Baaghi TV

Tag: حماس

  • غزہ میں حماس کی حکومت کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی،نیتن یاہو

    غزہ میں حماس کی حکومت کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی،نیتن یاہو

    تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ میں حماس کی حکومت کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی، حماس کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے۔

    باغی ٹی وی : اسرائیلی ٹی وی چینل 14 کو انٹرویو میں وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ جنگ سے متعلق اپنی منصوبہ بندی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ غزہ جنگ جلد ختم کرنے کی خواہش ہے جس کے دو فائدے ہوں گےغزہ میں جنگ کے خاتمے سے ہم لبنان کے ساتھ شمالی سرحد پر اپنی مزید فوج بھیج سکیں گے تاکہ بے گھر اسرائیلی اپنے گھروں کو محفوظ طریقے سے واپس آسکیں۔

    وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ علاوہ ازیں غزہ جنگ کے خاتمے سے اسرائیلی فوجیں لبنان میں حزب اللہ کے خلاف یکسو ہوکر بڑے پیمانے کارروائیاں کرسکیں گے جو وقت کی ضرورت بھی ہے غزہ میں حماس کی حکومت کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی، حماس کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے وہ غزہ میں حماس کی حکومت ختم کرکے علاقے کا انتظام فلسطین اتھارٹی کے حوالے کرنے کے حامی نہیں، غزہ میں حماس اور اس کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیلی فوجیں لمبے عرصے تک غزہ میں ہی رہیں گی اور سیکیورٹی معاملات کی نگرانی کریں گی۔

    ’پائریٹس آف دی کیریبین‘ کے اداکار شارک حملے میں جاں بحق

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ پر جاری اسرائیلی بمباری میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 37 ہزار سے تجاوز کرگئی جب کہ 88 ہزار کے قریب زخمی ہیں، شہید اور زخمی ہونے والوں میں نصف تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ غزہ سے اب تک 21 ہزار فلسطینی بچوں کے لاپتہ ہو نے کا انکشاف ہوا ہے۔

    الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بچوں کے حقوق اور فلاح وبہبود کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ کے نتیجے میں جو ہزاروں بچے لاپتہ ہیں وہ یا تو تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہیں یا انہیں کسی اجتماعی قبر میں دفنا دیا گیا ہے یا پھر انہیں اسرائیلی فوجی گرفتار کرکے لے گئے ہیں۔

    انڈونیشیا میں نیشنل ڈیٹا سینٹر پر سائبر حملہ، متعدد حکومتی سروسز متاثر

    سیو دی چلڈرن کے نمائندے کا کہنا ہے کہ یہ ہزاروں بچے دوران جنگ اپنے والدین سے بچھڑے اور ان میں بچوں کی ایک نامعلوم تعداد ہے جنہیں جبری لاپتہ کرکے غزہ سے باہر لے جایا گیا جہاں ان کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا جا رہا ہےغزہ میں جنگ کی صورتحال میں معلومات جمع کرنا اور ان کی تصدیق کرنا مشکل ہے مگر کم از کم 17 ہزار بچے اپنے خاندانوں سے بچھڑ گئے ہیں جب کہ 4000 بچے گھروں اور عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہیں، بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی بھی ہے جنہیں اجتماعی قبروں میں دفنا دیا گیا ہے۔

    پنجاب میں ینگ ڈاکٹر کی ہڑتال،سینئر‌ڈاکٹرز کی چھٹیاں منسوخ

  • حماس حملے کی اسرائیلی فوج کو ستمبر میں رپورٹ مل گئی تھی،اسرائیلی میڈیا

    حماس حملے کی اسرائیلی فوج کو ستمبر میں رپورٹ مل گئی تھی،اسرائیلی میڈیا

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کی رپورٹ اسرائیلی فوج کو مل چکی تھی، اسرائیلی ٹی وی چینل نے ایک رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے

    گزشتہ برس سات اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کیاجس کے بعد اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری ہیں، اب ایک اسرائیلی ٹی وی نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کو حماس کے حملے کی رپورٹ مل چکی تھی،اسرائیلی فوج کو حماس کے حملے کے حوالہ سے جو رپورٹ ملی تھی اس میں بڑے پیمانے پر حملے کا ذکر تھا وہیں شہریوں کو یرغمال بنانے کا ذکر بھی تھا،اسرائیلی ٹی وی کے مطابق اسرائیلی فوج کی 8200 انٹیلی جنس یونٹ کو 19 ستمبر کو یعنی حماس کے حملے سے تقریبا 20 روز قبل حماس کے حملے کی رپورٹ ملی تھی، اس رپورٹ کو اسرائیل کے سینئر افسران کو بھی دکھایا گیا تھا تا ہم اسرائیلی حکام نے اس رپورٹ کو مکمل نظر انداز کر دیا تھا،

    اسرائیل کے کان پبلک براڈ کاسٹر کے مطابق اسرائیلی فوج کو جو 19 ستمبر کو خفیہ رپورٹ ملی تھی اس میں بتایا گیا تھا کہ حماس کی جانب سے دو سو سے 250 کے قریب شہریوں کو یرغمال بنایا جائے گا،حماس نے اسرائیل پر جب حملہ کیا تو 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا،

    حماس کے حملے کے حوالہ سے اسرائیلی میڈیا ایجنسی کان پبلک براڈ کاسٹر تنہا نہیں بلکہ کچھ اور میڈیا اداروں نے بھی اسی طرز کی رپورٹ کو نشر کیا اور کہا کہ اسرائیلی دفاعی محکمہ کے پاس حماس کے حملہ کے حوالہ سے رپورٹ موجود تھیں، اسرائیلی محکمہ دفاع کو یہاں تک معلوم تھا کہ حماس کس طرح اسرائیل کے شہروں اور ملٹری ٹھکانوں کو نشانہ بنائے گا اور شہریوں کو یرغمال کرے گا،حماس کے حملے بارے مکمل تفصیلات ہونے کے باوجود اسرائیل نے اس رپورٹ کو نظر انداز کیا،

    اسرائیلی فوج نے میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے، اسرائیلی فوج نے حملے سے متعلق پہلے سے اطلاع ہونے کے دعوے کو مسترد بھی کیا ہے تاہم اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ کوتاہیوں کا پتہ لگانے سے متعلق مسلسل تحقیقات میں مصروف ہیں جو بھی رپورٹ آئے گی سب کے سامنے رکھی جائے گی

    غزہ کی موجودہ صورتحال یہ ہے کہ اسرائیلی حملے مسلسل جاری ہیں تو دوسری جانب اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہوکی مخالفت بڑھتی جارہی ہے۔ یرغمال کئے گئے افراد کی فیملی والے ان کی رہائی کے لئے احتجاج کر رہے ہیں اور وہ اس جنگ سے متعلق نیتن یاہو حکومت کی اب تک کی حکمت عملی کی کھلے عام تنقید کررہے ہیں۔ اسرائیل کے غزہ پرحملے میں 37 ہزار سے بھی زیادہ لوگوں کی جان جاچکی ہے 85 ہزار سے بھی زیادہ لوگ زخمی ہیں 10 ہزار لوگ لاپتہ ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر کے باہر احتجاج کرنے والے 8 اسرائیلی شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے،احتجاج کرنے والے نئے انتخابات، جنگ بندی معاہدے اور یرغمالیوں کی واپسی کا مطالبہ کر رہے تھے

    حماس یرغمالیوں کو رہاکرتا ہے توکل ہی جنگ بندی ہوجائےگی،امریکی صدر

    یرغمالیوں کے لواحقین نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں جاری اجلاس پر دھاوا بول دیا

    اسرائیل اپنے یرغمالیوں کے بوجھ سے جان چھڑانے کی شدت سےکوشش کر رہا ہے،ابو عبیدہ

    اسرائیل نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو مارنے کا اعتراف کر لیا

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • حماس نے امریکی روڈ میپ کی منظوری کے لیے شرائط رکھ دیں

    حماس نے امریکی روڈ میپ کی منظوری کے لیے شرائط رکھ دیں

    غزہ: حماس نے امریکی روڈ میپ کی منظوری کے لیے شرائط رکھ دیں-

    باغی ٹی وی : امریکی صدر جوبائیڈن نےغزہ میں مستقل جنگ بندی، فلسطینی قیدیوں کے بدلے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور تباہ حال انفرا اسٹریکچر کی تعمیر نو پر مشتمل روڈ میپ 31 مئی کو پیش کیا تھا جس پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے مثبت ردعمل دیا تھا تاہم حماس کی جانب سے باضابطہ طور پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا۔

    تاہم اب حماس اور اسلامی جہاد نے اپنا جواب قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی کو دیدیا جس کی تصدیق ثالثوں مصر، قطر اور امریکا نے بھی کردی، العربیہ نیوز کے مطابق حماس نے امریکی روڈ میپ کی منظوری کے لیے کچھ شرائط رکھی ہیں۔ پہلی شرط غزہ سے تمام اسرائیلی فوجیوں کی اپنی سرحدوں پر واپسی ہے،حماس کی دوسری شرط جنگ بندی کا عارضی نہیں بلکہ مستقل ہونا ہے اور تیسری شرط بے گھر فلسیطنیوں کی غزہ میں اپنے گھروں میں دوبارہ آبادکاری ہے۔

    پیپلز پارٹی کا بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ

    واضح رہے کہ اسرائیل صرف مخصوص علاقوں سے اپنی فوجیں واپس بلانے کے لیے رضامند ہے اور مستقل جنگ بندی کے بجائے جز وقتی جنگ بندی پر مُصر ہے،اسرائیل نے نوجوان کی واپسی کو مسترد کرتے ہوئے بے گھر فلسطینیوں میں سے صرف بزرگوں، خواتین اور بچوں کی واپسی اور آبادکاری پر ہامی بھری تھی، جبکہ حماس نے خواتین اور خواتین فوجیوں کے علاوہ 18 سال سے کم عمر کے 33 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنے کی پیشکش کی ہے-

    وفاقی کابینہ نے مالی سال 2024-25 کیلئے بجٹ کی منظوری دے دی

  • پاکستان میں حماس کے ترجمان ڈاکٹر خالد محمود قدومی کا لاہور پریس کلب کا دورہ

    پاکستان میں حماس کے ترجمان ڈاکٹر خالد محمود قدومی کا لاہور پریس کلب کا دورہ

    پاکستان میں حماس کے ترجمان ڈاکٹر خالد محمود قدومی نے لاہور پریس کلب کا دورہ کیا اور گورننگ باڈی کو غزہ کی موجودہ صورت حال سے آگاہ کیا۔

    ڈاکٹر خالد محمود قدومی کی پریس کلب آمد پر صدر ارشد انصاری ، سینئرنائب صدر شیرازحسنات ، نائب صدر امجد عثمانی، سیکرٹری زاہد عابد، جوائنٹ سیکرٹری جعفربن یار ، ممبر گورننگ باڈی فاطمہ مختار بھٹی اور سید بدرسعید نے ان کا استقبال کیا۔ ڈاکٹر خالد محمود قدومی نے غزہ کی موجودہ صورت حال کو طوفان سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ طوفان الاقصی کے بعد کیا صورت حال ہو گی اس بارے میں قبل از وقت کچھ نہیں کہا جاسکتا، غزہ میں شہید ہونے والوں میں حماس قیادت کے اہل خانہ بھی شامل ہیں، میں یہاں فلسطین کا مقدمہ لڑنے کے لیے موجود ہوں اس لڑائی میں حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ کا خاندان شہید ہو چکا ہے اور میرے خاندان کوبھی ایسے ہی حالات کا سامنا ہے۔انھوں نے مزید کہاکہ پہلی بار اسرائیل کے دفاعی نظام سمیت ہر قسم کا خوف دنیا پر سے ختم ہوا ہے اور یورپ بھی غزہ کے لیے سڑکوں پر نکل آیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم نے بہت فائدہ پہنچایا اسی طرح پاکستانیوں نے امدادی اشیاءبھی مہیا کی ہیں،اس وقت بھی پانی کے ٹینکرز ، خوراک اور خیمے پہنچانے کی اشد ضرورت ہے۔

    صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے صحافی کمیونٹی کی جانب سے بھرپور حمایت کا یقین دلاتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی میڈیا اپنے غزہ کے مظلوم بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ظلم و جبر کو دنیا کے سامنے لانے میں اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری ادا کر رہا ہے

  • حماس کی امریکی صدر  کی غزہ  میں مستقل  جنگ بندی کے لیے پیش کردہ  تجاویز کی حمایت

    حماس کی امریکی صدر کی غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لیے پیش کردہ تجاویز کی حمایت

    غزہ : فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے امریکی صدر جوبائیڈن کی جانب سے غزہ میں مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے انخلا کے لیے پیش کردہ تجاویز کی حمایت کر دی-

    حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ امریکی صدر کی جانب سے پیش کیا گیا مجوزہ جنگ بندی معاہدہ جس میں ‘اسرائیلی افواج کا انخلا، غزہ کی تعمیر نو اور قیدیوں کا تبادلہ’ شامل ہیں کو ہم مثبت سمجھتے ہیں کسی بھی ایسی تجویز پر مثبت اور تعمیری انداز میں عمل درآمد کے لیے تیار ہیں جس سے غزہ کی تعمیر نو ہوسکے اور بے گھر افراد کی اپنے گھروں میں واپسی ممکن ہوسکے۔

    غزہ میں مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی فوج کے انخلا کے لیے نیا جنگ بندی …

    واضح رہےکہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل حماس جنگ بندی کا نیا منصوبہ پیش کیا ہے امریکی صدر نےگزشتہ روز وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئےکہا تھا کہ یہ معاہدہ دراصل اسرائیل کی جانب سے پیش کیا گیا ہے اور اسے ثالثوں کے ذریعے حماس تک پہنچا دیا گیا ہے،پہلا مرحلہ 6 ہفتے تک ابتدائی جنگ بندی کا ہے، اس دوران اسرائیلی فوجیں غزہ سے نکل جائیں گی، یرغمالیوں اور سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ ہوگا، فلسطینی شہری غزہ واپس جائیں گے اور غزہ میں روزانہ 600 ٹرک امداد لے کر آئیں گے دو سر ے مرحلے میں حماس اور اسرائیل جنگ کے مستقل خاتمے کی شرائط پر بات چیت کریں گے اور تیسرے مرحلے میں غزہ کی تعمیرِ نو ہوگی۔

    سعودی تیل کمپنی آرامکو نے گیس اینڈ آئل پاکستان کے 40 فیصد حصص خرید …

  • اسرائیل کا بے گھر افراد کے کیمپ پر حملہ،خواتین ،بچوں سمیت 75 شہید

    اسرائیل کا بے گھر افراد کے کیمپ پر حملہ،خواتین ،بچوں سمیت 75 شہید

    اسرائیل باز نہ آیا، اسرائیل نے غزہ میں بمباری کی، اسرائیلی حملہ رفح میں بے گھر افراد کے کیمپ پر کیا گیا، حملے میں 75 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، شہدا میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں

    اسرائیل نے آج پیر کی صبح رفح پر حملہ کیا، اسرائیل کی جانب سے بمباری کے بعد رفح میں بے گھر افراد کے کیمپ میں آ گ لگ گئی، حملے میں 75 شہادتیں ہوئی ہیں، زیادہ شہادتیں جھلس جانے کی وجہ سے ہوئی ہیں، متعدد افراد زخمی ہیں، شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، رفح میں پناہ گزین کیمپ میں شمالی غزہ سے بے دخل فلسطینیوں کی بڑی تعداد میں مقیم ہے

    میڈیا پورٹس کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں اقوام متحدہ کے کیمپوں پر دسویں بار حملہ کیا ہے نو حملے پہلے ہو چکے ہیں،اسرائیل نے 24 گھنٹوں میں 230 سے زائد فلسطینیوں کا قتل عام کیا اس سے قبل اسرائیل نے جبالیہ، نصیرت اور غزہ سٹی میں کیمپوں پر حملوں میں 160 فلسطینیوں کا قتل کیا

    اسرائیل نے رفح پر حملے کے بعد دعویٰ کیا کہ اسرائیلی طیاروں نے رات رفح میں حماس کے ایک کمپاؤنڈ پر حملہ کیا، حملےکے مقام پر حماس کے اہم ارکان ٹھہرے ہوئے تھے ،غزہ میں اسرائیلی حملوں میں اب تک 36 ہزار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ رفح میں بے گھر افراد کے لیے ایک کیمپ قائم کیا گیا جہاں اسرائیل نے حملہ کیا۔ شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ النجلہ میں ایک گھر پر اسرائیلی فوج کے حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    قبل ازیں گزشتہ روز حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا، حماس نے تل ابیب پر میزائل حملہ کیا تھا، حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر دعویٰ کیا کہ یہ راکٹ صیہونی شہریوں کے قتل عام کے جواب میں داغے گئے ہیں، راکٹ غزہ کی پٹی سے فائر کیے گئے۔ تاہم ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی کوئی خبر نہیں ملی

    حماس مجاہدین نےمتعدد اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنا لیا

    اسرائیل کا عالمی عدالت کا فیصلہ ماننے سے انکار

    اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو جرمنی میں داخل ہوئے تو گرفتار کرلیا جائے گا،جرمن چانسلر

    عالمی عدالت انصاف ، اسرائیلی وزیراعظم،وزیر دفاع،حماس رہنماؤں کے وارنٹ کی استدعا

  • حماس  مجاہدین نےمتعدد  اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنا لیا

    حماس مجاہدین نےمتعدد اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنا لیا

    غزہ: حماس کی القسام بریگیڈ کے مجاہدین نےمتعدد ا سرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنالیا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حماس کی القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے بتایا کہ جبالیہ کیمپ میں اسرائیلی فوجیوں کو لالچ دے کر ایک سرنگ کی تلاشی پر اکسایا اسرائیلی فوجی اس سرنگ کو القسام جانبازوں کا ٹھکانہ سمجھ کر جنگجوؤں کو گرفتار کرنے کی نیت سے پہنچے جہاں ہمارے جانباز پہلے ہی سے گھات لگائے ان کے منتظر بیٹھے تھےاسرائیلی فوج کا ایک اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگیا جب کہ متعدد کو زخمی حالت میں قیدی بنالیا گیا جن کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔

    پاکستان ’ون چائنا‘ پالیسی پر عمل پیرا ہے،وزیر اعظم شہباز شریف

    میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس کے مسلح ونگ کے ترجمان کی جانب سے قیدی بنائے گئے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد کے حوالے سے کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی گئیں، دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان نے القسام کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس جھڑپ میں اسرائیلی فوج کا کوئی اہلکار حماس کا قیدی نہیں بنا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 80 سے زائد فلسطینیوں کی شہادت کے بعد سے 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی بمباری میں شہدا کی مجموعی تعداد 35 ہزار 984 ہوگئی جن میں نصف تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔

    سیکیورٹی فورسز کا پشاور میں آپریشن،5 دہشتگرد ہلاک اور 3 زخمی،کیپٹن اور 1 جوان …

  • عالمی عدالت انصاف ، اسرائیلی وزیراعظم،وزیر دفاع،حماس رہنماؤں کے وارنٹ کی استدعا

    عالمی عدالت انصاف ، اسرائیلی وزیراعظم،وزیر دفاع،حماس رہنماؤں کے وارنٹ کی استدعا

    عالمی عدالت انصاف ، پراسیکیوٹر نے اسرائیلی وزیراعظم کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست کردی

    انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں پراسیکیوشن نے اسرائیلی وزیراعظم، وزیرخارجہ اور حماس کے رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست کردی ہے،عالمی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان نے غیر ملکی خبر ایجنسی کو انٹرویو میں بتایا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں گرفتاری کے وارنٹ کی درخواست دی ہے،عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے وزیر دفاع یوو گیلنٹ ،حماس کے سرکردہ رہنماؤں القاسم بریگیڈ کے رہنما محمد ضیف اور حماس کے اسماعیل ہنیہ،یحییٰ سنوار کے وارنٹ طلبی کی درخواست دائر کی ہے

    https://x.com/intlcrimcourt/status/1792511246769570084?s=46&t=UJzUvndbKkvbo4lbzD2Z9w&mx=2

    آئی سی سی کے ججوں کا ایک پینل اب پراسیکیوٹر کریم خان کی گرفتاری کے وارنٹ کی درخواست پر غور کرے گا۔کریم خان نے بتایا کہ یحیٰ سنوار، اسماعیل ہنیہ اور المصری کے خلاف الزامات میں "قتل، یرغمال بنانا، عصمت دری اور حراست میں جنسی زیادتی شامل ہیں، نیتن یاہو اور گیلنٹ کے خلاف الزامات میں جنگ کے طریقہ کار کے طور پر بھوکا مارنا، بشمول انسانی امداد کی فراہمی سے انکار، جان بوجھ کر تنازعات میں شہریوں کو نشانہ بنانا شامل ہیں۔

    پراسیکیوٹر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے، اگر اسرائیل آئی سی سی سے متفق نہیں ہے تو وہ ججوں کے سامنے اسے چیلنج کرنے میں آزاد ہے

    عالمی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کا کہنا ہے کہ آج میں ریاست فلسطین کی صورتحال میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پری ٹرائل چیمبر I کے سامنے وارنٹ گرفتاری کے لیے درخواستیں دائر کی ہیں۔یحیٰ سنوار،محمد دیاب ابراہیم المصری،اسماعیل ہنیہ کے بھی وارنٹ کی درخواست کی ہے،ان پر بھی جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی مجرمانہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے،انسانیت کے خلاف جرم کے طور پر قتل، یرغمال بنانا ایک جنگی جرم ؛عصمت دری اور جنسی تشدد کی دیگر کارروائیوں کو انسانیت کے خلاف جرائم کے طور پر؛تشدد کو انسانیت کے خلاف جرم کے طور پر،

    عالمی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کا کہنا ہے کہ ان درخواستوں میں جنگی جرائم کا ارتکاب اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ایک بین الاقوامی مسلح تصادم اور اسرائیل اور حماس کے درمیان متوازی طور پر چلنے والے ایک غیر بین الاقوامی مسلح تصادم کے تناظر میں کیا گیا تھا۔ ہم عرض کرتے ہیں کہ انسانیت کے خلاف جن جرائم کا الزام عائد کیا گیا ہے وہ تنظیمی پالیسیوں کے مطابق حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے ذریعہ اسرائیل کی شہری آبادی کے خلاف وسیع پیمانے پر اور منظم حملے کا حصہ تھے۔ ان میں سے کچھ جرائم آج تک جاری ہیں۔یحیٰ سنوار، ضٰف اور اسماعیل حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے حملوں میں،یہ سینکڑوں اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں۔ اکتوبر 2023 میں کم از کم 245 یرغمال بنائے۔ ہماری تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر، میرے دفتر نے متاثرین اور بچ جانے والوں کا انٹرویو کیا ہے، بشمول سابق یرغمالیوں اور حملے کے چھ بڑے مقامات کے عینی شاہدین کا، ثبوتوں کے لئے آڈیو ، ویڈیوز، اراکین کے بیانات موجود ہیں،ان افراد نے 7 اکتوبر 2023 کو جرائم کی منصوبہ بندی کی اور اکسایا ،یہ جرائم ان کے اعمال کے بغیر سرزد نہیں ہو سکتے تھے۔ ان پر روم سٹیٹیوٹ کے آرٹیکل 25 اور 28 کے مطابق شریک مرتکب اور اعلیٰ افسر کے طور پر دونوں الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اسرائیل سے یرغمال بنائے گئے افراد کو غیر انسانی حالات میں رکھا گیا ہے، اور یہ کہ بعض کو قید میں رکھنے کے دوران عصمت دری سمیت جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ہم میڈیکل ریکارڈز، عصری ویڈیو اور دستاویزی ثبوتوں، اور متاثرین اور بچ جانے والوں کے انٹرویوز کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچے ہیں۔ میرا دفتر 7 اکتوبر کو ہونے والے جنسی تشدد کی رپورٹوں کی تحقیقات بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔میں زندہ بچ جانے والوں، اور 7 اکتوبر کے حملوں کے متاثرین کے خاندانوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جنہوں نے آگے آنے کی جرات کی۔ ہم ان حملوں کے ایک حصے کے طور پر کیے گئے تمام جرائم کی تحقیقات کو مزید گہرا کرنے پر مرکوز ہیں اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔میں ایک بار پھر سے تمام یرغمالیوں کی فوری رہائی کے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتا ہوں۔

    اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو، یوو گیلنٹ
    عالمی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کا کہنا ہے کہ میرے دفتر کے ذریعے جمع کیے گئے اور جانچے گئے شواہد کی بنیاد پر، میرے پاس یہ ماننے کے لیے معقول بنیادیں ہیں کہ اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور اسرائیل کے وزیر دفاع یوو گیلنٹ، درج ذیل جنگی جرائم اور جرائم کے لیے مجرمانہ ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ جنگی جرم کے طور پر جنگ کے طریقہ کار کے طور پر شہریوں کا بھوکا رہنا؛ جان بوجھ کر شدید تکلیف پہنچانا، یا جسم یا صحت کو شدید چوٹ پہنچانا،ظالمانہ سلوک؛ جان بوجھ کر قتل، جنگی جرم کے طور پر جان بوجھ کر شہری آبادی کے خلاف حملوں کی ہدایت کرنا؛انسانیت کے خلاف جرم کے طور پر ظلم و ستم؛انسانیت کے خلاف جرائم کے طور پر دیگر غیر انسانی کارروائیاں۔

    میرا دفتر عرض کرتا ہے کہ ان درخواستوں میں جنگی جرائم کا ارتکاب اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ایک بین الاقوامی مسلح تصادم کے تناظر میں کیا گیا تھا، اور اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک غیر بین الاقوامی مسلح تصادم (دوسرے فلسطینی مسلح گروپوں کے ساتھ) متوازی چل رہا تھا۔ ہم عرض کرتے ہیں کہ انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب ریاستی پالیسی کے مطابق فلسطینی شہری آبادی کے خلاف وسیع اور منظم حملے کے حصے کے طور پر کیا گیا تھا۔ یہ جرائم، ہماری تشخیص میں، آج تک جاری ہیں۔

    عالمی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کا کہنا ہے کہ ہم نے جو شواہد اکٹھے کیے ہیں، بشمول زندہ بچ جانے والوں اور عینی شاہدین کے انٹرویوز، تصدیق شدہ ویڈیو، تصویر اور آڈیو مواد، سیٹلائٹ کی تصاویر اور مبینہ مجرم گروپ کے بیانات، ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل نے جان بوجھ کر اور منظم طریقے سے ملک کے تمام حصوں میں شہری آبادی غزہ کو اشیاء سے محروم رکھا ،یہ غزہ پر مکمل محاصر ہ تھا، 8 اکتوبر 2023 سے تین سرحدی کراسنگ پوائنٹس، رفح، کریم شالوم اور ایریز کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا اور پھر ضروری سامان کی منتقلی پر پابندی لگا دی گئی، بشمول خوراک اور ادویات۔ اسرائیل سے غزہ تک سرحد پار پانی کی پائپ لائنوں کو کاٹا گیا، غزہ کے شہریوں‌کو صاف پانی سے محروم کیا اور کم از کم 8 اکتوبر 2023 سے آج تک بجلی کی سپلائی کو منقطع کرنا اور اس میں رکاوٹ ڈالنا بھی شامل ہے۔ یہ عام شہریوں پر دوسرے حملوں کے ساتھ ہوا ، انسانی ہمدردی کے اداروں کی طرف سے امداد کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالی گئی،اور امدادی کارکنوں پر حملے اور ان کا قتل کیا گیا جس کی وجہ سے بہت سے امداد ی ایجنسیوں کو غزہ میں اپنی کارروائیاں بند کرنے یا محدود کرنے پر مجبور کیا گیا، یہ کارروائیاں بھوک کو جنگ کے طریقہ کار کے طور پر استعمال کرنے اور غزہ کی شہری آبادی کے خلاف تشدد کی دیگر کارروائیوں کے ایک مشترکہ منصوبے کے حصے کے طور پر کی گئی تھیں (i) حماس کو ختم کرنے کے لیے؛ (ii) ان یرغمالیوں کی واپسی کو محفوظ بنانے جنہیں حماس نے اغوا کیا ہے، اور (iii) غزہ کی شہری آبادی کو اجتماعی طور پر سزا دینا، جنہیں وہ اسرائیل کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔

    اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے دو ماہ سے زیادہ پہلے خبردار کیا تھا، "غزہ میں 1.1 ملین لوگ تباہ کن بھوک کا سامنا کر رہے ہیں – ایک "مکمل طور پر انسان ساختہ تباہی” کے نتیجے میں – کہیں بھی، کسی بھی وقت ریکارڈ کیے گئے لوگوں کی سب سے زیادہ تعداد۔ آج، میرا دفتر ان سب سے زیادہ ذمہ داروں میں سے دو، NETANYAHU اور GALLANT پر فرد جرم عائد کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اسرائیل، تمام ریاستوں کی طرح، اپنی آبادی کے دفاع کے لیے کارروائی کرنے کا حق رکھتا ہے۔ تاہم یہ حق اسرائیل یا کسی بھی ریاست کو بین الاقوامی انسانی قانون کی تعمیل کرنے کی اپنی ذمہ داری سے بری نہیں کرتا۔ ان کے کسی بھی فوجی اہداف کے باوجود، اسرائیل نے غزہ میں ان کو حاصل کرنے کے لیے جن ذرائع کا انتخاب کیا ہے – یعنی جان بوجھ کر موت، بھوک، اور شہری آبادی کے جسم یا صحت کو شدید چوٹ پہنچانا – مجرمانہ ہیں۔

  • حماس کے  ایک ہزار سے زائد ممبران ترکیہ کے اسپتالوں میں زیر علاج ہیں،ترک صدر

    حماس کے ایک ہزار سے زائد ممبران ترکیہ کے اسپتالوں میں زیر علاج ہیں،ترک صدر

    استنبول: ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہےکہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے ایک ہزار سے زائد ممبران ترکیہ کے اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

    باغی ٹی وی : یونان کے وزیراعظم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے طیب اردوان نے کہاکہ جب آپ حماس کو دہشتگرد تنظیم کہتے ہیں تو ہمیں دکھ ہوتا ہے، ہم حماس کو دہشتگرد تنظیم نہیں سمجھتے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق پریس کانفرنس کے بعد ترکیہ کے ایک حکومتی نمائندے نے نام نا ظاہر کرنے کی شرط پر صدر کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ صدر طیب اردوان کی بات کا مطلب یہ تھا کہ غزہ سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار فلسطینی شہریوں کا ترکیہ میں علاج کیا جارہا ہے، جن لوگوں کے علاج کے متعلق ترکیہ کے صدر نے بات کی وہ صرف حماس کے فائٹرز کے بارے میں نہیں تھی بلکہ وہ غزہ کے عام شہریوں سے متعلق تھی۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کے غزہ میں حملے تیز کرنے کے ردعمل میں فلسطینی مزاحمتی گروپوں کی صیہونی فوج سے شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہیں۔

    ہمیں اپنے دفاع کے لیے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے،اسرائیل کاا مر یکا …

    فلسطینی مزاحمتی تنظیموں سے جھڑپوں میں 50 اسرائیلی فوجی زخمی ہوگئے جبکہ ڈرون حملے سے اسرائیلی ٹینک بھی تباہ کردیا گیا رفح میں اقوام متحدہ کی گاڑی پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے فلسطینی ڈرائیور شہید اور غیر ملکی امدادی اہلکار زخمی ہوگیا ادھر دنیا بھر میں مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، ایمسٹرڈیم یونیورسٹی میں پولیس کی طلبہ مظاہرین کے خلاف کارروائی کے بعد جامعہ کا عملہ بھی طلبہ کی حمایت میں کھڑا ہوگیا مصر میں امریکی جامعہ کے طلبہ نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیلی کمپنیوں کے بائیکاٹ کے نعرے لگادئیے۔

    حزب اللہ کے شمالی اسرائیل میں میزائل حملے،چار اسرائیلی فوجی زخمی

  • حماس یرغمالیوں کو رہاکرتا ہے توکل ہی جنگ بندی ہوجائےگی،امریکی صدر

    حماس یرغمالیوں کو رہاکرتا ہے توکل ہی جنگ بندی ہوجائےگی،امریکی صدر

    واشنگٹن: امریکی صدر نے غزہ جنگ بندی اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی سے مشروط کردی۔

    باغی ٹی وی : امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ حماس یرغمالیوں کو رہاکرتا ہے توکل ہی جنگ بندی ہوجائےگی اور اگر اسرائیل نے رفح پر چڑھائی کی تو اسے ہتھیار فراہم نہیں کریں گے،معصوم شہریوں کے قتل عام کے لیے توپ خانے اورگولہ بارود اسرائیل کو نہیں دیں گے۔

    دوسری جانب رفح سے جبری انخلا ور شمالی و وسطی غزہ پر شدید بمباری جاری ہے، اسرائیلی فوج نے رفح کےمشرقی اور وسطی علاقوں سے فلسطینیوں کو نکلنے کا حکم دیا ہے اور ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ 3 لاکھ فلسطینیوں کا انخلا کرادیا رفح میں بڑا آپریشن روکنے کے لیے امریکا نے اسرائیل کو حماس رہنماؤں سے متعلق خفیہ معلومات فراہم کرنے کی پیشکش کردی، یورپی یونین نے رفح سے جبری انخلا ناقابل بردا شت قرار دے دیا جب کہ عرب ممالک نے غزہ پٹی کا انتظام سنبھالنےکی اسرائیلی تجویز مسترد کردی۔

    محکمہ موسمیات کی مختلف شہروں میں بارش کی پیشگوئی

    ادھر اسرائیلی فوج نے ہفتے کے رو ز حماس کی طرف سے کیے گئے راکٹ حملوں کے بارے میں کہا ہے کہ یہ راکٹ اسرائیلی اہداف پر رفح سے داغے گئے تھے، جن کا ہدف رفح سے جنوبی غزہ کی طرف کرم شالوم راہداری تھی۔

    شالوم راہداری کو پچھلے اتوار سے ہی اسرائیلی فوج عاضی بندش کے نام پر بند کر چکی ہے اس وقت کا جواز اسی نوعیت کے ایک حملے کو بنایا گیا تھا، اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز داغے گئے تازہ راکٹ حملوں کے بارے میں کہا ہے چار راکٹوں کی نشاندہی ہو گئی ہے کہ وہ رفح کے علاقے سے ہی داغے گئے تھے۔

    نان روٹی ایسوسی ایشن روٹی 15 روپے میں فروخت کرنے پر رضا مند

    تاہم فوج کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان راکٹوں میں سے ایک راکٹ کو اسرائیلی دفاعی نظام راستے میں ہی روکنے میں کامیاب رہا، البتہ تین راکٹ راستے میں نہ روکے جا سکے اور یہ کرم شالوم راہداری کے آس پاس کے علاقے میں جا گرے۔

    اسراییلی فوج کے جاری کردہ بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے ‘کوئی اسرائیلی ان تازہ راکٹ حملوں سے ہلاک یا زخمی نہیں ہوا ہے۔’ اس سے قبل کرم شالوم پر راکٹ حملے کے نتیجے میں چار فوجیوں کے مرنے کی اطلاع دی گئی تھی۔

    اسرائیلی فوج نے یہ بھی کہا ہے کہ جمعہ کے روز بھی رفح کے اسی علاقے سے راکٹ داغا گیا تھا۔اس کا ہدف بھی وہی کرم شالوم کا وہ علاقہ تھا کہ جنوبی غزہ اور کرم شالوم کے درمیان کے علاقے کو نشانہ بنیا جائے۔۔جو ہفتے کے روز داغے گئے راکٹوں کا ہدف بھی رہا۔اسی کے بعد پچھلے اتوار کو اسرائیلی فوجی حکام نے شالوم راہداری بند کر دی تھی۔

    پاکستانی ائیرلائن پر یورپی ملکوں میں عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ

    ہفتے کے روز داغے گئے حملے اسرایجلی فوج کی طرف سے مشرقی رفح میں کرائے گئے جبری انخلا کے فوری بعد کی کارروائی ہیں۔ واضح رہے رفح اس وقت 14 لاکھ سے زیادہ پناہ گزینوں کو اپنے ہاں پناہ دیے ہوئے ہے۔ جو سات اکتوبر سے جاری اسرائیلی جنگ کی تباہی کے بعد غزہ کی پٹی سے نکل کر یہاں آئے ہیں ۔

    اسرائیل کے فوجی ترجمان نے ہفتے کے روز کہا کہ شمالی غزہ کی پٹی میں جبالیا میں کارروائی کرنے والی اسرائیلی افواج حماس کو وہاں اس کی فوجی صلاحیتیں دوبارہ قائم کرنے سے روک رہی ہیں۔

    ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہاگاری نے رپورٹرز کو بریفنگ کے دوران کہا کہ ہم نے گذشتہ ہفتوں میں جبالیا میں حماس کی فوجی صلاحیتوں کی بحالی کی کوششوں کی نشاندہی کی، ہم ان کوششوں کو ختم کرنے کے لئے وہاں کارروائی کر رہے ہیں غزہ شہر کے زیتون ضلع میں کام کرنے والی اسرائیلی افواج نے تقریبا 30 فلسطینی مزاحمت کاروں کو ہلاک کر دیا۔

    آزاد کشمیر میں کشیدہ صورتحال، متعدد شہروں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس معطل