Baaghi TV

Tag: جنگ

  • یوکرین پرحملہ روس کے لیے گلے کی ہڈی بن گیا:سخت مزاحمت سے روسی فوج کے حوصلے ڈگمگانے لگے

    یوکرین پرحملہ روس کے لیے گلے کی ہڈی بن گیا:سخت مزاحمت سے روسی فوج کے حوصلے ڈگمگانے لگے

    واشنگٹن : یوکرین پرحملہ روس کے لیے گلے کی ہڈی بن گیا:سخت مزاحمت سے روسی فوج کے حوصلے ڈگمگانے لگے،اطلاعات ہیں کہ روس کو یوکرین پر حملے کے بعد سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا یوکرین کے دارالحکومت کیف میں کرنا پڑا ہے۔ جہاں جنگ کا چوتھا دن شروع ہونے کے باوجود قبضہ نہیں ہوسکا ہے۔

    ان حقائق کی تصدیق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے تازہ بیان سے ہوجاتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یوکرین کی فوج کی جانب سے سخت مزاحمت ملنے پر روس کی حملہ آور فوج کو مایوسی کا سامنا ہے جبکہ پیش قدمی سست ہونے کے باعث فوج دارالحکومت کیئف میں داخل نہیں ہو سکی۔

    کل حملے چوتھے دن کیئف کے قریب واقع تیل کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا گیا تھا ۔ حکام نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے زہریلا دھواں اٹھ رہا ہے۔ دوسری جانب یوکرینی شہری قریبی ممالک میں پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ امریکہ اور مغربی اتحادی ممالک یوکرین کی فوج کو ہتھیار بھجوا رہے ہیں جبکہ امریکہ کا آئندہ دنوں میں مزید اسلحے کی ترسیل کا ارادہ ہے تاکہ روس کے زمینی اور فضائی حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ پینٹاگون کے مطابق روس کی حملہ آور فوج کا 50 فیصد اس وقت یوکرین میں موجود ہے تاہم غیر متوقع طور پر مزاحمت کا سامنا کرنے کے باعث پیش رفت آہستہ ہے۔

    دفاعی ذرائع کےمطابق یوکرین کے شمالی حصوں میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کوئی خاطر خواہ پیش قدمی نہ ہونے پر روسی فوج کی مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عہدیدار نے کہا کہ روسی افواج دارالحکومت کیئف سے تقریباً 30 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

    حملے چوتھے دن کیئف کے قریب واقع تیل کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حکام نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے زہریلا دھواں اٹھ رہا ہے۔ سنیچر کو یوکرین کی جانب سے بیلا روس میں مذاکرات کی پیش کش رد کیے جانے کے بعد روس کی وزارت دفاع نے فوج کو یوکرین پر ہر طرف سے حملہ کرنے اور اس کا دائرہ بڑھانے حکم دیا تھا۔ دووسری جانب روس کے یوکرین پر حملے کے خلاف دنیا بھر کے مختلف ممالک میں مظاہرے ہوئے ہیں جن میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    امریکہ اور لندن سے لے کر دیگر یورپی ممالک میں مظاہرین نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے روس سے خون خرابہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ سوئٹزرلینڈ میں ہزاروں کی تعداد میں شہریوں نے مظاہرے کیے جبکہ جینیوا میں اقوام متحدہ کے یورپی ہیڈ کوارٹر کے باہر بھی تقریباً ایک ہزار شہریوں نے احتجاج کیا۔

    دوسری جانب یوکرینی وفد سے ملاقات کے لیے روسی وفد بیلاروس پہنچ گیا ہے۔ترجمان روسی صدر دفتر ’کریملن‘ کا کہنا ہے کہ روسی وفد میں وزارت خارجہ، دفاع اور صدارتی انتظامیہ کے نمائندے شامل ہیں۔کریملن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ روس مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہے، مذاکرات کے لیے یوکرینی حکام کے منتظر ہیں۔

    روسی افواج یوکرین کے دارالحکومت کیف پر قبضہ کرنے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں داخل ہو گئی ہیں۔اتوار کی صبح سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی فوٹیج میں پوتن کے فوجی ٹرکوں کو 1.41 ملین آبادی والے شہر میں گھومتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو روس کی سرحد کے قریب مشرقی یوکرین میں ہے۔ فوجیوں کو خارکیف سے پیدل مارچ کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا، ایک بہت ہی ڈرامائی کلپ کے ساتھ جس میں دکھایا گیا ہے کہ روسیوں کو ایک سڑک پر آہستہ آہستہ آگے بڑھتے ہوئے اپنی بندوقیں چلانے اور فائر کرنے سے پہلے یوکرین والوں نے ان پر گولی چلا دی۔ آن لائن شیئر کیے گئے ایک اور کلپ میں دکھایا گیا ہے کہ فوج کی ایک گاڑی روسیوں کی ہے، اسے یوکرینیوں نے اپنے شہر کا دفاع کرنے کے لیے نذر آتش کیا تھا

    ادھر یورپی ممالک نے روسی طیاروں کے لیے فضائی حدود بندکرنےکا فیصلہ کر لیا جبکہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے کئی روسی بینکوں کو مرکزی بین الاقوامی ادائیگی کے نظام سے منقطع کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

  • یوکرائنی دارالحکومت پر قبضے کی جنگ:روسی فوج کوسخت مزاحمت کا سامنا:میزائل گرانے کا دعویٰ

    یوکرائنی دارالحکومت پر قبضے کی جنگ:روسی فوج کوسخت مزاحمت کا سامنا:میزائل گرانے کا دعویٰ

    کیف:یوکرائنی دارالحکومت پر قبضے کی جنگ:روسی فوج کوسخت مزاحمت کا سامنا:میزائل گرانے کا دعویٰ،اطلاعات کے مطابق یوکرائن کے دارالحکومت کیف پر قبضے کی کشمکش کے دوران جھڑپوں میں تیزی آ گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق کیف کے مضافاتی علاقے ترائیشچینا پر روس کی جانب سے میزائل حملہ کیا گیا ہے۔یوکرائن کے وزیر داخلہ کے مشیر نے ٹیلی گرام ایپ پر ایک پوسٹ میں اسے رہائشی علاقے پر بے مقصد اور بے رحمانہ حملہ قرار دیا ہے۔یوکرائن نے بیلا روس سے دارالحکومت کیف کو نشانہ بنانے والے میزائل کو مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

    یوکرائن کے وزیرِ خارجہ اولگ نکولینکو نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فضائیہ نے دارالحکومت کیف پر داغا گیا ایک میزائل مار گرایا ہے۔اُنہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ میزائل جس جہاز سے داغا گیا اُس نے روس کے اتحادی ملک بیلا روس سے پرواز کی تھی۔اُدھر دارالحکومت کیف کے شمال مغرب میں واقع مضافاتی علاقے بوچا میں متحارب فوجوں کے مابین لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔

     

    ذرائع کے مطابق ایک روسی بکتر بند گاڑی سے مشین گن سے فائرنگ اور روسی فوجیوں کو بوچا کی گلیوں سے گزرتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔

    یوکرائن کی فوج نے عام لوگوں کو شہری مزاحمتی تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہوئے ان کے لیے ایک ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کے پاس اسلحہ ہے یا گولہ بارود یا پھر کچھ بھی نہیں، آپ دفاع کے تمام ممکنہ طریقے اور ذرائع استعمال کریں۔

    شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سڑکوں پر لگے روڈ سائنز ہٹا دیں یا انہیں مٹا دیں، روسی فوجیوں کی نقل و حرکت کو ناممکن بنانے کے لیے درخت گرا دیں، آگ لگانے کے لیے گھریلو ساختہ آلات کا بھرپور استعمال کریں، نقل و حمل کے مراکز کو تباہ کر دیں اور رات یا شام کے وقت زیادہ کام کریں۔

  • روسی افواج نے دارالحکومت کیف کوجانے والی گیس پائپ لائن دھماکے سے اڑا دی

    روسی افواج نے دارالحکومت کیف کوجانے والی گیس پائپ لائن دھماکے سے اڑا دی

    کیف: روسی افواج نے دارالحکومت کیف کوجانے والی گیس پائپ لائن دھماکے سے اڑا دی ،اطلاعات کے مطابق یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی کے دفتر نے کہا ہے کہ روس یافواج نے ملک کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں ایک گیس پائ لائن کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جبکہ دارالحکومت کیئف کے ایک ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

    یوکرین کی سرکاری مواصلاتی سروس نے کہا ہے کہ دارالحکومت سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر تیل کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حکام نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے زہریلا دھواں اٹھ رہا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا ہے کہ یوکرین کی فوج کی جانب سے سخت مزاحمت ملنے پر روس کی حملہ آور فوج کو مایوسی کا سامنا ہے جبکہ پیش قدمی سست ہونے کے باعث فوج دارالحکومت کیئف میں داخل نہیں ہو سکی۔

    دوسری جانب یوکرینی شہری قریبی ممالک میں پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ جعمرات سے حملے کے بعد تین بچوں سمیت 198 شہری ہلاک ہوئےہیں۔

    اس سے قبل امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ اور مغربی اتحادی ممالک یوکرین کی فوج کو ہتھیار بھجوا رہے ہیں جبکہ امریکہ کا آئندہ دنوں میں مزید اسلحے کی ترسیل کا ارادہ ہے تاکہ روس کے زمینی اور فضائی حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ پینٹاگون کے مطابق روس کی حملہ آور فوج کا 50 فیصد اس وقت یوکرین میں موجود ہے تاہم غیر متوقع طور پر مزاحمت کا سامنا کرنے کے باعث پیش رفت آہستہ ہے۔

    عہدیدار نے کہا کہ بالخصوص یوکرین کے شمالی حصوں میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کوئی خاطر خواہ پیش قدمی نہ ہونے پر روسی فوج کی مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق روسی افواج دارالحکومت کیئف سے تقریباً 30 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

  • روس کےیوکرین پر حملے تیز:سلامتی کونسل میں ووٹنگ:حالات عالمی جنگ کی طرف گامزن

    روس کےیوکرین پر حملے تیز:سلامتی کونسل میں ووٹنگ:حالات عالمی جنگ کی طرف گامزن

    کیف:روس کےیوکرین پر حملے تیز:سلامتی کونسل میں ووٹنگ:حالات عالمی جنگ کی طرف گامزن ،اطلاعات کے مطابق روس نے یوکرین پر حملے تیز کر دیئے، دارالحکومت کیف میں بھی گھمسان کی لڑائی جاری ہے، اقوام متحدہ کا خصوصی اجلاس بلانے کےلیے سلامتی کونسل میں امریکی قراردار پر ووٹنگ آج ہوگی۔

    یوکرین کےخلاف روس پوری قوت میدان میں لے آیا، یوکرینی اہداف پر حملوں میں تیزی کے بعد دارالحکومت کیف زور دار دھماکوں سے گونج اٹھا۔ روس نے دارلحکومت کیف کی ایک ائیر فیلڈ پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے، روسی وزیرخارجہ کےمطابق کیف کے مغربی حصے کو بھی یوکرینی فوج سے کاٹ دیا گیا ہے۔

    یوکرین اور روس کی جانب سے ایک دوسرے کونقصان پہنچانے کے متضاد دعوے سامنے آئے ہیں، یوکرین حکام نے روسی پیش قدمی روکنے اور ہزاروں روسی فوجیوں کی ہلاکت اورزخمی ہونےکا دعویٰ کیا ہے، یوکرین میں تباہی کی فوٹجز بھی سامنے آئی ہیں، ایک خاتون جلتے گھر کے سامنے بیٹی کے ساتھ کھڑی طنز کررہی ہے کہ پوٹن کا شکریہ جس نے ہمارا گھر تباہ کردیا۔

    ادھر امریکا اورالبانیہ کی درخواست پر سلامتی کونسل کا ایک اور ہنگامی اجلاس بلا لیا گیا ہے، میٹنگ میں جنرل اسمبلی کاخصوصی اجلاس بلانے پر ووٹنگ ہو گی، اجلاس بلانے کے خلاف مستقل 5 ارکان میں سے کسی کو ویٹو کا اختیار نہیں ہو گا۔

    ادھر معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حالات روس کے خلاف جانے لگے ہیں اور یوکرین کے باسیوں نے روسی پیش قدمی روک دی ہے ، یوکرین کے شمالی حصوں میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کوئی خاطر خواہ پیش قدمی نہ ہونے پر روسی فوج کی مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق روسی افواج دارالحکومت کیئف سے تقریباً 30 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

  • یوکرین کی رکن پارلیمنٹ کا  روس کیخلاف میدان جنگ میں لڑنے کے اعلان نے نقشہ ہی بدل دیا

    یوکرین کی رکن پارلیمنٹ کا روس کیخلاف میدان جنگ میں لڑنے کے اعلان نے نقشہ ہی بدل دیا

    کیف :یوکرین کی رکن پارلیمنٹ کا روس کیخلاف میدان جنگ میں لڑنے کے اعلان نے نقشہ ہی بدل دیا ،اطلاعات ہیں‌کہ روس کے حملوں کے بعد یوکرین کی خاتون رکن پارلیمنٹ کیرا روڈک نے کل ہتھیار اٹھانے کا اعلان کیا تھا اور اس بہادر خاتون کے اعلان نے یوکرین کے بچوں ، بوڑھوں اور مردو خواتین سب کو اتنا حوصلہ دیا ہےکہ ہرکوئی اپنے وطن کےلیے لڑنے مرنے کے لیے تیار ہےجس نے روس کےلیے بہت ہی مشکل صورت حال پیدا کردی ہے اور یہی وجہ ہےکہ روس کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہاہے

     

    کل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر رکن پارلیمنٹ کیرا روڈک نے جنگی ہتھیار تھامے تصویر شیئر کی تھی اور ساتھ ہی لکھا کہ میں کلاشنکوف چلانا اور ہتھیار اٹھانے مشق کر رہی ہوں۔

     

     

    کیرا روڈک نے مزید کہنا تھا کہ کچھ روز پہلے تک میرے ذہن میں یہ خیال کبھی نہیں آیا تھا۔ انہوں نے یوکرین کی خواتین کی جنگ میں حصہ لینے کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ہماری خواتین اس مٹی کی اسی طرح حفاظت کریں گی جس طرح ہمارے مرد کر رہے ہیں۔

     

    ایک دوست کے ہمراہ تصویر شیئر کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ نے لکھا کہ مزاحمتی دستے جمع ہو رہے ہیں، میں اپنے دوست کے ساتھ مل کر آج سخت رات کے لیے تیار ہو رہی ہوں۔کیرا روڈک نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ہم روسی دشمن فوجیوں سے لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انٹرویو میں انہوں نے کلاشنکوف اٹھا رکھی تھی۔

    یہ بھی کہا جارہا ہےکہ روس کو یوکرین کی عوام کی طرف سے سخت مزاحمت کی وجہ سے سخت نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ،یہ بھی خبریں پچھلے چوبیس گھنٹوں سے آرہی ہیں کہ یوکرین نے روس کے3500 فوجی ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے دارالحکومت کیف کی سڑکوں پرلڑائی جاری ہے۔

     

    https://twitter.com/JoseFox_/status/1497611162908831752?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1497611162908831752%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.arynews.tv%2Fukraine-parliament-member-kira-rudik%2F

    برطانوی میڈیا کے مطابق یوکرین کی فوج نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ یوکرین کیخلاف جنگ میں شریک 3500 روسی فوجیوں کوہلاک اور200 کوگرفتارکرلیا۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یوکرین کی فوج نے اب تک روس کے 14 طیارے،8 ہیلی کاپٹرز مارگرائے جبکہ 102 ٹینک تباہ کردئیے ہیں۔
    یوکرینی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کیف کی سڑکوں پرلڑائی جاری ہے۔ کیف کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

  • یوکرین پرروسی حملہ :دو لاکھ یوکرینی ملک چھوڑ گئے

    یوکرین پرروسی حملہ :دو لاکھ یوکرینی ملک چھوڑ گئے

    نیویارک :اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے مطابق یوکرین میں نقل مکانی بھی بڑھ رہی ہے لیکن ملک میں فوجی کاروائی کی وجہ سے صحیح تعداد کا اندازہ لگانا اور امداد فراہم کرنا مشکل ہورہا ہے، دو لاکھ سے زائد افراد یوکرین چھوڑ کر پڑوسی ممالک میں جا چکے ہیں۔

    اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے نے ہفتے کے روز کہا کہ روس کے حملے کے نتیجے میں اب تک تقریباً دو لاکھ سے زائد افراد یوکرین چھوڑ کر پڑوسی ممالک میں جا چکے ہیں۔ جن میں سے نصف پولینڈ اور بہت سے ہنگری، مالڈووا، رومانیہ اور اس سے آگے جا چکے ہیں۔فلیپو گرانڈی کا ٹویٹفلیپو گرانڈی کا ٹویٹاقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کو توقع ہے کہ اگر صورت حال مزید بگڑتی ہے تو 40 لاکھ تک یوکرینی باشندے ملک چھوڑ سکتے ہیں۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ہمسایہ ممالک پولینڈ، مالڈووا، ہنگری، رومانیہ اور سلوواکیہ جا رہے ہیں اور یہاں تک کہ کچھ بیلاروس کی طرف بھی جا رہے ہیں جہاں سے کچھ روسی افواج یوکرین میں داخل ہوئیں۔اس کے پاس ملک کے لحاظ سے تعداد کے بارے میں فوری طور پر تفصیلات نہیں تھیں، لیکن اب تک سب سے بڑی تعداد پولینڈ پہنچ رہی ہے،

    جہاں حالیہ برسوں میں تقریباً 20 لاکھ یوکرینی پہلے ہی کام کرنے کے لیے آباد ہو چکے ہیں، جو 2014 میں یوکرین میں روس کی پہلی دراندازی کی وجہ سے وہاں سے پناہ لیے تھے اور مواقع کی تلاش میں تھے۔پولینڈ کی حکومت نے ہفتے کی صبح کہا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران 100,000 سے زیادہ یوکرینی پولش-یوکرینی سرحد عبور کر چکے ہیں۔پولش براڈکاسٹر TVN24 کی رپورٹ کے مطابق، میڈیکا بارڈر کراسنگ پر پولینڈ میں داخل ہونے کے لیے گاڑیوں کی ایک قطار یوکرین میں 15 کلومیٹر (9 میل) تک پھیلی ہوئی تھی

  • روس کے کیف شہر پرچاروں طرف سے حملوں نے صورتحال بدل کررکھ دی

    روس کے کیف شہر پرچاروں طرف سے حملوں نے صورتحال بدل کررکھ دی

    ماسکو: روس کے کیف شہر پرچاروں طرف سے حملوں نے صورتحال بدل کررکھ دی ،اطلاعات کے مطابق روس نے اب یوکرین کی راجدھانی کیف پر چاروں جانب سے حملہ کرنے کا اعلان کیاہے یعنی کہ حتمی جنگ کا اعلان کردیا ہے اور ہفتہ کی رات گئے تک شدید لڑائی کی اطلاعات آرہی ہیں‌۔

    کہا جارہا ہے کہ در اصل روسی وزارت دفاع کے مطابق ماسکو اور کیئف کے درمیان مذاکرات کی امید میں جمعے کو لڑائی میں وقفہ کیا گیا لیکن یوکرین کی جانب سے مذاکرات سے انکار کے بعد حملے کا دوبارہ آغاز کر دیا گیا۔

    روس کے سرکاری خبر رساں ادارے آر آئی اے نے ملک کی وزارت دفاع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یوکرین میں موجود روسی فوجی یونٹوں کو جمعے کے وقفے کے بعد تمام اطراف سے حملہ دوبارہ شروع کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

    وزارت دفاع نے بھی کریملن کے جانب سے کیے گیے تبصرے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو وار کیف کے درمیان مذاکرات کی امید میں جمعے کو لڑائی میں وقفہ کیا گیا لیکن یوکرین کی جانب سے مذاکرات سے انکار کے بعد حملے کا دوبارہ آغاز کر دیا گیا ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا ہے کہ روس کے’وحشیانہ اور بلا اشتعال حملے‘کے مقابلے کے لیے یوکرین کو 35 کروڑ ڈالر کی اضافی فوجی امداد دی جائے گی۔ بلنکن کے بیان کے مطابق‘امدادی پیکیج میں تباہ کن مزید دفاعی امداد شامل ہو گی جس کی مدد سے یوکرین بکتربند گاڑیوں، فضائی فورس اور دوسرے خطرات کا مقابلہ کرے گا جن کا اسے اس وقت سامنا ہے۔‘ دوسری جانب کریملن نے ہفتے کو یوکرین پر الزام لگایا ہے کہ وہ مذاکرات سے انکار کر کے فوجی تنازعے کو طول دے رہا ہے۔

    ادھر مغرب نواز یوکرین کے خلاف روسی فوج کی پیشدمی جاری ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کانفرنس کال پر صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں کہا ’متوقع مذاکرات کے سلسلے میں روسی صدر نے کل سہ پہر روسی فیڈریشن کی مرکزی فورسز کی پیشدمی معطل کرنے کا حکم دیا تھا۔ چونکہ یوکرین نے بات چیت سے انکار کر دیا اس لیے آج سہ پہر سے پیشقدمی دوبارہ شروع کر دی گئی۔ کیئف کے میئر نے شہر میں کرفیو نافذ کر دیا ہے جو ہفتے کی شام سے شروع ہو کر پیر کی صبح تک جاری رہے گا۔ میئر آفس کے اعلامیے میں پہلے کیے اعلان کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کرفیو میں کوئی وقفہ نہیں ہو گا۔

    یاد رہے کہ روسی فوجی دستے ہفتے کو یوکرین کے دارالحکومت کیف میں داخل ہو گئے جہاں سڑکوں اور گلیوں میں دو بدو لڑائی شروع ہو چکی ہے۔ روسی فوجیوں کی درالحکومت میں پیش قدمی کے بعد شہر کے حکام نے کیف کے رہائشیوں سے محفوظ مقامات پر پناہ لینے کے لیے زور دیا ہے۔

  • یوکرینی صدر کی یوکرائن کے فوجیوں کے ساتھ ملٹری بیس پرکافی پیتے ویڈیو وائرل

    یوکرینی صدر کی یوکرائن کے فوجیوں کے ساتھ ملٹری بیس پرکافی پیتے ویڈیو وائرل

    یوکرینی صدر کی یوکرین کے فوجیوں کے ساتھ ملٹری بیس پرکافی پیتے ویڈیو وائرل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق روس نے یوکرین پر حملہ کیا ہے،

    روس نے امریکی اور یورپی پابندیوں پر سخت ردعمل دینے کا اعلان کیا ہے ،روس کا کہنا ہے کہ امریکی کمپنی اور شخصیات کے خلاف ردعمل کے طور پر پابندیاں لگائیں گے روس نے فرنچ گیانا کے خلائی ایجنسی سے تکنیکی عملہ واپس بلا لیا روس نے یورپ کے ساتھ خلائی مشن بھی معطل کر دیا

    حملے کے بعد یوکرینی صدر نے دنیا سے مدد کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ انہیں مدد فراہم کی جائے اور روس پر پابندیاں عائد کی جائیں، یوکرینی صدر کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ ملک چھوڑ گئے ہیں تا ہم انہوں نے اپنی ویڈیو شیئر کی اور کہا کہ وہ ملک چھوڑ کر نہیں جا رہے، اب یوکرینی صدر کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں یوکرائن کے صدر ولادیمیر زیلنسکی یوکرائن کے فوجیوں کے ساتھ ملٹری بیس پر پرسکون انداز میں کافی پی رہے ہیں سوشل میڈیا صارفین ویڈیو کو وائرل کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ان کے اس انداز اور بہادری کی داد دے رہے ہیں

    امریکہ نے بھی یوکرینی صدر کو ملک سے نکلنے کی پیشکش کی جس کو یوکرینی صدر نے مسترد کر دیا اور کہا کہ میں دارالحکومت ہی میں رہوں گا کیونکہ لڑائی یہاں ہو رہی ہے مجھے گولہ بارود کی ضرورت ہے سواری کی نہیں

    یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ فرانسیسی صدر میکرون کے ساتھ بات چیت ہوئی،اتحاد یوں سے دفاعی ہتھیار اور آلات یوکرین پہنچ رہے ہیں، مغربی میڈیا کے مطابق امریکہ اور برطانیہ سمیت 28 ممالک کا یوکرین کو فوجی سازوسامان کی فراہمی پر اتفاق کیا ہے ،یوکرینی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے پرامن شہر کیف پر حملے کی کوشش کی ،کیف ایک اور رات روسی افواج کے حملوں سے بچ گیا،دنیا روس کو تنہا کردے ،ان کےسفیروں کو نکال دے کیف میں صبح 6 بجے تک ہونے والی لڑائی میں 35 افراد زخمی ہوئے ہیں

    یوکرینی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے گزشتہ 2دن میں شہریوں کونشانہ بنایا،کیف میں اسپتالوں ،یتیم خانوں اوربچوں کےسینٹرز پر حملے کیے گئے،دنیا سے فیصلہ کن ردعمل کا مطالبہ کرتے ہیں دنیا روسی کارروائیوں پر عملی ردعمل کا مظاہرہ کرے،

    ممکن ہے آپ مجھے آخری بار زندہ دیکھ رہے ہوں،ہم آگ میں جھونکنے والا امریکہ مدد کو نہ آیا:یوکرینی صدرکا ویڈیو پیغام

    امریکی صدر جوبائیڈن کا ہنگامی فیصلہ:یوکرین کوفوجی کمک دینے کےلیے 350 ملین ڈالرامداد کا اعلان

     یورپ روس سے جنگ کرنے کےلیےتیار:سخت اقدامات،حالات تیسری عالمی جنگ کی طرف گامزن

    روسی صدر پیوٹن نے یوکرین میں فوجی آپریشن کا حکم دے دیا-

    :یوکرائن میں ایمرجنسی نافذ:سائرن بج گئے:شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم

    برطانیہ آسٹریلیا اور جاپان نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کا آغاز کردیا ہ

    پوتن کوملک سے باہر روسی فوج کی تعیناتی:نیٹو کے جنگی طیارے سائرن بجانےلگے:پابندیاں بھی لگ گئیں‌ 

    :روس جنگ کےلیے تیار:ولادی میرپوتن نے ملک سے باہر فوج استعمال کرنے کیلیے قانونی رائے مانگ لی

    یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم،

    پانچ روسی طیارے، ایک ہیلی کاپٹر گرا دیا، یوکرینی وزارت دفاع کا دعویٰ

    کون ہے جو ہمارا ساتھ دے؟ یوکرینی صدر کی دہائی

    روس نے یوکرین کو بات چیت کی مشروط پیشکش کردی

    https://login.baaghitv.com/oittefaq-sabiq-ukarani-sadar-apni-bandoq-ksath-nikla-aayte/

  • میانمار کی فوجی کونسل نے یوکرین پر روسی حملے کی حمایت کر دی

    میانمار کی فوجی کونسل نے یوکرین پر روسی حملے کی حمایت کر دی

    میانمار کی ملٹری نے جمعرات کو یوکرین پر روس کے حملے کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئےعالمی برادری کے دھارے سے یکسر مختلف موقف اپنایا ہے۔ عالمی برادری نے یوکرین کے خلاف روسی جارحیت کی نہ صرف مذمت کی ہے ، بلکہ ماسکو کے خلاف سخت پابندیاں عائد کرنے کا اقدام کیا ہے۔

    وائس آف امریکہ کی برمی سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے، میانمار کی فوجی کونسل کے ترجمان جنرل زا من تن نے فوجی حکومت کی جانب سے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی حمایت کے اقدام کی وجوہ بیان کی ہیں۔

    بقول ان کے، ”اول یہ کہ روس نے میانمار کی خودمختاری کو مستحکم کرنے میں مدد دی ہے، اسی لیے،میرے خیال میں ہمارے لیے یہی اقدام درست ہے۔ دوئم یہ کہ دنیا کو بتایا جائے کہ روس ایک عالمی طاقت ہے”۔

    فوجی انقلاب کے سربراہ من آنگ ہلینگ نے گزشتہ سال جون میں روس کا دورہ کیا تھا، اور تب سے برما اور روس کی فوج کے مابین مضبوط مراسم قائم ہیں۔ روس اُن چند ملکوں میں سے ایک ہے جس نے یکم فروری 2021ء کے انقلاب کے بعد برما کی ملٹری کونسل کی حمایت کی تھی، اس بغاوت میں ایک سویلین حکومت کا تختہ الٹ کر جمہوریت پسند راہنما آنگ سان سوچی اور دیگر اعلیٰ عہدے داروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

    تب سے، اقوام متحدہ اور برما کے امور پر نظر رکھنے والے ماہرین، ملٹری کونسل کو اسلحہ فروخت کرنے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ تاہم روس اس مطالبے کو نظرانداز کرتار ہا ہے۔

  • یوکرین روس جنگ: کون کس سے بھاری اورکس کے پاس کتنے فوجی اور ساز و سامان ہے؟رپورٹ

    یوکرین روس جنگ: کون کس سے بھاری اورکس کے پاس کتنے فوجی اور ساز و سامان ہے؟رپورٹ

    ماسکو: یوکرین روس جنگ: کون کس سے بھاری اورکس کے پاس کتنے فوجی اور ساز و سامان ہے؟اطلاعات کے مطابق اس وقت روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری ہے ، روس نے بھرپورفضائی حملہ کیا ہے اور بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے

    دفاعی صلاحیتوں کے اعتبار سے روس بلاشبہ یوکرین سے کہیں زیادہ طاقتور ہے اور یہ بات یوکرین بھی بخوبی جانتا ہے البتہ ممکن ہے کہ اسے مغربی ممالک اور امریکا کا تعاون حاصل ہو۔

    اگر روس اور یوکرین کے فوجیوں کی تعداد اور دفاعی ساز و سامان کا تقابلی جائزہ کریں تو روس کا یوکرین سے کوئی مقابلہ نہیں بنتا۔

    عسکری قوت

    دنیا بھر میں عسکری قوت اور دفاعی ساز و سامان کے اعتبار کے ملکوں کی درجہ بندی جاری کرنے والے عالمی ادارے گلوبل فائر پاور اور آئی آئی ایس ایس ملٹری پاور کے اعداد و شمار کے مطابق روس دنیا کی دوسری بڑی فوجی طاقت ہے جبکہ یوکرین کا نمبر 22 واں ہے۔

    فوجیوں کی تعداد

    فوجیوں کی مجموعی تعداد کی بات کی جائے تو یہاں بھی روس کو یوکرین پر بھاری سبقت حاصل ہے۔ روس کے فوجیوں کی مجموعی تعداد تقریباً 29 لاکھ ہے جبکہ یوکرین کے پاس 11 لاکھ کے قریب فوجی موجود ہیں۔ ان میں سے روس کے فعال فوجیوں کی تعداد 9 لاکھ جبکہ ریزرو دستوں کی تعداد 20 لاکھ ہے۔

    اسی طرح یوکرین کے فعال فوجیوں کی تعداد صرف 2 لاکھ جبکہ ریروز دستوں کی تعداد 9 لاکھ ہے۔

    جنگی طیاروں کی تعداد کسی بھی جنگ میں بری فوج کو اگر فضائی معاونت حاصل نہ ہو تو ان کیلئے پیش قدمی مشکل ہوجاتی ہے یہی وجہ ہے کہ فضائی قوت جنگ جیتنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر دونوں ملکوں کے پاس موجود جنگی طیاروں کا ذکر کیا جائے تو یہاں زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔

    روس کے پاس تقریباً 1511 جنگی طیارے موجود ہیں جبکہ یوکرین کے پاس موجود طیاروں کی تعداد محض 98 ہے۔

    جنگی ہیلی کاپٹرز
    اس میدان میں بھی روس یوکرین سے آگے ہے۔ یوکرین کے پاس صرف 34 ہیلی کاپٹرز ہیں جبکہ روس کی عسکری قوت میں 544 ہیلی کاپٹرز موجود ہیں۔

    ٹینکس

    موجودہ دور میں جنگ کے دوران ٹینکس کا کردار کسی حد تک محدود ضرور ہوا ہے تاہم ان کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ روس اور یوکرین کے معاملے میں ٹینکس کی اہمیت زیادہ ہے کیوں کہ روس یوکرین کے علاقوں میں پیش قدمی چاہتا ہے اور پیش قدمی کا محفوظ طریقہ ٹینکس کو لے کر آگے بڑھنا ہے۔

    روس کے پاس موجود ٹینکس کی تعداد 12 ہزار 240 ہے جبکہ یوکرین 2596 ٹینکس رکھتا ہے۔

    بکتر بند گاڑیاں

    روس کے پاس موجود بکتر بند گاڑیوں کی تعداد 30 ہزار 122ہے جبکہ یوکرین کے پاس 12 ہزار 303 بکتر بند گاڑیاں ہیں۔

    قابل انتقال توپیں

    روس کے پاس ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے والی تقریباً 7571 توپیں موجود ہیں جبکہ یوکرین کے پاس اس طرح کی 2040 توپیں موجود ہیں۔

    ایٹمی ہتھیار

    یہ بات ہم سب کے علم میں ہے کہ روس ایٹمی ملک ہے جبکہ یوکرین کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود نہیں۔ سوویت یونین کا حصہ ہونے کی وجہ سے ماضی میں جو جوہری ہتھیار یوکرین کے پاس موجود بھی تھے وہ ان سے دستبردار ہوچکا ہے۔

    روس کے پاس موجود ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد حتمی طور پر تو نہیں بتائی جاسکتی البتہ ایک محتاط اندازے کے مطابق روس کے پاس مختلف نوعیت کے جوہری ہتھیاروں کی تعداد 6 ہزار سے زائد ہے جبکہ امریکا کے پاس بھی تقریباً اتنے ہی ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔

    دونوں ملکوں کی عسکری قوت کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات تو آسانی سے کہی جاسکتی ہے کہ یوکرین جنگ کی صورت میں روس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور اگر امریکا یا یورپی ممالک نے اس میں مداخلت کی تو جنگ کا دائرہ مزید بھی بڑھ سکتا ہے۔

    روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کیا ہے؟

    خیال رہے کہ 1922 میں جب سوویت یونین کی بنیاد ڈالی گئی تو یوکرینین سوویت سوشلسٹ ریپبلک (یوکرینین ایس ایس آر) بھی اس میں شامل تھا تاہم1991 میں جب سوویت یونین کا شیرازہ بکھرا تو یوکرین نے بھی آزادی حاصل کی۔

    البتہ روس اپنا شیرازہ بکھرنے کے باوجود سوویت یونین میں شامل ممالک کو کہیں نہ کہیں اپنا حصہ سمجھتا ہے اور یوکرین کا معاملہ بھی یہی ہے۔ یوکرین میں قدیم روسی نسل کے باشندے بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں جن میں کریمیا، دونیستک اور لوہانسک میں ان کی اکثریت ہے۔

    روس اور یوکرین کے درمیان اس سے قبل 2014 میں بھی جنگ ہوچکی ہے۔ دراصل یوکرین کی خواہش ہے کہ وہ یورپی یونین میں شمولیت حاصل کرے اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا حصہ بنے تاکہ اسے تجارتی و دفاعی تحفظ حاصل ہوسکے تاہم روس مختلف وجوہات کی بنا پر اس کے خلاف ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کی بنیادی وجہ یہ دو عوامل ہی ہیں۔