Baaghi TV

Tag: حزب اللہ

  • لبنان میں پیجر دھماکوں پرحزب اللہ  کا بیان جاری

    لبنان میں پیجر دھماکوں پرحزب اللہ کا بیان جاری

    بیروت: لبنان میں پیجر دھماکوں پرحزب اللہ کا بیان سامنے آ گیا-

    باغی ٹی وی : لبنان کے مختلف علاقوں میں پیجر دھماکوں میں 9 افراد کی ہلاکت اور تقریباً 3 ہزار افراد کے زخمی ہونے کے بعد حزب اللہ نے اسرائیل کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے،حزب اللہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس مذموم کارروائی کا ذمہ دار اسرائیل ہے، ہم اپنے دشمن کو اس کے جارحانہ فعل کی سزا ضرور دیں گے، اور فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔

    گزشتہ روز دوپہر میں جنوبی لبنان اور بیروت میں پیجر ڈیوائسز میں ہونے والے دھماکوں سے حزب اللہ کے متعدد ارکان زخمی ہوئے تھے جن میں سے متعدد کی حالت تشویشناک ہے،پیجر دھماکوں میں ایران کے سفیر مجتبیٰ امانی بھی زخمی ہوئے ہیں، جبکہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی ان دھماکوں میں محفوظ ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    امریکہ نے لبنان میں پیجر دھماکوں پر ردعمل ظاہر کر دیا

    قبل ازیں مریکہ نے لبنان میں حزب اللہ کے ارکان کے پیجر ڈیوائسز میں دھماکوں سے متعلق معلومات اکٹھی کرنے کی تصدیق کی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان، میتھیو ملر، نے کہا ہے کہ امریکہ ان دھماکوں میں براہ راست ملوث نہیں ہے اور نہ ہی اس بارے میں کوئی رائے قائم کی ہے کہ ان دھماکوں کے پیچھے کون ہو سکتا ہے۔

    افغان عہدے دار کی قومی ترانے کی بے ادبی: دستاویزات کی کمی کا انکشاف

    ترجمان نے مزید کہا کہ امریکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع کا سفارتی حل چاہتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھانے والے کسی بھی اقدام کو تشویش کے ساتھ دیکھتا ہے انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ لبنان میں پیجر دھماکوں کا غزہ جنگ بندی مذاکرات پر کس حد تک اثر پڑے گا، اس بارے میں پیشگوئی کرنا ابھی قبل از وقت ہے میتھو ملر نے ایران کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی واقعے کا فائدہ اٹھا کر عدم استحکام بڑھانے کی کوشش نہ کرے۔

    پاکستان کے بیلسٹک پروگرام پر ہماری کڑی نظر ہے،امریکا

  • حزب اللّٰہ کا شمالی اسرائیل پر حملہ،30 راکٹ فائر

    حزب اللّٰہ کا شمالی اسرائیل پر حملہ،30 راکٹ فائر

    حزب اللّٰہ نے شمالی اسرائیل پر حملہ کرتے ہوئے درجنوں راکٹ فائر کیے ہیں

    لبنانی میڈیا کے مطابق حزب اللّٰہ کے راکٹوں کو روکنے کے لیے اسرائیلی دفاعی نظام نے کوئی میزائل فائر نہیں کیا،اسرائیل کا کہنا ہے کہ لبنان سے 30 راکٹ فائر ہوئے جن سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، حزب اللہ کے مطابق الجلیل شہر میں راکٹ فائر کئے گئے ہیں،

    قبل ازیں اتوار کو اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے جنوبی لبنان میں العدیسہ قصبے میں حزب اللہ کی کئی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے،گزشتہ برس سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد حزب اللہ اور اسرائیل کے مابین جنگ جاری ہے، لبنان میں اسرائیلی حملوں میں 565 افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے جن میں 116 عام شہری شامل ہیں،اسرائیلی حکام نے بھی حزب اللہ کے ساتھ کشیدگی کے بعد سے اب تک 22 اسرائیلی فوجی اور 26 شہریوں کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے

    حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی تہران میں اور حزب اللہ کے اہم عسکری کمانڈر فؤاد شکر کی بیروت کے جنوبی نواح میں ہلاکت کے بعد حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کی شدت عروج پر پہنچ چکی ہے ،اسماعیل ہنیہ کو 31 جولائی کو ایران میں اس وقت شہید کیا گیا تھا جب وہ ایرانی صدر کی حلف برداری کی تقریب کے لئے ایران میں موجود تھے.

    دوسری جانباسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے اتوار کے روز اپنے امریکی ہم منصب لائیڈ آسٹن سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انہیں آگاہ کیا کہ ایران کی فوجی تیاریوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اسرائیل پر وسیع پیمانے پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے اسرائیل پر براہ راست حملے کا فیصلہ کیا ہے جو آنے والے چند دنوں میں ہو گا، ایرانی صدر شدید جوابی کارروائی سے گریز چاہتے ہیں جب کہ پاسداران انقلاب وسیع پیمانے پر حملے کا ارادہ رکھتی ہے

  • حزب اللہ کا اسرائیلی بستی پر حملہ 2 افراد ہلاک 9 زخمی

    حزب اللہ کا اسرائیلی بستی پر حملہ 2 افراد ہلاک 9 زخمی

    ایرانی حمایت یافتہ لبنانی عسکری تنظیم حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل کی شمالی بستی حرفیش پر ڈرون حملہ کیا گیا ، جس کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک اور 9 کے زخمی ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حزب اللہ نے اسرائیل کے شمالی قصبے حرفیش پر حملہ کیا، جس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تنظیم نے کہ انہوں نے علاقے میں ایک فوجی پوزیشن کو کئی بارود سے بھرے ڈرونز سے نشانہ بنایا،حزب اللہ نے واضح کیا کہ یہ حملہ جنوبی لبنان میں حالیہ ہونے والے اسرائیلی فوجی حملوں کا ردعمل ہے، جس میں حزب اللہ کا ایک رکن شہید ہوا تھا۔

    دوسری جانب سے اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ لبنان سے فائر کیے گئے شیلز سائرن سسٹم کو ایکٹیویٹ کیے بغیر حرفیش کے علاقے میں گرے جس کی تحقیقات کی جا رہی ہے ،حملے میں کم از کم 11 افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔

    حزب اللہ کے حملوں کے بعد اسرائیلی وار کیبنٹ نے ہنگامی اجلاس بلا لیا ہے۔

  • حزب اللہ کے شمالی اسرائیل میں میزائل حملے،چار اسرائیلی فوجی زخمی

    حزب اللہ کے شمالی اسرائیل میں میزائل حملے،چار اسرائیلی فوجی زخمی

    لبنانی حزب اللہ گروپ نے شمالی اسرائیل میں دو فوجی مقامات پر ڈرون اور گائیڈڈ میزائلوں سے دو حملے کیے ہیں جن کے نتیجے میں چار اسرائیلی فوجی زخمی ہوگئے ہیں۔

    اسرائیلی میڈیا نے حزب اللہ کے حملوں میں متعدد اسرائیلی فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے،حزب اللہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے بیت ھلل کے جنوب میں 91ویں ڈویژن کی 403 ریزرو آرٹلری بٹالین کے نئے بنائے گئے کیمپ پر فضائی حملہ کیا ،اس حملے میں دشمن کے متعدد افسر اور سپاہی ہلاک اور زخمی ہوگئے یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب اسرائیلی فوجی آرام کررہے تھے، یہ حملہ غزہ کی پٹی میں ہمارے ثابت قدم فلسطینی عوام کی حمایت اور ان کی مزاحمت کی حمایت میں کیا گیا ہے۔

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ اور نئے قرض پروگرام پرمذاکرات شروع

    حزب اللہ نے ایک الگ بیان میں کہا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے پیر کی صبح یفتاح بیرک میں مرکاوا ٹینک کو بھی گائیڈڈ میزائل سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ٹینک تباہ ہوگیا اور اس میں موجود اسرائیلی فوجی ہلاک اور زخمی ہوگئے۔

    اسحاق ڈار کی بیجنگ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکریٹری سے ملاقات

    اسرائیلی فوج نے پیر کی صبح کو کہا تھا کہ لبنان سے آنے والے دو ڈرون شمالی اسرائیل میں بیت ہلل کے علاقے میں فضا میں تباہ کردیے گئے دونوں ڈرون کے فضا میں پھٹنے سے جائے وقوعہ پر آگ بھڑک اٹھی تاہم اس آگ پر فورا قابو پا لیا گیا فوجی حکام اور طبی ماہرین نے بعد میں اطلاع دی کہ لبنان سے داغے گئے ٹینک شکن گائیڈڈ میزائلوں کی بمباری میں 4 فوجی زخمی ہوئے اسرائیلی اخبار’ٹائمز آف اسرائیل’ نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ یفتاح قصبے کے قریب دو میزائلوں سے ہونے والے اس حملے میں متعدد زخمیوں کو ہسپتال لے جایا گیا ہے۔

    لیبیا کشتی حادثہ :جرم ثابت ہونے پر ملزم کو 60 سال قید اور 42 …

  • حزب اللہ نے لبنان میں اسرائیلی فوجیوں پرحملے کی ذمہ داری قبول کر لی

    حزب اللہ نے لبنان میں اسرائیلی فوجیوں پرحملے کی ذمہ داری قبول کر لی

    حزب اللہ نے لبنان میں اسرائیلی فوجیوں پربم حملے کی ذمہ داری قبول کر لی-

    باغی ٹی وی : حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیلی فوجیوں کے خلاف بارودی سرنگ دھماکہ کیا جب وہ سرحد عبور کر کے لبنانی علاقے میں داخل ہوئے، یہ غزہ میں جنگ کے تناظر میں دونوں فریقوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے آغاز کے بعد سے اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

    اس سے قبل آج اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ لبنان کی سرحد کے قریب شمالی علاقے میں گزشتہ رات نامعلوم بم دھماکے کے نتیجے میں 4 فوجی زخمی ہوئے ہیں زخمی فوجیوں کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، شمالی اسرائیل میں سائرن بجائے گئے،سات اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی فوج اور حزب اللہ گروپ کے درمیان تقریباً روزانہ کی بنیاد پر سرحد پار گولہ باری کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔

    دنیا کو موسمیاتی تبدیلیوں سے بچانے کیلئے صرف دو سال باقی ہیں،اقوام متحدہ

    جبکہ گزشتہ روز اتوار کو اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ لڑاکا طیاروں نے مشرقی لبنان میں نبی شیت کے علاقے میں حزب اللہ گروپ کے لیے ہتھیاروں کی تیاری کے ایک اہم مقام پر بمباری کی جس کے نتیجے میں اس کا ایک جنگجو ہلاک ہوگیا۔

    عید پر حملے میں زخمی اسماعیل ہنیہ کی ننھی پوتی بھی شہید

  • حزب اللہ کی سرنگیں حماس سے زیادہ جدید اور اسرائیل تک پھیلی ہوئی ہیں،فرانسیسی اخبار

    حزب اللہ کی سرنگیں حماس سے زیادہ جدید اور اسرائیل تک پھیلی ہوئی ہیں،فرانسیسی اخبار

    لبنان: لبنانی حزب اللہ ملیشیا کے پاس خفیہ سرنگوں کا نیٹ ورک موجود ہے جو غزہ میں حماس کے مقابلے میں زیادہ جدید ہیں۔

    باغی ٹی وی : یہ انکشاف فرانسیسی اخبار "لبریشن” نے اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے،اخبار کے مطابق لبنانی ملیشیا کے پاس ایسی سرنگیں ہیں جو سینکڑوں کلومیٹر لمبی ہیں اور ان کی شاخیں ہیں جو اسرائیل اور شاید اس سے آگے شام تک پہنچتی ہیں۔

    اخبار نے اسرائیلی محققین اور ویب سائٹس کے حوالے سے کہا ہے کہ تحریک نے بیروت، بقاع اور جنوبی لبنان کو جوڑنے والے مقامی زیر زمین نیٹ ورکس سے منسلک درجنوں آپریشن سینٹرز کے ساتھ ایک دفاعی منصوبہ بنایا ہے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان مسلسل کشیدگی اور خطرات کے تحت، تل ابیب میں شمالی سرحد پر حزب اللہ کی سرنگوں کی موجودگی کے بارے میں خوف پیدا ہو گیا ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ شمالی اسرائیل کے ساحل پر واقع شہر نہاریا کے ایک ہسپتال تک پہنچتی ہیں۔

    نوٹ کیا کہ پاکستان میں انتخابات عام طور پر مستحکم اور ہموار طریقے سے ہوئے،چین

    رپورٹ کے مطابق مہینوں پہلے، نہاریا میں میڈیکل سنٹر کی انتظامیہ کی طرف سے ڈرلنگ کے شور کے بارے میں موصول ہونے والی شکایات کے بعد، اسرائیلی فوج نے لبنان سے مذکورہ ہسپتال کی طرف جانے والی سرنگ کے وجود کے خدشے کو مسترد کرنے کے لیے زمینی ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔

    اسرائیلی اخبار اسرائیلی ہیوم نے انکشاف کیا کہ اسرائیل نے جانچ کے لیے 40 سے زائد مقامات پر کھدائی کی لیکن سرنگ کی موجودگی کا پتہ لگانے میں ناکام رہے جس کے باعث ان کا یہ خدشہ ختم ہوگیا،،اخبار کے مطابق ہسپتال کے علاقے میں کام شروع ہونے کے بعد حفاظت کی خاطر کھدائی کا کام ترک کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔جغرافیائی طور پر نہاریہ میں موجود گیلیلی اسپتال اسرائیل کی شمالی سرحد پر ہے جو کہ لبنان کے ساتھ لگتی ہے، مشتبہ سرنگوں کے معاملے کی ابتدائی اطلاعات گذشتہ سال دسمبر میں سامنے آئی تھیں۔

    اقوام متحدہ کی عالمی عدالتِ انصاف میں فلسطین پر اسرائیلی قبضے سے متعلق سماعت

    یروشلم پوسٹ نے بھی حزب اللہ کی سرنگ کے خطرے کا خدشہ ظاہر کیا ہے اور بتایا ہے کہ حزب اللہ کو سرنگیں کھودنےکا وسیع تجربہ ہے اور اب جب یہ پتہ چلا ہے کہ حماس کی سرنگیں اس سے کہیں زیادہ بڑی اور وسیع ہیں جو پہلے سوچا گیا تھا تو کیا یہ ممکن نہیں کہ حزب اللہ کی سرنگوں کا خطرہ اس سے کہیں زیادہ ہو جو پہلے سوچا گیا تھا-

    قابل ذکر بات یہ ہےکہ جنوبی لبنان کا خطہ غزہ جیسا نہیں ہے،کیونکہ یہ پتھریلی پہاڑیوں اور وادیوں پر مشتمل ہے اور اسی لیے اسرائیلی اندازے اس خیال کو قبول نہیں کرتے کہ حزب اللہ اسرائیل میں 10 کلومیٹر گہرائی تک سرنگیں کھودنے میں کامیاب ہوچکی ہے۔

    روس کو بڑی کامیابی،یوکرین کے اہم قصبےپر قبضہ کر لیا

  • حزب اللہ اسرائیلی فوجیوں پر میزائل حملہ،ایک ٹینک تباہ،متعدد ہلاکتیں

    حزب اللہ اسرائیلی فوجیوں پر میزائل حملہ،ایک ٹینک تباہ،متعدد ہلاکتیں

    لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے اسرائیلی قصبے المطلہ کے نزدیک اسرائیلی فوجیوں پر میزائل حملہ کردیا-

    باغی ٹی وی: حزب اللہ کی جانب سے جبل ہرمون کے اسرائیلی فضائی اڈے پر بھی 62 راکٹ داغے گئے تھے جس کے بعد اسرائیلی علاقوں میں سائرن بج اٹھے تھے، حملے میں ایک اسرائیلی ٹینک بھی تباہ کردیا گیا جبکہ متعدد اسرائیلی فوجیوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

    حزب اللہ کے تازہ حملوں کے بعد اسرائیلی میڈیا نے تصدیق کردی ہے کہ میزائل حملے میں ایک گھر کو نقصان پہنچا ہے تاہم اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے بیش تر راکٹ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    سرائیلی فوج کا حماس کا فوجی نیٹ ورک مکمل تباہ کرنے کا دعویٰ

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے حزب اللہ کو دھمکی دی ہے کہ حزب اللہ بھی وہ سبق سیکھ لے جو حماس نے سیکھا ہے سفارتی ذرائع سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کریں گے ورنہ دوسرا طریقہ نکالیں گے۔

    اسرائیلی وزیراعظم کی دھمکی کے ردعمل میں حزب اللہ نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے حملوں کا اسی کی زبان میں جواب دیا جائے گا،غزہ جنگ کے مکمل خاتمے تک اسرائیل سے بات نہیں ہوگی۔

    اسرائیل حزب اللہ کے ساتھ جنگ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو گا،امریکی انٹیلیجنس

    قبل ازیں امریکی (یو-ایس) ڈیفنس انٹیلی جنس کے حوالے سے رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ اسرائیل ممکنہ طور پر حزب اللہ کے ساتھ جنگ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو گا امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کو حزب اللہ سے جنگ میں ناکامی کا خطرہ ہے، غزہ میں فوجی کارروائیوں کی وجہ سے اسرائیل کی فوجی صلاحیت کم ہو جائے گی امریکی عہدیداروں نے اسرائیلی رہنماؤں کو حزب اللہ سے براہ راست تنازع سے متعلق خدشات ظاہر کر دیئے، اسرائیلی فوج نے تازہ کارروائیوں میں 30 سے زائد مرتبہ لبنانی مسلح افواج کو نشانہ بنایا ہے، امریکی حکام کو تشویش ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اپنی سیاسی بقا کی خاطر لبنان تک جنگ بڑھا سکتے ہیں۔

    اسرائیلی حملے میں الجزیرہ کے بیورو چیف کا بڑا بیٹا بھی شہید

  • اسرائیل حزب اللہ کے ساتھ جنگ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو گا،امریکی انٹیلیجنس

    اسرائیل حزب اللہ کے ساتھ جنگ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو گا،امریکی انٹیلیجنس

    واشنگٹن: امریکی (یو-ایس) ڈیفنس انٹیلی جنس کے حوالے سے رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل ممکنہ طور پر حزب اللہ کے ساتھ جنگ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو گا۔

    باغی ٹی وی: امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کو حزب اللہ سے جنگ میں ناکامی کا خطرہ ہے، غزہ میں فوجی کارروائیوں کی وجہ سے اسرائیل کی فوجی صلاحیت کم ہو جائے گی امریکی عہدیداروں نے اسرائیلی رہنماؤں کو حزب اللہ سے براہ راست تنازع سے متعلق خدشات ظاہر کر دیئے، اسرائیلی فوج نے تازہ کارروائیوں میں 30 سے زائد مرتبہ لبنانی مسلح افواج کو نشانہ بنایا ہے، امریکی حکام کو تشویش ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اپنی سیاسی بقا کی خاطر لبنان تک جنگ بڑھا سکتے ہیں۔

    یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے اعلی نمائندے برائے خارجہ امور اور سلامتی پالیسی جوزپ بوریل نے علاقے میں ایسے تصادم سے خبر دار کیا ہے جس میں لبنان کو ملوث ہونا پڑ جائےجیسا کہ پچھلے کئی ماہ سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان سرحد پر حماس کی اتحادی حزب اللہ کے ساتھ تصادم سنگین ہوتا چلا جا رہا ہے،جوزپ بوریل نے لبنان میں اپنے ہم منصب سے بات کرتے ہوئے کہا ‘اس سے بچنا انتہائی ضروری ہے، تاکہ مشرق وسطیٰ کو جنگ سے محفوظ رکھا جا سکے وہ ان دنوں خطے کی کشیدہ صورت حال کے پیش نظر لبنان کے دورے پر ہیں، ان کے اس اہم دورے کے بعد امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن بھی اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے تفصیلی دورے پر آنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

  • غزہ میں جاری جنگ کا ذمہ دار امریکا ہے،سربراہ  حزب اللہ

    غزہ میں جاری جنگ کا ذمہ دار امریکا ہے،سربراہ حزب اللہ

    حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ ہم نہ جھکیں گے اور نہ کسی کے دباؤ میں آئیں گے، حزب اللہ 8 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں حماس کے اچانک حملے کے ایک دن بعد جنگ میں داخل ہوئی تھی غزہ میں جاری جنگ کا ذمہ دار امریکا ہے-

    باغی ٹی وی : لبنان کے دارلحکومت بیروت میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد پہلی بار عوامی اجتماع سے خطاب میں حسن نصر اللہ کا کہنا تھاکہ لبنانی اور فلسطینی شہیدوں کے اہلخانہ کو رتبہ شہادت حاصل کرنے پرمبارکباد اور تعزیت پیش کرتے ہیں، شہدا کا رتبہ منفرد رتبہ ہوتا ہے، صرف مسلمان ہی اس رتبے کو سمجھ سکتا ہے۔

    حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ غزہ کے شہدا کو سلام پیش کرتا ہوں، اسرائیل کے حملوں میں ہزاروں شہری شہید ہوئے ہیں مسجد اقصیٰ کیلئے جاری جنگ کا دائرہ طویل ہوگیا ہے، مسجد اقصیٰ کیلئے جنگ میں مزید محاذ کھول دیئے ہیں ہم نہ جھکیں گے اور نہ کسی کے دباؤ میں آئیں گے، ہمیں شہدا کےاہل خانہ کےعزم اور ہمت پر فخر ہے۔

    اسرائیلی ترجمان نے غزہ میں نسل کشی تسلیم کر لی

    ان کا کہنا تھا کہ شہادت ہماری طاقت ہے جس پر ہمیں فخر ہے، اس بات پر بھی فخر ہے کہ عراقی اور یمنی براہ راست جنگ میں شامل ہوچکے ہیں دنیا بھر میں اسرائیل کی مذمت کی جارہی ہے، حماس کا حملہ فلسطین کے چھپے ہوئے دشمنوں کو سامنے لے آیا ہے۔

    طوفان اقصیٰ کی جنگ وسیع تر ہوکر مختلف محاذوں اور میدانوں تک پہنچ گئی، اسرائیل کےخلاف طوفان الاقصیٰ کی جنگ انسانی، اخلاقی اور دینی اعتبار سے جائز اور حق کی جنگ ہے، صہیونیوں کے خلاف جاری جنگ کی اخلاقی اور شرعی حیثیت پر ذرہ بھر بھی شبہ نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی اسرائیل کی قید میں ہیں، طوفان الاقصیٰ آپریشن صرف فلسطین اور فلسطینیوں کیلئے تھا، اس آپریشن نے بہت سی چیزوں کو بےنقاب کر دیا ہے، دنیا نے اسرائیلی مظالم پر مجرمانہ طور پر آنکھیں بند کرلی ہیں، امریکا اسرائیل کی پوری طرح سے مدد کر رہا ہے، اسرائیل کےخلاف جنگ حق کی جنگ ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر گرفتار

    سربراہ حزب اللہ کا کہنا تھا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسرائیل کی حماقت اور نااہلی کا عکاس ہے، کیونکہ وہ بچوں اور خواتین کو قتل کر رہا ہے انہوں نے اسرائیل کو ”کمزور“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پورے ایک مہینے تک وہ ایک بھی کامیابی حاصل نہیں کرسکا، اسرائیل مذاکرات کے ذریعے غزہ میں قید اپنے لوگوں کو واپس لا سکتا ہے۔

    حسن نصراللہ کا کہنا تھاکہ 7 اکتوبر واقعات کے محرکات پر روشنی ڈالنا اور حزب اللہ کا مؤقف واضح کرنا ضروی ہے، ہزاروں فلسطینی طویل عرصے سے اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں، 20 لاکھ فلسطینی 20 سال سے اسرائیلی محاصرے میں زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔

    ان کا کہنا تھاکہ طوفان الاقصیٰ فلسطینی مزاحمتی گروپ القسام بریگیڈز کا کامیاب کارنامہ ہے، حزب اللہ کو7 اکتوبر آپریشن سے متعلق کوئی پیشگی اطلاع نہیں تھی، 7 اکتوبر کے آپریشن کو انتہائی رازداری سے انجام دیا گیا، طوفان الاقصیٰ آپریشن فلسطینیوں کی جنگ ہے، اس کا علاقائی ممالک سے کوئی تعلق نہیں ایران کی حزب اللہ اور دیگرمزاحمتی گروپوں پرکوئی اجارہ داری نہیں، حزب اللہ کا اسرائیل کے خلا ف 7 اکتوبرکےآپریشن سےکوئی تعلق نہیں۔

    ایک ہفتے میں 12اشیا کی قیمتوں میں اضافہ اور 14 سستی ہوئیں،ادارہ شماریات

    ان کا کہنا تھاکہ طوفان الاقصیٰ آپریشن نے اسرائیل کو ہر سطح پر جھنجھوڑ کر رکھ دیا، اسرائیلی کارروائیاں اس کے مستقبل پر اثر انداز ہونے والے منفی اثرات کو ختم نہیں کرسکتیں، اس آپریشن نے اسرائیلی طاقت کی اصل حقیقت کھول کربیان کردی اور اسرائیل کا دفاعی نظام مکڑی کےجال سے زیادہ کمزور ثابت ہوا، اسرائیل کی بدترین ناکامی پر اسرائیلی عوام اور اسرائیل کے حامی تک کوشرمندگی ہوئی۔

    حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک فیصلہ کن جنگ ہے یہ پچھلی جنگوں کی طرح نہیں ہے۔ اس کے لیے ہر ایک کو ذمہ داری قبول کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ دو مقاصد ہیں پہلا غزہ میں جنگ کو روکنا اور دوسرا حماس کو اس جنگ میں فتح حاصل کرنا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ اپنی کارروائیوں میں روز بروز اضافہ کر رہی ہے اور اسرائیل کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ غزہ یا مقبوضہ مغربی کنارے کے بجائے لبنان کی سرحد کے قریب اپنی افواج رکھےحزب اللہ 8 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں حماس کے اچانک حملے کے ایک دن بعد جنگ میں داخل ہوئی تھی لبنان کی سرحد پر اسرائیلی افواج کے ساتھ روزانہ فائرنگ کا تبادلہ معمولی لگ سکتا ہے لیکن یہ بہت اہم ہے اور اسے 1948 کے بعد سے بے مثال قرار دیا ہے۔

    ذکا اشرف سے شاہد آفریدی کی ملاقات

    نصراللہ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اب تک حزب اللہ کے 57 جنگجو شہید ہوچکے ہیں لبنانی محاذ پر مزید کشیدگی کا حقیقی امکان ہے، اس طرح کی پیش رفت کا انحصار غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر ہے، لبنانی محاذ پر تمام آپشنز کھلے ہیں، حزب اللہ تمام امکانات کے لیے تیار ہے۔

    خطے میں امریکی جنگی جہازوں کی تعیناتی سے متعلق بات کرتے ہوئے نصراللہ نے کہا کہ حزب اللہ خوفزدہ نہیں ہے، جو کوئی بھی علاقائی جنگ کو روکنا چاہتا ہے اسے غزہ کی پٹی پر جنگ فوری طور پر بند کرنی چاہیےدوسری طرف لبنان اسرائیل سرحد پر شدید لڑائی جاری ہے تقریر کے موقع پر حزب اللہ نے تین ہفتوں سے زائد عرصے کی لڑائی میں اب تک کا سب سے بڑا حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اسرائیلی فوج کے ٹھکانوں پر بیک وقت 19 حملے کیے اور پہلی بار دھماکہ خیز ڈرونز کا استعمال کیا۔

    خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایرانی حمایت یافتہ لبنان کی ایک طاقتور فوجی قوت حزب اللہ سرحد پر اسرائیلی افواج سے رابطے میں ہے، جہاں 2006 میں اسرائیل کے ساتھ جنگ لڑنے کے بعد سے اب تک اس کے 55 جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ جنگ کے آغاز کے بعد اپنی پہلی عوامی تقریر کرنے والے ہیں جبکہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن حالیہ ہفتوں میں ان کا تیسرا دورہ اسرائیل ہے۔

    گوادر میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر دہشت گردوں کا حملہ،14 جوان شہید

    الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 7 اکتوبر سے اب تک غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 9,227 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اسرائیل میں 1400 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  • یمن کے قریب امریکی بحریہ کے جنگی جہاز نے متعدد میزائلوں کو ناکام بنا دیا

    یمن کے قریب امریکی بحریہ کے جنگی جہاز نے متعدد میزائلوں کو ناکام بنا دیا

    یمن کے قریب امریکی بحریہ کے جنگی جہاز نے متعدد میزائلوں کو ناکام بنا دیا جبکہ امریکی عہدیداروں نے سی این این کو بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں کام کرنے والے امریکی بحریہ کے ایک جنگی جہاز نے آج یمن کے ساحل کے قریب متعدد میزائلوں کو روکا۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ یہ میزائل ایرانی حمایت یافتہ حوثی عسکریت پسندوں کی جانب سے داغے گئے جو یمن میں جاری لڑائی میں مصروف ہیں۔


    جبکہ دوسرے عہدیدار کے مطابق تقریبا 2-3 میزائلوں کو روکا گیا۔ بعد ازاں جمعرات کو پینٹاگون کے پریس سیکریٹری بریگیڈیئر جنرل پیٹ رائیڈر نے تصدیق کی کہ یو ایس ایس کارنی نے یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی فورسز کی جانب سے داغے گئے تین زمینی حملوں کے میزائلوں اور متعدد ڈرونز کو مار گرایا۔

    تاہم سی این این نے لکھا کہ انہوں نے کہا، یہ کارروائی مشرق وسطی میں تعمیر کردہ مربوط فضائی اور میزائل دفاعی ڈھانچے کا ایک مظاہرہ ہے اور ہم اس اہم خطے میں اپنے شراکت داروں اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے جب بھی ضروری ہو استعمال کرنے کے لئے تیار ہیں۔ جبکہ ان کا کہنا تھا کہ امریکی افواج کو کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی ہم زمین پر موجود کسی شہری کو جانتے ہیں۔
    توہین الیکشن کمیشن کیس میں چیئرمین پی ٹی ائی عمران خان کے پروڈکشن آرڈر جاری
    نواز شریف کی آمد،چار افراد ایئر پورٹ پر پھول پھینک سکتے،ایوی ایشن کی اجازت
    سابق وزیر قانون اور سینیٹر ایس ایم ظفر وفات پاگئے
    تاہم رائڈر نے کہا کہ پینٹاگون اس وقت یقینی طور پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ میزائل اور ڈرون کس چیز کو نشانہ بنا رہے تھے، لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ میزائل یمن سے داغے گئے تھے اور بحیرہ احمر کے ساتھ شمال کی طرف بڑھ رہے تھے، ممکنہ طور پر اسرائیل کے اہداف کی طرف تھے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل میں حماس کے دہشت گرد انہ حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جبکہ ایران طویل عرصے سے حماس کا حامی رہا ہے جبکہ یو ایس ایس کارنی بدھ کے روز نہر سوئز کے راستے بحیرہ احمر میں داخل ہوا تھا۔ امریکی فلیٹ فورسز کی کمان نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا ہے کہ اس سے مشرق وسطیٰ میں سمندری سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔