Baaghi TV

Tag: جے یو آئی

  • مولانا فضل الرحمان پی ٹی آئی سے چن چن کر بدلے لے رہے ہیں، فیصل کریم کنڈی

    مولانا فضل الرحمان پی ٹی آئی سے چن چن کر بدلے لے رہے ہیں، فیصل کریم کنڈی

    اسلام آباد: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے چن چن کر بدلے لے رہے ہیں۔

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گورنر راج کا سارا دارومدار خیبر پختونخوا حکومت پر ہے خیبر پختونخوا حکومت چاہے تو گورنر راج لگ سکتا ہے، وہ چاہے تو ایسا نہیں ہوسکتا،یکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف لڑتے ہوئے جانیں قربان کر رہی ہیں اور خیبر پختونخوا میں بارڈر کی دوسری طرف کالعدم ٹی ٹی پی بیٹھی ہوئی ہے۔ ہم روزانہ کی بنیاد پر شہادتیں دے رہے ہیں۔ اور خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے سنگین واقعات ہو رہے ہیں۔

    فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کے جوان اپنے شہیدوں کے جنازے اٹھاتے ہیں۔ اور اگر ہم کہیں فوج کی ضرورت نہیں تو شہدا کے لواحقین پر کیا گزرے گی؟۔ ہم سب کہتے ہیں کہ صوبے میں دہشتگردی ہے۔ اور شام کو باہر نہیں نکل سکتے۔ دہشتگردی سے لڑنے کے لیے اگر سیکیورٹی فورسز نہیں ہوں گی تو مقابلہ کیسے ہو گا؟

    انہوں نے کہا کہ اگر طالبان اسلامی نظام کی بات کرتے ہیں تو کون سے اسلام میں لکھا کہ مدرسوں اور اسکولوں پر حملہ کریں؟ اور ایسا کون سے اسلام نے کہا ہے کہ آپ معصوم اور بے گناہ بچوں کی جانوں کے ساتھ کھیلیں ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر حملہ کر کے فورسز کے جوانوں کو نشانہ بنایا گیا اور وانا کیڈٹ کالج کے دفاع میں فوج نہ ہوتی تو اے پی ایس ٹو ہوتا۔

    گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ اسپیکر خیبر پختونخوا نے ایک جرگہ بلایا اور میں نے جرگے میں بھی کہا کہ وفاق کے ساتھ تعلقات ٹھیک کریں امن و امان کے قیام کے لیے وفاق اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کرنا ہو گا جبکہ ہم وفاق کی طرف سے بلائے گئے اجلاسوں میں نہیں جائیں گے تو اپنا مقدمہ خود ہاریں گے وفاقی حکومت اور سیکیورٹی فورسز کو ساتھ نہیں ملایا جائے گا تو صوبہ کیسے چلے گا؟۔

    انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی قیادت نے بھی جیلوں میں وقت گزارا ہے اور جیل میں پیپلز پارٹی کی قیادت سے کوئی سیاسی مشاورت نہیں ہوتی تھی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بنانے کے لیے پی ٹی آئی کے پاس اپنا بندہ نہیں اور پی ٹی آئی دونوں ایوانوں میں امپورٹڈ لوگوں کو اپوزیشن لیڈر بنانے جا رہی ہے،حال ہی میں پیپلز پارٹی نے کہا ہم مولانا کے پاس دوبارہ نہیں جائیں گے مگر پھر بھی وہاں گئے مولانا فضل الرحمان بڑے زیرک سیاستدان ہیں۔ اور وہ پی ٹی آئی سے چن چن کے بدلے لے رہے ہیں۔

  • پی پی پی اور جے یو آئی کا  ایک پلیٹ فارم سے سینیٹ الیکشن لڑنے پر اتفاق

    پی پی پی اور جے یو آئی کا ایک پلیٹ فارم سے سینیٹ الیکشن لڑنے پر اتفاق

    پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے ایک پلیٹ فارم سے سینیٹ الیکشن لڑنے پر اتفاق کرلیا۔

    ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی اور جے یو آئی کے وفود کی ملاقات آج اسلام آباد میں ہوئی، پیپلزپارٹی اور جے یوآئی نے ایک پلیٹ فارم سے سینیٹ الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرلیا،پیپلزپار ٹی اور جے یوآئی اپوزیشن اتحاد کے لیے دیگر پارٹیز سے رابطے کریں گی، پیپلز پارٹی اور جے یوآئی کے درمیان ملاقات میں فیصلہ ہوا۔

    پیپلز پارٹی کے وفد میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کنڈی، خورشید شاہ اور ظاہر شاہ شریک تھے، جبکہ ملاقات کے دوران جے یو آئی کے اکرم خان درانی، مولانا لطف الرحمان، اسعد محمود ،اسجد محمود موجود تھے۔

    دوسری جانب مولانا فضل الرحمان اپنے ایک بیان میں کہہ چکے ہیں پی ٹی آئی سے تعلقات میں میانہ روی اور اختلاف کو اختلاف تک رکھنا چاہتے ہیں،کہا کہ میں پی ٹی آئی کے ساتھ اختلاف ختم نہیں کررہا لیکن تعلقات کو بہتر بنانا میرے مقاصد میں سے ہے، میں پی ٹی آئی سے اختلاف کو اختلاف کی حد تک رکھ کر تلخیوں کو دور کرنا چاہتاہوں، میں پی ٹی آئی کی تلخی اور بداخلاقی پر کوئی جواب نہیں دینا چاہتا۔

    چار گھنٹوں میں انڈیا کو لپیٹنے والی ہماری ریاست اتنی کمزور نہیں،مولانا فضل الرحمان

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا جواب ان سے پوچھ لیں اس غیر معقول سوال کا جواب میں کیوں دوں؟ میں نے خیبر پختون خوا میں عدم اعتماد کی بات پی ٹی آئی کے خلاف نہیں کی، میں نے مشورہ دیا ہے کہ صوبے میں تبدیلی کی ضرورت ہے، میں نے پی ٹی آئی کے اندر تبدیلی لانے کی بات کی ہے، میں نے اپوزیشن کی سودا بازیوں اور ارکان توڑنے کے بجائے پی ٹی آئی کے اندر نئی ایڈمنسٹریشن کی بات کی ہے۔

    اٹلی سے غزہ کیلئے امدادی کشتی “ہندالہ” روانہ

  • چار گھنٹوں  میں انڈیا کو لپیٹنے والی ہماری ریاست اتنی کمزور نہیں،مولانا فضل الرحمان

    چار گھنٹوں میں انڈیا کو لپیٹنے والی ہماری ریاست اتنی کمزور نہیں،مولانا فضل الرحمان

    سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی سے تعلقات میں میانہ روی اور اختلاف کو اختلاف تک رکھنا چاہتے ہیں-

    چارسدہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ مدارس بل پر حکومتی اتحاد کے بدنیتی ظاہر ہو چکی ہے، صدر مملکت نے مدارس آرڈیننس ایکٹ پر دستخط کیے ہیں، مدارس آرڈیننس کو توسیع دی جار ہی ہے مگر قانون سازی نہیں ہو رہی، مدارس ترمیمی بل کے حوالے سے حکومت کے عزائم ٹھیک نہیں ہیں، مدارس ترمیم بل کے حوالے سے فیصلہ وفاق المدارس اور تنظیمات مدارس کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ امن و امان اور شہریوں کے جان ومال کی ذمہ داری ریاست کی ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کےجان و مال کی حفاظت کریں چار دہائیوں سے دہشت گردی کے واقعات ریاستی اداروں کا منہ چڑا رہے ہیں، چار گھنٹوں میں انڈیا کو لپیٹنے والی ہماری ریاست اتنی کمزور نہیں، سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ چار دہائیوں سے جاری دہشت گردی پر قابو کیوں نہیں پایا جارہا؟ ریاستی ادارے دہشت گردی کے خاتمہ کے حوالے سے سنجیدہ نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے عوام پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگا رہے ہیں،عوام نے سوات سے لے کروزیرستان تک چند گھنٹوں میں علاقے خالی کیے، آج بھی وہ لوگ اپنے ہی ملک میں مہاجر ہیں، سیکیورٹی ادارے ایک بار پھر عوام کو علاقے خالی کرنے کا کہہ رہے ہیں، ریاستی ادارے اپنی ناکامی کی ذمہ داری عوام پر نہ ڈالیں، ادارے اپنے گریباں میں جھانک اپنا امتحان لیں مگر یہاں تو ادارے ٹانگ پر ٹانگ ڈال کر عوام پر رعب ڈال رہے ہیں، ریاستی اداروں کا لب و لہجہ رعب والا ہوتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے ہر میٹنگ اور جرگہ میں عام لوگوں کو اپنے لہجے سے مرعوب کر رہے ہیں، ریاستی ادارے اپنا لب و لہجہ سیدھا کرلیں، ادارے ہمارے ساتھ انسان اور پاکستانی بن کر بات کریں، اداروں کے لوگ مافوق الفطرت نہیں ہیں اور نہ یہ عوام سے بالاتر ہیں، ریاستی اداروں کے لوگ ہماری طرح کے انسان ہیں اور ہمارا اور ان کا شناختی کارڈ ایک ہے، مجھے اس بات پر تشویش ہے کہ ریاستی ادارے جرگے بلاکر ان کو دھمکیاں دیتے ہیں۔

    سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ صرف اور صرف اسٹیبلشمنٹ موجودہ حالات کی ذمہ دار ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ناکامی چھپانے کے لیے عوام پر الزامات لگا رہے ہیں، خیبر پختون خوا میں اپوزیشن پارٹیاں ایک مخصوص نشست کے لیے عدالتوں میں جا رہی ہے، مسلم لیگ ن نے مخصوص نشست پر عدالت میں جے یو آئی کے خلاف کیس دائر کیا ہے، موجود ہ حالات میں مسلم لیگ ن کا یہ اقدام کس کو فائدہ دے گا؟ ایسی اپوزیشن کا میں کیا کرو ں جس کا ہر قدم صوبائی حکومت کے فائدے میں جا رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختون وا میں موجودہ اپوزیشن کے ساتھ ان حالات میں کیسے چلیں گے؟ہم معتدل سیاست کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں، حکمران بھی ہمیں لچر زبان میں جوا ب اور گالیاں دے رہے ہیں، اپوزیشن جماعتیں بھی ہمارے خلاف عدالتوں میں جار ہی ہے، ایسی صورتحال میں خیبر پختون خوا میں عدم اعتماد کا سوچ غلط ہے۔

    انہوں ںے کہا کہ افغانستان سے تعلقات بہتر بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے، ہم افغانستان کے خلاف پہلے کاروائی اور بعد میں بات چیت شروع کرتے ہیں، افغانستان کے خلاف کارروائی سے تلخیاں پیدا ہوتی ہے اور مذاکرات کا ماحول ختم ہو جاتا ہے، میثاق جمہوریت پر ہم ایک بار ہاں کر چکے ہیں، جے یو آئی آج بھی میثاق جمہوریت پر قائم ہے، اگر سیاست دان میثاق جمہوریت پر عمل کریں تو ایک بہتر ماحول پیدا ہو سکتا ہے میں پی ٹی آئی کے ساتھ اختلاف ختم نہیں کررہا لیکن تعلقات کو بہتر بنانا میرے مقاصد میں سے ہے، میں پی ٹی آئی سے اختلاف کو اختلاف کی حد تک رکھ کر تلخیوں کو دور کرنا چاہتاہوں، میں پی ٹی آئی کی تلخی اور بداخلاقی پر کوئی جواب نہیں دینا چاہتا۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا جواب ان سے پوچھ لیں اس غیر معقول سوال کا جواب میں کیوں دوں؟ میں نے خیبر پختو خوا میں عدم اعتماد کی بات پی ٹی آئی کے خلاف نہیں کی، میں نے مشورہ دیا ہے کہ صوبے میں تبدیلی کی ضرورت ہے، میں نے پی ٹی آئی کے اندر تبدیلی لانے کی بات کی ہے، میں نے اپوزیشن کی سودا بازیوں اور ارکان توڑنے کے بجائے پی ٹی آئی کے اندر نئی ایڈمنسٹریشن کی بات کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں خیبر پختونخوا سیاسی کشمکش کا متحمل نہیں ہوسکتا، آج بھی کہتا ہوں کہ اس صوبے کی اکثریت جعلی ہے، پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہے اور عدالت نے تسلیم بھی کیا ہے، ساری دنیا پی ٹی آئی کی حکومت مان رہی ہے ،اس میں ہم کچھ نہیں کرسکتے، تاریخ فیصلہ کرے گی کہ مینڈیٹ چوری کے حوالے سے ہمارا دعویٰ غلط یا درست ؟-

  • علی امین گنڈاپور خود تین میں ہیں نہ تیرہ میں،ووٹ سے نہیں بلکہ نوٹ سے جتوایا گیا، حافظ حمد اللہ

    علی امین گنڈاپور خود تین میں ہیں نہ تیرہ میں،ووٹ سے نہیں بلکہ نوٹ سے جتوایا گیا، حافظ حمد اللہ

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ترجمان کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈا پور خود فارم 47 کے وزیر اعلیٰ ہیں جو چند مہینوں کے مہمان ہیں۔

    وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمٰن سے متعلق بیان پر حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو فارم 47 کا بینفشری کہنے والے گنڈاپور بتائیں وہ کس کے این او سی پر خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ بنے؟

    حافظ حمد اللہ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ پورا صوبہ خیبرپختونخوا جل رہا ہے، خیبر پختونخوا کے عوام امن کے لیے ترس رہے ہیں، لیکن وزیراعلی لاؤ لشکر سمیت پنجاب فتح کرنے نکلے ہیں اور لاہور میں بڑھکیں مار رہے ہیں علی امین گنڈاپور خود تین میں ہیں نہ تیرہ میں، ان کی حکومت دولت اور طاقت کے بل پر کھڑی ہے،8 فروری کے انتخابات میں علی امین کو ووٹ سے نہیں بلکہ نوٹ سے جتوایا گیا،پی ٹی آئی کے اندر سے بھی خیبرپختونخوا کی حکومت کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں، آئے روز خیبرپختونخوا کے عوام اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھا رہے ہیں۔

    5 اگست کوئی ڈیڈ لائن نہیں بلکہ وہ دن تحریک کے عروج کا ہوگا،علی امین

    انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ باجوڑ جانے کے بجائے لاہور میں سیر سپاٹا کر رہے جو انتہائی شرمناک ہے، وزیر اعلیٰ اپنے سابق وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کے اعتراف کے مطابق جعلی مینڈیٹ پر براجمان ہیں صوبائی حکومت سر تا پاؤں کرپشن میں ڈوبی ہے، صوبائی خزانہ سے لاہور کا ٹور کرنے والوں سے پائی پائی کا حساب لیا جائے گا مولانا فضل الرحمٰن کے حقیقت پر مبنی بیان نے وزیر اعلیٰ کی ڈرامہ بازی پر پانی پھیر دیا۔

    90 روزہ تحریک لگتاہے وزیراعلیٰ نے اپنی نوکری کیلئے وقت مانگا ہے،عظمی بخاری

  • فرخ کھوکھر کا  جے یو آئی میں شمولیت کا فیصلہ

    فرخ کھوکھر کا جے یو آئی میں شمولیت کا فیصلہ

    سماجی شخصیت فرخ کھوکھر نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف میں شمولیت کا فیصلہ کرلیا-

    باخبر ذرائع کے مطابق فرخ کھوکھر 18 جولائی کو ڈیرہ تاجی کھوکھر میں مولانا فضل الرحمٰن کی موجودگی میں جے یوآئی (ف) میں شامل ہوں گے، فرخ کھوکھر جے یو آئی میں شمولیت کے بعد باقاعدہ اسلام آباد سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کریں گے،جبکہ باقاعدہ شمولیت کا اعلان مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کے بعد کیا جائے گا۔

    فرخ کھوکھر کی جانب سے اپنے فیس بک پیج پر ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ 18 جولائی بروز جمعہ مولانا فضل الرحمٰن کی موجودگی میں ڈیرہ تاجی خان کھوکھر پر شام 4 بجے پریس کانفرنس کی جائے گی، جس میں وہ باقاعدہ جمعیت علمائے اسلام میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کریں گے۔

    کردستان ورکرز پارٹی کا سرینڈر، ہتھیار جلا ڈال

    فرخ خان کھوکھر نے مذہبی شخصیات اور بالخصوص قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے ساتھ ختمِ نبوت کے ایشو پر جرات و بہادری سے کردار ادا کرنے پر جمعیت علمائے اسلام میں شمولیت کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا۔

    واضح رہے کہ فرخ کھوکھر تاجی خان کھوکھر مرحوم کے صاحبزادے،سابق ڈپٹی اسپیکر نواز کھوکھر کے بھتیجے اور سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کے چچازاد بھائی ہیں، امیر جے یوآئی اسلام آباد پیر مفتی اویس عزیز بھی ملاقات میں موجود ہوں گے۔

    بانی پی ٹی آئی کے بچوں کی واپسی کی بات صرف تحریک کو مرچ مصالحہ لگانے کیلئے کی گئی

  • مولانا فضل الرحمان کا کل ملک بھر میں دفاع وطن منانے کا اعلان

    مولانا فضل الرحمان کا کل ملک بھر میں دفاع وطن منانے کا اعلان

    جمیعت علما اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھارتی جارحیت کے خلاف کل (9 مئی) کو ملک بھر میں دفاع وطن منانے کا اعلان کردیا۔

    جمیعت علما اسلام کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کل 9 مئی کو یوم دفاع منایا جائے گا اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے اپیل کی ہے کہ اجتماعات میں بھارتی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کروائیں اپنے وطن کے دفاع کے لیے ہر قربانی دیں گے، وطن کے دفاع کے لیے ہم سب ایک ہیں، ہماری بہادر فوج جرات کے ساتھ دشمن کے سامنے کھڑی ہے، پوری قوم ان کی پشت پر ہے وطن کا دفاع فرض بھی اور ہمارا ایمانی حق بھی ہے، قوم دشمن کی ہرجارحیت کا جواب دینے کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے۔

    پاکستانی بندرگاہوں پرمیری ٹائم سکیورٹی ہائی الرٹ

    واضح رہے کہ ایک روز قبل جے یو آئی سے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیان میں بھارتی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان کیا تھا یہ وقت قومی اتحاد کا ہے اور بھارتی جارحیت کیخلاف پوری قوم پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔

    بھارتی وزارت دفاع کا اعلامیہ جھوٹ کا پلندہ،قوم بھارتی پروپیگنڈے میں نہ آئے

  • پی ٹی آئی سے اتحاد نہ کرنے سے متعلق خبروں میں صداقت نہیں،  جے یو آئی

    پی ٹی آئی سے اتحاد نہ کرنے سے متعلق خبروں میں صداقت نہیں، جے یو آئی

    لاہور:ترجمان جے یو آئی نے کہا ہے کہ میڈیا میں چلنے والی پی ٹی آئی سے اتحاد نہ کرنے سے متعلق خبروں میں صداقت نہیں-

    جمعیت علمائے اسلام کی مرکزی مجلس عمومی کا دو روزہ اہم اجلاس ختم ہوگیا ہے اس حوالے سے ترجمان جے یو آئی نے اپنے بیان میں کہا کہ اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، تاہم ان فیصلوں کا باضابطہ اعلان جلد ہی کردیا جائے گااجلاس کے فیصلوں سے متعلق آفیشل بیان جاری نہیں کیا گیا میڈیا میں آنے والی خبروں سے کوئی تعلق نہیں۔

    ہدیۃ الہادی پاکستان کے زیر اہتمام قومی مجلس مشاورت،اہم فیصلے،اعلامیہ جاری

    واضح رہے کہ خبریں ہیں کہ جے یو آئی نے اپنی مجلس عمومی کے اجلاس میں حتمی فیصلہ کیا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی اور نہ ہی ایسے کسی اتحاد کا حصہ بنے گی جو پی ٹی آئی کے ایما پر بنایا جائے گا جے یو آئی نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں آزاد اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہے گی اور حکومت کا حصہ نہیں بنے گی پارلیمنٹ میں زیر غورآنے و الے معاملات کاجائزہ لیتی رہے گی اور بوقت ضرورت پی ٹی آئی کے ساتھ تعاون کرنے یا نہ کرنے کا تعین ہوگا۔

    مریم نواز کا گندم کے کاشتکاروں کیلئے 110 ارب روپے کے پیکج کا اعلان

  • جے یو آئی کی نئے کینالوں کیخلاف سینیٹ میں قرارداد جمع

    جے یو آئی کی نئے کینالوں کیخلاف سینیٹ میں قرارداد جمع

    جمعیت علماءاسلام نے دریائے سندھ پر نئے کینال بنانے کے خلاف سینیٹ میں قرارداد جمع کرادی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سینیٹ میں جے یو آئی کی جمع کرائی گئی قرارداد کے مطابق سندھ کے عوام کے تحفظات کا فوری ازالہ کیا جائے۔ جے یو آئی پاکستان نے مطالبہ کیا کہ دریائے سندھ پر غیرقانونی کینالوں کی تعمیر بند کی جائے، سندھ کی تقسیم پر خاموش نہیں رہیں گے۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے جے یو آئی سندھ کی درخواست پر سینیٹ میں تحریک جمع کرائی۔

    اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی چھیننے کی ہر سازش کا پارلیمان میں محاسبہ کریں گے، وفاقی حکومت سندھ دشمن منصوبوں پر وضاحت دے۔

    پیپلز پارٹی وفاق کا حصہ، بات ذمہ داری سے کرنی چاہیے، رانا ثنا اللہ

    کالعدم تنظیم کی چاکنگ اورسوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے والا ملزم گرفتار

    پیپلزپارٹی اراکین کا وفاقی حکومت گرانے کا عندیہ

    پنجاب یونیورسٹی سے اساتذہ کروڑوں روپے کی اسکالرشپ لے کر فرار

  • صوبے کے اختیارات پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، مولانا فضل الرحمان

    صوبے کے اختیارات پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، مولانا فضل الرحمان

    پشاور: سربراہ جے یوآئی مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ مائنز اینڈ منرل بل کا معاملہ حساس ہے، ہمارے وسائل ہمارے قبضے میں ہونے چاہئیں، صوبے کے اختیارات پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لئے توہمیں میدان میں آنا ہوگا۔

    باغی ٹی وی : پشاور میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمار ے ساتھیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہےاور ریاستی ادارے جانبدار رویہ اپنا رہے ہیں اس وقت ملک کا سب سےحساس مسئلہ معدنیات کا ہے صوبوں سے معدنی وسائل سے متعلق بل منظور کرائے جا رہے ہیں جو آئین کے بنیادی تقاضوں کے خلاف ہیں آئین کا تقا ضہ ہے کہ کوئی قانون سازی اس کے خلاف نہ ہو، اور قانون سازی کرتے وقت صوبائی مفادات کو مدنظر رکھا جائے۔

    مولانا فضل الرحمان نے فاٹا انضمام کو بھی عالمی دباؤ کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان کے مفاد میں نہیں بلکہ عالمی قوتوں کے دباؤ پر کیاگیا وفاق صوبوں کےقدرتی وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو ناقابل قبول ہے ، ہمارے وسائل ہمارے قبضے میں ہونے چاہییں جے یو آئی سربراہ نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو انہیں ایک بار پھر میدان میں آنا پڑے گا۔

    اسلام آباد میں طوفانی بارش اور شدید ژالہ باری،گاڑیوں کے شیشےٹوٹ گئے

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ افغان مہاجرین کی جبری بے دخلی ایک سنگین انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے۔ یہ یک طرفہ مسئلہ نہیں، بلکہ پاکستان اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے، جسے سنجیدگی سے حل کیا جانا چاہیے 26 ویں آئینی ترمیم میں 56 میں سے 34 شقوں سے انہیں دستبردار ہونا پڑا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے گندم کے کاشتکا روں کیلئے پیکج کا اعلان کر دیا

    اسرائیل کے خلاف مارچ کااعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 27 اپریل کو مینار پاکستان پرمارچ ہوگا، افغانستان سے کوئی مسئلہ ہے تو بات چیت کی جائے، پشاور میں11 مئی کو ملین مارچ ہوگا، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حکومتی رٹ ختم ہو چکی، خیبر پختونخوا میں بدامنی پر تشویش ہےمائنز اینڈ منرل ایکٹ جے یو آئی کا نہیں، وسائل صوبے کے ہوں گے اور شرائط صوبے کے ہوں گے، صوبے کے تمام جماعتوں کو ایک پیج پرلائیں گے، ریکوڈک قانون سازی پر ہم نے راستہ روکا تھا۔

    سونے کی قیمت ساڑھے 3 لاکھ کے قریب پہنچ گئی

  • ہماری غربت کو جاگیر دار استعمال کر رہا ہے، مولانا فضل الرحمان

    ہماری غربت کو جاگیر دار استعمال کر رہا ہے، مولانا فضل الرحمان

    تونسہ شریف : سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہماری غربت کو جاگیر دار استعمال کر رہا ہے،ہماری پسماندگی کاغلط استعمال اور غربت کو کمزوری سمجھا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : تونسہ شریف میں استحکام پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےمولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ طویل عرصے بعد یہاں میں اجتماع سے مخاطب ہوں، ہم بھی کوہ سلیمان کے دامن سے ہیں، ہم سب کے مسائل ایک جیسے ہیں ہماری غربت کو جاگیر دار استعمال کر رہا ہے، اس خطے میں وہ آواز موجود ہے جس کو جے یوآئی کی آواز کہا جاتا ہے، غلامی سے بغاوت ہماری پہچان ہے، دوسر ے ممالک سے آزادی کی بھیک نہیں مانگی جاسکتی۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر ہم اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لے کر چلے، جے یو آئی واحد قوت نے جو اس آئینی ترمیم کی راہ میں رکاوٹ بنی اور حکومت کو 56 نکات سے 34 نکات پر محدود کیا، اب اگر اس ترمیم کو نقصان پہنچتا ہے تو یکم جنوری 2028 کو سود کے خاتمے کی شق کو بھی نقصان ہوگا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ امریکی سرمایہ کاروں کو دلاسے دینے لگے

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دنیا کے مختلف مسلم ممالک آگ میں جل رہے ہیں، اور دہشتگرد بھی انہی کو کہا جاتا ہے، مسلمان فساد کی جڑ نہیں بلکہ دنیا میں آگ لگانے والے فسادی ہیں فلسطین میں 60 ہزار شہری شہید کردیئے گئے، اسرائیلی وزیراعظم ایک جنگی مجرم ہے، امریکا اور یورپ برابر کے مجرم ہیں۔

    سربراہ جے یو آئی ف کا کہنا تھا کہ ہماری پسماندگی کاغلط استعمال ہو رہا ہے، ہماری غربت کو کمزوری سمجھا جا رہا ہے، حکمران غربت کو کمزور ی سمجھتے ہوئےغلط استعمال کر رہے ہیں، مظالم کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے، اسلامی ممالک میں آگ بھڑک رہی ہے ہم مغر ب کی تہذیب کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں، ہمیں امریکا اورمغرب کی غلامی کرنے کہا جاتا ہے، ہم تہذیب، روایات مغرب، یور پ اور امریکا سے مانگتے ہیں۔

    پانی کی قلت اور ممکنہ خشک سالی، پنجاب میں نئےکار واش اسٹیشنز بنانے پر پابندی

    انہوں نے کہا کہ فساد کی جڑ تم ہو،ہم نہیں ہیں، افغانستان، شام اور عرب دنیا میں آگ جل رہی ہےاور اس میں جل بھی میں رہا ہوں، انسانیت کیلئے خطرہ بھی میں ہوں، ایسا نہیں ہو سکتا، فلسطین میں اسرائیلی جبر سے60 ہزار مسلمان بمباری میں شہید ہوئے، غزہ میں بزر گ ،خواتین اور بچے شہید ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔