Baaghi TV

Tag: جے یو آئی

  • وزیراعظم شہباز شریف کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی ہے، جس میں ملکی موجود سیاسی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔

    باغی ٹی وی : وزیراعظم شہباز شریف سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچے، وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان کی خیریت دریافت کی، اس موقع پر وزیراعظم اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں ملکی موجودہ سیا سی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔

    اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ملاقات کے دوران شہباز شریف کے ہمراہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور وفاقی وزیر احسن اقبال بھی موجود تھے ملاقات میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری، سینیٹر مولانا عطا الرحمٰن، مولانا اسعد محمود اور محمد اسلم غوری بھی موجود تھے۔

    واضح رہے کہ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چند روز قبل مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ 8 فروری کا الیکشن دھاندلی زدہ تھا، حکومت کو مستعفی ہوکر نئے انتخابات کا اعلان کرنا چاہیئے۔

    اسرائیل غزہ کی پٹی امریکا کے حوالے کر ے گا،ڈونلڈ ٹرمپ

    یاد رہے کہ 4 فروری کو مولانا فضل الرحمان نے اسد قیصر کی رہائش گاہ پر اپوزیشن جماعتوں کے عشائیے میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کی سیاسی صورتحال پر باہمی مشاورت ہوئی، تمام جماعتوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ 8 فروری 2024 کے انتخابات دھاندلی زدہ الیکشن تھا، اس کا مینڈیٹ عوام کا مینڈیٹ نہیں۔

    سپارکو کا روورچانگی-8 مشن کے ذریعے چاند کی سطح پر اترنے کے لیے تیار

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ نے اپنی مرضی کا مینڈیٹ مینج کرکے اپنی مرضی کی حکومتیں بنائی ہیں، ان لوگوں کو ملک پر مزید مسلط رہنے کا حق حاصل نہیں ہے، ان کو فوری مستعفی ہو کر ازسرنو انتخابات کا اعلان کر دینا چاہیےالیکشن کمیشن منصفانہ انتخابا ت دینے میں ناکام رہا ہے، اور اب ان کی آئینی مدت بھی مکمل ہو چکی ہے، ہرچند کہ حکومت نے ریٹائرمنٹ کے باوجود ان کو اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے موقع فراہم کیا ہے، یہ کسی مخصوص سوچ کی نمائندگی ہے۔

    پی ٹی آئی نے 8 فروری کے احتجاج کو حتمی شکل دے دی

  • پیکا ایکٹ جیسے قوانین بنا کر پاکستان کو شمالی کوریا بنادیا،حافظ حمداللہ

    پیکا ایکٹ جیسے قوانین بنا کر پاکستان کو شمالی کوریا بنادیا،حافظ حمداللہ

    اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے رہنما حافظ حمداللہ کا کہنا ہےکہ پیکا ایکٹ جیسے قوانین بنا کر پاکستان کو شمالی کوریا بنادیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ایک بیان میں حافظ حمداللہ نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے مولانا فضل الرحمان کو پیکا ایکٹ پر دستخط نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی لیکن اگلے ہی روز دستخط کر دیئے، پیکا ایکٹ جیسے قوانین بنا کر پاکستان کو شمالی کوریا بنا دیا گیا ہے۔

    حافظ حمداللہ نے سوال کرتے ہوئے مزید کہا کہ کیا ایک اعلیٰ ترین منصب پر فائز شخصیت کا یہ رویہ مناسب ہے؟ آج کی حکومتی پارٹیاں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اپوزیشن میں پیکا قانون کو سیاہ قانون کہا کرتی تھیں، کیا یہ کھلا تضاد دوغلاپن اور رنگ برنگی نہیں ہے؟

    اسرائیل کا مغربی کنارے میں فلسطینیوں کا قتل عام

    دوسری جانب حکومتی نمائندوں نے پیکا قانون سازی پر جلد بازی کا اعتراف کرتےہوئے بات چیت پر رضا مندی ظاہر کی ہے،ایک بیان میں سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ وہ مانتے ہیں پیکا قانون سازی میں حکومت نے جلد بازی کی اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کی، پیکا کا معاملہ ایسی بات نہیں جس کی اصلاح نہیں ہو سکتی، اس معاملے پر صحافیوں کی رائے لینی چاہیے تھی جو قانون مشاور ت سے اچھا بن سکتا تھا وہ متنازع ہوگیا۔

    زمین سے عنقریب ٹکرانے والے سیارچے کی نگرانی شروع

    وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ قوانین میں بہتری کی ہمیشہ گنجائش موجود رہتی ہے، ابھی پیکا ایکٹ کے رولزبننے ہیں، اس میں مشاورت اور بات چیت کی بہت گنجائش موجود ہےمشاورت میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلیں گے، بتایا جائے پیکا ایکٹ میں کونسی شِق متنازع ہے ہم اس پربات کرنے کو تیار ہیں سوشل میڈیا پروٹیکشن اتھارٹی میں نجی شعبے سے نامزدگیاں کی جائیں گی، اتھارٹی میں پریس کلب یا صحافتی تنظیموں سے منسلک صحافیوں کو شامل کیا جائے گا جب کہ ٹربیونل میں بھی صحافیوں اور آئی ٹی پروفیشنل کو شامل کیا گیا ہے۔

    حکومت کا بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی کا فیصلہ

  • ہم جدید علوم کے خلاف نہیں، تقسیم حکومت نے پیدا کی ہے،مولانا فضل الرحمان

    ہم جدید علوم کے خلاف نہیں، تقسیم حکومت نے پیدا کی ہے،مولانا فضل الرحمان

    مردان: جمعیت علمائے اسلام ( جے یو آئی ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ کرم میں فوجی آپریشن کے لیے راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی: میں جامعتہ الاسلامیہ بابوزئی میں تکمیل درس نظامی کے سلسلے میں پروقار تقریب ہوئی، تقریب میں دینی مدارس کے ہزاروں طلباء اور ان کے والدین نے شرکت کی،مولانا فضل الر حمان مہمان خصو صی تھے، پارٹی رہنما عطا الحق درویش، ضلعی امیر مولانا امانت شاہ حقانی، مہتمم جامعہ بنوری کراچی ڈاکٹر سید احمد بنوری، مفتی حماد یوسفزئی نے بھی خطاب کیا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الر حمان نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کے خلاف نہیں لیکن انسانیت کے فائدے کی بات کریں گے، مغربی کلچر مذہبی جماعتوں کے پیچھے لگی ہوا ہے قیام پاکستان سے اب تک اسٹیبلشمنٹ اور مغربی قوتیں دینی مدارس کے خلاف سرگرم ہیں، جنرل مشرف کو کہا کہ آپ بھی تسلیم کریں کہ ہم امریکا کے غلام ہیں، ہمارے اسلاف نے جدوجہد کی جب کہ اسٹبشلمنٹ نے اس کی غلامی تسلیم کی۔

    پہلا ٹیسٹ:پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو شکست دے دی

    سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ مدارس کی رجسٹریشن کا ایشو اٹھایا گیا، ہم جدید علوم کے خلاف نہیں، تقسیم حکومت نے پیدا کی ہے مدارس کی حفاظت کرینگے، مدارس کی رجسٹریشن کا ایشو اٹھایا گیا، ہم جدید علوم کے خلاف نہیں ہیں سیاسی جماعت ہو نے کے ناطے ہم مذاکرا ت کے حق میں ہیں، مذاکرات نیک نیتی کے ساتھ ہونے چاہییں،کرم میں فوجی آپریشن کے لیے راہ ہموار کی جا رہی ہے، صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، صوبے میں لوٹ کھسوٹ اور کمیشن مافیا سرگرم ہے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب نے پنجاب کی سڑکوں اور تمام مراکز صحت کی تعمیر و بحالی کا الٹی میٹم

  • اس ملک کے ساتھ صرف علمائے  کرام نے وفاداری کی ہے،مولانا فضل الرحمان

    اس ملک کے ساتھ صرف علمائے کرام نے وفاداری کی ہے،مولانا فضل الرحمان

    چارسدہ: مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے پاکستان میں لوگ اسلام کا مذاق اُڑا رہے ہیں، ہم نے بالادست قوتوں کو محبت سے سمجھایا ہے، شرافت سے ہماری بات مان لو۔

    باغی ٹی وی : چارسدہ میں خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے پاکستان میں لوگ اسلام کا مذاق اُڑا رہے ہیں، مسلمان کا خون مسلمان پر حرام ہے ہمارے حکمرانوں اور سیاست دانوں نے مذہب اسلام کےساتھ بہت ظلم کیا ہے یہ ملک کسی کےباپ کی جاگیرنہیں، صنعت کار، جاگیردار، بیوروکریٹس اور عام پاکستانی کی ایک حیثیت ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے جس کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے قربانیاں دیں اس ملک کے ساتھ صرف علمائے کرام نے وفاداری کی ہے ہم اس پاکستان میں امن چاہتے ہیں ہم نے دلیل اور محبت سے بالادست قوتوں کو سمجھایا ہے۔ جھوٹ موٹ اور دھاندلی کے الیکشن سے حسینہ واجد بھی جیتی تھی شرافت سے ہماری بات مان لو۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس کے فیصلے پر بانی پی ٹی آئی ذرا بھی پریشان نہیں، شیخ رشید

    انہوں نے کہا کہ ہم نے ختم نبوت کے عقیدے کا تحفظ کی ،مدارس پر ہر طرف سے حملے شروع ہو چکے ہیں مدارس کے خلاف عالمی سازشیں ہو رہی ہیں دنیا چاہتی ہے کہ مدارس کا سلسلہ ختم ہو جائے جب کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں کے باوجود مدارس مزید مضبوط ہو رہےہیںمدارس ختم کرنے کی خواہش اور سازش انگریز وں کی بھی تھی اللہ تعالیٰ نے اسلام کو ہمارے لیے نظام حیات بنایا ہے۔

    سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ اگر26 ویں آئینی ترمیم حکومت کی خواہش پر پاس ہوتی تو بڑی تباہی آتی حکومت کا آئینی مسودہ پارلیمنٹ اورانسانی حقوق کے لیے بہت بڑا خطرہ تھا۔ اس میں فوجی عدالتوں کو مضبوط کیا گیا اعلیٰ عدالتوں کے اختیارات محدود کیے گئے تھے ہمارا ملک سرتاپا سود میں ڈوبا ہوا ہے سارے ادارے اور بینک سودی نظام پر چل رہے ہیں اس ڈمی اسمبلی میں بیٹھنے کی ہمیں کوئی خواہش نہیں لوگ ووٹ کسی کو ڈالتے ہیں اور کامیاب کوئی اور ہوتا ہے۔

    چیمپئنز ٹرافی:بھارت نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا

    انہوں نے کہا کہ ہمارے وسائل پر ہما را اختیار ہے یہ وسائل کسی کا باپ بھی ہم سے نہیں چھین سکتا خیبر پختونخوا میں امن و امان یا حکومت نام کی کوئی چیز نہیں مضبوط حکومت کے بغیر ملک نہیں چل سکتا معیشت کے اشاریوں سے قوم کو بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا نااہل حکمران بتائیں کہ کیا الٰہ دین کا چراغ ملا ہے؟ حکومت معیشت کی بہتری کے دعوے کرتی ہے تو بتائیں کہ وسائل کہاں سے آئے۔

  • علی امین گنڈا پور ٹی وی پر جھوٹی بڑھکیں ماررہے ہیں، ترجمان جے یو آئی

    علی امین گنڈا پور ٹی وی پر جھوٹی بڑھکیں ماررہے ہیں، ترجمان جے یو آئی

    اسلام آباد: جمیعت علمائے اسلام ( ف ) نے کہا ہے کہ علی امین گنڈا پور کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے کہ وہ اپوزیشن کو تقسیم کریں-

    باغی ٹی وی: ترجمان جے یو آئی ( ف ) اسلم غوری نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کینٹ میں بیٹھ کر خودساختہ روپوشی گزاری،علی امین گنڈا پور ٹی وی پر جھوٹی بڑھکیں ماررہے ہیں۔

    اسلم غوری نے کہا کہ علی امین گنڈا پور کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے کہ وہ اپوزیشن کو تقسیم کریں، دھوکا مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ نہیں عمران خان کےساتھ ہو رہا ہے علی امین گنڈا پور جیسےمہرے اپوزیشن کو تقسیم کرنے کےلیےاستعمال ہورہے ہیں علی امین اسٹیبلشمنٹ سے بند کمرے میں باقاعدہ معافیاں مانگتے ہیں اور باہر آ کر بڑھکیں مارنا شروع ہو جاتے ہیں، ڈی چوک میں کارکنوں کو تنہا چھوڑ کر بھاگنے والا کس منہ سے باتیں کر رہا ہے، انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں کرپشن اور لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔

  • قومیت کا نعرہ لگانے والے لوگ بھی خود کو لبرل کہتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    قومیت کا نعرہ لگانے والے لوگ بھی خود کو لبرل کہتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    ملتان: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ تعصب تنگ نظری کے سوا کچھ نہیں پھر خود کو آزاد بھی کہلواتے ہیں، اللہ نے جدو جہد کو لازمی قرار دیا ہے، ہمیں مسلسل کام کرنے کی ضرورت ہے-

    باغی ٹی وی: ملتان میں علما کنونشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ انبیا کرام نے سب سے زیادہ تکالیف برداشت کیں، اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں، اگر وہ مسلمان ہوجائیں گے تو سب کہیں گے ہمارا بھائی ہے، قومیت کا نعرہ لگانے والے لوگ بھی خود کو لبرل کہتے ہیں۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تعصب تنگ نظری کے سوا کچھ نہیں پھر خود کو آزاد بھی کہلواتے ہیں، اللہ نے جدو جہد کو لازمی قرار دیا ہے، ہمیں مسلسل کام کرنے کی ضرورت ہے، قوم قبول کرے یا نہ کرے جدو جہد جاری رکھنی ہے، نامناسب سہولیات کے پیش نظر لوگ شہر چھوڑ رہے ہیں، سیاست انبیا کا وظیفہ ہے، اسے دینی اداروں کے حوالے کیوں کردیا گیا؟-

    عالمی سطح پر سندھ کی صحت سہولیات کو مانا جارہا ہے ،بلاول بھٹو

    مولانا نے کہا کہ ہم اس وقت 21 ویں صدی میں جارہے ہیں، 19 ویں صدی سے لے کر 20 ویں صدی کے وسط تک برصغیر کی قیادت علمائے کرام کے ہاتھ میں تھی لیکن کوئی ایک ایسی مثال نہیں ملتی جہاں مسئلک کا اختلاف پیدا ہوا ہو، امت بالکل متحد تھی۔

    وزیرِ اعظم نے بین الاقوامی معیار کی سہولیات کیلئے جامع پلان طلب کر لیا

    انہوں نے کہا کہ اس کے بعد سیاست جن لوگوں کے ہاتھ میں آئی آج تک فتنہ و فساد اور خونریزی سے ہماری جان نہیں چھوٹی، ہم ہر متکبہ فکر سے بات کرنے والے لوگ ہیں، قوم کو جوڑنے اور انسانیت کی بات کرتے ہیں، پارلیمان میں تمام ممبران کو بڑی وضاحت سے کہا تھا کہ تمام مکاتب فکر اور امت مسلمہ کی نمائندگی کروں گا۔

    فیصلہ فیصلہ کا راگ الاپنے والوں کا پورا ٹبر عدالت سے غائب رہا،عظمیٰ بخاری

  • جے یو آئی، پی ٹی آئی،رابطے ٹوٹ گئے

    جے یو آئی، پی ٹی آئی،رابطے ٹوٹ گئے

    جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے سیاسی رابطے ٹوٹ گئے، 26 ویں آئینی ترمیم وجہ بنی

    مصدقہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے درمیان سیاسی تعلقات مکمل طور پر ٹوٹ چکے ہیں، جس کی بنیادی وجہ 26 ویں آئینی ترمیم ہے۔ نجی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان یہ تعلقات اس وقت ختم ہوئے جب جے یو آئی کو اڈیالہ جیل سے حکومت کی جانب سے ہونے والے مذاکرات میں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

    جے یو آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ کیے گئے مذاکرات میں انہیں اس معاملے پر بالکل آگاہ نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمان بیک وقت حکومت اور اپوزیشن میں شامل ہیں، جس وجہ سے پی ٹی آئی کے لیے ان سے بات کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ذرائع کے مطابق، 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے وقت دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی ہم آہنگی کی فضا قائم تھی، تاہم اب یہ تعلقات تلخ یادوں کے ساتھ ختم ہو چکے ہیں۔ سیاسی رابطوں کی اس سرد مہری کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ترمیم بنی ہے، جس پر جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے درمیان اختلافات گہرے ہو گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمان نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ جو مذاکرات کر رہی ہے، اس میں جے یو آئی کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے کوئی تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ ان کی جماعت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

    معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث ڈاکوؤں کی فرار کی کوشش ناکام ،دو ہلاک

  • مدارس بل:حکومت جلد فیصلہ کر لے  تو بہتر ہے،حافظ حمداللہ

    مدارس بل:حکومت جلد فیصلہ کر لے تو بہتر ہے،حافظ حمداللہ

    اسلام آباد: رہنما جے یو آئی حافظ حمداللہ نے کہا ہے کہ مدارس بل پر حکومت جلد فیصلہ کرلے تو بہتر ہے، یہ نا ہو کہ دیر ہو جائے۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے سے گفتگو میں حافظ حمداللہ نے کہا کہ مدارس بل کے معاملے میں حکومت سیاسی، اخلاقی، قانونی طورپر ہارچکی ہے، تنظیمات مدارس اور جے یو آئی کو مدارس رجسٹریشن بل میں کوئی ترمیم قبول نہیں ہے مدارس رجسٹریشن بل ایکٹ بن چکا ہے لہٰذا اس کاگزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، یہی جے یو آئی اور تنظیمات مدارس کا حکومت سے مطالبہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کا تقاضا ہے کہ پارلیمنٹ کا منظورکردہ بل تسلیم کیا جائے، گیند اب حکومت کی کورٹ میں ہے، اب بھی وقت ہےحکومت فیصلہ کرے ورنہ دیر ہو جائے گی، پارلیمنٹ کے فیصلے فیٹف کے حوالے نہ کریں یا پھر قوم کو بتادیں ایوان میں فیصلےعوام کی نہیں فیٹف کی مرضی سےہوں گے۔

    قبل ازیں مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ مدارس بل اب ایکٹ بن چکا ہے اب ہم کوئی ترمیم قبول نہیں کریں گے اور یہ بات نہ مانی گئی تو پھر ایوان کی بجائے میدان میں فیصلہ ہوگا، ہمارا مؤقف ہے کہ مدارس بل اب ایکٹ بن چکا ہے اور اب اگر بل کو ایکٹ تسلیم کیے بغیر دوبارہ منظوری کے لیے پیش کیا گیا تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہوگی، سابق صدر عارف علوی نے ایک بل پر دستخط نہیں کیا تو بل ایکٹ بن گیا، یہ ایک نظیر بن چکی ہے اب صدر کو اختیار حاصل نہیں، اگر صدر 10 دن کے اندر دستخط نہیں کرتے تو قانون بن جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ پارلیمنٹ نے 26 ویں ترمیم میں مدارس سے متعلق جے یو آئی کا تجویز کردہ بل منظور کیا تھا مگر بعد ازاں صدر نے بل پر اعتراض کر کے اسے واپس بھیج دیا تھا۔

  • حکومت کو26 ویں آئینی ترمیم میں وعدہ خلافی مہنگی پڑے گی، جے یو آئی پنجاب

    حکومت کو26 ویں آئینی ترمیم میں وعدہ خلافی مہنگی پڑے گی، جے یو آئی پنجاب

    لاہور :جمعیت علمائے اسلام صوبہ پنجاب نے 26ویں آئینی ترمیم میں حکومت کی جانب سے وعدہ خلافی پر غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنی قیادت کے حکم پر احتجاج کرنے کے لیے تیار ہیں اور حکومت کو وعدہ خلافی مہنگی پڑے گی۔

    باغی ٹی وی: ترجمان جے یو آئی پنجاب حافظ غضنفر عزیز دیگر صوبائی عہدیداروں کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی مفاہمتی پالیسی پر یقین رکھتی ہے لیکن حکمران ہمیں مزاحمتی پالیسی کی طرف دھکیل رہے ہیں، جے یو آئی کارکنان احتجاج کے لیے تیار رہیں۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں حکومت نے علمائے کرام کو میدان میں لاکر انہیں باہم لڑانے کی پالیسی اختیار کی اس کی مذمت کرتے ہیں اور علمائے کرام سے کہنا چاہتے ہیں کہ آپ حکمرانوں کی عالمی قوتوں کے سامنے سرنڈر کی پالیسی کا حصہ نہ بنیں،صدر مملکت کے اعتراضات سامنے آمنے کے بعد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا ہے۔

    اس قبل جے یو آئی نے مدارس بل پر صدر مملکت کی جانب سے دستخط نہ کرنے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ملک بھر میں احتجاج کا عندیہ دیا تھا اور مرکزی ترجمان نے اس حوالے سے واضح کیا تھا کہ حکومت سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔

    ترجمان جے یوآئی اسلم غوری نے بیان میں کہا کہ مدارس رجسٹریشن بل کے معاملے پر جے یو آئی کی جانب سے سینیٹر کامران مرتضیٰ حکومت سے بات چیت کرتے ہیں، جے یو آئی اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور مدارس رجسٹریشن بل کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان اپنا مؤقف دے چکے ہیں۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر برائے تعلیم خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ مدارس رجسٹریشن سے متعلق بل عجلت اور مخصوص حالات میں منظور ہوا تھامدارس کی تنظیموں کی اکثریت کو بل پر اعتراضات ہیں، پندرہ میں سے دس وفاق ہائے مدارس نے بل پر تحفظات کا اظہار کیاہےجسکے بعد مدارس رجسٹریشن بل کی درستی کیلئے کام جاری ہے مدارس رجسٹریشن سے متعلق بل عجلت اور مخصوص حالا ت میں منظور ہوا تھا۔

    جبکہ چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ مدارس کی رجسٹریشن پر کوئی سمجھوتا ممکن نہیں جو مدارس وزارت تعلیم سے منسلک ہو گئے ان سے متعلق منفی قانون سازی نہ کی جائے، مدارس اپنا آڈٹ بھی کرواتے ہیں حسابات سب کیلئے کھلے ہیں، فیٹف سے متعلق ماضی میں بھی مدارس کی کوئی شکایت نہ تھی اور نہ ہی اب ہے۔

    واضح رہے کہ صدر مملکت کی جانب سے مدارس رجسٹریشن بل پر اعتراضات لگائے گئے ہیں، صدر مملکت نے اعتراض کیا کہ بل کے قانون بننے سے مدارس اگر سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹر ہوں گے تو ایف اے ٹی ایف اور جی ایس پی سمیت دیگر پابندیوں کا خدشہ ہے، مدارس کی رجسٹریشن سوسائٹیز ایکٹ کے ذریعے شروع کی گئی تو قانون کی گرفت کم ہوسکتی ہے پھر قانون کم اور من مانی زیادہ ہو گی۔

    اس حوالے سے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو ڈیڈ لائن دی تھی ان کا کہنا تھاکہ 17 دسمبر کو وفاق اور تنظیمات المدارس کا اجلاس 17 دسمبر کو بلایا ہے جس میں لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گاتاہم حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 17 دسمبر کو بلائے جانے کا امکان ہے جس میں مدارس رجسٹریشن بل کی منظوری متوقع ہے۔

  • صدر کے مدارس ایکٹ پر اعتراضات غیر آئینی قرار

    صدر کے مدارس ایکٹ پر اعتراضات غیر آئینی قرار

    جے یو آئی کے ترجمان اسلم غوری نے صدر مملکت آصف علی زرداری کے مدارس رجسٹریشن بل پر اعتراضات کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔

    میڈیا سے گفتگو میں ترجمان اسلم غوری نے کہا کہ صدر کی جانب سے مجوزہ ترمیم پر اعتراض کے ساتھ تجاویز اور حل بھی بھیجے جاتے ہیں، لیکن مدارس بل کے حوالے سے صدر مملکت کی جانب سے نہ کوئی تجاویز دی گئی ہیں اور نہ ہی کوئی حل پیش کیا گیا ہے. صدر مملکت کے اعتراضات آئین میں دی گئی مدت کے اندر نہیں کیے گئے، اور ان کا طریقہ کار قانون کے مطابق نہیں تھا۔اعتراضات قسطوں میں کیے گئے، جبکہ ایک بار اعتراضات کا جواب دیا جا چکا تھا، اور دوبارہ اعتراضات کا حق نہیں تھا۔ترجمان جے یو آئی نے مزید کہا کہ اعتراضات کو اسپیکر قومی اسمبلی کو بھیجا جانا چاہیے تھا، لیکن ایوان صدر نے انہیں اسپیکر کے پاس نہیں بھیجا، حالانکہ اسپیکر آفس کے جواب پر صدر نے اپنے اعتراضات پر دوبارہ زور نہیں دیا۔ ے یو آئی کے ترجمان اسلم غوری کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ایوان صدر بیرونی دباؤ کا شکار ہے، جس کے باعث وہ بل پر اعتراضات اٹھا رہے ہیں۔ جے یو آئی رہنماؤں نے صدر کے اعتراضات کو سیاسی طور پر متعصب قرار دیتے ہوئے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    پاکستان کا جنوبی افریقہ کو جیت کیلئے 207رنز کا ہدف

    بشار کا تحتہ الٹنےکے بعد روس نے شام کی گندم فراہمی روک دی

    سونے کی قیمت میں اچانک بڑی کمی

    سندھ حکومت ائیر ایمبولینس، مرٰیض سکھرسے کراچی منتقل