Baaghi TV

Tag: حماس

  • حماس سربراہ  یحییٰ سنوار کی شہادت کی خبریں وائرل، اسرائیلی انٹیلی جنس نے تحقیقات شروع کردیں

    حماس سربراہ یحییٰ سنوار کی شہادت کی خبریں وائرل، اسرائیلی انٹیلی جنس نے تحقیقات شروع کردیں

    تل ابیب: حماس کے نئے سربراہ یحییٰ سنوار کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ غزہ میں ایک فضائی حملے میں شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق یروشلم پوسٹ،مقامی عبرانی میڈیا کان پبلک براڈکاسٹر اور ہاریٹز سائٹس سمیت متعدد غیر ملکی نیوز چینل نے غزہ میں ایک فضائی حملے میں یحییٰ السنوار کی شہادت کا دعویٰ کیا ہے،جس کے بعد اسرائیلی انٹیلی جنس نے غیر ملکی میڈیا کے دعوؤں اور یحییٰ السنوار کی اپنی تنظیم حماس سے رابطہ منقطع ہونے پر تحقیقات کا آغاز کردیا،تاہم ابتدائی تحقیقات میں اب تک یحییٰ السنوار کے مارے جانے کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا۔

    دوسری جانب ایک اور خبر رساں ادارے شن بیٹ ایجنسی نے ذرائع سے دعویٰ کیا کہ حماس رہنما یحییٰ السنوار خیریت سے ہیں تاہم انھوں نے خود کو محفوظ بنانے کے لیے رابطے مختصر کردئیے ہیں کچھ رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حماس رہنما یحییٰ السنوار 7 اکتوبر کے حملے کے بعد سے غزہ کی زیر زمین سرنگوں میں چھپ جانے کے باعث اسرائیلی ریڈار سے دور ہو گئے تھے، بعد ازاں جنگ بندی کے لیے مذاکرات سے متعلق پیغامات جاری کرنے پر یحییٰ السنوار دوبارہ اسرائیلی ریڈار میں آگئے تھے تاہم اب متعدد روز سے وہ ریڈار سے باہر ہیں جس سے ان کے مارے جانے کا شک گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان لڑائی کا دائرہ مزید پھیل گیا، عراقی گروہ بھی شامل

    واضح رہے کہ سربراہ حماس اسماعیل ہنیہ کی جولائی میں تہران میں ایک حملے میں شہادت کے بعد یحییٰ السنوار کو نیا سربراہ بنایا گیا تھا۔

    جرمنی :فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کرنےوالوں کا کریک ڈاؤن،10 سالہ بچہ بھی زیر حراست

  • حماس کے حملے میں  اسرائیل کی خاتون فوجی سمیت 4 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی

    حماس کے حملے میں اسرائیل کی خاتون فوجی سمیت 4 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی

    تل ابیب: غزہ میں حماس کے ساتھ جھڑپ میں اسرائیلی فوج کے 4 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے،ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون فوجی بھی شامل ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوجی کے ترجمان نے ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس واقعے میں ایک افسر اور 4 سپاہی شدید زخمی ہوگئے جن میں سے افسر اور دو سپاہیوں کی حالت نازک ہے، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے،23 سالہ ڈپٹی کمانڈر ڈینیئل میمون ٹواف، 20 سالہ اسٹاف سارجنٹ اگم نعیم، 21 سالہ امیت بکری اور 21 سالہ دوتن شمعون ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔

    بیان کے مطابق حماس نے ایسا ظاہر کیا کہ وہ بھاری اسلحے کے ساتھ ایک عمارت میں چھپے ہوئے ہیں جن کی گرفتاری کے لیے جانے والی ٹیم جیسے ہی عمارت میں داخل ہوئی، حماس نے عمارت کو دھماکے سے اُڑا دیا ممکنہ طور پرحماس نے اس عمارت میں بارودی مواد چھپایا ہوا تھا اور جیسے ہی اسرائیلی فوجی اندر داخل ہوئے حماس نے دھماکا کردیا۔

    بلومبرگ نے تازہ ترین ارب پتیوں کی فہرست جاری کردی

    اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آج ہونے والی ہلاکتوں میں غزہ میں دو بدو لڑائی میں ماری جانے والی پہلی خاتون فوجی بھی شامل ہے جو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ٹیم میں شامل تھیں۔

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے اسرائیل نے غزہ میں وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس میں 41 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 92 ہزار کے قریب زخمی ہوچکے ہیں،اسرائیلی بمباری میں شہید اور زخمی ہونے والوں میں نصف تعداد خواتین اور بچوں کی ہے جب کہ نصف آبادی بے گھر ہوگئی اور پناہ گزین کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

    ملالہ یوسفزئی کی دستاویزی فلم نےبہترین ایشین فلم کا ایوارڈ جیت لیا

  • حماس   امریکی مذاکرات میں نئے شرائط کے بغیر فوری جنگ بندی کیلئے تیار

    حماس امریکی مذاکرات میں نئے شرائط کے بغیر فوری جنگ بندی کیلئے تیار

    فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس غزہ میں جنگ بندی کیلئے ہونے والے مذاکرات کے نتیجے وہ نئے شرائط کے بغیر فوری جنگ بندی کی رضا مندی کیلئے تیار ہے-

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق حماس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے تجویز کیے گئے پچھلے پرپوزل کے تحت کسی بھی نئے شرائط کے بغیر غزہ میں فوری جنگ بندی کیلئے تیار ہیں،حماس کی جانب سے مذاکراتی ٹیم کے سربراہ خلیل الحیا نے دوحا میں قطر کے وزیراعظم سمیت دیگر ثالثوں سے ملاقات میں غزہ میں جنگ بندی معاہدے سے متعلق پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا اور جنگ بندی کیلئے اپنی رضامندی سے آگاہ کردیا ہے،حماس رہنما اسامہ حمدان کا کہنا تھا کہ امریکا کواسرائیل پر اپنےمطالبات کو واپس لینے کیلئےدباؤ ڈالناچاہیے۔

    امریکا کا کہنا تھا کہ حماس کے نئے مطالبات کی وجہ کسی معاہدے تک پہنچنا مشکل نظرآتاہے، وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں کہ حماس مذاکرات کی میز پر آئےگایا نہیں،اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت حماس کے ساتھ مذاکرات معطل ہیں، رواں ہفتے پیشرفت کی امید کم ہے۔

    یاد رہے کہ غزہ میں گزشتہ 11 ماہ سے جاری حماس اسرائیل لڑائی میں جنگ بندی کیلئے ہونے والے مذاکرات کسی ڈیل پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے تھے امریکی ڈیل کے تحت حماس کی جانب سے فوری جنگ بندی کیلئے پہلے ہی رضامندی ظاہر کردی گئی تھی تاہم مذاکرات کے دوران آخری لمحے میں اسرائیلی وفد نے اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے مصر سے ملحقہ غزہ کے بارڈر فلاڈیلفی کوریڈور کا کنٹرول اپنے پاس رکھنے کی شرط پیش کردی تھی، جسے قبول کرنے سے حماس نے انکار کردیا تھا۔

    امریکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ اور سی آئی اے کے ڈائریکٹڑ ولیم برنز کا کہنا تھا کہ اگلے ایک چند روز میں جنگ بندی کی مذاکرات کیلئے تفصیلی تجاویز تیار کر لی جائیں گی تاکہ کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے،امریکا کی جانب سے تجویز کیے گئے پچھلے پرپوزل میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں تین مراحل میں جنگ بندی جیسے شرائط پر اتفاق ہو چکا تھا۔

  • اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے سربراہ حماس حملے کے 10 ماہ بعد مستعفی

    اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے سربراہ حماس حملے کے 10 ماہ بعد مستعفی

    حماس کے گزشتہ برس 7 اکتوبر کے حملوں کو روکنے میں ناکامی پر 10 ماہ بعد اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے چیف مستعفی ہو گئے ہیں

    اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے مستعفی میجر جنرل اہرن ہالیوا نے سات اکتوبر کے واقعات کی ریاستی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے،اسرائیل کی خفیہ ایجنسی کے نئے سربراہ میجر جنرل شیلومی ہوں گے جن کا کہنا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی کو ترجیح ہو گی،اسرائیلی فوج میں یہ تبدیلیاں ایسے وقت آئی ہیں جب اسرائیل پر ایران کے حملے کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور مشرق وسطیٰ میں صورتحال سے نمٹنے کے لیے امریکی طیارہ بردار یو ایس ایس ابراہام لنکن مشرق وسطیٰ پہنچ گیا ہے،امریکی طیارہ بردار یو ایس ایس تھیوڈور روز ویلٹ پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں موجود ہے جبکہ جنوبی لبنان اور غزہ پر اسرائیلی حملے بھی جاری ہیں۔

    گزشتہ 10 ماہ سے حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری ہیں حماس کا اسرائیل پر سات اکتوبر کا حملہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی کی ناکامی تھی اب اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے چیف نے استعفیٰ دیا اور کہا کہ 7 اکتوبر کو حملے سے سرحد کا تحفظ نہیں کر سکے،حملے کو نہ روک سکنا ہماری ناکامی تھا، اسرائیل کی تاریخ میں سب سے بڑے حملے کا پتہ لگانے اور اسے روکنے میں ہم ناکام رہے،

    دوسری طرف اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے چیف کے استعفیٰ کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے صحیح فیصلہ قرار دیا ، 38 برس سے بھی زیادہ وقت تک فوج سے جڑے رہنے والے اسرائیل کی ملٹری انٹلیجنس کے سربراہ اہرون ہالیوا حماس کے حملے کا پتہ لگانے میں ناکام رہنے کے سبب عہدہ چھوڑنے والے پہلے سینئر اسرائیلی افسر بن گئے ہیں

    گزشتہ برس 7 اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر زوردار حملے کرکے پورے علاقے میں تباہی پھیلا دی تھی، اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق اس حملے میں تقریباً 1200 اسرائیلی اور غیر ملکی مارے گئے تھے،حماس نے 250 لوگوں کو یرغمال بنا لیا تھا اور ساتھ لے گئے تھے،

    بنوں واقعہ،تحقیقات کر کے ذمہ داران کو سز ا دی جائیگی،بیرسٹر سیف

    بنوں حملہ،ایک اور دہشت گرد کی شناخت،افغان شہری نکلا

    دہشت گرد عثمان اللہ عرف کامران کا تعلق افغانستان کے صوبہ لوگر سے تھا۔

     بنوں میں دہشت گردی کی گھناؤنی کارروائی حافظ گل بہادر گروپ نے کی ہے،

    بونیر،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،دہشتگردوں کا سرغنہ جہنم واصل،دو جوان شہید

    ڈی آئی خان، سیکورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈی آئی خان ،دھماکے میں دو جوان شہید،پنجگور،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان، دہشتگردوں کیخلاف آپریشن،کمانڈر سمیت 8 جہنم واصل

    شمالی وزیرستان ، چوکی پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 جوان شہید

    بنوں،امن مارچ کو انتشاری ٹولے نے پرتشدد بنایا،عوام شرپسندوں سے رہیں ہوشیار

  • تل ابیب میں ہونے والا حملہ ہم نے کیا،القسام بریگیڈ

    تل ابیب میں ہونے والا حملہ ہم نے کیا،القسام بریگیڈ

    حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈ نے گزشتہ روز اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے

    القسام بریگیڈ کا کہنا ہے کہ تل ابیب میں آپریشن اسلامی جہاد کے مسلح ونگ القدس بریگیڈ کے ساتھ مل کر کیا ہے، حملے میں ایک شخص ہلاک ایک زخمی ہوا تھا، اسرائیلی حکام نے تل ابیب پر حملے کو دہشت گردانہ حملہ کہا ہے،اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ تل ابیب میں ہونے والے دھماکے میں مارا جانے والا شخص بم بار ہے جس نے بیگ میں بم رکھا ہوا تھا ، تل ابیب میں بم دھماکے کے واقعے کے پیچھے تمام امکانات کی چھان بین کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن اسرائیل غزہ جنگ بندی کے لئے متحرک ہو چکے ہیں، انہوں نے حالیہ غزہ جنگ بندی مذاکرات کو فیصلہ کن لمحہ قرار دیا ہے،اسرائیل کے دورے پر آئے امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے امریکا کی حالیہ سفارتی کوششیں ممکنہ طور پر آخری موقع ہیں جن کے ذریعے مغویوں کو رہا کرایا جا سکتا ہے،امریکا یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ علاقائی کشیدگی میں اضافہ نہ ہو،بلنکن آج اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو سمیت سینئر اسرائیلی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے،امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن تل ابیب سے مصر کا دورہ بھی کریں گے.

  • غزہ،اسرائیلی حملے میں سکول میں ٹھہرے بچوں ،خواتین سمیت 100 شہید

    غزہ،اسرائیلی حملے میں سکول میں ٹھہرے بچوں ،خواتین سمیت 100 شہید

    غزہ شہر کے علاقے الدرج میں التبین اسکول پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں 100 سے زائد فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، صہیونی فورسز نے حملہ صبح فجر کے وقت کیا، جب لوگ نماز پڑھ رہے تھے، بمباری کے باعث اسکول کے مختلف حصوں میں آگ لگ گئی، اسکول میں بے گھر افراد نے پناہ لے رکھی تھی

    اسرائیل اور حماس کے مابین گزشتہ برس سات اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ رکنے کا نام نہیں لے رہی،اسرائیل مسلسل غزہ پر حملے کر رہا ہے، اسرائیل نے اب ایک تازہ حملہ کیا ہے جس میں 100 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں،درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں، اسرائیل نے حملہ سکول میں کیا جس میں بے گھر افراد ٹھہرے ہوئے تھے،تین اسرائیلی جہازوں نے فجر کے وقت حملہ کیا جس کے بعد سکول میں آگ لگ گئی، موجود لوگوں میں افرا تفری مچ گئی، حملے میں بچوں، خواتین سمیت 100 افراد جان کی بازی ہار گئے،

    غزہ پر فضائی حملے کے بعد اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کے جنگجوؤں کو مارنے کے لیے ایئر اسٹرائک کی گئی ہے، عام شہریوں کو نقصانے پہنچانے کا ارادہ نہیں تھا بلکہ شہریوں کو کم سے کم نقصان ہو سکے اس کے لیے قدم اٹھائے گئے تھے.

    سعودی عرب نے غزہ میں سکول پر حملے کی مذمت کی ہے، سعودی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم غزہ شہر کے مشرق میں واقع الدراج ضلع میں اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے التابین اسکول، جہاں بے گھر افراد نے پناہ لی تھی، کو نشانہ بنانے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔اردن نے بھی غزہ میں ایک اسکول پر اسرائیل کی بمباری کی شدید مذمت کی، جس میں 100 سے زائد شہری جاں بحق ہوگئےتھے۔

  • یحییٰ السنوار حماس کے نئے سربراہ مقرر

    یحییٰ السنوار حماس کے نئے سربراہ مقرر

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد حماس نے نئے سربراہ کا اعلان کر دیا ہے

    حماس کی جانب سے نئے سربراہ کے حوالہ سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یحییٰ السنوار حماس کے سیاسی دفتر کے نئے سربراہ ہوں‌گے،ہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد اب یحییٰ السنوار حماس کے سیاسی دفتر کی سربراہی کریں گے،یحییٰ السنوار اس سے قبل غزہ میں حماس کی سربراہی کررہے تھے۔

    یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے، ایران اور اس کے حامیوں نے ہنیہ کے قتل کا بدلہ لینے کی دھمکی دی ہے، جس کا الزام وہ اسرائیل پر لگاتے ہیں۔ اسرائیل نے کوئی جواب نہیں دیا۔یحییٰ سنوار اس وقت اسرائیل کو مطلوب ترین فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔ اسرائیل کی سکیورٹی فورسز کا خیال ہے کہ اس نے 7 اکتوبر کے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔یحییٰ سنوار کو اکتوبر کے حملوں کے بعد سے عوام میں نہیں دیکھا گیا اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ غزہ میں "10 منزلہ زیر زمین” چھپا ہوا ہے،

    واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ 31 جولائی کو تہران میں ہونے والے اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے تھے،اسماعیل ہنیہ نومنتخب ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری کے لیے تہران میں موجود تھے جب ان پر رات کو حملہ کیا گیا، اس حملے میں اسماعیل ہنیہ اور انکا محافظ شہید ہو گیا تھا، اسماعیل ہنیہ کی تہران میں نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد دوحہ میں نماز جنازہ ادا کی گئی اور دوحہ میں ہی تدفین کی گئی

    نئے حماس سربراہ یحییٰ السنوار کون ہیں؟
    یحییٰ السنوار 19 اکتوبر 1962 کو خان یونس کے ایک کیمپ میں پیدا ہوے، انہوں نے ابتدائی تعلیم خان یونس کے ہی اسکول میں حاصل کی، اس کے بعد غزہ کی اسلامک یونیورسٹی سے عربی میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی، یحییٰ السنوارنے 5 برس تک یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ کونسل میں خدمات انجام دیں اور پھر کونسل کے چیئرمین اور وائس چیئرمین بھی رہے،یحیٰ النسوار طویل عرصہ تک تقریبا 22 برس گرفتار بھی رہے،اسرائیل نے سنوار کو 1988 میں اس نیٹ ورک کے پاس ہتھیار رکھنے کا انکشاف کرنے کے بعد کئی ہفتوں کے لیے جیل بھیج دیا تھا،اگلے سال، اسے اسرائیل کے ساتھ کام کرنے کے الزام میں فلسطینیوں کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا اور اسے چار عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ 2011 میں شالت ،اسرائیلی فوجی کے رہائی، ڈیل کے بدلے اسرائیل کی جیل سے انہی رہائی ملی تو اسکے بعد غزہ کی ایک مسجد میں انکا نکاح ہوا، اسکے بعد یحییٰ السنوار کا شما رحماس کے سرکردہ رہنماؤں میں ہونے لگا،یحیٰ السنوار کو حماس کے سیاسی ونگ اور عزالدین القسام بریگیڈ کی لیڈرشپ کے درمیان روابط قائم رکھنے کا ٹاسک دیا گیا اور پھر 2014 میں اسرائیلی جارحیت کے اختتام پر انہوں نے حماس کے فیلڈ کمانڈرز کی کاکردگی کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے تحقیقات کروائیں جس کے نتیجے میں حماس کے کئی بڑے رہنماؤں کو عہدوں سے بھی ہٹایا گیا،ستمبر 2015 میں امریکا نے القسام بریگیڈ کے کمانڈر انچیف محمد الضیف اور سیاسی ونگ کے رہنما راہی مشتہا سمیت یحیٰ السنوارکا نام بھی بین الاقوامی دہشتگردوں کی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا تھا.

    13 فروری 2017 کو یحیٰ النسوار اسماعیل ہنیہ کی جگہ غزہ پٹی میں حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ منتخب ہوئے تھے اور انہوں نے خلیل الحیا کو اپنا نائب مقرر کیا تھا،بعد ازاں یحیٰ النسوار کو پارٹی انتخابات کے ذریعے غزہ پٹی میں حماس کا سربراہ مقرر کر دیا گیا اور اسماعیل ہنیہ کو خالد مشعال کا جانشین بنا دیا گیا تھا،

    مئی 2018 میں یحیٰ النسوار نے الجزیرہ پر آکر غیر متوقع اعلان کر دیا کہ حماس پرامن عوامی مزاحمت کی پالیسی اپنائے گی جس کا مقصد ممکنہ طور پر حماس پر بہت سے مملک کی جانب سے لگا دہشتگرد تنظیم کا ٹیگ اتارنا اور اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کیلئے کردار ادا کرنا تھا، اس اعلان سے ایک ہفتہ قبل یحیٰ النسوار نے غزہ کے شہریوں سے کہا تھا کہ اسرائیلی زنجیریں توڑ دیں، ہم دب کر مرنے سے شہید ہونے کو ترجیح دیں گے، ہم مرنے کے لیے تیار ہیں اور ہزاروں لوگ ہمارے ساتھ مریں گے،مارچ 2021 میں یحیٰ النسوار دوسری مدت کے لیے غزہ میں حماس کے سربراہ منتخب ہوئے اور انہیں غزہ کا ڈی فیکٹو حکمران تصور کیا جانے لگا اور انہیں حماس میں اسماعیل ہنیہ کے بعد دوسرا طاقتور ترین شخص تصور کیا جاتا تھا،

    مئی 2021 میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے خان یونس میں یحیٰ السنوارکے گھر پر بمباری کی گئی تاہم اس حملے میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی اور پھر حملے کے اگلے ہفتے یحیٰ النسوارکئی بار عوام میں دیکھے گئے اور پھر 27 مئی 2021 کو انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینتز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے قدموں پر چل کر اپنے گھر جاؤں گا، تمھارے پاس مجھے قتل کرنے کے لیے 60 منٹ ہیں اور پھر وہ اگلے گھنٹے غزہ کی گلیوں میں گھومتے رہے اور سلیفیاں لیتے رہے،

    غزہ میں حماس کے رہنما یحییٰ سنوار کو 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر حملے اور قتل عام کے پیچھے ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا ہے، جس میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنا لیا گیا تھا،حماس کے اس حملے کے بعد غزہ میں جاری جنگ شروع ہوئی،فلسطین میں ہزاروں شہادتوں کے باوجود حماس اسرائیل کی تباہی کے لیے پرعزم ہے۔حملے کی منصوبہ بندی کے بعد سے یحییٰ سنوار غزہ میں روپوش ہے۔ اسرائیل ڈیفنس فورسز نے فروری میں فوٹیج جاری کی تھی جس میں مبینہ طور پر سنوار کو 10 اکتوبر کو غزہ کی ایک سرنگ میں اس کے اہل خانہ کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔ یکم اگست کو، آئی ڈی ایف نے حماس کے عسکری ونگ کے کمانڈر محمد الضیف کی گزشتہ ماہ جنوبی غزہ میں ایک فضائی حملے میں شہادت کی تصدیق کی تھی تا ہم حماس نے اس کی تردید کی ہے،غزہ میں جاری حالیہ جنگ کے ابتدائی تین ہفتوں کے بعد یحیٰ السنوارنے اسرائیل کو پیشکش کی تھی کہ یرغمال بنائے گئے تمام اسرائیلیوں کے بدلے قید بنائے گئے تمام فلسطینیوں کو رہا کر دیا جائےلیکن اسرائیلی وزیراعظم نے حماس کی پیشکش قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے زمینی کارروائی کا فیصلہ کیا جس کا نقصان انہیں مزید اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت اور فوجی گاڑیوں کی تباہی کی صورت میں برداشت کرنا پڑا

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ، جو ایران میں ایک حملے میں شہید ہوئے، کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دفن کیا گیا۔ ان کی نمازِ جنازہ میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد، حماس کے سابق رہنما خالد مشعل، اسماعیل ہنیہ کے بیٹے، اور فلسطینی تنظیموں کے اعلیٰ رہنماؤں نے شرکت کی۔ پاکستان سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی، اسماعیل ہنیہ کو دوحہ کے لوسیل قبرستان میں علامہ یوسف القرضاوی کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی وفات نے عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، اور ان کے جنازے میں شرکت کرنے والے لوگوں کی تعداد نے ان کے عالمی مقام اور فلسطین کی جدوجہد میں ان کے کردار کو اجاگر کیا۔

    حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،عمران خان کی پراسرار خاموشی،56 گھنٹے بعد دیا ردعمل

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

  • مشرق وسطیٰ کشیدگی،کئی ممالک کااپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کی ہدایت

    مشرق وسطیٰ کشیدگی،کئی ممالک کااپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کی ہدایت

    مشرق وسطیٰ ميں کشيدگی کم کرنے کی علاقائی و عالمی کوششیں جاری ہیں،اردن کے وزير خارجہ ايران کا دورہ کر رہے ہيں تاکہ ايران کو اسرائيل کے خلاف کسی ممکنہ کارروائی سے روکا جا سکے۔ دوسری جانب امريکہ اور کئی عرب ممالک بھی اس وقت کشیدگی میں کمی کے لیے متحرک ہیں۔

    امریکا کا کہنا ہے کہمشرق وسطیٰ میں فوجی اقدامات کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا ہے،وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی نیشنل سکیورٹی کے ایڈوائزر جوناتھن فنر نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں فوجی اقدامات کا مقصد حملوں کو روکنا، دفاع کرنا اور علاقائی تنازعات سے بچنا ہے، امریکا اور اسرائیل ہر ممکن تیاری کر رہے ہیں، اپریل میں علاقائی تصادم کا امکان بہت قریب پہنچ گیا تھا، امریکا چاہتا ہے دوبارہ ایسی صورت پیدا ہوتی ہے تو اس کیلئے تیاری کی جائے۔

    مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کی وجہ سے امریکہ، برطانیہ،جاپان، اٹلی اور ترکیہ سمیت کئی ممالک نے لبنان کے لیے سفری ایڈوائزری جاری کی ہے اور اپنے شہریوں کو لبنان کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے،اطالوی وزیر خارجہ نے اپنے شہریوں کو لبنان کے جنوبی حصے کا سفر نہ کرنے کی ہدایت بھی کی ہے،ترک وزارت خارجہ نے اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے اور لبنان کے کشیدگی والے علاقوں کا سفر کرنے سے گریز کی ہدایت کی ہے، جاپان نے بھی اپنے شہریوں کو فوری لبنان چھوڑنے کی ہدایت کر دی،جاپانی وزارت خارجہ نے ٹریول الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو لبنان چھوڑنے پر زور دیا ہے، امریکا،برطانیہ،سوڈان، اردن بھی اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کا کہہ چکے ہیں،لبنان میں امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ امریکی شہری فوری طور پر کسی بھی میسر ایئرلائن سے واپسی کر لیں،دوسری جانب کینیڈا نے اپنے شہریوں کو اسرائیل کا سفر کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، فرانس نے بھی اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کی ہدایت کی اور کہا کہ مشرق وسطیٰ میں فوجی کشیدگی کے خطرے کے پیش نظر فرانسیسی شہری لبنان کا سفر نہ کریں۔

    عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق لبنان میں گاڑی پر فضائی حملے میں حزب اللّٰہ کے اہم کمانڈر علی عبد علی شہید ہوگئے، جواب میں حزب اللّٰہ نے اسرائیلی اہداف کو راکٹوں اور توپوں سے نشانہ بنایا۔

    دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور حزب اللہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف حملہ آج ہو سکتا ہے،اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے حملے کے پیشں نظر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ایران پر قبل از وقت حملے کی منظوری دے سکتے ہیں،اسرائیل نے بھی ایران پر جوابی حملے کے لیے تیاری مکمل کرلی ہے،یہ تیاری اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے بلائی گئی میٹنگ کے بعد کی گئی ہے، جس میں اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان کے علاوہ وزیر دفاع یوو گیلنٹ اور آئی ڈی ایف کے چیف آف اسٹاف ہرزی حلوی نے بھی شرکت کی تھی۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی میڈیا کے علاوہ امریکی ویب سائٹ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ تہران اور بیروت میں اسرائیلی حملوں کا جواب ایران آج دے سکتا ہے،امریکی اور اسرائیلی عہدیداروں کے حوالے سے امریکی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ ایران اور اس کی پراکسیز پیر تک اسرائیل پر حملہ کرسکتے ہیں، جو 13 اپریل جیسا لیکن پہلے سے زیادہ وسیع پیمانے پر ہوگا، اس حملے میں ایران لبنان سے حزب اللہ کو بھی اپنے ساتھ شامل کرسکتا ہے

    مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان کئی ایئر لائن نے تل ابیب جانے والی اپنی تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ منسوخی سے سینکڑوں اسرائیلی پھنسے ہوئے ہیں اور اس نے خطے میں پروازوں کی حفاظت اور حفاظت کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے۔ امریکہ مشرق وسطیٰ میں اضافی لڑاکا طیارے بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ ایران اور اس کے پراکسیوں کے متوقع حملوں کا مقابلہ کرنے میں اسرائیل کی مدد کی جا سکے۔ صدر بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ایک تناؤ بھرا فون کیا، جس میں ان پر زور دیا کہ وہ مزید کشیدگی سے گریز کریں اور غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کے معاہدے پر عمل کریں۔

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ، جو ایران میں ایک حملے میں شہید ہوئے، کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دفن کیا گیا۔ ان کی نمازِ جنازہ میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد، حماس کے سابق رہنما خالد مشعل، اسماعیل ہنیہ کے بیٹے، اور فلسطینی تنظیموں کے اعلیٰ رہنماؤں نے شرکت کی۔ پاکستان سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی، اسماعیل ہنیہ کو دوحہ کے لوسیل قبرستان میں علامہ یوسف القرضاوی کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی وفات نے عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، اور ان کے جنازے میں شرکت کرنے والے لوگوں کی تعداد نے ان کے عالمی مقام اور فلسطین کی جدوجہد میں ان کے کردار کو اجاگر کیا۔

    حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،عمران خان کی پراسرار خاموشی،56 گھنٹے بعد دیا ردعمل

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

  • اسماعیل ہنیہ کی شہادت،عمارت میں مقیم حماس رہنما نے آنکھوں دیکھا حال بتادیا

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،عمارت میں مقیم حماس رہنما نے آنکھوں دیکھا حال بتادیا

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی ایران میں قاتلانہ حملے میں شہادت کے بعد اب نئی چونکا دینے والی تفصیلات سامنے آئی ہیں

    ایران اور پاکستان میں حماس کے نمائندے ڈاکٹر خالد القدومی نے اسماعیل ہنیہ پر حملے کی رات سے متعلق تفصیلات بتائی ہیں، خالد القدومی کے مطابق وہ حملے کی شب اسی عمارت میں تھے جہاں اسماعیل ہنیہ پر حملہ کیا گیا،ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر خالد القدومی کا کہنا تھا کہ "ہم سو رہے تھے، رات ایک بج کر 37 منٹ پر ہماری عمارت اچانک لرز اٹھی، ہم سمجھے کوئی زلزلہ آیا یا بجلی گری اور اسکی چمک ہے، میں نے اپنے کمرے کی کھڑکی کھولی باہر دیکھا تو موسم صاف تھا، بارش کے کوئی آثار نہ تھے،اور گرم ہوا چل رہی تھی، اسی دوران میں اپنے کمرے سے باہر نکلا تو دھواں دیکھا ،اسماعیل ہنیہ کا کمرہ چوتھی منزل پر تھا، اس کمرے کی طرف گئے تو دیکھا ہنیہ کے کمرے کی دیوار اور چھت گر گئی تھی

    ڈاکٹر خالد القدومی کا کہنا تھا کہ جب ہم کمرے میں داخل ہوئے تو اسماعیل ہنیہ شہید ہو چکے تھے،کمرے اور شہید اسماعیل ہنیہ کے لاش کی حالت بتارہی تھی کہ یہ فضا سے گرائی جانے والی کسی چیز یا میزائل حملے کا نتیجہ ہے ،ڈاکٹر خالد القدومی نے امریکی اور اسرائیلی میڈیا کی ان خبروں جن میں کہا گیا ہے اسماعیل ہنیہ کے بیڈ کے نیچے بم رکھا گیا تھا کو گمراہ کن قرار دیا اور کہا کہ زمینی حقائ‍ق نیویارک ٹائمز اور اسرائیلی فوج کے ترجمان کی کہانیوں کے برعکس ہیں،

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،ایرانی پاسداران انقلاب نے تفیصلات جاری کر دیں
    دوسری جانب،سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے تعلقات عامہ نے اپنے نوٹیفیکیشن نمبر 3 میں کہا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کو شارٹ رینج والے وارہیڈ پراجیکٹائل سے شہید کیا گیا ہے،یہ دہشت گردانہ کارروائی تقریباً 7 کلو گرام کے وار ہیڈ کے ساتھ ایک مختصر فاصلے تک مار کرنے والے پراجیکٹائل کو مہمانوں کی رہائش کے علاقے کے باہر سے فائر کرکے انجام دی گئی، جس کے ساتھ ایک زوردار دھماکہ بھی ہوا،ارنا کی ڈیفنس فیلڈ کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے تعلقات عامہ نے اسماعیل ھنیہ کی شہادت میں صیہونی حکومت کے اس دہشت گردانہ جرم میں ملوث قرار دیا،سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ صیہونی مجرمانہ حکومت کے اس دہشت گردانہ اقدام جس کے نتیجے میں اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے بہادر سربراہ اور مجاہد شہید ڈاکٹر اسماعیل ھنیہ اور ان کے ساتھی کی شہادت ہوئی ہے، ایرانی عوام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ، اس حملے کی منصوبہ بندی اور نفاذ صیہونی حکومت نے کیا اور اس کی حمایت امریکہ کی مجرمانہ حکومت نے کی۔ تحقیقات کے مطابق یہ دہشت گردانہ کارروائی مہمانوں کی رہائش کے باہر سے تقریباً 7 کلو گرام وزنی وار ہیڈ سے ایک زوردار دھماکے کے ساتھ شارٹ رینج پراجیکٹائل فائر کرکے کی گئی۔آخر میں، اس پر زور دیا جاتا ہے؛ شہید اسماعیل ھنیہ کے خون کا بدلہ یقینی ہے اور دہشت گرد صیہونی حکومت کو اس جرم کا جواب "سخت سزا” کی صورت میں بھرپور، مناسب وقت اور جگہ پر ملے گا۔

    میرے شہید والد کے جسم کے ٹکڑے بکھر گئے،دایاں پاؤں کٹ گیا،میزائل اوپر والے حصے پر لگا،اسماعیل ہنیہ کے بیٹے کا بیان
    شہید اسماعیل ھنیہ کے بیٹے معاذ ھنیہ نے والد اسماعیل ہنیہ پر حملے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد پر قریب مسافت سے میزائل حملہ ہوا ،تقریبا 7.5 کلو گرام بارودی مواد کا حامل میزائل تھا ،میزائل نے میرے شہید والد کے اوپر والے حصے کو ہٹ کیا ،جس کی وجہ سے میرے شہید والد کے جسم کے ٹکڑے ہوگئے اور وہ بکھر گئے ،اسی طرح سے ان کا دایاں پاؤں بھی کٹ گیا اور ٹکڑے اڑ گئے ،میزائل کا دھماکہ اتنا شدید تھا کہ کہ میرے والد کے محافظ وسیم جو دروازے پر کھڑے تھے اور قران کریم تھام کر تلاوت کررہے تھے وہ فضا میں اڑ کر کہیں دور جا گرے جہاں ان کے سینے پر قرآن کریم رکھا ہوا ملا

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ، جو ایران میں ایک حملے میں شہید ہوئے، کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دفن کیا گیا۔ ان کی نمازِ جنازہ میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد، حماس کے سابق رہنما خالد مشعل، اسماعیل ہنیہ کے بیٹے، اور فلسطینی تنظیموں کے اعلیٰ رہنماؤں نے شرکت کی۔ پاکستان سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی، اسماعیل ہنیہ کو دوحہ کے لوسیل قبرستان میں علامہ یوسف القرضاوی کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی وفات نے عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، اور ان کے جنازے میں شرکت کرنے والے لوگوں کی تعداد نے ان کے عالمی مقام اور فلسطین کی جدوجہد میں ان کے کردار کو اجاگر کیا۔

    حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،عمران خان کی پراسرار خاموشی،56 گھنٹے بعد دیا ردعمل

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

  • مولانا فضل الرحمان کی قطر میں حماس رہنما خالد مشعل سے ملاقات

    مولانا فضل الرحمان کی قطر میں حماس رہنما خالد مشعل سے ملاقات

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد قطر پہنچ گئے

    سربراہ جمعیت علماء اسلام پاکستان مولانا فضل الرحمان گذشتہ شب جدہ سے سیدھا قطر پہنچے ،مولانا فضل الرحمان نے گذشتہ رات پہنچتے ہی قطر میں فلسطین اور حماس کے رہنماؤں سے ملاقات کی ،جےیوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آج صبح وفد کے ہمراہ حماس رہنما جناب خالد مشعل سے ملاقات کر کے جمعیت علماء اسلام اور پاکستان کی عوام کی جانب سے اسماعیل ھنیئہ کی شھادت پر تعزیت کی ،مولانا فضل الرحمن نے شھداء غزہ کے لئے فاتحہ خوانی اور دعا کی

    مولانا فضل الرحمان کے حکم گذشتہ روز ملک بھر میں اسماعیل ھنیئہ کی شھادت پر اسرائیل کے خلاف بھرپور مظاہرے کئے گئے ،مولانا فضل الرحمان کے حکم پر جے یو آئی کے ممبران نے قومی اسمبلی ،سینیٹ ،کے پی اور بلوچستان اسمبلی میں قراردادیں بھی پیش کی ہیں.مولانا فضل الرحمان کی ہدایت پر شہید اسماعیل ہنیہ کے لئے ملک بھر کے مساجد اور مدارس میں قرآن خوانیاں بھی کی گئیں

    مولانا فضل الرحمان نے حماس رہنماؤں سے ملاقات کی اور اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر مولانا فضل الرحمان کے اکاؤنٹ پر تصاوئر شیئر کی گئی ہیں اور ساتھ پیغام میں کہا گیا ہے کہ قطر میں اپنے بھائی شہیدِ قدس اسماعیل ہنیہ اور غزہ کے مظلوم شہداء کی تعزیت کے سلسلے میں حماس رہنماء جناب خالد مشعل سے ملاقات کی،اسرائیلی بربریت و جبر سے نبرد آزما اہل فلسطین کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعادہ کیا ہے، اس کے لئے کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کریں گے، اللہ تعالیٰ مرحوم شہید اسماعیل ہنیہ و دیگر فلسطین کے مظلوم شہداء کی قربانیوں کو قبول فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے آمین,ہمیں یقین ہے کہ یہ شھادتیں اسرائیل کے لئے تباہی کا سامان ہوں گی انشاء اللہ

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ، جو ایران میں ایک حملے میں شہید ہوئے، کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دفن کیا گیا۔ ان کی نمازِ جنازہ میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد، حماس کے سابق رہنما خالد مشعل، اسماعیل ہنیہ کے بیٹے، اور فلسطینی تنظیموں کے اعلیٰ رہنماؤں نے شرکت کی۔ پاکستان سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی، اسماعیل ہنیہ کو دوحہ کے لوسیل قبرستان میں علامہ یوسف القرضاوی کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی وفات نے عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، اور ان کے جنازے میں شرکت کرنے والے لوگوں کی تعداد نے ان کے عالمی مقام اور فلسطین کی جدوجہد میں ان کے کردار کو اجاگر کیا۔

    حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،عمران خان کی پراسرار خاموشی،56 گھنٹے بعد دیا ردعمل

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ