Baaghi TV

Tag: حماس

  • برطانیہ نے اسرائیل کو بڑا دھچکا دے دیا

    برطانیہ نے اسرائیل کو بڑا دھچکا دے دیا

    اسرائیل کو بڑا دھچکا لگ گیا،برطانیہ عالمی عدالت میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے وارنٹ کی درخواست کو چیلنج کرنے سے دستبردار ہو گیا ہے

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ترجمان برطانوی وزیراعظم کا کہنا ہے ہمارا مؤقف واضح ہے کہ یہ عدالت کا معاملہ ہے لہٰذا وہی فیصلہ کرے گی،عالمی اور ملکی سطح پر قانون کی حکمرانی اور اختیارات کی منتقلی پر یقین رکھتے ہیں۔

    واضح رہے کہ چیف پراسیکیوٹر آئی سی سی کریم خان نے مئی میں اسرائیلی وزیراعظم اور وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے غزہ جنگ کے دوران جنگی جرائم میں ملوث ہونے پر ان کے وارنٹ کی درخواست دی تھی،چیف پراسیکیوٹر نے فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے تین رہنماؤں کے وارنٹ کے لیے بھی ایسی ہی درخواست کی تھی

    میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ کی سابق حکومت کا مؤقف تھا کہ اوسلو معاہدے کے تحت فلسطین اسرائیلیوں پر مجرمانہ دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتا،سابق برطانوی وزیراعظم رشی سوناک کی حکومت نے آئی سی سی پراسیکیوٹر کا نیتن یاہو اور یوو گیلنٹ کے وارنٹ کی درخواست کا فیصلہ چیلنج کیا تھا،الجزیرہ کے مطابق برطانیہ کی نئی حکومت سمجھتی ہے کہ اسرائیل کو سپورٹ کرنے کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ نیتن یاہو کے جنگی جرائم کو سپورٹ کیا جائے،

    قبل ازیں فرانس نےاپنے مغربی اتحادیوں کے برعکس عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے چیف پراسیکیوٹر کی اسرائیلی وزیراعظم کے وارنٹ گرفتاری کی درخواست کی حمایت کردی۔ فرانسیسی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہےکہ عدالت پر منحصر ہےکہ وہ شواہد کی جانچ پڑتال کے بعد وارنٹ جاری کرنےکا فیصلہ کرے،عالمی فوجداری عدالت، اس کی آزادی اور استثنیٰ کے خلاف جنگ کی حمایت کرتے ہیں، غزہ پٹی میں شہریوں کی ہلاکتوں کی ناقابل قبول سطح اور امداد کی رسائی میں کمی پرکئی مہینوں سے خبردار کر رہے ہیں۔

    عالمی عدالت انصاف ، اسرائیلی وزیراعظم،وزیر دفاع،حماس رہنماؤں کے وارنٹ کی استدعا

    حماس مجاہدین نےمتعدد اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنا لیا

    اسرائیل کا عالمی عدالت کا فیصلہ ماننے سے انکار

    اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو جرمنی میں داخل ہوئے تو گرفتار کرلیا جائے گا،جرمن چانسلر

  • نائن الیون سے 20 گنا زیادہ بڑا حملہ حماس نے 7 اکتوبر کو کیا،اسرائیلی وزیراعظم

    نائن الیون سے 20 گنا زیادہ بڑا حملہ حماس نے 7 اکتوبر کو کیا،اسرائیلی وزیراعظم

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی کانگریس سے خطاب کیا ہے، اس دوران اسرائیلی وزیراعظم نے واشنگٹن میں اسرائیل کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے اسرائیل کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے۔

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا خطاب ایک گھنٹے تک جاری رہا ،نیتن یاہو نے خطاب کے شروع میں کہا مجھے خوشی ہے کہ میں چوتھی بار امریکی پارلیمنٹ سے خطاب کررہا ہوں ،نیتن یاہو نے امریکی سیاست دانوں کو شکریہ ادا کیا اور کہا کہ امریکا اسرائیل ازلی دوست ہیں ، اس وقت اسرائیل ایک بڑی جنگ لڑ رہا ہے یہ جنگ تہذیبوں اور بربریت کی جنگ ہے،یہ جنگ ان لوگوں کے ساتھ لڑی جارہی ہے جو مرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور مرنے کو اعزاز مانتے ہیں یہ جنگ اسرائیل صرف اپنے لیے نہیں لڑ رہا ہے بلکہ یہ جنگ امریکا کے لیے بھی لڑی جارہی ہے .نیتن یاہو نے کہا کہ ہم حماس کے خلاف جیتیں گے اور تب تک لڑیں گے جب تک ہم مکمل فتح حاصل نا کرلیں،حماس نے 7 اکتوبر کو بدترین حملہ کیا یہ دن ہمیشہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا ،امریکا کے نائن الیون سے 20 گنا زیادہ بڑا حملہ حماس نے 7 اکتوبر کو کیا ہے ،ہم حماس کو ختم کریں گے تاکہ آئندہ کبھی اسرائیل پر سات اکتوبر کی طرح حملہ نا ہوسکے ،

    نیتن یاہو نے کہا کہ امریکی پارلیمنٹ کے باہر جو لوگ احتجاج کررہے ہیں وہ ایران نواز ہیں ،ایران نے ان کو فنڈنگ کی ہے وہ حماس کے لیے احتجاج کررہے ہیں یہ امریکا کے لیے شرم اور عار کی بات ہے ،نیتن یاہو نے کہا ایران امریکا کا نمبر ون دشمن ہے ،اسرائیل ایران نواز قوتوں سے یعنی حزب اللہ حوثی اور حماس سے لڑ رہا ہے ،اسرائیلی فوج بڑی بہادر ہے جو اپنے دفاع کی خطرناک جنگ غزہ میں لڑ رہی ہے ،اسرائیلی فوج نے غزہ میں کسی عام آدمی کو قتل نہیں کیا ،حماس اسرائیل کو بدنام کرنے اور جنگ کو ختم کرنے کےلیے جھوٹ بولتا ہے ،حماس امدادی سامان کے قافلے لوٹ لیتا ہے ،غزہ کے لوگوں پر ظلم کا سبب حماس ہے نا کہ اسرائیل ،غزہ کی جنگ آج بند ہوسکتی ہے اگر حماس ہتھیار پھینک دے اور خود کو ہمارے حوالے کردے،

    نیتن یاہو نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف اسرائیل کو اپنے دفاع سے روکنا چاہتی ہے ،اسرائیل کے خلاف غلط فیصلے دے رہی ہے امریکا اگر تم نے عالمی عدالت انصاف کو نا روکا تو یہ کل کو امریکا کے خلاف فیصلے دے گی ،نیتن یاہو نے کہا فلسطین کی ساری سرزمین یہودیوں کی سرزمین ہے ،اس سرزمین کے 4000 سال سے یہودی مالک ہیں ،یہودی کبھی بھی بیت المقدس یروشلم کو تقسیم ہونے نہیں دیں گے ،یہ یہودیوں کا ہمیشہ سے دارالخلافہ ہے ،نیتن یاہو نے کہا اسرائیل مشروق وسطی میں امن کے لیے ایک نیا اتحاد تشکیل دینا چاہتا ہے ،جو ابراہیمی اتحاد ہوگا ،میں مشرق وسطیٰ کے اپنے عرب دوستوں کو کہتا ہوں کہ آؤ اسرائیل کے اس اتحاد میں شامل ہو جاؤ تاکہ ہم مل کر ایران اور اس کی قوتوں کے خلاف لڑیں ،ایران ایک ریڈیکل یعنی شدت پسند اسلام کو پھیلانا چاہتا ہے ، آؤ ہم ابراہیمی مذہب کے تحت متحد ہوجائیں ،نیتن یاہو نے کہا جوبائیڈن اور ٹرمپ اسرائیل کے دوست ہیں ،میں جوبائیڈن کو چالیس سال سے جانتا ہوں وہ کٹر صہیونی ہے جوبائیڈن نے اس جنگ میں اسرائیل کا بھرپور ساتھ دیا ہے جس پر ہم شکر گزار ہیں،

    اسرائیلی وزیراعظم کےخطاب کے دوران 50 بار تقریبا اراکین پارلیمنٹ نے تالیاں بجائیں .

    سابق امریکی اسپیکر نے امریکی کانگریس سے اسرائیلی وزیراعظم کے خطاب کو امریکی کانگریس کی تاریخ کا بدترین خطاب قرار دے دیا، نینسی پلوسی کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی کانگریس کی تاریخ کا بدترین خطاب کیا،امریکی ایوان نمائندگان سے اسرائیلی وزیراعظم کے خطاب کے موقع پر امریکی مسلمان رکن رشیدہ طلیب نے خاموش احتجاج کیا جبکہ دیگر اراکین نے نیتن یاہو کے خطاب کا بائیکاٹ کیا،امریکی کانگریس سے اسرائیلی وزیراعظم کے خطاب کے موقع پر کانگریس کی عمارت کے باہر سینکڑوں افراد نے فلسطینیوں کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

    بنوں واقعہ،تحقیقات کر کے ذمہ داران کو سز ا دی جائیگی،بیرسٹر سیف

    بنوں حملہ،ایک اور دہشت گرد کی شناخت،افغان شہری نکلا

    دہشت گرد عثمان اللہ عرف کامران کا تعلق افغانستان کے صوبہ لوگر سے تھا۔

     بنوں میں دہشت گردی کی گھناؤنی کارروائی حافظ گل بہادر گروپ نے کی ہے،

    بونیر،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،دہشتگردوں کا سرغنہ جہنم واصل،دو جوان شہید

    ڈی آئی خان، سیکورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈی آئی خان ،دھماکے میں دو جوان شہید،پنجگور،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان، دہشتگردوں کیخلاف آپریشن،کمانڈر سمیت 8 جہنم واصل

    شمالی وزیرستان ، چوکی پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 جوان شہید

    بنوں،امن مارچ کو انتشاری ٹولے نے پرتشدد بنایا،عوام شرپسندوں سے رہیں ہوشیار

  • چین نے فلسطین کے ناراض دھڑوں میں مصالحت کروا دی

    چین نے فلسطین کے ناراض دھڑوں میں مصالحت کروا دی

    چین نے فلسطین کے ناراض دھڑوں میں مصالحت کروا دی

    مختلف فلسطینی دھڑوں نے چین میں بیجنگ اعلامیے پر دستخط کر کے اختلافات ختم کرنے اور فلسطینی اتحاد کو مضبوط کرنے پر اتفاق کیا ، چین کے سرکاری میڈیا سی سی ٹی وی کے مطابق فلسطینی دھڑوں کے درمیان بیجنگ میں 21 سے 23 جولائی تک جاری رہنے والے مصالحتی مذاکرات کی اختتامی تقریب کے دوران اعلامیے پردستخط کیے گئے، الفتح اور حماس کے رہنماؤں سمیت مجموعی طور پر 14 فلسطینی دھڑوں نے میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات کی اور اس موقع پر چین کے وزیر خارجہ وانگ یی بھی موجود تھے،چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے 14 فلسطینی دھڑوں کی طرف سے جنگ کے بعد غزہ پر حکومت کرنے کے لیے عبوری قومی مفاہمتی حکومت کے قیام کے معاہدے کو سراہا ہے۔

    حماس اور الفتح سمیت فلسطینی دھڑوں نے مصالحت کی نئی کوشش کے لیے رواں ہفتے بیجنگ میں ملاقات کی۔ چین کے اعلیٰ سفارت کار نے بتایا کہ فریقین نے مفاہمت کا عہد کیا ہے، بیجنگ اعلامیے پر دستخط کرنے کے بعد وانگ یی نے کہا کہ سب سے نمایاں بات جنگ کے بعد غزہ کی گورننس کے لیے ایک عبوری قومی مفاہمتی حکومت کی تشکیل کا معاہدہ ہے،مفاہمت فلسطینی دھڑوں کا اندرونی معاملہ ہے لیکن یہ بین الاقوامی برادری کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں، چین مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے تحفظ کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے

    2006 کے انتخابات میں حماس کی کامیابی کے بعد عسکریت پسندوں نے الفتح گروپ کو غزہ کی پٹی سے بے دخل کر دیا تھا جس کے بعد سے حماس اور الفتح بدترین حریف ہیں،2007 میں کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے اسلامی تحریک حماس نے غزہ پر حکومت کی ہے،سیکولر تحریک فتح فلسطینی اتھارٹی کو کنٹرول کرتی ہے جس کا اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے میں جزوی انتظامی کنٹرول ہے

  • غزہ میں حماس کی حکومت کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی،نیتن یاہو

    غزہ میں حماس کی حکومت کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی،نیتن یاہو

    تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ میں حماس کی حکومت کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی، حماس کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے۔

    باغی ٹی وی : اسرائیلی ٹی وی چینل 14 کو انٹرویو میں وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ جنگ سے متعلق اپنی منصوبہ بندی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ غزہ جنگ جلد ختم کرنے کی خواہش ہے جس کے دو فائدے ہوں گےغزہ میں جنگ کے خاتمے سے ہم لبنان کے ساتھ شمالی سرحد پر اپنی مزید فوج بھیج سکیں گے تاکہ بے گھر اسرائیلی اپنے گھروں کو محفوظ طریقے سے واپس آسکیں۔

    وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ علاوہ ازیں غزہ جنگ کے خاتمے سے اسرائیلی فوجیں لبنان میں حزب اللہ کے خلاف یکسو ہوکر بڑے پیمانے کارروائیاں کرسکیں گے جو وقت کی ضرورت بھی ہے غزہ میں حماس کی حکومت کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی، حماس کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے وہ غزہ میں حماس کی حکومت ختم کرکے علاقے کا انتظام فلسطین اتھارٹی کے حوالے کرنے کے حامی نہیں، غزہ میں حماس اور اس کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیلی فوجیں لمبے عرصے تک غزہ میں ہی رہیں گی اور سیکیورٹی معاملات کی نگرانی کریں گی۔

    ’پائریٹس آف دی کیریبین‘ کے اداکار شارک حملے میں جاں بحق

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ پر جاری اسرائیلی بمباری میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 37 ہزار سے تجاوز کرگئی جب کہ 88 ہزار کے قریب زخمی ہیں، شہید اور زخمی ہونے والوں میں نصف تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ غزہ سے اب تک 21 ہزار فلسطینی بچوں کے لاپتہ ہو نے کا انکشاف ہوا ہے۔

    الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بچوں کے حقوق اور فلاح وبہبود کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ کے نتیجے میں جو ہزاروں بچے لاپتہ ہیں وہ یا تو تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہیں یا انہیں کسی اجتماعی قبر میں دفنا دیا گیا ہے یا پھر انہیں اسرائیلی فوجی گرفتار کرکے لے گئے ہیں۔

    انڈونیشیا میں نیشنل ڈیٹا سینٹر پر سائبر حملہ، متعدد حکومتی سروسز متاثر

    سیو دی چلڈرن کے نمائندے کا کہنا ہے کہ یہ ہزاروں بچے دوران جنگ اپنے والدین سے بچھڑے اور ان میں بچوں کی ایک نامعلوم تعداد ہے جنہیں جبری لاپتہ کرکے غزہ سے باہر لے جایا گیا جہاں ان کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا جا رہا ہےغزہ میں جنگ کی صورتحال میں معلومات جمع کرنا اور ان کی تصدیق کرنا مشکل ہے مگر کم از کم 17 ہزار بچے اپنے خاندانوں سے بچھڑ گئے ہیں جب کہ 4000 بچے گھروں اور عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہیں، بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی بھی ہے جنہیں اجتماعی قبروں میں دفنا دیا گیا ہے۔

    پنجاب میں ینگ ڈاکٹر کی ہڑتال،سینئر‌ڈاکٹرز کی چھٹیاں منسوخ

  • حماس حملے کی اسرائیلی فوج کو ستمبر میں رپورٹ مل گئی تھی،اسرائیلی میڈیا

    حماس حملے کی اسرائیلی فوج کو ستمبر میں رپورٹ مل گئی تھی،اسرائیلی میڈیا

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کی رپورٹ اسرائیلی فوج کو مل چکی تھی، اسرائیلی ٹی وی چینل نے ایک رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے

    گزشتہ برس سات اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کیاجس کے بعد اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری ہیں، اب ایک اسرائیلی ٹی وی نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کو حماس کے حملے کی رپورٹ مل چکی تھی،اسرائیلی فوج کو حماس کے حملے کے حوالہ سے جو رپورٹ ملی تھی اس میں بڑے پیمانے پر حملے کا ذکر تھا وہیں شہریوں کو یرغمال بنانے کا ذکر بھی تھا،اسرائیلی ٹی وی کے مطابق اسرائیلی فوج کی 8200 انٹیلی جنس یونٹ کو 19 ستمبر کو یعنی حماس کے حملے سے تقریبا 20 روز قبل حماس کے حملے کی رپورٹ ملی تھی، اس رپورٹ کو اسرائیل کے سینئر افسران کو بھی دکھایا گیا تھا تا ہم اسرائیلی حکام نے اس رپورٹ کو مکمل نظر انداز کر دیا تھا،

    اسرائیل کے کان پبلک براڈ کاسٹر کے مطابق اسرائیلی فوج کو جو 19 ستمبر کو خفیہ رپورٹ ملی تھی اس میں بتایا گیا تھا کہ حماس کی جانب سے دو سو سے 250 کے قریب شہریوں کو یرغمال بنایا جائے گا،حماس نے اسرائیل پر جب حملہ کیا تو 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا،

    حماس کے حملے کے حوالہ سے اسرائیلی میڈیا ایجنسی کان پبلک براڈ کاسٹر تنہا نہیں بلکہ کچھ اور میڈیا اداروں نے بھی اسی طرز کی رپورٹ کو نشر کیا اور کہا کہ اسرائیلی دفاعی محکمہ کے پاس حماس کے حملہ کے حوالہ سے رپورٹ موجود تھیں، اسرائیلی محکمہ دفاع کو یہاں تک معلوم تھا کہ حماس کس طرح اسرائیل کے شہروں اور ملٹری ٹھکانوں کو نشانہ بنائے گا اور شہریوں کو یرغمال کرے گا،حماس کے حملے بارے مکمل تفصیلات ہونے کے باوجود اسرائیل نے اس رپورٹ کو نظر انداز کیا،

    اسرائیلی فوج نے میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے، اسرائیلی فوج نے حملے سے متعلق پہلے سے اطلاع ہونے کے دعوے کو مسترد بھی کیا ہے تاہم اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ کوتاہیوں کا پتہ لگانے سے متعلق مسلسل تحقیقات میں مصروف ہیں جو بھی رپورٹ آئے گی سب کے سامنے رکھی جائے گی

    غزہ کی موجودہ صورتحال یہ ہے کہ اسرائیلی حملے مسلسل جاری ہیں تو دوسری جانب اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہوکی مخالفت بڑھتی جارہی ہے۔ یرغمال کئے گئے افراد کی فیملی والے ان کی رہائی کے لئے احتجاج کر رہے ہیں اور وہ اس جنگ سے متعلق نیتن یاہو حکومت کی اب تک کی حکمت عملی کی کھلے عام تنقید کررہے ہیں۔ اسرائیل کے غزہ پرحملے میں 37 ہزار سے بھی زیادہ لوگوں کی جان جاچکی ہے 85 ہزار سے بھی زیادہ لوگ زخمی ہیں 10 ہزار لوگ لاپتہ ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر کے باہر احتجاج کرنے والے 8 اسرائیلی شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے،احتجاج کرنے والے نئے انتخابات، جنگ بندی معاہدے اور یرغمالیوں کی واپسی کا مطالبہ کر رہے تھے

    حماس یرغمالیوں کو رہاکرتا ہے توکل ہی جنگ بندی ہوجائےگی،امریکی صدر

    یرغمالیوں کے لواحقین نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں جاری اجلاس پر دھاوا بول دیا

    اسرائیل اپنے یرغمالیوں کے بوجھ سے جان چھڑانے کی شدت سےکوشش کر رہا ہے،ابو عبیدہ

    اسرائیل نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو مارنے کا اعتراف کر لیا

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • حماس نے امریکی روڈ میپ کی منظوری کے لیے شرائط رکھ دیں

    حماس نے امریکی روڈ میپ کی منظوری کے لیے شرائط رکھ دیں

    غزہ: حماس نے امریکی روڈ میپ کی منظوری کے لیے شرائط رکھ دیں-

    باغی ٹی وی : امریکی صدر جوبائیڈن نےغزہ میں مستقل جنگ بندی، فلسطینی قیدیوں کے بدلے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور تباہ حال انفرا اسٹریکچر کی تعمیر نو پر مشتمل روڈ میپ 31 مئی کو پیش کیا تھا جس پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے مثبت ردعمل دیا تھا تاہم حماس کی جانب سے باضابطہ طور پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا۔

    تاہم اب حماس اور اسلامی جہاد نے اپنا جواب قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی کو دیدیا جس کی تصدیق ثالثوں مصر، قطر اور امریکا نے بھی کردی، العربیہ نیوز کے مطابق حماس نے امریکی روڈ میپ کی منظوری کے لیے کچھ شرائط رکھی ہیں۔ پہلی شرط غزہ سے تمام اسرائیلی فوجیوں کی اپنی سرحدوں پر واپسی ہے،حماس کی دوسری شرط جنگ بندی کا عارضی نہیں بلکہ مستقل ہونا ہے اور تیسری شرط بے گھر فلسیطنیوں کی غزہ میں اپنے گھروں میں دوبارہ آبادکاری ہے۔

    پیپلز پارٹی کا بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ

    واضح رہے کہ اسرائیل صرف مخصوص علاقوں سے اپنی فوجیں واپس بلانے کے لیے رضامند ہے اور مستقل جنگ بندی کے بجائے جز وقتی جنگ بندی پر مُصر ہے،اسرائیل نے نوجوان کی واپسی کو مسترد کرتے ہوئے بے گھر فلسطینیوں میں سے صرف بزرگوں، خواتین اور بچوں کی واپسی اور آبادکاری پر ہامی بھری تھی، جبکہ حماس نے خواتین اور خواتین فوجیوں کے علاوہ 18 سال سے کم عمر کے 33 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنے کی پیشکش کی ہے-

    وفاقی کابینہ نے مالی سال 2024-25 کیلئے بجٹ کی منظوری دے دی

  • پاکستان میں حماس کے ترجمان ڈاکٹر خالد محمود قدومی کا لاہور پریس کلب کا دورہ

    پاکستان میں حماس کے ترجمان ڈاکٹر خالد محمود قدومی کا لاہور پریس کلب کا دورہ

    پاکستان میں حماس کے ترجمان ڈاکٹر خالد محمود قدومی نے لاہور پریس کلب کا دورہ کیا اور گورننگ باڈی کو غزہ کی موجودہ صورت حال سے آگاہ کیا۔

    ڈاکٹر خالد محمود قدومی کی پریس کلب آمد پر صدر ارشد انصاری ، سینئرنائب صدر شیرازحسنات ، نائب صدر امجد عثمانی، سیکرٹری زاہد عابد، جوائنٹ سیکرٹری جعفربن یار ، ممبر گورننگ باڈی فاطمہ مختار بھٹی اور سید بدرسعید نے ان کا استقبال کیا۔ ڈاکٹر خالد محمود قدومی نے غزہ کی موجودہ صورت حال کو طوفان سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ طوفان الاقصی کے بعد کیا صورت حال ہو گی اس بارے میں قبل از وقت کچھ نہیں کہا جاسکتا، غزہ میں شہید ہونے والوں میں حماس قیادت کے اہل خانہ بھی شامل ہیں، میں یہاں فلسطین کا مقدمہ لڑنے کے لیے موجود ہوں اس لڑائی میں حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ کا خاندان شہید ہو چکا ہے اور میرے خاندان کوبھی ایسے ہی حالات کا سامنا ہے۔انھوں نے مزید کہاکہ پہلی بار اسرائیل کے دفاعی نظام سمیت ہر قسم کا خوف دنیا پر سے ختم ہوا ہے اور یورپ بھی غزہ کے لیے سڑکوں پر نکل آیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم نے بہت فائدہ پہنچایا اسی طرح پاکستانیوں نے امدادی اشیاءبھی مہیا کی ہیں،اس وقت بھی پانی کے ٹینکرز ، خوراک اور خیمے پہنچانے کی اشد ضرورت ہے۔

    صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے صحافی کمیونٹی کی جانب سے بھرپور حمایت کا یقین دلاتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی میڈیا اپنے غزہ کے مظلوم بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ظلم و جبر کو دنیا کے سامنے لانے میں اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری ادا کر رہا ہے

  • حماس کی امریکی صدر  کی غزہ  میں مستقل  جنگ بندی کے لیے پیش کردہ  تجاویز کی حمایت

    حماس کی امریکی صدر کی غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لیے پیش کردہ تجاویز کی حمایت

    غزہ : فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے امریکی صدر جوبائیڈن کی جانب سے غزہ میں مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے انخلا کے لیے پیش کردہ تجاویز کی حمایت کر دی-

    حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ امریکی صدر کی جانب سے پیش کیا گیا مجوزہ جنگ بندی معاہدہ جس میں ‘اسرائیلی افواج کا انخلا، غزہ کی تعمیر نو اور قیدیوں کا تبادلہ’ شامل ہیں کو ہم مثبت سمجھتے ہیں کسی بھی ایسی تجویز پر مثبت اور تعمیری انداز میں عمل درآمد کے لیے تیار ہیں جس سے غزہ کی تعمیر نو ہوسکے اور بے گھر افراد کی اپنے گھروں میں واپسی ممکن ہوسکے۔

    غزہ میں مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی فوج کے انخلا کے لیے نیا جنگ بندی …

    واضح رہےکہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل حماس جنگ بندی کا نیا منصوبہ پیش کیا ہے امریکی صدر نےگزشتہ روز وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئےکہا تھا کہ یہ معاہدہ دراصل اسرائیل کی جانب سے پیش کیا گیا ہے اور اسے ثالثوں کے ذریعے حماس تک پہنچا دیا گیا ہے،پہلا مرحلہ 6 ہفتے تک ابتدائی جنگ بندی کا ہے، اس دوران اسرائیلی فوجیں غزہ سے نکل جائیں گی، یرغمالیوں اور سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ ہوگا، فلسطینی شہری غزہ واپس جائیں گے اور غزہ میں روزانہ 600 ٹرک امداد لے کر آئیں گے دو سر ے مرحلے میں حماس اور اسرائیل جنگ کے مستقل خاتمے کی شرائط پر بات چیت کریں گے اور تیسرے مرحلے میں غزہ کی تعمیرِ نو ہوگی۔

    سعودی تیل کمپنی آرامکو نے گیس اینڈ آئل پاکستان کے 40 فیصد حصص خرید …

  • اسرائیل کا بے گھر افراد کے کیمپ پر حملہ،خواتین ،بچوں سمیت 75 شہید

    اسرائیل کا بے گھر افراد کے کیمپ پر حملہ،خواتین ،بچوں سمیت 75 شہید

    اسرائیل باز نہ آیا، اسرائیل نے غزہ میں بمباری کی، اسرائیلی حملہ رفح میں بے گھر افراد کے کیمپ پر کیا گیا، حملے میں 75 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، شہدا میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں

    اسرائیل نے آج پیر کی صبح رفح پر حملہ کیا، اسرائیل کی جانب سے بمباری کے بعد رفح میں بے گھر افراد کے کیمپ میں آ گ لگ گئی، حملے میں 75 شہادتیں ہوئی ہیں، زیادہ شہادتیں جھلس جانے کی وجہ سے ہوئی ہیں، متعدد افراد زخمی ہیں، شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، رفح میں پناہ گزین کیمپ میں شمالی غزہ سے بے دخل فلسطینیوں کی بڑی تعداد میں مقیم ہے

    میڈیا پورٹس کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں اقوام متحدہ کے کیمپوں پر دسویں بار حملہ کیا ہے نو حملے پہلے ہو چکے ہیں،اسرائیل نے 24 گھنٹوں میں 230 سے زائد فلسطینیوں کا قتل عام کیا اس سے قبل اسرائیل نے جبالیہ، نصیرت اور غزہ سٹی میں کیمپوں پر حملوں میں 160 فلسطینیوں کا قتل کیا

    اسرائیل نے رفح پر حملے کے بعد دعویٰ کیا کہ اسرائیلی طیاروں نے رات رفح میں حماس کے ایک کمپاؤنڈ پر حملہ کیا، حملےکے مقام پر حماس کے اہم ارکان ٹھہرے ہوئے تھے ،غزہ میں اسرائیلی حملوں میں اب تک 36 ہزار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ رفح میں بے گھر افراد کے لیے ایک کیمپ قائم کیا گیا جہاں اسرائیل نے حملہ کیا۔ شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ النجلہ میں ایک گھر پر اسرائیلی فوج کے حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    قبل ازیں گزشتہ روز حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا، حماس نے تل ابیب پر میزائل حملہ کیا تھا، حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر دعویٰ کیا کہ یہ راکٹ صیہونی شہریوں کے قتل عام کے جواب میں داغے گئے ہیں، راکٹ غزہ کی پٹی سے فائر کیے گئے۔ تاہم ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی کوئی خبر نہیں ملی

    حماس مجاہدین نےمتعدد اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنا لیا

    اسرائیل کا عالمی عدالت کا فیصلہ ماننے سے انکار

    اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو جرمنی میں داخل ہوئے تو گرفتار کرلیا جائے گا،جرمن چانسلر

    عالمی عدالت انصاف ، اسرائیلی وزیراعظم،وزیر دفاع،حماس رہنماؤں کے وارنٹ کی استدعا

  • حماس  مجاہدین نےمتعدد  اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنا لیا

    حماس مجاہدین نےمتعدد اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنا لیا

    غزہ: حماس کی القسام بریگیڈ کے مجاہدین نےمتعدد ا سرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنالیا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حماس کی القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے بتایا کہ جبالیہ کیمپ میں اسرائیلی فوجیوں کو لالچ دے کر ایک سرنگ کی تلاشی پر اکسایا اسرائیلی فوجی اس سرنگ کو القسام جانبازوں کا ٹھکانہ سمجھ کر جنگجوؤں کو گرفتار کرنے کی نیت سے پہنچے جہاں ہمارے جانباز پہلے ہی سے گھات لگائے ان کے منتظر بیٹھے تھےاسرائیلی فوج کا ایک اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگیا جب کہ متعدد کو زخمی حالت میں قیدی بنالیا گیا جن کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔

    پاکستان ’ون چائنا‘ پالیسی پر عمل پیرا ہے،وزیر اعظم شہباز شریف

    میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس کے مسلح ونگ کے ترجمان کی جانب سے قیدی بنائے گئے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد کے حوالے سے کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی گئیں، دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان نے القسام کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس جھڑپ میں اسرائیلی فوج کا کوئی اہلکار حماس کا قیدی نہیں بنا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 80 سے زائد فلسطینیوں کی شہادت کے بعد سے 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی بمباری میں شہدا کی مجموعی تعداد 35 ہزار 984 ہوگئی جن میں نصف تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔

    سیکیورٹی فورسز کا پشاور میں آپریشن،5 دہشتگرد ہلاک اور 3 زخمی،کیپٹن اور 1 جوان …