Baaghi TV

Tag: جے یو آئی

  • جے یو آئی کی نئے کینالوں کیخلاف سینیٹ میں قرارداد جمع

    جے یو آئی کی نئے کینالوں کیخلاف سینیٹ میں قرارداد جمع

    جمعیت علماءاسلام نے دریائے سندھ پر نئے کینال بنانے کے خلاف سینیٹ میں قرارداد جمع کرادی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سینیٹ میں جے یو آئی کی جمع کرائی گئی قرارداد کے مطابق سندھ کے عوام کے تحفظات کا فوری ازالہ کیا جائے۔ جے یو آئی پاکستان نے مطالبہ کیا کہ دریائے سندھ پر غیرقانونی کینالوں کی تعمیر بند کی جائے، سندھ کی تقسیم پر خاموش نہیں رہیں گے۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے جے یو آئی سندھ کی درخواست پر سینیٹ میں تحریک جمع کرائی۔

    اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی چھیننے کی ہر سازش کا پارلیمان میں محاسبہ کریں گے، وفاقی حکومت سندھ دشمن منصوبوں پر وضاحت دے۔

    پیپلز پارٹی وفاق کا حصہ، بات ذمہ داری سے کرنی چاہیے، رانا ثنا اللہ

    کالعدم تنظیم کی چاکنگ اورسوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے والا ملزم گرفتار

    پیپلزپارٹی اراکین کا وفاقی حکومت گرانے کا عندیہ

    پنجاب یونیورسٹی سے اساتذہ کروڑوں روپے کی اسکالرشپ لے کر فرار

  • صوبے کے اختیارات پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، مولانا فضل الرحمان

    صوبے کے اختیارات پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، مولانا فضل الرحمان

    پشاور: سربراہ جے یوآئی مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ مائنز اینڈ منرل بل کا معاملہ حساس ہے، ہمارے وسائل ہمارے قبضے میں ہونے چاہئیں، صوبے کے اختیارات پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لئے توہمیں میدان میں آنا ہوگا۔

    باغی ٹی وی : پشاور میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمار ے ساتھیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہےاور ریاستی ادارے جانبدار رویہ اپنا رہے ہیں اس وقت ملک کا سب سےحساس مسئلہ معدنیات کا ہے صوبوں سے معدنی وسائل سے متعلق بل منظور کرائے جا رہے ہیں جو آئین کے بنیادی تقاضوں کے خلاف ہیں آئین کا تقا ضہ ہے کہ کوئی قانون سازی اس کے خلاف نہ ہو، اور قانون سازی کرتے وقت صوبائی مفادات کو مدنظر رکھا جائے۔

    مولانا فضل الرحمان نے فاٹا انضمام کو بھی عالمی دباؤ کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان کے مفاد میں نہیں بلکہ عالمی قوتوں کے دباؤ پر کیاگیا وفاق صوبوں کےقدرتی وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو ناقابل قبول ہے ، ہمارے وسائل ہمارے قبضے میں ہونے چاہییں جے یو آئی سربراہ نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو انہیں ایک بار پھر میدان میں آنا پڑے گا۔

    اسلام آباد میں طوفانی بارش اور شدید ژالہ باری،گاڑیوں کے شیشےٹوٹ گئے

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ افغان مہاجرین کی جبری بے دخلی ایک سنگین انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے۔ یہ یک طرفہ مسئلہ نہیں، بلکہ پاکستان اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے، جسے سنجیدگی سے حل کیا جانا چاہیے 26 ویں آئینی ترمیم میں 56 میں سے 34 شقوں سے انہیں دستبردار ہونا پڑا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے گندم کے کاشتکا روں کیلئے پیکج کا اعلان کر دیا

    اسرائیل کے خلاف مارچ کااعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 27 اپریل کو مینار پاکستان پرمارچ ہوگا، افغانستان سے کوئی مسئلہ ہے تو بات چیت کی جائے، پشاور میں11 مئی کو ملین مارچ ہوگا، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حکومتی رٹ ختم ہو چکی، خیبر پختونخوا میں بدامنی پر تشویش ہےمائنز اینڈ منرل ایکٹ جے یو آئی کا نہیں، وسائل صوبے کے ہوں گے اور شرائط صوبے کے ہوں گے، صوبے کے تمام جماعتوں کو ایک پیج پرلائیں گے، ریکوڈک قانون سازی پر ہم نے راستہ روکا تھا۔

    سونے کی قیمت ساڑھے 3 لاکھ کے قریب پہنچ گئی

  • ہماری غربت کو جاگیر دار استعمال کر رہا ہے، مولانا فضل الرحمان

    ہماری غربت کو جاگیر دار استعمال کر رہا ہے، مولانا فضل الرحمان

    تونسہ شریف : سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہماری غربت کو جاگیر دار استعمال کر رہا ہے،ہماری پسماندگی کاغلط استعمال اور غربت کو کمزوری سمجھا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : تونسہ شریف میں استحکام پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےمولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ طویل عرصے بعد یہاں میں اجتماع سے مخاطب ہوں، ہم بھی کوہ سلیمان کے دامن سے ہیں، ہم سب کے مسائل ایک جیسے ہیں ہماری غربت کو جاگیر دار استعمال کر رہا ہے، اس خطے میں وہ آواز موجود ہے جس کو جے یوآئی کی آواز کہا جاتا ہے، غلامی سے بغاوت ہماری پہچان ہے، دوسر ے ممالک سے آزادی کی بھیک نہیں مانگی جاسکتی۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر ہم اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لے کر چلے، جے یو آئی واحد قوت نے جو اس آئینی ترمیم کی راہ میں رکاوٹ بنی اور حکومت کو 56 نکات سے 34 نکات پر محدود کیا، اب اگر اس ترمیم کو نقصان پہنچتا ہے تو یکم جنوری 2028 کو سود کے خاتمے کی شق کو بھی نقصان ہوگا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ امریکی سرمایہ کاروں کو دلاسے دینے لگے

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دنیا کے مختلف مسلم ممالک آگ میں جل رہے ہیں، اور دہشتگرد بھی انہی کو کہا جاتا ہے، مسلمان فساد کی جڑ نہیں بلکہ دنیا میں آگ لگانے والے فسادی ہیں فلسطین میں 60 ہزار شہری شہید کردیئے گئے، اسرائیلی وزیراعظم ایک جنگی مجرم ہے، امریکا اور یورپ برابر کے مجرم ہیں۔

    سربراہ جے یو آئی ف کا کہنا تھا کہ ہماری پسماندگی کاغلط استعمال ہو رہا ہے، ہماری غربت کو کمزوری سمجھا جا رہا ہے، حکمران غربت کو کمزور ی سمجھتے ہوئےغلط استعمال کر رہے ہیں، مظالم کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے، اسلامی ممالک میں آگ بھڑک رہی ہے ہم مغر ب کی تہذیب کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں، ہمیں امریکا اورمغرب کی غلامی کرنے کہا جاتا ہے، ہم تہذیب، روایات مغرب، یور پ اور امریکا سے مانگتے ہیں۔

    پانی کی قلت اور ممکنہ خشک سالی، پنجاب میں نئےکار واش اسٹیشنز بنانے پر پابندی

    انہوں نے کہا کہ فساد کی جڑ تم ہو،ہم نہیں ہیں، افغانستان، شام اور عرب دنیا میں آگ جل رہی ہےاور اس میں جل بھی میں رہا ہوں، انسانیت کیلئے خطرہ بھی میں ہوں، ایسا نہیں ہو سکتا، فلسطین میں اسرائیلی جبر سے60 ہزار مسلمان بمباری میں شہید ہوئے، غزہ میں بزر گ ،خواتین اور بچے شہید ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔

  • پی ٹی آئی اور جے یو آئی کی اہم ملاقات کی اندرونی تفصیلات سامنے آگئیں

    پی ٹی آئی اور جے یو آئی کی اہم ملاقات کی اندرونی تفصیلات سامنے آگئیں

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے درمیان اہم ملاقات کی اندرونی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے جے یو آئی کو عید کے بعد احتجاج میں شمولیت کی باضابطہ دعوت دے دی ہےجے یو آئی نے پی ٹی آئی کا ساتھ دینے کے لیے مشروط حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے جے یو آئی نے احتجاج میں شمولیت کے بدلے پی ٹی آئی سے مدارس بل پر حمایت کا مطالبہ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق جے یو آئی کا مؤقف ہے کہ اگر پی ٹی آئی مدارس بل پر ان کا ساتھ دے تو وہ احتجاج میں پی ٹی آئی کی حمایت کے لیے تیار ہیں،تاہم، پی ٹی آئی قیادت نے اس حوالے سے فوری جواب دینے کے بجائے بانی تحریک انصاف سے مشاورت کے لیے وقت مانگ لیا ہے۔

    جنگ بندی کے نام پر اسرائیل کا دوہرا معیار،غزہ کی بجلی بندش قابل مذمت، حافظ طلحہ سعید

    ذرائع کے مطابق سلمان اکرم راجہ آج اڈیالہ جیل میں بانی تحریک انصاف سے ملاقات کریں گے اور اس معاملے پر حتمی مشاورت ہوگی۔ پی ٹی آئی تحریکِ تحفظِ آئین کے ساتھ مل کر احتجاج کی تیاری مکمل کرے گی، جس کے بعد جے یو آئی کی شرکت کا حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

  • گرینڈ اپوزیشن الائنس میں شمولیت،جے یوآئی نے پی ٹی آئی کو شرائط بتا دیں

    گرینڈ اپوزیشن الائنس میں شمولیت،جے یوآئی نے پی ٹی آئی کو شرائط بتا دیں

    جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو گرینڈ اپوزیشن الائنس میں شمولیت کے لیے اپنی شرائط سے آگاہ کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق جے یو آئی کے رہنماؤں نے اسد قیصر کو اپنی شرائط سے آگاہ کیا اور اسد قیصر نے ان شرائط کو پی ٹی آئی کے بعض مرکزی رہنماؤں تک پہنچایا۔پی ٹی آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جے یو آئی کی بیشتر شرائط وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، علی امین گنڈاپور سے متعلق ہیں، لیکن اسد قیصر نے ان شرائط کو باضابطہ طور پر وزیراعلیٰ کے پی کو آگاہ نہیں کیا۔

    جے یو آئی کی طرف سے پی ٹی آئی کو آگاہ کی جانے والی شرائط پر پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے نجی ٹی وی جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "جے یو آئی نے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے اور ان تحفظات کے بارے میں بانی پی ٹی آئی کے احکامات پر عمل درآمد کیا جائے گا۔”اس حوالے سے جے یو آئی کے ترجمان اسلم غوری نے کہا کہ "جے یو آئی نے الائنس میں شرکت کے بارے میں ابھی باضابطہ فیصلہ نہیں کیا۔ جو بھی فیصلہ ہوگا، وہ سب کو آگاہ کر دیا جائے گا۔”

    دوسری طرف، جیو نیوز کے پروگرام ‘نیا پاکستان’ میں پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما اسد قیصر نے کہا کہ "مولانا فضل الرحمان کو علی امین گنڈاپور سے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں ہے۔ ہمیں صرف اس اتحاد کے بارے میں بانی پی ٹی آئی سے ہدایات کا انتظار ہے۔”جے یو آئی کی جانب سے خیبرپختونخوا میں الیکشن آڈٹ کے مطالبے پر اسد قیصر نے کہا کہ "ہم سے بھی پشاور میں سیٹیں چھینی گئیں۔ جو بھی چاہتا ہے، وہ آ کر پشاور میں الیکشن آڈٹ کرا لے۔”

    بھارتی فضائیہ کے دو طیارے ایک دن میں تباہ

    ڈیرہ غازی خان :ادویات اسکینڈل، معطلیوں کی گونج، بڑی مچھلیاں محفوظ؟

  • مولانا فضل الرحمان کی قطر میں حماس رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں

    مولانا فضل الرحمان کی قطر میں حماس رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں

    دوحہ: جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قطر میں حماس رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں کی ہیں۔

    باغی ٹی وی: ترجمان جے یو آئی اسلم غوری کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے حماس کے سابق سربراہ ڈاکٹر خالد مشعل سے ملاقات کی، ملاقات میں علامہ راشد محمود سومرو، مفتی ابرار احمد اورحماس رہنما ڈاکٹرظہیر ناجی بھی موجود تھے۔

    ترجمان جے یوآئی کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے حماس رہنماؤں کو پاکستانی عوام کے جذبات سے آگاہ کیا، انہوں نے شہدا کی تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستانی عوام کے دل اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں، اسرائیل جنگی مجرم اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

    حماس کے سابق سربراہ ڈاکٹرخالد مشعل نے کہا کہ فلسطینی مسلمان اپنے مسلمان بھائیوں کی امداد کے منتظر ہیں، فلسطینی مسلمانوں کودوائیوں،خیموں اورراشن کی اشد ضرورت ہے،ترجمان جے یو آئی نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے حماس رہنماؤں کو ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔

    حماس کی مجلس شوریٰ کے سربراہ ابوعمر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اور جے یو آئی امت مسلمہ کی طرف سے فرض کفایہ ادا کررہے ہیں گھروں کی تعمیر، خیموں، دواؤں اور سحر و افطار میں پاکستانی عوام اور امت مسلمہ سے تعاون کی اپیل کرتے ہیں۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستانی عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔

  • ملک میں کوئی سیاسی بات نہیں اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے بات کرتی ہے،مولانا فضل الرحمان

    ملک میں کوئی سیاسی بات نہیں اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے بات کرتی ہے،مولانا فضل الرحمان

    اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملکی سالمیت کی پالیسی ایوانوں میں نہیں بنائی جا رہی بلکہ بند کمروں میں بنائی جا رہی ہے-

    باغی ٹی وی : قومی اسمبلی کے اجلاس میں نکتہ اعتراض پر گفتگو کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایوان میں ایسی قانون سازی بھی دیکھی جو بغیر کاروائی منظور ہوئی، اس ایوان میں اضطراب اور ہنگامہ آرائی کو سال ہوگیا، ہمارا نکتہ نظر کوئی سننے کو تیار نہیں۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت چاہے نہ چاہے ایوان کو احسن طریقہ سے چلانا اسپیکر کی ذمہ داری ہے، پورا ملک اس وقت اضطر اب میں مبتلا ہے، عام آدمی کے پاس روزگار نہیں، محکمہ اور ادارے ملیامیٹ کیے جارہے ہیں، لاکھوں لوگ بے روزگار ہورہے ہیں، حکومت عوام کے مفاد کے خلاف کوئی اقدام کرتی ہے تو پارلیمنٹ میں بات ہوتی ہے، حکومت ایک سال سے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہی ہے۔

    انسانی اسمگلرز کے گرد گھیرا مزید تنگ کیا جا رہا ہے،عطااللہ تارڑ

    سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ ملکی سالمیت کا مسئلہ ہے، بار بار بات کررہا ہوں، ہمیں ریاست کی بقا کی بات کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہم ان سے لڑ رہے ہیں، ہمیں ادراک ہونا چاہیئے کہ 2 صوبوں میں کوئی حکومتی رٹ نہیں ہے قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں جو ہورہا ہے وزیراعظم شاید اس سے لاعلم ہیں، افغانستان ہمارے جرگے جاتے تھے اب حکومت کو کچھ علم نہیں، ملک میں کوئی سیاسی بات نہیں اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے بات کرتی ہے، ہم سے تو بس انگوٹھے لگوائے جاتے ہیں، ہمیں پارلیمان میں فیصلے کرنے ہیں، میرے علاقے میں بعض مقامات کو پولیس تو چھوڑیں آرمی بھی خالی کرگئی، ان علاقوں میں کس کا راج ہے؟-

    حزب اللہ کی اسرائیلی فوج کو 18 فروری تک لبنان خالی کرنے کی ڈیڈلائن

    مونالا فضل الرحمان نے کہا کہ بلوچستان کے اضلاع ابھی آزادی کا اعلان کریں تو اقوام متحدہ ان کی درخواست قبول کرلے، میری باتیں بڑی سنجیدہ ہیں،جنوبی خیبرپختونخوا میں کوئی حکومت نہیں، گلیاں سڑکیں مسلح لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں اللہ کو اونچی آواز میں بات پسند نہیں لیکن مظلوم کی اللہ بات سنتا ہے، پہلے ریاست اور حکومت کی رٹ کو تو مضبوط کریں، آپ کس کے لیے قانون بنارہے ہیں، صوبوں کی اسمبلیاں بھی عوام کی نمائندہ نہیں ہیں، کوئی پبلک نمائندہ عوام کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہیں، نظریاتی اور اتھارٹی کی جنگ ہے، میں نے 2018 کی پارلیمان کو تسلیم نہیں کیا تھا، 2024 کی پارلیمان کو بھی منتخب نہیں سمجھتا۔

    مخالفین کو پنجاب کی ترقی ہضم نہیں ہورہی،وزیراعلیٰ پنجاب

    انہوں نے کہا کہ کسی وقت ایک اور بازو ہم سے ٹوٹ جائے گا کسی نے اس کا سوچا ہے، ہم نے 40 سال پراکسی وار لڑی ہے، ہم نے اپنی فوج کو جنگ میں جھونکا، کیا ہم اس محاذ سے نکل چکے جس میں تمام کھرے ہماری طرف نکلتے تھے، کوئی افغانی مارا جائے تو ہمارا سارا غصہ افغانستان پر نکلتا ہے،میں انتخابات سے پہلے حکومت کی اجازت سے افغانستان گیا، ایک ایک نکتہ پر بات ہوئی کسی نے اس کو آگے نہیں چلایا، میری ریاست کے کرتا دھرتا ناکام ثابت ہوئے۔

    سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ ہمارے فیصلے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے فورم پر ہوتے ہیں، ہمارے فیصلے ہم نہیں کرتے، ہمارے اداروں کو آئی ایم ایف کنٹرول کرتا ہے، آئے روز آئی ایم ایف کا وفد آرہا ہے، اب تو آئی ایم ایف حکومت کی بجائے عدلیہ سے بات کرتا ہے، آئی ایم ایف وفد سپریم کورٹ بار سے مل رہا ہے، آئی ایم ایف وفد کا عدلیہ یا بار سے کیا تعلق، دینی مدارس کی رجسٹریشن پر کہا گیا بیرونی اداروں کو اعتراض ہے، دینی مدارس کے حوالے سے صوبائی اسمبلیوں میں قانون سازی نہیں کی جارہی، ٹرمپ نے آتے ہی کہا غزہ ہمارا ہے، ایک آزاد قوم کو دوسرے ملک میں مہاجر بنانے والے آپ کون ہوتے ہیں۔

    پاکستان نے عالمی بینک کے ساتھ شراکت داری سے استفادہ کیا،وزیراعظم

    انہوں نے کہا کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد یہودیوں کو فلسطین میں جبراً آباد کیا گیا، فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بےگھر کیا گیا، کیا ہم دوبارہ نو آبادیات کی طرف جارہے ہیں، ہمارے بارڈر پر جو ہورہا ہے یہ 40 سال سے ہے، صرف ایک ہی جگہ پر جنگ مسلط کی گئی ہے، امریکا یہاں معدنیات پر قبضہ کرنے آیا، خیبرپختونخوا اور افغانستان میں 2 طرح کی معدنیات ہیں، ایک وہ پتھر ہیں جو خلا میں جانے کے لیے راکٹس کے لیے کارآمد ہیں۔

    سربراہ جے یو آئی ف کا کہنا تھا کہ امریکا، چین اور روس سب کے یہاں مفادات ہیں جس کی وہ تگ و دو کررہے ہیں، کوئی پتہ نہیں یہ قبائلی علاقوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہوں، ان قبائلی علاقوں سے دنیا کو کنٹرول کرنا چاہتے ہوں، ہمارے قبائلی علاقوں میں جنگیں ہورہی ہیں، آپ نے ان کوضم کردیا، ہمارے علاقوں کا امن بھی خراب ہوگیا، آپ ملک اور ریاست کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں، میرے پاس تمام قبائل کا جرگہ آیا ہے، سب کا یہی کہنا کہ ہمیں امن دو۔

    مفتی قوی مجھے نہیں سنبھال پائیں گے،راکھی ساونت

    مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ پشاور میں تمام اضلاع کا جرگہ ہوا کہ ہمیں امن دو، آج قبائل کی خواتین گلی کوچوں میں بھیک مانگنے پر مجبور ہیں، صحیح لوگوں کے حوالے سب کریں، معاملہ پارلیمنٹ طے کرے یہ سب کرسکتی ہے، ہمیں سویلین قیادت پر اعتماد کرنا ہوگا، ورنہ وہی بے معنی باتیں، ورنہ وہی ہرروز بے معنی باتیں، یہ باتیں اس لیے کررہا ہوں کہ شاید کہ اترجائے تیرے دل میں میری بات۔

  • مولانا فضل الرحمان کو سیکیورٹی تھریٹ،ترجمان جے یو آئی کی کےپی حکومت پر تنقید

    مولانا فضل الرحمان کو سیکیورٹی تھریٹ،ترجمان جے یو آئی کی کےپی حکومت پر تنقید

    اسلام آباد: مولانا فضل الرحمان کو سیکیورٹی تھریٹ سے متعلق خط پر ترجمان جے یو آئی نے خیبر پختونخوا حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔

    باغی ٹی وی : ترجمان جے یو آئی اسلم غوری کے مطابق کے پی حکومت کا مولانا فضل الرحمٰن کی سیکیورٹی تھریٹ سے متعلق خط تشو یشناک ہے، حکومت تشویش اور خوف پھیلانے کے بجائے اپنی ذمہ داری پوری کرے، پشاور میں کامیاب امن جرگے کے بعد کے پی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکی ہے،حکومت بتائے کہ سربراہ جے یو آئی کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ اگر حکو مت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتی تو ناکامی کا اعلان کرے اور جے یو آئی کارکن اپنی قیادت کی حفاظت خود کرنا جانتے ہیں۔

    حکام کی نااہلی کے باعث نئی دہلی کے ریلوے اسٹیشن پر بھگدڑ ، 18 افراد ہلاک،درجنوں زخمی

    انہوں نے کہا کہ جے یو آئی اور اس کی قیادت کو عوام سے دور رکھنے کی ہر سازش کا مقابلہ کیا جائے گا، جلسے جلوسوں کے بعد اس قسم کے بیانات دے کر عوام کو خوف وہراس میں مبتلا کیا جا رہا ہے، جے یو آئی کو عوام سے دور رکھنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکتی، مو لانا فضل الرحمان سمیت تمام شہریوں کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے، ہماری امن و امان کی بات کو کمزوری نہ سمجھا جائے، حکو مت مولانا فضل الرحمٰن سمیت تمام جے یو آئی قیادت کی سیکیورٹی کو یقینی بنائے۔

    سعودی عرب اور امارات سمیت 11 ملکوں سے مزید 173 پاکستانی ڈی پورٹ

    واضح رہے کہ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جان کو خطرہ لاحق ہونے کے پیش نظر ڈی آئی خان پولیس نے تھریٹ لیٹر جاری کیا ہے۔

  • ملک میں پارلیمنٹ کے کردار کو ختم کیا جارہا ہے،مولانا فضل الرحمان

    ملک میں پارلیمنٹ کے کردار کو ختم کیا جارہا ہے،مولانا فضل الرحمان

    اسلام آباد: سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے سیاسی دھندوں سے ہم فارغ ہوں گے تو ملک کیلئے سوچیں گے۔

    باغی ٹی وی : پی ایف یو جے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آمروں نے ڈکٹیٹروں نے ہمیشہ سب سے سے پہلے میڈیا کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی، ہم نے ہمیشہ یہ کہا کہ حکومت صحافیوں کیلئے ضابطہ اخلاق نہ بنائے صحافی خود بنائیں، یقین ہے صحافی خود اپنے لئے ضابطہ اخلاق بنائیں تو یہ سب سے بہتر ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ ہر ڈکٹیٹر نے آئین، جمہوریت، پارلیمنٹ پر شب خون مارا، 26 ویں ترمیم کے نام پر آئین پر جو شب خون مارا گیا ہم نے اس کا مقابلہ کیا، عدلیہ کو اپنی لونڈی بنانے کی کوشش کی گئی، ملٹری کورٹس بناکر عدلیہ کو لونڈی بنانے کی کوشش کی گئی، 26 ویں ترمیم کی 56 شقیں تھیں، ہم نے حکومت کو باقی شقوں سے دست بردار کرایا اور انہیں صرف 22 شقوں پر لے آئے مگر دوتین مہینے کی منصوبہ بندی کے بعد پھر کچھ لوگ انسٹال کیے گئے۔

    انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور جے یو آئی کو دوبارہ لڑانے کی کوشش بھی کی گئی، ہمارے دو صوبے انتظامی لحاظ سے پاکستان سے کٹ چکے ہیں ان دو صوبوں میں حکومت کی کوئی رٹ نہیں شام ہوتے ہی وہاں مسلح گروہ معاشرے کو کنٹرول کررہے ہیں مگر اسلام آباد کے سیاسی دھندوں سے ہم فارغ ہوں گے تو ملک کیلئے سوچیں گے۔

    فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری کچھ قوتوں کو صرف اپنی اتھارٹی کی پروا ہے، ملٹری ہو یا ملیٹنٹ اسے عوامی رائے سے کوئی دلچسپی نہیں، ملک میں پارلیمنٹ کے کردار کو ختم کیا جارہا ہےجمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے، ڈمی نمائندے عوام کا کیس نہیں لڑسکتے، جہا ں جہاں سے جے یو آئی کا نمائندہ منتخب ہوا وہاں امن تھاپیکا ایکٹ کے حوالے سے علی اعلان صحافیوں کے ساتھ کھڑا ہوں پیکا ایکٹ پھیکا ایکٹ ہے، یہ ملک ہمارا ہے اور اس کی بقاء ہمارے لئے ضروری ہے، ’’طاقت مردہ باد، عدالت زندہ باد‘‘ ہم قدم بہ قدم صحا فیوں کے ساتھ چلیں گے۔

  • دنیا کے کسی بھی آزاد ملک کی حریت کے لیے ہم لڑیں گے،فضل الرحمان

    دنیا کے کسی بھی آزاد ملک کی حریت کے لیے ہم لڑیں گے،فضل الرحمان

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آج بھی ٹرمپ کہتا ہے میں غزہ کو خرید لوں گا، یہ ایک مرتبہ پھر نوآبادیاتی نظام کا آغاز ہے، دنیا کے کسی بھی آزاد ملک کی حریت کے لیے ہم لڑیں گے۔

    باغی ٹی وی : قادیانیت سے تائب ہوکر اسلام قبول کرنیوالی بچی کی تصنیف کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ کتاب ایک ایسی بہن کی روداد ہے جو خانوادہ کفر چھوڑ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوئی، اس بچی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، دین اسلام ہی آخری راستہ ہے جو حق کا راستہ ہے،اس بچی کو جن لوگوں نے سہارا دیا میں انہیں بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا اور بالخصوص برصغیر میں قادیانیت برطانیہ کا خود ساختہ پودا ہے، اس کا اعتراف مرزا غلام احمد نے خود اپنی کتابوں میں کیا ہے، یہ مسلمانوں کو گمرذہ کرنے کی ایک تحریک ہے، ہمارے اکابر نے اس فتنے کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کیا، تمام مسالک کے علماء نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ یہ مسلمان نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج مسلمانوں سے سوال کیا جاتا ہے کہ تم قادیانیوں کو کافر کیوں قراردیتے ہیں، قادیانیوں سے کوئی نہیں پوچھتا کہ وہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو کافر کیوں قرار دیتے ہیں، مصنفہ خنسہ محمد امین نے مشکل سفر کا انتخاب کیا، اسلام میں انسانیت کی آزادی کا پیغام ہے، یہ حق کا راستہ ہے لیکن مشکل راستہ بھی ہے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ ٹرمپ کہتا ہے میں غزہ کو خرید لوں گا، یہ ایک مرتبہ پھر نو آبادیاتی نظام کا آغاز ہے، دنیا کے کسی بھی آزاد ملک کی حریت کے لیے ہم لڑیں گے، عقیدہ اور کردار میں یکسانیت ہونی چاہیے، ظالم حکمراں باطل ہوتا ہے، ظالم حکمران کے خلاف حق آواز بلند کرنا چاہیے، ملک میں عام آدمی کو ہمیشہ مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ امریکی صدر کا غزہ کو خریدنے کا بیان قابل مذمت ہے، دنیا کے کسی بھی آزاد ملک کی حریت کیلئے ہم لڑیں گے، ہم نے پاکستان میں اس لابی کی مخالفت کی ہے جو اسرائیل کو تسلیم کرنا چاہتے تھےہم نے اس لابی کیخلاف جنگ لڑی ہے، جو قادیانیوں کو دوبارہ مسلمان قرار دلوانا چاہتے تھے، تلواروں کے سائے میں جنت ہے، چیف جسٹس نے کہا ہم بھی انسان ہیں ہم سے بھی غلطی ہوسکتی ہے۔

    جنرل سیکریٹری جے یو آئی مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ قادیانیت سے تائب ہونیوالی بچی کی تربیت بڑا کام ہے، اگر قادیانیت ترک کرکے اسلام قبول کرنیوالوں کی رہنمائی بہت ضروری ہوتی ہے، ہمارے اکابرین نے پاکستان کو متفقہ آئین دیا، اکابرین کی کوششوں سے قذدیانیت کو دائرہ اسلام سے خارج قراردیا گیا، آئین میں ہمارے اکابرین کی کوششوں سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔

    بعد ازاں مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کا آپس میں بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا، محمودخان اچکزئی کی طرف سے کھانے کی دعوت پر گئے تھے ججز کی تقرری میں پہلے بھی پارلیمنٹ کا کردار تھا، اب دوبارہ لیا گیا، ہماری رائے میں آئینی عدالت کی تشکیل تھی لیکن آئینی بنچ کا بننا براآغازنہیں، آئینی بنچ کو چلنے دیا جائے تو بہتر نتائج آئیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے حکومت کی طرف سے پیشرفت نہیں ہورہی، وفاق اور صوبوں کو اپنی ذمہ داری بغیر دباؤ کے پوری کرنا چاہیے، طریقہ کار یہی ہے جو وفاق قانون سازی کرے صوبے بھی یہی کریں، چیف الیکشن کمشنرنے اپنی ذمہ داریاں ٹھیک طرح سے نہیں نبھائیں، الیکشن کمیشن نے اسٹیبلیشمنٹ کی کٹھ پُتلی کا کردار ادا کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ مکمل ناکام ہوئے ہیں، ان سے آئندہ منصفانہ الیکشن کی امید رکھنا حماقت ہوگی ، انہیں چلے جانے چاہیے تاکہ نئے لوگ آئیں،آئی ایم ایف وفد کی پاکستانی اداروں سے ملاقات ملکی تاریخ میں منفرد واقعہ ہے، بہترین معیشت کا تعلق عدل و انصاف سے ہے، لگتا ہے آئی ایم ایف کو ہمارے عدل وانصاف کے نظام پرتحفظات ہیں۔