وہ یوکرین کا دورہ بھی کریں گے۔ یوکرین بحران سے نمٹنے میں اقوام متحدہ کے محدود کردار پر سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس بھی تنقید کی زد میں ہیں۔

  • یوکرین جنگ:ایک ماہ میں روس کے15ہزارفوجی ہلاک ہوئے،نیٹو:حقائق درست نہیں:روس

    یوکرین جنگ:ایک ماہ میں روس کے15ہزارفوجی ہلاک ہوئے،نیٹو:حقائق درست نہیں:روس

    برسلز:یوکرین جنگ:ایک ماہ میں روس کے15ہزارفوجی ہلاک ہوئے،اطلاعات کے مطابق مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین جنگ کے ایک ماہ کے دوران روس کے 15 ہزار تک فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

    ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ میں یوکرین میں روسی فوجیوں کی ہلاکتوں کا موازنہ افغانستان کے ساتھ کیا گیا ہے جہاں 10 سال میں تقریباً 15 ہزار فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

     

    نیٹو کے ایک سینیئر فوجی افسر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ فوجیوں کی ہلاکتوں کا اندازہ یوکرین کے حکام کی جانب سے دی جانے والی اطلاعات پر مبنی ہے۔یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے دو ہفتے قبل کہا تھا کہ ان کے تقریباً 13 سو فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

    یوکرینی صدر روسی حملے کے بعد مسلسل متحرک ہیں اور دنیا کی توجہ حاصل کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر کے ممالک کے عوام سے اپیل کی کہ وہ آج یوکرین کی حمایت میں باہر نکلیں۔

    نیٹو کے فوجی افسر کا مزید کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ روسی فوجیں اب دارالحکومت کیف میں آگے نہیں بڑھنا نہیں چاہتیں جبکہ کیف کے مشرقی علاقوں میں یوکرین کی فوجوں نے روسی فوج کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ روسی فوجوں کی ترجیح ڈونباس کے علاقے لوہانسک، ڈونیسک ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ یوکرینی فوجوں کو ان کی طرف بڑھنے سے روکا جائے۔

     

    انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکا کو بحیرہ ازوف میں روس کے بحری جہاز بھی متحرک دکھائی دیے ہیں جن کے ذریعے مختلف سامانِ رسد فوجوں کو پہنچایا جا رہا ہے۔

    نیٹو کے پراپیگنڈے کا جواب دیتے ہوئے روس کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں‌ ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن ہزاروں میں نہیں سیکڑوں میں ہوئی ہیں ، مغربی میڈیا جان بوجھ کرحقائق توڑمروڑ کر پیش کررہا ہے

    دوسری جانب مغربی ممالک روس پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک اور قدم اٹھانے جا رہے ہیں۔ برسلز میں آج پہلی بار ایک سربراہی اجلاس منعقد ہو رہا ہے جس میں نیٹو، جی سیون اور یورپی یونین کے رکن ممالک شریک ہوں گے جبکہ امریکی صدد جو بائیڈن بھی اس میں شرکت کریں گے۔

  • روس یوکرین میں آپریشن معطل کرے: عالمی عدالت انصاف کا عبوری حکم

    روس یوکرین میں آپریشن معطل کرے: عالمی عدالت انصاف کا عبوری حکم

    ہیگ : نیدرلینڈز کے دی ہیگ میں واقع بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے بدھ کے روز ایک عارضی اقدام منظور کیا جس میں روسی فیڈریشن کو یوکرین کے علاقے میں فوجی کارروائیوں کو معطل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    متفقہ طور پر یہ اشارہ بھی دیا گیا کہ روس اور یوکرین دونوں کو ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کرنا چاہیے جس سے تنازعہ کو عدالتی عدالت کے سامنے بڑھایا جائے یا اسے مزید مشکل بنایا جا سکے۔

    عارضی اقدام کو 2 کے مقابلے13ووٹوں سے منظور کیا گیا۔ آئی سی جے کے ایک ہندوستانی جج جسٹس دلویر بھنڈاری نے عارضی اقدام کے حق میں ووٹ دیا۔

    عدالت نے مزید اشارہ کیا کہ کسی بھی فوجی یا بے قاعدہ مسلح یونٹوں کو جو روس کی طرف سے ہدایت یا حمایت کر سکتے ہیں، نیز کوئی بھی تنظیم اور افراد جو اس کے کنٹرول، سمت یا اثر و رسوخ کے تحت ہوسکتے ہیں، کو فوجی کارروائیوں کی اجازت نہیں ہوگی

    ادھر جو بائیڈن کی طرف سے روسی صدر پوتن کو ”جنگی مجرم” کہنے کو روس نے”ناقابل قبول اور ناقابل معافی” قرار دیا۔ ماسکو نے کہا کہ یہ بیان بازی ایک ایسے ملک کا سربراہ کررہا ہے جس کے بموں سے دنیا میں لاکھوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

    اب جب کہ روس اور یوکرین کی جنگ چوتھے ہفتے میں داخل ہوچکی ہے اور سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں، امریکی صدر جو بائیڈن نے اس فوجی کارروائی کے لیے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو”جنگی مجرم” قرار دیا ہے۔

    جوبائیڈن بدھ کے روز وائٹ ہاوس میں نامہ نگاروں سے بات چیت کررہے تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پوتن جنگی مجرم ہیں تو پہلے تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا اور آگے بڑھ گئے لیکن جب صحافیوں نے ان سے دوبارہ یہی سوال کیا تو بائیڈن نے کہا،”ہاں میرے خیال میں وہ ایک جنگی مجرم ہیں۔”

    بائیڈن نے اپنے بیان کی مزید کوئی وضاحت نہیں کی تاہم وائٹ ہاوس کی ترجمان جین ساکی نے کہا کہ صدر بائیڈن کا بیان یوکرین میں ہسپتالوں سمیت دیگر سویلین عمارتوں پر روسی فوج کے میزائل حملوں کے پس منظر میں ہے۔”ایک غیر ملکی ڈکٹیٹر کے ذریعہ دوسرے ملک میں بربریت اور ہولناک واقعات آپ دیکھ رہے ہیں،جس کی وجہ سے شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑگئی ہیں۔ ہسپتال تباہ ہورہے ہیں، حاملہ خواتین اور صحافی اور دوسرے لوگ متاثر ہورہے ہیں۔

  • یوکرین روس جنگ : پانچ صحافی ہلاک درجنوں زخمی

    یوکرین روس جنگ : پانچ صحافی ہلاک درجنوں زخمی

    کیف: یوکرین روس جنگ : پانچ صحافی ہلاک درجنوں زخمی اطلاعات کے مطابق فوکس نیوز کے صحافی اولیکسانڈرا کرشائینووا اور کیمرہ مین پیئرے زکرزیوسکی منگل کے روز کییف کے نواح میں روسی فوج کی شیلنگ میں ہلاک ہوگئے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے یوکرین میں اب تک پانچ صحافی مارے جاچکے ہیں۔

    یوکرین کی وزارت دفاع نے فوکس نیوز کے صحافی اولیکسانڈرا کرشائینووا اور کیمرہ مین پیئرے زکرزیوسکی کی ہلاکت کے لیے روسی فوج کے حملے کو مورد الزام ٹھہرایا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ دونوں صحافی روسی فوج کی شیلنگ میں اس وقت ہلاک ہو گئے جب ان کی گاڑی یوکرینی دارالحکومت کییف کے نواحی علاقے ہورنیکا میں پھنس گئی۔

    فوکس نیوز نے اپنی نیوز بلیٹن میں کرشائنیووا اور زکریوسکی کی موت کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ زکریوسکی کو چینل میں ایک ‘لیجینڈ’ کی حیثیت حاصل تھی۔ ”ان کی موت انتہائی تکلیف دہ ہے۔ وہ ہمارے ساتھ برسوں سے کام کررہے تھے۔انہوں نے عراق، افغانستان اور شام میں جنگ کی رپورٹنگ کی تھی۔

    وہ ہر طرح کے دباو میں بھی کام کرنے کے عادی تھے۔” کرشائنیووا اور زکریوسکی کی ہلاکت کے ساتھ ہی یوکرین پر روسی فوج کے حملے کے بعد سے جنگ کے دوران کم از کم پانچ صحافی ہلاک ہوچکے ہیں۔

    امریکی فلم ساز برینٹ ریناوڈ جنگ کی عکس بندی کے دوران ہفتے کے روز بری طرح زخمی ہوگئے تھے اور بعد میں ان کی موت ہوگئی۔ کرشائنیووا اور زکریوسکی کی ہلاکت کی اطلاع عام کیے جانے سے قبل منگل کے روز ہی یوکرینی پارلیمان میں انسانی حقوق کی سربراہ لدمیلا ڈینیسووا نے بتایا تھا کہ جنگ میں اب تک درجنوں صحافی زخمی اور کم از کم تین ہلاک ہوچکے ہیں۔

    ڈینیسووا نے کہا، "کم از کم 35 صحافی روسی فورسز کے حملے کا شکار ہوچکے ہیں، ان میں سے تین کی موت ہوچکی ہے۔” یوکرین کے ایک پولیس عہدیدار کے مطابق امریکی فلم ساز ریناوڈ کییف کے نواح میں ارپن قصبے میں 13 مار چ کو روسی فورسز کی گولیوں کا شکار ہوگئے۔

    اس سے قبل یوکرینی صحافی ایوگینی ساکن کی کییف ٹیلی ویژن پر روسی فوجی حملے کے دوران موت ہوگئی تھی جبکہ ایک دیگر یوکرینی نامہ نگار وکٹر ڈوڈار، مائیکو لیف شہر کے قریب جنگ کے دوران مارے گئے۔

    فوکس نیوز کے مطابق زکریوسکی کی عمر 55 برس اور کرشائنیووا کی 24برس تھی۔ وہ فوکس کے ایک دیگر نامہ نگار بنجامن ہال کے ساتھ کییف کے نواحی علاقے ہورینکا سے رپورٹنگ کررہے تھے۔ بنجامن ہال بھی اس واقعے میں زخمی ہوگئے اور ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

    یوکرین کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں بتایا کہ بنجامن ہال کے پیر کا ایک حصہ کاٹنا پڑا۔ روس نے تقریباً ایک ماہ تک جاری رہنے والے تعطل کے بعد 24 فروری کو یوکرین پر فوجی حملہ کردیا تھا۔ اس جنگ کے نتیجے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے روس پر پابندیاں عائد کردیں۔

    اقوام متحدہ کے مطابق جنگ کی وجہ سے تقریباً 30 لاکھ یوکرینی شہریوں کو ملک چھوڑنا پڑا ہے کیونکہ روسی فوج نے متعدد شہروں اور قصبات کا محاصرہ کرلیا ہے اور ان پر بمباری کررہی ہے۔ صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم ‘کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس(سی پی جے)’ نے یوکرین سے جنگ کی رپورٹنگ کرنے والے بین الاقوامی نامہ نگاروں اور میڈیا کارکنوں نیز یوکرینی صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ سی پی جے نے یوکرینی صحافیوں کو لازمی فوجی خدمات سے مستشنیٰ رکھنے کی بھی اپیل کی ہے۔

    دریں اثنا متعدد صحافیوں اور صحافتی تنظیموں نے یوکرین میں صحافیوں کی ہلاکت پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ امریکی کانگریس کے متعدد اراکین نے زکریوسکی کو ایک امریکی صحافی قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی۔ آئرلینڈ کے وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے کہا کہ وہ ایک آئرش شہری تھے۔

    مارٹن نے ٹوئٹر پر لکھا، "آئرش شہری اور صحافی پیئرے زکریوسکی اور ان کے ایک شریک کار کی ہلاکت نے ہمیں غمزدہ اور مایوس کردیا۔ مصیبت کی اس گھڑی میں میں ان کے اہل خانہ، دوستوں اور ساتھی صحافیوں کے ساتھ ہوں۔ ہم یوکرین پر روس کے اس بلاجواز اور غیر اخلاقی جنگ کی مذمت کرتے ہیں۔”

  • روس نے ہم سے کوئی مدد نہیں مانگی: امریکہ پراپیگنڈے سے باز رہے :چین کی وارننگ

    روس نے ہم سے کوئی مدد نہیں مانگی: امریکہ پراپیگنڈے سے باز رہے :چین کی وارننگ

    بیجنگ : روس نے ہم سے کوئی مدد نہیں مانگی: امریکہ پراپیگنڈے سے باز رہے :چین کی وارننگ،اطلاعات کےمطابق چین نے منگل کو امریکہ پر ’غلط معلومات‘ پھیلا کر تنازعے کو بڑھاوا دینے کا الزام لگاتے ہوئے امریکہ کے دعوں کی تردید کی ہے کہ روس نے چین سے یوکرین میں فوجی مدد مانگی ہے۔

    لندن میں چینی سفارت خانے نے روئٹرز کو جاری ایک بیان میں کہا: ’امریکی یوکرین کے معاملے پر بار بار چین کے بارے میں بد نیتی پر مبنی غلط معلومات پھیلاتا آیا ہے۔‘ بیان میں کہا گیا:

    چین امن مذاکرات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔‘ ’اب ترجیح صورت حال کو بہتر کرنا ہے اور سفارتی حل تلاش کرنا ہے، جلتی پہ تیل چھڑکنے اور صورت حال کو مزید کشیدہ کرنا نہیں۔‘

    یاد رہے کہ اس سے قبل امریکہ نے کہا تھا کہ روس کی مدد کرنا چین کو مہنگا پڑے گا۔امریکہ امریکی صدر جو بائیڈن کے مشیر قومی سلامتی جیک سلیوان نے پیر کو ایک اعلیٰ چینی عہدیدار کو یوکرین حملے میں روس کی مدد کرنے سے خبردار کیا ہے۔

    امریکی میڈیا میں خبریں گردش کر رہی ہیں روس نے چین سے فوجی مدد مانگی ہے، تاہم ماسکو نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔ خبررساں ادارے اے پی کے مطابق امریکی مشیر جیک سلیوان اور چین کی خارجہ پالیسی کے سینیئر مشیر یانگ جیچی کے درمیان پیر کو روم میں ملاقات ہوئی جس میں امریکہ نے چین کو روس کی مدد کرنے سے خبردار کیا۔

    بائیڈن انتظامیہ کی اس بات پر تشویش بڑھ رہی ہے کہ چین یوکرین جنگ کو واشنگٹن کے مقابلے کی اپنی پالیسی کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن نے چینی مؤقف پر وضاحت مانگی اور چین کو خبردار کیا کہ روس کے لیے امداد بشمول امریکہ اور مغربی اتحادیوں کی جانب سے عائد پابندیوں کو روکنے میں مدد کرنا ان کو مہنگا پڑے گا۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے اس ملاقات کے حوالے سے بیان میں کہا کہ جیک سلیوان نے سات گھنٹے کی ایک ’کڑی‘ ملاقات کے دوران واضح کیا کہ بائیڈن انتظامیہ کو اس وقت روس کے ساتھ چین کی صف بندی کے متعلق گہرے خدشات ہیں۔

  • یوکرین روس جنگ:پولینڈ سرحد کےقریب يوکرينی فوجی اڈے پرروسی فضائی حملہ:نیٹووالےسرجوڑکربیٹھ گئے

    یوکرین روس جنگ:پولینڈ سرحد کےقریب يوکرينی فوجی اڈے پرروسی فضائی حملہ:نیٹووالےسرجوڑکربیٹھ گئے

    پریس : یوکرین روس جنگ:پولینڈ سرحد کے قریب يوکرينی فوجی اڈے پر روسی فضائی حملہ:نیٹووالے سرجوڑکربیٹھ گئے،اطلاعات کے مطابق روس نے مغربی يوکرين ميں پولينڈ کے سرحد کے پاس واقع ياوريو کے ايئر بيس پر آج فضائی حملے کيے ہیں۔ مبینہ طور پر علاقے سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے ہیں۔

    مقامی ذرائع کے مطابق عسکری اڈے پر کُل آٹھ ميزائل داغے گئے ہیں تاہم فی الحال اس حملے ميں جانی و مالی نقصان کی تفصيلات واضح نہيں ہو سکیں۔ياوريو پولينڈ کی سرحد سے صرف 25 کلوميٹر کے فاصلے پر ہے اور يہ وہی فوجی اڈا ہے جہاں يوکرينی فوج نيٹو کے ہمراہ مشترکہ جنگی مشقيں کرتی رہی ہے۔

    اب تک اکثريتی روسی حملے يوکرين کے وسط اور مشرق کی جانب کيے جاتے رہے ہيں اور يہ پہلا روسی حملہ ہے جو يوکرين ميں مغربی سرحد اور يورپی يونين کے رکن ملک پولينڈ کے پاس کيا گيا۔اِس روسی حملے کے خلاف ابھی تک يورپی يونين اور پولينڈ کا رد عمل سامنے نہيں آيا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز نیٹو نے اعلان کیا تھا کہ وہ 14 مارچ بروز پیر کو شمالی یورپ کے ملک ناروے میں مشقوں کے لیے 30 ہزار فوجی بھیج رہا ہے۔اِن نیٹو فوجی مشقوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ روس کی سرحد سے چند سو کلومیٹر کے فاصلے پر کی جائیں گی۔

    نیٹو کی اِن عسکری مشقوں کو کولڈ رسپانس 2022ء کا نام دیا گیا ہے۔ مشقوں میں 27 ممالک کے تقریباً 30 ہزار فوجی، 200 طیارے اور 50 بحری جہازوں کی شرکت متوقع ہے۔ یہ اس سال نیٹو دستوں کی سب سے بڑی مشقیں ہیں۔

    دوسری جانب یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے تصدیق کی ہے کہ اس جنگ میں اب تک 1300 یوکرینی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

  • یوکرین روس جنگ:ماریوپول میں 16 سو ہلاکتوں کا دعویٰ:روسی پیشقدمی جاری:نیٹوپرخوف طاری

    یوکرین روس جنگ:ماریوپول میں 16 سو ہلاکتوں کا دعویٰ:روسی پیشقدمی جاری:نیٹوپرخوف طاری

    خارکیف:یوکرین روس جنگ:ماریوپول میں 16 سو ہلاکتوں کا دعویٰ:روسی پیشقدمی جاری:نیٹوپرخوف طاری ،اطلاعات کے مطابق یوکرین جنگ 18 ویں دن میں داخل ہو چکی ہے۔ یوکرین نے ماریوپول شہر میں 16 سو کے قریب شہری ہلاکتوں کا دعویٰ کیا ہے۔

    یوکرین کے وزیر خارجہ دیمترو کولیبا نے کہا ہے کہ ماریوپول پر 12 دنوں میں روسی فوج کے حملوں میں 1582 شہری جان سے جا چکے ہیں۔

    اُنہوں نے ٹویٹ کیا کہ روسی فوج کے مختلف یونٹ نے شہر کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور وہاں بمباری بھی جاری ہے۔ محصور شہر ماریوپول اس وقت کرہ ارض پر بدترین انسانی تباہی کا سامنا کر رہا ہے۔ 12 دنوں میں 1582 افراد ہلاک ہوئے ہیں جنہیں اجتماعی قبروں میں دفن کیا گیا ہے۔

    وزیر خارجہ دیمترو کولیبا نے روسی فوج پر شہر میں انسانی امداد کو روکنے کا الزام بھی عائد کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ روس کی افواج کو روکنے کے لیے لڑاکا طیاروں کی ضرورت ہے۔

    یوکرین کے حکام کی جانب سے یہ بھی اعلان کیا گیا ہے کہ روس نے دارالحکومت کیف کے قریب واسلکیو میں فوجی ایئر بیس کے علاقے پر کم از کم 6 میزائل داغے ہیں۔اِس حملے کے نتیجے میں ایک آئل ڈپو اور گولہ بارود کے ڈپو تباہ ہوگئے۔

    یوکرینی نائب وزیراعظم ارینا ویریشوک نے بتایا ہے کہ کیف، سومی، ماریوپول اور پولوگی کے شہروں میں شہریوں کے انخلا کے لیے راہداریاں کھول دی گئی ہیں۔

    نائب وزیراعظم ویریشوک نے واضح کیا کہ اگرچہ روسی فوجیوں نے گزشتہ روز انخلا کی راہداریوں کو بند کر دیا تھا لیکن انردوگر، بوچا، گوستومیل اور کوزاروچی نامی شہروں سے 7 ہزار 144 شہریوں کو نکال لیا گیا ہے۔

    یوکرینی نائب وزیراعظم نے مزید بتایا کہ گزشتہ روز محفوظ راستوں کی مدد سے تقریباً 13 ہزار شہریوں کو نکالا گیا ہے جبکہ جمعہ کے روز اس سے دگنی تعداد میں لوگوں کا انخلا ہوا تھا۔

    اس سے قبل روس نے یوکرینی افواج پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے جان بوجھ کر ماریوپول میں شہریوں کو بطور ڈھال روک رکھا ہے۔روسی وزارت دفاع نے یہ بھی بتایا ہے کہ یوکرین میں کُل 3 ہزار 346 فوجی تنصیبات کو تباہ کیا گیا ہے۔

    روسی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف نے کہا کہ روسی مسلح افواج اور دونباس میں علیحدگی پسند انتظامیہ یوکرین میں پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

  • "توہاڈے منہ تےتوہاڈیاں ہی چپیٹاں:روس نے مغربی ممالک کووارننگ دے دی

    "توہاڈے منہ تےتوہاڈیاں ہی چپیٹاں:روس نے مغربی ممالک کووارننگ دے دی

    ماسکو: "ایناں دے منہ تے ایناں دیاں ہی چپیٹاں:روس نے مغربی ممالک کووارننگ دے دی ا،طلاعات کے مطابق روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو کا کہنا ہے کہ روس مغربی ممالک کا ضبط کیا گیا اسلحہ یوکرینی باغیوں کو فراہم کرے گا۔

    غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق روس کے وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے تجویز پیش کی ہے کہ روس کو حال ہی میں یوکرین سے الگ ہونے والی جمہوریہ دونیسک اور لوگانسک میں اپنے اتحادیوں کو یوکرین کی مسلح افواج سے حاصل کیے گئے ہتھیاروں سے مسلح کرنا چاہیے۔

    روسی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ہم نے یوکرینی ہتھیاروں کی کافی مقدار جمع کی ہے جس میں ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، ہر قسم کے چھوٹے ہتھیار اور بڑی مقدار میں توپ خانے شامل ہیں۔

    ان کا کہنا تھا ہمارے پاس بہت سے جیولن اور اسٹنگر میزائل سسٹم بھی ہیں. روسی وزیر دفاع نے امریکی ساختہ پورٹیبل طیارہ شکن اور ٹینک شکن میزائلوں کا نام لیا جنہیں واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں نے روس کی جانب سے جاری اس آپریشن سے پہلے بڑے پیمانے پر کیف کو فراہم کیا گیا تھا۔.

    شوئیگو نے کہا کہ یوکرینی فوج سے ضبط کیا گیا تمام جدید ترین مغربی ساختہ اسلحہ لوگانسک اور دونیسک جمہوریہ کی ملیشیا کے حوالے کرنے کی تجویز ہے تاکہ وہ زیادہ مؤثر طریقے سے آئندہ اپنا دفاع کر سکیں۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ باغی روسی ساختہ جدید ہتھیاروں بشمول فضائی دفاع اور ٹینک شکن نظام سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ صدر ولادیمیر پوتن نے ان خیالات کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ اگر ضروری ہوا تو وہ متعلقہ احکامات پر دستخط کریں گے۔

    روسی اہلکار نے روس کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ دونباس فورسز اسلحے کا بہتر استعمال کریں گی بشمول مغرب سے فراہم کردہ میزائل بندوکیں، یوکرینی باغیوں کو دی جائیں گی۔

  • یکطرفہ رپورٹنگ:جنگ جیوگروپ کے بائیکاٹ کا اعلان

    یکطرفہ رپورٹنگ:جنگ جیوگروپ کے بائیکاٹ کا اعلان

    لاہور:یکطرفہ رپورٹنگ:جنگ جیوگروپ کے بائیکاٹ کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق یکطرفہ رپورٹنگ کرنے پر پی ٹی آئی نے جنگ اور جیو گروپ کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے شہباز گل نے جیو ٹی وی کو ن لیگ کا ٹی وی قرار دیدیا۔

    یکطرفہ رپورٹنگ پرپی ٹی آئی نے جنگ جیوگروپ کےبائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے۔

    وزیراعظم کے مشیر شہباز گل نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ جیو جنگ گروپ کو یکطرفہ ن لیگی ایجنڈے پر احتجاج ریکارڈ کرایا اور بار بار جیو ٹی اور جنگ گروپ سے رابطہ کیا۔

     

    انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ وزیراعظم کی کل کی تقریر پر جیو جنگ گروپ نے جسطرح سے زہر پھیلایا اس سے اب پی ٹی آئی کے کارکنان کو پتہ چل گیا ہوگا کہ کیوں پی ٹی آئی نے ن لیگ کے اس اہم اتحادی کے پروگراموں کا بائیکاٹ کیا ہے۔

     

    انہوں نے مزید کہا ہے کہ مریم صفدر کی تمام آڈیوز یہ چیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں کہ جیو جنگ ان کی پارٹی کا حصہ ہے لیکن ہم نے پھر بھی جمہوری طریقے سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

    شہباز گل نے کہا کہ اب ہمارا جمہوری حق ہے کہ جو چینل ہمارے خلاف ایک پارٹی بنا ہوا ہے ہم اس پر نا جائیں۔ ہمارے خیال میں جیو ٹی وی ن لیگ کا ٹی وی ہے۔

    یاد رہے کہ نوازشریف کے دورحکومت میں جیو جنگ کیطرف سے اسلام مخالف لٹریچراور سکینڈل کی وجہ سے عوام الناس نے بائیکاٹ کیا تھا ، لیکن اس وقت جنگ جیو کو نوازشریف کی بھرپورحمایت حاصل تھی

  • روس کے خلاف لڑنے کے لیے امریکی حمایت یافتہ رضاکاریوکرین پہنچ گئے:روس بھی تیار

    روس کے خلاف لڑنے کے لیے امریکی حمایت یافتہ رضاکاریوکرین پہنچ گئے:روس بھی تیار

    کیف:روس کے خلاف لڑنے کے لیے امریکی حمایت یافتہ رضاکاریوکرین پہنچ گئے:روس بھی تیار،اطلاعات کے مطابق یوکرینی صدر کی روس کی جنگ کے خلاف مدد کی اپیل میں ہزاروں افراد نے مثبت جواب دیا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ یوکرین پہنچنے والے افراد کے مجموعی جنگی حالات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

    ستائیس فروری کو یوکرینی وزیر خارجہ دیمیترو کُولیبا نے اپنے ملکی صدر وولودیمیر زیلنسکی کا ایم پیغام ٹویٹر پر جاری کیا تھا کہ یوکرین کے دفاع کے لیے غیر ملکی افراد روسی فوج کشی کے خلاف عملی طور شریک ہوں۔

    اس پیغام کی ہزاروں افراد نے مثبت جواب دیا ہے۔ پانچ مارچ سے یوکرینی صدر کے اس پیغام کے جاری ہونے کے بعد سے جنگ میں شریک ہونے والے رضاکاروں کی رہنمائی کے لیے ایک خصوصی ویب سائیٹ بھی لانچ کر دی گئی ہے۔ روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کے مختلف شہروں میں کئی غیر ملکی جنگجوؤں کے پہنچنے کا بتایا گیا ہے اس ویب سائیٹ میں جنگ میں شریک ہونے کی درخواست کا مکمل طریقہ کار بیان کیا گیا ہے۔

    یوکرینی حکومت نے ایسے رضاکاروں کی ممکنہ فوج کا نام ‘انٹرنیشنل ڈیفینس لیجیئن‘ تجویز کیا ہے۔ جنگ میں شامل ہونے کے خواہشمند رضاکار اس مناسبت سے مکمل تعداد کو بیان نہیں کیا گیا لیکن ہزاروں غیر ملکی افراد نے یوکرینی دفاع کے لیے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔

    لندن میں یورپی سکیورٹی کے معاملات پر نگاہ رکھنے والے ادارے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کے ریسرچر ایڈ آرنلڈ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ جنگ میں عملی طور پر شریک ہونے والے رضاکاروں کی تعداد کا تعین کرنا ممکن نہیں لیکن محتاط اندازوں کے مطابق یہ تعداد بیس ہزار کے لگ بھگ ہے۔

    ذرائع کے مطابق کئی جاپانی بھی جنگ میں شریک ہونے کے لیے تیار ہیں اور پانچ سو بیلاروس کے شہریوں نے بھی رضاکار بننے کی درخواست جمع کرائی ہے۔

    ایڈ مارٹن کا کہنا ہے کہ یوکرین کی جنگ میں شریک سابقہ فوجیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے چار دنوں میں اتنے فائر کیے ہیں جتنے وہ افغانستان میں قیام کے دوران نہیں کر سکے تھے۔ بعض جرمن میڈیا نے بتایا ہے کہ ایک ہزار جرمن شہری یوکرین کا سفر اختیار کر چکے ہیں۔

    ان رضاکاروں یا یوکرینی صدر کی اپیل پر جرمن شہریوں کے مثبت ردِعمل بارے برلن سے وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ وہ ایسے افراد کے سفر کے بارے مکمل طور پر لاعلم ہے۔ اسی طرح سے جرمن وزارتِ داخلہ کے ترجمان میکسمیلین کارل نے بھی بدھ نو مارچ کو ایک پریس کانفرنس میں یوکرین کا سفر اختیار کرنے والے ایک ہزار افراد سے متعلق کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ شینگن علاقے میں شہری آزادانہ طور پر سفر اختیار کر سکتے ہیں اور اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جن افراد نے امکانی طور پر ایسا کیا ہے وہ یقینی طور پر یوکرینی نژاد جرمن افراد ہو سکتے ہیں۔

    میکسمیلن کارل نے واضح کیا کہ ملکی سلامتی کے ادارے انتہائی دائیں بازو کے جرمن حلقوں پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور ایسے افراد کی روانگی کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔

    گزشتہ چند ایام کے دوران کچھ یورپی ممالک اور بالٹک ریاستوں جیسا کہ لیتھوانیا اور لٹویا، نے ایسی ہنگامی قانون سازی کی ہے، جس کے تحت یوکرین کی جنگ میں شرکت کے خواہشمندوں کے لیے قانونی راہ ہموار کر دی گئی ہے۔