Baaghi TV

Tag: جنگ

  • روس کا گرد گھیرا تنگ:روسی وزیر خارجہ احتجاجا مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

    روس کا گرد گھیرا تنگ:روسی وزیر خارجہ احتجاجا مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

    ماسکو:روس کا گرد گھیرا تنگ:روسی وزیر خارجہ احتجاجا مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے،اطلاعات ہیں کہ یوکرین کے معاملے پرروس کوتنقید کا نشانہ بنانے پرروسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف برطانوی ہم منصب کے ساتھ کی جانے والی پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے۔یہ منظراس قدر اہمیت اختیار کرگیا کہ دنیا بھر میں اس حوالے سے چہ میگوئیاں جاری ہیں‌

    برطانوی میڈیا کے مطابق یوکرین کے مسئلے پربرطانوی تنقید سے ناراض روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف برطانوی وزیرخارجہ لز ٹریس کے ساتھ کی جانے والی مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کرچلے گئے۔ کچھ منٹوں کے بعد برطانوی وزیرخارجہ بھی کانفرنس ہال سے چلی گئی۔برطانوی اور امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں برطانیہ کی وزیرخارجہ، دولت مشترکہ اورترقیاتی امورکی وزیرلزٹریس یوکرین کے مسئلے پرمذاکرات کے لئے ماسکو پہنچی تھیں۔

    برطانوی وزیرخارجہ لز ٹریس کا کہنا تھا کہ انہوں نے روس کوآگاہ کیا ہے کہ یوکرین کے معاملے پراسے پڑوسی کی سرحد عبور کرنے سے باز رہنا اورسرد جنگ جیسے رویے سے گریز کرنا ہوگا۔انہوں نے ماسکو کو خبردارکیا کہ وہ یوکرین کے مسئلے پردنیا کوبیوقوف بنانے کی کوششیں نہ کرے۔روسی وزیرخارجہ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی وزیرکے ساتھ ملاقات ایسی رہی جیسے کسی گونگے اوربہرے سے ملاقات کی جائے۔

    سرگئی لاروف کا ٹویٹ میں مزید کہنا تھا کہ ایک برطانوی عہدیدارنے ماسکو کا دورہ ایسے کیا جیسے برطانوی سامراج میں حکام اپنے مفتوحہ علاقوں کا دورہ کرتے تھے۔سرگئی لاروف کا کہنا تھا کہ مغربی طاقتیں روس کویوکرین سے متعلق ڈرانے اوردھمکیاں دینے سے باز رہیں۔

    دوسری طرف امریکہ اور نیٹو اتحادی اس وقت یوکرائن کے ساتھ مکمل تعاون کررہے ہیں اور بھر پور فوجی امداد دے رہے ہیں ،کہا جارہا ہے کہ ان اقدامات سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ ار اتحادی اس صورت حال میں ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں‌گے جنگ سے بچنے کے لیے روس کو ہی حکمت عملی کے تحت واپس جانا پڑے گا یا پھرٹکراو کے لیے تیار رہنا ہوگا

  • روس سےتنازع:امریکی صدرکامشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم:روس بھی پیشقدمی کرنےلگا

    روس سےتنازع:امریکی صدرکامشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم:روس بھی پیشقدمی کرنےلگا

    واشنگٹن:روس سے تنازع؛ امریکی صدر کا مشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم:روس بھی پیشقدمی کرنے لگا ،اطلاعات کے مطابق یوکرائن کے مسئلے پر روس سے پیدا ہونے والے تنازع پر امریکی صدر جوبائیڈن نے مشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم دیدیا۔

    وال اسٹریٹ جنرل کے مطابق یوکرائن پر روس کے ممکنہ حملے کے پیش نظر امریکی صدر جوبائیڈن نے 3 ہزار سے زائد فوجیوں کی مشرقی یورپ میں تعیناتی کا حکم دیدیا ہے۔

    وال اسٹریٹ جنرل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوجی پولینڈ اور جرمنی میں تعینات کیے جائیں گے جب کہ ایک ہزار کے قریب فوجیوں کو جرمنی سے رومانیہ منتقل کیا جائے گی۔
    مشرقی یورپ میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا حتمی فیصلہ امریکی صدر جوبائیڈن نے وزیر دفاع اور امریکی فوج کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اہم میٹنگ کے بعد کیا۔

    اس حوالے سے پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے وال اسٹریٹ جنرل کو بتایا کہ تعینات کیے جانے والے فوجیوں کی اہم اور خطرناک مشن کو پورا کرنے کے لیے خصوصی تربیت دی گئی ہے جو جدید اسلحے اور ضروری ساز و سامان سے لیس ہیں۔

    خیال رہے کہ روس کے مبینہ حملے اور جارحیت کے پیش نظر امریکا اور برطانیہ نے یوکرائن کو فوجی مدد کی یقین دہانی کرائی ہے اس حوالے سے نیٹو افواج کی پہلے ہی سرحدوں پر تعینات کیا جا چکا ہے۔

    دوسری جانب روس نے یوکرائن پر حملے کو امریکا اور برطانیہ کا خطے میں مداخلت کا بہانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ من گھڑت جواز پیدا کر کے خطے پر قبضے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

  • یوکرین امریکہ اور نیٹو کے ہاتھ کا کھلونا بن گیا:روس     :    :خطے میں جنگ ہوئی تو روس ذمہ دارہوگا،امریکہ

    یوکرین امریکہ اور نیٹو کے ہاتھ کا کھلونا بن گیا:روس : :خطے میں جنگ ہوئی تو روس ذمہ دارہوگا،امریکہ

    ماسکو:یوکرین امریکہ اور نیٹو کے ہاتھ کا کھلونا بن گیا:روس::خطے میں جنگ ہوئی تو روس ذمہ دارہوگا،امریکہ ،اطلاعات کے مطابق ایک بارپھر چند گھنٹوں کی خاموشی کےبعد روس اور امریکہ کے درمیان محاذ آرائی شروع ہوگئی ہے، اس حوالے سے غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دیمتری میدویدیف نے کہا ہے کہ یوکرین کو روس پر جغرافیائی و سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے یہ ایک حقیقت ہے کہ یوکرین نیٹو اور امریکہ کے ہاتھ میں کھلونا بن کر رہ گیا ہے کیونکہ یوکرین کو روس پر جغرافیائی سیاسی دباؤ کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

    ماسکو میں روسی وزارت دفاع نے اطلاع دی کہ فضائی دفاعی افواج کے دستے ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کے ساتھ جمہوریہ بیلاروس کی سرزمین پر مشقوں کے لیے پہنچ رہے ہیں۔محکمہ نے کہا کہ لاجسٹک یونٹس نے پہلے ہی امور ریجن میں ٹرین پلیٹ فارمز پر ہتھیار پہنچا دیے تھے۔

    واضح رہے کہ یوکرین کے مسئلہ پر روس کی نیٹو اتحاد ،امریکہ اور یورپی ممالک کے ساتھ کشیدگی میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

    ادھر امریکی صدر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی صدرجوبائیڈن نے خبردارکیا ہے کہ روس فروری میں یوکرین پرحملہ کرسکتا ہے۔وائٹ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق امریکی صدرجوبائیڈن نے یوکرینی ہم منصب سے گفتگومیں خبردارکیا کہ روس فروری میں یوکرین پرحملہ کرسکتا ہے۔

    امریکی صدرجوبائیڈن نے یوکرین کے صدرسے ٹیلی فون پرگفتگومیں کہا کہ اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ روس فروری میں یوکرین کیخلاف کوئی جارحانہ کارروائی کرے۔ امریکا گزشتہ کئی ماہ سے روس کی یوکرین کیخلاف ممکنہ جارحیت کے بارے میں خبردارکررہا ہے۔
    روس کے حکام نے یوکرین کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کومسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین کے بحران سے متعلق مذاکرات اب بھی ممکن ہیں۔

    امریکا اوراس کے نیٹواتحادی حالیہ ہفتوں میں ماسکوکی جانب سے یوکرین کے قریب ایک لاکھ روسی فوجیوں کی تعیناتی پربھی تشویش کا اظہارکرچکے ہیں۔

  • امریکہ ہمیں‌جنگ کی دھمکیاں‌ دینا بند کردے:ایسی بات ہے تو ہم تیارہیں‌:روس کا جوابی حملہ

    امریکہ ہمیں‌جنگ کی دھمکیاں‌ دینا بند کردے:ایسی بات ہے تو ہم تیارہیں‌:روس کا جوابی حملہ

    ماسکو:امریکہ ہمیں‌جنگ کی دھمکیاں‌ دینا بند کردے:ایسی بات ہے تو ہم تیارہیں‌:روس کا جوابی حملہ ،اطلاعات کے مطابق روس اور امریکہ کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور اتحادیوں نے روس کو سخت سبق سکھانے کا فیصلہ کرلیا ہے ، شاید یہی وجہ ہےکہ امریکہ نے روس کی دھمکی دی ہے روس یوکرین کی سرحد پر کسی بھی حرکت سے باز رہے یا پھر جنگ کےلیے تیار رہے ،

    ادھر روس نے امریکہ کی اس دھمکی جا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگرامریکہ کو جنگ کرنے کا بہت ہی شوق ہے تو ہم تیار ہیں‌، دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور دیگر نیٹو اتحادی اس وقت روس کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے میں مصروف ہیں

    دوسری طرف روس نے امریکہ کی طرف سے پابندیوں کی دھمکیوں‌ کو بھی مسترد کردیا ہے ،امریکہ میں تعینات روسی سفیر اناتولی انتونوف نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیاں ہمیں خوفزدہ نہیں کرسکتیں،

    روس کے سفیر اناتولی انتونوف کا میڈیا کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ امریکی کانگریس کی جانب سے روس کے خلاف نئی پابندیوں کا مطالبہ بشمول ملک کی قیادت پر پابندیاں ماسکو کو خوفزدہ نہیں کریں گی۔

    روسی سفارت خانے کے فیس بک پیج پر شائع ہونے والے ایک بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ کیپیٹل ہل پر روس مخالف پابندیوں کے ساتھ ساتھ روسی فیڈریشن کی اعلیٰ قیادت کے خلاف ذاتی پابندیاں متعارف کروانے کے مطالبات اشتعال انگیز اور ناامید ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہم کسی بھی صورت امریکہ کی اپاہج پابندیوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں یوکرائنی تنازعے پر جینوا میں ہونے والے روس امریکا کے اعلیٰ سطح مذاکرات ایک بار پھر بے نتیجہ ختم ہوگئے تھے۔

    مزید پڑھیں : روس امریکا مذاکرات ایک بار پھر بے نتیجہ ختم
    روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے سلامتی کی ضمانتوں پر روس امریکہ کی مشاورت کے بعد کہا کہ روس اور امریکہ نیٹو کی مشرق کی جانب مزید توسیع کو روکنے کے معاملات پر کسی پیش رفت تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔

  • روس کا امریکہ کو منہ توڑ جواب:امریکی دیکھتے ہی رہ گئے

    روس کا امریکہ کو منہ توڑ جواب:امریکی دیکھتے ہی رہ گئے

    روس نے امریکی سیکریٹری خارجہ انتھونی بلنکن کے بیان پر شدید غصے کا اظہار کیا ہے۔انتھونی بلنکن کا کہنا تھا کہ قازقستان کو شاید روسی فوجیوں سے چھٹکارا پانے میں مشکل کا سامنا ہو۔

    امریکی سیکریٹری خارجہ کے بیان پر شدید ردِ عمل دیتے ہوئے روس نے کہا کہ انہیں اس کے بجائے دنیا بھر میں امریکی فوج کی مداخلت پر سوچنا چاہیئے۔

    جمعے کے روز بلنکن نے روس کی جانب سے کئی دنوں سے متشدد افراتفری کا شکار قازقستان میں فوج بھیجنے کی توجیہ پر سوال اٹھایا تھا۔

    بلنکن کا کہنا تھا ’ماضی قریب کا ایک سبق یہ ہے کہ ایک بار روسی آپ کے گھر میں آ جائیں، ان کا نکلا جانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔‘

    روسی وزیر خارجہ نے بلنکن کے بیان کو ’ناگوار‘ قرار دیا اور ان پر قازقستان میں پیش آنے والے افسوس ناک واقعات پر مذاق کرنے کا الزام عائد کیا۔

    وزارت نے اپنے ٹیلی گرام سوشل میڈیا چینل پرکہا کہ ’اگر انتھونی بلنکن کو تاریخ کے اسباق اتنے پسند ہیں، پر ان کو یہ معلوم ہونا چاہیئے: جب امریکی آپ کے گھر میں آ جائیں، تو زندہ رہنا، نہ لُٹنا یا ریپ نہ کیا جانا مشکل ہو سکتا ہے۔‘مزید یہ بھی کہا گیا ’ہمیں یہ صرف ماضی قریب سے نہیں بلکہ امریکی ریاست کے 300 سالوں سے پڑھایا گیا ہے۔‘

    وزارت کا کہنا تھا کہ قازقستان میں تعیناتی قازقستان کی درخواست کا قانونی جواب تھا تا کہ Collective Security Treaty Organisation(CSTO) کے تحت سپورٹ کیا جائے۔

    روس کی وزارت خارجہ نے اس سلسلے میں مختلف ملکوں منجملہ کوریا، ویتنام، شام اور عراق کی طرف اشارہ بھی کیا۔

    روس کی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ نے قزاقستان کے افسوسناک حالات کا مذاق اڑانے کی کوشش کی ہے البتہ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہے کہ انھوں نے اس قسم کا مداخلت پسندانہ بیان دیا ہے ۔

    CSTO سابق سوویت ریاستوں کا ایک اتحاد ہے جس میں روس شامل ہے۔

    قازقستان میں فوج کی تعیناتی ایک ایسے موقع پر کی گئی ہے جب ماسکو اور واشنگٹن کے تعلقات شدید تناؤ میں ہیں۔

    دونوں ممالک پیر کو یوکرین بحران پر شروع ہونے والے مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں۔

    ماسکو نے یوکرین کے قریب اپنی سرحد پر بڑی تعداد میں فوج تعینات کر دی ہے لیکن روس کی جانب حملہ کرنے کے منصوبے کے مغربی الزامات کی تردید کی گئی ہے۔

  • پاکستان نیوی کے پاس ایسے ہتھیار آچکے کہ اب بھارتی نیوی کی تباہی یقینی ہے:بھارتی دفاعی حکام سخت پریشان

    پاکستان نیوی کے پاس ایسے ہتھیار آچکے کہ اب بھارتی نیوی کی تباہی یقینی ہے:بھارتی دفاعی حکام سخت پریشان

    نئی دہلی :پاکستان نیوی کے پاس ایسے ہتھیار آچکے کہ اب بھارتی نیوی کی تباہی یقینی ہے:بھارتی دفاعی حکام سخت پریشان ،بھارتی وزارت دفاع اس وقت بہت پریشان ہے اور بھارتی فوجی حکام کے ذہنوں پر ایک چیز سوار ہوچکی ہے کہ پاکستان نیوی نے چین سے ایسے جنگی ہیلی کاپٹر اورمیزائل حاصل کرلیے ہیں کہ جن کے استعمال کی صورت میں بھارتی بحریہ کی تباہی کے واضح آثار ہیں‌

     

     

     

     

    امریکی اور بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ پاک بحریہ کے 054 A/P فریگیٹس چین تیار کر رہے ہیں۔بھارتی دفاع حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے ہی جیسے مثال کے طور پر پی این ایس طغرل گزشتہ سال فراہم کیا گیا تھا۔بھارتی فوجی قیادت کے درمیان ہونے والی گفتگو سے پتہ چلتا ہےکہ بھارت کو یہ اطلاعات مل چکی ہیں کہ پاکستان چین سے ایک نہیں بلکہ تین قسم کے جدید خطرناک ہتھیاراپنی نیوی میں‌ شامل کرنے کےلیے لے رہا ہے ،۔ اطلاعات کے مطابق ان میزائلوں کا ہدف بظاہر بھارتی جنگی جہاز جیسے کولکتہ اور ویزاگ کلاس ڈسٹرائرز اور اسٹیلتھ فریگیٹس ہیں۔

    بھارتی اورامریکی دفاعی حکام کا یہ بھی دعویٰ‌ ہے کہ پاکستان اپنے جنگی جہازوں کے لیے LY-70 ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم خریدنے کے لیے بھی چین سے بات چیت کر رہا ہے۔ اس نے پہلے ہی مینوفیکچرر ALIT سے تکنیکی اور بجٹ تجویز کی درخواست کی ہے۔ پاکستان نیوی نے دو دہائیاں قبل اپنے طارق کلاس فریگیٹس کے لیے پچھلی قسم، LY-60N خریدی تھی۔

    اس رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکسان کےلیے چینی ہاربن ایئر کرافٹ انڈسٹری گروپ ہاربن Z-9 حملہ ہیلی کاپٹر تیار کرتا ہے۔ Z-9EC ایک اینٹی سب میرین وار فیئر ویرینٹ ہے جو پاکستان نیول ایئر آرم کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ دشمن کی آبدوزوں کی شناخت، ٹریک کرنے اور انہیں ختم کرنے کے لیے، ہیلی کاپٹر ASW ٹارپیڈو اور سینسر اور ریڈار کے ساتھ ایک ہی وقت میں کئی خوبیوں سے مزین ہے

    پاک بحریہ نے چین کی طرف سے چار قسم کے 054A/P فریگیٹس کی فراہمی کا آرڈر دیا ہے۔اس رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ‌ کیا گیا ہے کہ چینی اسلحہ سازکمپنیون نے نومبر 2021 میں چینی ساختہ پہلی قسم 054A/P گائیڈڈ میزائل فریگیٹ PNS Tughril کو شروع کیا۔

    بھارتی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ نیا طغرل الیکٹرونک جنگی نظام، جدید ترین سطح، زیر زمین، اور اینٹی ایئر ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ جنگی انتظامی نظام سے لیس ہے، اور اسے F-22P فریگیٹ کے لیے چینی فراہم کردہ جانشین کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جنگی جہاز بنیادی طور پر اینٹی ایئر وارفیئر کے لیے بنایا گیا ہے، حالانکہ یہ اینٹی سرفیس اور اینٹی سب میرین کاموں کو بھی انجام دے سکتا ہے۔

     

     

    انڈین اور امریکن ڈیفنس ماہرین کا کہنا ہے کہ CM-501GA زمین پر حملہ کرنے والے CM-501G میزائل کا ہلکا قسم ہے۔ چائنا ایرو اسپیس سائنس اینڈ انڈسٹری کارپوریشن یہ میزائل تیار کرتی ہے، جن کی رینج تقریباً 40 کلومیٹر ہے۔ لائٹر ویریئنٹ کو چینی ساختہ ہاربن Z-9 ہیلی کاپٹر سے لانچ کیا جا سکتا ہے، جسے پاکستان کی بحریہ بھی استعمال کرتی ہے۔

    میزائل کا ڈیزائن CM-501G پر مبنی ہے، ایک زمینی حملہ کرنے والا میزائل جسے ابتدائی طور پر نومبر 2012 میں 9ویں Zhuhai Air شو میں دکھایا گیا تھا۔ سی ایم 501 جی میزائل کی رینج 70 کلومیٹر ہے۔ یہ میزائل امریکی NLOS-LS Netfires میزائل یا اسرائیلی JUMPER میزائل کے چینی مساوی سمجھا جاتا ہے۔

    اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ CM-501G سسٹم دو گاڑیوں پر مشتمل ہے، دونوں گاڑیاں شانکسی آٹوموبائل گروپ SX2190 6 x 6 کراس کنٹری ہیوی ڈیوٹی ٹرک پر مبنی ہیں۔ دو لانچرز/کنٹینرز، جن میں سے ہر ایک تین بائی تھری لے آؤٹ میں نو میزائلوں کے ساتھ، لانچنگ گاڑی کے پچھلے حصے میں نصب ہیں، جن کی کل تعداد 18 ہے۔ یہ Netfires کے 15 سے زیادہ ہے لیکن JUMPER کے 24 سے کم ہے۔

     

     

    ماہرین کے مطابق اوپن آرکیٹیکچر اور ماڈیولر ڈیزائن کے تصور نے CM-501G سسٹم کو اتنا ورسٹائل بنا دیا ہے کہ وہ مختلف گائیڈنس سسٹمز کا انتخاب کر کے صارفین کے مختلف مطالبات کو پورا کر سکے: جب فنڈنگ ​​محدود ہو تو دو طرفہ ڈیٹا لنک اور امیجنگ انفرا ریڈ۔ (IIR) کو سستے سیمی ایکٹیو لیزر (SAL) کے ساتھ تبدیل کیا جا سکتا ہے، اور سیٹلائٹ رہنمائی GPS، GLONASS، یا BeiDou میں سے کوئی بھی ہو سکتی ہے۔

    فائر کنٹرول ماڈیول، ایمونیشن اڈاپٹر، اور خود مختار پاور کیبلز فائر کنٹرول سسٹم کو تشکیل دیتے ہیں۔ نیٹ ورک کے جنگی نیٹ ورک میں ضم ہونے کے بعد آپریٹرز ریموٹ کنٹرول استعمال کر سکتے ہیں۔ چونکہ یہ بارود کے اڈاپٹر سے ڈیٹا پر کارروائی کر سکتا ہے اور ہدف کو پوزیشن میں رکھ سکتا ہے، اس لیے فائرنگ کا نظام خود مختار طور پر کام کر سکتا ہے۔

    ایک کمپیکٹ C41SR سسٹم جسے جنگی نیٹ ورک سے منسلک کیا جا سکتا ہے کمانڈ سسٹم کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ فائرنگ سسٹم کی رہنمائی کرنے، ڈیٹا کو پروسیسنگ اور اسٹور کرنے، ہدایات جاری کرنے، نقصان کا اندازہ لگانے اور سسٹم کی حالت کی نگرانی کرنے کے قابل ہے۔ پراجیکٹائل کی بہترین جنگی تاثیر ہوتی ہے کیونکہ جاسوسی اور فائر پاور یونٹ مؤثر طریقے سے کمانڈ سسٹم سے منسلک ہوتے ہیں۔

     

    اس کی لانچنگ اور آپریشنل کنٹرول گاڑیاں خود مختار طور پر نیویگیٹ کر سکتی ہیں اور نامعلوم ماحول میں تیز رفتار ہتھکنڈے اور جدید ترین فائرنگ کے مشن کو انجام دے سکتی ہیں۔ لانچ گاڑی کو فائر کرنے کے لیے تیار ہونے میں تقریباً پانچ منٹ لگتے ہیں۔ شوٹنگ کے بعد موبائل موڈ پر واپس آنے میں ایک منٹ لگتا ہے۔

    CM-501GA ٹی وی/انفراریڈ امیجری کے امتزاج کا استعمال کرتے ہوئے سیر کرتا ہے۔ CM-501GA میزائل 2 میٹر لمبا ہے جس کا قطر 180 ملی میٹر ہے۔

    اس کے پاس 20 کلو گرام ہائی ایکسپوزیو وار ہیڈ ہے جس کی رینج 5-40 کلومیٹر ہے اور اس کا وزن 100 کلو ہے۔ مینوفیکچرر کے مطابق، ہٹ کی درستگی کو 1 میٹر کے اندر ریگولیٹ کیا جا سکتا ہے اور ہٹ کی شرح 90% ہے۔

  • میڈیا،صحافیوں اورشخصیات کیخلاف مریم نوازکاپراپیگنڈہ اوران کی کردارکُشی:پیمرا کوخط لکھ دیا گیا

    میڈیا،صحافیوں اورشخصیات کیخلاف مریم نوازکاپراپیگنڈہ اوران کی کردارکُشی:پیمرا کوخط لکھ دیا گیا

    اسلام آباد:میڈیا ،صحافیوں اورمحترم شخصیات کےخلاف مریم نوازکا پراپیگنڈہ اوران کی کردارکُشی:پیمرا کوخط لکھ دیا گیا ،اطلاعات کے مطابق مریم نواز کی مبینہ آڈیو کا معاملہ اس قدر حساس ہوگیا ہے کہ اب توہرصحافی اوراینکرپرسن مریم نواز کی سازشوں سے خوف کھانے لگا ہے اور یہی وجہ ہے کہ صحافیوں نے مریم نواز کی سازشوں سے بچنے اورمحفوظ رہنے کے لیے ہاتھ پاوں مارنے شروع کردیئے ہیں‌

    اس حوالے سے اسلام آباد سے اہم خبریں آرہی ہیں ،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ صحافیوں اور میڈیا کے دیگربڑے بڑے ناموں‌ کومریم نواز کی پراکسی سے بچانے کے لیے پارلیمانی سیکرٹری عالیہ حمزہ نے آگے بڑھ کرکچھ کرنے کا عزم کیا ہے ، اس حوالے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ عالیہ حمزہ نے مریم نواز کی سازشوں سے بچنے کےلیے چیئرمین پیمرا کو خط بھی لکھ دیاہے

    عالیہ حمزہ نے چیئرمین پیمرا کو خط لکھتے ہوئے کہا کہ خدا را مریم صفدر کے خلاف کاروائی کریں ورنہ یہ بہت نقصان کرے گی

    عالیہ حمزہ نے خط میں‌ یہ بھی یاد دلوایا ہے کہ میں پہلے بھی دو خطوط لکھ چکی، جن کا تاحال جواب موصول نہیں ہوا۔ عالیہ حمزہ کہتی ہیں‌کہ ایک بار پھر آپ کی توجہ مریم صفدر کی پےدر پے آنیوالی آڈیوز سے متعلق لکھ رہی ہوں‌

    عالیہ حمزہ کہتی ہیں کہ جناب چیئرمین اس طرح‌ تو دنیا میں‌ کہں بھی ہوتا جس طرح مریم نواز اپنی گینگ کے ساتھ مل کرکررہی ہیں‌، عالیہ کہتی ہیں‌کہ مریم نواز کی آڈیو لیک آزاد میڈیا کی غیر جانبداری پر سوال اٹھا رہی ہیں۔

    عالیہ حمزہ کہتی ہیں‌ کہ مریم صفدر مبینہ آڈیو میں سینئر صحافی حسن نثاراور ارشاد بھٹی پر الزامات لگارہی ہیں۔ عالیہ حمزہ نے بڑے دکھ کے ساتھ چیئرمین پیمرا کو یہ بھی بتایا کہ جناب ! مریم صفدر نےسینئر تجزیہ کاروں سے متعلق نازیبات کلمات بھی کہے ، ان کی توہین کی ، ان کی کردار کُشی کی لیکن مہذب اور جمہوری ہونے والوں میں سے کسی نے مریم نواز کے اس رویے کی مذمت تک نہ کی

    عالیہ حمزہ کہتی ہیں‌ کہ لیکڈ آڈیو میں مریم نواز اور پرویز رشید نےصحافیوں کو بھونکنے والے کتے قرار دیا۔ مبینہ آڈیو میں پرویز رشید،مریم صفدر کو جیو گروپ کو ہدایات دینے پر بات کر رہے ہیں۔ جسں میں وہ سینئر صحافی حسن نثار، ارشاد بھٹی، مظہر عباس، ستار بابر پر ن لیگ کے مؤقف کے خلاف جانے کے گھٹیا الزامات لگا رہے ہیں۔

    عالیہ حمزہ نے اپنے خط میں میڈیا گروپ کو کنٹرول کرنےاور ان کو ریاست کے خلاف استعمال کرنے کے حوالےسے کہا ہے کہ رشید مریم صفدر کو میر شکیل سے باز پرس کرنے کی درخواست کر رہے ہیں، عالیہ حمزہ نے خط میں لکھا ہے کہ کتنی بد قسمتی ہے ہماری کہ ایک شرپسند خاتون کھلے عام "ریوڑیاں”بانٹ رہی ہے،پارلیمانی سیکرٹری کا کہنا ہے کہ مبینہ آڈیو میں مریم صفدر دو باسکٹس نصرت جاوید اور رانا جواد کو بھجوانے کا ذکر ہے۔

    عالیہ حمزہ کہتی ہیں‌ کہ سچ تو یہ ہے کہ ان لوگوں کا کردار کارکردگی صفر اور پیسے کے زور پر صحافت کو خرید کر اپنےحق میں پروگرام کروائےجاتے ہیں، جو حق میں نہیں بولتا اس کےخلاف گالیاں بولی جاتی ہیں۔ عالیہ حمزہ نے اس موقع پر ایک سوالیہ انداز سے میں‌ یہ بھی لکھا ہے کہ کیا یہ ہے میڈیا اور صحافیوں کی ٹوٹل اوقات ان نابالغ قومی لیڈران کی نظر میں؟

    عالیہ حمزہ نے خط میں لکھا ہے کہ ان لوگوں کا مکروہ چہرہ عوام کے سامنے بے نقاب ہورہا ہے۔ان لوگوں نے اپنی کرپشن عوام سے چھپانے کے لئے ہر ادارے میں کرپٹ لوگوں کو پروان چڑھایا۔ میڈیا کی آزادی ن لیگ مافیاز نے یرغمال بنا رکھی ہے۔ صحافتی تنظیمیں سوال کریں کہ یہ مجرمہ کس طرح آزادی راے پر نقب لگا سکتی ہے؟

    عالیہ حمزہ نے ایک ٹیکنیکل سوال بھی پوچھا ہے کہ کیا مجرمہ مریم صفدر کی جیو نیوز نے ایچ آر یا پروگرام کوآرڈینیٹر ہے؟؟جو اپنی من پسند خبروں اور بتائی ہوئی جھوٹی باتوں کو جیو پر نشر کرنے کے احکامات صادر کرتی رہی ہیں۔ ان چند کرپٹ لوگوں کی وجہ سے سارا میڈیا یرغامال بنا ہوا ہے۔ عالیہ حمزہ نے آخر میں‌ لکھا ہے کہ مجھے آپ کے منصب سے امید ہے پیمرا اختیارات کہ اندر رہ کر مریم صفدر اور پرویز رشید کا اختساب ضرور کرینگے۔

  • روس اور امریکہ کا ایک دوسرے کے گریبان کو ہاتھ:دھمکیاں:دنیا میں کسی بھی کچھ ہوسکتا ہے

    روس اور امریکہ کا ایک دوسرے کے گریبان کو ہاتھ:دھمکیاں:دنیا میں کسی بھی کچھ ہوسکتا ہے

    واشنگٹن : روس اور امریکہ کا ایک دوسرے کے گریبان کو ہاتھ:دھمکیاں:دنیا میں کسی بھی کچھ ہوسکتا ہے،اطلاعات کے مطابق یوکرین کے تنازعہ پر امریکہ اور روس ایک بار پھر آمنے سامنے ہیں ۔تناو بڑھتا جارہا ہے۔ دنیا کو روس کے ارادے نیک نظر نہیں آرہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن کو خبردار کیا ہے کہ یوکرین پر کسی بھی حملے کی صورت میں سخت امریکی ردعمل سامنے آئے گا جب کہ روس نے جواباً کہا کہ ماسکو مخالف پابندیاں ایک ’سنگین غلطی‘ ہوگی۔دونوں صدور نے یہ باتیں تین ہفتوں میں ہونے والی دوسری براہ راست بات چیت کے دوران کیں۔

    دونوں سربراہوں کے درمیان جمعرات کو ہونے والی 50 منٹ کی فون کال سے روس اور مغربی حمایت یافتہ یوکرین کے درمیان کشیدہ صورتحال پر مزید سفارت کاری کی حمایت کا اشارہ ملا ہے۔

    کریملن میں خارجہ پالیسی کے مشیر یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر پوتن مجموعی طور پر اس بات چیت سے ’خوش‘ تھے جب کہ واشنگٹن میں ایک سینیئر امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گفتگو میں رہنماؤں کا لہجہ ’سنجیدہ اور ٹھوس‘ تھا۔

    لیکن گفتگو میں 10 جنوری کو اعلیٰ سطحی روسی اور امریکی حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت سے پہلے اختلاف کی گہرائی یا مشرقی یورپ میں کھیلے جانے والے اونچے داؤ کو چھپانے کی کوئی بات نہیں تھی۔

    امریکی پریس سیکریٹری جین ساکی نے ایک بیان میں کہا کہ صدر بائیڈن نے واضح کیا کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو امریکہ اور اس کے اتحادی اور شراکت دار ماسکو کو فیصلہ کن جواب دیں گے۔ادھر اوشاکوف نے یوکرین پر حملے کے ردعمل کے طور پر اقتصادی پابندیوں کی واشنگٹن کی بار بار دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘یہ ایک سنگین غلطی ہوگی۔ ہمیں امید ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔

    اوشاکوف نے یہ بھی کہا کہ روس جنیوا میں جنوری میں ہونے والی بات چیت کے ٹھوس ’نتیجے‘ کے لیے پر امید ہے جب کہ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ وہ بھی چاہتا ہے کہ ماسکو یوکرین کی سرحد پر روس کی بڑی فوجی موجودگی سے پیدا ہونے والی کشیدگی میں کمی کے لیے کارروائی کرے۔

    ساکی نے کہاکہ’صدر بائیڈن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت صرف اس صورت میں ممکن ہے جب یہ بات چیت کشیدگی کی بجائے پرامن ماحول میں ہو۔

    ٹیلی فون کال کے بعد ایک ریڈ آؤٹ میں کریملن نے زور دیا کہ بائیڈن نے پوتن کو بتایا کہ یوکرین میں امریکی ہتھیاروں کو نصب نہیں کیا جائے گا۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے کہا کہ بائیڈن نے محض موجودہ پالیسی کی توثیق کی ہے۔ ایک امریکی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایاکہ صدر بائیڈن نے واضح کیا کہ امریکہ یوکرین کو دفاعی سکیورٹی کے حوالے سے امداد فراہم کر رہا ہے اور جارحانہ حملہ کرنے والے ہتھیار نہیں دے رہا۔ یہ کوئی نیا عہد نہیں تھا۔

    وائٹ ہاؤس کے حکام نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کئی ایسے شعبے ہیں جہاں دونوں فریق بامعنی طور پر پیش رفت کر سکتے ہیں لیکن ایسے اختلافات بھی موجود ہیں جنہیں حل کرنا ممکن نہیں۔

    مثال کے طور پر روس نے واضح کیا کہ وہ ایک تحریری عہد چاہتا ہے کہ یوکرین کو کبھی بھی نیٹو میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی وہاں اتحادی ممالک اپنے ہتھیار نصب کریں گے، یہ مطالبہ بائیڈن انتظامیہ نے مسترد کر دیا۔

    جنیوا میں ہونے والی بات چیت کے دوران روس کے مطالبات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا لیکن یہ ابھی تک واضح نہیں کہ بحران کو کم کرنے کے بدلے میں بائیڈن پوتن کو کیا پیشکش کرنے کو تیار ہوں گے۔

    دریں اثنا نیٹو کے اہم ارکان نے واضح کیا کہ مستقبل قریب میں اتحاد کو وسعت دینے کی کوئی خواہش نہیں لیکن مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں یہ روس کو سابق سویت ریاست پر حملہ کرنے کا بہانہ فراہم کرے گا۔

  • چھمب معرکے کی یاد میں گولڈن جوبلی تقریب

    چھمب معرکے کی یاد میں گولڈن جوبلی تقریب

    1971کی پاک بھارت جنگ میں چھمب معرکے کی یاد میں گولڈن جوبلی تقریب ہوئی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق چھمب معرکے کی یاد میں گولڈن جوبلی کی تقریب کا راولپنڈی میں انعقاد ہوا،تقریب میں چھمب معرکے میں حصہ لینے والے سابق فوجیوں نے شرکت کی سابق فوجیوں نے اپنے جنگی تجربات شیئر کیے کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا نے شہدائے چھمپ اور غازیوں کوخراج تحسین پیش کیا،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا نے پاک فوج کی جانب سے کیے گئے ایک انتہائی جرات مندانہ آپریشن میں حصہ لینے والے تمام رینک کے جوانوں و افسران جرات اور عزم کو سراہا۔

    کشمیر تکمیل پاکستان کا نامکمل ایجنڈہ، آخری حد تک جائیں گے، آرمی چیف کا دبنگ اعلان

    یوم دفاع و شہداء، چلو شہداء کے گھر،باغی ٹی وی کی خصوصی کوریج

    ہمارے شہدا ہمارے ہیرو ہیں،ترجمان پاک فوج کا راشد منہاس شہید کی برسی پر پیغام

    سیکیورٹی خطرات کے خلاف ہم نے مکمل تیاری کر رکھی ہے، ترجمان پاک فوج

    الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو….ترجمان پاک فوج نے اہم مشورہ دے دیا

    فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، دعا ہے علی سد پارہ خیریت سے ہو،ترجمان پاک فوج

    طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے،آپریشن ردالفسار کے چار برس مکمل، ترجمان پاک فوج کی اہم بریفنگ

    انسداد دہشت گردی جنگ تقریبا ختم ہو چکی،نیشنل امیچورشارٹ فلم فیسٹیول سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا خطاب

    افغان امن عمل، افغان فوج نے کہیں مزاحمت کی یا کرینگے یہ دیکھنا ہوگا، ترجمان پاک فوج

    وطن کی مٹی گواہ رہنا، کے نام سے یوم دفاع وشہداء منانے کا اعلان

    شُہداء، غازیوں اوراُن سے جُڑے تمام رِشتوں کو سَلام،آئی ایس پی آر کی نئی ویڈیو جاری

  • مصدقہ اطلاعات ہیں کہ چین فوجیوں کو دماغی مفلوج کرنے کی ٹیکنا لوجی پر کام کر رہا ہے:امریکی میڈیا

    مصدقہ اطلاعات ہیں کہ چین فوجیوں کو دماغی مفلوج کرنے کی ٹیکنا لوجی پر کام کر رہا ہے:امریکی میڈیا

    واشنگٹن: ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت نے جنگوں کے روایتی طریقہ کار کو کافی حد تک ختم کردیا ہے۔ دنیا کی دوسری بڑی طاقت چین جنگوں میں دشمنوں کو ہلاک کرنے کے بجائے مفلوج کرنے کے تصور پر کام کر رہی ہے۔

    امریکی ذرایع ابلاغ نے دعوی کیا ہے کہ چین کے ایک تحقیقی مرکز میں ایسے ہتھیار بنانے پر کام کیا جا رہا ہے جن کی مدد سے وہ دشمن ملک کے فوجیوں کو ہلاک کرنے کے بجائے مفلوج کرسکیں گے۔

    امریکی اخبار واشنگٹن ٹائمز نے چین کے سرکاری فوجی اخبار پی ایل اے( پیپلز لبریشن آرمی ) ڈیلی میں 2019 میں ’ فوجی برتری کے بارے میں مستقبل کے تصورات‘ کے عنوان سے شایع ہونے والی رپورٹ کا تجزیہ پیش کیا ہے جس میں چین کی ’ برین وار فیئر‘ تحقیق کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس منصوبے پر کئی سالوں سے کام ہورہا ہے۔

    ایسی ہی ایک اور رپورٹ کہا گیا ہے کہ’ جنگ دشمنوں کی لاشوں کے حصول سے نکل کر انہیں مفلوج کرنے اور ان پر کنٹرول کرنے کی طرف منتقل ہوچکی ہے۔‘

    واشنگٹن ٹائمز کے مطابق چینی ریسرچرز ’ انسانوں کی سائیکولوجیکل اور ادارکی صلاحیتوں میں اضافے کی جانب پیش رفت کرتے ہوئے انسانوں اور مشینوں کو مربوط کرنے پر‘ کا مطالعہ کر چکے ہیں۔‘ جس کی مدد سے وہ دماغ کے دفاع کرنے کی صلاحیت کو دماغ پر کنٹرول اور حملے کرنے پر کام کر رہے ہیں۔

    رواں ماہ کی 16 تاریخ کو ہی امریکہ محکمئہ خزانہ نے چین کی اکیڈمی برائے ملٹری سائنسز( اے ایم ایم ایس) اور اس سے محلقہ 11 ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی برآمدات کو امریکا کی قومی سلامتی اور فارن پالیسی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے بلیک لسٹ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    محکمئہ خزانہ کی سربراہ جینا ریمنڈو کا دعوی ہے کہ چین بایو ٹیکنالوجی اور طبی جدت کو اپنے لوگوں پر قابو پانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

    فنانشل ٹائمز نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں ایک سینئرامریکی اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ چین انسانی کارکردگی میں اضافے اور دماغ کو مشین کے ساتھ جوڑنے کے لیے جینز میں ترمیم کررہا ہے۔تاہم چینی حکام نے امریکی اخبار کی رپورٹ اور حکام کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔ْ