Baaghi TV

Tag: جنگ

  • یوکرینی صدر کی یوکرائن کے فوجیوں کے ساتھ ملٹری بیس پرکافی پیتے ویڈیو وائرل

    یوکرینی صدر کی یوکرائن کے فوجیوں کے ساتھ ملٹری بیس پرکافی پیتے ویڈیو وائرل

    یوکرینی صدر کی یوکرین کے فوجیوں کے ساتھ ملٹری بیس پرکافی پیتے ویڈیو وائرل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق روس نے یوکرین پر حملہ کیا ہے،

    روس نے امریکی اور یورپی پابندیوں پر سخت ردعمل دینے کا اعلان کیا ہے ،روس کا کہنا ہے کہ امریکی کمپنی اور شخصیات کے خلاف ردعمل کے طور پر پابندیاں لگائیں گے روس نے فرنچ گیانا کے خلائی ایجنسی سے تکنیکی عملہ واپس بلا لیا روس نے یورپ کے ساتھ خلائی مشن بھی معطل کر دیا

    حملے کے بعد یوکرینی صدر نے دنیا سے مدد کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ انہیں مدد فراہم کی جائے اور روس پر پابندیاں عائد کی جائیں، یوکرینی صدر کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ ملک چھوڑ گئے ہیں تا ہم انہوں نے اپنی ویڈیو شیئر کی اور کہا کہ وہ ملک چھوڑ کر نہیں جا رہے، اب یوکرینی صدر کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں یوکرائن کے صدر ولادیمیر زیلنسکی یوکرائن کے فوجیوں کے ساتھ ملٹری بیس پر پرسکون انداز میں کافی پی رہے ہیں سوشل میڈیا صارفین ویڈیو کو وائرل کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ان کے اس انداز اور بہادری کی داد دے رہے ہیں

    امریکہ نے بھی یوکرینی صدر کو ملک سے نکلنے کی پیشکش کی جس کو یوکرینی صدر نے مسترد کر دیا اور کہا کہ میں دارالحکومت ہی میں رہوں گا کیونکہ لڑائی یہاں ہو رہی ہے مجھے گولہ بارود کی ضرورت ہے سواری کی نہیں

    یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ فرانسیسی صدر میکرون کے ساتھ بات چیت ہوئی،اتحاد یوں سے دفاعی ہتھیار اور آلات یوکرین پہنچ رہے ہیں، مغربی میڈیا کے مطابق امریکہ اور برطانیہ سمیت 28 ممالک کا یوکرین کو فوجی سازوسامان کی فراہمی پر اتفاق کیا ہے ،یوکرینی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے پرامن شہر کیف پر حملے کی کوشش کی ،کیف ایک اور رات روسی افواج کے حملوں سے بچ گیا،دنیا روس کو تنہا کردے ،ان کےسفیروں کو نکال دے کیف میں صبح 6 بجے تک ہونے والی لڑائی میں 35 افراد زخمی ہوئے ہیں

    یوکرینی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے گزشتہ 2دن میں شہریوں کونشانہ بنایا،کیف میں اسپتالوں ،یتیم خانوں اوربچوں کےسینٹرز پر حملے کیے گئے،دنیا سے فیصلہ کن ردعمل کا مطالبہ کرتے ہیں دنیا روسی کارروائیوں پر عملی ردعمل کا مظاہرہ کرے،

    ممکن ہے آپ مجھے آخری بار زندہ دیکھ رہے ہوں،ہم آگ میں جھونکنے والا امریکہ مدد کو نہ آیا:یوکرینی صدرکا ویڈیو پیغام

    امریکی صدر جوبائیڈن کا ہنگامی فیصلہ:یوکرین کوفوجی کمک دینے کےلیے 350 ملین ڈالرامداد کا اعلان

     یورپ روس سے جنگ کرنے کےلیےتیار:سخت اقدامات،حالات تیسری عالمی جنگ کی طرف گامزن

    روسی صدر پیوٹن نے یوکرین میں فوجی آپریشن کا حکم دے دیا-

    :یوکرائن میں ایمرجنسی نافذ:سائرن بج گئے:شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم

    برطانیہ آسٹریلیا اور جاپان نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کا آغاز کردیا ہ

    پوتن کوملک سے باہر روسی فوج کی تعیناتی:نیٹو کے جنگی طیارے سائرن بجانےلگے:پابندیاں بھی لگ گئیں‌ 

    :روس جنگ کےلیے تیار:ولادی میرپوتن نے ملک سے باہر فوج استعمال کرنے کیلیے قانونی رائے مانگ لی

    یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم،

    پانچ روسی طیارے، ایک ہیلی کاپٹر گرا دیا، یوکرینی وزارت دفاع کا دعویٰ

    کون ہے جو ہمارا ساتھ دے؟ یوکرینی صدر کی دہائی

    روس نے یوکرین کو بات چیت کی مشروط پیشکش کردی

    https://login.baaghitv.com/oittefaq-sabiq-ukarani-sadar-apni-bandoq-ksath-nikla-aayte/

  • میانمار کی فوجی کونسل نے یوکرین پر روسی حملے کی حمایت کر دی

    میانمار کی فوجی کونسل نے یوکرین پر روسی حملے کی حمایت کر دی

    میانمار کی ملٹری نے جمعرات کو یوکرین پر روس کے حملے کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئےعالمی برادری کے دھارے سے یکسر مختلف موقف اپنایا ہے۔ عالمی برادری نے یوکرین کے خلاف روسی جارحیت کی نہ صرف مذمت کی ہے ، بلکہ ماسکو کے خلاف سخت پابندیاں عائد کرنے کا اقدام کیا ہے۔

    وائس آف امریکہ کی برمی سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے، میانمار کی فوجی کونسل کے ترجمان جنرل زا من تن نے فوجی حکومت کی جانب سے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی حمایت کے اقدام کی وجوہ بیان کی ہیں۔

    بقول ان کے، ”اول یہ کہ روس نے میانمار کی خودمختاری کو مستحکم کرنے میں مدد دی ہے، اسی لیے،میرے خیال میں ہمارے لیے یہی اقدام درست ہے۔ دوئم یہ کہ دنیا کو بتایا جائے کہ روس ایک عالمی طاقت ہے”۔

    فوجی انقلاب کے سربراہ من آنگ ہلینگ نے گزشتہ سال جون میں روس کا دورہ کیا تھا، اور تب سے برما اور روس کی فوج کے مابین مضبوط مراسم قائم ہیں۔ روس اُن چند ملکوں میں سے ایک ہے جس نے یکم فروری 2021ء کے انقلاب کے بعد برما کی ملٹری کونسل کی حمایت کی تھی، اس بغاوت میں ایک سویلین حکومت کا تختہ الٹ کر جمہوریت پسند راہنما آنگ سان سوچی اور دیگر اعلیٰ عہدے داروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

    تب سے، اقوام متحدہ اور برما کے امور پر نظر رکھنے والے ماہرین، ملٹری کونسل کو اسلحہ فروخت کرنے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ تاہم روس اس مطالبے کو نظرانداز کرتار ہا ہے۔

  • یوکرین روس جنگ: کون کس سے بھاری اورکس کے پاس کتنے فوجی اور ساز و سامان ہے؟رپورٹ

    یوکرین روس جنگ: کون کس سے بھاری اورکس کے پاس کتنے فوجی اور ساز و سامان ہے؟رپورٹ

    ماسکو: یوکرین روس جنگ: کون کس سے بھاری اورکس کے پاس کتنے فوجی اور ساز و سامان ہے؟اطلاعات کے مطابق اس وقت روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری ہے ، روس نے بھرپورفضائی حملہ کیا ہے اور بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے

    دفاعی صلاحیتوں کے اعتبار سے روس بلاشبہ یوکرین سے کہیں زیادہ طاقتور ہے اور یہ بات یوکرین بھی بخوبی جانتا ہے البتہ ممکن ہے کہ اسے مغربی ممالک اور امریکا کا تعاون حاصل ہو۔

    اگر روس اور یوکرین کے فوجیوں کی تعداد اور دفاعی ساز و سامان کا تقابلی جائزہ کریں تو روس کا یوکرین سے کوئی مقابلہ نہیں بنتا۔

    عسکری قوت

    دنیا بھر میں عسکری قوت اور دفاعی ساز و سامان کے اعتبار کے ملکوں کی درجہ بندی جاری کرنے والے عالمی ادارے گلوبل فائر پاور اور آئی آئی ایس ایس ملٹری پاور کے اعداد و شمار کے مطابق روس دنیا کی دوسری بڑی فوجی طاقت ہے جبکہ یوکرین کا نمبر 22 واں ہے۔

    فوجیوں کی تعداد

    فوجیوں کی مجموعی تعداد کی بات کی جائے تو یہاں بھی روس کو یوکرین پر بھاری سبقت حاصل ہے۔ روس کے فوجیوں کی مجموعی تعداد تقریباً 29 لاکھ ہے جبکہ یوکرین کے پاس 11 لاکھ کے قریب فوجی موجود ہیں۔ ان میں سے روس کے فعال فوجیوں کی تعداد 9 لاکھ جبکہ ریزرو دستوں کی تعداد 20 لاکھ ہے۔

    اسی طرح یوکرین کے فعال فوجیوں کی تعداد صرف 2 لاکھ جبکہ ریروز دستوں کی تعداد 9 لاکھ ہے۔

    جنگی طیاروں کی تعداد کسی بھی جنگ میں بری فوج کو اگر فضائی معاونت حاصل نہ ہو تو ان کیلئے پیش قدمی مشکل ہوجاتی ہے یہی وجہ ہے کہ فضائی قوت جنگ جیتنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر دونوں ملکوں کے پاس موجود جنگی طیاروں کا ذکر کیا جائے تو یہاں زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔

    روس کے پاس تقریباً 1511 جنگی طیارے موجود ہیں جبکہ یوکرین کے پاس موجود طیاروں کی تعداد محض 98 ہے۔

    جنگی ہیلی کاپٹرز
    اس میدان میں بھی روس یوکرین سے آگے ہے۔ یوکرین کے پاس صرف 34 ہیلی کاپٹرز ہیں جبکہ روس کی عسکری قوت میں 544 ہیلی کاپٹرز موجود ہیں۔

    ٹینکس

    موجودہ دور میں جنگ کے دوران ٹینکس کا کردار کسی حد تک محدود ضرور ہوا ہے تاہم ان کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ روس اور یوکرین کے معاملے میں ٹینکس کی اہمیت زیادہ ہے کیوں کہ روس یوکرین کے علاقوں میں پیش قدمی چاہتا ہے اور پیش قدمی کا محفوظ طریقہ ٹینکس کو لے کر آگے بڑھنا ہے۔

    روس کے پاس موجود ٹینکس کی تعداد 12 ہزار 240 ہے جبکہ یوکرین 2596 ٹینکس رکھتا ہے۔

    بکتر بند گاڑیاں

    روس کے پاس موجود بکتر بند گاڑیوں کی تعداد 30 ہزار 122ہے جبکہ یوکرین کے پاس 12 ہزار 303 بکتر بند گاڑیاں ہیں۔

    قابل انتقال توپیں

    روس کے پاس ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے والی تقریباً 7571 توپیں موجود ہیں جبکہ یوکرین کے پاس اس طرح کی 2040 توپیں موجود ہیں۔

    ایٹمی ہتھیار

    یہ بات ہم سب کے علم میں ہے کہ روس ایٹمی ملک ہے جبکہ یوکرین کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود نہیں۔ سوویت یونین کا حصہ ہونے کی وجہ سے ماضی میں جو جوہری ہتھیار یوکرین کے پاس موجود بھی تھے وہ ان سے دستبردار ہوچکا ہے۔

    روس کے پاس موجود ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد حتمی طور پر تو نہیں بتائی جاسکتی البتہ ایک محتاط اندازے کے مطابق روس کے پاس مختلف نوعیت کے جوہری ہتھیاروں کی تعداد 6 ہزار سے زائد ہے جبکہ امریکا کے پاس بھی تقریباً اتنے ہی ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔

    دونوں ملکوں کی عسکری قوت کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات تو آسانی سے کہی جاسکتی ہے کہ یوکرین جنگ کی صورت میں روس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور اگر امریکا یا یورپی ممالک نے اس میں مداخلت کی تو جنگ کا دائرہ مزید بھی بڑھ سکتا ہے۔

    روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کیا ہے؟

    خیال رہے کہ 1922 میں جب سوویت یونین کی بنیاد ڈالی گئی تو یوکرینین سوویت سوشلسٹ ریپبلک (یوکرینین ایس ایس آر) بھی اس میں شامل تھا تاہم1991 میں جب سوویت یونین کا شیرازہ بکھرا تو یوکرین نے بھی آزادی حاصل کی۔

    البتہ روس اپنا شیرازہ بکھرنے کے باوجود سوویت یونین میں شامل ممالک کو کہیں نہ کہیں اپنا حصہ سمجھتا ہے اور یوکرین کا معاملہ بھی یہی ہے۔ یوکرین میں قدیم روسی نسل کے باشندے بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں جن میں کریمیا، دونیستک اور لوہانسک میں ان کی اکثریت ہے۔

    روس اور یوکرین کے درمیان اس سے قبل 2014 میں بھی جنگ ہوچکی ہے۔ دراصل یوکرین کی خواہش ہے کہ وہ یورپی یونین میں شمولیت حاصل کرے اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا حصہ بنے تاکہ اسے تجارتی و دفاعی تحفظ حاصل ہوسکے تاہم روس مختلف وجوہات کی بنا پر اس کے خلاف ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کی بنیادی وجہ یہ دو عوامل ہی ہیں۔

  • روس کا یوکرین پر حملہ ، چین کا سخت ردعمل :امریکہ کوذمہ دارقراردیا

    روس کا یوکرین پر حملہ ، چین کا سخت ردعمل :امریکہ کوذمہ دارقراردیا

    بیجنگ : روس کا یوکرین پر حملہ ، چین کا سخت ردعمل :امریکہ کوذمہ دارقراردیا ،اطلاعات کے مطابق چین نے یوکرین میں افراتفری کا ذمہ دار امریکا کو ٹھہرادیا اور کہا واشنگٹن نے کشیدگی کو ہوا دی اور جنگ کے خطرات کو بھڑکایا۔

    تفصیلات کے مطابق چینی وزارت خارجہ نے یوکرین پر روسی حملے کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ یوکرین روس تنازع کو بات چیت سے حل کرنا ہوگا ، تنازع پر صورتحال کاجائزہ لے رہے ہیں۔

    چینی وزارت خارجہ نے امریکا کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا واشنگٹن نے کشیدگی کو ہوا دی اور جنگ کے خطرات کو بھڑکایا،جنگ کوبڑھاوادینے والےتمام اقدامات پرشدیداعتراض ہے، امریکا یوکرین کو ہتھیار دے کر معاملے کو بڑھا رہاہے۔

    چین نے امریکا کی جانب سے روس پر پابندیوں اور یوکرین کو اسلحے کی فراہمی کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو خطے میں جنگ کے مترادف قرار دیا اور کہا جوبائیڈن انتظامیہ یوکرین کے معاملے کو ہوا دے رہی ہے۔

    ترجمان ہوا چوئیننگ نے امریکا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی جلتی پر تیل ڈالے اور اس کا الزام بھی دوسروں پر دھرے تو یہ غیر زمہ دارانہ اور غیر اخلاقی عمل کہلائے گا۔

    ترجمان وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ یوکرین تنازع پر تمام فریقین کو ایک دوسرے کو اہمیت دیں اور ایک دوسرے کے سیکیورٹی خدشات کو دور کریں تاکہ مشاورت اور مذاکرات سے اس مسئلے کا پُرامن حل نکل سکے۔

  • یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم

    یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم

    ماسکو:یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم،اطلاعات کے مطابق یوکرین کے وزیردفاع نے یوکرینی فوجیوں کو جنگ کے لیے تیار رہنےکا حکم دے دیا۔

    روس کی طرف سے یوکرین کوٹکڑے ٹکڑے کرنے کی سازش کے خلاف یوکرینی وزیردفاع اولیکسی ریزنیکوف نے وزارت دفاع کی ویب سائٹ پر جذباتی پیغام پوسٹ کیا۔ اور کہا کہ روس نے جنگ کی بنیاد رکھ دی ہے

    اولیکسی ریزنیکوف نے اپنے پیغام میں فوجیوں کو کہا کہ وہ جنگ کے لیے تیار رہیں، مشکلات ہوں گی، نقصانات ہوں گے، ہمیں درد کو برداشت کرنا ہوگا، ہمیں خوف اور مایوسی پر قابو پانا ہوگا، روس کے خلاف یقینی فتح ہوگی۔

    یوکرینی وزیردفاع کا کہنا تھا کہ کریملن نے سوویت یونین کی بحالی کے لیے ایک اور قدم اٹھایا ہے،کل پیوٹن نے اپنا اصلی چہرہ دکھایا، مجرم کاچہرہ ، جوپوری آزاد دنیا کویرغمال بنانا چاہتا ہے۔

    خیال رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے مشرقی یوکرین کے دو علیحدگی پسند علاقوں کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے انتظامی آرڈر پر دستخط کردیے ہیں۔

    گذشتہ روز پیوٹن نے قوم سے خطاب میں اعلان کیا کہ انہوں نے یوکرین کے دو علاقوں کو آزاد ریاستوں کے طور پر تسلیم کرنے کے حکم نامے پر دستخط کردیے ہیں اور روسی پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ وہ جلد از جلد اس کی توثیق کرے۔پیوٹن نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ روسی عوام کی حمایت حاصل ہوگی’۔

    دوسری جانب یوکرین کےصدر ولودی میرزیلنسکی نے روسی اقدام کےجواب میں ‘نورڈ اسٹریم ٹو پراجیکٹ’ فوری طورپرروکنےکامطالبہ کیاہے.

    یوکرین کےصدر کا کہناہے روس سے نیچرل گیس بذریعہ بالٹک سمندر جرمنی بھیجنے کا پراجیکٹ نورڈاسٹریم ٹو فوری طورپر روکا جائے، روس کو مشرقی یوکرین کےدو علاقوں کو آزاد ریاست تسلیم کرنے پر فوری پابندیوں کی سزا کے ساتھ یہ سزا بھی ملنی چاہیے۔

  • یوکرین تنازع،فرانسیسی صدر کا روسی صدر سے رابطہ،اہم پیشرفت

    یوکرین تنازع،فرانسیسی صدر کا روسی صدر سے رابطہ،اہم پیشرفت

    یوکرین تنازع،فرانسیسی صدر کا روسی صدر سے رابطہ،اہم پیشرفت

    امریکہ نے اقوام متحدہ کو مطلع کیا ہے کہ اگر روس یوکرین پر حملہ کرتا ہے تو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے امکانات کی اطلاعات ہیں

    واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یوکرین میں اغوا اور تشدد کی کاروائیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے، روس کی ہنگامی صورتحال کی وزارت کا کہنا ہے کہ مشرقی یوکرین میں خود ساختہ ڈونیٹسک اور لوہانسک عوامی جمہوریہ سے 60 ہزار سے زیادہ پناہ گزین گذشتہ ہفتے حکام کی طرف سے جاری کردہ انخلاء کے احکامات کے بعد روس میں داخل ہوئے ہیں

    ترجمان کریملن کا کہنا ہے کہ امریکی روسی صدور کی ملاقات کا ٹھوس منصوبہ نہیں .ترجمان نے کہا ہے کہ یوکرین کے معاملے پر بائیڈن پیوٹن ملاقات سے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ امریکی اور روسی صدور ضرورت پڑنے پر کال یا ملاقات کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیںانہوں نے کہا ہے کہ یوکرین کے معاملے پر سفارتی رابطے فعال ہیں۔ رواں ہفتے روسی اور امریکی وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات کاامکان ہے

    اس سے پہلے امریکی پریس سکریٹری جین ساکی نے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ حملہ نہ ہونے تک سفارت کاری کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ صدر جوبائیڈن نے اصولی طور پر صدر پیوٹن کے ساتھ ملاقات کو قبول کیا ہے لیکن اگر حملہ ہوتا ہے تو روس کو بہت جلد سنگین مسائل کا سامنا کرنا ہوگا

    یوکرین تنازع بات چیت سے حل ہونے کی طرف اہم پیش رفت ہو گئی ہے ،امریکہ اور روس، یوکرین کے معاملہ پر سمٹ کے انعقاد پر متفق ہوگئے ہیں جس کی تصدیق وائٹ ہاوس کی جانب سے کی گئی ہے امریکی پریس سکریٹری جین ساکی نے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ حملہ نہ ہونے تک سفارت کاری کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے صدر جوبائیڈن نے اصولی طور پر صدر پیوٹن کے ساتھ ملاقات کو قبول کیا ہے لیکن اگر حملہ ہوتا ہے تو روس کو بہت جلد سنگین مسائل کا سامنا کرنا ہوگا

    عالمی میڈیا کے مطابق یوکرین سمٹ کی تجاویز روس، امریکہ اور فرانس کے اعلی سفارت کار مرتب کریں گے، فرانسیسی صدر کا روسی صدر کے درمیان طویل ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا جس میں دونوں صدرور کے درمیان 2 گھنٹے تک گفتگو ہوئی۔

    امریکی صدر جوبائیڈن کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ساتھ بھی اہم میٹنگ ہوئی جس میں روس کی جانب سے یوکرین کی سرحد پر فوج کی تعیناتی پر غور کیا گیا قبل ازیں روس یوکرین کشیدگی پر ماسکو میں امریکی سفارتخانے نے اعلامیہ جاری کر دیا ہے امریکی سفارتخانے کی طرف سے اپنے شہریوں کو روس میں حملوں سے متعلق وارننگ دی گئی ہے، یوکرین سرحد کے ساتھ روس کے شہریوں علاقوں میں حملہ کا خدشہ ہے،ا مریکی سفارتخانہ کا کہنا ہے کہ شاپنگ سینٹرز، ریلوے اور میٹرو اسٹیشنز پر بھی حملے ہوسکتے ہیں،ماسکو اور سینٹ پیٹر زبرگ میں حملوں کو خطرہ ہے۔

    قبل ازیں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سفارتکاری کے ذریعے یوکرین بحران میں کمی کے لیے متحرک ہوگئے ہیں، ترجمان برطانوی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ بورس جانسن اتحادیوں سے مل کر کشیدگی میں کمی کی کوشش کریں گے، یوکرین پر حملہ خود روس کے لیے بھی تباہ کن ہوگا

    روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

    ہ برطانیہ سمیت کئی دوسرے ممالک نے بھی اپنے شہریوں کو وہاں سے نکل جانے کی اپیل

    امریکی صدر جوبائیڈن سے جرمن چانسلر اولاف شُولس کی وائٹ ہاوس میں ملاقات

    وس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی

    بھارت مکاری کا شہنشاہ:مفاد پرمبنی پالیسیاں:چین کے خلاف امریکہ کا اتحادی:یوکرین پرامریکہ کا مخالف

    یوکرینی شہریوں نے جنگی مشقوں کا آغاز کر دیا

  • خدا حافظ جنگ جیو گروپ۔ امین حفیظ نے الوداع کہہ دیا

    خدا حافظ جنگ جیو گروپ۔ امین حفیظ نے الوداع کہہ دیا

    لاہور:خدا حافظ جنگ جیو گروپ۔ امین حفیظ نے الوداع کہہ دیا،اطلاعات کے مطابق جنگ جیو گروپ کو برسوں کندھا دینے والے معرف صحافی اور ایک کامیاب اور حقیقی رپورٹر امین حفیظ نے آج جنگ جیو گروپ کو خدا حافظ کہتے ہوئے اس سے برسوں پرانے تعلقات کو خدا حافظ کہہ دیا ہے

    اس حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اہل پاکستان کے نام اپنے پیغام میں امین حفیط نے پاکستانیوں کو یہ خبردیتے ہوئے حیران کردیا کہ وہ اب جنگ جیو کا حصہ نہیں رہے اور انہوں نے جنگ جیو کو خدا حافظ کہہ کراپنا سفر ایک نئے پلیٹ فارم سے شروع کیا ہے جو بہت جلد مقبول ہوجائے گا

     

     

     

    اس حوالے سے ٹویٹر پراپنے پیغام میں امین حفیظ کا کہنا تھاکہ وہ پچھلے 40 سالے سے صحافت کے شعبہ سے منسلک ہیں اور ہراہم ایشو اور موقع پر اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے ، ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ اب وہ جنگ اور جیو کے ساتھ مزید نہیں چلے سکتے

    امین حفیظ کا کہنا تھا کہ ابن وہ اپنے یوٹیو ب چینل پر توجہ دیں‌گے اور اہل وطن کےلیے اچھوتے اوراہم ترین موضوعات پر تازہ ترین انفارمیشن دیا کریں گے ،ان کایہ بھی کہنا تھا کہ اب وہ اپنےیوٹیوب چینل جوکہ ان کے نام سے ہی متعارف ہوگا اب بہت جلد عوام کے سامنے ہوگا ،

    یاد رہے کہ امین حفیظ کو کارکردگی کی بنیاد پر پرائیڈ آٍف پرفارمنس بھی دیا گیا ہے

  • روس بچ کےنہ جائے”نیٹو اتحاد کا اہم اعلان:روس بھی پریشان

    روس بچ کےنہ جائے”نیٹو اتحاد کا اہم اعلان:روس بھی پریشان

    ماسکو: روس بچ کے نہ جائے” نیٹو اتحاد کا اہم اعلان:روس بھی پریشان ،اطلاعات کے مطابق یوکرین سے منسلک سرحد پر تعینات روسی فوجی دستے چھاونیوں میں واپس لوٹنے لگے تھے کہ نیٹو کےطرز عمل نے پھر خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نیٹو کے اس اعلان نے روس کو بہت پریشان کردیا ہے ، یہ بھی سُننے کو آرہا ہے کہ روس امریکہ اور نیٹو اتحاد سے محاذ آرائی کی سکت نہیں رکھتا

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق نیٹو اتحاد نے یوکرین سرحد کے قریب سلواکیہ میں فوجی مشقوں کا اعلان کیا ہے، فوجی مشقیں سلواکیہ کی یوکرین کے ساتھ مشرقی سرحد کے قریب ہوں گی، یہ مشقیں مارچ کے پہلے ہفتے میں کی جائیں گی۔

    رپورٹ کے مطابق اتحاد میں شامل امریکا، جرمنی، پولینڈ سمیت سات ممالک سلواکیہ میں فوجی مشقیں کریں گے، ان مشقوں میں شرکت کے لئے امریکا کےدو ہزار فوجیوں کا دستہ اور سینکڑوں گاڑیاں جرمنی سے جمہوریہ چیک میں داخل ہوگئی ہیں۔

    ادھر سلواکیہ کے وزارتِ دفاع سلواکیہ کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا کہ فوجی مشقوں کا روس یوکرین تنازعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز یوکرین تنازعے میں نیا موڑ اس وقت آیا جب روسی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ فوجی مشقیں اختتام پذیر ہونے کے بعد یوکرینی سرحد کے نزدیک تعینات روسی فوجیوں کو واپس چھاونیوں میں بھیج دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب یوکرین نے خبردار کیا کہ جب تک انہیں فوجیوں کی واپسی کا ثبوت نہیں مل جاتا وہ اس پر کوئی رد عمل نہیں دیں گے۔گذشتہ روز اپنے بیان میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا تھا کہ صاف ظاہر ہے کہ روس یورپ میں جنگ نہیں چاہتا، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ روس کے سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھا جائے۔

  • روس نے یوکرین کو 3 سمتوں سے گھیرے میں لے لیا:جنگ کے امکانات بڑھ گئے:امریکی میڈیا

    روس نے یوکرین کو 3 سمتوں سے گھیرے میں لے لیا:جنگ کے امکانات بڑھ گئے:امریکی میڈیا

    واشنگٹن :روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور رپورٹس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ روس نے یوکرین کو 3 سمتوں سے گھیر لیا ہے۔سی این این کے مطابق حالیہ ہفتوں میں یوکرین کی سرحد کے قریب روس ایک لاکھ سے زائد فوجیوں کو اکٹھا کرچکا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روس نے یوکرین کو 3 سمتوں سے گھیر لیا ہے، روس یوکرین سرحد کے علاوہ یوکرین سے الگ ہونے والے علاقے کریمیا میں بھی روس کی افواج موجود ہیں جبکہ روس کا اتحادی ملک بیلاروس بھی روس کا لانچنگ پیڈ ہوسکتا ہے۔

    اُدھر پیسیفک جزائر کے قریب امریکی آبدوز کی جانب سے روسی سمندری حدود کی خلاف ورزی پر روس نے امریکی فوجی اتاشی کو طلب کرلیا ہے۔بگڑتے حالات کے باعث سوئیڈن اور اردن نے بھی اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کی ہدایت کردی جبکہ ہالینڈ کی ائیر لائن نے یوکرین کیلئے اپنی پروازیں روک دی ہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز روس یوکرین کشیدگی کے معاملے پر امریکی صدر جو بائیڈن نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلیفونک رابطہ کیا تھا۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر بائیڈن نے پیوٹن سے کہا ہے کہ روس نے یوکرین میں دراندازی کی تو اسے فیصلہ کُن ردعمل کا سامناہوگا، روسی جارحیت سے بڑے پیمانے پر مشکلات ہوں گی، روس کا مؤقف کمزورپڑجائےگا۔

  • یوکرائن پر حملہ کرنے پر روس کوایسی سزا دیں گے کہ نسلیں یاد رکھیں گی:امریکا

    یوکرائن پر حملہ کرنے پر روس کوایسی سزا دیں گے کہ نسلیں یاد رکھیں گی:امریکا

    واشنگٹن: یوکرائن پر حملہ کرنے پر روس کوایسی سزا دیں گے کہ نسلیں یاد رکھیں گی:اطلاعات کے مطابق امریکا نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو ایسی پابندیاں عائد کریں گے جس سے وہ مکمل طور پر اپاہج ہوجائے گا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرائن کے معاملے پر سخت حریفوں امریکا اور روس کے صدور نے ٹیلی فونک گفتگو کی تاہم دونوں رہنماؤں کے کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پانے کے باعث خطے میں تناؤ اور کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

    جوبائیڈن اور پوٹن ٹیلی فونک گفتگو کی ناکامی کے بعد امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے فجی کے قائم مقام وزیر اعظم ایاز سید خیوم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں روس کو خبردار کیا کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو امریکا اس پر ’اپاہج‘ کردینے والی پابندیاں عائد کر دے گا۔

    چند روز قبل فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے بھی روس اور یوکرائن کا دورہ کیا تھا لیکن یہ دورہ بھی کسی مثبت پیشرفت کے بغیر ہی ختم ہوگیا تھا۔ جرمنی کے چانسلر نے بھی اس حوالے سے وائٹ ہاؤس میں صدر جوبائیڈن سے ملاقات کی تھی۔

    قبل ازیں ممکنہ روسی حملے کے پیش نظر امریکا اور برطانیہ نے یوکرائن سے اپنے سفارتی عملے اور ان کے اہل خانہ کو واپس بلالیا تھا اور اب صرف ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے نہایت مختصر اور ضروری عملہ ہی موجود ہے۔

    ہر گزرتے لمحے کے ساتھ وائٹ ہاؤس کا اصرار بڑھتا جا رہا ہے کہ روس کی یوکرائن پر جارحیت کی صورت میں سخت پابندیاں عائد کردی جائیں گی جن میں ممکنہ طور پر ایل این جی کی فروخت بھی شامل ہے۔

    روس یورپی ممالک کو ایل این جی فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور پابندی کی صورت میں مغربی ممالک میں توانائی کا بحران پیدا ہوجائے گا جس کے لیے امریکا نے قطر سے مدد مانگ لی ہے۔

    ادھر روس نے بھی ممکنہ پابندی کی صورت میں ہونے والے مالی نقصان سے بچنے کے لیے چین کا دورہ کیا اور چینی صدر کے ساتھ اربوں ڈالر کے ایل این کی فروخت کا معاہدہ کیا تھا۔