Baaghi TV

Tag: جنگ

  • روسی صدرکے لہجے سے لگتا ہےکہ "’ یوکرین پر مکمل قبضے تک جنگ مسلط رہے گی ‘:فرانسیسی صدر

    روسی صدرکے لہجے سے لگتا ہےکہ "’ یوکرین پر مکمل قبضے تک جنگ مسلط رہے گی ‘:فرانسیسی صدر

    پیرس:روسی صدرکے لہجے سے لگتا ہےکہ "’ یوکرین پر مکمل قبضے تک جنگ مسلط رہے گی ‘اطلاعات کے مطابق فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ روسی صدر کی باتوں سے لگتا ہے کہ یوکرین پر مکمل قبضے تک جنگ جاری رہے گی۔

    فرانس کے صدر کے ترجمان کے مطابق فرانسیسی صدر اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن کے درمیان فون کال کے ذریعے رابطہ ہوا ہے جس کے بعد لگتا ہے کہ یوکرین میں ’ابھی برا ہونا باقی ہے۔‘

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے درمیان فون پر 90 منٹ طویل بات چیت ہوئی ہے۔اس بات چیت کے حوالے سے فرانسیسی صدر کے معاون نے کہا ہے کہ ’پیوٹن کے ارادے پورے ملک پر قبضے کرنے کے نظر آ رہے ہیں۔‘

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانسیسی صدر کے ایک سینیئر معاون نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا کہ ’صدر کے خیال میں صدر پیوٹن نے جو کچھ بتایا اس سے لگتا ہے کہ برا وقت ابھی آنا ہے۔‘

    معاون نے مزید بتایا کہ ’صدر پیوٹن نے جو کچھ ہمیں بتایا اس میں یقین دلانے والی کوئی بات نہیں تھی۔ انہوں نے آپریشن جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ولادیمیر پیوٹن ’پورے یوکرین پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے الفاظ میں یوکرین کو آخر تک ’ڈی نازیفائی‘ کرنے کے لیے اپنا آپریشن انجام دیں گے۔‘

    معاون نے کہا: ’آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ الفاظ کس حد تک چونکا دینے والے اور ناقابل قبول ہیں اور صدر نے انہیں بتایا کہ یہ جھوٹ ہے۔‘ایمانوئل میکرون نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن پر زور دیا کہ وہ عام شہری ہلاکتوں سے گریز کریں اور انسانی رسائی کی اجازت دیں۔معاون نے کہا کہ اس پر ’صدر پیوٹن نے جواب دیا کہ وہ کوئی وعدہ کیے بغیر اس کے حق میں ہیں۔‘

  • مالدووا نےبھی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست دے دی :روس کوتنہا کرنے کی کوششیں

    مالدووا نےبھی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست دے دی :روس کوتنہا کرنے کی کوششیں

    پیرس :جنگ کے پیشِ نظر مالدووا نےبھی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست دے دی :روس کوتنہا کرنے کی کوششیں،اطلاعات کے مطابق یورپی ملک مالدووا نے بھی یوکرین میں جاری روسی جنگ کے باعث یورپی یونین میں شمولیت کیلئے درخواست دے دی۔

    برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق مالدوواکی صدر مایا ساندو نے جمعرات کے روز یورپی یونین میں شمولیت کے لیے ایک باضابطہ درخواست پر دستخط کردیے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق مالدوواکی جانب سے یہ فیصلہ کچھ دن قبل یوکرینی صدر ولودومیر زیلینسکی کی یورپی یونین کی فوری رکنیت کے لیے درخواست پر دستخط کیے جانے کے چند دن بعد سامنے آیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق مایا ساندو، وزیر اعظم اور پارلیمانی اسپیکر نے دارالحکومت چیسیناؤ میں ایک بریفنگ کے دوران یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست پر دستخط کیے۔واضح رہے کہ 1991 میں مالدووا کی سوویت یونین سے آزادی کے بعد سے چیسیناؤ میں روس اور یورپی یونین کے حامی کنٹرول حاصل کرنے کیلئے لڑچکے ہیں۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر مایا ساندو نے دستاویزات پر دستخط کرنے سے پہلے کہا کہ’ مالدوواکو یہاں تک پہنچنے کیلئے 30 سال لگے لیکن آج ملک اپنے مستقبل کی ذمہ داری خود لینے کے لیے تیار ہے’۔

    انہوں نے کہا کہ ہم امن، خوشحالی،آزاد دنیا کا حصہ بننا چاہتے ہیں جبکہ کچھ فیصلوں میں وقت لگتا ہے تاہم دوسروں کو فوری اور فیصلہ کن طریقے سے اور بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ آنے والے مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز بھیج دی جائے گی۔دوسری جانب سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین میں شامل ہونے کیلئے یوکرین اور مالدووا کے حوالے سے مذاکرات ابھی تک شروع نہیں ہوئے ۔

    تاہم یورپی یونین کے رہنما یوکرین کی درخواست پر اگلے ماہ ایک غیر رسمی سربراہی اجلاس میں تبادلہ خیال کر سکتے ہیں۔

  • روک سکو تو روک لو:ہم فاتح بن آئے ہیں:روسی افواج دارالحکومت کیف کی دہلیز پر:روسی میڈیا کا دعویٰ

    روک سکو تو روک لو:ہم فاتح بن آئے ہیں:روسی افواج دارالحکومت کیف کی دہلیز پر:روسی میڈیا کا دعویٰ

    روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کو فتح کرنے کا وقت آن پہنچا ہے اور روسی افواج نے دارالحکومت کیف کو چاروں اطراف سے گھیر لیا ہے۔
    روسی وزارت دفاع نے روسی فوج اور فوجی گاڑیوں کے قافلے کا ایک وڈیو جاری کیا ہے۔

    روس کے سرکاری میڈیا ادارے آرٹی آئی کے ٹوئٹر ہینڈل پر شیئر کئے گئے اس وڈیو میں یوکرین کے دارالحکومت کیف کی طرف روسی فوجی گاڑیوں کے لمبے قافلے، ٹینکر، ہیلی کاپٹر اور بکتر بند گاڑیاں بڑھتی نظر آ رہی ہیں۔

    وڈیو میں یوکرین کی تباہی کا منظر بھی صاف دیکھا جاسکتا ہے۔ جہاں تباہ شدہ عمارتیں، تباہ شدہ فوجی ٹینکس صاف دکھائی دے رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں کئی روسی فوجی بھی نظر آ رہے ہیں۔

     

    روسی میڈیا کے مطابق یوکرین کے دارالحکومت اور دوسرے سب سے بڑے شہر خار کیف میں روسی فوج بڑی تعداد میں پہنچ چکی ہے۔

    خارکیف میں گزشتہ دو دنوں سے مسلسل گولہ باری جاری ہے اور شہریوں کی بڑی تعداد نقل مکانی پر مجبور ہیں۔یوکرین کے شہری پڑوسی ممالک پولینڈ اور ہنگری میں پناہ لے رہے ہیں، ان پناہ گزینوں میں کچھ کمزور شہری بھی شامل ہیں۔

    پولینڈ اور ہنگری کے شہریوں نے یوکرین کے پناہ گزینوں کا کھلے دل سے استقبال کر رہے ہیں اور جنگ کے وقت بھی انسانیت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

    ہنگری کے جاہونی ریلوے اسٹیشن پر بدھ کو ایک ٹرین پہنچی، جس میں جسمانی اور ذہنی طور پر معذور تقریباً 200 لوگ سوار تھے۔

  • یوکرین روس تنازع:عالمی عدالت میں7مارچ کوسماعت:روس کے خلاف مغربی اتحاد سرگرم

    یوکرین روس تنازع:عالمی عدالت میں7مارچ کوسماعت:روس کے خلاف مغربی اتحاد سرگرم

    ہیگ:یوکرین روس تنازع:عالمی عدالت میں7مارچ کوسماعت ،اطلاعات کے مطابق عالمی عدالت انصاف نے اعلان کیا ہے کہ وہ سات اور آٹھ مارچ کو یوکرین میں جاری جنگ میں نسل کشی کے معاملے کی سماعت کرے گی۔

    دوسری جانب یوکرین میں جاری جنگ میں شدت آ گئی ہے۔ ذرائع کےمطابق نیدرلینڈز کے شہر ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف جو اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت ہے، مقدمے کی کھلی سماعت کرے گی۔

    اس سے پہلے یوکرین نے عدالت کے پاس شکایت جمع کرائی تھی جس میں عدالت سے درخواست کی گئی تھی وہ روس کو یوکرین پر حملہ روکنے کا حکم دے۔ عدالت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’سماعت عبوری اقدامات کے لیے یوکرین کی جانب سے دی گئی درخواست تک محدود ہو گی۔‘

    ادھر پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ ادارے نے کہا کہ یوکرین سے چھ لاکھ 60 ہزار سے زیادہ لوگ پہلے ہی بیرون ملک نقل مکانی کر چکے ہیں۔ ادارے کے اندازے کے مطابق چار کروڑ 40 لاکھ کی آبادی والی سابق سوویت ریاست یوکرین میں 10 لاکھ افراد نے نقل مکانی کی ہے۔

    اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ آنے والے مہینوں میں 40 لاکھ پناہ گزینوں کو مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور مزید ایک کروڑ 20 لاکھ لوگوں کو ملک کے اندر امداد کی ضرورت ہو گی۔ عالمی عدالت انصاف کے پاس حملے میں ملوث روسی رہنماؤں پر انفرادی سطح پر مجرمانہ الزامات عائد کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

    تاہم وہ دنیا کی اعلیٰ عدالت ہے جو عالمی قانون کی مبینہ خلاف ورزی کے معاملے میں ریاستوں کے درمیان شکایات کا ازالہ کر سکتی ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ روس کے حملے کے بعد ’یوکرین کی صورت حال‘ پر تحقیقات شروع کر رہے ہیں۔

    پیر کو جاری بیان میں خان کے بقول: ’میں مطمئن ہوں کہ اس بات پر یقین کرنے کی معقول بنیاد موجود ہے کہ 2014 سے یوکرین میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم دونوں کا ارتکاب کیا گیا۔‘

    یوکرین پر حملے سے روس نے بین الاقوامی پابندیوں، بائیکاٹ اور معاشی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے جارحانہ کارروائی کو آگے بڑھایا۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد یوکرین کے روسی بولنے والوں کا دفاع اور قیادت کو اقتدار سے الگ کرنا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے منگل کو اہم بیان میں کہا تھا کہ امریکہ کو یقین ہے کہ ’عدالت سنگین حالات اور تیزی سے سامنے آنے والے واقعات کو مدنظر رکھے گی۔‘ محکمہ خارجہ کے ترجمان ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ ’واشنگٹن کو امید ہے کہ عدالت سماعت کے دوران ’عبوری اقدامات کے لیے یوکرین کی درخواست پر انتہائی تیزی سے کام کرے گی۔‘

    امریکی ترجمان کے بقول: ’ہر وہ دن جب روس جارحیت میں بے لگام ہے ایسا دن ہے جو یوکرین میں مزید تشدد، مصائب، موت اور تباہی لاتا ہے۔‘

  • روس نے بھارت کا بھی شکریہ ادا کردیا

    روس نے بھارت کا بھی شکریہ ادا کردیا

    نئی دہلی:روس نے بھارت کا بھی شکریہ ادا کردیا،اطلاعات کے مطابق ایک طرف روس یوکرین میں فوجی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے تو دوسری طرف روس نے ان تمام ممالک کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے اس مشکل وقت میں روس کے خلاف امریکہ کا ساتھ دینے سے معذرت کی ہے

    اسی حمایت سے خوش ہوکر روس نے کہا ہے کہ عالمی پابندیوں کے باوجود اُسے بھارت کو ایس-400 میزائل سسٹم فراہم کرنے میں کوئی دشواری کا سامنا نہیں۔

    بھارت میں روسی وفد ڈینس الیپوو نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں فی الحال بھارت کو فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے میں کوئی مشکلات نظر نہیں آتیں۔ ایسے راستے ہیں جہاں سے بھارت کو میزائل سسٹم بغیر کسی رکاوٹ کے مہیا کردیے جائیں گے۔اگر حالات میں اعتدال رہا تویہ ممکن ہوسکتا ہے

    وفد کا یہ بھی کہنا تھا کہ اقوام متحدہ میں بھارت کے متوازن پوزیشن اپنانے پر روس بھارت کا مشکور ہے کہ وہ یوکرین تنازع کی اصل حقیقت سے واقف ہے۔
    یوکرین میں پھنسے بھارتی طلبا کے حوالے سے ڈینس الیپوو نے کہا کہ روس طلبا کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کیلئے کافی کام کررہا ہے۔ روس خارکیف اور سومی سمیت دیگر جنگ زدہ علاقوں میں طلبا کی حفاظت سے متعلق بھارت سے مسلسل رابطے میں ہے۔

    واضح رہے کہ 2018 میں بھارت نے 5.5 ارب ڈالرز کے بدلے روس سے ایس-400 فضائی دفاعی نظام خریدنے کا معاہدہ کیا تھا جس پر بھارت کے امریکی پابندیوں سے متاثر ہونے کا خدشہ تھا تاہم امریکا نے اب تک کوئی پابندی عائد نہیں کی ہے۔

  • جنگ میں5700 روسی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں،یوکرین

    جنگ میں5700 روسی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں،یوکرین

    کیف: یوکرین کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ جنگ میں اب تک 5700 روسی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں-

    باغی ٹی وی : یوکرین کی وزارت دفاع کے مطابق روسی افواج کی یوکرین کے دوسرے بڑے شہرخارکیف میں کروز میزائل حملے میں 10 شہری ہلاک ہوگئے۔

    یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین پرحملے کے بعد سے اب تک 5700 روسی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ دارالحکومت کیف میں روسی فوج کے ٹی وی ٹاور پرحملے میں 5 افراد ہلاک ہوئے۔

    پیوٹن اس وقت دنیا میں تنہا ہے،امریکہ نیٹو رکن ممالک کی انچ انچ زمین کا دفاع کرے گا،جوبائیڈن

    اقوام متحدہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یوکرین پرروس کے حملے میں اب تک14 بچوں سمیت 140 افراد ہلاک اور400 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔

    روس کی وزارت دفاع نے کیف کے شہریوں سے شہرچھوڑنے کا کہا ہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر نے پہلے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں کہا کہ 6 روز قبل پیوٹن نے آزاد دنیا کی بنیادیں ہلانے کی کوشش کی امریکہ یوکرین کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے پیوٹن اس وقت دنیا میں تنہا ہے، پیوٹن کو اس سے قبل دنیا میں اتنی تنہائی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

    ایپل نے روس میں مصنوعات کی فروخت روک دی

    بائیڈن نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد نیٹو اتحاد دنیا میں امن و استحکام کے لیے قائم کیا گیا آج آزاد دنیا روسی صدر کو جوابدہ ٹھہرا رہی ہے نیٹو ممالک کے تحفظ کے لیے امریکی افواج بھیج رہے ہیں یورپ روس کے لگژری اپارٹمنٹس اور جیٹس کو منجمد کرے۔

    امریکی صدر نے امریکی فضائی حدود کو روس کیلئے بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ روس کے جھوٹ کا مقابلہ سچ کے ساتھ کیا۔یوکرین کو اسپورٹ کرتے رہیں گےجب تک وہ اپنے دفاع کے لیے کھڑا ہے پیوٹن نے یورپ کو تقسیم کرنے کی کوشش کی دوسری جنگ عظیم کے بعد نیٹو اتحاد دنیا میں امن و استحکام کے لیے قائم کیا گیا۔

  • رضاکارجلد ازجلد روس کےخلاف لڑائی کے لیے یوکرین پہنچیں:نیٹواوردیگرامریکی اتحادیوں کااعلان

    رضاکارجلد ازجلد روس کےخلاف لڑائی کے لیے یوکرین پہنچیں:نیٹواوردیگرامریکی اتحادیوں کااعلان

    کیف :جلد ازجلد روس کےخلاف لڑائی کے لیے یوکرین پہنچیں:نیٹواوردیگرامریکی اتحادیوں کااعلان ،اطلاعات کے مطابق یوکرین نے روس کیخلاف لڑنےکیلئے آنیوالے غیرملکیوں پر سے ویزا پابندی اٹھالی،یوکرین نے روس کے خلاف لڑنےکے لیے یوکرین آنے والے جنگجوؤں پر سے ویزا پابندی ختم کردی۔

    خیال رہےکہ یوکرینی صدر ولودو میر زیلنسکی نے غیر ملکی شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ روس کے خلاف یوکرین کے دفاع کے لیے بنائی گئی رضاکاروں کی ‘انٹرنیشنل بریگیڈ’ میں شمولیت اختیار کرلیں۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق غیر ملکی جنگجوؤں کے لیے یوکرینی صدر ولودو میر زیلنسکی نے حکم نامے کے تحت عارضی طور پر ویزا پابندی اٹھالی ہے ، اس طرح روس کے خلاف یوکرین کے دفاع کی جدوجہد میں عملی شرکت کے خواہشمند افراد باآسانی یوکرین داخل ہوسکیں گے۔

    یوکرین کی جانب سے یہ سہولت روسی شہریوں کے لیے نہیں ہے اور انہیں حکم نامے میں جارح ملک کے شہری قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق غیر ملکی جنگجوؤں کو یوکرین میں داخلے کے لیے اپنا عسکری پس منظر بتانا ہوگا، اس کے علاوہ انہیں اپنا دفاعی فوجی سازوسامان لانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹ فریڈرکسن نے اپنے شہریوں کو یوکرین میں روسی افواج کے خلاف لڑنے کے لیے بننے والی ‘انٹرنیشنل بریگیڈ’ میں شامل ہونے کی اجازت دے دی ہے۔

    ڈینش وزیراعظم کا کہنا ہےکہ ڈنمارک کےشہری روس سے لڑنےکے لیے عالمی بریگیڈ کا حصہ بن سکتے ہیں، یہ آزادی کا معاملہ ہےکوئی بھی اپنی پسند سےفیصلہ کرسکتا ہے۔

    ڈینش وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ یہ آزادی ڈنمارک میں رہنےوالے تمام یوکرینی شہریوں کے ساتھ ساتھ ایسے غیریوکرینی باشندوں کے لیے بھی ہےجو روس کےخلاف جنگ میں براہ راست حصہ لینا چاہتے ہیں۔

  • جاپان نے روس کے خلاف نئی جنگ چھیڑدی

    جاپان نے روس کے خلاف نئی جنگ چھیڑدی

    ٹوکیو: جاپان نے روس کے خلاف نئی جنگ چھیڑدی ، ایک طرف یوکرین اور روس کے درمیان میزائلوں ، گولہ باورود کی جنگ ہے تو دوسری طرف جاپان نے روس کے خلاف معاشی پابندیوں کی جنگ چھیڑ کی نیا محاذ کھول دیا ہے ، اسی سلسلے میں‌ جاپان نے روس کے مرکزی بینک کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق یوکرین پر حملے کے تناظر میں جاپان، ماسکو پر پابندیوں کو زیادہ مؤثر بنانے کی کوشش کر رہا ہے، اس سلسلے میں جاپانی حکومت نے روس کے مرکزی بینک کے ساتھ لین دین محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    جاپانی حکام کے مطابق بینک آف جاپان میں روسی مرکزی بینک کے کھربوں ین غیر ملکی کرنسی ذخائر کی شکل میں پڑے ہوئے ہیں، انھیں منجمد کر دیا جائے گا۔

    مغربی ملکوں کی جانب سے سخت نئی اقتصادی پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد پیر کے روز روسی روبل کی قدر گر کر اب تک کی ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔

    بینک آف رشیا کرنسی منڈیوں میں روبل کے دفاع کے لیے اپنے بین الاقوامی محفوظ ذخائر کو استعمال کے لیے منظم کرتا رہا ہے، لیکن اگر اُس کے ذخائر منجمد کر دیے گئے تو بینک کو ایسا کرنے میں مشکل پیش آئے گی۔

    ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر روبل کی قدر تیزی سے گرتی رہی تو افراطِ زر میں اضافہ ہوگا جس سے روسی معیشت کو دھچکا لگے گا۔

    بتایا جاتا ہے کہ روس کا مرکزی بینک اپنے غیر ملکی کرنسی ذخائر کی بڑی مقدار ڈالر، یُورو اور یُوآن میں رکھتا ہے، تاہم جاپانی حکام کو یقین ہے کہ حکومتی اقدام سے روس کے خلاف پابندیوں کو زیادہ مؤثر بنانے میں مدد ملے گی

    دوسری طرف لڑائی میں شدت آگئی ہے اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک اور ویڈیو پیغام میں کہا کہ روس کی فوج کو دارالحکومت کئیف کی دفاعی لائن کو توڑنے نہیں دیا۔

    انہوں نے کہا کہ روس یوکرین کے تھرمل پاور پلانٹ کو نشانہ بنا رہا ہے جو کیئف کی30 لاکھ کی آبادی کو بجلی فراہم کرتا ہے

  • یوکرین کا روس کے 5300 فوجی ہلاک اور29 طیارے مارگرانے کا دعویٰ

    یوکرین کا روس کے 5300 فوجی ہلاک اور29 طیارے مارگرانے کا دعویٰ

    کیف: یوکرین نے روس کے 5300 فوجی ہلاک اور29 طیارے مارگرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : یوکرین کی نائب وزیردفاع ہنا ملاریا نے سوشل میڈیا پرجاری بیان میں دعویٰ کیا کہ 4 روز کی لڑائی میں روس کے 5300 فوجیوں ہلاک ہوئے جبکہ 29 روسی طیارے مارگرائے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ 29روسی ہیلی کاپٹرز اور3 ڈرون بھی تباہ کردئیے گئے مجموعی طورپراب تک روس کے 191 ٹینک،816 جنگی گاڑیوں ،60 ڑینکوں اور2 بحری جہازوں کوتباہ کیا جا چکا ہے۔

    روس نے یوکرین پرحملے کے دوران اپنے فوجیوں کے ہلاک اورزخمی ہونے کا اعتراف تو کیا ہے تاہم تعداد نہیں بتائی۔

    دوسری جانب یوکرین نے عالمی عدالت انصاف میں روس کیخلاف نسل کشی کا مقدمہ دائرکردیا ہےغیرملکی میڈیا کے مطابق یوکرین کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں روس کیخلاف مقدمے میں یوکرین پرروسی حملے فوری طورپررکوانے کی استدعا کی گئی ہے۔

    یوکرین نے عدالت سے روس سے یوکرین پرکئے گئے حملے میں ہوئے نقصان کا ہرجانہ دلوانے کی درخواست بھی کی ہے۔

    دوسری جانب یوکرین کے دارالحکومت کیف میں اتوار کی صبح سویرے دھماکے سنائی دئیے کیف میں نافذ کرفیو ختم کردیا گیا ہے۔ کیف میں پرچون کی دکانیں کھل گئی ہیں اوربپلک ٹرانسپورٹ چلنے لگی ہے۔

    یورپ کا روس کے خلاف اتحاد:فضائی راستے بند:روسی طیارے گزریں گے توگرا دیں گے:جرمنی کا پیغام

    یوکرینی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ روسی افواج ہرطرف سے حملے کررہی ہیں۔ اتواریوکرین کی افواج کے لئے مشکل دن رہا۔

    یوکرین کی صورتحال پراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج ہوگا۔اجلاس میں تمام 193 رکن ممالک شرکت کریں گے۔

    دوسری جانب کیف میں یوکرین کے جوہری توانائی کے نگران محکمے نے اتوار 27 فروری کی صبح بتایا تھا کہ روسی دستوں نے گزشتہ رات ملکی دارالحکومت کے مضافات میں جوہری فاضل مادوں کی ایک ذخیرہ گاہ کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

    یوکرائنی جوہری تنصیبات کے منتظم ادارے نے اپنے فیس بک پیج پر بتایا تھا کہ فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ آیا ان میزائل حملوں کے بعد جوہری فاضل مادوں کی اس ذخیرہ گاہ سے تابکار شعاعیں بھی خارج ہونا شروع ہو گئیں روسی میزائل اس جوہری تنصیب گاہ کی حفاظتی باڑ کو لگے مگر عمارت اور اس میں ذخیرہ کردہ ایٹمی کوڑے کے کنٹینر بظاہر محفوظ رہے۔

    یوکرین نے روس کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں درخواست جمع کرا دی

    یوکرائنی حکام کا کہنا تھا کہ روسی دستوں نے گزشتہ رات بھی یوکرائن کے کئی شہروں پر اپنے میزائل حملے جاری رکھے۔ اس دوران کییف کے نواح میں واسِلکیف کے مقام پر گولہ باری میں تیل کے ایک بڑے ڈپو کو آگ لگ گئی اس شہر کی خاتون میئر نتالیا بالاسینووچ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ دشمن ہر چیز کو تباہ کر دینا چاہتا ہے۔

    اس شہر میں تیل کی ذخیرہ گاہ کو گولہ باری کے بعد لگنے والی وسیع تر آگ کے باعث حکام نے مقامی شہریوں سے کہا تھا کہ وہ زہریلے دھوئیں کے گہرے بادلوں کی وجہ سے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

    یوکرائن کی اسپیشل کمیونیکیشنز سروس کا کہنا تھا کہ روسی فوج نے گزشتہ رات ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر خارکیف میں قدرتی گیس کی ایک بڑی پائپ لائن کو بھی میزائل حملہ کر کے تباہ کر دیا۔

    یوکرینی صدرکو زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے جانے والا چیچن کمانڈرساتھیوں سمیت…

  • یوکرین:ایٹمی تنصیبات پرروس کے میزائل حملے:امریکہ اوراتحادیوں کی طرف سے سخت ردعمل

    یوکرین:ایٹمی تنصیبات پرروس کے میزائل حملے:امریکہ اوراتحادیوں کی طرف سے سخت ردعمل

    کیف: ایٹمی تنصیبات پرروس کے میزائل حملے:امریکہ اوراتحادیوں کی طرف سے سخت ردعمل ،اطلاعات کے مطابق کیف میں یوکرائن کے جوہری توانائی کے نگران محکمے نے اتوار ستائیس فروری کی صبح بتایا کہ روسی دستوں نے گزشتہ رات ملکی دارالحکومت کے مضافات میں جوہری فاضل مادوں کی ایک ذخیرہ گاہ کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

    یوکرائنی جوہری تنصیبات کے منتظم ادارے نے اپنے فیس بک پیج پر بتایا کہ فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ آیا ان میزائل حملوں کے بعد جوہری فاضل مادوں کی اس ذخیرہ گاہ سے تابکار شعاعیں بھی خارج ہونا شروع ہو گئیں۔

    دوسری طرف انٹرفیکس نیوز ایجنسی کے مطابق روسی میزائل اس جوہری تنصیب گاہ کی حفاظتی باڑ کو لگے مگر عمارت اور اس میں ذخیرہ کردہ ایٹمی کوڑے کے کنٹینر بظاہر محفوظ رہے۔

    یوکرائنی حکام کے مطابق روسی دستوں نے گزشتہ رات بھی یوکرائن کے کئی شہروں پر اپنے میزائل حملے جاری رکھے۔ اس دوران کییف کے نواح میں واسِلکیف کے مقام پر گولہ باری میں تیل کے ایک بڑے ڈپو کو آگ لگ گئی۔اس شہر کی خاتون میئر نتالیا بالاسینووچ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا، ”دشمن ہر چیز کو تباہ کر دینا چاہتا ہے۔‘‘

    اس شہر میں تیل کی ذخیرہ گاہ کو گولہ باری کے بعد لگنے والی وسیع تر آگ کے باعث حکام نے مقامی شہریوں سے کہا ہے کہ وہ زہریلے دھوئیں کے گہرے بادلوں کی وجہ سے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

    یوکرائن کی اسپیشل کمیونیکیشنز سروس کے مطابق روسی فوج نے گزشتہ رات ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر خارکیف میں قدرتی گیس کی ایک بڑی پائپ لائن کو بھی میزائل حملہ کر کے تباہ کر دیا۔

    یوکرائنی حکام کے مطابق روسی فوجی گاڑیاں اب اس شمال مشرقی شہر کی سڑکوں پر دکھائی دے رہی ہیں۔ ساتھ ہی اسی شہر میں ایک نو منزلہ رہائشی عمارت کو بھی توپوں سے گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہو گئے۔

    گولہ باری کے وقت اس عمارت کے زیادہ تر رہائشی اپنی حفاظت کے لیے عمارت کے تہہ خانے میں پناہ لیے ہوئے تھے۔

    ماسکو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق روسی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی یوکرائن کے شہر خیرسون اور جنوب مشرقی شہر بیردیانسک کا ‘مکمل‘ محاصرہ کر لیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گہا کہ روسی فورسز یوکرائن کے مختلف حصوں میں اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    روسی خبر رساں اداروں کے ذریعے نشر کردہ ملکی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف کے ایک بیان کے مطابق، ”گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران روسی مسلح افواج نے یوکرائن کے دو شہروں خیرسون اور بیردیانسک کو مکمل طور پر اپنے محاصرے میں لے لیا۔‘‘