Baaghi TV

Tag: حماس

  • اسرائیل کی فضائی کارروائیاں:37 فلسطینی شہید،حماس کی سنگین نتائج کی دھمکی

    اسرائیل کی فضائی کارروائیاں:37 فلسطینی شہید،حماس کی سنگین نتائج کی دھمکی

    اسرائیل کی فضائی کارروائیوں میں کم از کم 37 فلسطینی شہید ہو گئے-

    حکام کے مطابق یہ حملے مختلف مقامات پر کیے گئے اور شہری آبادی شدید متاثر ہوئی ہےہلاکتوں میں خواتین اور بچوں کی تعداد بھی شامل ہے حماس نے اسرائیل کی کارروائیوں کو ’جرائم‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ حملے جاری رہیں تو اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے تنظیم نے بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ بھی کیا ہے تاکہ مزید انسانی نقصان روکا جا سکے۔

    اس سے قبل اکتوبر میں طے شدہ جنگ بندی کے بعد غزہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں کمی دیکھی گئی تھی، لیکن تازہ حملوں کے بعد صورتحال دوبارہ تشویشناک ہو گئی ہےاسرائیل نے ان حملوں کو اپنی ’قومی سلامتی اور میزائل حملوں کے ردعمل‘ کے طور پر پیش کیا ہے، جبکہ مقامی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں شہریوں کے تحفظ پر زور دے رہی ہیں۔

    اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے اسرائیل 1300سے زائد مرتبہ اس کی خلاف ورزی کرچکا ہے ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں کم از کم 509 فلسطینی شہید اور 1405 زخمی ہوچکے ہیں جنگ بندی معاہدے کے بعد سے 430 مرتبہ عام فلسطینیوں پر فائرنگ کی گئی، رہائشی علاقوں میں ییلو لائن سے آگے 66 چھاپے مارے گئے، 200 مرتبہ فلسطینی املاک کو مسمار کیا گیا، گزشتہ ایک ماہ کے دوران ہی کم از کم 50 فلسطینیوں کو گرفتارکیا گیا۔

  • امریکی انتظامیہ کے پاس حماس کو ہتھیار ڈالنے کے لیے ایک مضبوط پروگرام موجود ہے،عالمی میڈیا

    امریکی انتظامیہ کے پاس حماس کو ہتھیار ڈالنے کے لیے ایک مضبوط پروگرام موجود ہے،عالمی میڈیا

    الجزیرہ کی رپورٹر روزیلینڈ جورڈن نے اپنی رپورٹ میں امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ حماس کے کئی افراد ہتھیار ڈالنے کی باتیں کر رہے ہیں اور اگر وہ ہتھیار نہ ڈالیں تو یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی، امریکی انتظامیہ کے پاس حماس کو ہتھیار ڈالنے کے لیے ایک مضبوط پروگرام موجود ہے-

    الجزیرہ کے مطابق امریکی اہلکار نے کہا ہے کہ غزہ میں حماس کے ہتھیار ڈالنے کے عمل کے دوران فلسطینی گروپ کے لیے ‘کسی قسم کی معافی’ دی جا سکتی ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب غزہ میں آخری اسرائیلی قیدی کی لاش بازیاب ہوئی، جو اکتوبر میں طے پانے والے غزہ جنگ بندی معاہدے کے اگلے مرحلے کی راہ ہموار کرتی ہے۔

    اہلکار نے بتایا کہ حماس کے کئی افراد ہتھیار ڈالنے کی باتیں کر رہے ہیں اور اگر وہ ہتھیار نہ ڈالیں تو یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی،ہتھیار ڈالنے کے ساتھ ساتھ کچھ قسم کی معافی بھی زیر غور ہے، اور امریکی انتظامیہ کے پاس حماس کو ہتھیار ڈالنے کے لیے ایک مضبوط پروگرام موجود ہے، اہلکار نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ معاہدے کے تحت حماس کے سیاسی حیثیت کے اعتراف اور معافی پر بات ہو رہی ہے۔

    حماس نے کہا کہ قیدیوں کی لاشیں واپس کرنے سے اس کی جنگ بندی میں پابندی ظاہر ہوتی ہے اور اس نے اپنی ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں۔ اس نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ بھی معاہدے پر مکمل عمل کرے، جس میں رفح کراسنگ کھولنا، ضروری اشیا کی فراہمی، پابندیاں ختم کرنا اور نیشنل کمیٹی کے کام کو آسان بنانا شامل ہے۔

    ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ منصوبے کے مطابق، قیدیوں کی واپسی کے بعد وہ حماس کے ارکان جو ہتھیار جمع کروائیں گے انہیں معافی دی جائے گی اور جو غزہ چھوڑنا چاہیں گے انہیں محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا منصوبے میں امداد کے آزادانہ بہاؤ اور رفح سرحدی کراسنگ کے دوبارہ کھلنے کی وضاحت بھی شامل ہے۔

  • غزہ جنگ بندی نئے اور مشکل مرحلے میں داخل

    غزہ جنگ بندی نئے اور مشکل مرحلے میں داخل

    غزہ سے آخری اسرائیلی یرغمالی کی باقیات برآمد ہونے کے بعد جنگ بندی ایک نئے اور مشکل مرحلے میں داخل ہو گئی-

    اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ سے آخری اسرائیلی یرغمالی کی باقیات برآمد کر لی ہیں، جس کے بعد ملک کے لیے ایک طویل اور تکلیف دہ باب اختتام کو پہنچ گیا ہے پولیس اہلکار ران گویلی کی باقیات شمالی غزہ کے ایک قبرستان سے ملیں، جو 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس پیش رفت کو سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے جنگ بندی کے اگلے مرحلے کی راہ ہموار ہو گئی ہےاس مرحلے میں غزہ اور مصر کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ کھولنے، انسانی امداد میں اضافے اور غزہ کی بحالی سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق ران گویلی کا تابوت اسرائیل لائے جانے پر فوجی اہلکاروں، رشتہ داروں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا تل ابیب کی سڑکوں پر لوگ قطاروں میں کھڑے ہو کر تابوت کے گزرنے کے وقت احتراماً خاموشی اختیار کیے رہے۔

    واضح رہے کہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں تمام یرغمالیوں کی واپسی طے تھی، جسے اب مکمل کر لیا گیا ہے تاہم دوسرے مرحلے میں غزہ کی حکومت، حماس کے ہتھیار ڈالنے اور اسرائیلی افواج کے انخلا جیسے مسائل شامل ہیں، جن پر پیش رفت کو مشکل قرار دیا جا رہا ہے-

  • غزہ میں موجود آخری اسرائیلی یرغمالی کی لاش برآمد کر لی ہے،اسرائیلی فوج کی تصدیق

    غزہ میں موجود آخری اسرائیلی یرغمالی کی لاش برآمد کر لی ہے،اسرائیلی فوج کی تصدیق

    اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ میں موجود آخری اسرائیلی یرغمالی ران گویلی کی لاش برآمد کر لی ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق نیشنل سینٹر آف فارنزک میڈیسن کی جانب سے اسرائیلی فوجی ران گویلی کی شناخت کی تصدیق کردی گئی ہے اور یوں غزہ لے جائے گئے تمام اسرائیلی یرغمالی زندہ یا مردہ حالت میں اسرائیل واپس آچکے ہیں۔

    گزشتہ روز فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیدہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے ثالثوں کو آخری قیدی کی لاش کے ممکنہ مقام سے متعلق تمام تفصیلات فراہم کر دی ہیں تاکہ اسے امریکی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل کے حوالے کیا جا سکے۔

    اسرائیلی فوج نے بھی اتوار کی شام تصدیق کی تھی کہ وہ شمالی غزہ کے ایک قبرستان میں ران گویلی کی لاش کو تلاش کر رہی ہےاسرائیلی یرغمالی کی لاش ملنے کے بعد حماس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یرغمالی کی لاش کا ملنا حماس کی جانب سے جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کا ثبوت ہے۔ تنظیم معاہدے کے تمام پہلوؤں پر عمل درآمد جاری رکھے گی جن میں غزہ کے انتظام کے لیے قائم قومی کمیٹی کو سہولت فراہم کرنا اور اس کی کامیابی کو یقینی بنانا شامل ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے اتوار کی شام اعلان کیا تھا کہ اسرائیل آخری یرغمالی ماسٹر سارجنٹ ران گویلی کی لاش برآمد کرنے کے لیے جاری فوجی کارروائی مکمل ہونے کے بعد غزہ اور مصر کے درمیان رفح کراسنگ دوبارہ کھول دے گا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کا اعلان کردیا گیا، جس کے تحت کئی اہم ممالک ’غزہ بورڈ آف پیس‘ کا حصہ بن گئے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

  • حماس نے غزہ کی انتظامی ذمہ داریوں سے علیحدگی کا اعلان کر دیا

    حماس نے غزہ کی انتظامی ذمہ داریوں سے علیحدگی کا اعلان کر دیا

    غزہ:فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں ایک آزاد فلسطینی ادارے کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

    تنظیم کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ غزہ میں موجود تمام سرکاری و انتظامی ڈھانچے اب ایک خودمختار فلسطینی ٹیکنوکریٹک اتھارٹی کے تحت کام کریں گے حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن کونسل کے قیام سے متعلق حالیہ بیان کے بعد اٹھایا گیا ہے،تنظیم نے غزہ کے تمام اداروں کو ہدایت دے دی ہے کہ وہ مکمل اختیارات آزاد فلسطینی ٹیکنوکریٹک باڈی کو منتقل کر دیں۔

    خبر رساں ادارے مڈل ایسٹ مانیٹر کے مطابق حازم قاسم نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ غزہ کے انتظامی امور سے دستبردار ہونے کا فیصلہ حتمی اور غیر مبہم ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ نئی اتھارٹی بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکے،اختیارات کی یہ منتقلی اس معاہدے کا حصہ ہے جس کے تحت غزہ میں جنگ بندی ممکن ہوئی تھی اس منصوبے پر شرم الشیخ میں دستخط کیے گئے تھے اور اس میں غزہ کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے سے متعلق واضح نکات شامل ہیں۔

    انہوں نے یاد دلایا کہ فلسطینی سیاسی دھڑوں کے درمیان اس سے قبل بھی اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے کہ غزہ کا نظم و نسق ایک عارضی فلسطینی کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا، جو آزاد شخصیات اور مقامی ماہرین پر مشتمل ہوگی یہ اتفاق 24 اکتوبر کو قاہرہ میں ہونے والے فلسطینی اجلاس میں طے پایا تھا۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل حماس کے سیاسی بیورو کے رکن باسم نعیم نے بھی اس بات کا اعلان کیا تھا کہ غزہ میں ایک بااختیار فلسطینی حکومت کے قیام کے بعد حماس انتظامی کردار سے الگ ہونے کے لیے تیار ہے۔

  • حماس نے  ’ابو عبیدہ‘ کی شہادت کی تصدیق کر دی

    حماس نے ’ابو عبیدہ‘ کی شہادت کی تصدیق کر دی

    غزہ: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اپنے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے ترجمان ’ابو عبیدہ‘ کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے۔

    القسام بریگیڈز کے نئے ترجمان نے آج جاری کردہ ویڈیو بیان میں ابو عبیدہ سمیت دیگر کمانڈروں کے جان بحق کی تصدیق کی کہا کہ اسرائیلی حملوں میں القسام کے قائدین محمد السنوار، رائد سعد، محمد شبانہ اور حکم العیسیٰ بھی شہید ہوئے۔

    نئے ترجمان نے ابو عبیدہ کو ان کے اصل نام حذیفہ الکحلوت سے متعارف کروایا اور محمد السنوار کے بارے میں کہا کہ وہ القسام کے سابق سربراہ محمد الضیف کے بعد بریگیڈ کے سربراہ تھے حذیفہ الکحلوت القسام کے میڈیا ونگ ’الاعلام العسکری‘ کے سربراہ تھے اور انہوں نے گزشتہ 20 سال سے زائد عرصے تک القسام کے ترجمان کی ذمہ داریاں سنبھالیں، ان کے دور میں میڈیا ونگ کو جدید خطوط پر منظم کیا گیا۔

    اسرائیل کی ابو عبیدہ کو شہید کرنے کی ویڈیو پھر سے وائرل

    نئے ترجمان نے اعلان کیا کہ حذیفہ الکحلوت اپنے پیچھے لقب ’ابو عبیدہ‘ چھوڑ گئے جبکہ حماس کی طرف سے جاری بیان میں نئے ترجمان کا نام بھی ابوعبیدہ بتایا گیا ہے۔

    میجر عدیل شہید کی نماز جنازہ ادا، فیلڈ مارشل اور وزیر داخلہ سمیت سول و عسکری شخصیات کی شرکت

  • اسرائیل کی ابو عبیدہ کو شہید کرنے کی ویڈیو پھر سے وائرل

    اسرائیل کی ابو عبیدہ کو شہید کرنے کی ویڈیو پھر سے وائرل

    اسرائیلی فوج نے ابو عبیدہ کو شہید کرنے کی ویڈیو پھر سے شئیر کر دی-

    اسرائیلی فوج نے ایک نئی تصویر جاری کی جس میں حماس کے القسام بریگیڈز کے حال ہی میں شہید کیے گئے ترجمان ابو عبیدہ کو محمد الضیف اور رافع سلامہ کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایک تصویر جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ حماس کے ترجمان حذیفہ الکحلوت المعروف ابو عبیدہ کی ہےترجمان اسرائیلی فوج نے اس تصویر کے ساتھ ایک ویڈیو بھی منسلک کی ہے جس میں حماس کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا جہاں ان کے بقول ابو عبیدہ مقیم تھے۔

    سہیل آفریدی کا دورۂ پنجاب ، ناروا سلوک کے شکووں پر خواجہ آصف کا ردعمل

    واضح رہے کہ ایک ہفتے قبل اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ غزہ میں ایک ملٹری کارروائی کے دوران حماس کے ترجمان ابوعبیدہ کو شہید کر دیا تھاتاہم اب تازہ تصویر شیئر کرتے ہوئے ترجمان اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ ابو عبیدہ تصویر میں حماس کے فوجی ونگ کے کمانڈر محمد الضیف اور خان یونس بریگیڈ کے کمانڈر رافع سلامہ کے ساتھ نظر آ رہے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرائی نے کہا تھا کہ ابو عبیدہ ہمیشہ نقاب لگا کر ویڈیوز میں آتے تھے لیکن ہماری نظر سے پھر بھی بچ نہیں سکے۔

    پنجاب پولیس کے ریٹائر ہونے والے افسران کی فہرست جاری

  • اٹلی: حماس کو فنڈنگ کے شبہے میں 9 افراد گرفتار

    اٹلی: حماس کو فنڈنگ کے شبہے میں 9 افراد گرفتار

    اٹلی کے انسداد دہشت گردی یونٹ نے حماس کو چیریٹی کے ذریعے مالی امداد فراہم کرنے کے شبہے میں 9 افراد کو گرفتار کرلیا۔

    غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اٹلی کے شمالی شہر جینووا کے پراسیکیوٹرز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ گرفتار افراد پر الزام ہے کہ فلسطینی گروپ کو مالی امداد پہنچائی ہے اور گروپ کو اسرائیل سمیت اس کے اتحادی اٹلی اور امریکا نے دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔

    پروسیکیوٹرز نے بتایا کہ گرفتار افراد نے مبینہ طور پر گزشتہ دو برس کے دوران بظاہر انسانی ہمدردی کے تحت جمع کیے گئے 8.2 ملین ڈالر حماس سے منسلک اداروں کو منتقل کیے ہیں اور پولیس نے 8 ملین یورو سے زائد مالیت کے اثاثے ضبط کردیے ہیں۔

    نواز شریف اور مریم نواز دبئی روانہ

    پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ افسران نے فلسطین کے حامی فلاحی تنظیم کے دفاتر اور گرفتار افراد کے گھروں سے 1.08 ملین یورو نقد قبضے میں لے لیا ہے اور الزام عائد کیا کہ اس کے ساتھ حماس کے لیے معاون مواد بھی برآمد ہوا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیل کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اٹلی کے حکام کو اسرائیلی خفیہ ایجنسی اور دیگر اداروں نے اس کارروائی میں مدد فراہم کی، جس میں معلومات اور شواہد شامل تھے۔

    وزیراعظم نے آزاد کشمیر میں کینسر اسپتال کا افتتاح کردیا

    واضح رہے کہ غزہ میں اسرائیل کے وحشیانہ مظالم کے دوران اٹلی ان چند ممالک میں شامل تھا جس نے کھل کر اسرائیل کی حمایت کی تھی اور قریبی اتحادی کے طور پر سامنے آیا تھا،اٹلی کی وزیراعظم جیورجیا میلونی نے اس کارروائی پر حکام کو سراہا اور اس کو حماس کے خلاف اہم کارروائی کی قرار دیا۔

    دوسری جانب اٹلی کے فلسطین کے حامی کارکنوں کی جانب سے ان گرفتاریوں کے خلاف میلان اور دیگر شہروں میں احتجاج کیا اور پولیس کے اقدامات کو جبر اور تشدد کی مہم کا حصہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

    سہیل آفریدی نے پاکستان کے یورپ لاہور کی بہت سیر کرلی، واپس چلے جائیں،عظمیٰ بخاری

    فلسطینی حامی تنظیم ینگ فلسطینی اٹلی اینڈ عرب فلسطینی ڈیموکریٹک یونین نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کو بھی دنیا کے دیگر تمام لوگوں کی حق خود ارادیت کو قانونی حق حاصل ہے اور انہیں مزاحمت کا بھی حق حاصل ہے اور اس طرح کی اقدامات کو دہشت گردی قرار دینا ناانصافی ہے۔

  • حماس نے 7 اکتوبر 2023 کے حملے سے متعلق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی

    حماس نے 7 اکتوبر 2023 کے حملے سے متعلق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی

    فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے 7 اکتوبر 2023ء کے حملے سے متعلق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جاری کردہ رپورٹ مسترد کر دی۔

    عرب میڈیا کے مطابق حماس نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو غلط اور غیر پیشہ ورانہ قرار دیتے ہوئے ایمنسٹی انٹرنیشنل سے 7 اکتوبر 2023ء کے حملے سے متعلق رپورٹ واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے،حماس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں قابض حکومت کے جھوٹ اور الزامات کے پروپیگنڈے کو دہرایا گیا، رپورٹ کا مقصد اشتعال پھیلانا اور مزاحمتی فورسز کا تاثر مسخ کرنا ہے۔

    خیال رہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں 7 اکتوبر 2023ء کے حملے سے متعلق حماس پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام لگایا گیا ہے۔

    یاد رہے غزہ میں دو سال تک جاری رہنے والی اسرائیلی جنگ میں ہزاروں فلسطینی جاں بحق ، لاکھوں بے گھر اور بار بار نقل مکانی پر مجبور ہوئے کہ اسرائیلی ریاست کی فوج نے ان کے گھروں کو بمباری سے ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔

  • اسرائیلی حملوں میں تیزی، حماس کا  سخت انتباہ

    اسرائیلی حملوں میں تیزی، حماس کا سخت انتباہ

    غزہ میں اسرائیلی فوج کے بڑھتے ہوئے حملوں پر حماس نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال یوں ہی جاری رہی تو جنگ بندی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

    عرب میڈیا سے بات کرتے ہوئے حماس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ انہوں نے اسرائیلی جارحیت پر اپنے شدید غصے سے ثالثوں کو آگاہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل جنگ بندی معاہدے کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، لہٰذا اسے برقرار رکھنے کے لیے ثالث فوری مداخلت کریں۔حماس رہنما نے کہا کہ معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث اب تک سیکڑوں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج معاہدے کے تحت واپسی کی طے شدہ حدود میں بھی تبدیلیاں کر رہی ہے۔

    غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملے ، مزید 14 فلسطینی شہید

    عالمی ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی،پاکستان میں 6 سب میرین کیبل سسٹم فعال

    جی 20 اجلاس کا اعلامیہ جاری، عالمی تنازعات کے منصفانہ حل کا مطالبہ