Baaghi TV

Tag: حماس

  • اسماعیل ہنیہ کے کمرے میں ایرانی سیکورٹی ایجنٹوں نے دھماکا خیز مواد نصب کیاتھا

    اسماعیل ہنیہ کے کمرے میں ایرانی سیکورٹی ایجنٹوں نے دھماکا خیز مواد نصب کیاتھا

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ کا قتل کیسے ہوا؟ ابھی تک معمہ بنا ہوا ہے، ایران نے کئی روز گزر جانے کے باوجود سرکاری سطح پر کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں،تاہم برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی سیکورٹی ایجنٹوں کے ذریعے اسماعیل ہنیہ کے کمرے میں‌دھماکا خیز مواد نصب کیا گیا تھا،

    برطانوی اخبار کے مطابق حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ پر جس عمارت میں قاتلانہ حملہ ہوا اسی عمارت میں وہ اکثر ایران آتے تو قیام کرتے تھے، یہ ایک گیسٹ ہاؤس ہے، اسماعیل ہنیہ کو ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی حادثے میں موت کے بعد جنازے میں شرکت کے موقع پر مارنے کا پروگرام تھا لیکن اس وقت یہ آپریشن ملتوی کر دیا گیا تھاکیونکہ اس وقت حملہ آور سمجھتے تھے کہ رش زیادہ ہونے کی وجہ سے آپریشن ناکام ہو سکتا ہے،اخبار نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکام کے پاس اس عمارت کی سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے جس میں اسماعیل ہنیہ ٹھہرے ہوئے تھے،اس فوٹیج میں ایجنٹوں کو چپکے سے کمروں میں انتہائی تیزی سے آتے جاتے دیکھا جاسکتا ہے

    برطانوی اخبار نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ جن ایجنٹوں نے اسماعیل ہنیہ کے کمرےمیں دھماکا خیز مواد نصب کیا تھا وہ ایران چھوڑ چکے ہیں، تا ہم ایران میں ایک ساتھی کے ساتھ وہ رابطے میں تھے اور اسماعیل ہنیہ کے کمرے میں نصب دھماکا خیزمواد کو ایران کے باہر سے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے تباہ کیا گیا ،ایران نے واقعہ کے بعد جب تحقیقات شروع کیں تو دو مزید کمروں سے بھی دھماکہ خیز مواد ملا ہے وہ کمرے بھی اسماعیل ہنیہ کے زیر استعمال ہوتے تھے، پاسداران انقلاب کے ایک اہلکار کے حوالے سے برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ موساد نے انصارالمہدی حفاظتی یونٹ سے تعلق رکھنے والوں کو ایجنٹ کے طورپر استعمال کیا جو اعلیٰ ترین افسروں کی حفاظت پر مامور ہوتے ہیں

    واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ، جو ایران میں ایک حملے میں شہید ہوئے، کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دفن کیا گیا۔ ان کی نمازِ جنازہ میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد، حماس کے سابق رہنما خالد مشعل، اسماعیل ہنیہ کے بیٹے، اور فلسطینی تنظیموں کے اعلیٰ رہنماؤں نے شرکت کی۔ پاکستان سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی، اسماعیل ہنیہ کو دوحہ کے لوسیل قبرستان میں علامہ یوسف القرضاوی کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی وفات نے عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، اور ان کے جنازے میں شرکت کرنے والے لوگوں کی تعداد نے ان کے عالمی مقام اور فلسطین کی جدوجہد میں ان کے کردار کو اجاگر کیا۔

    حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،عمران خان کی پراسرار خاموشی،56 گھنٹے بعد دیا ردعمل

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

  • حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ دوحہ میں ادا

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ دوحہ میں ادا

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ دوحہ میں ادا کر دی گئی

    اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ دوحہ کی مسجد امام محمد بن عبدالوہاب میں ادا کی گئی،نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی،حماس کے سینئر رہنما اور کمانڈر شیخ خلیل الحیہ نے نماز جنازہ پڑھائی . پاکستان سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان حماس رہنما کے نماز جنازہ میں شریک ہوئے،اسماعیل ہنیہ کی نمازِ جنازہ میں شرکت کیلئے ترک وزیرِ خارجہ بھی دوحہ پہنچے تھے، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد بھی نماز جنازہ کے موقع پر موجود تھے.نماز میں قطری وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے بھی شرکت کی،افغانستان کے نائب وزیراعظم برائے سیاسی امور محترم مولوی عبدالکبیر کی قیادت میں افغان وفد نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی.جنازے میں حماس کے تمام سینئر قائدین سمیت قطر کے بادشاہ قطر کے وزراء ، ترک وزیر خارجہ اور 50 مسلمان ملکوں سے سفیروں سمیت ہر ملک ہر قوم ہر نسل کے لوگ شریک ہوئے ،جگہ کی قلت اور عوام کے جم غفیر کی وجہ سے مسجد محمد بن عبدالوھاب کے راستے بند ہوگئے ،ہزاروں لوگ خواہش کے باوجود جم غفیر اور رش کی وجہ شریک نا ہوسکے ،بحرین عمان کویت سعودی عرب یو اے ای سمیت دنیا کے کئی ممالک سے لوگ گاڑیوں اور جہازوں کے ذریعے جنازے میں شرکت کے لیے پہنچے ،قطر کے شہر لوسیل میں واقع قطر کے شاہی قبرستان میں شہید اسماعیل ھنیہ کو دفن کیا جائے گا

    گزشتہ رات سے ہی قطر کے دارالحکومت دوحہ کے حماد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نماز جنازہ میں شرکت کے لیے لوگوں کی لمبی قطاریں لگ گئی تھیں، نماز جنازہ میں کئی ممالک کے حکام نے شرکت کی ہے۔اس دوران دوحہ میں کچھ سڑکیں اور گلیاں ٹریفک کے لیے بند تھیں، قطر کی سیکیورٹی فورسز نے خاص طور پر محمد بن عبدالوہاب مسجد کے ارد گرد سخت حفاظتی اقدامات کیے تھے، قومی اور بین الاقوامی میڈیا تنظیموں کے پریس کے ارکان بھی مسجد کے ارد گرد موجود تھے.

    قبل ازیں گزشتہ روز حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ کا جسد خاکی ایران سے قطر پہنچا دیا گیا تھا،اس دوران دوحہ میں ان کے گھر پہنچنے پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے،اسماعیل ہنیہ اور انکے ساتھی کے جسد خاکی قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گئے، حماس رہنما خالد مشعل نے دونوں میتوں کو وصول کیا، بعد ازاں شہید ہنیہ کی بیوہ نے انتہائی ثابت قدمی کے ساتھ آخری دیدار کرتے ہوئے کہا کہ "سلم علی کل شہداء الغزہ” کہ غزہ کے تمام شہداء کو سلام کہنا۔ہم نے آپ سے عزم ہمت اور صبر سیکھا ہے ،اللہ آپ کی شہادت قبول فرمائے ،آپ کو جنت میں اعلی مقام ملے ،ہم آپ کا مشن کبھی نہیں چھوڑیں گے

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت کا مطلب مقدس سرزمین کی فتح ہوگا،بیٹی اسماعیل ہنیہ
    حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر ان کی بیٹی خولہ اسماعیل ہنیہ اور بہو ایناس ہنیہ کا پیغام سامنے آیا ہے، حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ کی بیٹی خولہ اسماعیل کا کہنا تھا کہ ” ہم اللّٰہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمارے والد کو شہادت سے نوازا، ہمارے والد جہاد کر رہے تھے اس لیے شہیدوں میں ان کا انتخاب ہونے پر ہم اللّٰہ کے شکر گزار ہیں اور جنت میں ان کے بلند درجات کے لیے دعا گو ہیں،اسرائیلی حکومت اگر یہ سوچتی ہے کہ اسماعیل ہنیہ کو شہید کرکے اُنہیں سکون ملے گا یا وہ جشن منائیں گے تو ایسا نہیں ہوگا بلکہ خدا کی قسم میرے والد کا خون حشر کے دن تک ان کا پیچھا کرے گا، اللّٰہ نے چاہا تو اسماعیل ہنیہ کی شہادت کا مطلب مقدس سرزمین کی فتح ہوگا۔

    ہم اللّٰہ کی رضا پر راضی،ملاقات جنت میں ہو گی، بہو اسماعیل ہنیہ
    دوسری جانب اسماعیل ہنیہ کی بہو ایناس ہنیہ کا کہنا ہے کہ ہم اللّٰہ کی رضا پر راضی ہیں، دل خدا کی مرضی اور تقدیر سے مطمئن ہے، میں ایک ایسے شخص کے جانے کا افسوس کررہی ہوں جس کی اچھائیوں سے زمین و آسمان بھر جاتے ہیں،شہید بزرگ قائد کی موت پر ہم سب افسردہ ہیں لیکن ہمارا ایمان ہے کہ یہ دنیا فانی ہے اور ان شاء اللّٰہ ملاقات جنت میں ہوگی۔

    واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ کو تہران میں قاتلانہ حملے میں مار دیا گیا تھا، ایران اور حماس نے امریکہ و اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے،

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

  • امریکہ کا اسرائیل کیلئے خطے میں مزید فوجی امداد بھیجنے کا فیصلہ

    امریکہ کا اسرائیل کیلئے خطے میں مزید فوجی امداد بھیجنے کا فیصلہ

    امریکہ نے اسرائیل کے لئے خطے میں مزید فوجی امداد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے
    امریکی صدر جوبائیڈن نے یہ فیصلہ اسرائیلی وزیراعظم سے بات چیت کے بعد کیا، اسرائیلی وزیراعظم نے جوبائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس سے رابطہ کیا تھا اور اسرائیل کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں سے بچانے کیلئے مزید دفاعی سامان بھیجنے کی درخواست کی تھی جس کے بعد امریکہ نے اسرائیل کی مزید مدد کا فیصلہ کیا،وائٹ ہاوس کا کہنا ہے کہ ایران، حماس، حزب اللہ اور حوثیوں سے اسرائیل کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا

    ایران اور لبنان میں اسرائیلی حملوں کے بعد خطے میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر امریکا نے روزویلٹ نامی جنگی بحری بیڑہ بھی خلیج فارس میں پہنچا دیا ہے،امریکی اخبار کے مطابق بحری بیڑے کے ساتھ 6 میزائل بردار جہاز بھی موجود ہیں جبکہ مشرقی بحیرہ روم میں 5 امریکی جنگی بحری جہاز پہلے سے ہی تعینات ہیں، امریکی جاسوس طیاروں کی شام، لبنان اور اسرائیل کی ساحلی پٹیوں پر پرواز کا سلسلہ بھی جاری ہے،امریکی بحریہ کے جاسوس طیاروں نے شام، لبنان اور اسرائیل کی ساحلی پٹی پر 4 گھنٹے تک پرواز کی اور انٹیلی جنس ڈیٹا جمع کیا۔

    امریکی صدر کا اسرائیلی وزیراعظم پر یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ جنگ بندی معاہدے کیلئے زور
    امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کا قتل غزہ جنگ بندی میں مذاکرات میں مددگار نہیں ہوگا،امریکی صدر نے جوائنٹ بیس اینڈریوز پر صحافیوں سے گفتگو کے دوران مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی پر اظہار تشویش کیا اور کہا کہ انکی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے بات ہوئی ہے،امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم پر یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ جنگ بندی معاہدے کیلئے زور دیا

    دوسری جانب ایرانی فوج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل باقری کا کہنا ہے کہ ایران اسماعیل ہنیہ کے قتل کا بدلہ لینے کے طریقہ کا جائزہ لے رہا ہے اسرائیل کوپچھتانا پڑےگا، اسماعیل ہنیہ کی شہادت کا بدلہ ضرور لیا جائے گا

    اردن کا تجارتی پروازوں کو 45 منٹ کا اضافی ایندھن لے جانے کا حکم
    ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان، اردن نے فضائی مشنوں کو ایک نوٹس جاری کیا ہے جس میں ملک کی تمام تجارتی پروازوں کو آپریشنل وجوہات کی بنا پر 45 منٹ کا اضافی ایندھن لے جانے کا کہا گیا ہے۔ اس اقدام کو ایران کی طرف سے اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کے خطرے کی وجہ سے اردن کی فضائی حدود کی ممکنہ رکاوٹوں یا بندش کے خلاف احتیاط کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اردن کی حکومت نے اپنی خودمختاری کے دفاع اور اس عمل میں ممکنہ طور پر اسرائیل کی مدد کرتے ہوئے اپنی فضائی حدود سے گزرنے والے کسی بھی میزائل یا ڈرون کو روکنے کے اپنے ارادے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس پیش رفت نے کئی طرح کے رد عمل کو جنم دیا ہے، کچھ نے اردن کے فعال موقف کی تعریف کی اور کچھ نے اسرائیل کا ساتھ دینے پر تنقید کی ہے.

    واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ کو تہران میں قاتلانہ حملے میں مار دیا گیا تھا، ایران اور حماس نے امریکہ و اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے،

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

  • ایران اسماعیل ہنیہ پر حملے کی تفصیلات سے دنیا کو آگاہ کرے،مفتی تقی عثمانی

    ایران اسماعیل ہنیہ پر حملے کی تفصیلات سے دنیا کو آگاہ کرے،مفتی تقی عثمانی

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر پاکستان کے جید عالم دین مفتی تقی عثمانی کا رد عمل سامنے آیا ہے

    مفتی تقی عثمانی نے ایکس پر ایک پوسٹ کی جس میں انہوں نے حماس رہنما کی شہادت پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور ایران کے اس ضمن میں کردار پر سوالات اٹھائے، مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ قائد مجاھدین اور محبوب امت مسلمہ اسماعیل ھانیہ پر بزدلانہ اوروحشیانہ حملہ پورے عالم اسلام پر حملہ ہے ایرانی حکومت کافرض ہے کہ وہ حملے کی تفصیلات سے دنیا کو آگاہ کرے یہ کیسے ممکن ہواکہ میزائل عمارت پر گرے اور صرف شہید مرحوم اور انکا محافظ نشانہ بنے جبکہ بتایاگیا ہے کہ وہ ایک کمپلیکس تھا نیز پاسداران انقلاب اس وقت کہاں تھے اللہ تعالیٰ نے ہمارے اس محبوب کو تو ان شاء اللہ اپنے پاس بلاکر انکا مقصد پورا کردیا اور ان شاء اللہ اس سے مجاھدین کے حوصلے اور بلند ہونگے اور انکا قیمتی خون رائیگاں نہیں جائیگا انکی شہادت ان شاء اللہ اسرائیل کی شکست کی خوشخبری ثابت ہوگی،دیکھنا یہ ہے کہ ایران نے جو بدلہ لینے کااعلان کیا ہے وہ کتنا مضبوط اور اسرائیل کے لئے کتنا عبرتناک ہوگا

    واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ کو تہران میں قاتلانہ حملے میں مار دیا گیا تھا، ایران اور حماس نے امریکہ و اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے،

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

  • اسماعیل ہنیہ کی دوحہ میں نماز جنازہ و تدفین آج،پاکستان ،ترکی میں سوگ کا اعلان

    اسماعیل ہنیہ کی دوحہ میں نماز جنازہ و تدفین آج،پاکستان ،ترکی میں سوگ کا اعلان

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ کا جسد خاکی ایران سے قطر پہنچا دیا گیا اس دوران دوحہ میں ان کے گھر پہنچنے پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔

    اسماعیل ہنیہ اور انکے ساتھی کے جسد خاکی قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گئے، حماس رہنما خالد مشعل نے دونوں میتوں کو وصول کیا، بعد ازاں شہید ہنیہ کی بیوہ نے انتہائی ثابت قدمی کے ساتھ آخری دیدار کرتے ہوئے کہا کہ "سلم علی کل شہداء الغزہ” کہ غزہ کے تمام شہداء کو سلام کہنا۔ہم نے آپ سے عزم ہمت اور صبر سیکھا ہے ،اللہ آپ کی شہادت قبول فرمائے ،آپ کو جنت میں اعلی مقام ملے ،ہم آپ کا مشن کبھی نہیں چھوڑیں گے

    اسماعیل ہنی کی نماز جنازہ آج بعد از نمازجمعہ دوحہ میں ادا کی جائیگی اور تدفین کی جائیگی،نماز جنازہ دوحہ کی امام محمد بن عبدالوہاب مسجد میں ادا کی جائیگی

    قبل ازیں تہران میں اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ،اسماعیل ہنیہ کو تہران میں قاتلانہ حملے میں مار دیا گیا تھا، ایران اور حماس نے امریکہ و اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے،

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،ترک صدر کا آج سوگ کا اعلان
    ترک صدر طیب اردوان نے آج ترکی میں سوگ کا اعلان کیا ہے، ترک صدر کا کہنا تھا کہ فلسطینی کاز کے لیے ہماری حمایت اور اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے حماس کے پولیٹیکل بیورو کے چیئرمین اسماعیل ہنیہ کی شہادت کی وجہ سے آج جمعہ کو یوم سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔میں اسماعیل ھنیہ اور تمام فلسطینی شہداء کو عزت و احترام کے ساتھ یاد کرتا ہوں اور میں اپنی اور اپنی قوم کی طرف سے فلسطینی عوام سے تعزیت پیش کرتا ہوں۔

    دوسری جانب نیو یارک ٹائمز کے بعد ایکسیون نے بھی موساد ایجنٹوں کے حوالے کے ساتھ رپورٹ شائع کر دی۔ کسی بھی اہم شخصیت کو نشانہ بنانے کے لیے بم کمرے میں ایک ماہ پہلے نصب کیا گیا تھا۔ اس بم میں ایک ہائی ٹیک ڈیوائس تھی جو مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتی ہے۔ جب ایران میں موساد کے ایجنٹوں کو اطلاع ملی کہ ھنیہ کمرے میں ہے تو انہوں نے ریموٹ کنٹرول سے بم کو دھماکہ خیز مواد سے کمرے کو اڑا دیا۔ ایران نے اپنی شعیہ پراکسیز شام سے عراق، یمن سے لبنان تک پھیلا رکھی ہیں لیکن اس کے اپنے گھر میں موساد اتنا کنٹرول رکھتی ہے کہ کسی بھی وقت کسی بھی شخصیت کو اڑا سکتے ہیں چاہے وہ خامنہ ای ہی کیوں نہ ہو۔

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،پاکستان بھر میں یوم سوگ،نماز جمعہ کے بعد غائبانہ نماز جنازہ ادا کیا جائیگا
    اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے آج پاکستان میں بھی یومِ سوگ منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے،فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے اسرائیلی مظالم پر وزیراعظم کی زیرِصدارت حکومت اور اتحادی جماعتوں کا مشاورتی اجلاس ہوا،اجلاس میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلزپارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی، ایم کیو ایم، آئی پی پی، مسلم لیگ (ق)، مسلم لیگ ضیا اور نیشنل پارٹی کے سربراہان و سینئر نمائندوں نے شرکت کی،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آج بعد نماز جمعہ پورے ملک میں اسماعیل ہنیہ شہید کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے آج ملک بھرمیں یوم سوگ منایا جائے گا،اجلاس میں حماس کے لیڈر اسماعیل ہنیہ کی ایران میں شہادت پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا گیا،اجلاس میں کہا گیا کہ یہ واقعہ خطے میں امن کے قیام کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی دانستہ سازش ہے، ایسے واقعات دنیا کے امن کو تباہ کرنے اورخطے میں کشیدگی کو ہوا دیتے ہیں،اجلاس کے اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے فلسطین میں اسرائیل کے ریاستی ظلم و بربریت کو امت مسلمہ کے لیے المیہ قرار دیا،اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ نہتے فلسطینیوں کی انسانی ہمدردی کے تحت امداد تک فوری رسائی یقینی بنائی جائے، پارلیمنٹ میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے خصوصی قرارداد پیش کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، اجلاس کے شرکا نے فلسطین میں 9 ماہ سے نہتے لوگوں پر جاری اسرائیلی ظلم و بربریت پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی مظالم کی مذمت اور نہتے فلسطینی بہن بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا، شرکا کا کہنا تھا کہ فلسطین میں اسرائیلی بربریت پر بین الاقوامی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، عالمی برادری کو مصلحت سے نکل کر ظلم کی و بربریت روکنےکے لیےدو ٹوک مؤقف اپنانا ہوگا، اجلاس میں مطالبہ کیا گیا ہے عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ اپنی خاموشی توڑے، عالمی برادری صہیونی قوتوں کے ہاتھوں مظلوم فلسطینیوں کی نسل کشی فی الفور روکے،اسرائیل کو جنگی جرائم اور فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے پر انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

  • حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا کر دی گئی، نماز جنازہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے پڑھائی
    نماز جنازہ تہران یونیورسٹی میں ادا کی گئی جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے، نماز جنازہ میں اعلی ایرانی سول حکام ، سرکاری عہدیداروں ور ایرانی پاسداران انقلاب کے افسروں اور جوانوں نے شرکت کی،اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،اسماعیل ہنیہ کے جسد خاکی کو قطر لے کر جایا جائے گا،اسماعیل ہنیہ کو کل قطر کے دارالحکومت دوحہ میں سپردِ خاک کیا جائے گا ،ایران کے رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای نے نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد ان کے بیٹوں سے تعزیت کی،حماس ترجمان خلیل الحیہ تہران میں موجود ہیں۔ نماز جنازہ میں خواتین بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئیں، اس موقع پر شرکا نے اسرائیل کے خلاف نعرے بازی بھی کی.شرکا نے فلسطین کے جھنڈے بھی اٹھا رکھے تھے.

    گزشتہ روز ایران میں اسماعیل ہنیہ اپنے گارڈ سمیت قاتلانہ حملے میں شہید ہو گئے تھے،وہ ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لئے ایران گئے تھے.

    بیٹے کو واٹس ایپ کال سے اسرائیل نے اسماعیل ہنیہ کی لوکیشن کا پتہ لگایا،اہم انکشاف
    یورپی مبصر برائے مشرق وسطی ایلیاجے میگنیئر کا کہنا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیل کا جاسوسی سافٹ ویئر استعمال کیا گیا، اسرائیل نے اسماعیل ہنیہ کو واٹس ایپ پیغام میں جدید ترین اسپائی ویئر لگائے،اسپائی سافٹ ویئر نے اسرائیلی انٹیلی جنس کو اسماعیل ہنیہ کی لوکیشن بتائی، اسماعیل ہنیہ کو اپنے بیٹے کے ساتھ ہونے والی کال کے بعد قتل کیا گیا، کال کے دوران اسماعیل ہنیہ کے مقام کی نشاندہی کی گئی تھی جس کے بعد اسرائیل نے انہیں نشانہ بنایا،

    تم چاہے کتنے ہی رہنماؤں کا قتل کر دو، تم فلسطینی عوام کی جدوجہد کو نہیں روک سکتے،عبدالسلام ہنیہ
    حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے عبدالسلام ہنیہ کا ویڈیو بیان سامنے آیا ہے، اسماعیل ہنیہ کے بیٹے کا کہنا ہے کہ ہمیں والد کی موت کی خبر ملی، اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں میرے والد کو شہادت کی موت نصیب ہوئی، کوئی بھی شخص جو جہاد کے راستے پر چلتا ہے، اس کا انجام شہادت ہوتا ہے یا پھر وہ غازی ہوتا ہے ،حماس رہنما کے بیے عبدالسلام ہنیہ نے اپنے والد کے قاتلوں کو ویڈیو میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے والد کے قاتلوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم چاہے کتنے ہی رہنماؤں کا قتل کر دو، تم فلسطینی عوام کی جدوجہد کو نہیں روک سکتے اور نہ ہی ہمارے انقلاب کو روک سکتے ہو

    اسرائیل نے اپنے دشمنوں کو عبرت ناک جواب دیا ،اسرائیلی وزیراعظم
    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنی قوم سے خطاب کیا جس میں نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے اپنے دشمنوں کو عبرت ناک جواب دیا ،اسرائیلی وزیراعظم کا خطاب اسرائیلی ٹی وی پر پانچ منٹ نشر کیا گیا، اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے خطاب میں حماس رہنما کے قتل بارے کوئی ذکر نہیں کیا،تاہم بیروت میں حزب اللہ کے رہنما کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل غزہ میں جاری جنگ بندی کے دباؤ میں آجاتا تو کبھی بھی حماس کے رہنماؤں اور دیگر ہزاروں دہشتگردوں کو ختم نہیں کرسکتا تھا، آنے والے دن اسرائیل کے لیے چیلنجنگ ہیں، اسرائیل اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے،حماس، حزب اللّٰہ اور حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے کیے ہی، اسرائیل نے حزب اللّٰہ چیف آف اسٹاف فواد شکر سے بدلہ لے لیا ہے، اسرائیل پر حملہ کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے،اسرائیل نے ایران کی پراکسیز کو منہ توڑ ردعمل دیا ہے، اسرائیل اپنے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور طاقت سے جواب دے گا

    اسرائیلی میڈیا نے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو تہران میں نشانہ بنانے کی وجہ بیان کی ہے، اسرائیلی میڈیا کے مطابق تہران میں اسماعیل ہنیہ کی سیکورٹی کی ذمہ داری ایران حکومت کی تھی، سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ چاہتی تو اسماعیل ہنیہ کو قطر میں ہی قتل کردیا جاتا لیکن اسماعیل ہنیہ کو تہران میں قتل کرنے کی دو وجوہات تھیں ،ایک یہ کہ حماس کے سربراہ کو ایران میں نشانہ بنانا تھا اور اسکے بعد یہ دیکھنا تھا کہ ایران اس کا جواب کیسے دیتا ہے؟

    اسماعیل ہنیہ کو کس مقام پر نشانہ بنایا گیا،تصویر سامنے آ گئی
    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل کے مقام کی تصویر سامنے آئی ہے، امریکی میڈیا نے اس مقام کی تصویر جاری کی جہاں اسماعیل ہنیہ ٹھہرے ہوئے تھے اور انہیں نشانہ بنایا گیا،امریکی اخبار کے مطابق ایک ایرانی عہدیدار نے یہ تصویر ہم سے شیئر کی ہے،تاہم ایرانی میڈیا نے ابھی تک اس تصویر بارے کوئی تبصرہ نہیں کیا، اسماعیل ہنیہ ایک سرکاری گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرے ہوئے تھے جہاں انہیں نشانہ بنایا گیا،یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اسماعیل ھنیہ ایرانی صدر کی رہائش گاہ سے 750 میٹر کے فاصلے پر رہائش پذیر تھے جہاں انہیں شہید کیا گیا.

    اسماعیل ہنیہ کے نماز جنازہ میں ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب کےکمانڈر کی عدم شرکت
    ایران آبزرور نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران میں حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ میں ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب کے کمانڈروں نے شرکت نہیں کی، ایران آبزورر کے ایکس اکاؤنٹ پر نماز جنازہ کی ادائیگی کی تصویرپوسٹ کی گئی، ساتھ کہا گیا کہ تہران میں اسماعیل ہنیہ کے نماز جنازہ کے دوران ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب کے کمانڈروں میں سے کوئی بھی نہیں دیکھا گیا۔اس کا مطلب صرف ایک ہی ہو سکتا ہے…

    https://twitter.com/IranObserver0/status/1818935106494497137

    دوسری جانب سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف حسین سلامی نے تہران میں اسرائیل کے ہاتھوں اسماعیل ھنیہ کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی مزاحمت کے عظیم محاذ کے وفادار مجاہدین کے غصے اور انتقام کی آگ بھڑک اٹھے گی۔اسکے بعد ہم اسرائیل کو مزید جلائیں گے،

    ایران کے ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ گذشتہ رات ایرانی صدر نے تہران میں حماس کے سیاسی دفتر کے نائب خلیل الحیا سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور کہا کہ ہم مضبوط عزم کے ساتھ مزاحمتی محور بالخصوص فلسطینی عوام اور غزہ کے مظلوم عوام کی حمایت جاری رکھیں گے۔ایرانی صدر نے کہا کہ اسرائیل اپنی تمام "مجرمانہ پالیسیوں” میں ناکام رہا ہے اور اسماعیل ہنیہ کے قتل کو "ان کے آخری انجام تک پہنچنے کا نتیجہ” سمجھتا ہے۔

    علاوہ ازیں تہران کے مشہور والیاسر اسکوائر کی دیوار پر ایک نئی تصویر لگائی گئی ہے جس میں ایران کے نئے صدر مسعود ،حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے ہیں، جنہیں قتل کر دیا گیا تھا۔یہ تصویر، جو ایرانی پارلیمنٹ میں دونوں کی ملاقات کے موقع پر لی گئی تھی،

    حماس کے عسکری رہنما محمد ضیف 13 جولائی کو فضائی حملے میں مارے گئے،اسرائیل کا دعویٰ
    علاوہ ازیں اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے محمد ضیف گزشتہ ماہ خان یونس پر فضائی حملے کے دوران مارا گیا تھا۔
    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس جائزوں کے بعد وہ اس بات کی تصدیق کرنے میں کامیاب ہوئی کہ حماس کی عسکری شاخ کے کمانڈر محمد ضعیف غزہ کی پٹی میں خان یونس پر 13 جولائی (23 جولائی) کو اسرائیلی فوج کے جنگجوؤں کے حملے کے دوران مارے گئے تھے۔ "حماس نے پہلے ضعیف کی موت کی تردید کی تھی اور اس نئی خبر پر ابھی تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ 13 جولائی کے حملے میں الضیف نہیں بچ سکے، جنگ کا مقصد پورا ہوگیا ہے،واضح رہے کہ حماس کے عسکری رہنما محمد الضیف ابراہیم المصری نے 7 اکتوبر کو طوفان الاقصیٰ آپریشن شروع کیا تھا

    اسرائیل اسماعیل ھنیہ پر پہلے بھی قاتلانہ حملے کر چکا تھا، 2003 میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں شیخ احمد یاسین شہید اور اسماعیل ھنیہ زخمی ہوئے تھے، 2006 میں غزہ میں ھنیہ کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ قاتلانہ حملے کے نتیجے میں اس کا ایک ساتھی جاں بحق اور پانچ افراد زخمی ہوئے تھے، 2014 میں اسرائیل نے غزہ میں ھنیہ کے گھر کو بار بار نشانہ بنایا۔ 2024 میں اسرائیلی فورسز نے ہنیہ کو اس وقت قتل کر دیا، جب وہ ایران کے دارالحکومت تہران میں موجود تھے۔

    سعودی عرب کا اسماعیل ہنیہ کی شہادت پراسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس کے انعقاد کا خیر مقدم
    سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے ایران کے قائم مقام وزیر خارجہ علی باقری سے گفتگو میں صیہونی حکومت کی جانب سے اسماعیل ہنیہ کے قتل اور اسلامی جمہوریہ ایران کی ارضی سالمیت کے خلاف جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے، علاقائی حالات کو بحرانی اور خطرناک قرار دیا۔خبر رساں ادارے ارنا کے مطقب قائم مقام وزیر خارجہ علی باقری نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ امیر فیصل بن فرحان کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں صیہونی حکومت کے ہاتھوں اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد کے حالات پر تبادلہ خیال کیا،انہوں نے ایران کے نو منتخب صدر کی تقریب حلف برداری میں سعودی عرب کے وفد کی شرکت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ جعلی صیہونی حکومت نے تمام ریڈ لائنوں کو پار کرتے ہوئے، اسماعیل ہنیہ کو شہید کیا اور ایران کی قومی سلامتی کے خلاف جارحیت کرکے علاقے میں امن و پائیداری کو سنجیدہ خطرے میں ڈال دیا ہے،انہوں نے زور دیا کہ ایران اپنے قانونی جائز حق کو استعمال کرتے ہوئے جعلی صیہونی حکومت کے خلاف پچھتانے پر مجبور کرنے والا اور فیصلہ کن اقدام کرے گا تاکہ غاصب صیہونی حکومت کے مسلسل جنون کو ابدی پشیمانی میں بدل دیا جائے،سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے بھی صیہونی حکومت کے ہاتھوں اسماعیل ہنیہ کے قتل اور اسلامی جمہوریہ ایران کی ارضی سالمیت کے خلاف جارحیت کی مذمت کی اور خطے کی صورتحال کو نازک اور خطرناک قرار دیا،انہوں نے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس کے انعقاد کا خیر مقدم کرتا ہے، انہوں نے اسی طرح دونوں ممالک کے درمیان تبادلہ خیال کے جاری رہنے پربھی زور دیا۔

  • حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ہنیہ تہران میں قاتلانہ حملے میں شہید ہوگئے ہیں

    پاسداران انقلاب نے اسماعیل ہنیہ کے تہران میں شہید ہونے کی تصدیق کی ہے جب کہ حملے میں ان کا ایک محافظ بھی شہید ہوا ہے،ایرانی ٹی وی کا کہنا ہےکہ اسماعیل ہنیہ ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کیلئے تہران میں موجود تھے ان کی قیام گاہ پر حملہ کرکے انہیں شہید کیا گیا،ایران کا کہنا ہےکہ قاتلانہ حملے کی تحقیقات کے نتائج جلد سامنے لائے جائیں گے

    فوری طور پر اسماعیل ہنیہ پر حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی، لیکن سب کا گمان اسرائیل پر ہے کیونکہ اسرائیل نے 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد اسماعیل ہنیہ اور حماس کے دیگر رہنماؤں کو قتل کرنے کی دھمکی دی تھی، ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر تجزیہ کاروں نے فوری طور پر اس حملے کا الزام اسرائیل پر لگایا تاہم خود اسرائیل نے ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ، وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا .

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ حماس کے سربراہ پر حملے کے ذمہ داران کو سزا دی جائے گی، اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر فلسطینی عوام، عرب عوام، امت مسلمہ اور دنیا بھر کے انصاف پسند عوام سے اظہار تعزیت کرتے ہیں۔خبر ایجنسی کے مطابق حماس رہنما اسماعیل ہنیہ فلسطینی گروپ کی بین الاقوامی سفارت کاری کا چہرہ تھے، وہ غزہ جنگ بندی مذاکرات میں بطور مذاکرات کار شریک تھے، غزہ میں سفری پابندیوں سے بچنے کیلئے اسماعیل ہنیہ ترکیے اور قطر میں رہتے تھے۔

    اسماعیل ہنیہ کو تہرا ن کے گیسٹ ہاؤس میں میزائل سے نشانہ بنایا گیا،اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ
    میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وقت کے مطابق رات تقریباً 2 بجے تہران کے قلب میں ایک میزائل فائرکیا گیا جہاں اسماعیل ہنیہ اپنے محافظ سمیت موجود تھے،غزہ جنگ کے دوران اسرائیلی حملے میں اسماعیل ہنیہ کے تین بیٹے اور4 پوتے شہید ہوئے،اسماعیل ہنیہ کے خاندان کے کم از کم ساٹھ افراد شہید ہو چکے ہیں، ایرانی میڈیا کے مطابق اسماعیل ہنیہ کو یہودی ایجنٹوں نے نشانہ بنایا، ان پر حملے کی تفتیش کا آغاز کر دیا ہے، قاتلانہ حملے کی تحقیقات جلد سامنے لائی جائیں گی،اسرائیلی میڈیا نے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت سے متعلق کہا ہے کہ اسرائیلی وقت کے مطابق رات تقریباً 2 بجےتہران کے قلب میں ایک میزائل فائرکیا گیا اور اس مقام کو نشانہ بنایا گیا جہاں ہنیہ اپنے محافظ سمیت موجود تھے، اسماعیل ہنیہ ایران کے شمال میں ایک عمارت میں مقیم تھے اور وہ جس عمارت میں مقیم تھے وہ ایرانی پاسداران انقلاب کے گیسٹ ہاؤس کے طور پراستعمال ہوتی تھی،اسرائیلی فوج نے حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے،امریکی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے کا کہنا ہے وہ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کا جواب نہیں دیتے

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد فلسطینی مزاحمتی گروپوں نے رام اللّٰہ اور نابلس میں عام ہڑتال اور بڑے پیمانے پر مظاہروں کا اعلان کیا ہے، اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر النجاہ یونیورسٹی نے سوگ میں کلاسز اور کام معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے،

    اسرائیلی حکومت اسماعیل ہنیہ کے قتل اور ایرانی خود مختاری پر حملے کے گناہ پر پچھتائے گی،مہر الطاف
    پاپولر فرنٹ فار لبریشن آف فلسطین کے ترجمان مہر الطاہر نے کہا ہے کہ شہید اسماعیل ہنیہ نے فلسطین کاز کے لیے اپنا سب سے قیمتی مال دیا، فلسطینی اپنے مقصد کیلئے ہر عزیز اور قیمتی چیز پیش کرنے کو تیار ہیں،دشمن اسرائیل تمام سرخ لکیروں کو عبور کر گیا ہے، اسرائیل نے معاملات کو ایک جامع جنگ کی طرف دھکیل دیا ہے، مزاحمتی تنظیمیں جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہیں،اسرائیلی حکومت اسماعیل ہنیہ کے قتل اور ایرانی خود مختاری پر حملے کے گناہ پر پچھتائے گی، شہید اسماعیل ہنیہ کا قتل امریکی مدد کے بغیر نہیں ہوسکتا تھا،

    اسماعیل ہنیہ کا خون رائیگاں نہیں جائے گا،ایرانی وزارت خارجہ
    ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت، ایران اور فلسطین کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے، اسماعیل ہنیہ کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، روس اور ترکیے نے حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ پر قاتلانہ حملے کی مذمت کی ہے،روس نے حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے ‘ناقابل قبول سیاسی قتل’ قرار دیا ہے ، ترکی سمیت مختلف بین الاقوامی اداروں کی طرف سے مذمت کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، فلسطینی صدر محمود عباس نے بھی اس قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے ‘بزدلانہ کارروائی’ اور ‘خطرناک پیش رفت’ قرار دیا۔

    ایران اپنی علاقائی سالمیت اور وقار کا دفاع کرے گا، ایرانی صدر
    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر کہا کہ ایران اپنی علاقائی سالمیت اور وقار کا دفاع کرے گا، ایران دہشتگرد قابضین کو اسماعیل ہنیہ کے قتل کے بزدلانہ عمل پر پچھتانے پر مجبور کردے گا۔ایرانی سپریم لیڈر نے کہا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کا بدلہ تہران کا فرض ہے،ہنیہ کو قتل کر کے اسرائیل نے خود کو سخت سزا دینے کی راہ ہموار کی۔ہنیہ کے خون کا بدلہ لینا ایران پر فرض ہے کیونکہ وہ ہماری سرزمین پر شہید ہوئے۔

    اسماعیل ہنیہ کی تدفین دوحہ قطرمیں ہو گی
    ایرانی میڈیا کے مطابق حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی تدفین دوحہ قطر میں کی جائے گی، نماز جنازہ جمعہ کو ادا کیا جائے گا، قطر نے بھی اسماعیل ہنیہ پر حملے کی مذمت کی ہے

    گھس کر اسرائیل کا حملہ ،ایران کی بدترین انٹیلی جنس اور عسکری سیاسی سفارتی ناکامی
    ایران کے دارالحکومت میں گھس کر اسرائیل کا حملہ ،ایران کی بدترین انٹیلی جنس اور عسکری سیاسی سفارتی ناکامی ہے ،اسرائیلی دہشت گرد ایجنسی موساد اس قدر ایران کی مداخلت رکھتی ہے یہ واضح دلیل ہے ،اسرائیل نے ایرانی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کیا ، پھر اسرائیلی انٹیلی ایجنسی موساد نے ایران کے ایٹمی بم کے معمار محسن فخری زادہ سمیت 5 اہم جوہری سائنسدانوں کو ایران کے اندر قتل کردیا،شام میں ایرانی سفارت خانے پر بمباری کرکے اہم کمانڈر قتل کردیے ، مگر ایران باتوں کی حد تک اسرائیل کا بہت نقصان کرچکا ہے یوں آج ایک بار پھر ایران کے سرکاری مہمان اسماعیل ہنیہ کو تہران میں شہید کر دیا گیا مگر ہمیشہ کی طرح ایران نے اس بار پھر باتوں اور جذباتی بیان کا سہارا لیا۔ اب دنیا کے سربراہان ایران جانے سے واقعی ڈریں گے کہ وہ محفوظ نہیں ہے ،بحرحال آج اسماعیل ھنیہ پر حملے کے بعد مشرق وسطی میں ایک ناختم ہونے والی آگ بھڑک اٹھی ہے ،اب یہ آگ بڑی مشکل سے بجھے تو بجھے ورنہ یہ جنگ اور زیادہ پھیلے گی

    صاف نظر آرہا ہے کہ جنگ اب غزہ تک محدود نہیں رہے گی۔حافظ نعیم الرحمان
    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر ردعمل میں کہا ہے کہ قیام ، ہجرت اور شہادت ،دنیا کی ظالم ترین طاقتوں کا بے جگری سے مقابلہ کرنے والا اللہ کا شیر اسماعیل ہنیہ سرخرو ہوگیا، پہلے اپنے خاندان کو راہ خدا میں قربان کیا پھر خود بھی جنت کا مسافر بن گیا، شہادت ایک مسلمان کی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ راحتوں بھری نئی زندگی کا آغاز ہے، اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کو اس ظلم کی قیمت چکانا ہوگی۔ اسرائیلی اقدام نے اس پورے خطے کو نئی آزمائش میں ڈال دیا ہے ، صاف نظر آرہا ہے کہ جنگ اب غزہ تک محدود نہیں رہے گی۔ نئی صف بندی ہوگی، کیا عالم اسلام کے حکمران اب بھی آنکھیں بند کیے اسرائیل کی خاموش حمایت کرتے رہیں گے ؟ کیا وقت نہیں آگیا کہ ظالم کے ہاتھ کو کاٹ ڈالا جائے؟

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،مولانا فضل الرحمان کی جمعہ کو ملک گیر احتجاج کی کال
    جمعیۃ علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نےحماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جمعیۃ علماء اسلام اسماعیل ھنیہ کے خاندان اور فلسطینیوں کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ اسماعیل ھنیہ کی شہادت سے فلسطین کی آزادی کی تحریک ختم نہیں ہو گی۔اسماعیل ھنیہ سے ملاقات ہوئی تو وہ شہادت کے جذبہ سے سرشار تھے۔ اسماعیل ھنیہ اور انکے خاندان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔شہید رہنما اسماعیل ھنیہ کی خدمات کے اعتراف میں آج قومی اسمبلی، سینیٹ خیبرپختونخوا اور بلوچستان اسمبلی کے اجلاسوں میں قرادادیں پیش کریں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے شیخ اسماعیل ھنیہ کی بلندی درجات کیلئے پاکستان کی پوری قوم بالخصوص مدارس مساجد اور گھروں میں قرآن خوانی کی اپیل کر دی،مولانا فضل الرحمان نے جمعہ کے روز ملک بھر میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور اسماعیل ھنیہ کی شھادت پر احتجاج کی کال دے دی اور کہا کہ ملک بھر میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور شیخ اسماعیل ھنیہ کی شھادت پر بھرپور مظاہرے کئے جائیں گے ۔

    حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل سے مشرق وسطیٰ میں ایک مکمل جنگ کے خدشات کو گہرا کر دیا گیا ہے۔اسماعیل ہنیہ ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسند گروپ کے دوسرے رہنما ہیں جن کی حالیہ دنوں میں موت ہوئی ہے۔ہنیہ کی موت حماس کے لیے ایک اہم دھچکا ہے، ایک بیان میں، حماس نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ اسرائیل نے منگل کو ایران کے نئے صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے بعد، تہران میں ان کی رہائش گاہ پر اسماعیل ہنیہ اور محافظ کو نشانہ بنایا

    دوسری جانب اسرائیل نے تصدیق کی کہ اس نے منگل کے روز لبنان کے شہر بیروت میں ایک حملہ کیا جس میں حزب اللہ کا سب سے سینئر فوجی کمانڈر ہلاک ہوا، جسے اس نے اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں میں ایک مہلک حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ 8 اکتوبر کو حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان محاذ آرائی شروع ہونے کے بعد سے فواد شکر کا قتل اسرائیل کی سب سے سنگین کشیدگی تھی۔

    اسماعیل ہنیہ کا قتل مشرق وسطیٰ کے لیے خاص طور پر پریشان کن وقت پر ہوا ہے، جس میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم نے ایک وسیع علاقائی جنگ میں پھیلنے کی دھمکی دی ہے ،حماس نے غزہ میں اسرائیلی فوج کے خلاف جنگ جاری رکھی ہوئی ہے ،حماس کے پولیٹیکل بیورو کے رکن موسیٰ ابو مرزوق نے کہا کہ ہنیہ کی موت "بیکار نہیں جائے گی.

    اگر اسرائیل پر حملہ ہوا تو امریکا اس کے دفاع میں مدد کرے گا۔امریکی وزیر دفاع
    وائٹ ہاؤس نے کہا کہ اس نے ہنیہ کی موت کی خبریں دیکھی ہیں لیکن ترجمان کے مطابق اس نے فوری طور پر مزید تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔ فلپائن کے دورے کے دوران امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ ناگزیر ہے لیکن اگر اسرائیل پر حملہ ہوا تو امریکا اس کے دفاع میں مدد کرے گا۔

    ہنیہ غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے آغاز کے بعد سے مارے جانے والے حماس کے دوسرے سینئر رہنما ہیں۔ جنوری میں حماس کے سیاسی بیورو کے نائب سربراہ صالح العروری لبنان کے دارالحکومت بیروت میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔ عروری کو حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز کے بانی ارکان میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔سی این این کے سیاسی اور خارجہ پالیسی کے تجزیہ کار بارک راوید نے کہا کہ اسرائیلی حکومت ہنیہ کو حماس کے 7 اکتوبر کے حملوں کے ذمہ داروں میں سے ایک کے طور پر دیکھتی ہے اور اگرچہ وہ عسکری طور پر اہم نہیں ہے، لیکن اس کی موت کا یرغمالیوں اور جنگ بندی کے جاری مذاکرات پر "کافی اثر پڑے گا”۔

    اسماعیل ہنیہ کو قتل کر کے اسرائیل نے پیغام دیاہے کہ ہمیں کوئی روک نہیں سکتا،شیری رحمان
    نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کو قتل کر کے اسرائیل نے پیغام دیاہے کہ ہمیں کوئی روک نہیں سکتا، اسرائیل جنگ کو روکنے کے بجائے اسے پھیلا رہا ہے،تہران کی سرزمین پر اس سنگین حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل مذاکرات اور جنگ بندی میں سنجیدہ نہیں ہے،یہ ناصرف حماس بلکہ ایران کی خودمختیاری پر بھی حملہ ہے، اس عمل کی وجہ سے مشرق وسطی کے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں،اگر مشرق وسطی کے حالات کشیدہ ہونگے تو اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑے گے،

    پاکستان خطے میں بڑھتی ہوئی اسرائیلی مہم جوئی پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے, ترجمان دفتر خارجہ
    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلو چ نے لہا ہے کہ پاکستان آج تہران میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کے قتل کی مذمت کرتا ہے,ہم ان کے اہل خانہ اور فلسطینی عوام کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہیں, پاکستان دہشت گردی کی اس کی تمام شکلوں اور مظاہر میں مذمت کرتا ہے, ان کا قتل ماورائے عدالت قتل ہے، ایران کے صدر کی حلف برداری تقریب میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم سمیت متعدد غیر ملکی شخصیات شریک تھیں, پاکستان خطے میں بڑھتی ہوئی اسرائیلی مہم جوئی پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے, اس کی تازہ ترین کارروائیاں پہلے سے ہی عدم استحکام کا شکار خطے میں ایک خطرناک اضافہ ہے, اس سے امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے,

    حماس کے اسرائیل پر سات اکتوبر کو حملے اور پھر اسرائیل کے غزہ پر حملے کے دوران اسماعیل ہنیہ کے خاندان کے درجنوں افراد کی موت ہو چکی ہے، اب تک ہنیہ خاندان کے 60 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں، غزہ میں مقیم اسماعیل ہنیہ کے خاندان کے کئی افراد کو اسرائیل نشانہ بنا چکا ہے، جون میں میں اسرائیلی فضائی حملے میں اسماعیل ہنیہ کے خاندان کے 10 افراد شہید ہوئے تھے، اپریل میں اسماعیل ہنیہ کے 3 بیٹے، حازم، عامر اور محمد بمباری سے شہید ہوئے تھے جبکہ اس حملے میں اسماعیل ہنیہ کی 3 پوتیاں اور ایک پوتا بھی شہید ہوئے تھے، اسرائیل اسماعیل ہنیہ سے قبل بھی حماس کے کئی رہنماؤں کو شہید کرچکا ہے۔

    اسماعیل ہنیہ کے قتل سے غزہ جنگ بندی کے مذاکرات کو خطرہ پہنچ سکتا ہے،قطری وزیراعظم
    قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی کا کہنا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کے قتل سے غزہ جنگ بندی کے مذاکرات کو خطرہ پہنچ سکتا ہے، بات چیت کے دوران سیاسی قتل اور غزہ میں شہریوں کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے، ایک فریق دوسری طرف کے مذاکرات کار کو قتل کردے تو ثالثی کیسے کامیاب ہوسکتی ہے، امن کیلئے سنجیدہ شراکت داروں کی ضرورت ہے، انسانی زندگی کو نظر انداز کرنے کے خلاف بھی عالمی مؤقف کی ضرورت ہے

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کے قتل کا مقصدفلسطینیوں کے حوصلے پست کرنا اور انہیں ڈرانا ہے،ترک صدر
    ترک صدر طیب اردوان نے اسماعیل ھنیہ کی شہادت پر تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ میں تہران میں حماس کے پولیٹیکل بیورو کے چیئرمین اسماعیل ھنیہ کے قتل کی شدید مذمت کرتا ہوں،یہ قتل دراصل ایک قابل نفرت عمل ہے جس کا مقصد فلسطینی کاز، غزہ کی شاندار مزاحمت اور ہمارے فلسطینی بھائیوں کی منصفانہ جدوجہد کو متاثر کرنا اور فلسطینیوں کے حوصلے پست کرنا اور انہیں ڈرانا ہے۔میرے بھائی اسماعیل ہنیہ کے خلاف قتل کا مقصد وہی ہے جو شیخ احمد یاسین، عبدالعزیز الرنتیسی اور غزہ کی دیگر کئی سیاسی شخصیات پر گھناؤنے حملوں کا مقصد تھا۔ تاہم صہیونی بربریت اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکے گی جیسا کہ وہ اب تک نہیں کر چکی ہے۔امید ہے کہ عالم اسلام کے مضبوط موقف اور اتحاد انسانیت کے ساتھ اسرائیل کی طرف سے ہمارے جغرافیہ پر مسلط کی گئی دہشت گردی بالخصوص غزہ میں ظلم اور نسل کشی کا خاتمہ ضرور ہو گا اور ہمارا خطہ اور ہماری دنیا میں امن قائم ہو گا۔ بطور ترکی کے صدر ہونے کے ہم ہر طرح کی کوششیں جاری رکھیں گے، تمام تدبیریں آگے بڑھاتے رہیں گے اور اپنے تمام وسائل اور اپنی پوری طاقت سے اپنے فلسطینی بھائیوں کی حمایت کرتے رہیں گے،ہم 1967 کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد، خودمختار اور خودمختار ریاست فلسطین کے قیام کے لیے کام جاری رکھیں گے، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔ خدا میرے بھائی اسماعیل ھنیہ پر رحم کرے جو اس گھناؤنے حملے کے نتیجے میں شہید ہوئے ہیں اور اللہ ان کی شہادت قبول فرمائے میں ان کے اہل خانہ کے لیے صبر جمیل اور اپنے غزہ اور فلسطینی بھائیوں اور عالم اسلام سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ خدا آپ کو اپنی جنت اور خوبصورت انعامات سے نوازے۔

    turk hania

    ترک اپوزیشن رہنما پروفیسر احمد داؤد اولونے کہا ہے کہ ایران کے صدر کو مبارکباد دینے آئے مہمان کی حفاظت نہ کرنا بہت بڑی نااہلی ہے۔ تہران میں سید علی خامنائی محفوظ ہے اور اسماعیل ھنیہ کو قتل کر دیا گیا ہے، یہ کردار تو کوفیوں نے بھی ادا کیا تھا۔

    حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ہانیہ جہاد فلسطین کے روح رواں اور امت مسلمہ کے ہیرو تھے۔ڈاکٹر حمیرا طارق
    فلسطین کی تحریک مزاحمت حماس کے سیاسی رہنما اور فلسطین کے سابق وزیراعظم اسماعیل ہانیہ کی تہران میں اسرائیلی حملے میں شہادت پر سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق صدر وسطی پنجاب نازیہ توحیداور صدر لاہور عظمی عمران نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ڈاکٹر اسماعیل ہانیہ کی شہادت صرف حماس فلسطین اور عرب کا نہیں بلکہ اس نقصان نے پوری امت مسلمہ کو غمزدہ کردیا ہے، ڈاکٹر اسماعیل ہانیہ ایمان و یقین کی مجسم صورت عظیم مثال تھے، یہ وہ شخصیت تھے جنہیں دیکھ کر صحابہ کی یاد تازہ ہوجاتی تھی، 7 مہینوں کی قلیل مدت میں یہود و ہنود اور ان کے پیروکاروں نے اسماعیل ہانیہ کے حوصلے پست کرنے کےلئے ان کی والدہ تین بیٹے، ایک بیٹی دو بھائی 2 بہنیں بھانجوں اور بھتیجوں سمیت ہانیہ خاندان کے 39 افراد کو بے دردی سے شہید کر دیا ۔ مگر ان کے عزم و استقلال میں کمی نہ آئی -ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ اللہ کی راہ میں جان دینے والے کبھی نہیں مرتے وہ شہید ہیں۔یہ اسرائیلی اقدام فلسطینی عوام کے جدوجہد آزادی کی تحریک اور جذبہ شہادت کو مہمیز دے گا۔نازیہ توحید نےکہاکہ ہم پوری فلسطینی قوم اور ملت اسلامیہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کرتے ہیں اللہ تعالٰی حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کے سربراہ کو اپنے پاس بہت اعلی مقام عطا فرمائے فلسطینی قوم اور امت کے سب شہیدوں کی شہادتوں کو قبول فرمائے,عظمی عمران نے کہا کہ غزہ کی آزادی سے امت کی آنکھیں ٹھنڈی فرمائے اور امت کے تمام قائدین کی جانوں کی حفاظت فرمائے اور ان سے امت کی سربلندی کا کام لے لے-اس سانحہ ارتحال پر ڈپٹی سیکرٹری ثمینہ سعید ،ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی ،عطیہ نثار ، عفت سجاد اور ڈاکٹر زبیدہ جبیں،طیبہ عاطف نے بھی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور اہل خانہ کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی ہے .

    امریکا نے اسماعیل ہنیہ پر حملے اور قتل میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے،امریکا کے وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے غیرملکی میڈیا کو انٹرویو میں کہا کہ حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کی موت میں امریکا ملوث نہیں،غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی اہم ہے، کشیدگی کو کم کرنے کا بہترین طریقہ جنگ بندی ہے۔

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،اسلام آباد ہائیکورٹ بار کا تین روزہ سوگ کااعلان
    اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اعلامیے میں کہا ہے کہ بار ایسوسی ایشن اسرائیل کے اس بزدلانہ فعل کی شدید مذمت اور حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر سلام پیش کرتی ہے، اقوام متحدہ حملے میں ملوث ملک کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے، اسرائیل پر عالمی پابندیاں لگائی جائیں اور غزہ میں نسل کشی فوراً بند کی جائے۔

    اسماعیل ہنیہ کی خدمات اور شہادت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،خیبرپختونخوا اسمبلی میں قرارداد
    جے یو آئی کی رکن صوبائی اسمبلی ریحانہ اسماعیل نے خیبر پختونخواہ اسمبلی میں اسماعیل ہنیہ کی خدمات پر قرارداد پیش کی۔ریحانہ اسماعیل کی پیش کردہ قرارداد میں فلسطینی رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا گیا،خیبر پختونخواہ اسمبلی میں ریحانہ اسماعیل کی جانب سے فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کی قرارداد جمع کروائی گئی،ریحانہ اسماعیل نے خیبر پختونخواہ اسمبلی میں اسماعیل ہنیہ کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا۔قراردار میں کہا گیا کہ اسماعیل ہنیہ کی خدمات اور شہادت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ریحانہ اسماعیل کی قرارداد کے ذریعے خیبر پختونخواہ اسمبلی نے فلسطینی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر ایران کا تین روزہ سوگ کا اعلان
    اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد ایران کی حکومت نے تین روز کے عام سوگ کا اعلان کیا ہے، ایرانی حکومت نے ایران کے سرکاری سفارتی مہمان اسماعیل ہنیہ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے نا قابل علاج صیہونی حکومت کے دہشت گرد ہونے کا ایک اور ثبوت قرار دیا کہ جس کے شر سے دنیا کا کوئی بھی علاقہ محفوظ نہیں ہے ،ایرانی حکومت کے مطابق عظیم سانحہ پر تعزیت پیش کرنے اور فلسطین کی مظلوم قوم اور شہید ہنیہ کے لواحقین سے ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے بدھ، جمعرات اور جمعہ کو قومی سوگ کا اعلان کیا گیاہے

  • برطانیہ نے اسرائیل کو بڑا دھچکا دے دیا

    برطانیہ نے اسرائیل کو بڑا دھچکا دے دیا

    اسرائیل کو بڑا دھچکا لگ گیا،برطانیہ عالمی عدالت میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے وارنٹ کی درخواست کو چیلنج کرنے سے دستبردار ہو گیا ہے

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ترجمان برطانوی وزیراعظم کا کہنا ہے ہمارا مؤقف واضح ہے کہ یہ عدالت کا معاملہ ہے لہٰذا وہی فیصلہ کرے گی،عالمی اور ملکی سطح پر قانون کی حکمرانی اور اختیارات کی منتقلی پر یقین رکھتے ہیں۔

    واضح رہے کہ چیف پراسیکیوٹر آئی سی سی کریم خان نے مئی میں اسرائیلی وزیراعظم اور وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے غزہ جنگ کے دوران جنگی جرائم میں ملوث ہونے پر ان کے وارنٹ کی درخواست دی تھی،چیف پراسیکیوٹر نے فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے تین رہنماؤں کے وارنٹ کے لیے بھی ایسی ہی درخواست کی تھی

    میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ کی سابق حکومت کا مؤقف تھا کہ اوسلو معاہدے کے تحت فلسطین اسرائیلیوں پر مجرمانہ دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتا،سابق برطانوی وزیراعظم رشی سوناک کی حکومت نے آئی سی سی پراسیکیوٹر کا نیتن یاہو اور یوو گیلنٹ کے وارنٹ کی درخواست کا فیصلہ چیلنج کیا تھا،الجزیرہ کے مطابق برطانیہ کی نئی حکومت سمجھتی ہے کہ اسرائیل کو سپورٹ کرنے کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ نیتن یاہو کے جنگی جرائم کو سپورٹ کیا جائے،

    قبل ازیں فرانس نےاپنے مغربی اتحادیوں کے برعکس عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے چیف پراسیکیوٹر کی اسرائیلی وزیراعظم کے وارنٹ گرفتاری کی درخواست کی حمایت کردی۔ فرانسیسی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہےکہ عدالت پر منحصر ہےکہ وہ شواہد کی جانچ پڑتال کے بعد وارنٹ جاری کرنےکا فیصلہ کرے،عالمی فوجداری عدالت، اس کی آزادی اور استثنیٰ کے خلاف جنگ کی حمایت کرتے ہیں، غزہ پٹی میں شہریوں کی ہلاکتوں کی ناقابل قبول سطح اور امداد کی رسائی میں کمی پرکئی مہینوں سے خبردار کر رہے ہیں۔

    عالمی عدالت انصاف ، اسرائیلی وزیراعظم،وزیر دفاع،حماس رہنماؤں کے وارنٹ کی استدعا

    حماس مجاہدین نےمتعدد اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنا لیا

    اسرائیل کا عالمی عدالت کا فیصلہ ماننے سے انکار

    اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو جرمنی میں داخل ہوئے تو گرفتار کرلیا جائے گا،جرمن چانسلر

  • نائن الیون سے 20 گنا زیادہ بڑا حملہ حماس نے 7 اکتوبر کو کیا،اسرائیلی وزیراعظم

    نائن الیون سے 20 گنا زیادہ بڑا حملہ حماس نے 7 اکتوبر کو کیا،اسرائیلی وزیراعظم

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی کانگریس سے خطاب کیا ہے، اس دوران اسرائیلی وزیراعظم نے واشنگٹن میں اسرائیل کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے اسرائیل کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے۔

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا خطاب ایک گھنٹے تک جاری رہا ،نیتن یاہو نے خطاب کے شروع میں کہا مجھے خوشی ہے کہ میں چوتھی بار امریکی پارلیمنٹ سے خطاب کررہا ہوں ،نیتن یاہو نے امریکی سیاست دانوں کو شکریہ ادا کیا اور کہا کہ امریکا اسرائیل ازلی دوست ہیں ، اس وقت اسرائیل ایک بڑی جنگ لڑ رہا ہے یہ جنگ تہذیبوں اور بربریت کی جنگ ہے،یہ جنگ ان لوگوں کے ساتھ لڑی جارہی ہے جو مرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور مرنے کو اعزاز مانتے ہیں یہ جنگ اسرائیل صرف اپنے لیے نہیں لڑ رہا ہے بلکہ یہ جنگ امریکا کے لیے بھی لڑی جارہی ہے .نیتن یاہو نے کہا کہ ہم حماس کے خلاف جیتیں گے اور تب تک لڑیں گے جب تک ہم مکمل فتح حاصل نا کرلیں،حماس نے 7 اکتوبر کو بدترین حملہ کیا یہ دن ہمیشہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا ،امریکا کے نائن الیون سے 20 گنا زیادہ بڑا حملہ حماس نے 7 اکتوبر کو کیا ہے ،ہم حماس کو ختم کریں گے تاکہ آئندہ کبھی اسرائیل پر سات اکتوبر کی طرح حملہ نا ہوسکے ،

    نیتن یاہو نے کہا کہ امریکی پارلیمنٹ کے باہر جو لوگ احتجاج کررہے ہیں وہ ایران نواز ہیں ،ایران نے ان کو فنڈنگ کی ہے وہ حماس کے لیے احتجاج کررہے ہیں یہ امریکا کے لیے شرم اور عار کی بات ہے ،نیتن یاہو نے کہا ایران امریکا کا نمبر ون دشمن ہے ،اسرائیل ایران نواز قوتوں سے یعنی حزب اللہ حوثی اور حماس سے لڑ رہا ہے ،اسرائیلی فوج بڑی بہادر ہے جو اپنے دفاع کی خطرناک جنگ غزہ میں لڑ رہی ہے ،اسرائیلی فوج نے غزہ میں کسی عام آدمی کو قتل نہیں کیا ،حماس اسرائیل کو بدنام کرنے اور جنگ کو ختم کرنے کےلیے جھوٹ بولتا ہے ،حماس امدادی سامان کے قافلے لوٹ لیتا ہے ،غزہ کے لوگوں پر ظلم کا سبب حماس ہے نا کہ اسرائیل ،غزہ کی جنگ آج بند ہوسکتی ہے اگر حماس ہتھیار پھینک دے اور خود کو ہمارے حوالے کردے،

    نیتن یاہو نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف اسرائیل کو اپنے دفاع سے روکنا چاہتی ہے ،اسرائیل کے خلاف غلط فیصلے دے رہی ہے امریکا اگر تم نے عالمی عدالت انصاف کو نا روکا تو یہ کل کو امریکا کے خلاف فیصلے دے گی ،نیتن یاہو نے کہا فلسطین کی ساری سرزمین یہودیوں کی سرزمین ہے ،اس سرزمین کے 4000 سال سے یہودی مالک ہیں ،یہودی کبھی بھی بیت المقدس یروشلم کو تقسیم ہونے نہیں دیں گے ،یہ یہودیوں کا ہمیشہ سے دارالخلافہ ہے ،نیتن یاہو نے کہا اسرائیل مشروق وسطی میں امن کے لیے ایک نیا اتحاد تشکیل دینا چاہتا ہے ،جو ابراہیمی اتحاد ہوگا ،میں مشرق وسطیٰ کے اپنے عرب دوستوں کو کہتا ہوں کہ آؤ اسرائیل کے اس اتحاد میں شامل ہو جاؤ تاکہ ہم مل کر ایران اور اس کی قوتوں کے خلاف لڑیں ،ایران ایک ریڈیکل یعنی شدت پسند اسلام کو پھیلانا چاہتا ہے ، آؤ ہم ابراہیمی مذہب کے تحت متحد ہوجائیں ،نیتن یاہو نے کہا جوبائیڈن اور ٹرمپ اسرائیل کے دوست ہیں ،میں جوبائیڈن کو چالیس سال سے جانتا ہوں وہ کٹر صہیونی ہے جوبائیڈن نے اس جنگ میں اسرائیل کا بھرپور ساتھ دیا ہے جس پر ہم شکر گزار ہیں،

    اسرائیلی وزیراعظم کےخطاب کے دوران 50 بار تقریبا اراکین پارلیمنٹ نے تالیاں بجائیں .

    سابق امریکی اسپیکر نے امریکی کانگریس سے اسرائیلی وزیراعظم کے خطاب کو امریکی کانگریس کی تاریخ کا بدترین خطاب قرار دے دیا، نینسی پلوسی کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی کانگریس کی تاریخ کا بدترین خطاب کیا،امریکی ایوان نمائندگان سے اسرائیلی وزیراعظم کے خطاب کے موقع پر امریکی مسلمان رکن رشیدہ طلیب نے خاموش احتجاج کیا جبکہ دیگر اراکین نے نیتن یاہو کے خطاب کا بائیکاٹ کیا،امریکی کانگریس سے اسرائیلی وزیراعظم کے خطاب کے موقع پر کانگریس کی عمارت کے باہر سینکڑوں افراد نے فلسطینیوں کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

    بنوں واقعہ،تحقیقات کر کے ذمہ داران کو سز ا دی جائیگی،بیرسٹر سیف

    بنوں حملہ،ایک اور دہشت گرد کی شناخت،افغان شہری نکلا

    دہشت گرد عثمان اللہ عرف کامران کا تعلق افغانستان کے صوبہ لوگر سے تھا۔

     بنوں میں دہشت گردی کی گھناؤنی کارروائی حافظ گل بہادر گروپ نے کی ہے،

    بونیر،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،دہشتگردوں کا سرغنہ جہنم واصل،دو جوان شہید

    ڈی آئی خان، سیکورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈی آئی خان ،دھماکے میں دو جوان شہید،پنجگور،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان، دہشتگردوں کیخلاف آپریشن،کمانڈر سمیت 8 جہنم واصل

    شمالی وزیرستان ، چوکی پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 جوان شہید

    بنوں،امن مارچ کو انتشاری ٹولے نے پرتشدد بنایا،عوام شرپسندوں سے رہیں ہوشیار

  • چین نے فلسطین کے ناراض دھڑوں میں مصالحت کروا دی

    چین نے فلسطین کے ناراض دھڑوں میں مصالحت کروا دی

    چین نے فلسطین کے ناراض دھڑوں میں مصالحت کروا دی

    مختلف فلسطینی دھڑوں نے چین میں بیجنگ اعلامیے پر دستخط کر کے اختلافات ختم کرنے اور فلسطینی اتحاد کو مضبوط کرنے پر اتفاق کیا ، چین کے سرکاری میڈیا سی سی ٹی وی کے مطابق فلسطینی دھڑوں کے درمیان بیجنگ میں 21 سے 23 جولائی تک جاری رہنے والے مصالحتی مذاکرات کی اختتامی تقریب کے دوران اعلامیے پردستخط کیے گئے، الفتح اور حماس کے رہنماؤں سمیت مجموعی طور پر 14 فلسطینی دھڑوں نے میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات کی اور اس موقع پر چین کے وزیر خارجہ وانگ یی بھی موجود تھے،چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے 14 فلسطینی دھڑوں کی طرف سے جنگ کے بعد غزہ پر حکومت کرنے کے لیے عبوری قومی مفاہمتی حکومت کے قیام کے معاہدے کو سراہا ہے۔

    حماس اور الفتح سمیت فلسطینی دھڑوں نے مصالحت کی نئی کوشش کے لیے رواں ہفتے بیجنگ میں ملاقات کی۔ چین کے اعلیٰ سفارت کار نے بتایا کہ فریقین نے مفاہمت کا عہد کیا ہے، بیجنگ اعلامیے پر دستخط کرنے کے بعد وانگ یی نے کہا کہ سب سے نمایاں بات جنگ کے بعد غزہ کی گورننس کے لیے ایک عبوری قومی مفاہمتی حکومت کی تشکیل کا معاہدہ ہے،مفاہمت فلسطینی دھڑوں کا اندرونی معاملہ ہے لیکن یہ بین الاقوامی برادری کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں، چین مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے تحفظ کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے

    2006 کے انتخابات میں حماس کی کامیابی کے بعد عسکریت پسندوں نے الفتح گروپ کو غزہ کی پٹی سے بے دخل کر دیا تھا جس کے بعد سے حماس اور الفتح بدترین حریف ہیں،2007 میں کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے اسلامی تحریک حماس نے غزہ پر حکومت کی ہے،سیکولر تحریک فتح فلسطینی اتھارٹی کو کنٹرول کرتی ہے جس کا اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے میں جزوی انتظامی کنٹرول ہے