Baaghi TV

Tag: حماس

  • مصر مذاکرات، حماس کے اسرائیل سے مستقل جنگ بندی اور انخلا کے مطالبات

    مصر مذاکرات، حماس کے اسرائیل سے مستقل جنگ بندی اور انخلا کے مطالبات

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ غزہ امن منصوبے پر مصر میں جاری مذاکرات میں حماس نے مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا سمیت متعدد مطالبات پیش کیے ہیں۔

    قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق حماس نے مذاکرات کے دوران اپنی بنیادی شرائط کی تفصیلات جاری کر دیں۔ حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے کہا کہ وفد ایک ایسے معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے جو غزہ کے عوام کی امنگوں پر پورا اترے۔فوزی برہوم کے مطابق حماس کے اہم مطالبات میں شامل ہیں جن میں مستقل اور جامع جنگ بندی،اسرائیلی افواج کا غزہ کے تمام علاقوں سے مکمل انخلا،انسانی و امدادی سامان کی بلا روک ٹوک فراہمی،بے گھر افراد کی اپنے گھروں کو واپسی،غزہ کی تعمیر نو کا فوری آغاز، جو ایک فلسطینی قومی ٹیکنوکریٹس ادارے کی نگرانی میں ہو اور قیدیوں کے تبادلے کا منصفانہ معاہدہ شامل ہیں.

    حماس کے ترجمان نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر الزام عائد کیا کہ وہ موجودہ مذاکرات کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جیسا کہ ماضی کے تمام مراحل کو بھی جان بوجھ کر سبوتاژ کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ وحشیانہ فوجی طاقت، لامحدود حمایت اور غزہ میں نسل کشی کی جنگ میں امریکی شراکت داری کے باوجود اسرائیل جھوٹی فتح کی تصویر پیش کرنے میں ناکام رہا ہے اور آئندہ بھی کامیاب نہیں ہوگا۔

    نیشنل پریس کلب حملہ،جوائنٹ کمیٹی کا چارٹر آف ڈیمانڈ وزارت داخلہ کے حوالے

    تجارت اور سرمایہ کاری،سعودی کاروباری وفد اسلام آباد پہنچ گیا

    مریم نواز وزیراعظم بننے کی تیاری کر رہی ہیں، رانا ثنااللہ

  • ٹرمپ اور نیتن یاہو میں تلخ گفتگو، غزہ جنگ بندی پر اختلافات شدت اختیار کر گئے

    ٹرمپ اور نیتن یاہو میں تلخ گفتگو، غزہ جنگ بندی پر اختلافات شدت اختیار کر گئے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان غزہ جنگ بندی کے حوالے سے امریکی امن منصوبے پر سخت تلخ کلامی ہوئی۔

    ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، حماس کے مبہم ردعمل کے بعد ہونے والی اس فون کال میں صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پتا نہیں تم ہمیشہ اتنے منفی کیوں ہوتے ہو؟ یہ ایک کامیابی ہے، اسے قبول کرو۔ایکسئیوس کی رپورٹ کے مطابق، یہ گفتگو جمعہ کو اس وقت ہوئی جب حماس نے امریکی امن منصوبے پر اپنا جواب دیا۔ حماس نے بعض نکات کی حمایت کی جبکہ دیگر پر مزید مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔ذرائع کے مطابق، نیتن یاہو نے اس ردعمل کو ”جشن منانے کے قابل نہیں“ قرار دیا، جس پر صدر ٹرمپ ناراض ہو گئے اور کہا کہ وہ اس پیش رفت پر خوشگوار حیرت میں مبتلا ہیں۔

    امریکی اہلکار کے مطابق اگرچہ دونوں رہنماؤں کی گفتگو میں تلخی تھی، لیکن آخرکار کچھ حد تک اتفاق رائے سامنے آیا۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کی اولین ترجیح خطے میں امن ہے۔دوسری جانب ایک اسرائیلی اہلکار نے بتایا کہ نیتن یاہو نے نجی ملاقاتوں میں حماس کے ردعمل کو ”عملی طور پر منصوبے کی مستردگی“ قرار دیا اور اس تاثر کی تردید کی کہ حماس نے امریکی تجاویز کو قبول کیا ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اسرائیل کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور حماس کے جواب کا تفصیلی تجزیہ کر کے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے غزہ جنگ بندی کے لیے 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا، جس پر حماس نے چند نکات پر اصولی رضامندی اور باقی پر تحفظات ظاہر کیے تھے۔

    اسلام آباد میں پہلی نارتھ ویمنز رغبی سیونز چیمپئن شپ کا شاندار انعقاد

    بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کا مقامی قبائل پر حملہ، 4 دہشتگرد ہلاک

    اسرائیلی قید میں اسلام قبول کرنے والے اطالوی کارکن استنبول پہنچ گئے

  • حماس کا ٹرمپ کی دھمکی پر باضابطہ جواب آگیا، بڑا اعلان کر دیا

    حماس کا ٹرمپ کی دھمکی پر باضابطہ جواب آگیا، بڑا اعلان کر دیا

    حماس نے امریکی صدر کے جنگ بندی مجوزہ منصوبے پر اپنا مؤقف دیتے ہوئے باضابطہ اعلامیہ جاری کردیا۔

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کا انتظام غیرجانبدار ٹیکنو کریٹس کو دینے کیلئے تیار ہیں، نئی انتظامیہ قومی اتفاق رائے سے قائم ہونی چاہیے۔تنظیم نے مطالبہ کیا کہ نئی انتظامیہ کو عرب و اسلامی حمایت بھی حاصل ہونی چاہیے، اسرائیلی قیدی زندہ اور لاشوں کے تبادلے کے لیے تیار ہیں۔قیدیوں کے تبادلے کے لیے اچھی صورتحال فراہم کی جائے، ثالثوں کے ذریعے فوری مذاکرات پر تیار ہیں۔

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کے مستقبل اور فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق پر قومی سطح پربات ہوگی۔فلسطینی عوام کے حقوق عالمی قوانین و قراردادوں کے مطابق فراہم کیے جائیں، مستقبل کے تمام معاملات قومی فریم ورک میں طے کیے جائیں گے۔غزہ پر قبضے اور فلسطینی عوام کی جبری بےدخلی کو مسترد کرتے ہیں، جنگ بندی اور غزہ سے اسرائیلی فوج کا مکمل انخلاہی امن کی ضمانت ہے۔

    حماس نے بتایا کہ اس فیصلے سے پہلے قیادت اور تمام فلسطینی دھڑوں سے وسیع مشاورت کی گئی اور عرب و اسلامی ممالک، دوست ممالک اور ثالثوں سے بھی بات چیت کی گئی۔ مزید کہا گیا ہے کہ عرب،اسلامی، عالمی اور امریکی صدر کی کوششوں کو سراہتے ہیں، حماس نے جنگ بندی، اسیران کے تبادلے اور فوری امداد کی فراہمی پر زور دیا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے حماس کو دھمکی دیتے ہوئے غزہ منصوبے کا جواب دینے کے لیے اتوار کی ڈیڈ لائن دی تھی۔

  • امریکا بھی قطر حملے میں شریک، اسرائیل نے مذاکرات سبوتاژ کیے،حماس

    امریکا بھی قطر حملے میں شریک، اسرائیل نے مذاکرات سبوتاژ کیے،حماس

    حماس نے کہا ہے کہ قطر میں اس کے مذاکرات کاروں پر اسرائیلی حملے میں امریکا بھی شریک ہے، اور یہ کارروائی غزہ جنگ بندی مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔

    رائٹرز اور اے ایف پی کے مطابق منگل کے روز قطر پر ہونے والے غیر معمولی اسرائیلی حملے نے اس خطے کو ہلا کر رکھ دیا جو عرصہ دراز سے تنازعات سے محفوظ سمجھا جاتا تھا۔حماس کے عہدیدار فوزی برہوم نے ٹی وی بیان میں کہا: ’’یہ جرم پورے مذاکراتی عمل کا قتل اور قطر و مصر میں ثالث بھائیوں کے کردار کو دانستہ نشانہ بنانا تھا‘‘۔دوحہ میں سخت سیکیورٹی کے تحت شہدا کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی جس میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سمیت بڑی تعداد میں سوگوار شریک ہوئے۔

    براہِ راست نشر ہونے والی فوٹیج میں دکھایا گیا کہ ایک تابوت پر قطری پرچم جبکہ پانچ تابوتوں پر فلسطینی پرچم لپیٹے گئے تھے۔ جنازے کی ادائیگی کے بعد شہدا کو میسائمر قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔وزارت داخلہ کے مطابق مسجد اور اطراف میں سخت سیکیورٹی، چیک پوسٹوں اور کنٹرول شدہ رسائی کو یقینی بنایا گیا۔

    25 لاکھ افراد کا انخلاء، سیلاب سے جانی نقصان ہوا، این ڈی ایم اے

    بلوچستان کی خوشحالی کے لیے حکومت، اداروں اور قبائلی عمائدین کے باہمی تعاون پر اتفاق

    میکسیکو سٹی: گیس ٹینکر دھماکے میں 3 افراد جاں بحق، 70 سے زائد زخمی

    میکسیکو سٹی: گیس ٹینکر دھماکے میں 3 افراد جاں بحق، 70 سے زائد زخمی

  • حماس کی غزہ میں جنگ بندی کے بدلے 10 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنے کی پیشکش

    حماس کی غزہ میں جنگ بندی کے بدلے 10 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنے کی پیشکش

    فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے جنگ بندی کے بدلے 10 قیدیوں کو رہا کرنے کی پیشکش کی ہے-

    حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ جاری امن کوششوں کے تحت 10 قیدیوں کو رہا کرے گی جبکہ معاہدے میں اب بھی کئی اہم نکات پر اختلاف موجود ہے، جن میں امداد کی آزادانہ رسائی، غزہ کی پٹی سے اسرائیلی افواج کا انخلا اور مستقل جنگ بندی کے لیے حقیقی ضمانتیں شامل ہیں اگرچہ اب تک ان معاملات پر مذاکرات اسرائیلی ہٹ دھرمی کی وجہ سے مشکل رہے ہیں، ہم ثالثوں کے ساتھ سنجیدگی اور مثبت جذبے کے ساتھ کام جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ رکاوٹوں پر قابو پایا جا سکے، اپنے عوام کی مشکلات کا خاتمہ ہو، اور ان کی آزادی، تحفظ اور باوقار زندگی کی خواہشات پوری کی جا سکیں، غزہ ہتھیار نہیں ڈالے گا، جنگ بندی مذاکرات سے وابستہ ایک فلسطینی عہدیدار نے اشارہ دیا کہ اسرائیل اب بھی امداد کے آزادانہ داخلے کی اجازت نہ دے کر معاہدے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔

    واضح رہے کہ یہ اعلان قطر کی ثالثی میں 4 دن کے بالواسطہ مذاکرات کے بعد سامنے آیا۔

    اداکارہ حمیرا اصغر علی کی موت اکتوبر 2024 میں واقع ہوئی،فرانزک اور ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر تصدیق

    حماس کا کہنا ہے کہ وہ غزہ جنگ بندی کے حوالے سے دوحہ مذاکرات میں بڑی لچک دکھا رہی ہے، حماس کے رہنما طاہر النونو نے پریس بیان میں تصدیق کی کہ موجودہ مذاکرات کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، طے پانے والے کسی بھی معاہدے کے نفاذ کے لیے واضح بین الاقوامی ضمانتوں کی اہمیت ہے امریکا کے پاس دباؤ کے حقیقی لیور موجود ہیں جو زمین پر فرق پیدا کر سکتے ہیں، حماس کی پوزیشن مستحکم ہے اور اس میں مکمل انخلا اور دشمنی کا خاتمہ شامل ہے۔

    اسلام آبادپولیس پر حملہ کیس،عمران خان ذاتی حیثیت میں عدالت طلب

    دوسری جانب اسرائیلی ٹی وی پر خطاب میں اسرائیلی چیف آف سٹاف ایال زامیر نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنانے کے معاہدے کے لیے حالات سازگار ہیں ہم نے حماس کی حکمرانی اور فوجی صلاحیتوں کو کافی نقصان پہنچایا ہے، آپریشنل طاقت کی بدولت یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ایک معاہدے کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے حالات اب سازگار ہیں۔

  • غزہ:  حماس سے جھڑپ کے دوران 5 صہیونی فوجی ہلاک اور 14 زخمی

    غزہ: حماس سے جھڑپ کے دوران 5 صہیونی فوجی ہلاک اور 14 زخمی

    شمالی غزہ میں حماس سے جھڑپ کے دوران 5 صہیونی فوجی ہلاک اور 14 زخمی ہوگئے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج نے منگل کے روز بتایا کہ شمالی غزہ میں لڑائی کے دوران اس کے 5 فوجی ہلاک ہو گئے 2 فوجی شمالی غزہ میں لڑائی کے دوران مارے گئے، جب کہ اسی واقعے میں 3 دیگر فوجی بھی ہلاک اور 2 شدید زخمی ہوئے،زخمی فوجیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کے اہلِ خانہ کو اطلاع دے دی گئی ہے۔

    ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوج کی ابتدائی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ پیر کی رات تقریباً 10 بجے کے بعد بیت حانون میں زمینی کارروائیوں کے دوران صہیونی اہلکار پیدل گشت کے دوران سڑک کے کنارے نصب ایک بم کا نشانہ بنے زخمی اہلکاروں کو نکالنے کی کوشش کے دوران فورسز پر علاقے میں فائرنگ بھی کی گئی، زخمی ہونے والے 14 اہلکاروں میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جس علاقے میں حملہ کیا گیا، اسے فوجی کارروائی سے قبل فضائی حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا۔

    پیوٹن کی جانب سے برطرفی کے چند گھنٹوں بعد روسی وزیر کی گولی لگی لاش برآمد

    غزہ میں دو سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا تازہ دور اتوار کو دوحہ میں شروع ہوا، جہاں اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کے نمائندے ایک ہی عمارت میں مگر علیحدہ کمروں میں بیٹھے مذاکرات سے واقف ایک فلسطینی عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ پیر کو ہونے والے مذاکرات کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہوئے مذاکرات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی اس ہفتے شریک ہونے والے ہیں، تاکہ جنگ بندی کے کسی معاہدے کو یقینی بنایا جا سکے۔

    دو فلسطینی ذرائع کے مطابق امریکا کی تجویز میں ایک 60 روزہ جنگ بندی شامل ہے، جس کے دوران حماس 10 زندہ یرغمالیوں کو رہا کرے گی، جو اس نے اکتوبر 2023 کے حملے میں پکڑے تھے اور کچھ لاشیں بھی واپس کرے گی، جس کے بدلے میں اسرائیل فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا جبکہ حماس اسرائیل کے انخلا کے لیے کچھ شرائط، مذاکرات کے دوران دوبارہ لڑائی شروع نہ ہونے کی ضمانتیں اور اقوام متحدہ کی سربراہی میں امداد کی تقسیم کا نظام بحال کرنے کا بھی مطا لبہ کر رہی ہے۔

    سیالکوٹ پر خواتین کا راج . تاریخ میں پہلی بار ضلع و تحصیل کی مکمل کمان خواتین کے سپرد

  • حماس نے غزہ جنگ بندی تجویز پر جواب ثالثوں کے حوالے کر دیا

    حماس نے غزہ جنگ بندی تجویز پر جواب ثالثوں کے حوالے کر دیا

    فلسطینی عہدیدار کا کہنا ہے کہ حماس نے غزہ میں جنگ بندی کی تجویز پر اپنا جواب ثالثوں کے حوالے کر دیا ہے، اور اس پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

    برطانوی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو میں فلسطینی عہدیدار نے امید ظاہر کی کہ حماس کا جواب معاہدے تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
    انہوں نے کہا کہ فریقین کے درمیان اختلافات کم کرنے کے لیے یہ ایک اہم قدم ہے۔دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے بھی تصدیق کی ہے کہ وہ جنگ بندی کی تجویز پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے، اور حتمی فیصلہ مشاورت مکمل ہونے کے بعد ثالثوں کو پیش کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں امن کے قیام کے لیے 60 روزہ جنگ بندی کی نئی تجویز پیش کی تھی، جس پر عالمی سطح پر بھی غور جاری ہے۔دریں اثنا، غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی بمباری سے 138 فلسطینی شہید اور 452 زخمی ہو چکے ہیں۔

    پاکستان کی الیکٹرانک وارفیئر میں برتری، بھارتی ڈپٹی آرمی چیف کا شکست کا اعتراف

    وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کا نوٹیفکیشن جاری

    محمد حفیظ پاکستان چیمپئنز کے نئے کپتان مقرر

    بھارت کے ہمالیائی خطے میں مون سون کی تباہ کاریاں، 69 افراد ہلاک، 110 زخمی

    این ڈی ایم اے کا گلیشیائی جھیل پھٹنے کے خدشے پر الرٹ جاری

    ایئر انڈیا کا پائلٹ پرواز سے قبل بے ہوش، فوری اسپتال منتقل

  • اسرائیل،حماس جنگ بندی چند دنوں میں  ممکن، ٹرمپ کے ثالث کا دعویٰ

    اسرائیل،حماس جنگ بندی چند دنوں میں ممکن، ٹرمپ کے ثالث کا دعویٰ

    ٹرمپ کے ثالثی بشارہ بہبہ کا دعویٰ ہے کہ غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ ’چند دنوں میں ممکن‘ ہے، جبکہ بشارہ بہبہ نے مصری اور قطری ثالثوں کے ساتھ مل کر یہ ثالثی کی ہے-

    مصری چینل ’الغد‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد اب غزہ ایک بار پھر خطے کی ترجیح بن چکا ہے، جس سے معاہدے کے امکانات روشن ہوئے ہیں تاہم، ایک سینئر عرب سفارتکار نے ٹائمز آف اسرائیل سے بات کرتے ہوئے اتنی امید ظاہر نہیں کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل بدستور جنگ کے مستقل خاتمے سے متعلق واضح طور پر کوئی وعدہ نہیں کرنے سے انکار کررہا ہے، اسرائیل کی پیشکش یہ ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی کو عارضی جنگ بندی کے دوران مرحلہ وار کیا جائے گا، اگرچہ ثالث بشارہ بہبہ نے واضح کیا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کا اسرا ئیل اور حماس تنازع سے براہ راست تعلق نہیں ہے، تاہم قطری اور مصری ثالث اب اسرائیل-حماس تنازع کو ختم کرنے کے لیے زیادہ سنجیدہ اور پُرعزم ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان اختلافات بہت محدود رہ گئے ہیں اور اصل اختلاف صرف ایک بات پر رہ گیا ہے ، جو غالباً اس شق سے متعلق ہے کہ عارضی جنگ بندی کے اختتام پر اگر مستقل جنگ بندی پر اتفاق نہ ہوا تو کیا اسے خود بخود توسیع ملے گی یا نہیں، جیسا کہ حماس مطالبہ کر رہی ہے۔

    بشارہ بہبہ فی الحال مذاکرات کی پیشرفت کے حوالے سے مصر میں موجود ہیں، اس دوارن انہوں نے حماس کے سینئر رہنما غازی حمد سے ملاقات کی تاکہ باقی اختلافات پر بات چیت کی جاسکے یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق کئی تجاویز زیر غور ہیں جن میں کچھ مکمل اور کچھ جزوی نوعیت کی ہیں ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی میں تیزی لائی جائے، کیونکہ گزشتہ ماہ کے دوران اسرائیل روزانہ اوسطاً صرف 60 ٹرک داخل ہونے دے رہا ہے جو کہ اقوام متحدہ کے مطابق ضرورت سے کہیں کم ہے۔

  • غزہ :حماس کے حملے میں پلاٹون کمانڈر سمیت 7 اسرائیلی فوجی ہلاک

    غزہ :حماس کے حملے میں پلاٹون کمانڈر سمیت 7 اسرائیلی فوجی ہلاک

    غزہ کے علاقے خان یونس میں حماس کے حملے میں پلاٹون کمانڈر سمیت 7 اسرائیلی ہلاک ہوگئے جبکہ ایک جھڑپ میں ایک اسرائیلی فوجی شدید زخمی بھی ہوا۔

    برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز بتایا کہ منگل کو جنوبی غزہ کی پٹی میں جھڑپ کے دوران اس کے پلاٹون کمانڈر سمیت 7 اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ ایک علیحدہ واقعے میں جنوبی غزہ ہی میں ایک اور اسرائیلی فوجی شدید زخمی بھی ہوا ہے یہ ساتوں فوجی خان یونس شہر میں اس وقت مارے گئے جب ان کی گاڑی کے نیچے نصب ایک دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں گاڑی میں آگ لگ گئی اسرائیلی فوج کے اعداد و شمار کے مطابق جون کے آغاز سے اب تک غزہ میں لڑائی کے دوران 19 اسرائیلی فوجی مارے جا چکے ہیں۔

    ترک نشریاتی ادارے انادولو کی جانب سے رواں ماہ شائع کی گئی اسرائیلی اخبار یدیعوت احارونوت کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر فوجی افسر نےبتایا ہے کہ غزہ پر جاری جنگ کے آغاز سے اب تک 10 ہزار سے زائد اسرائیلی فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں اہلکار ایسے بھی ہیں جو بار بار ذہنی صدمے میں مبتلا ہو رہے ہیں جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری غزہ جنگ میں 861 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 5 ہزار921 زخمی ہوئے ہیں تاہم فوجی افسر کی طرف سے دی گئی مجموعی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے، جو کہ اسرائیلی فوجی نظام پر گہرے اثرات کی نشاندہی کرتی ہے۔

    اسرائیل نے اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے جواب میں اسرائیلی حملوں میں اب تک 56 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جب کہ 20 لاکھ سے زائد کی آبادی میں سے بیشتر بے گھر ہو چکی ہے اور علاقے میں شدید غذائی بحران پیدا ہو گیا ہے۔

  • حماس کا امریکی جنگ بندی تجویز سے اتفاق، اسرائیل کی تردید

    حماس کا امریکی جنگ بندی تجویز سے اتفاق، اسرائیل کی تردید

    حماس نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے امریکہ کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ معاہدے سے اتفاق کر لیا ہے، جس کے تحت 60 روزہ جنگ بندی کے دوران 10 اسرائیلی قیدیوں کی مرحلہ وار رہائی عمل میں لائی جائے گی۔

    ذرائع کے مطابق معاہدے کے تحت ابتدائی طور پر 5 قیدیوں کو رہا کیا جائے گا، جبکہ باقی 5 قیدی جنگ بندی کے 60ویں روز اسرائیل کے حوالے کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ قیدیوں کے ہمراہ کچھ لاشیں بھی اسرائیلی حکام کے حوالے کی جائیں گی۔

    دوسری جانب اسرائیلی حکام نے مجوزہ معاہدے پر رضامندی کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ "مذاکرات ابھی جاری ہیں، اسرائیل نے کسی شق پر حتمی رضامندی ظاہر نہیں کی، اور نہ ہی حماس کی رضامندی کی کوئی باضابطہ اطلاع ملی ہے۔”

    عرب نیوز ایجنسی کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے کی حمایت اور ضامن کے طور پر کردار ادا کریں گے۔ معاہدے میں اس بات کی ضمانت شامل کی گئی ہے کہ پہلے دن سے غزہ میں غیر مشروط انسانی امداد فراہم کی جائے گی، اور اسرائیلی فوج کا مرحلہ وار انخلا بھی ممکن ہو گا۔

    ذرائع کے مطابق معاہدے کا مسودہ امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور حماس نمائندوں کے درمیان دوحہ میں ہونے والی ملاقات میں طے پایا، جس کے بعد یہ مسودہ اسرائیلی حکومت کو پیش کر دیا گیا ہے۔مزید پیش رفت کے لیے عالمی برادری اور علاقائی قوتیں معاہدے کی تصدیق اور عمل درآمد کی منتظر ہیں۔

    کراچی میں گرمی کی شدت برقرار

    شہباز شریف کا بھارت سے مذاکرات اور ایران کے نیوکلیئر پروگرام کی حمایت کا اعلان

    بھارت سے بغیر علاج واپس آئے 9 سالہ عبداللّٰہ کی اوپن ہارٹ سرجری کامیابی سے مکمل

    عید الاضحی پر زائد کرایہ وصولی کے خلاف سندھ حکومت کی کریک ڈاؤن مہم

    عالمی اور مقامی منڈیوں میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی