متحدہ عرب امارات نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ سے تعلق پر 16 افراد اور کو دہشتگرد قرار دے دیا۔
اماراتی میڈیا کے مطابق حزب اللہ سے منسلک 5 ادارے بھی دہشتگردی فہرست میں شامل کیے گئے ہیں،اماراتی کابینہ نے فیصلے کے تحت مشتبہ مالی روابط والوں کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا ہے، متعلقہ افراد اور اداروں کے اثاثے 24 گھنٹوں میں منجمد کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔
اماراتی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’وام‘ کے مطابق یہ اقدام کابینہ کی قرارداد نمبر 63 برائے 2026 کی منظوری کے بعد کیا گیا، اماراتی کابینہ نے متعلقہ ریگولیٹری اداروں کو ہدایت کی ہے کہ فہرست میں شامل تمام افراد اور کمپنیوں کے اثاثے 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں منجمد کیے جائیں۔
وام کے مطابق یہ اقدام دہشتگردی کی مالی معاونت اور اس سے جڑے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کی اندرونِ ملک اور عالمی سطح پر جاری کوششوں کا حصہ ہے چاہے یہ معاونت براہِ راست ہو یا بالواسطہ، ایسے تمام مالی ذرائع کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی، یو اے ای دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خلاف اپنی حکمت عملی کو مزید مؤثر بنا رہا ہے، خصوصاً مشتبہ مالیاتی چینلز کی نگرانی اور غیر قانونی فنڈنگ کے ذرائع بند کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ سرحد پار دہشتگردی کی مالی معاونت کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
میں شامل تمام 16 افراد لبنانی شہری ہیں، جن میں علی محمد کرنیب، ناصر حسن نصر، حسن شہادہ عثمان، سامر حسن فواز، احمد محمد یزبک، عیسیٰ حسین قاصر، ابراہیم علی ظاہر، عباس حسن غریب، عماد محمد بازی، عزت یوسف عکر، وحید محمود سبیتی، مصطفیٰ حبیب حرب، محمد سلیمان بدر، عادل محمد منصور، علی احمد کرشت اور نیما احمد جمیل شامل ہیں۔
اسی طرح فہرست میں شامل پانچوں ادارے بھی لبنان میں قائم ہیں، جن میں ’بیت المال المسلمین‘، ’القرض الحسن ایسوسی ایشن‘، ’التسہيلات کمپنی‘، ’دی آڈیٹرز فار اکاؤنٹنگ اینڈ آڈیٹنگ‘ اور ’الخبراء فار اکاؤنٹنگ، آڈیٹنگ اینڈ اسٹڈیز‘ شامل ہیں۔
دوسری جانب ایران میں صیہونی حکومت سےمنسلک 5 منظم نیٹ ورکس ختم کردیے گئے ایرانی وزارت انٹیلی جنس کے مطابق 20 مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے ہیں جن سے دھماکا خیزمواد اورگولہ بارود بھی برآمدکر لیا گیا ہے۔
