Baaghi TV

Tag: جے یو آئی

  • عیدالفطر پر مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے لیے کارکنوں کو عبدالخیل آنے سے روک دیا گیا

    عیدالفطر پر مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے لیے کارکنوں کو عبدالخیل آنے سے روک دیا گیا

    جمعیت علمائے اسلام پاکستان نے عیدالفطر کے موقع پر کارکنوں کے لیے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے لیے آبائی گاؤں عبدالخیل آنے سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔

    جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کارکنوں کی قیادت اور خانوادہ مفتی محمود سے محبت اور عقیدت مثالی ہے، اور عیدین کے مواقع پر کارکنان کی بڑی تعداد ملاقات اور دعاؤں کے لیے حاضری دیتی رہی ہے تاہم ملک میں امن و امان کی صورتحال، سیکیورٹی خدشات اور قائد جمعیت کی صحت و انتظامی امور کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

    جمعیت کی قیادت نے تمام کارکنوں اور ذمہ داران، چاہے ان کا تعلق کسی بھی ضلع سے ہو، ہدایت کی ہے کہ وہ عید کے موقع پر عبدالخیل نہ آئیں اور ان ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ اعلامیے میں کارکنوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ان بابرکت دنوں میں اپنی قیادت کو دعاؤں میں یاد رکھیں۔

  • غصہ آیا تو 16 سالہ لڑکی سے شادی کروں گا،حافظ حمد اللہ

    غصہ آیا تو 16 سالہ لڑکی سے شادی کروں گا،حافظ حمد اللہ

    جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ غصہ آیا تو 16 سالہ لڑکی سے شادی کروں گا۔

    اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ قرآن و سنت کیخلاف کوئی قانون سازی نہیں کی جا سکتی، اگر پارلیمنٹ قرآن و سنت کے منافی قوانین منظور کرے تو یہ آئین سے انحراف کے مترادف ہے پارلیمنٹ میں بیٹھ کر آئین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر آرٹیکل 6 کا اطلاق ہونا چاہیے۔

    حافظ حمد اللہ نے کہا کہ سربراہ جے یو آئی کو مولانا فضل الرحمٰن صاحب کو مشورہ دیتا ہوں کہ چاروں صوبوں میں اجتماعی شادیوں کا اہتمام کریں اور اس میں ان نوجوانوں کی شادیاں کریں جو بالغ ہو چکے ہو اور ان کی عمریں 18 سال سے کم ہوں ہم قانون کو پاؤں کے تلے روندیں گے کیونکہ جو قانون قرآن و سنت کے منافی ہو، ہم اس کو تسلیم نہیں کریں گے، یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر مجھے غصہ آیا تو میں نے فیصلہ کیا، اگرچہ میں دوسری شادی اور دوسرے نکاح کے موڈ میں نہیں ہوں، وہ ہی ایک کافی ہے لیکن اگر غصہ آیا، قانون توڑنا تو میں بھی 16 سالہ لڑکی سے شادی کروں گا-

  • ہم کسی کے دل میں زبردستی اعتماد نہیں ڈال سکتے، مولانا فضل الرحمان

    ہم کسی کے دل میں زبردستی اعتماد نہیں ڈال سکتے، مولانا فضل الرحمان

    لاہور: مولانا فضل الرحمان نےکہا ہے کہ انٹرنیٹ پر پھیلنے والی جھوٹی خبروں پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ کسی کی منفی باتیں تلاش کرنا شریعت کے خلاف ہے، ہر بات میں حقائق اور سچائی ہونی چاہیے۔

    لاہور میں کنونشن سے خطاب میں جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے انٹرنیٹ پر پھیلنے والی جھوٹی خبروں پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ کسی کی منفی باتیں تلاش کرنا شریعت کے خلاف ہے، ہر بات میں حقائق اور سچائی ہونی چاہیے،پاکستان اور افغانستان کے علما اس بات پر متفق ہیں کہ اب کوئی مسلح جنگ نہیں ہونی چاہیے، مسلح گروہوں کو بھی اس معاملے پر غور کرنا چاہیے۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ ہم کسی کے دل میں زبردستی اعتماد نہیں ڈال سکتے، سیاست اور نظریات وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں، اور موجودہ وفاقی و صوبائی حکومتیں منتخب نہیں ہیں گالیوں کی سیاست بدبودار اور بدنام ہو چکی ہے،انہوں نے حکومت سے شکوہ کرتے ہوئے کہاکہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو بحث کے لیے پیش نہیں کیا جا رہا وزیرستان میں گزشتہ ایک سال میں 3 علما کے قتل کی بھی نشاندہی کی اور کہاکہ ہم سفاک قاتلوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔

    وزیراعظم کی اسی سال حج کے تمام ضروری مراحل کو مکمل ڈیجیٹائز کرنے کی ہدایت

    مولانا فضل الرحمان نے دینی مدارس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ طلبہ کو تعلیم اور رہائش کے ساتھ فراہم کرتے ہیں، جبکہ حکومت آج اسکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جو حالیہ غیر منطقی اقدامات ہو رہے ہیں وہ دین اسلام کے خلاف ہیں، جب کوئی تنقید کرتا ہے تو میں اپنی کمزوری کو تلاش کرتا ہوں اور اسے سنجیدگی سے لیتا ہوں۔

    قطر میں سابق بھارتی نیوی افسر کی دوبارہ گرفتار ی،مودی حکومت کی سفارتی کارکردگی پر سنگین سوالات

  • جنوبی وزیرستان میں خارجی دہشتگرد حملہ، جے یو آئی کے مولانا حافظ سلطان محمد شہید

    جنوبی وزیرستان میں خارجی دہشتگرد حملہ، جے یو آئی کے مولانا حافظ سلطان محمد شہید

    جنوبی وزیرستان کے وانا میں خارجی دہشتگردوں کے حملے میں مولانا حافظ سلطان محمد شہید ہو گئے-

    آئی ای ڈی دھماکے میں زخمی ہونے والے مولانا حافظ سلطان محمد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے،خارجی دہشت گردوں نے مولانا حافظ سلطان محمد اور ان کی بیٹی کو وانا میں نشانہ بنایا۔

    پولیس نے بتایا کہ وفاق المدارس العربیہ کے ضلعی صدر مولانا سلطان محمد وزیر کو نشانہ بنانے کے لیے ریموٹ کنٹرول دیسی ساختہ دھماکہ خیز ڈیوائس (آئی ای ڈی) کو ایک دینی مدرسے کے قریب نصب کیا گیا تھا،یں طبی امداد کے لیے فوری طور پر ڈیرہ اسماعیل خان لے جایا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گئے۔

    جنوبی وزیرستان (لوئر) ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) محمد طاہر شاہ وزیر نے تصدیق کی کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں،انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ذمہ داروں کا سراغ لگانے کے لیے جائے وقوعہ سے جمع کیے گئے شواہد کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

    ‎کراچی ائیرپورٹ پر جعلی برطانیہ ای ویزا کے ذریعے بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، مسافر گرفتار

    جمعیت علما اسلام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ باجوڑ اور جنوبی وزیرستان جیسے گہرے مذہبی تشخص رکھنے والے علاقوں میں حریت پسند اور امن کے داعی علما مسلسل خطرے میں ہیں،جمعیت علما اسلام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ باجوڑ اور جنوبی وزیرستان جیسے گہرے مذہبی تشخص رکھنے والے علاقوں میں حریت پسند اور امن کے داعی علما مسلسل خطرے میں ہیں۔

    سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جنوبی وزیرستان (لوئر) میں ہونے والے بم دھماکے میں جمعیت علمائے اسلام کے مخلص اور جری رہنما مولانا سلطان محمد کی شہادت پر گہرا دکھ اور افسوس ہوا ہے۔

    سربراہ پاک فضائیہ کی عراقی ایئر چیف سے ملاقات

    جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مخلص اور جری ساتھی مولانا سلطان محمد کی شہادت پر گہرا دکھ اور افسوس ہوا ہے جمعیت علما اسلام اپنی آئینی، جمہوری اور پرامن جدوجہد جاری رکھے گی، چاہے اس راہ میں کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینا پڑیں،قومی سلامتی کے ادارے فوری طور پر امن قائم کرنے اور علما کرام کے تحفظ کو یقینی بنائیں، اور دہشتگرد عناصر کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔

  • مدارس کو  کسی صورت سرکاری اداروں کے حوالے نہیں کیا جائے گا،مولانا فضل الرحمان

    مدارس کو کسی صورت سرکاری اداروں کے حوالے نہیں کیا جائے گا،مولانا فضل الرحمان

    راولپنڈی: جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مدارس دینِ اسلام کے محافظ ہیں قرآن و حدیث کے علوم اور ایمان جیسی نعمت کے محافظ ہیں، انہیں کسی صورت سرکاری اداروں کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔

    راجہ بازار راولپنڈی میں مدرسہ تعلیم القرآن میں دستار بندی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مولانا اشرف علی کے مشکور ہیں جنہوں نے انہیں تقریب میں شرکت کی اجازت دی، آج پوری دنیا کی حکمرانی اگرچہ امریکا کے ہاتھ میں ہے لیکن ایمان کی طاقت اس کے پاس نہیں، اسی لیے دینی مدارس ایمان کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، قرآن و حدیث کے علوم کی حفاظت ہمارے دینی مدارس کر رہے ہیں، ایک طرف پی آئی اے کو نجی کمپنیوں کے حوالے کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف مدارس پر قبضے کی خواہش کی جا رہی ہے، جو کسی صورت قبول نہیں،

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ علامہ شبیر عثمانی کو بھی انگریز نے اپنے سامنے ان پڑھ کہا تھا، آج بھی اسی سوچ کے نقشِ قدم پر چلا جا رہا ہے اور دین کے علم کو علم تسلیم نہیں کیا جاتا،مدارس دینِ اسلام کے محافظ ہیں قرآن و حدیث کے علوم اور ایمان جیسی نعمت کے محافظ ہیں،ہمیں اداروں پر اعتماد نہیں، انہیں کسی صورت سرکاری اداروں کے حوالے نہیں کیا جائے گا، مدارس کے تحفظ پر تمام مکاتبِ فکر کے علماء متفق ہیں۔ ہم مکالمے پر یقین رکھتے ہیں اور مشاورت سے بننے والے قانون کی پاسداری کریں گے، مگر کسی قسم کا دھوکہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    تقریب کے دوران نعرے بازی کرنے والے طلباء کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر آپ نعرے لگانے کی بجائے کام کر رہے ہوتے تو پنجاب میں سب سے زیادہ نشستیں جیت جاتے لوگوں کو بتایا جائے کہ مدارس سیاست انبیا کی وراثت ہے اور ہم اس مسند کے حق دار ہیں۔

  • اگر زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر صوبوں کی تقسیم کی جائے تو کوئی حرج نہیں،مولانا فضل الرحمان

    اگر زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر صوبوں کی تقسیم کی جائے تو کوئی حرج نہیں،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر صوبوں کی تقسیم کی جائے تو کوئی حرج نہیں، لیکن سیاسی بنیاد پر ایسا اقدام انتشار کو جنم دے گا –

    رحیم یار خان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر صوبوں کی تقسیم کی جائے تو کوئی حرج نہیں، لیکن سیاسی بنیاد پر ایسا اقدام انتشار کو جنم دے گا ،صدارتی نظام اس ملک میں پہلے بھی ناکام ہو چکا ہے،اور آئندہ بھی نہیں چل سکتا،انتخابات شفاف ہوں تو عوامی مینڈیٹ کی عزت ہوگی پاکستان کا مستقبل صرف پارلیمانی نظام سے جڑا ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ 2018 اور 2024 کے انتخابات میں عوامی رائے کا احترام نہیں کیا گیا، اور اگر الیکشن میرٹ پر ہوتے تو آج ملک مہنگائی اور استحصال کا شکار نہ ہوتامولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کو سیاست میں مثبت قدم قرار دیا، تاہم واضح کیا کہ ہر جماعت کو احتجاج کا جمہوری حق حاصل ہے، لیکن قانون کے دائرے میں رہ کر۔

    بنگلہ دیش: عثمان ہادی کے قاتل کو بھارت فرار کرانے والا ملزم گرفتار

    مدارس کی رجسٹریشن پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے قانون پاس ہو چکا ہے، لیکن عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے اگر ادارے اپنی آئینی حدود میں کام کریں تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں، مگر آئین سے کھلواڑ برداشت نہیں کیا جائے گا،انہوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے علما کو اعزازیہ دینے کے اعلان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ عمل علماء کی توہین ہے، شریعت میں کسی کو استثنیٰ حاصل نہیں، احتساب سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔

    افریقا میں ریسکیو ہیلی کاپٹر گر کر تباہ،2 غیرملکی سیاح سمیت 5 ہلاک

  • افغانی اگر بینکوں سے اپنا پیسہ نکال لیں تو کئی بینک دیوالیہ ہوجائیں، مولانا فضل الرحمان

    افغانی اگر بینکوں سے اپنا پیسہ نکال لیں تو کئی بینک دیوالیہ ہوجائیں، مولانا فضل الرحمان

    کراچی:جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اپنی روایات بچانے کے لیے ہم جدوجہد کررہے ہیں، ایک دوسرے کو عزت دینا ہماری روایات ہیں، اعزازی ڈگری کا شکریہ مگر میں خود کو مولانا کہلوانا پسند کروں گا۔

    کراچی میں گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان کے معاملے کر آج کے تناظر میں نہیں دیکھا جائے کہ وہاں سے کچھ لوگ آئے اور کارروائی کرکے چلے گئےہمیں 78 سال کی افغان پالیسی پر بات کرنی چاہیے، افغانستان کبھی بھی پاکستان کا دوست نہیں رہا ، ظاہر شاہ سے اشرف غنی تک ہمیں کوئی افغا ن دوست حکومت نہیں ملی، کیا وجہ ہے؟ ہم اپنا بیانیہ تیار کریں گے تو الزام ان پر ہی دیں گے مگر ہمیں اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے کہ یہ ہماری افغان پالیسی کا فیلیئر تو نہیں؟ اس پر بھی بحث کرنی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیں شکایات افغان حکومت سے ہیں اور ہم زور ڈال رہے ہیں ان لوگوں پر جو چالیس سال سے ہمارے مہمان ہیں، مہاجرین کو مہمان کے طور پر ڈیل کیا جائے، مہاجرین جب بھی کہیں جاتے ہیں مسئلہ بنتا ہے یہ پاک افغان دوطرفہ مسئلہ ہے دیکھنا پڑے گا یہ چالیس برسوں میں افغانیوں نے پاکستان کی معیشت میں کتنا حصہ ڈالا؟ افغانی اگر بینکوں سے اپنا پیسہ نکال لیں تو کئی بینک دیوالیہ ہوجائیں، پالیسی بنائے جائے افغانیوں کی صلاحیتیں پاکستان کے لیے استعمال ہوں۔

    مولانا فضل الرحمان کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نواز دیا گیا

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آئین پاکستان کہتا ہے کہ آئین سازی قرآن و سنت سے ہٹ کر نہیں ہوگی مگر ہم نے حالیہ ترامیم میں کئی قانون پاس کیے ہیں چاہیے وہ 18 سال سے کم عمری کی شادی کا بل ہو، گھریلو تشدد کا بل ہو یا ٹرانس جینڈر ایکٹ ہو، ہم نے قرآن و سنت کو پس پشت ڈال کر صرف اقوام متحدہ کے کہنے پر قانون سازی کی، اس معاملے پر بات کی جائے ہم بات چیت کرنے کو تیار ہیں،2018ء اور 2024ء دونوں انتخابات عوامی نہیں اسٹیبلشمنٹ کے تھے۔

    کراچی:گھریلو جھگڑے پر بھائی نے بھائی کو قتل کر دیا

    ان کا کہنا تھا کہ دفاعی حوالے سے پاکستان کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے اور ہمیں اسے برقرار رکھنا چاہیے ہم پاکستان کے طاقت ور دفاع کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن دفاعی قوت کو دفاعی لحاظ سے مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں سیاسی قوت کے طور پر نہیں کیوں کہ سیاسی قوت کے طور پر مضبوط ہونا دفاعی قوتوں کا نہیں عوام اور سیاست دانوں کا حق ہے، ہمیں سیاسی اداروں کو مضبوط کرنا چاہیے اگر تمام ادارے مضبوط ہوں گے تو ملک آگے بڑھے گا ہمیں ایک دوسرے کی بالادستی کے بجائے آئین کی بالادستی کے لیے کام کرنا چاہیے۔

    پاپوانیو گنی میں زلزلے کے شدید جھٹکے

    غزہ میں فوج بھیجنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی طور پر بھی غزہ میں فوجیں نہ بھیجے اور کسی بھی امن فورس کا حصہ نہ بنے، ہمیں ایک تلخ تجربہ ہےماضی میں اُس وقت کے بریگیڈیئر ضیا الحق اردن گئے تھےاور فلسطینیوں کے خلاف کارروائی کی تھی، فلسطینی وہ وقت بھولے نہیں، ایک دور میں یہ بھی ایشو اٹھا تھا کہ عراق فوج بھیجی جائے یا نہیں، یہ افواج پیس کیپنگ نہیں ہوتیں یہ جنگ کیپنگ ہوتی ہیں ان کا کام لڑنا ہوتا ہے پاکستان کسی صورت یہ غلطی نہ کرے۔

  • مدرسہ کے بارے جو نظریہ انگریز کا وہی نظریہ آج کے اسٹبلشمنٹ کا ہے، مولانا فضل الرحمان

    کراچی:جمعیت علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مدرسہ کے بارے جو نظریہ انگریز کا وہی نظریہ آج کے اسٹبلشمنٹ کا ہے ،اگر میں پاکستان کی دفاع کو طاقتور دیکھنا چاہتا ہوں تو پھر تم ان دینی مدارس کو طاقتور کیوں نہیں دیکھ سکتے۔

    جے یو آئی ضلع جنوبی کراچی کے زیر اہتمام مولوی عثمان پارک لیاری کراچی میں عظیم الشان تحفظ مدارس دینیہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےمولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دینی مدارس کیخلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے، ہم تو علم کے تقسیم کے قائل ہی نہیں، ہم ایک نصاب کے قائل ہیں، تم نے مدارس کو تقسیم کیا ان کے حقوق پر شب خون مارا انہی مدارس نے آپ کو شکست دے دی، جو مدرسہ تمہارے ہاتھ لگا اس کی دینی علوم کی حیثیت ختم ہوگئی۔

    اںہوں نے نے کہا کہ تمام مکاتب فکر جمیعت علماء اسلام اور وفاق المدراس العربیہ پاکستان یہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان میں ایک پرامن نظام کا قیام ہو، کہتے ہیں ہمیں سیاست میں مت گھسیٹوں آپ سیاست میں آتے کیوں ہو؟ زبان سے بات نہیں بنتی، کردار سے تاثر بنتا ہے، پاکستان کے تمام ادارے ناگزیر ہیں، آپ ہمارے سرآنکھوں پر مگر جب اپنے حد میں رہیں گے۔

    بھارتی وزارت دفاع کے لیفٹیننٹ کرنل رشوت اور کرپشن کیس میں گرفتار

    انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ کی جماعت نے کراچی کے اضلاع کے دینی مدارس کے فضلاء کو یہاں جمع کیا ہے اور ان کے سروں پر دستار فضلیت سجانے کیلئے اس اجتماع کا اہتمام کیا گیا، میں سب کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انہوں اپنا نصاب مکمل کیا اور انہوں نے عملی طور دنیا کے طرف جانا ہے، ایک تاثر پھیلا جارہا ہے کہ دینی مدارس نے کم نوجوانوں کی صلاحیتیں محدود کی جاتی ہیں اور وہ معا شر ے کے لیے کردار ادا نہیں کرتے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مجھ سے قبل علماء کرام نے اپنے بیان کیے، ہمیں سوسائٹی میں مختلف لوگوں سے ملنا پڑتا ہے ان کے دل و دماغ میں تحفظات ہوتے ہیں لیکن ان کو یہ نہیں بتایا کہ مدرسہ کیوں وجود میں آیا 1857 سے پہلے اس نوعیت کا مدرسہ نہیں تھا مدرسہ کے قیام کا سبب تم بنے ہو، قرآن و سنت کا مسئلہ تم نے اٹھایا، مدرسہ کے بارے جو نظریہ انگریز کا وہی نظریہ آج کے اسٹبلشمنٹ کا ہے جو نظریہ اس وقت اسٹبلشمنٹ کا تھا وہی ان کا ہے۔

    ایرانی سرحد عبور کرتے ہوئے 40 افغان شہری شدید سردی سے جاں بحق

    امیر جے یو آئی نے کہا کہ مولانا شبیر احمد عثمانی اور مفتی شفیع نے دیوبند سے ہجرت کی اور اس ملک میں ہجرت کی اور آکر تجویز دی اب نہ ہندو ہے نہ انگریز آئیں دینی مدرسہ کیلئے ایک لائحہ طے کریں، لیکن تم نے ان کی رائے اور تجویز کو قبول نہیں کیا، تم آج کہتے ہو ہمیں انگریز سے خطرہ نہیں بلکہ خطرہ دینی مدارس سے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ تعاون ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنے کانام ہےمدارس کے تمھارے مذاکرات ہوئے دستخط ہوئے مختلف ادوار میں آپ کے طرف سے شرائط آئیں، دینی مدارس نے قبول کی اس کے باوجود دینی مدارس کیخلاف سازش کیوں کررہے ہو؟مانتا ہوں کہ ملک پاکستان میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹیاں ہیں لیکن ہمارے مدارس سے تم نیشنل ڈمی یونیورسٹی بناؤ تو ہم قبول نہیں کریں گے، تم نے مدارس کو تقسیم کیا اسکے تنظیم پر شب خون مارا لیکن مدارس نے تمھیں شکست دی۔

    پی ٹی آئی رہنما عمر ڈار احتجاجی ریلی کے دوران گرفتار

    مولانا نے کہا کہ ہمیں انگریز یا ہندو سے نہیں دینی علوم کے لیے مسلمانوں سے خطرہ ہے اپنی بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ سے خطرہ ہے، کونسا شعبہ ہے پاکستان کا جو تمھارے 78 سال کاکردگی کی گواہی دے، پاکستان میں صرف دینی مدارس ہیں جس نے ملک کو ٹاپ رینکنگ پر رکھا ہوا ہے ،اگر میں پاکستان کی دفاع کو طاقتور دیکھنا چاہتا ہوں تو پھر تم ان دینی مدارس کو طاقتور کیوں نہیں دیکھ سکتے،دینی مدارس کیخلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے اگر سنجیدہ ہو تو آؤ بیٹھو بات کرو ملک کے کتنے مدراس جو تم نے اپنے تحویل میں لیے آج کہاں ہیں ، پاکستان میں جو بھی ادراہ آپکے ہاتھ لگا ہے اسکی دینی حیثیت ختم کردی گئی، کوئی پارٹی اپنے منشور کے لیے پُرامن جدوجہد کرتی ہے تو یہ اس کا آئینی حق ہے۔

    چیئرمین پی سی بی کا انڈر 19 ایشیا کپ جیتنے والی ٹیم کیلئے بڑا اعلان

  • حکومت کے پاس اصل مینڈ یٹ ہی موجود نہیں،مولانا فضل الرحمان

    حکومت کے پاس اصل مینڈ یٹ ہی موجود نہیں،مولانا فضل الرحمان

    چکوال:جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو جعلی مینڈیٹ کی حامل قرار دیا-

    چکوال میں میڈیاسے گفتگو کرتےہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت کے پاس اصل مینڈ یٹ ہی موجود نہیں، یہ جعلی مینڈیٹ کے ساتھ حکومت کر رہے ہیں، جعلی مینڈیٹ کے باوجود بھی حکومت صرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ہے جبکہ پیپلز پارٹی محض سہارا بنی ہوئی ہے، یعنی یہ جعلی اکثریت نہیں بلکہ جعلی اقلیت کی حکومت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جب آئین کے خلاف قانون سازی کی جائے گی تو اس کا مطلب آئین سے بغاوت ہوگا، جس کے بعد ان کا مینڈیٹ خود بخود ختم ہو جاتا ہے، اسی لیے ہم باہمی مشاورت سے ایک متفقہ مؤقف سامنے لانا چاہتے ہیں،جہاں تک 28 ویں ترمیم اور نئے صوبوں کی بازگشت کا تعلق ہے، تو اصولی بات اور ہے اور عملی حقیقت کچھ اور ہے۔

    مولانا نے کہا کہ آپ نے فاٹا کو صوبے میں ضم کیا، ہم نے دلائل کے ساتھ مخالفت کی اور اس کے نقصانات سے آگاہ بھی کیا لیکن اسٹیبلشمنٹ خود کو عقل کل سمجھتی رہی اور آج وہی لوگ کہہ رہے ہیں کہ وہ فیصلہ غلط تھا اور اب باقی صوبوں کو بھی تقسیم کرنے کی بات ہو رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا اس کے لیے زمینی حالات سازگار ہیں؟ یا کل پھر ہم روئیں گے کہ ہم نے ملک کو نقصان پہنچایا، یہ لوگ بات تو کر لیتے ہیں، پھر طاقت کے زور پر فیصلے نافذ بھی کر دیتے ہیں، فاٹا کا انضمام بھی طاقت کے زور پر کیا گیا اور آج وہاں مسلح گروپس نے علاقے پر قبضہ جما لیا ہے اور ریاست کی رٹ ختم ہو چکی ہے۔

    مولانافضل الرحمان نے کہا کہ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ 75،78 برسوں میں نہ پاکستان کی افغان پالیسی درست رہی اور نہ ہی دہشت گردی کے خلاف پالیسی کوئی مثبت نتیجہ دے سکی ہے فیصلے سیاست دانوں کو کرنے ہوتے ہیں، طاقت تو ان کے فیصلوں کے بعد استعمال ہوتی ہےپراسیکیوشن اور دیگر اداروں کی خرابیوں پر بھی اجتماعی رائے قائم ہونی چاہیے اور 22 تاریخ کو علما کی کانفرنس میں اس پر واضح مؤقف سامنے آ جائے گا۔

    مولانافضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت نہ دینا بھی ایک جمہوری ملک میں افسوس ناک ہے، میں تو یہ بھی سوال اٹھاتا ہوں کہ وہ گرفتار کیوں ہیں؟ نہ میں سیاست دانوں کی گرفتاری کے حق میں ہوں اور نہ ملاقاتوں پر پابندی کے حق میں ہوں اصل سوال یہ ہے کہ حکومت کس کی ہے اور اصل فیصلے کون کر رہا ہے؟ ہم سب انہی فیصلوں کے تحت زندگی گزار رہے ہیں، آرمی چیف نئے اسٹیٹس کے ساتھ جو اپنے آنے والے مستقبل کا وہ آغاز کر رہے ہیں تو انہوں نے علما کے اجتماع سے خطاب کیا ہے تو اچھا گمان کیا جائے۔

  • حکمران  پاکستان کے آئین اور قانون کے تقاضوں کو پورا نہیں کر رہے،مولانا فضل الرحمان

    حکمران پاکستان کے آئین اور قانون کے تقاضوں کو پورا نہیں کر رہے،مولانا فضل الرحمان

    اسلام آباد:امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ انشاء اللہ، ملک کے اندر بہتری اور بیرونِ ملک پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے اجتماعی لائحۂ عمل طے کیا جائے گا

    امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان نے جامعہ مفتاح العلوم مستونگ بلوچستان کی سالانہ تقریب سے آن لائن خطاب میں کہا کہ مجلسِ اتحادِ امت کے زیر اہتمام مختلف مکاتبِ فکر کے نمائندگان اور دینی و سیاسی جماعتوں کے قائدین کا ایک اہم اجتماع 22 دسمبر کو کراچی میں منعقد ہوگا ،اجتماع میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ ہمارا ملک کس سمت جا رہا ہے-

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اجتماع میں پاکستان کے آئین اور قانون کے تقاضوں پر غور کیا جائے گا،اجتماع میں ملک کی ترقی، صوبوں میں عوام کے حقوق، بالخصوص چھوٹے صوبوں کے مسائل پر بات کریں گے،افغانستان اور ایران کے ساتھ بہتر تعلقات کے فروغ، موجودہ مشکلات کے حل، دوست ممالک سے تعلقات کو مضبوط بنانے اور شکایات کے ازالے کے لیے تعمیری اقدامات پر غور کیا جائے گا۔مولانا فضل الرحمان

    انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ، ملک کے اندر بہتری اور بیرونِ ملک پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے اجتماعی لائحۂ عمل طے کیا جائے،اجتماع کے فیصلوں سے ملک کے مستقبل پر دیرپا اثرات ظاہر ہونگے ،آج پوری دنیا میں دینی علوم کے حوالے سے برصغیر، اور بالخصوص پاکستان، ایک نمایاں مقام رکھتا ہے،ہمارے اکابر کی شروع کی ہوئی جدوجہد کی بنیاد پر قرآن، سنت، حدیث اور فقہ کے علوم کی حفاظت ہو رہی ہے۔

    امیر جے یو آئی نے کہا کہ دینی مدارس سے فارغ التحصیل علماء اور اساتذہ مختلف ممالک میں قرآن و حدیث کے ماہرین کے طور پر تسلیم کیے جاتے ہیں، مدار س کے طلبہ دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم میں بھی آگے بڑھ رہے ہیں،امتحانات میں مسلسل بورڈ ٹاپ کر رہے ہیں ایسا ذہین اور محنتی ٹیلنٹ شاید دنیا میں کم ہی ملے، افسوس کہ ہمارے ملکی نظام میں اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کے دلوں میں اس کی قدر پیدا فرمائے۔

    https://x.com/juipakofficial/status/2000910998316929083?s=20

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارے حکمران نہ صرف قرآن و سنت سے ناآشنا ہیں ،بلکہ پاکستان کے آئین اور قانون کے تقاضوں کو بھی پورا نہیں کر رہے، حا لیہ دنوں میں کی گئی آئینی ترامیم اور قانون سازی واضح طور پر قرآن، سنت اور حدیث کے منافی ہے،انہیں دینی علوم اور قرآنِ کریم کی صحیح سمجھ ہوتی تو وہ ایسی غلطیاں ہرگز نہ کرتے جیسی حالیہ دنوں میں اسمبلی کے اندر کی گئیں۔