Baaghi TV

Tag: جنگ

  • جاپان نے روس کے خلاف نئی جنگ چھیڑدی

    جاپان نے روس کے خلاف نئی جنگ چھیڑدی

    ٹوکیو: جاپان نے روس کے خلاف نئی جنگ چھیڑدی ، ایک طرف یوکرین اور روس کے درمیان میزائلوں ، گولہ باورود کی جنگ ہے تو دوسری طرف جاپان نے روس کے خلاف معاشی پابندیوں کی جنگ چھیڑ کی نیا محاذ کھول دیا ہے ، اسی سلسلے میں‌ جاپان نے روس کے مرکزی بینک کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق یوکرین پر حملے کے تناظر میں جاپان، ماسکو پر پابندیوں کو زیادہ مؤثر بنانے کی کوشش کر رہا ہے، اس سلسلے میں جاپانی حکومت نے روس کے مرکزی بینک کے ساتھ لین دین محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    جاپانی حکام کے مطابق بینک آف جاپان میں روسی مرکزی بینک کے کھربوں ین غیر ملکی کرنسی ذخائر کی شکل میں پڑے ہوئے ہیں، انھیں منجمد کر دیا جائے گا۔

    مغربی ملکوں کی جانب سے سخت نئی اقتصادی پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد پیر کے روز روسی روبل کی قدر گر کر اب تک کی ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔

    بینک آف رشیا کرنسی منڈیوں میں روبل کے دفاع کے لیے اپنے بین الاقوامی محفوظ ذخائر کو استعمال کے لیے منظم کرتا رہا ہے، لیکن اگر اُس کے ذخائر منجمد کر دیے گئے تو بینک کو ایسا کرنے میں مشکل پیش آئے گی۔

    ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر روبل کی قدر تیزی سے گرتی رہی تو افراطِ زر میں اضافہ ہوگا جس سے روسی معیشت کو دھچکا لگے گا۔

    بتایا جاتا ہے کہ روس کا مرکزی بینک اپنے غیر ملکی کرنسی ذخائر کی بڑی مقدار ڈالر، یُورو اور یُوآن میں رکھتا ہے، تاہم جاپانی حکام کو یقین ہے کہ حکومتی اقدام سے روس کے خلاف پابندیوں کو زیادہ مؤثر بنانے میں مدد ملے گی

    دوسری طرف لڑائی میں شدت آگئی ہے اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک اور ویڈیو پیغام میں کہا کہ روس کی فوج کو دارالحکومت کئیف کی دفاعی لائن کو توڑنے نہیں دیا۔

    انہوں نے کہا کہ روس یوکرین کے تھرمل پاور پلانٹ کو نشانہ بنا رہا ہے جو کیئف کی30 لاکھ کی آبادی کو بجلی فراہم کرتا ہے

  • یوکرین کا روس کے 5300 فوجی ہلاک اور29 طیارے مارگرانے کا دعویٰ

    یوکرین کا روس کے 5300 فوجی ہلاک اور29 طیارے مارگرانے کا دعویٰ

    کیف: یوکرین نے روس کے 5300 فوجی ہلاک اور29 طیارے مارگرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : یوکرین کی نائب وزیردفاع ہنا ملاریا نے سوشل میڈیا پرجاری بیان میں دعویٰ کیا کہ 4 روز کی لڑائی میں روس کے 5300 فوجیوں ہلاک ہوئے جبکہ 29 روسی طیارے مارگرائے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ 29روسی ہیلی کاپٹرز اور3 ڈرون بھی تباہ کردئیے گئے مجموعی طورپراب تک روس کے 191 ٹینک،816 جنگی گاڑیوں ،60 ڑینکوں اور2 بحری جہازوں کوتباہ کیا جا چکا ہے۔

    روس نے یوکرین پرحملے کے دوران اپنے فوجیوں کے ہلاک اورزخمی ہونے کا اعتراف تو کیا ہے تاہم تعداد نہیں بتائی۔

    دوسری جانب یوکرین نے عالمی عدالت انصاف میں روس کیخلاف نسل کشی کا مقدمہ دائرکردیا ہےغیرملکی میڈیا کے مطابق یوکرین کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں روس کیخلاف مقدمے میں یوکرین پرروسی حملے فوری طورپررکوانے کی استدعا کی گئی ہے۔

    یوکرین نے عدالت سے روس سے یوکرین پرکئے گئے حملے میں ہوئے نقصان کا ہرجانہ دلوانے کی درخواست بھی کی ہے۔

    دوسری جانب یوکرین کے دارالحکومت کیف میں اتوار کی صبح سویرے دھماکے سنائی دئیے کیف میں نافذ کرفیو ختم کردیا گیا ہے۔ کیف میں پرچون کی دکانیں کھل گئی ہیں اوربپلک ٹرانسپورٹ چلنے لگی ہے۔

    یورپ کا روس کے خلاف اتحاد:فضائی راستے بند:روسی طیارے گزریں گے توگرا دیں گے:جرمنی کا پیغام

    یوکرینی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ روسی افواج ہرطرف سے حملے کررہی ہیں۔ اتواریوکرین کی افواج کے لئے مشکل دن رہا۔

    یوکرین کی صورتحال پراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج ہوگا۔اجلاس میں تمام 193 رکن ممالک شرکت کریں گے۔

    دوسری جانب کیف میں یوکرین کے جوہری توانائی کے نگران محکمے نے اتوار 27 فروری کی صبح بتایا تھا کہ روسی دستوں نے گزشتہ رات ملکی دارالحکومت کے مضافات میں جوہری فاضل مادوں کی ایک ذخیرہ گاہ کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

    یوکرائنی جوہری تنصیبات کے منتظم ادارے نے اپنے فیس بک پیج پر بتایا تھا کہ فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ آیا ان میزائل حملوں کے بعد جوہری فاضل مادوں کی اس ذخیرہ گاہ سے تابکار شعاعیں بھی خارج ہونا شروع ہو گئیں روسی میزائل اس جوہری تنصیب گاہ کی حفاظتی باڑ کو لگے مگر عمارت اور اس میں ذخیرہ کردہ ایٹمی کوڑے کے کنٹینر بظاہر محفوظ رہے۔

    یوکرین نے روس کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں درخواست جمع کرا دی

    یوکرائنی حکام کا کہنا تھا کہ روسی دستوں نے گزشتہ رات بھی یوکرائن کے کئی شہروں پر اپنے میزائل حملے جاری رکھے۔ اس دوران کییف کے نواح میں واسِلکیف کے مقام پر گولہ باری میں تیل کے ایک بڑے ڈپو کو آگ لگ گئی اس شہر کی خاتون میئر نتالیا بالاسینووچ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ دشمن ہر چیز کو تباہ کر دینا چاہتا ہے۔

    اس شہر میں تیل کی ذخیرہ گاہ کو گولہ باری کے بعد لگنے والی وسیع تر آگ کے باعث حکام نے مقامی شہریوں سے کہا تھا کہ وہ زہریلے دھوئیں کے گہرے بادلوں کی وجہ سے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

    یوکرائن کی اسپیشل کمیونیکیشنز سروس کا کہنا تھا کہ روسی فوج نے گزشتہ رات ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر خارکیف میں قدرتی گیس کی ایک بڑی پائپ لائن کو بھی میزائل حملہ کر کے تباہ کر دیا۔

    یوکرینی صدرکو زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے جانے والا چیچن کمانڈرساتھیوں سمیت…

  • یوکرین:ایٹمی تنصیبات پرروس کے میزائل حملے:امریکہ اوراتحادیوں کی طرف سے سخت ردعمل

    یوکرین:ایٹمی تنصیبات پرروس کے میزائل حملے:امریکہ اوراتحادیوں کی طرف سے سخت ردعمل

    کیف: ایٹمی تنصیبات پرروس کے میزائل حملے:امریکہ اوراتحادیوں کی طرف سے سخت ردعمل ،اطلاعات کے مطابق کیف میں یوکرائن کے جوہری توانائی کے نگران محکمے نے اتوار ستائیس فروری کی صبح بتایا کہ روسی دستوں نے گزشتہ رات ملکی دارالحکومت کے مضافات میں جوہری فاضل مادوں کی ایک ذخیرہ گاہ کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

    یوکرائنی جوہری تنصیبات کے منتظم ادارے نے اپنے فیس بک پیج پر بتایا کہ فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ آیا ان میزائل حملوں کے بعد جوہری فاضل مادوں کی اس ذخیرہ گاہ سے تابکار شعاعیں بھی خارج ہونا شروع ہو گئیں۔

    دوسری طرف انٹرفیکس نیوز ایجنسی کے مطابق روسی میزائل اس جوہری تنصیب گاہ کی حفاظتی باڑ کو لگے مگر عمارت اور اس میں ذخیرہ کردہ ایٹمی کوڑے کے کنٹینر بظاہر محفوظ رہے۔

    یوکرائنی حکام کے مطابق روسی دستوں نے گزشتہ رات بھی یوکرائن کے کئی شہروں پر اپنے میزائل حملے جاری رکھے۔ اس دوران کییف کے نواح میں واسِلکیف کے مقام پر گولہ باری میں تیل کے ایک بڑے ڈپو کو آگ لگ گئی۔اس شہر کی خاتون میئر نتالیا بالاسینووچ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا، ”دشمن ہر چیز کو تباہ کر دینا چاہتا ہے۔‘‘

    اس شہر میں تیل کی ذخیرہ گاہ کو گولہ باری کے بعد لگنے والی وسیع تر آگ کے باعث حکام نے مقامی شہریوں سے کہا ہے کہ وہ زہریلے دھوئیں کے گہرے بادلوں کی وجہ سے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

    یوکرائن کی اسپیشل کمیونیکیشنز سروس کے مطابق روسی فوج نے گزشتہ رات ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر خارکیف میں قدرتی گیس کی ایک بڑی پائپ لائن کو بھی میزائل حملہ کر کے تباہ کر دیا۔

    یوکرائنی حکام کے مطابق روسی فوجی گاڑیاں اب اس شمال مشرقی شہر کی سڑکوں پر دکھائی دے رہی ہیں۔ ساتھ ہی اسی شہر میں ایک نو منزلہ رہائشی عمارت کو بھی توپوں سے گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہو گئے۔

    گولہ باری کے وقت اس عمارت کے زیادہ تر رہائشی اپنی حفاظت کے لیے عمارت کے تہہ خانے میں پناہ لیے ہوئے تھے۔

    ماسکو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق روسی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی یوکرائن کے شہر خیرسون اور جنوب مشرقی شہر بیردیانسک کا ‘مکمل‘ محاصرہ کر لیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گہا کہ روسی فورسز یوکرائن کے مختلف حصوں میں اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    روسی خبر رساں اداروں کے ذریعے نشر کردہ ملکی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف کے ایک بیان کے مطابق، ”گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران روسی مسلح افواج نے یوکرائن کے دو شہروں خیرسون اور بیردیانسک کو مکمل طور پر اپنے محاصرے میں لے لیا۔‘‘

  • یوکرین پرحملہ روس کے لیے گلے کی ہڈی بن گیا:سخت مزاحمت سے روسی فوج کے حوصلے ڈگمگانے لگے

    یوکرین پرحملہ روس کے لیے گلے کی ہڈی بن گیا:سخت مزاحمت سے روسی فوج کے حوصلے ڈگمگانے لگے

    واشنگٹن : یوکرین پرحملہ روس کے لیے گلے کی ہڈی بن گیا:سخت مزاحمت سے روسی فوج کے حوصلے ڈگمگانے لگے،اطلاعات ہیں کہ روس کو یوکرین پر حملے کے بعد سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا یوکرین کے دارالحکومت کیف میں کرنا پڑا ہے۔ جہاں جنگ کا چوتھا دن شروع ہونے کے باوجود قبضہ نہیں ہوسکا ہے۔

    ان حقائق کی تصدیق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے تازہ بیان سے ہوجاتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یوکرین کی فوج کی جانب سے سخت مزاحمت ملنے پر روس کی حملہ آور فوج کو مایوسی کا سامنا ہے جبکہ پیش قدمی سست ہونے کے باعث فوج دارالحکومت کیئف میں داخل نہیں ہو سکی۔

    کل حملے چوتھے دن کیئف کے قریب واقع تیل کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا گیا تھا ۔ حکام نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے زہریلا دھواں اٹھ رہا ہے۔ دوسری جانب یوکرینی شہری قریبی ممالک میں پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ امریکہ اور مغربی اتحادی ممالک یوکرین کی فوج کو ہتھیار بھجوا رہے ہیں جبکہ امریکہ کا آئندہ دنوں میں مزید اسلحے کی ترسیل کا ارادہ ہے تاکہ روس کے زمینی اور فضائی حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ پینٹاگون کے مطابق روس کی حملہ آور فوج کا 50 فیصد اس وقت یوکرین میں موجود ہے تاہم غیر متوقع طور پر مزاحمت کا سامنا کرنے کے باعث پیش رفت آہستہ ہے۔

    دفاعی ذرائع کےمطابق یوکرین کے شمالی حصوں میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کوئی خاطر خواہ پیش قدمی نہ ہونے پر روسی فوج کی مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عہدیدار نے کہا کہ روسی افواج دارالحکومت کیئف سے تقریباً 30 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

    حملے چوتھے دن کیئف کے قریب واقع تیل کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حکام نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے زہریلا دھواں اٹھ رہا ہے۔ سنیچر کو یوکرین کی جانب سے بیلا روس میں مذاکرات کی پیش کش رد کیے جانے کے بعد روس کی وزارت دفاع نے فوج کو یوکرین پر ہر طرف سے حملہ کرنے اور اس کا دائرہ بڑھانے حکم دیا تھا۔ دووسری جانب روس کے یوکرین پر حملے کے خلاف دنیا بھر کے مختلف ممالک میں مظاہرے ہوئے ہیں جن میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    امریکہ اور لندن سے لے کر دیگر یورپی ممالک میں مظاہرین نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے روس سے خون خرابہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ سوئٹزرلینڈ میں ہزاروں کی تعداد میں شہریوں نے مظاہرے کیے جبکہ جینیوا میں اقوام متحدہ کے یورپی ہیڈ کوارٹر کے باہر بھی تقریباً ایک ہزار شہریوں نے احتجاج کیا۔

    دوسری جانب یوکرینی وفد سے ملاقات کے لیے روسی وفد بیلاروس پہنچ گیا ہے۔ترجمان روسی صدر دفتر ’کریملن‘ کا کہنا ہے کہ روسی وفد میں وزارت خارجہ، دفاع اور صدارتی انتظامیہ کے نمائندے شامل ہیں۔کریملن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ روس مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہے، مذاکرات کے لیے یوکرینی حکام کے منتظر ہیں۔

    روسی افواج یوکرین کے دارالحکومت کیف پر قبضہ کرنے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں داخل ہو گئی ہیں۔اتوار کی صبح سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی فوٹیج میں پوتن کے فوجی ٹرکوں کو 1.41 ملین آبادی والے شہر میں گھومتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو روس کی سرحد کے قریب مشرقی یوکرین میں ہے۔ فوجیوں کو خارکیف سے پیدل مارچ کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا، ایک بہت ہی ڈرامائی کلپ کے ساتھ جس میں دکھایا گیا ہے کہ روسیوں کو ایک سڑک پر آہستہ آہستہ آگے بڑھتے ہوئے اپنی بندوقیں چلانے اور فائر کرنے سے پہلے یوکرین والوں نے ان پر گولی چلا دی۔ آن لائن شیئر کیے گئے ایک اور کلپ میں دکھایا گیا ہے کہ فوج کی ایک گاڑی روسیوں کی ہے، اسے یوکرینیوں نے اپنے شہر کا دفاع کرنے کے لیے نذر آتش کیا تھا

    ادھر یورپی ممالک نے روسی طیاروں کے لیے فضائی حدود بندکرنےکا فیصلہ کر لیا جبکہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے کئی روسی بینکوں کو مرکزی بین الاقوامی ادائیگی کے نظام سے منقطع کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

  • یوکرائنی دارالحکومت پر قبضے کی جنگ:روسی فوج کوسخت مزاحمت کا سامنا:میزائل گرانے کا دعویٰ

    یوکرائنی دارالحکومت پر قبضے کی جنگ:روسی فوج کوسخت مزاحمت کا سامنا:میزائل گرانے کا دعویٰ

    کیف:یوکرائنی دارالحکومت پر قبضے کی جنگ:روسی فوج کوسخت مزاحمت کا سامنا:میزائل گرانے کا دعویٰ،اطلاعات کے مطابق یوکرائن کے دارالحکومت کیف پر قبضے کی کشمکش کے دوران جھڑپوں میں تیزی آ گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق کیف کے مضافاتی علاقے ترائیشچینا پر روس کی جانب سے میزائل حملہ کیا گیا ہے۔یوکرائن کے وزیر داخلہ کے مشیر نے ٹیلی گرام ایپ پر ایک پوسٹ میں اسے رہائشی علاقے پر بے مقصد اور بے رحمانہ حملہ قرار دیا ہے۔یوکرائن نے بیلا روس سے دارالحکومت کیف کو نشانہ بنانے والے میزائل کو مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

    یوکرائن کے وزیرِ خارجہ اولگ نکولینکو نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فضائیہ نے دارالحکومت کیف پر داغا گیا ایک میزائل مار گرایا ہے۔اُنہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ میزائل جس جہاز سے داغا گیا اُس نے روس کے اتحادی ملک بیلا روس سے پرواز کی تھی۔اُدھر دارالحکومت کیف کے شمال مغرب میں واقع مضافاتی علاقے بوچا میں متحارب فوجوں کے مابین لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔

     

    ذرائع کے مطابق ایک روسی بکتر بند گاڑی سے مشین گن سے فائرنگ اور روسی فوجیوں کو بوچا کی گلیوں سے گزرتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔

    یوکرائن کی فوج نے عام لوگوں کو شہری مزاحمتی تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہوئے ان کے لیے ایک ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کے پاس اسلحہ ہے یا گولہ بارود یا پھر کچھ بھی نہیں، آپ دفاع کے تمام ممکنہ طریقے اور ذرائع استعمال کریں۔

    شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سڑکوں پر لگے روڈ سائنز ہٹا دیں یا انہیں مٹا دیں، روسی فوجیوں کی نقل و حرکت کو ناممکن بنانے کے لیے درخت گرا دیں، آگ لگانے کے لیے گھریلو ساختہ آلات کا بھرپور استعمال کریں، نقل و حمل کے مراکز کو تباہ کر دیں اور رات یا شام کے وقت زیادہ کام کریں۔

  • روسی افواج نے دارالحکومت کیف کوجانے والی گیس پائپ لائن دھماکے سے اڑا دی

    روسی افواج نے دارالحکومت کیف کوجانے والی گیس پائپ لائن دھماکے سے اڑا دی

    کیف: روسی افواج نے دارالحکومت کیف کوجانے والی گیس پائپ لائن دھماکے سے اڑا دی ،اطلاعات کے مطابق یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی کے دفتر نے کہا ہے کہ روس یافواج نے ملک کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں ایک گیس پائ لائن کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جبکہ دارالحکومت کیئف کے ایک ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

    یوکرین کی سرکاری مواصلاتی سروس نے کہا ہے کہ دارالحکومت سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر تیل کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حکام نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے زہریلا دھواں اٹھ رہا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا ہے کہ یوکرین کی فوج کی جانب سے سخت مزاحمت ملنے پر روس کی حملہ آور فوج کو مایوسی کا سامنا ہے جبکہ پیش قدمی سست ہونے کے باعث فوج دارالحکومت کیئف میں داخل نہیں ہو سکی۔

    دوسری جانب یوکرینی شہری قریبی ممالک میں پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ جعمرات سے حملے کے بعد تین بچوں سمیت 198 شہری ہلاک ہوئےہیں۔

    اس سے قبل امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ اور مغربی اتحادی ممالک یوکرین کی فوج کو ہتھیار بھجوا رہے ہیں جبکہ امریکہ کا آئندہ دنوں میں مزید اسلحے کی ترسیل کا ارادہ ہے تاکہ روس کے زمینی اور فضائی حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ پینٹاگون کے مطابق روس کی حملہ آور فوج کا 50 فیصد اس وقت یوکرین میں موجود ہے تاہم غیر متوقع طور پر مزاحمت کا سامنا کرنے کے باعث پیش رفت آہستہ ہے۔

    عہدیدار نے کہا کہ بالخصوص یوکرین کے شمالی حصوں میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کوئی خاطر خواہ پیش قدمی نہ ہونے پر روسی فوج کی مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق روسی افواج دارالحکومت کیئف سے تقریباً 30 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

  • روس کےیوکرین پر حملے تیز:سلامتی کونسل میں ووٹنگ:حالات عالمی جنگ کی طرف گامزن

    روس کےیوکرین پر حملے تیز:سلامتی کونسل میں ووٹنگ:حالات عالمی جنگ کی طرف گامزن

    کیف:روس کےیوکرین پر حملے تیز:سلامتی کونسل میں ووٹنگ:حالات عالمی جنگ کی طرف گامزن ،اطلاعات کے مطابق روس نے یوکرین پر حملے تیز کر دیئے، دارالحکومت کیف میں بھی گھمسان کی لڑائی جاری ہے، اقوام متحدہ کا خصوصی اجلاس بلانے کےلیے سلامتی کونسل میں امریکی قراردار پر ووٹنگ آج ہوگی۔

    یوکرین کےخلاف روس پوری قوت میدان میں لے آیا، یوکرینی اہداف پر حملوں میں تیزی کے بعد دارالحکومت کیف زور دار دھماکوں سے گونج اٹھا۔ روس نے دارلحکومت کیف کی ایک ائیر فیلڈ پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے، روسی وزیرخارجہ کےمطابق کیف کے مغربی حصے کو بھی یوکرینی فوج سے کاٹ دیا گیا ہے۔

    یوکرین اور روس کی جانب سے ایک دوسرے کونقصان پہنچانے کے متضاد دعوے سامنے آئے ہیں، یوکرین حکام نے روسی پیش قدمی روکنے اور ہزاروں روسی فوجیوں کی ہلاکت اورزخمی ہونےکا دعویٰ کیا ہے، یوکرین میں تباہی کی فوٹجز بھی سامنے آئی ہیں، ایک خاتون جلتے گھر کے سامنے بیٹی کے ساتھ کھڑی طنز کررہی ہے کہ پوٹن کا شکریہ جس نے ہمارا گھر تباہ کردیا۔

    ادھر امریکا اورالبانیہ کی درخواست پر سلامتی کونسل کا ایک اور ہنگامی اجلاس بلا لیا گیا ہے، میٹنگ میں جنرل اسمبلی کاخصوصی اجلاس بلانے پر ووٹنگ ہو گی، اجلاس بلانے کے خلاف مستقل 5 ارکان میں سے کسی کو ویٹو کا اختیار نہیں ہو گا۔

    ادھر معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حالات روس کے خلاف جانے لگے ہیں اور یوکرین کے باسیوں نے روسی پیش قدمی روک دی ہے ، یوکرین کے شمالی حصوں میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کوئی خاطر خواہ پیش قدمی نہ ہونے پر روسی فوج کی مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق روسی افواج دارالحکومت کیئف سے تقریباً 30 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

  • یوکرین کی رکن پارلیمنٹ کا  روس کیخلاف میدان جنگ میں لڑنے کے اعلان نے نقشہ ہی بدل دیا

    یوکرین کی رکن پارلیمنٹ کا روس کیخلاف میدان جنگ میں لڑنے کے اعلان نے نقشہ ہی بدل دیا

    کیف :یوکرین کی رکن پارلیمنٹ کا روس کیخلاف میدان جنگ میں لڑنے کے اعلان نے نقشہ ہی بدل دیا ،اطلاعات ہیں‌کہ روس کے حملوں کے بعد یوکرین کی خاتون رکن پارلیمنٹ کیرا روڈک نے کل ہتھیار اٹھانے کا اعلان کیا تھا اور اس بہادر خاتون کے اعلان نے یوکرین کے بچوں ، بوڑھوں اور مردو خواتین سب کو اتنا حوصلہ دیا ہےکہ ہرکوئی اپنے وطن کےلیے لڑنے مرنے کے لیے تیار ہےجس نے روس کےلیے بہت ہی مشکل صورت حال پیدا کردی ہے اور یہی وجہ ہےکہ روس کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہاہے

     

    کل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر رکن پارلیمنٹ کیرا روڈک نے جنگی ہتھیار تھامے تصویر شیئر کی تھی اور ساتھ ہی لکھا کہ میں کلاشنکوف چلانا اور ہتھیار اٹھانے مشق کر رہی ہوں۔

     

     

    کیرا روڈک نے مزید کہنا تھا کہ کچھ روز پہلے تک میرے ذہن میں یہ خیال کبھی نہیں آیا تھا۔ انہوں نے یوکرین کی خواتین کی جنگ میں حصہ لینے کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ہماری خواتین اس مٹی کی اسی طرح حفاظت کریں گی جس طرح ہمارے مرد کر رہے ہیں۔

     

    ایک دوست کے ہمراہ تصویر شیئر کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ نے لکھا کہ مزاحمتی دستے جمع ہو رہے ہیں، میں اپنے دوست کے ساتھ مل کر آج سخت رات کے لیے تیار ہو رہی ہوں۔کیرا روڈک نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ہم روسی دشمن فوجیوں سے لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انٹرویو میں انہوں نے کلاشنکوف اٹھا رکھی تھی۔

    یہ بھی کہا جارہا ہےکہ روس کو یوکرین کی عوام کی طرف سے سخت مزاحمت کی وجہ سے سخت نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ،یہ بھی خبریں پچھلے چوبیس گھنٹوں سے آرہی ہیں کہ یوکرین نے روس کے3500 فوجی ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے دارالحکومت کیف کی سڑکوں پرلڑائی جاری ہے۔

     

    https://twitter.com/JoseFox_/status/1497611162908831752?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1497611162908831752%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.arynews.tv%2Fukraine-parliament-member-kira-rudik%2F

    برطانوی میڈیا کے مطابق یوکرین کی فوج نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ یوکرین کیخلاف جنگ میں شریک 3500 روسی فوجیوں کوہلاک اور200 کوگرفتارکرلیا۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یوکرین کی فوج نے اب تک روس کے 14 طیارے،8 ہیلی کاپٹرز مارگرائے جبکہ 102 ٹینک تباہ کردئیے ہیں۔
    یوکرینی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کیف کی سڑکوں پرلڑائی جاری ہے۔ کیف کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

  • یوکرین پرروسی حملہ :دو لاکھ یوکرینی ملک چھوڑ گئے

    یوکرین پرروسی حملہ :دو لاکھ یوکرینی ملک چھوڑ گئے

    نیویارک :اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے مطابق یوکرین میں نقل مکانی بھی بڑھ رہی ہے لیکن ملک میں فوجی کاروائی کی وجہ سے صحیح تعداد کا اندازہ لگانا اور امداد فراہم کرنا مشکل ہورہا ہے، دو لاکھ سے زائد افراد یوکرین چھوڑ کر پڑوسی ممالک میں جا چکے ہیں۔

    اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے نے ہفتے کے روز کہا کہ روس کے حملے کے نتیجے میں اب تک تقریباً دو لاکھ سے زائد افراد یوکرین چھوڑ کر پڑوسی ممالک میں جا چکے ہیں۔ جن میں سے نصف پولینڈ اور بہت سے ہنگری، مالڈووا، رومانیہ اور اس سے آگے جا چکے ہیں۔فلیپو گرانڈی کا ٹویٹفلیپو گرانڈی کا ٹویٹاقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کو توقع ہے کہ اگر صورت حال مزید بگڑتی ہے تو 40 لاکھ تک یوکرینی باشندے ملک چھوڑ سکتے ہیں۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ہمسایہ ممالک پولینڈ، مالڈووا، ہنگری، رومانیہ اور سلوواکیہ جا رہے ہیں اور یہاں تک کہ کچھ بیلاروس کی طرف بھی جا رہے ہیں جہاں سے کچھ روسی افواج یوکرین میں داخل ہوئیں۔اس کے پاس ملک کے لحاظ سے تعداد کے بارے میں فوری طور پر تفصیلات نہیں تھیں، لیکن اب تک سب سے بڑی تعداد پولینڈ پہنچ رہی ہے،

    جہاں حالیہ برسوں میں تقریباً 20 لاکھ یوکرینی پہلے ہی کام کرنے کے لیے آباد ہو چکے ہیں، جو 2014 میں یوکرین میں روس کی پہلی دراندازی کی وجہ سے وہاں سے پناہ لیے تھے اور مواقع کی تلاش میں تھے۔پولینڈ کی حکومت نے ہفتے کی صبح کہا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران 100,000 سے زیادہ یوکرینی پولش-یوکرینی سرحد عبور کر چکے ہیں۔پولش براڈکاسٹر TVN24 کی رپورٹ کے مطابق، میڈیکا بارڈر کراسنگ پر پولینڈ میں داخل ہونے کے لیے گاڑیوں کی ایک قطار یوکرین میں 15 کلومیٹر (9 میل) تک پھیلی ہوئی تھی

  • روس کے کیف شہر پرچاروں طرف سے حملوں نے صورتحال بدل کررکھ دی

    روس کے کیف شہر پرچاروں طرف سے حملوں نے صورتحال بدل کررکھ دی

    ماسکو: روس کے کیف شہر پرچاروں طرف سے حملوں نے صورتحال بدل کررکھ دی ،اطلاعات کے مطابق روس نے اب یوکرین کی راجدھانی کیف پر چاروں جانب سے حملہ کرنے کا اعلان کیاہے یعنی کہ حتمی جنگ کا اعلان کردیا ہے اور ہفتہ کی رات گئے تک شدید لڑائی کی اطلاعات آرہی ہیں‌۔

    کہا جارہا ہے کہ در اصل روسی وزارت دفاع کے مطابق ماسکو اور کیئف کے درمیان مذاکرات کی امید میں جمعے کو لڑائی میں وقفہ کیا گیا لیکن یوکرین کی جانب سے مذاکرات سے انکار کے بعد حملے کا دوبارہ آغاز کر دیا گیا۔

    روس کے سرکاری خبر رساں ادارے آر آئی اے نے ملک کی وزارت دفاع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یوکرین میں موجود روسی فوجی یونٹوں کو جمعے کے وقفے کے بعد تمام اطراف سے حملہ دوبارہ شروع کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

    وزارت دفاع نے بھی کریملن کے جانب سے کیے گیے تبصرے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو وار کیف کے درمیان مذاکرات کی امید میں جمعے کو لڑائی میں وقفہ کیا گیا لیکن یوکرین کی جانب سے مذاکرات سے انکار کے بعد حملے کا دوبارہ آغاز کر دیا گیا ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا ہے کہ روس کے’وحشیانہ اور بلا اشتعال حملے‘کے مقابلے کے لیے یوکرین کو 35 کروڑ ڈالر کی اضافی فوجی امداد دی جائے گی۔ بلنکن کے بیان کے مطابق‘امدادی پیکیج میں تباہ کن مزید دفاعی امداد شامل ہو گی جس کی مدد سے یوکرین بکتربند گاڑیوں، فضائی فورس اور دوسرے خطرات کا مقابلہ کرے گا جن کا اسے اس وقت سامنا ہے۔‘ دوسری جانب کریملن نے ہفتے کو یوکرین پر الزام لگایا ہے کہ وہ مذاکرات سے انکار کر کے فوجی تنازعے کو طول دے رہا ہے۔

    ادھر مغرب نواز یوکرین کے خلاف روسی فوج کی پیشدمی جاری ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کانفرنس کال پر صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں کہا ’متوقع مذاکرات کے سلسلے میں روسی صدر نے کل سہ پہر روسی فیڈریشن کی مرکزی فورسز کی پیشدمی معطل کرنے کا حکم دیا تھا۔ چونکہ یوکرین نے بات چیت سے انکار کر دیا اس لیے آج سہ پہر سے پیشقدمی دوبارہ شروع کر دی گئی۔ کیئف کے میئر نے شہر میں کرفیو نافذ کر دیا ہے جو ہفتے کی شام سے شروع ہو کر پیر کی صبح تک جاری رہے گا۔ میئر آفس کے اعلامیے میں پہلے کیے اعلان کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کرفیو میں کوئی وقفہ نہیں ہو گا۔

    یاد رہے کہ روسی فوجی دستے ہفتے کو یوکرین کے دارالحکومت کیف میں داخل ہو گئے جہاں سڑکوں اور گلیوں میں دو بدو لڑائی شروع ہو چکی ہے۔ روسی فوجیوں کی درالحکومت میں پیش قدمی کے بعد شہر کے حکام نے کیف کے رہائشیوں سے محفوظ مقامات پر پناہ لینے کے لیے زور دیا ہے۔