Baaghi TV

Tag: جے یو آئی

  • مدرسہ کے بارے جو نظریہ انگریز کا وہی نظریہ آج کے اسٹبلشمنٹ کا ہے، مولانا فضل الرحمان

    کراچی:جمعیت علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مدرسہ کے بارے جو نظریہ انگریز کا وہی نظریہ آج کے اسٹبلشمنٹ کا ہے ،اگر میں پاکستان کی دفاع کو طاقتور دیکھنا چاہتا ہوں تو پھر تم ان دینی مدارس کو طاقتور کیوں نہیں دیکھ سکتے۔

    جے یو آئی ضلع جنوبی کراچی کے زیر اہتمام مولوی عثمان پارک لیاری کراچی میں عظیم الشان تحفظ مدارس دینیہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےمولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دینی مدارس کیخلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے، ہم تو علم کے تقسیم کے قائل ہی نہیں، ہم ایک نصاب کے قائل ہیں، تم نے مدارس کو تقسیم کیا ان کے حقوق پر شب خون مارا انہی مدارس نے آپ کو شکست دے دی، جو مدرسہ تمہارے ہاتھ لگا اس کی دینی علوم کی حیثیت ختم ہوگئی۔

    اںہوں نے نے کہا کہ تمام مکاتب فکر جمیعت علماء اسلام اور وفاق المدراس العربیہ پاکستان یہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان میں ایک پرامن نظام کا قیام ہو، کہتے ہیں ہمیں سیاست میں مت گھسیٹوں آپ سیاست میں آتے کیوں ہو؟ زبان سے بات نہیں بنتی، کردار سے تاثر بنتا ہے، پاکستان کے تمام ادارے ناگزیر ہیں، آپ ہمارے سرآنکھوں پر مگر جب اپنے حد میں رہیں گے۔

    بھارتی وزارت دفاع کے لیفٹیننٹ کرنل رشوت اور کرپشن کیس میں گرفتار

    انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ کی جماعت نے کراچی کے اضلاع کے دینی مدارس کے فضلاء کو یہاں جمع کیا ہے اور ان کے سروں پر دستار فضلیت سجانے کیلئے اس اجتماع کا اہتمام کیا گیا، میں سب کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انہوں اپنا نصاب مکمل کیا اور انہوں نے عملی طور دنیا کے طرف جانا ہے، ایک تاثر پھیلا جارہا ہے کہ دینی مدارس نے کم نوجوانوں کی صلاحیتیں محدود کی جاتی ہیں اور وہ معا شر ے کے لیے کردار ادا نہیں کرتے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مجھ سے قبل علماء کرام نے اپنے بیان کیے، ہمیں سوسائٹی میں مختلف لوگوں سے ملنا پڑتا ہے ان کے دل و دماغ میں تحفظات ہوتے ہیں لیکن ان کو یہ نہیں بتایا کہ مدرسہ کیوں وجود میں آیا 1857 سے پہلے اس نوعیت کا مدرسہ نہیں تھا مدرسہ کے قیام کا سبب تم بنے ہو، قرآن و سنت کا مسئلہ تم نے اٹھایا، مدرسہ کے بارے جو نظریہ انگریز کا وہی نظریہ آج کے اسٹبلشمنٹ کا ہے جو نظریہ اس وقت اسٹبلشمنٹ کا تھا وہی ان کا ہے۔

    ایرانی سرحد عبور کرتے ہوئے 40 افغان شہری شدید سردی سے جاں بحق

    امیر جے یو آئی نے کہا کہ مولانا شبیر احمد عثمانی اور مفتی شفیع نے دیوبند سے ہجرت کی اور اس ملک میں ہجرت کی اور آکر تجویز دی اب نہ ہندو ہے نہ انگریز آئیں دینی مدرسہ کیلئے ایک لائحہ طے کریں، لیکن تم نے ان کی رائے اور تجویز کو قبول نہیں کیا، تم آج کہتے ہو ہمیں انگریز سے خطرہ نہیں بلکہ خطرہ دینی مدارس سے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ تعاون ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنے کانام ہےمدارس کے تمھارے مذاکرات ہوئے دستخط ہوئے مختلف ادوار میں آپ کے طرف سے شرائط آئیں، دینی مدارس نے قبول کی اس کے باوجود دینی مدارس کیخلاف سازش کیوں کررہے ہو؟مانتا ہوں کہ ملک پاکستان میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹیاں ہیں لیکن ہمارے مدارس سے تم نیشنل ڈمی یونیورسٹی بناؤ تو ہم قبول نہیں کریں گے، تم نے مدارس کو تقسیم کیا اسکے تنظیم پر شب خون مارا لیکن مدارس نے تمھیں شکست دی۔

    پی ٹی آئی رہنما عمر ڈار احتجاجی ریلی کے دوران گرفتار

    مولانا نے کہا کہ ہمیں انگریز یا ہندو سے نہیں دینی علوم کے لیے مسلمانوں سے خطرہ ہے اپنی بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ سے خطرہ ہے، کونسا شعبہ ہے پاکستان کا جو تمھارے 78 سال کاکردگی کی گواہی دے، پاکستان میں صرف دینی مدارس ہیں جس نے ملک کو ٹاپ رینکنگ پر رکھا ہوا ہے ،اگر میں پاکستان کی دفاع کو طاقتور دیکھنا چاہتا ہوں تو پھر تم ان دینی مدارس کو طاقتور کیوں نہیں دیکھ سکتے،دینی مدارس کیخلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے اگر سنجیدہ ہو تو آؤ بیٹھو بات کرو ملک کے کتنے مدراس جو تم نے اپنے تحویل میں لیے آج کہاں ہیں ، پاکستان میں جو بھی ادراہ آپکے ہاتھ لگا ہے اسکی دینی حیثیت ختم کردی گئی، کوئی پارٹی اپنے منشور کے لیے پُرامن جدوجہد کرتی ہے تو یہ اس کا آئینی حق ہے۔

    چیئرمین پی سی بی کا انڈر 19 ایشیا کپ جیتنے والی ٹیم کیلئے بڑا اعلان

  • حکومت کے پاس اصل مینڈ یٹ ہی موجود نہیں،مولانا فضل الرحمان

    حکومت کے پاس اصل مینڈ یٹ ہی موجود نہیں،مولانا فضل الرحمان

    چکوال:جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو جعلی مینڈیٹ کی حامل قرار دیا-

    چکوال میں میڈیاسے گفتگو کرتےہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت کے پاس اصل مینڈ یٹ ہی موجود نہیں، یہ جعلی مینڈیٹ کے ساتھ حکومت کر رہے ہیں، جعلی مینڈیٹ کے باوجود بھی حکومت صرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ہے جبکہ پیپلز پارٹی محض سہارا بنی ہوئی ہے، یعنی یہ جعلی اکثریت نہیں بلکہ جعلی اقلیت کی حکومت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جب آئین کے خلاف قانون سازی کی جائے گی تو اس کا مطلب آئین سے بغاوت ہوگا، جس کے بعد ان کا مینڈیٹ خود بخود ختم ہو جاتا ہے، اسی لیے ہم باہمی مشاورت سے ایک متفقہ مؤقف سامنے لانا چاہتے ہیں،جہاں تک 28 ویں ترمیم اور نئے صوبوں کی بازگشت کا تعلق ہے، تو اصولی بات اور ہے اور عملی حقیقت کچھ اور ہے۔

    مولانا نے کہا کہ آپ نے فاٹا کو صوبے میں ضم کیا، ہم نے دلائل کے ساتھ مخالفت کی اور اس کے نقصانات سے آگاہ بھی کیا لیکن اسٹیبلشمنٹ خود کو عقل کل سمجھتی رہی اور آج وہی لوگ کہہ رہے ہیں کہ وہ فیصلہ غلط تھا اور اب باقی صوبوں کو بھی تقسیم کرنے کی بات ہو رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا اس کے لیے زمینی حالات سازگار ہیں؟ یا کل پھر ہم روئیں گے کہ ہم نے ملک کو نقصان پہنچایا، یہ لوگ بات تو کر لیتے ہیں، پھر طاقت کے زور پر فیصلے نافذ بھی کر دیتے ہیں، فاٹا کا انضمام بھی طاقت کے زور پر کیا گیا اور آج وہاں مسلح گروپس نے علاقے پر قبضہ جما لیا ہے اور ریاست کی رٹ ختم ہو چکی ہے۔

    مولانافضل الرحمان نے کہا کہ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ 75،78 برسوں میں نہ پاکستان کی افغان پالیسی درست رہی اور نہ ہی دہشت گردی کے خلاف پالیسی کوئی مثبت نتیجہ دے سکی ہے فیصلے سیاست دانوں کو کرنے ہوتے ہیں، طاقت تو ان کے فیصلوں کے بعد استعمال ہوتی ہےپراسیکیوشن اور دیگر اداروں کی خرابیوں پر بھی اجتماعی رائے قائم ہونی چاہیے اور 22 تاریخ کو علما کی کانفرنس میں اس پر واضح مؤقف سامنے آ جائے گا۔

    مولانافضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت نہ دینا بھی ایک جمہوری ملک میں افسوس ناک ہے، میں تو یہ بھی سوال اٹھاتا ہوں کہ وہ گرفتار کیوں ہیں؟ نہ میں سیاست دانوں کی گرفتاری کے حق میں ہوں اور نہ ملاقاتوں پر پابندی کے حق میں ہوں اصل سوال یہ ہے کہ حکومت کس کی ہے اور اصل فیصلے کون کر رہا ہے؟ ہم سب انہی فیصلوں کے تحت زندگی گزار رہے ہیں، آرمی چیف نئے اسٹیٹس کے ساتھ جو اپنے آنے والے مستقبل کا وہ آغاز کر رہے ہیں تو انہوں نے علما کے اجتماع سے خطاب کیا ہے تو اچھا گمان کیا جائے۔

  • حکمران  پاکستان کے آئین اور قانون کے تقاضوں کو پورا نہیں کر رہے،مولانا فضل الرحمان

    حکمران پاکستان کے آئین اور قانون کے تقاضوں کو پورا نہیں کر رہے،مولانا فضل الرحمان

    اسلام آباد:امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ انشاء اللہ، ملک کے اندر بہتری اور بیرونِ ملک پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے اجتماعی لائحۂ عمل طے کیا جائے گا

    امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان نے جامعہ مفتاح العلوم مستونگ بلوچستان کی سالانہ تقریب سے آن لائن خطاب میں کہا کہ مجلسِ اتحادِ امت کے زیر اہتمام مختلف مکاتبِ فکر کے نمائندگان اور دینی و سیاسی جماعتوں کے قائدین کا ایک اہم اجتماع 22 دسمبر کو کراچی میں منعقد ہوگا ،اجتماع میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ ہمارا ملک کس سمت جا رہا ہے-

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اجتماع میں پاکستان کے آئین اور قانون کے تقاضوں پر غور کیا جائے گا،اجتماع میں ملک کی ترقی، صوبوں میں عوام کے حقوق، بالخصوص چھوٹے صوبوں کے مسائل پر بات کریں گے،افغانستان اور ایران کے ساتھ بہتر تعلقات کے فروغ، موجودہ مشکلات کے حل، دوست ممالک سے تعلقات کو مضبوط بنانے اور شکایات کے ازالے کے لیے تعمیری اقدامات پر غور کیا جائے گا۔مولانا فضل الرحمان

    انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ، ملک کے اندر بہتری اور بیرونِ ملک پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے اجتماعی لائحۂ عمل طے کیا جائے،اجتماع کے فیصلوں سے ملک کے مستقبل پر دیرپا اثرات ظاہر ہونگے ،آج پوری دنیا میں دینی علوم کے حوالے سے برصغیر، اور بالخصوص پاکستان، ایک نمایاں مقام رکھتا ہے،ہمارے اکابر کی شروع کی ہوئی جدوجہد کی بنیاد پر قرآن، سنت، حدیث اور فقہ کے علوم کی حفاظت ہو رہی ہے۔

    امیر جے یو آئی نے کہا کہ دینی مدارس سے فارغ التحصیل علماء اور اساتذہ مختلف ممالک میں قرآن و حدیث کے ماہرین کے طور پر تسلیم کیے جاتے ہیں، مدار س کے طلبہ دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم میں بھی آگے بڑھ رہے ہیں،امتحانات میں مسلسل بورڈ ٹاپ کر رہے ہیں ایسا ذہین اور محنتی ٹیلنٹ شاید دنیا میں کم ہی ملے، افسوس کہ ہمارے ملکی نظام میں اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کے دلوں میں اس کی قدر پیدا فرمائے۔

    https://x.com/juipakofficial/status/2000910998316929083?s=20

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارے حکمران نہ صرف قرآن و سنت سے ناآشنا ہیں ،بلکہ پاکستان کے آئین اور قانون کے تقاضوں کو بھی پورا نہیں کر رہے، حا لیہ دنوں میں کی گئی آئینی ترامیم اور قانون سازی واضح طور پر قرآن، سنت اور حدیث کے منافی ہے،انہیں دینی علوم اور قرآنِ کریم کی صحیح سمجھ ہوتی تو وہ ایسی غلطیاں ہرگز نہ کرتے جیسی حالیہ دنوں میں اسمبلی کے اندر کی گئیں۔

  • مولانا فضل الرحمان پی ٹی آئی سے چن چن کر بدلے لے رہے ہیں، فیصل کریم کنڈی

    مولانا فضل الرحمان پی ٹی آئی سے چن چن کر بدلے لے رہے ہیں، فیصل کریم کنڈی

    اسلام آباد: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے چن چن کر بدلے لے رہے ہیں۔

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گورنر راج کا سارا دارومدار خیبر پختونخوا حکومت پر ہے خیبر پختونخوا حکومت چاہے تو گورنر راج لگ سکتا ہے، وہ چاہے تو ایسا نہیں ہوسکتا،یکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف لڑتے ہوئے جانیں قربان کر رہی ہیں اور خیبر پختونخوا میں بارڈر کی دوسری طرف کالعدم ٹی ٹی پی بیٹھی ہوئی ہے۔ ہم روزانہ کی بنیاد پر شہادتیں دے رہے ہیں۔ اور خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے سنگین واقعات ہو رہے ہیں۔

    فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کے جوان اپنے شہیدوں کے جنازے اٹھاتے ہیں۔ اور اگر ہم کہیں فوج کی ضرورت نہیں تو شہدا کے لواحقین پر کیا گزرے گی؟۔ ہم سب کہتے ہیں کہ صوبے میں دہشتگردی ہے۔ اور شام کو باہر نہیں نکل سکتے۔ دہشتگردی سے لڑنے کے لیے اگر سیکیورٹی فورسز نہیں ہوں گی تو مقابلہ کیسے ہو گا؟

    انہوں نے کہا کہ اگر طالبان اسلامی نظام کی بات کرتے ہیں تو کون سے اسلام میں لکھا کہ مدرسوں اور اسکولوں پر حملہ کریں؟ اور ایسا کون سے اسلام نے کہا ہے کہ آپ معصوم اور بے گناہ بچوں کی جانوں کے ساتھ کھیلیں ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر حملہ کر کے فورسز کے جوانوں کو نشانہ بنایا گیا اور وانا کیڈٹ کالج کے دفاع میں فوج نہ ہوتی تو اے پی ایس ٹو ہوتا۔

    گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ اسپیکر خیبر پختونخوا نے ایک جرگہ بلایا اور میں نے جرگے میں بھی کہا کہ وفاق کے ساتھ تعلقات ٹھیک کریں امن و امان کے قیام کے لیے وفاق اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کرنا ہو گا جبکہ ہم وفاق کی طرف سے بلائے گئے اجلاسوں میں نہیں جائیں گے تو اپنا مقدمہ خود ہاریں گے وفاقی حکومت اور سیکیورٹی فورسز کو ساتھ نہیں ملایا جائے گا تو صوبہ کیسے چلے گا؟۔

    انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی قیادت نے بھی جیلوں میں وقت گزارا ہے اور جیل میں پیپلز پارٹی کی قیادت سے کوئی سیاسی مشاورت نہیں ہوتی تھی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بنانے کے لیے پی ٹی آئی کے پاس اپنا بندہ نہیں اور پی ٹی آئی دونوں ایوانوں میں امپورٹڈ لوگوں کو اپوزیشن لیڈر بنانے جا رہی ہے،حال ہی میں پیپلز پارٹی نے کہا ہم مولانا کے پاس دوبارہ نہیں جائیں گے مگر پھر بھی وہاں گئے مولانا فضل الرحمان بڑے زیرک سیاستدان ہیں۔ اور وہ پی ٹی آئی سے چن چن کے بدلے لے رہے ہیں۔

  • پی پی پی اور جے یو آئی کا  ایک پلیٹ فارم سے سینیٹ الیکشن لڑنے پر اتفاق

    پی پی پی اور جے یو آئی کا ایک پلیٹ فارم سے سینیٹ الیکشن لڑنے پر اتفاق

    پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے ایک پلیٹ فارم سے سینیٹ الیکشن لڑنے پر اتفاق کرلیا۔

    ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی اور جے یو آئی کے وفود کی ملاقات آج اسلام آباد میں ہوئی، پیپلزپارٹی اور جے یوآئی نے ایک پلیٹ فارم سے سینیٹ الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرلیا،پیپلزپار ٹی اور جے یوآئی اپوزیشن اتحاد کے لیے دیگر پارٹیز سے رابطے کریں گی، پیپلز پارٹی اور جے یوآئی کے درمیان ملاقات میں فیصلہ ہوا۔

    پیپلز پارٹی کے وفد میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کنڈی، خورشید شاہ اور ظاہر شاہ شریک تھے، جبکہ ملاقات کے دوران جے یو آئی کے اکرم خان درانی، مولانا لطف الرحمان، اسعد محمود ،اسجد محمود موجود تھے۔

    دوسری جانب مولانا فضل الرحمان اپنے ایک بیان میں کہہ چکے ہیں پی ٹی آئی سے تعلقات میں میانہ روی اور اختلاف کو اختلاف تک رکھنا چاہتے ہیں،کہا کہ میں پی ٹی آئی کے ساتھ اختلاف ختم نہیں کررہا لیکن تعلقات کو بہتر بنانا میرے مقاصد میں سے ہے، میں پی ٹی آئی سے اختلاف کو اختلاف کی حد تک رکھ کر تلخیوں کو دور کرنا چاہتاہوں، میں پی ٹی آئی کی تلخی اور بداخلاقی پر کوئی جواب نہیں دینا چاہتا۔

    چار گھنٹوں میں انڈیا کو لپیٹنے والی ہماری ریاست اتنی کمزور نہیں،مولانا فضل الرحمان

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا جواب ان سے پوچھ لیں اس غیر معقول سوال کا جواب میں کیوں دوں؟ میں نے خیبر پختون خوا میں عدم اعتماد کی بات پی ٹی آئی کے خلاف نہیں کی، میں نے مشورہ دیا ہے کہ صوبے میں تبدیلی کی ضرورت ہے، میں نے پی ٹی آئی کے اندر تبدیلی لانے کی بات کی ہے، میں نے اپوزیشن کی سودا بازیوں اور ارکان توڑنے کے بجائے پی ٹی آئی کے اندر نئی ایڈمنسٹریشن کی بات کی ہے۔

    اٹلی سے غزہ کیلئے امدادی کشتی “ہندالہ” روانہ

  • چار گھنٹوں  میں انڈیا کو لپیٹنے والی ہماری ریاست اتنی کمزور نہیں،مولانا فضل الرحمان

    چار گھنٹوں میں انڈیا کو لپیٹنے والی ہماری ریاست اتنی کمزور نہیں،مولانا فضل الرحمان

    سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی سے تعلقات میں میانہ روی اور اختلاف کو اختلاف تک رکھنا چاہتے ہیں-

    چارسدہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ مدارس بل پر حکومتی اتحاد کے بدنیتی ظاہر ہو چکی ہے، صدر مملکت نے مدارس آرڈیننس ایکٹ پر دستخط کیے ہیں، مدارس آرڈیننس کو توسیع دی جار ہی ہے مگر قانون سازی نہیں ہو رہی، مدارس ترمیمی بل کے حوالے سے حکومت کے عزائم ٹھیک نہیں ہیں، مدارس ترمیم بل کے حوالے سے فیصلہ وفاق المدارس اور تنظیمات مدارس کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ امن و امان اور شہریوں کے جان ومال کی ذمہ داری ریاست کی ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کےجان و مال کی حفاظت کریں چار دہائیوں سے دہشت گردی کے واقعات ریاستی اداروں کا منہ چڑا رہے ہیں، چار گھنٹوں میں انڈیا کو لپیٹنے والی ہماری ریاست اتنی کمزور نہیں، سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ چار دہائیوں سے جاری دہشت گردی پر قابو کیوں نہیں پایا جارہا؟ ریاستی ادارے دہشت گردی کے خاتمہ کے حوالے سے سنجیدہ نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے عوام پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگا رہے ہیں،عوام نے سوات سے لے کروزیرستان تک چند گھنٹوں میں علاقے خالی کیے، آج بھی وہ لوگ اپنے ہی ملک میں مہاجر ہیں، سیکیورٹی ادارے ایک بار پھر عوام کو علاقے خالی کرنے کا کہہ رہے ہیں، ریاستی ادارے اپنی ناکامی کی ذمہ داری عوام پر نہ ڈالیں، ادارے اپنے گریباں میں جھانک اپنا امتحان لیں مگر یہاں تو ادارے ٹانگ پر ٹانگ ڈال کر عوام پر رعب ڈال رہے ہیں، ریاستی اداروں کا لب و لہجہ رعب والا ہوتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے ہر میٹنگ اور جرگہ میں عام لوگوں کو اپنے لہجے سے مرعوب کر رہے ہیں، ریاستی ادارے اپنا لب و لہجہ سیدھا کرلیں، ادارے ہمارے ساتھ انسان اور پاکستانی بن کر بات کریں، اداروں کے لوگ مافوق الفطرت نہیں ہیں اور نہ یہ عوام سے بالاتر ہیں، ریاستی اداروں کے لوگ ہماری طرح کے انسان ہیں اور ہمارا اور ان کا شناختی کارڈ ایک ہے، مجھے اس بات پر تشویش ہے کہ ریاستی ادارے جرگے بلاکر ان کو دھمکیاں دیتے ہیں۔

    سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ صرف اور صرف اسٹیبلشمنٹ موجودہ حالات کی ذمہ دار ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ناکامی چھپانے کے لیے عوام پر الزامات لگا رہے ہیں، خیبر پختون خوا میں اپوزیشن پارٹیاں ایک مخصوص نشست کے لیے عدالتوں میں جا رہی ہے، مسلم لیگ ن نے مخصوص نشست پر عدالت میں جے یو آئی کے خلاف کیس دائر کیا ہے، موجود ہ حالات میں مسلم لیگ ن کا یہ اقدام کس کو فائدہ دے گا؟ ایسی اپوزیشن کا میں کیا کرو ں جس کا ہر قدم صوبائی حکومت کے فائدے میں جا رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختون وا میں موجودہ اپوزیشن کے ساتھ ان حالات میں کیسے چلیں گے؟ہم معتدل سیاست کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں، حکمران بھی ہمیں لچر زبان میں جوا ب اور گالیاں دے رہے ہیں، اپوزیشن جماعتیں بھی ہمارے خلاف عدالتوں میں جار ہی ہے، ایسی صورتحال میں خیبر پختون خوا میں عدم اعتماد کا سوچ غلط ہے۔

    انہوں ںے کہا کہ افغانستان سے تعلقات بہتر بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے، ہم افغانستان کے خلاف پہلے کاروائی اور بعد میں بات چیت شروع کرتے ہیں، افغانستان کے خلاف کارروائی سے تلخیاں پیدا ہوتی ہے اور مذاکرات کا ماحول ختم ہو جاتا ہے، میثاق جمہوریت پر ہم ایک بار ہاں کر چکے ہیں، جے یو آئی آج بھی میثاق جمہوریت پر قائم ہے، اگر سیاست دان میثاق جمہوریت پر عمل کریں تو ایک بہتر ماحول پیدا ہو سکتا ہے میں پی ٹی آئی کے ساتھ اختلاف ختم نہیں کررہا لیکن تعلقات کو بہتر بنانا میرے مقاصد میں سے ہے، میں پی ٹی آئی سے اختلاف کو اختلاف کی حد تک رکھ کر تلخیوں کو دور کرنا چاہتاہوں، میں پی ٹی آئی کی تلخی اور بداخلاقی پر کوئی جواب نہیں دینا چاہتا۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا جواب ان سے پوچھ لیں اس غیر معقول سوال کا جواب میں کیوں دوں؟ میں نے خیبر پختو خوا میں عدم اعتماد کی بات پی ٹی آئی کے خلاف نہیں کی، میں نے مشورہ دیا ہے کہ صوبے میں تبدیلی کی ضرورت ہے، میں نے پی ٹی آئی کے اندر تبدیلی لانے کی بات کی ہے، میں نے اپوزیشن کی سودا بازیوں اور ارکان توڑنے کے بجائے پی ٹی آئی کے اندر نئی ایڈمنسٹریشن کی بات کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں خیبر پختونخوا سیاسی کشمکش کا متحمل نہیں ہوسکتا، آج بھی کہتا ہوں کہ اس صوبے کی اکثریت جعلی ہے، پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہے اور عدالت نے تسلیم بھی کیا ہے، ساری دنیا پی ٹی آئی کی حکومت مان رہی ہے ،اس میں ہم کچھ نہیں کرسکتے، تاریخ فیصلہ کرے گی کہ مینڈیٹ چوری کے حوالے سے ہمارا دعویٰ غلط یا درست ؟-

  • علی امین گنڈاپور خود تین میں ہیں نہ تیرہ میں،ووٹ سے نہیں بلکہ نوٹ سے جتوایا گیا، حافظ حمد اللہ

    علی امین گنڈاپور خود تین میں ہیں نہ تیرہ میں،ووٹ سے نہیں بلکہ نوٹ سے جتوایا گیا، حافظ حمد اللہ

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ترجمان کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈا پور خود فارم 47 کے وزیر اعلیٰ ہیں جو چند مہینوں کے مہمان ہیں۔

    وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمٰن سے متعلق بیان پر حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو فارم 47 کا بینفشری کہنے والے گنڈاپور بتائیں وہ کس کے این او سی پر خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ بنے؟

    حافظ حمد اللہ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ پورا صوبہ خیبرپختونخوا جل رہا ہے، خیبر پختونخوا کے عوام امن کے لیے ترس رہے ہیں، لیکن وزیراعلی لاؤ لشکر سمیت پنجاب فتح کرنے نکلے ہیں اور لاہور میں بڑھکیں مار رہے ہیں علی امین گنڈاپور خود تین میں ہیں نہ تیرہ میں، ان کی حکومت دولت اور طاقت کے بل پر کھڑی ہے،8 فروری کے انتخابات میں علی امین کو ووٹ سے نہیں بلکہ نوٹ سے جتوایا گیا،پی ٹی آئی کے اندر سے بھی خیبرپختونخوا کی حکومت کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں، آئے روز خیبرپختونخوا کے عوام اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھا رہے ہیں۔

    5 اگست کوئی ڈیڈ لائن نہیں بلکہ وہ دن تحریک کے عروج کا ہوگا،علی امین

    انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ باجوڑ جانے کے بجائے لاہور میں سیر سپاٹا کر رہے جو انتہائی شرمناک ہے، وزیر اعلیٰ اپنے سابق وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کے اعتراف کے مطابق جعلی مینڈیٹ پر براجمان ہیں صوبائی حکومت سر تا پاؤں کرپشن میں ڈوبی ہے، صوبائی خزانہ سے لاہور کا ٹور کرنے والوں سے پائی پائی کا حساب لیا جائے گا مولانا فضل الرحمٰن کے حقیقت پر مبنی بیان نے وزیر اعلیٰ کی ڈرامہ بازی پر پانی پھیر دیا۔

    90 روزہ تحریک لگتاہے وزیراعلیٰ نے اپنی نوکری کیلئے وقت مانگا ہے،عظمی بخاری

  • فرخ کھوکھر کا  جے یو آئی میں شمولیت کا فیصلہ

    فرخ کھوکھر کا جے یو آئی میں شمولیت کا فیصلہ

    سماجی شخصیت فرخ کھوکھر نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف میں شمولیت کا فیصلہ کرلیا-

    باخبر ذرائع کے مطابق فرخ کھوکھر 18 جولائی کو ڈیرہ تاجی کھوکھر میں مولانا فضل الرحمٰن کی موجودگی میں جے یوآئی (ف) میں شامل ہوں گے، فرخ کھوکھر جے یو آئی میں شمولیت کے بعد باقاعدہ اسلام آباد سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کریں گے،جبکہ باقاعدہ شمولیت کا اعلان مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کے بعد کیا جائے گا۔

    فرخ کھوکھر کی جانب سے اپنے فیس بک پیج پر ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ 18 جولائی بروز جمعہ مولانا فضل الرحمٰن کی موجودگی میں ڈیرہ تاجی خان کھوکھر پر شام 4 بجے پریس کانفرنس کی جائے گی، جس میں وہ باقاعدہ جمعیت علمائے اسلام میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کریں گے۔

    کردستان ورکرز پارٹی کا سرینڈر، ہتھیار جلا ڈال

    فرخ خان کھوکھر نے مذہبی شخصیات اور بالخصوص قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے ساتھ ختمِ نبوت کے ایشو پر جرات و بہادری سے کردار ادا کرنے پر جمعیت علمائے اسلام میں شمولیت کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا۔

    واضح رہے کہ فرخ کھوکھر تاجی خان کھوکھر مرحوم کے صاحبزادے،سابق ڈپٹی اسپیکر نواز کھوکھر کے بھتیجے اور سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کے چچازاد بھائی ہیں، امیر جے یوآئی اسلام آباد پیر مفتی اویس عزیز بھی ملاقات میں موجود ہوں گے۔

    بانی پی ٹی آئی کے بچوں کی واپسی کی بات صرف تحریک کو مرچ مصالحہ لگانے کیلئے کی گئی

  • مولانا فضل الرحمان کا کل ملک بھر میں دفاع وطن منانے کا اعلان

    مولانا فضل الرحمان کا کل ملک بھر میں دفاع وطن منانے کا اعلان

    جمیعت علما اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھارتی جارحیت کے خلاف کل (9 مئی) کو ملک بھر میں دفاع وطن منانے کا اعلان کردیا۔

    جمیعت علما اسلام کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کل 9 مئی کو یوم دفاع منایا جائے گا اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے اپیل کی ہے کہ اجتماعات میں بھارتی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کروائیں اپنے وطن کے دفاع کے لیے ہر قربانی دیں گے، وطن کے دفاع کے لیے ہم سب ایک ہیں، ہماری بہادر فوج جرات کے ساتھ دشمن کے سامنے کھڑی ہے، پوری قوم ان کی پشت پر ہے وطن کا دفاع فرض بھی اور ہمارا ایمانی حق بھی ہے، قوم دشمن کی ہرجارحیت کا جواب دینے کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے۔

    پاکستانی بندرگاہوں پرمیری ٹائم سکیورٹی ہائی الرٹ

    واضح رہے کہ ایک روز قبل جے یو آئی سے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیان میں بھارتی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان کیا تھا یہ وقت قومی اتحاد کا ہے اور بھارتی جارحیت کیخلاف پوری قوم پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔

    بھارتی وزارت دفاع کا اعلامیہ جھوٹ کا پلندہ،قوم بھارتی پروپیگنڈے میں نہ آئے

  • پی ٹی آئی سے اتحاد نہ کرنے سے متعلق خبروں میں صداقت نہیں،  جے یو آئی

    پی ٹی آئی سے اتحاد نہ کرنے سے متعلق خبروں میں صداقت نہیں، جے یو آئی

    لاہور:ترجمان جے یو آئی نے کہا ہے کہ میڈیا میں چلنے والی پی ٹی آئی سے اتحاد نہ کرنے سے متعلق خبروں میں صداقت نہیں-

    جمعیت علمائے اسلام کی مرکزی مجلس عمومی کا دو روزہ اہم اجلاس ختم ہوگیا ہے اس حوالے سے ترجمان جے یو آئی نے اپنے بیان میں کہا کہ اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، تاہم ان فیصلوں کا باضابطہ اعلان جلد ہی کردیا جائے گااجلاس کے فیصلوں سے متعلق آفیشل بیان جاری نہیں کیا گیا میڈیا میں آنے والی خبروں سے کوئی تعلق نہیں۔

    ہدیۃ الہادی پاکستان کے زیر اہتمام قومی مجلس مشاورت،اہم فیصلے،اعلامیہ جاری

    واضح رہے کہ خبریں ہیں کہ جے یو آئی نے اپنی مجلس عمومی کے اجلاس میں حتمی فیصلہ کیا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی اور نہ ہی ایسے کسی اتحاد کا حصہ بنے گی جو پی ٹی آئی کے ایما پر بنایا جائے گا جے یو آئی نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں آزاد اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہے گی اور حکومت کا حصہ نہیں بنے گی پارلیمنٹ میں زیر غورآنے و الے معاملات کاجائزہ لیتی رہے گی اور بوقت ضرورت پی ٹی آئی کے ساتھ تعاون کرنے یا نہ کرنے کا تعین ہوگا۔

    مریم نواز کا گندم کے کاشتکاروں کیلئے 110 ارب روپے کے پیکج کا اعلان