Baaghi TV

Tag: جے یو آئی

  • پی ٹی آئی اور جے یو آئی کی اہم ملاقات کی اندرونی تفصیلات سامنے آگئیں

    پی ٹی آئی اور جے یو آئی کی اہم ملاقات کی اندرونی تفصیلات سامنے آگئیں

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے درمیان اہم ملاقات کی اندرونی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے جے یو آئی کو عید کے بعد احتجاج میں شمولیت کی باضابطہ دعوت دے دی ہےجے یو آئی نے پی ٹی آئی کا ساتھ دینے کے لیے مشروط حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے جے یو آئی نے احتجاج میں شمولیت کے بدلے پی ٹی آئی سے مدارس بل پر حمایت کا مطالبہ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق جے یو آئی کا مؤقف ہے کہ اگر پی ٹی آئی مدارس بل پر ان کا ساتھ دے تو وہ احتجاج میں پی ٹی آئی کی حمایت کے لیے تیار ہیں،تاہم، پی ٹی آئی قیادت نے اس حوالے سے فوری جواب دینے کے بجائے بانی تحریک انصاف سے مشاورت کے لیے وقت مانگ لیا ہے۔

    جنگ بندی کے نام پر اسرائیل کا دوہرا معیار،غزہ کی بجلی بندش قابل مذمت، حافظ طلحہ سعید

    ذرائع کے مطابق سلمان اکرم راجہ آج اڈیالہ جیل میں بانی تحریک انصاف سے ملاقات کریں گے اور اس معاملے پر حتمی مشاورت ہوگی۔ پی ٹی آئی تحریکِ تحفظِ آئین کے ساتھ مل کر احتجاج کی تیاری مکمل کرے گی، جس کے بعد جے یو آئی کی شرکت کا حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

  • گرینڈ اپوزیشن الائنس میں شمولیت،جے یوآئی نے پی ٹی آئی کو شرائط بتا دیں

    گرینڈ اپوزیشن الائنس میں شمولیت،جے یوآئی نے پی ٹی آئی کو شرائط بتا دیں

    جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو گرینڈ اپوزیشن الائنس میں شمولیت کے لیے اپنی شرائط سے آگاہ کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق جے یو آئی کے رہنماؤں نے اسد قیصر کو اپنی شرائط سے آگاہ کیا اور اسد قیصر نے ان شرائط کو پی ٹی آئی کے بعض مرکزی رہنماؤں تک پہنچایا۔پی ٹی آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جے یو آئی کی بیشتر شرائط وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، علی امین گنڈاپور سے متعلق ہیں، لیکن اسد قیصر نے ان شرائط کو باضابطہ طور پر وزیراعلیٰ کے پی کو آگاہ نہیں کیا۔

    جے یو آئی کی طرف سے پی ٹی آئی کو آگاہ کی جانے والی شرائط پر پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے نجی ٹی وی جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "جے یو آئی نے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے اور ان تحفظات کے بارے میں بانی پی ٹی آئی کے احکامات پر عمل درآمد کیا جائے گا۔”اس حوالے سے جے یو آئی کے ترجمان اسلم غوری نے کہا کہ "جے یو آئی نے الائنس میں شرکت کے بارے میں ابھی باضابطہ فیصلہ نہیں کیا۔ جو بھی فیصلہ ہوگا، وہ سب کو آگاہ کر دیا جائے گا۔”

    دوسری طرف، جیو نیوز کے پروگرام ‘نیا پاکستان’ میں پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما اسد قیصر نے کہا کہ "مولانا فضل الرحمان کو علی امین گنڈاپور سے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں ہے۔ ہمیں صرف اس اتحاد کے بارے میں بانی پی ٹی آئی سے ہدایات کا انتظار ہے۔”جے یو آئی کی جانب سے خیبرپختونخوا میں الیکشن آڈٹ کے مطالبے پر اسد قیصر نے کہا کہ "ہم سے بھی پشاور میں سیٹیں چھینی گئیں۔ جو بھی چاہتا ہے، وہ آ کر پشاور میں الیکشن آڈٹ کرا لے۔”

    بھارتی فضائیہ کے دو طیارے ایک دن میں تباہ

    ڈیرہ غازی خان :ادویات اسکینڈل، معطلیوں کی گونج، بڑی مچھلیاں محفوظ؟

  • مولانا فضل الرحمان کی قطر میں حماس رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں

    مولانا فضل الرحمان کی قطر میں حماس رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں

    دوحہ: جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قطر میں حماس رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں کی ہیں۔

    باغی ٹی وی: ترجمان جے یو آئی اسلم غوری کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے حماس کے سابق سربراہ ڈاکٹر خالد مشعل سے ملاقات کی، ملاقات میں علامہ راشد محمود سومرو، مفتی ابرار احمد اورحماس رہنما ڈاکٹرظہیر ناجی بھی موجود تھے۔

    ترجمان جے یوآئی کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے حماس رہنماؤں کو پاکستانی عوام کے جذبات سے آگاہ کیا، انہوں نے شہدا کی تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستانی عوام کے دل اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں، اسرائیل جنگی مجرم اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

    حماس کے سابق سربراہ ڈاکٹرخالد مشعل نے کہا کہ فلسطینی مسلمان اپنے مسلمان بھائیوں کی امداد کے منتظر ہیں، فلسطینی مسلمانوں کودوائیوں،خیموں اورراشن کی اشد ضرورت ہے،ترجمان جے یو آئی نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے حماس رہنماؤں کو ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔

    حماس کی مجلس شوریٰ کے سربراہ ابوعمر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اور جے یو آئی امت مسلمہ کی طرف سے فرض کفایہ ادا کررہے ہیں گھروں کی تعمیر، خیموں، دواؤں اور سحر و افطار میں پاکستانی عوام اور امت مسلمہ سے تعاون کی اپیل کرتے ہیں۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستانی عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔

  • ملک میں کوئی سیاسی بات نہیں اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے بات کرتی ہے،مولانا فضل الرحمان

    ملک میں کوئی سیاسی بات نہیں اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے بات کرتی ہے،مولانا فضل الرحمان

    اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملکی سالمیت کی پالیسی ایوانوں میں نہیں بنائی جا رہی بلکہ بند کمروں میں بنائی جا رہی ہے-

    باغی ٹی وی : قومی اسمبلی کے اجلاس میں نکتہ اعتراض پر گفتگو کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایوان میں ایسی قانون سازی بھی دیکھی جو بغیر کاروائی منظور ہوئی، اس ایوان میں اضطراب اور ہنگامہ آرائی کو سال ہوگیا، ہمارا نکتہ نظر کوئی سننے کو تیار نہیں۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت چاہے نہ چاہے ایوان کو احسن طریقہ سے چلانا اسپیکر کی ذمہ داری ہے، پورا ملک اس وقت اضطر اب میں مبتلا ہے، عام آدمی کے پاس روزگار نہیں، محکمہ اور ادارے ملیامیٹ کیے جارہے ہیں، لاکھوں لوگ بے روزگار ہورہے ہیں، حکومت عوام کے مفاد کے خلاف کوئی اقدام کرتی ہے تو پارلیمنٹ میں بات ہوتی ہے، حکومت ایک سال سے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہی ہے۔

    انسانی اسمگلرز کے گرد گھیرا مزید تنگ کیا جا رہا ہے،عطااللہ تارڑ

    سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ ملکی سالمیت کا مسئلہ ہے، بار بار بات کررہا ہوں، ہمیں ریاست کی بقا کی بات کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہم ان سے لڑ رہے ہیں، ہمیں ادراک ہونا چاہیئے کہ 2 صوبوں میں کوئی حکومتی رٹ نہیں ہے قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں جو ہورہا ہے وزیراعظم شاید اس سے لاعلم ہیں، افغانستان ہمارے جرگے جاتے تھے اب حکومت کو کچھ علم نہیں، ملک میں کوئی سیاسی بات نہیں اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے بات کرتی ہے، ہم سے تو بس انگوٹھے لگوائے جاتے ہیں، ہمیں پارلیمان میں فیصلے کرنے ہیں، میرے علاقے میں بعض مقامات کو پولیس تو چھوڑیں آرمی بھی خالی کرگئی، ان علاقوں میں کس کا راج ہے؟-

    حزب اللہ کی اسرائیلی فوج کو 18 فروری تک لبنان خالی کرنے کی ڈیڈلائن

    مونالا فضل الرحمان نے کہا کہ بلوچستان کے اضلاع ابھی آزادی کا اعلان کریں تو اقوام متحدہ ان کی درخواست قبول کرلے، میری باتیں بڑی سنجیدہ ہیں،جنوبی خیبرپختونخوا میں کوئی حکومت نہیں، گلیاں سڑکیں مسلح لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں اللہ کو اونچی آواز میں بات پسند نہیں لیکن مظلوم کی اللہ بات سنتا ہے، پہلے ریاست اور حکومت کی رٹ کو تو مضبوط کریں، آپ کس کے لیے قانون بنارہے ہیں، صوبوں کی اسمبلیاں بھی عوام کی نمائندہ نہیں ہیں، کوئی پبلک نمائندہ عوام کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہیں، نظریاتی اور اتھارٹی کی جنگ ہے، میں نے 2018 کی پارلیمان کو تسلیم نہیں کیا تھا، 2024 کی پارلیمان کو بھی منتخب نہیں سمجھتا۔

    مخالفین کو پنجاب کی ترقی ہضم نہیں ہورہی،وزیراعلیٰ پنجاب

    انہوں نے کہا کہ کسی وقت ایک اور بازو ہم سے ٹوٹ جائے گا کسی نے اس کا سوچا ہے، ہم نے 40 سال پراکسی وار لڑی ہے، ہم نے اپنی فوج کو جنگ میں جھونکا، کیا ہم اس محاذ سے نکل چکے جس میں تمام کھرے ہماری طرف نکلتے تھے، کوئی افغانی مارا جائے تو ہمارا سارا غصہ افغانستان پر نکلتا ہے،میں انتخابات سے پہلے حکومت کی اجازت سے افغانستان گیا، ایک ایک نکتہ پر بات ہوئی کسی نے اس کو آگے نہیں چلایا، میری ریاست کے کرتا دھرتا ناکام ثابت ہوئے۔

    سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ ہمارے فیصلے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے فورم پر ہوتے ہیں، ہمارے فیصلے ہم نہیں کرتے، ہمارے اداروں کو آئی ایم ایف کنٹرول کرتا ہے، آئے روز آئی ایم ایف کا وفد آرہا ہے، اب تو آئی ایم ایف حکومت کی بجائے عدلیہ سے بات کرتا ہے، آئی ایم ایف وفد سپریم کورٹ بار سے مل رہا ہے، آئی ایم ایف وفد کا عدلیہ یا بار سے کیا تعلق، دینی مدارس کی رجسٹریشن پر کہا گیا بیرونی اداروں کو اعتراض ہے، دینی مدارس کے حوالے سے صوبائی اسمبلیوں میں قانون سازی نہیں کی جارہی، ٹرمپ نے آتے ہی کہا غزہ ہمارا ہے، ایک آزاد قوم کو دوسرے ملک میں مہاجر بنانے والے آپ کون ہوتے ہیں۔

    پاکستان نے عالمی بینک کے ساتھ شراکت داری سے استفادہ کیا،وزیراعظم

    انہوں نے کہا کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد یہودیوں کو فلسطین میں جبراً آباد کیا گیا، فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بےگھر کیا گیا، کیا ہم دوبارہ نو آبادیات کی طرف جارہے ہیں، ہمارے بارڈر پر جو ہورہا ہے یہ 40 سال سے ہے، صرف ایک ہی جگہ پر جنگ مسلط کی گئی ہے، امریکا یہاں معدنیات پر قبضہ کرنے آیا، خیبرپختونخوا اور افغانستان میں 2 طرح کی معدنیات ہیں، ایک وہ پتھر ہیں جو خلا میں جانے کے لیے راکٹس کے لیے کارآمد ہیں۔

    سربراہ جے یو آئی ف کا کہنا تھا کہ امریکا، چین اور روس سب کے یہاں مفادات ہیں جس کی وہ تگ و دو کررہے ہیں، کوئی پتہ نہیں یہ قبائلی علاقوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہوں، ان قبائلی علاقوں سے دنیا کو کنٹرول کرنا چاہتے ہوں، ہمارے قبائلی علاقوں میں جنگیں ہورہی ہیں، آپ نے ان کوضم کردیا، ہمارے علاقوں کا امن بھی خراب ہوگیا، آپ ملک اور ریاست کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں، میرے پاس تمام قبائل کا جرگہ آیا ہے، سب کا یہی کہنا کہ ہمیں امن دو۔

    مفتی قوی مجھے نہیں سنبھال پائیں گے،راکھی ساونت

    مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ پشاور میں تمام اضلاع کا جرگہ ہوا کہ ہمیں امن دو، آج قبائل کی خواتین گلی کوچوں میں بھیک مانگنے پر مجبور ہیں، صحیح لوگوں کے حوالے سب کریں، معاملہ پارلیمنٹ طے کرے یہ سب کرسکتی ہے، ہمیں سویلین قیادت پر اعتماد کرنا ہوگا، ورنہ وہی بے معنی باتیں، ورنہ وہی ہرروز بے معنی باتیں، یہ باتیں اس لیے کررہا ہوں کہ شاید کہ اترجائے تیرے دل میں میری بات۔

  • مولانا فضل الرحمان کو سیکیورٹی تھریٹ،ترجمان جے یو آئی کی کےپی حکومت پر تنقید

    مولانا فضل الرحمان کو سیکیورٹی تھریٹ،ترجمان جے یو آئی کی کےپی حکومت پر تنقید

    اسلام آباد: مولانا فضل الرحمان کو سیکیورٹی تھریٹ سے متعلق خط پر ترجمان جے یو آئی نے خیبر پختونخوا حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔

    باغی ٹی وی : ترجمان جے یو آئی اسلم غوری کے مطابق کے پی حکومت کا مولانا فضل الرحمٰن کی سیکیورٹی تھریٹ سے متعلق خط تشو یشناک ہے، حکومت تشویش اور خوف پھیلانے کے بجائے اپنی ذمہ داری پوری کرے، پشاور میں کامیاب امن جرگے کے بعد کے پی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکی ہے،حکومت بتائے کہ سربراہ جے یو آئی کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ اگر حکو مت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتی تو ناکامی کا اعلان کرے اور جے یو آئی کارکن اپنی قیادت کی حفاظت خود کرنا جانتے ہیں۔

    حکام کی نااہلی کے باعث نئی دہلی کے ریلوے اسٹیشن پر بھگدڑ ، 18 افراد ہلاک،درجنوں زخمی

    انہوں نے کہا کہ جے یو آئی اور اس کی قیادت کو عوام سے دور رکھنے کی ہر سازش کا مقابلہ کیا جائے گا، جلسے جلوسوں کے بعد اس قسم کے بیانات دے کر عوام کو خوف وہراس میں مبتلا کیا جا رہا ہے، جے یو آئی کو عوام سے دور رکھنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکتی، مو لانا فضل الرحمان سمیت تمام شہریوں کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے، ہماری امن و امان کی بات کو کمزوری نہ سمجھا جائے، حکو مت مولانا فضل الرحمٰن سمیت تمام جے یو آئی قیادت کی سیکیورٹی کو یقینی بنائے۔

    سعودی عرب اور امارات سمیت 11 ملکوں سے مزید 173 پاکستانی ڈی پورٹ

    واضح رہے کہ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جان کو خطرہ لاحق ہونے کے پیش نظر ڈی آئی خان پولیس نے تھریٹ لیٹر جاری کیا ہے۔

  • ملک میں پارلیمنٹ کے کردار کو ختم کیا جارہا ہے،مولانا فضل الرحمان

    ملک میں پارلیمنٹ کے کردار کو ختم کیا جارہا ہے،مولانا فضل الرحمان

    اسلام آباد: سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے سیاسی دھندوں سے ہم فارغ ہوں گے تو ملک کیلئے سوچیں گے۔

    باغی ٹی وی : پی ایف یو جے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آمروں نے ڈکٹیٹروں نے ہمیشہ سب سے سے پہلے میڈیا کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی، ہم نے ہمیشہ یہ کہا کہ حکومت صحافیوں کیلئے ضابطہ اخلاق نہ بنائے صحافی خود بنائیں، یقین ہے صحافی خود اپنے لئے ضابطہ اخلاق بنائیں تو یہ سب سے بہتر ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ ہر ڈکٹیٹر نے آئین، جمہوریت، پارلیمنٹ پر شب خون مارا، 26 ویں ترمیم کے نام پر آئین پر جو شب خون مارا گیا ہم نے اس کا مقابلہ کیا، عدلیہ کو اپنی لونڈی بنانے کی کوشش کی گئی، ملٹری کورٹس بناکر عدلیہ کو لونڈی بنانے کی کوشش کی گئی، 26 ویں ترمیم کی 56 شقیں تھیں، ہم نے حکومت کو باقی شقوں سے دست بردار کرایا اور انہیں صرف 22 شقوں پر لے آئے مگر دوتین مہینے کی منصوبہ بندی کے بعد پھر کچھ لوگ انسٹال کیے گئے۔

    انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور جے یو آئی کو دوبارہ لڑانے کی کوشش بھی کی گئی، ہمارے دو صوبے انتظامی لحاظ سے پاکستان سے کٹ چکے ہیں ان دو صوبوں میں حکومت کی کوئی رٹ نہیں شام ہوتے ہی وہاں مسلح گروہ معاشرے کو کنٹرول کررہے ہیں مگر اسلام آباد کے سیاسی دھندوں سے ہم فارغ ہوں گے تو ملک کیلئے سوچیں گے۔

    فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری کچھ قوتوں کو صرف اپنی اتھارٹی کی پروا ہے، ملٹری ہو یا ملیٹنٹ اسے عوامی رائے سے کوئی دلچسپی نہیں، ملک میں پارلیمنٹ کے کردار کو ختم کیا جارہا ہےجمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے، ڈمی نمائندے عوام کا کیس نہیں لڑسکتے، جہا ں جہاں سے جے یو آئی کا نمائندہ منتخب ہوا وہاں امن تھاپیکا ایکٹ کے حوالے سے علی اعلان صحافیوں کے ساتھ کھڑا ہوں پیکا ایکٹ پھیکا ایکٹ ہے، یہ ملک ہمارا ہے اور اس کی بقاء ہمارے لئے ضروری ہے، ’’طاقت مردہ باد، عدالت زندہ باد‘‘ ہم قدم بہ قدم صحا فیوں کے ساتھ چلیں گے۔

  • دنیا کے کسی بھی آزاد ملک کی حریت کے لیے ہم لڑیں گے،فضل الرحمان

    دنیا کے کسی بھی آزاد ملک کی حریت کے لیے ہم لڑیں گے،فضل الرحمان

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آج بھی ٹرمپ کہتا ہے میں غزہ کو خرید لوں گا، یہ ایک مرتبہ پھر نوآبادیاتی نظام کا آغاز ہے، دنیا کے کسی بھی آزاد ملک کی حریت کے لیے ہم لڑیں گے۔

    باغی ٹی وی : قادیانیت سے تائب ہوکر اسلام قبول کرنیوالی بچی کی تصنیف کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ کتاب ایک ایسی بہن کی روداد ہے جو خانوادہ کفر چھوڑ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوئی، اس بچی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، دین اسلام ہی آخری راستہ ہے جو حق کا راستہ ہے،اس بچی کو جن لوگوں نے سہارا دیا میں انہیں بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا اور بالخصوص برصغیر میں قادیانیت برطانیہ کا خود ساختہ پودا ہے، اس کا اعتراف مرزا غلام احمد نے خود اپنی کتابوں میں کیا ہے، یہ مسلمانوں کو گمرذہ کرنے کی ایک تحریک ہے، ہمارے اکابر نے اس فتنے کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کیا، تمام مسالک کے علماء نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ یہ مسلمان نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج مسلمانوں سے سوال کیا جاتا ہے کہ تم قادیانیوں کو کافر کیوں قراردیتے ہیں، قادیانیوں سے کوئی نہیں پوچھتا کہ وہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو کافر کیوں قرار دیتے ہیں، مصنفہ خنسہ محمد امین نے مشکل سفر کا انتخاب کیا، اسلام میں انسانیت کی آزادی کا پیغام ہے، یہ حق کا راستہ ہے لیکن مشکل راستہ بھی ہے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ ٹرمپ کہتا ہے میں غزہ کو خرید لوں گا، یہ ایک مرتبہ پھر نو آبادیاتی نظام کا آغاز ہے، دنیا کے کسی بھی آزاد ملک کی حریت کے لیے ہم لڑیں گے، عقیدہ اور کردار میں یکسانیت ہونی چاہیے، ظالم حکمراں باطل ہوتا ہے، ظالم حکمران کے خلاف حق آواز بلند کرنا چاہیے، ملک میں عام آدمی کو ہمیشہ مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ امریکی صدر کا غزہ کو خریدنے کا بیان قابل مذمت ہے، دنیا کے کسی بھی آزاد ملک کی حریت کیلئے ہم لڑیں گے، ہم نے پاکستان میں اس لابی کی مخالفت کی ہے جو اسرائیل کو تسلیم کرنا چاہتے تھےہم نے اس لابی کیخلاف جنگ لڑی ہے، جو قادیانیوں کو دوبارہ مسلمان قرار دلوانا چاہتے تھے، تلواروں کے سائے میں جنت ہے، چیف جسٹس نے کہا ہم بھی انسان ہیں ہم سے بھی غلطی ہوسکتی ہے۔

    جنرل سیکریٹری جے یو آئی مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ قادیانیت سے تائب ہونیوالی بچی کی تربیت بڑا کام ہے، اگر قادیانیت ترک کرکے اسلام قبول کرنیوالوں کی رہنمائی بہت ضروری ہوتی ہے، ہمارے اکابرین نے پاکستان کو متفقہ آئین دیا، اکابرین کی کوششوں سے قذدیانیت کو دائرہ اسلام سے خارج قراردیا گیا، آئین میں ہمارے اکابرین کی کوششوں سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔

    بعد ازاں مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کا آپس میں بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا، محمودخان اچکزئی کی طرف سے کھانے کی دعوت پر گئے تھے ججز کی تقرری میں پہلے بھی پارلیمنٹ کا کردار تھا، اب دوبارہ لیا گیا، ہماری رائے میں آئینی عدالت کی تشکیل تھی لیکن آئینی بنچ کا بننا براآغازنہیں، آئینی بنچ کو چلنے دیا جائے تو بہتر نتائج آئیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے حکومت کی طرف سے پیشرفت نہیں ہورہی، وفاق اور صوبوں کو اپنی ذمہ داری بغیر دباؤ کے پوری کرنا چاہیے، طریقہ کار یہی ہے جو وفاق قانون سازی کرے صوبے بھی یہی کریں، چیف الیکشن کمشنرنے اپنی ذمہ داریاں ٹھیک طرح سے نہیں نبھائیں، الیکشن کمیشن نے اسٹیبلیشمنٹ کی کٹھ پُتلی کا کردار ادا کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ مکمل ناکام ہوئے ہیں، ان سے آئندہ منصفانہ الیکشن کی امید رکھنا حماقت ہوگی ، انہیں چلے جانے چاہیے تاکہ نئے لوگ آئیں،آئی ایم ایف وفد کی پاکستانی اداروں سے ملاقات ملکی تاریخ میں منفرد واقعہ ہے، بہترین معیشت کا تعلق عدل و انصاف سے ہے، لگتا ہے آئی ایم ایف کو ہمارے عدل وانصاف کے نظام پرتحفظات ہیں۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی ہے، جس میں ملکی موجود سیاسی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔

    باغی ٹی وی : وزیراعظم شہباز شریف سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچے، وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان کی خیریت دریافت کی، اس موقع پر وزیراعظم اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں ملکی موجودہ سیا سی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔

    اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ملاقات کے دوران شہباز شریف کے ہمراہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور وفاقی وزیر احسن اقبال بھی موجود تھے ملاقات میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری، سینیٹر مولانا عطا الرحمٰن، مولانا اسعد محمود اور محمد اسلم غوری بھی موجود تھے۔

    واضح رہے کہ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چند روز قبل مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ 8 فروری کا الیکشن دھاندلی زدہ تھا، حکومت کو مستعفی ہوکر نئے انتخابات کا اعلان کرنا چاہیئے۔

    اسرائیل غزہ کی پٹی امریکا کے حوالے کر ے گا،ڈونلڈ ٹرمپ

    یاد رہے کہ 4 فروری کو مولانا فضل الرحمان نے اسد قیصر کی رہائش گاہ پر اپوزیشن جماعتوں کے عشائیے میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کی سیاسی صورتحال پر باہمی مشاورت ہوئی، تمام جماعتوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ 8 فروری 2024 کے انتخابات دھاندلی زدہ الیکشن تھا، اس کا مینڈیٹ عوام کا مینڈیٹ نہیں۔

    سپارکو کا روورچانگی-8 مشن کے ذریعے چاند کی سطح پر اترنے کے لیے تیار

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ نے اپنی مرضی کا مینڈیٹ مینج کرکے اپنی مرضی کی حکومتیں بنائی ہیں، ان لوگوں کو ملک پر مزید مسلط رہنے کا حق حاصل نہیں ہے، ان کو فوری مستعفی ہو کر ازسرنو انتخابات کا اعلان کر دینا چاہیےالیکشن کمیشن منصفانہ انتخابا ت دینے میں ناکام رہا ہے، اور اب ان کی آئینی مدت بھی مکمل ہو چکی ہے، ہرچند کہ حکومت نے ریٹائرمنٹ کے باوجود ان کو اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے موقع فراہم کیا ہے، یہ کسی مخصوص سوچ کی نمائندگی ہے۔

    پی ٹی آئی نے 8 فروری کے احتجاج کو حتمی شکل دے دی

  • پیکا ایکٹ جیسے قوانین بنا کر پاکستان کو شمالی کوریا بنادیا،حافظ حمداللہ

    پیکا ایکٹ جیسے قوانین بنا کر پاکستان کو شمالی کوریا بنادیا،حافظ حمداللہ

    اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے رہنما حافظ حمداللہ کا کہنا ہےکہ پیکا ایکٹ جیسے قوانین بنا کر پاکستان کو شمالی کوریا بنادیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ایک بیان میں حافظ حمداللہ نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے مولانا فضل الرحمان کو پیکا ایکٹ پر دستخط نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی لیکن اگلے ہی روز دستخط کر دیئے، پیکا ایکٹ جیسے قوانین بنا کر پاکستان کو شمالی کوریا بنا دیا گیا ہے۔

    حافظ حمداللہ نے سوال کرتے ہوئے مزید کہا کہ کیا ایک اعلیٰ ترین منصب پر فائز شخصیت کا یہ رویہ مناسب ہے؟ آج کی حکومتی پارٹیاں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اپوزیشن میں پیکا قانون کو سیاہ قانون کہا کرتی تھیں، کیا یہ کھلا تضاد دوغلاپن اور رنگ برنگی نہیں ہے؟

    اسرائیل کا مغربی کنارے میں فلسطینیوں کا قتل عام

    دوسری جانب حکومتی نمائندوں نے پیکا قانون سازی پر جلد بازی کا اعتراف کرتےہوئے بات چیت پر رضا مندی ظاہر کی ہے،ایک بیان میں سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ وہ مانتے ہیں پیکا قانون سازی میں حکومت نے جلد بازی کی اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کی، پیکا کا معاملہ ایسی بات نہیں جس کی اصلاح نہیں ہو سکتی، اس معاملے پر صحافیوں کی رائے لینی چاہیے تھی جو قانون مشاور ت سے اچھا بن سکتا تھا وہ متنازع ہوگیا۔

    زمین سے عنقریب ٹکرانے والے سیارچے کی نگرانی شروع

    وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ قوانین میں بہتری کی ہمیشہ گنجائش موجود رہتی ہے، ابھی پیکا ایکٹ کے رولزبننے ہیں، اس میں مشاورت اور بات چیت کی بہت گنجائش موجود ہےمشاورت میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلیں گے، بتایا جائے پیکا ایکٹ میں کونسی شِق متنازع ہے ہم اس پربات کرنے کو تیار ہیں سوشل میڈیا پروٹیکشن اتھارٹی میں نجی شعبے سے نامزدگیاں کی جائیں گی، اتھارٹی میں پریس کلب یا صحافتی تنظیموں سے منسلک صحافیوں کو شامل کیا جائے گا جب کہ ٹربیونل میں بھی صحافیوں اور آئی ٹی پروفیشنل کو شامل کیا گیا ہے۔

    حکومت کا بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی کا فیصلہ

  • ہم جدید علوم کے خلاف نہیں، تقسیم حکومت نے پیدا کی ہے،مولانا فضل الرحمان

    ہم جدید علوم کے خلاف نہیں، تقسیم حکومت نے پیدا کی ہے،مولانا فضل الرحمان

    مردان: جمعیت علمائے اسلام ( جے یو آئی ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ کرم میں فوجی آپریشن کے لیے راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی: میں جامعتہ الاسلامیہ بابوزئی میں تکمیل درس نظامی کے سلسلے میں پروقار تقریب ہوئی، تقریب میں دینی مدارس کے ہزاروں طلباء اور ان کے والدین نے شرکت کی،مولانا فضل الر حمان مہمان خصو صی تھے، پارٹی رہنما عطا الحق درویش، ضلعی امیر مولانا امانت شاہ حقانی، مہتمم جامعہ بنوری کراچی ڈاکٹر سید احمد بنوری، مفتی حماد یوسفزئی نے بھی خطاب کیا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الر حمان نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کے خلاف نہیں لیکن انسانیت کے فائدے کی بات کریں گے، مغربی کلچر مذہبی جماعتوں کے پیچھے لگی ہوا ہے قیام پاکستان سے اب تک اسٹیبلشمنٹ اور مغربی قوتیں دینی مدارس کے خلاف سرگرم ہیں، جنرل مشرف کو کہا کہ آپ بھی تسلیم کریں کہ ہم امریکا کے غلام ہیں، ہمارے اسلاف نے جدوجہد کی جب کہ اسٹبشلمنٹ نے اس کی غلامی تسلیم کی۔

    پہلا ٹیسٹ:پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو شکست دے دی

    سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ مدارس کی رجسٹریشن کا ایشو اٹھایا گیا، ہم جدید علوم کے خلاف نہیں، تقسیم حکومت نے پیدا کی ہے مدارس کی حفاظت کرینگے، مدارس کی رجسٹریشن کا ایشو اٹھایا گیا، ہم جدید علوم کے خلاف نہیں ہیں سیاسی جماعت ہو نے کے ناطے ہم مذاکرا ت کے حق میں ہیں، مذاکرات نیک نیتی کے ساتھ ہونے چاہییں،کرم میں فوجی آپریشن کے لیے راہ ہموار کی جا رہی ہے، صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، صوبے میں لوٹ کھسوٹ اور کمیشن مافیا سرگرم ہے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب نے پنجاب کی سڑکوں اور تمام مراکز صحت کی تعمیر و بحالی کا الٹی میٹم