Baaghi TV

Tag: حماس

  • فری فلسطین کی شرٹ پہنے سٹیڈیم میں جانیوالےنوجوان پر مقدمہ درج

    فری فلسطین کی شرٹ پہنے سٹیڈیم میں جانیوالےنوجوان پر مقدمہ درج

    فری فلسطین کی شرٹ پہنے سٹیڈیم میں جانیوالے آسٹریلوی نوجوان پر بھارت میں مقدمہ درج کر لیا گیا
    بھارتی وزیراعظم مودی کے آبائی علاقے احمد آباد کے سٹیڈیم میں گزشتہ روز بھارت اور آسٹریلیا کی ٹیموں کے مابین ورلڈ کپ کا فائنل ہوا، ایسے میں ایک نوجوان سٹیڈیم میں داخل ہوا، جس نے فری فلسطین کی شرٹ پہن رکھی تھی،نوجوان بھارتی بیٹر ویرات کوہلی تک پہنچ گیا اور کوہلی کو گلے لگا لیا، موقع پر ہی میچ کو روک کو نوجوان کو گرفتار کیا گیا، پولیس نے نوجوان کو چاند کھیڑا پولیس سٹیشن منتقل کیا جہاں اس پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے،نوجوان کی شناخت وین جانسن کے طور پر ہوئی

    احمد آباد پولیس کے مطابق نوجوان نے خود کو ویرات کوہلی کا فین بتایا اور کہا کہ وہ میچ دیکھنے آیا تھا اور کوہلی تک پہنچ گیا، نوجوان کے خلاف گجرات کرکٹ ایسوسی ایشن کے اسٹیڈیم میں غیر مجاز داخلے پر آئی پی سی کی دفعہ 332، 447 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    ہندوستان بمقابلہ آسٹریلیا فائنل میچ کے دوران سیکورٹی کی خلاف ورزی کرکے میدان میں داخل ہونے والے شخص نے کہا، "میرا نام جان ہے،میں آسٹریلیا سے ہوں، میں ویرات کوہلی سے ملنے (میدان میں) داخل ہوا تھا۔ میں فلسطین کی حمایت کرتا ہوں.نوجوان نے آزاد فلسطین کے نعرے والی ٹی شرٹ اور فلسطینی پرچم کے رنگ کی تھیم والا ماسک پہن رکھا تھا۔

    واضح رہے کہ سات اکتوبر سے اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلسل بمباری، زمینی حملے جاری ہیں، اسرائیلی حملوں میں 13 ہزار کے قریب شہادتیں ہو چکی ہیں جن میں زیادہ تعداد بچوں اور خواتین کی ہے، اسرائیل نے ہسپتالوں، سکولوں، مساجد، چرچ کو بھی نشانہ بنایا، اسرائیل نے امدادی سامان کے قافلوں، ایمبولینس گاڑیوں پر بھی بمباری کی، اسرائیلی بمباری میں صحافی بھی مارے جا چکے ہیں.

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

  • اسرائیل کا مؤاخذہ نہ ہونے پر شہباز شریف کا اظہار تشویش

    اسرائیل کا مؤاخذہ نہ ہونے پر شہباز شریف کا اظہار تشویش

    سابق وزیراعظم شہباز شریف نے اسرائیل کا مواخذہ نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اسرائیل انسانیت کے خلاف بد ترین جنگی جرائم میں مسلسل مصروف ہے،اسرائیل کو ان اعمال پر کسی مواخذے کا سامنا نہیں ہے، اسرائیلی جنگی جرائم کا ثبوت 4000 سے زائد فلسطینی بچوں کی شہادت ہے، ماضی کے تمام تنازعات میں بچوں کی کل اموات سے یہ تعداد ذیادہ ہے، بچوں کے عالمی دن پر عالمی برادری کو اپنے آپ سے کچھ سخت سوالات کی ضرورت ہے،اسرائیلی جرائم کو حق دفاع قرار دینے والوں کی مجرمانہ خاموشی پر دل گرفتہ ہوں،

    واضح رہے کہ سات اکتوبر سے اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلسل بمباری، زمینی حملے جاری ہیں، اسرائیلی حملوں میں 13 ہزار کے قریب شہادتیں ہو چکی ہیں جن میں زیادہ تعداد بچوں اور خواتین کی ہے، اسرائیل نے ہسپتالوں، سکولوں، مساجد، چرچ کو بھی نشانہ بنایا، اسرائیل نے امدادی سامان کے قافلوں، ایمبولینس گاڑیوں پر بھی بمباری کی، اسرائیلی بمباری میں صحافی بھی مارے جا چکے ہیں.

    اسرائیلی مظالم کے خلاف لندن ،سویڈن سمیت کئی ممالک میں احتجاج
    اسرائیلی بمباری، غزہ میں قتل عام پر لندن میں یہودی سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج کیا، یہودیوں نے غزہ میں جنگ روکنے کا مطالبہ کیا اور کہا قتل عام بند کیا جائے فوری جنگ بندی کی جائے،مظاہرین نے پلے کارڈز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر مطالبات درج تھے،اسرائیلی مظالم کے خلاف دنیا کے کئی شہروں میں عوام احتجاج کر رہی ہے، آسٹریلیا کے شہر میلبرن میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے بڑا مظاہرہ کیا گیاجس میں ایک لاکھ افراد شریک ہوئے،سویڈن میں بھی عوام نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے اسرائیلی مظالم کیخلاف احتجاج کیا، ٹوکیو میں فلسطین کی حمایت میں ریلی نکالی گئی ،پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام غزہ مارچ ہوا، جس میں لاکھوں افراد شریک ہوئے، امیر جماعت اسلامی سراج الحق و دیگر نے غزہ مارچ سے خطاب کیا،

    غزہ میں جنگ بندی کے لئے سعودی عرب ایک بار پھر میدان میں آ گیا، سعودی عرب سمیت دیگر اسلامی ممالک کے وزرا نے غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے، سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک کے وزراء کے وفد نے بیجنگ کا دورہ کیا،اس دورے کے دوران جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا،میڈیا رپورٹس کے مطابق عرب ممالک کے وزرا کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقبل رکنیت رکھنے والے ممالک کے عہدیداروں سے بھی ملاقات ہوگی جس میں مغرب پر یہ زور دیا جائے گا کہ وہ اسرائیل کے اس مؤقف کو مسترد کرے کہ وہ غزہ میں اپنے حق دفاع میں حملے کررہا ہے، چین کے اعلیٰ ترین سفارتکار سے ملاقات کرنیوالوں میں سعودی عرب، اردون، مصر، انڈونیشیا، فلسطین کے وزرا سمیت او آئی سی کےحکام شامل تھے

    اسرائیلی افواج نے شمالی غزہ کی مسجد القسام، مسجد الخلیفہ، مسجد حیفہ اور مسجد الامین محمد پر بمباری کی اور ان مساجد کو شہید کر دیا ،اسرائیل نے کمال عدوان ہسپتال کو بھی نشانہ بنایا،اسرائیلی فوج کے جانب سے غزہ میں حماس کے ٹھکانے تباہ کرنے، اسلحہ ملنے اور حماس کارکنان کی گرفتاری کا بھی دعویٰ کیا تو وہیں کہا کہ الشفا ہسپتال میں ایک سرنگ ملی ہے، تاہم حماس نے اسرائیلی دعوے کی تردید کی ہے،الشفا ہسپتال سے 31 نومولود بچوں کو نکال کر جنوبی غزہ میں امارات کے فیلڈہسپتال پہنچا دیا گیا تاہم 250 سے زیادہ مریض اور 25 ہیلتھ ورکرز اب بھی اسپتال میں محصور ہیں

    حماس کے حملوں میں 380 اسرائیلی فوجی اب تک جہنم واصل
    سات اکتوبر سے جاری حملوں میں حماس نے اب تک 380 اسرائیلی فوجیوں کو جہنم واصل کیا ہے،اسرائیل نے مزید دو اہلکاروں‌کی ہلاکت کی تصدیق کی جنہیں حماس نے نشانہ بنایا،زمینی جنگ کے دوران اسرائیل کے یہ دو فوجی مارے گئے ،ہلاک ہونیوالے میں ایک لیفٹینیٹ تھا،زمینی حملوں میں دو دنوں کے دوران 13 اسرائیلی فوجی اب تک ہلاک ہو چکے ہیں،جبکہ زمینی حملوں کے آغاز سے اب تک 62 اسرائیلی فوجی جہنم واصل ہوئے ہیں

    دوسری جانب امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور حماس غزہ میں پانچ دن کی جنگ بندی کے لئے رضامند ہیں، واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فریقین نے یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے غزہ میں لڑائی میں 5 دن کے وقفے پر اتفاق کیا ہے،امریکی اخبار کی رپورٹ پر اسرائیل اور حماس کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

    ایرنی قدس فورس کے کمانڈر کا حماس کی حمایت و مدد کا اعلان

    غزہ،الشفا ہسپتال مسمار،29 ہسپتال بند،50 ہزار حاملہ خواتین کی پریشانی میں اضافہ

    غزہ جنگ میں امریکا خاموشی سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی بڑھا رہا ہے،بلوم برگ

     اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر کی جانب مارچ شروع کر دیا 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

     حماس کی حمایت کرنے والوں کو ختم کر دینا چاہئے

  • اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکی حمایت یافتہ  عارضی معاہدہ ہوگیا

    اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکی حمایت یافتہ عارضی معاہدہ ہوگیا

    واشنگٹن: امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعوی کیا ہے کہ اسرائیل اور حماس امریکی حمایت یافتہ ڈیل پر رضا مند ہوگئے، فریقین نے جنگ میں وقفے اور یرغمالیوں کی رہائی پر رضا مند ظاہر کردی ہے۔

    باغی ٹی وی: واشنگٹن پوسٹ نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ لڑائی میں پانچ دن کے وقفے پر اتفاق کیا گیا ہے، ابتدائی 24 گھنٹے میں 50 کے قریب یرغمالیوں کو رہا کرایا جاسکے گا، اسرائیل، امریکا اور حماس کے درمیان غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی کے بدلے لڑائی میں پانچ دن کے وقفے کے ایک عارضی معاہدہ ہوگیا ہےاور فریقین کے درمیان طے پانے والا معاہدہ 6 صفحات پر مشتمل ہے اور معاہدے میں کلیدی کردار قطر نے ادا کیا ہے۔

    ن لیگ میں سیاسی شخصیات کی شمولیت کا سلسلہ جاری،مزید دو ایم این اے پارٹی …

    امریکی اخبار کے مطابق اوور ہیڈ سرویلنس پولیس مدد کے لیے زمینی نقل وحرکت کی نگرانی کرے گی، جس کا مقصد انسانی امداد کی ایک قابل ذکر مقدار کی اجازت دینا بھی ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی اخبار کی رپورٹ پر وائٹ ہاؤس یا اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا،وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان عارضی جنگ بندی پر کوئی معاہدہ طے نہیں پایا ہے،تاہم امریکا دونوں فریقین کے درمیان معاہدے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

    جھنگ میں سابق چیئرمین یونین کونسل پر سر عام تشدد

    فلسطینی صدر محمود عباس نے امریکی صدر جو بائیڈن سے جنگ بندی کے لیے اسرائیل پر زور دینےکا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ ان جرائم پرکسی کو معاف نہیں کرے گی، اسرائیل کی جانب سے نسل کشی اپنا دفاع نہیں کہلائی جا سکتی،غزہ میں 50 ہزار سے زائد افراد ہیضے میں مبتلا ہوگئے ہیں، صاف پانی اور نہ ہی نکاسی آب کا نظام ہے، مناسب خوراک اور ادویات نہ ہونے سے بڑے سانحہ کا خدشہ ہے۔

    خیال رہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ پر جاری اسرائیلی بمباری میں اب تک 12 ہزار 300 سے زائد فلسطینی شہید اور 25 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں،جن میں 8 ہزار300 سے زائد بچے اور خواتین شامل ہیں، 32 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔

    الشفا اسپتال کے نیچے حماس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا اسرائیلی دعوی،مغربی میڈیا …

  • اسرائیلی حملوں میں‌12 ہزار شہادتیں، 30 ہزار سے زائد زخمی

    اسرائیلی حملوں میں‌12 ہزار شہادتیں، 30 ہزار سے زائد زخمی

    سات اکتوبر کے بعد سے اسرائیل کی غزہ پر مسلسل بمباری جاری ہے، اسرائیل نے غزہ میں زمینی حملے بھی شروع کر رکھے ہیں، اسرائیلی فضائی و زمینی حملوں میں اب تک 12 ہزار سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں، جبکہ 30 ہزار سے زائد شہری زخمی ہیں جن میں‌بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے

    اسرائیل نے جنگی قوانین کو پاؤں تلے روند دیا ہے، ہسپتالوں ، سکولوں، پر بھی بمباری کی گئی، گزشتہ شب اسرائیل نے انڈونیشیا ہسپتال کے نواح میں بمباری کی، صبارہ کے علاقے میں بمباری سے متعدد افراد کی موت ہوئی، اقوام متحدہ کے زیر انتظام الفلاح اسکول پر اسرائیلی بمباری سے سکول میں مقیم کئی پناہ گزین جان کی بازی ہا ر گئے،الوفا اسپتال پر اسرائیلی طیاروں کی بمباری سے سےڈائریکٹر شہید اورکئی ڈاکٹر زخمی ہوئے.فلسطینی حکام کے مطابق الشفا ہسپتال پر اسرائیلی کا قبضہ ہو چکا ہے اور وہ اسرائیل کے لئے ایک بیرک بن گئی ہے،بجلی کی بندش کی وجہ سے چار نوزائیدہ بچوں سمیت 24 مریضوں کی ہسپتال میں موت ہوئی ہے.

    غزہ میں ایندھن ختم ہو جانے کی وجہ سے مکمل بلیک آؤٹ ہے، جس کی وجہ سے اقوام متحدہ نے بھی امدادی سرگرمیاں روک دی ہیں،اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین کی ترجمان جولیٹ ٹوما کا کہنا تھا کہ کمیونیکیشن بلیک آؤٹ کے باعث رابطے کٹ جانے سے جمعے کے روز سے غزہ کیلئے غذائی اشیاء سمیت دیگر امدادی سامان کی ترسیل بند کرنی پڑ گئی ہے،کمیونیکیشن بلیک آؤٹ میں توسیع کا مطلب غزہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جاری امدادی سرگرمیوں میں تعطل کی توسیع کرنا ہے

    دوسری جانب کینیڈین وزیراعظم جسٹس ٹروڈو نے کہا ہے کہ غزہ میں رونما ہونے والا انسانی المیہ دل کو دہلا دینے والاہے،میں واضح کرچکا ہوں کہ تمام معصوم جانوں کی قیمت برابر ہے انصاف کی قیمت تمام فلسطینی شہریوں کی مسلسل تکلیف نہیں ہوسکتی جنگ کے بھی اصول ہوتے ہیں،ہ دنیا، ٹی وی اور سوشل میڈیا پر سب دیکھ رہی ہے ہم ڈاکٹروں، خاندان کے ارکان، زندہ بچ جانے والوں اور اپنے والدین کو کھونے والے بچوں کی گواہیاں سن رہے ہیں دنیا عورتوں اور بچوں کے قتل کو دیکھ رہی ہے یہ سب روکنا ہوگا، اسرائیل اور فلسطین میں اسرائیلی حکومت پر زور دیتا ہوں کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرے،واضح رہے کہ اسرائیلی حملوں کے خلاف کینیڈا میں بھی احتجاج ہوتا رہا ہے اور عوام حکومت پر دباؤ بڑھا رہے ہیں کہ وہ جنگ بندی کے لئے کردار ادا کریں،چند دن قبل کینیڈین وزیراعظم کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جب وہ ایک ریسٹورینٹ گئے تو اس موقع پر انکو شہریوں نے گھیر لیا تھا جو فلسطین کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگا رہے تھے، اس موقع پر کینیڈین وزیراعظم کھانا کھائے بغیر واپس چلے گئے تھے،جسٹن ٹروڈو کے سامنے مظاہرین نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ’جنگ بندی کرو ، شرم کرو‘ کے نعرے لگائے تھے.

    اسرائیلی فوج نے فلسطین کے علاقے خان یونس میں ایک عمارت پر بمباری کی جس کے نتیجے میں 26 افراد کی موت ہوئی ہے، مقامی ہسپتال میں حملے کے بعد 26 لاشوں کو لایا گیا، متعدد افراد زخمی بھی ہوئے،نصر ہسپتال کے ڈائریکٹر کے مطابق حملے میں 23 افراد زخمی ہوئے ہیں، خان یونس میں اسرائیل کی جانب سے حملہ ایسے وقت کیا گیا جب اسرائیل کی جانب سے خان یونس کے جنوبی شہر سے لوگوں کو منتقلی کا حکم دیا گیا تھا

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

    ایرنی قدس فورس کے کمانڈر کا حماس کی حمایت و مدد کا اعلان

    غزہ،الشفا ہسپتال مسمار،29 ہسپتال بند،50 ہزار حاملہ خواتین کی پریشانی میں اضافہ

    غزہ جنگ میں امریکا خاموشی سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی بڑھا رہا ہے،بلوم برگ

     اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر کی جانب مارچ شروع کر دیا 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

     حماس کی حمایت کرنے والوں کو ختم کر دینا چاہئے

    نوزائیدہ بچوں کی ہسپتال کے اندر اجتماعی قبریں بھی عالمی دنیا کی انسانیت کو جگانے کیلئے ناکافی ہیں؟ شیری رحمان
    نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے غزہ میں جاری اسرائیلی بربریت کی شدید مذمت کی اور کہا ہے کہ اسرائیل گزشتہ 6 ہفتوں میں ہر روز بربریت کی نئی مثالیں قائم کر رہا ہے،رہائشی علاقوں، اسکولوں، مساجد، چرچز اور ہسپتالوں پر حملے کرکے نہتے لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے، پانی کی بندش کے بعد اناج کے گودام کو بھی بمباری سے تباہ کیا گیا ہے، 12 ہزار سے زائد شہادتوں میں 5 ہزار بچے اور 3 ہزار سے زائد خواتین شامل ہیں،کیا اس سے زیادہ انسانیت اور انسانی قوانین کی تذلیل ہو سکتی ہے؟ کیا مریضوں اور نوزائیدہ بچوں کی ہسپتال کے اندر اجتماعی قبریں بھی عالمی دنیا کی انسانیت کو جگانے کیلئے ناکافی ہیں؟ اسرائیل کی سفاکانہ دہشت گردی نے انسانیت کی تمام لکیریں پار کر دی ہیں، انسانی تاریخ میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی اور اسکو روکنے میں عالمی اداروں اور دنیا کا افسوسناک کردار سیاہ حروف میں لکھا جائے گا،

  • مرکزی مسلم لیگ کے وفد کی فلسطینی رہنما خالد مشعل سے قطر میں  ملاقات

    مرکزی مسلم لیگ کے وفد کی فلسطینی رہنما خالد مشعل سے قطر میں ملاقات

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے وفد کی فلسطینی رہنما خالد مشعل سے قطر میں ملاقات،اس موقع پر صدر خالد مسعود سندھو اور پاکستانی عوام کی طرف سے اہل غزہ سے اظہار یکجہتی کا پیغام دیا گیا۔

    ملاقات کے اختتام پر مشترکہ علامیہ میں کہا گیا کہ فلسطین اور بیت المقدس کی آزادی اور اسرائیل کی جارحیت کو روکنے کے لیے مسلمان حکمران قراردادوں کی بجائے کردار پیش کریں۔ مسلم میڈیکل مشن کے صدر ڈاکٹر ناصر ہمدانی کی قیادت میں وفد نے خالد مشعل سے ملاقات کے دوران طبی سہولیات اور ڈاکٹرز کے حوالے سے اپنی خدمات پیش کیں۔فلسطینی رہنما خالد مشعل نے اس موقع پر کہا کہ ہم پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے بے حد مشکور ہیں کہ ان کے توسط سے پاکستان کے مرد و خواتین جو اس مجرمانہ صہیونی جنگ کے خلاف طوفان الاقصی میں اہل غزہ کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کررہے ہیں۔

    خالد مشعل سے ملاقات کے دوران ڈاکٹر ناصر ہمدانی نے کہا کہ مرکزی مسلم لیگ فلسطین میں ہونے والے ظلم و ستم اور بالخصوص عورتوں اور بچوں پر ہونے والی وحشیانہ بمباری کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ملک بھر میں ہونے والے القدس و یکجہتی فلسطین مارچ میں ہماری مائیں بیٹیاں اعلان کررہی ہیں کہ ہمارے بچے بیت المقدس کی آزادی پر قربان ہے۔

    فلسطینی رہنما خالد مشعل کا مزید گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ غزہ کا محاذ مشکل ترین ہے، یہ جنگ امت کی طرف سے مسجد اقصی کی حمایت اور اسری و معراج کی سرزمین کے دفاع میں لڑی جارہی ہے۔ اس جنگ میں صہیونی غاصب ریاست کی جارحیت کے خلاف امت مسلمہ کا کھڑے ہونا ہمارے لیے باعث راحت ہے۔ مرکزی مسلم لیگ کے وفد سے ملاقات کے دوران فلسطینی رہنما خالد مشعل نے خصوصی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ سے یہ امید رکھتے ہیں کہ آپ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اپنی کوشش جاری رکھیں گے اور ہمارا ساتھ دیتے رہیں گے،آپ سے درخواست ہے کہ حکومت پاکستان کو ساتھ ملا کر بھرپور عوامی تحریک چلائیں، اہل غزہ کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھیں تاکہ اس جارحیت کو روکنے کے لیے صہیونیوں پر دباؤ بڑھایا جاسکے۔ہمارے دو بڑے اہداف ہیں، غزہ پر جارحیت کو رکوانا اور اہل غزہ کی بحالی ہے۔

    اس موقع پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے وفد کی جانب سے فلسطینی رہنماؤں کو خصوصی پیغام دیا گیا کہ پاکستان کی عوام فلسطین کے ساتھ ہے۔ پاکستان میں موجود ہر فرد فلسطین کا درد محسوس کرتا ہے۔ مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام ہونے والے یکجہتی فلسطین و القدس مارچ میں مرد و خواتین سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی کے افراد کی جوق در جوق شرکت فلسطین سے محبت کو ظاہر کرتی ہے۔

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

    ایرنی قدس فورس کے کمانڈر کا حماس کی حمایت و مدد کا اعلان

    غزہ،الشفا ہسپتال مسمار،29 ہسپتال بند،50 ہزار حاملہ خواتین کی پریشانی میں اضافہ

    غزہ جنگ میں امریکا خاموشی سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی بڑھا رہا ہے،بلوم برگ

     اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر کی جانب مارچ شروع کر دیا 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

     حماس کی حمایت کرنے والوں کو ختم کر دینا چاہئے

  • ایرنی قدس فورس کے کمانڈر کا حماس کی حمایت و مدد کا اعلان

    ایرنی قدس فورس کے کمانڈر کا حماس کی حمایت و مدد کا اعلان

    غزہ پر اسرائیل کی مسلسل بمباری جاری ہے تو وہیں زمینی کاروائیاں بھی جاری ہیں ایسے میں ایران کی قدس فورس کے سربراہ کمانڈر اسماعیل قانی نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل سے جنگ میں حماس کی ہر ممکن مدد کی جائے گی

    ایرانی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل نے حماس کے القسام بریگیڈز کے کمانڈر محمد ضیف کو بھجوائے گئے پیغام میں ہر طرح کی مدد اور تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے،ایرانی کمانڈر اسماعیل قانی کا حماس کمانڈر کے نام پیغام میں کہنا تھا کہ ” آپ کے ایرانی بھائی آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ دشمن کو غزہ اور فلسطین میں انکے ناپاک ارادوں میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے”

    قدس فورس کے کمانڈر کا پیغام ایسے وقت میں سامنے آیا جب خبر رساں ادارے رائیٹرز نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے حماس کے سربراہ کو کہا ہے کہ ایران حماس کی اس جنگ میں حمایت نہیں کرے گاکیونکہ حماس نے خود سے حملہ کیا تھا، حماس ترجمان نے اس رپورٹ کو جھوٹا قرار دیا گیا تھا.

    اسرائیلی بمباری میں فلسطینی فریڈم موومنٹ کے بانی اور سیکرٹری جنرل خالد ابو ہلال شہید ہوگئے ہیں، فلسطینی میڈیا نے تصدیق کی کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری کے دوران خالد ابوہلال شہید ہو گئے، اسرائیل نے غزہ کے علاقے شیخ رضوان میں بمباری کی ، جس سے خالد کی موت ہوئی،

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ہم غزہ پر قبضے کا ارادہ نہیں رکھتے، ہمارے پاس الشفاء اسپتال میں یرغمالیوں کو رکھے جانے کے ٹھوس شواہد تھے،اسی وجہ سے ہسپتال پر حملے کئے گئے ،اسی وجہ سے اسرائیلی فوج ہسپتال داخل ہوئی تاہم حماس رہنما فوج کے پہنچنے سے قبل ہی نکل چکے تھے، خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنی حکومت کے پاس یرغمالیوں کے حوالے سے انٹیلی جنس اطلاعات کا دعویٰ کیا لیکن انہوں نے تفصیلات بتانے سے انکار کردیا،انکا کہنا تھا کہ ہم غزہ میں زمینی آپریشن شروع کرنے سے پہلے ڈیل کے قریب تھے لیکن اسرائیلی فوج کے زمینی آپریشن نے حماس پر سیز فائر کے لیے دباؤ ڈالا ، اگر ہم اپنے یرغمالوں کو واپس لاسکتے ہیں تو ہم عارضی طور پر سیز فائر کریں گے لیکن میں نہیں سمجھتا یہ میرے مقصد کو پورا کرے

    دوسری جانب اسرائیل کے غزہ پر حملےکے بعد اسرائیلی معیشت کو یومیہ 26 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے،اسرائیلی مرکزی بینک نے اس بات کی تصدیق کی اور کہا کہ غزہ جنگ کی وجہ سے اسرائیلی معیشت کو 50 ارب ڈالرز کا نقصان ہو سکتا ہے،اسرائیلی وزارت افرادی قوت کے مطابق غزہ جنگ کی وجہ سے ورک فورس میں 20 فیصد کمی ہوئی ہے،جنگ کی وجہ سے اسرائیلی کرنسی شیکل 2012 کے بعد کم ترین سطح پر آچکی ہے.

    اسرائیل نے غزہ میں کاروائی کے دوران طبی عملے کے بھی دو افراد کو گرفتار کیا ہے، اسرائیل نے ابن سینا ہسپتال کو خالی کرنے کا بھی حکم دیتے ہوئے ہسپتال کو گھیرے میں لے لیا ہے، ایمبولینسوں کی تلاشی لی گئی تو وہیں لاؤڈ سپیکر پر اعلان کر کے ہسپتال کو خالی کرنے کا کہا گیا،اسرائیل نے طبی عملے کو بھی ہسپتال سے نکلنے کا کہا ہے، جن افراد نے انکار کیا ان میں سے دو کو گرفتار کر لیا گیا ہے، اسرائیل نے جنین پناہ گزین کیمپ سے بھی سات افراد کو گرفتار کیا ہے،

    غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ کا کہنا ہے کہ ہزاروں خواتین، بچے، بیمار اور زخمی موت کے خطرے سے دوچار ہیں،الشفاء کےڈائریکٹر نے الجزیرہ کو بتایا کہ شمالی غزہ میں انڈونیشین اسپتال بھی بند ہو چکا ہے،الشفا ہسپتال میں بھی اسرائیلی فوج موجود ہے جو مسلسل تلاشی لے رہی ہے، ہسپتالوں میں طبی سامان کی قلت ہو چکی ہے،جسکی وجہ سے کئی ہسپتال بند ہو چکے ہیں،مسلسل اسرائیلی حملوں کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیا اور پانی کی بھی قلت ہو گئی ہے، زخمیوں کو بھی کھانے پینے کو کچھ نہیں مل رہا، غزہ پٹی کے شمالی علاقے میں کوئی امداد نہیں پہنچائی جا رہی

    الجزیرہ کے ساتھ ایک فون کال میں غزہ کے الشفا میڈیکل کمپلیکس میں برنز وارڈ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ کمپلیکس کی اہم عمارتوں میں پانی اور بجلی کی کمی ہے۔ ہسپتال مریضوں سے تقریباً خالی ہے اور انٹرنیٹ ابھی تک منقطع ہے۔ عام صورتحال غیر محفوظ ہے اور بجلی نہ ہونے کی وجہ سے سرجری نہیں کی جا سکتی، صاف پانی کی کمی کی وجہ سے بچے شدید آنتوں کے انفیکشن کا شکار ہو ہےر ہیں۔ اسرائیلی سنائپرز پورے کمپلیکس اور اس کے اطراف میں تعینات ہیں۔ اسرائیلی قبضے نے میڈیکل کمپلیکس کے اندر سے متعدد لاشیں چرا لیں۔ ہم نے ان انتہائی نگہداشت والے مریضوں کو کھو دیا ہے، جو وینٹی لیٹرز پر منحصر تھے۔

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

    دوسری جانب اسرائیل نے مسجد اقصٰی میں آج بھی نماز جمعہ عائد کرنے کے لئے پابندی عائد کر رکھی تھی، شہریوں نے مسجد کے احاطے میں نماز جمعہ ادا کی،اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ کی طرف جانے والے راستوں‌کو بند رکھا تھا،سینکڑوں نمازیوں نے راستوں کی بندش کی وجہ سے راہداریوں پر نماز ادا کی،اس دوران اسرائیلی فوج نے نمازیوں پر شیلنگ کی اور آنسو گیس برسائے،گزشتہ 6 جمعوں سے یہ صورت حال ہے اس سے قبل عام دنوں میں کم سے کم 50 ہزار مسلمان مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ ادا کیا کرتے تھے

    اسرائیلی بمباری کے دوران مریضوں کو تنہا نہ چھوڑنے والے ڈاکٹر حمام اللّٰہ اہل خانہ سمیت شہید ہو گئے ہیں، ڈاکٹر حمام اللہ الشفا ہسپتال میں تھے اور اسرائیلی بمباری سے انکی موت ہوئی ہے،36 سالہ ڈاکٹر حمام اللہ نے اسرائیلی دھمکیوں کی پرواہ نہیں کی تھی، اور علاقہ چھوڑنے کی بجائے زخمیوں کے علاج کو ترجیح دی تھی،ڈاکٹر حمام اللہ نے ایک انٹرویو میں اسرائیلی بمباری میں شہید طبی عملے کو خراج تحسین پیش کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر میں محفوظ‌مقام پر چلا گیا تو زخمیوں کا علاج کون کرے گا، فلسطینی شہری انسان ہیں جانور نہیں کہ انہیں اکیلا چھوڑ دیا جائے، انہیں مناسب دیکھ بھال کی ضرورت ہے.

  • الشفا ہسپتال پر اسرائیلی فوج کا دھاوا،بے گھر افراد گرفتار،کیا گیا برہنہ

    الشفا ہسپتال پر اسرائیلی فوج کا دھاوا،بے گھر افراد گرفتار،کیا گیا برہنہ

    اسرائیلی فوج نے مسلسل بمباری کے بعد غزہ کے سب سے بڑے الشفا ہسپتال پر دھاوا بول دیا

    غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ الشفا ہسپتال میں ڈاکٹر ،مریض اور بے گھر افراد ہیں، اسکے باوجود اسرائیلی فوج نے الشفا ہسپتال پر دھاوا بول دیا ہے، ترجمان اشرف القدرہ کا کہنا تھا کہ ہمیں ڈرنے کی ضرورت نہیں اور ہمارے پاس چھپانے کے لئے بھی کچھ نہیں،الشفا ہسپتال کے ایمرجنسی روم میں موجود ملازم عمرزقوت نے خبر رساں ادارے الجزیرہ کو بتایا کہ اسرائیلی فوج نے شفا ہسپتال سے کچھ افراد کو گرفتار کیا ہے، گرفتاری کے دوران انہیں برہنہ کر دیا گیا اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا،اسرائیلی فوجی امداد کے نام پر گرفتاریاں کرنے آئے تھے، فوج ہسپتال کو مکمل گھیرے میں‌ لے رہی ہے، ہسپتال میں 180 سے زائد لاشیں خراب ہو رہیں ہیں،جو صحن میں پڑی ہیں،ہسپتال کے ہر طرف گولیاں چل رہی ہیں.

    الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی فوجی لاؤڈا سپیکرکا استعمال کرتے ہوئے ہتھیار ڈالنے کا کہہ رہے ہیں لیکن ہسپتال میں ڈاکٹر،مریض اور بےگھر افراد ہیں، اسرائیلی فوج نے ہسپتال میں ادویات اور طبی آلات کے گودام کو دھماکے سے اڑا دیا،اسرائیلی فوج نے 30 کے قریب افراد کو گرفتار کیا، جن کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی اور ان کے کپڑے اتار کر انہیں برہنہ کر دیا گیا،غزہ کےہسپتالوں کے چیف نے الجزیرہ کو بتایا کہ اسرائیلی فوجی الشفا ءہسپتال کی سرجیکل اور ایمرجنسی عمارتوں میں داخل ہو ئے ہیں، سرجن ڈاکٹر احمد المخلاتی نےبتایا کہ اسرائیلی فورسز کے حملے کے بعد اسپتال کے اندر خوف کا ماحول ہے،

    یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل کا کہنا ہے کہ غزہ کے دس لاکھ بچوں کے لیےکہیں بھی محفوظ جگہ نہیں ہے، بہت سے بچے لاپتہ ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ منہدم عمارتوں اور گھروں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں،علاقے میں پانی ختم ہو چکا، خوراک ختم ہو چکی اور بیماریاں پھیل رہی ہیں.

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    یرغمالیوں کی رہائی، بہت جلد مثبت نتیجہ نکلنے والا ہے، امریکی صدر

    الشفا ہسپتال پر اسرائیلی دھاوے اور گرفتاریوں کے بعد حماس ترجمان ابوعبیدہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل ہسپتال میں اسلحہ کے حوالہ سے جھوٹ بول رہا ہے اور دنیا کو دھوکا دے رہاہے،غاصب صیہونی فوج کا یہ دعویٰ کہ اس نے الشفاء میڈیکل کمپلیکس میں اسلحہ اور سازوسامان پکڑا ہے، سفید جھوٹ اور سستے پروپیگنڈے کا تسلسل ہے جس کے ذریعے وہ اپنے جرم کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کا مقصد غزہ میں صحت کے شعبے کو تباہ کرنا ہے۔ حماس ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم نے دو ہفتے قبل ایک سے زیادہ مرتبہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ہسپتالوں کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے ایک بین الاقوامی کمیٹی تشکیل دیں اور اسرائیل کے جھوٹے دعوؤں کا تعین کریں، کیونکہ ہم اس بات سے آگاہ ہیں۔

    اقوام متحدہ کے ادارے او سی ایچ اے نے کہا ہے کہ متعدد رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوجیں "انسانی ہمدردی کی بنیاد پر راہداری” کے ذریعے جنوب کی طرف بھاگنے والے شہریوں کی گرفتاریاں کر رہی ہیں،مار پیٹ، برہنہ کرنے اور تشدد کی دیگر اقسام کی اطلاعات سامنے آئی ہیں،

    صحت کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی "خوف زدہ” مریضوں اور طبی عملے کو دیکھ کر الشفا ہسپتال میں توڑ پھوڑ کر رہے ہیں۔غزہ کے ہسپتالوں کے جنرل ڈائریکٹر ڈاکٹر منیر البرش نے کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے تہہ خانے اور دیگر عمارتوں میں موجود آلات کو تباہ کر دیا، "وہ اب بھی یہاں ہیں مریض، خواتین اور بچے خوفزدہ ہیں،انہوں نے اقوام متحدہ اور ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ پھنسے مریضوں، عملے اور بے گھر ہونے والے خاندانوں کے لیے ایک محفوظ راہداری بنائیں۔اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ اندر کم از کم 2,300 مریض، عملہ اور شہری موجود ہیں۔

  • یرغمالیوں کی رہائی کیلئے اسرائیلی خاندانوں کا نیتن یاہو کے گھر کی جانب مارچ

    یرغمالیوں کی رہائی کیلئے اسرائیلی خاندانوں کا نیتن یاہو کے گھر کی جانب مارچ

    حماس کی جانب سے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے دوران یرغمال بنائے گئے افراد کے خاندانوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر کی جانب مارچ شروع کر دیا ہے

    مارچ میں مرد، خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، شرکا نے بینرز پلے کارڈز اٹھا رکھے ہیں،انکا مطالبہ ہے کہ یرغمالی افراد کو رہا کروایا جائے.اسرائیلی خاندانوں نے تل ابیب سے یروشلم تک پانچ روزہ مارچ کا آغاز کیا،حماس نے تقریبا 240 افراد کو یرغمال بنایا تھا جن میں‌سے چار افراد کو رہا کیا گیاہے، یرغمالیوں کی عمریں نوماہ سے 85 سال کے درمیان ہیں،

    اسرائیلی فوج حماس کو تباہ کرنے کے حکم کے ساتھ غزہ میں مسلسل بمباری کر رہی ہے، ہزاروں افراد شہید ہو چکے ہیں ،لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، ایسے میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو یرغمالیوں کے رشتہ داروں کی طرف سے بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ وہ ان کی رہائی کو محفوظ بنانے کے لیے مزید کچھ نہیں کر رہے ہیں۔

    مارچ میں شریک ایک خاتون کا کہنا تھا کہ "میں بنجمن نیتن یاہو اور کابینہ سے مطالبہ کرتی ہوں کہ ہمیں جوابات اور اقدامات فراہم کریں،میرے 21 سالہ بیٹے عمر کو حماس والے اپنے ساتھ لے گئے تھے،مارچ میں شریک ایک خاتون انتہائی جذباتی تھیں اور وہ اپنے بیٹے کے لئے حکومت سے انکی رہائی کا مطالبہ کر رہی تھیں،خاتون مسلسل تم کہاں ہو، تم کہاں ہو،کہہ رہی تھیں، حماس نے اسرائیلی جیلوں میں قید 275 خواتین اور بچوں کی رہائی کے بدلے یرغمال بنائے گئے 70 خواتین اور بچوں کو رہا کرنے کا کہا تھا تا ہم اسرائیل کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اب تک جنگ بندی کی کسی بھی بات کو مسترد کرتے ہوئے این بی سی نیوز کو بتایا کہ وہ صرف اسی صورت میں لڑائی کو روکنے کے لیے تیار ہوں گے جب تمام یرغمالیوں کو رہا کر دیا جائے۔ معاہدے کو محفوظ بنانے کا بہترین طریقہ حماس پر فوجی دباؤ برقرار رکھنا ہے۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس ساحلی علاقے کا کنٹرول کھو چکی ہے۔ طبی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 11,100 سے زائد فلسطینی، جن میں سے 40 فیصد کے قریب بچے ہیں، ہلاک ہو چکے ہیں۔

    غزہ کے عسکریت پسندوں نے اب تک چار یرغمالیوں کو رہا کیا ہے، اسرائیلی فوج نے منگل کو ایک یرغمال فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کی، جس کے بارے میں حماس کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیلی حملے میں مارا گیا تھا۔

    تل ابیب کے مارچ کرنے والے ہفتہ کو 65 کلومیٹر (40 میل) دور یروشلم میں نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے سامنے اپنا احتجاج ختم کریں گے۔72 سالہ یرغمالی آدینا موشے کے بھتیجے امیت زچ نے کہا، "مجھے نہیں لگتا کہ ہم اچھے ہاتھوں میں ہیں۔ ہمیں ایسا نہیں لگتا کہ ہمیں کافی معلومات حاصل ہیں۔ ہم اندھیرے میں گر گئے۔ ہمیں جواب چاہیے،” .”میرے پاس کوئی حل نہیں ہے، لیکن حل نکالنا میرا کام نہیں ہے۔ یہ میرا کام ہے کہ اپنے خاندان سے واپسی کا مطالبہ کروں،” اسیروں کی تصویریں اٹھائے ہوئے، مارچ کے شرکاء نے نعرے لگائے "انہیں ابھی گھر لے آؤ!” ایک آدمی چلایا: "سب!”

    القسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیدہ کا کہنا ہے کہ قطری ثالثوں کو بتایا کہ ہم اسرائیل کے ساتھ 5 روزہ جنگ بندی کے بدلے غزہ میں قید 70 خواتین اور بچوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہیں،ان دنوں مکمل جنگ بندی اور ہر انسانی امداد کی اجازت ہونی چاہیے،ساتھ فلسطینی خواتین اور بچوں کو بھی رہا کیا جائے جو اسرائیلی جیلوں میں،قبل ازیں ابوعبیدہ کا کہنا تھا کہ ہمارے جنگجو زیر زمین، زمین پر اور ملبے کے نیچے سے حملے کرکے دشمن کو سرپرائز دے رہے ہیں، ہمارے جنگجو دشمن کےٹینکوں اور بلڈوزروں کو تباہ کر رہے ہیں، اسرائیلی فوج نے صرف ایک ہی مقصد حاصل کیا ہے اور وہ قتل عام اور مظالم ہیں، دشمن کو ایک دن یا ایک گھنٹہ بھی سکون نہیں ملے گا، دشمن اپنی جارحیت کی قیمت چکائے گا

    حماس کی قید میں موجود اسرائیلی خاتون فوجی نوا مارسیانو کی ہلاکت کی تصدیق
    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے حماس کی قید میں موجود اسرائیلی خاتون فوجی نوا مارسیانو کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے،اسرائیلی فوج نے حماس کی قید میں19 سالہ خاتون فوجی کارپورل نوا مارسیانو کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ کو اطلاع کر دی،اسرائیلی خاتون فوجی نوا مارسیانو کو 7 اکتوبر کو یرغمال بنایا گیا تھا،حماس کے عسکری ونگ نے دعویٰ کیا ہے کہ خاتون فوجی نوا مارسیانو 9 نومبر کو اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوئیں، تاہم اس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی

    غزہ میں بارش،فلسطینی شہریوں کے لئے ایک اور امتحان
    علاوہ ازیں غزہ میں بارش برسی ہے، جو فلسطینیوں کے لئے ایک امتحان بن گئی ہے،اسرائیلی بمباری سے گھر ملیا میٹ ہو چکے ایسے میں بارش ،شہری کھلے آسمان تلے بارش میں بھیگتے رہے تو کم سن بچے بارش میں کھیلتےرہے،بے گھر شہریوں‌کے لیے لگائے گئے خیموں میں بھی بارش کا پانی داخل ہو گیا، اس سے شہریون کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا، اقوام متحدہ کی 150 عمارتوں میں 7 لاکھ بے گھر فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں،اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی نے بارشوں سے کیمپوں میں متعدی بیماریاں پھیلنےکا خدشہ ظاہرکیا ہے

    اسرائیل کا اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کے استعفیٰ کا مطالبہ
    دوسری جانب اسرائیلی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے، اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن کا کہنا تھا کہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کی سربراہی کے لئے موزوں نہیں رہے، انہوں نے خطے میں امن کو فروغ نہیں دیا، سب کو کہنا چاہئے کہ غزہ سے حماس کی جان چھڑاؤ،ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، اسرائیلی وزیر نے انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس اور عالمی ادارہ صحت کے ساتھ بھی ملاقاتیں کیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئی سی آر سی غزہ میں حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کو محفوظ بنانے کے لیے کام کرے۔دوسری طرف اقوام متحدہ میں اسرائیل کے نمائندے گیلاد اردن نے بھی گزشتہ ماہ اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کےاستعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا،

    یرغمالیوں کی رہائی، بہت جلد مثبت نتیجہ نکلنے والا ہے، امریکی صدر
    امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ ہم یرغمالیوں کی بازیابی کیلئے کافی سرگرم ہیں اور بہت جلد مثبت نتیجہ نکلنے والا ہے ۔ صدرجو بائیڈن سے جب پوچھا گیا کہ کیا ان کے پاس غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد کے اہل خانہ کے لیے کوئی پیغام ہے تو انہوں نے کہا کہ آپ وہیں ٹھہرو، ہم آ رہے ہیں۔امریکی صدر جوبائیڈن اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کر رہے تھے۔امریکی صدر بائیڈن نے کہا کہ وہ حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کی رہائی کے لیے روزانہ بات چیت میں مصروف ہیں۔ میں ہر دن ملوث لوگوں سے بات کرتا رہا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ ہونے والا ہے، لیکن میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا

    دوسری جانب یورپ اور لاطینی امریکہ کے ساٹھ سے زیادہ بائیں بازو کے سیاست دانوں نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے جس میں بین الاقوامی فوجداری عدالت آئی سی سی سے اسرائیلی لیڈران کی نسل کشی کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ہسپانوی وزیر برائے سماجی حقوق Ione Belarra نے کہا کہ ہم اپنی خاموشی اور تعاون سے نسل کشی کی اجازت نہیں دیں گے۔ اگر آپ بروقت ظلم کو نہیں روکتے ہیں، تو یہ آپ کو اپنے ساتھ گھسیٹ لے گا۔اس پٹیشن میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو، وزیر دفاع یوو گیلنٹ اور وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کے نام شامل ہیں، ان پر نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کا الزام عائد کیا گیا ہے،پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ آئی سی سی کے پاس نیتن یاہو اور گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کے لیے کافی ثبوت موجود ہیں،

    اسرائیل کی غزہ پر ایک طرف بمباری جاری ہے تو دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ٹینکس کمپلیکس میں‌داخل ہوئے ہیں، اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کے خلاف ٹارگٹ آپریشن کیا جا رہا ہے، حماس نے الشفا ہسپتال میں اپنا ٹھکانہ بنا رکھا تھا،حماس نے الشفا ہسپتال پر حملے کا ذمہ دار امریکی صدر کو قرار دیا، وائیٹ ہاؤس نے بھی اسرائیلی زبان بولتے ہوئے کہا تھا کہ حماس نے غزہ کے الشفا ہسپتال میں ایک کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم کررکھا ہے حما س نے وہاں اسلحہ جمع کر رکھا ہے،ترجمان الشفا ہسپتال کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج شفاہسپتال کے بیسمنٹ تک پہنچ گئی اور بیسمنٹ کی تلاشی شروع کردی ہے،شفا اسپتال میں محفوظ راہداری سے گزرنے والوں پر اسرائیلی فوج نے فائرنگ بھی کی.

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • حماس کی حمایت کرنے والوں کو ختم کردینا چاہئے، اسرائیلی وزیر

    حماس کی حمایت کرنے والوں کو ختم کردینا چاہئے، اسرائیلی وزیر

    سات اکتوبر سے اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری ہے،دنیا جنگ بندی کا مطالبہ کر رہی لیکن اسرائیل حملوں سے باز نہیں آ رہا، ایسے میں اسرائیل کے وزیر برائے قومی سلامتی اتماربن گویر نے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کی حمایت کرنے والوں کو ختم کر دینا چاہئے

    امریکا اور اسرائیل میں دہشتگرد قرار دی گئی تنظیم کا حصہ رہنے والے اسرائیلی وزیر نے حال ہی میں غیر قانونی یہودی بستیوں میں 25000 ہتھیاروں کے علاوہ گولہ بارود اور دیگر جنگی سامان تقسیم کیا ،

    اتمار بن گویر نسل پرست یہودی تنظیم کے سابق رکن تھے جس پر اسرائیل نے 1998 میں دہشتگردانہ کارروائیوں کے باعث پابندی عائد کر دی تھی،اسرائیلی وزیر کے پرتشدد عقائد کے باعث انہیں فوجی خدمات کی انجام دہی سے بھی روک دیا گیا تھا،

    واضح رہے کہ سات اکتوبر سے اسرائیلی بمباری میں 11 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اسرائیل نے فلسطینی شہریوں کو گرفتار بھی کرنا شروع کر دیا ہے،غزہ میں اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد مقبوضہ مغربی پٹی میں اسرائیلی افواج کی کارروائیوں اور فلسطینی شہریوں پر اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں بے انتہا شدت آگئی ہے

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    جنگ بندی کے لئے اور کتنی شہادتیں چاہئے؟ شیری رحمان
    نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ، او آئی سی سمیت عالمی دنیا کی بے بسی دنیا کے امن کیلئے خطرہ بن چکی ہے،عالمی ادارے اور دنیا 7 اکتوبر سے جاری معصوم اور نہتے فلسطینیوں کا قتل عام روکنے میں ابھی تک ناکام ہوئے ہیں،11 ہزار سے زائد فلسطینوں کو شہید کیا گیا ہے جس میں 4506 بچے ہیںاعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیل نے یومیہ 320 فلسطینیوں کا قتل کیا ہے،بمباری کرکے ہسپتالوں کو قبرستان بنایا گیا ہے، غزہ کے مناظر عالمی دنیا کے اخلاقی معیار پر بدنما داغ ہیں،جنگ بندی کیلئے اسرائیل اور عالمی دنیا کو معصوم فلسطینیوں اور بچوں کی مزید کتنی شہادتیں چاہئیں؟

    مسلسل اسرائیلی بمباری، غزہ کا الشفا ہسپتال غیر فعال
    اسرائیل نے غزہ میں ہسپتالوں پر بمباری کی ہے،غزہ کا مرکزی ہسپتال الشفا مسلسل بمباری کی وجہ سے غیر فعال ہو چکا ہے، عالمی ادارہ صحت نے بھی تصدیق کر دی ہے،عالمی ادارہ صحت کے مطابق الشفا ہسپتال مکمل طور پر غیر فعال ہو چکا،ہسپتال اور اسکے گردونواح میں اسرائیل نے مسلسل بمباری کی، جس کی وجہ سے حالات تشویشناک ہو گئے، ایسے میں طبی عملے کا کام جاری رکھنا ممکن نہیں،حماس کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ پٹی کے تمام اسپتالوں میں کام بند ہوگیا ہے،
    فلسطینی وزارت صحت کے مطابق الشفا ہسپتال میں تقریباً دو ہزار لوگ موجود ہیں جن میں مریض، طبی عملہ اور بے گھر افراد بھی شامل ہیں

    عالمی ادارہ صحت نے اسرائیل سے ایک بار پھر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے جنگ بندی ضروری ہے۔تاہم اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ جنگ بندی نہیں ہو گی،الشفاء ہسپتال کے ایک سرجن ڈاکٹر مروان ابوسدا نے این بی سی نیوز کو بتایا کہ وسائل کی شدید کمی کا مطلب ہے کہ تین بچے مر چکے ہیں اور مزید 36 کو فوری خطرہ لاحق ہے۔ہسپتال میں طبی سہولت، بجلی اور پانی کی کمی تھی،بمباری نے سب کچھ تباہ کر دیا،

    حماس کے مطابق اسرائیل نے جان بوجھ کر الشفا ہسپتال کے شعبہ جات پر فائرنگ کی اور ایک کارکن کو زخمی کر دیا جس نے الیکٹرک جنریٹر کا معائنہ کرنے کی کوشش کی تھی،قبل ازیں، اسرائیل کی دفاعی افواج نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ اس نے فوری طبی مقاصد کے لیے 300 لیٹر ایندھن الشفا کو فراہم کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن حماس کی جانب سے یہ سہولت قبول نہیں کی گئی،اسرائیلی فوج یہ کہہ کر ہسپتالوں پر اپنے حملوں کا جواز پیش کرتی ہے کہ وہاں حماس کے فوجی ٹھکانے، اہلکار موجود ہیں.

    مسلسل بمباری کے بعد اسرائیلی فوج اب الشفا ہسپتال کے دروازوں تک پہنچی ہے، طبی عملے کا کہنا ہے کہ ہسپتال غیر فعال ہو چکی ،اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے، بجلی کے جنریٹرز کے لیے ایندھن نہ ہونے کے باعث وہ مریضوں کا علاج کرنے سے قاصر ہیں،الشفا ہسپتال میں شہریوں نے بھی پناہ لے رکھی تھی، ہزاروں شہری ہسپتال کے اندر موجود ہیں ،اسرائیلی فوج کا دعویٰ کے کہ الشفا ہسپتال پر انکاکنٹرول سے شمالی غزہ کے 50 فیصد حصے پر اس کا قبضہ ہو جائے گا

    فلسطینی وزارت صحت کے مطابق الشفا ہسپتال کے اندر 650 مریض، 500 عملے کے افراد اور ڈھائی ہزار کے قریب بے گھر افراد موجود ہیں،اسرائیلی فوج کے ٹینک الشفا ہسپتال کے دروازے کے باہرموجود ہیں،وہیں اسرائیل ڈرونز کے ذریعے ہسپتال پر حملے کر رہا ہے، ان حملوں کی وجہ سے طبی عملے کو بھی مشکلات کا سامنا ہے،ہسپتال کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ نے سی این این کو بتایا کہ الشفاء ہسپتال کے اندر کے حالات "تباہ کن” ہیں، تقریباً 7,000 افراد ہسپتال میں پناہ لیے ہوئے ہیں، جن میں 1500 مریض اور طبی عملے کے اراکین شامل ہیں۔ ہسپتال نے اسرائیلی فوج سے ہر گھنٹے میں 600 لیٹر ایندھن طلب کیا ہے تاکہ اس کے جنریٹرز کو بجلی فراہم کی جا سکے لیکن فوج نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ہم نے اسرائیلی فوج کو بتایا کہ انہوں نے جو 300 لیٹر ایندھن کی پیشکش کی ہے وہ ہسپتال کو 30 منٹ تک چلانے کے لیے کافی نہیں ہے،اب بچوں کے لیے پانی، خوراک، دودھ نہیں ہے.الشفاء ہسپتال غزہ کی وزارت صحت کے تحت آتا ہے جس پر حماس کا کنٹرول ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ حماس کا ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی عمارت کے نیچے ہے۔ ہسپتال کے ڈاکٹروں اور حماس نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

    سی این این نے العربیہ نیٹ ورک کے ایک رپورٹر، خدر الزانون سے بھی بات کی، جو ہسپتال کے اندر ہیں۔انکا کہنا تھا کہ ہسپتال اور اس کے صحن میں کیا ہو رہا ہے اس کی اطلاع دینا ہمارے لیے تقریباً ناممکن ہے، ہمارے پاس بمشکل سگنل آ رہے،لیکن انٹرنیٹ نہیں ہے،کوئی بھی ہسپتال سے باہر جانے کی ہمت نہیں کر سکتا، ہمیں معلوم ہے کہ ان عمارتوں میں کچھ لوگ موجود ہیں لیکن ایمبولینسز ہسپتال سے باہر نہیں نکل پاتی ہیں کیونکہ پچھلے دنوں ہسپتال سے باہر جاتے ہوئے ایک ایمبولینس کو ٹکر مار دی گئی تھی

    فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی نے پیر کے روز غزہ شہر میں القدس ہسپتال کے قریب "شدید فائرنگ” کی اطلاع دی۔سی این این کے مطابق ہلال احمر سوسائٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ القدس ہسپتال کے قریب اسرائیلی فوج نے فائرنگ کی، علاقے میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں،اسرائیلی حملوں کی وجہ سے زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،غزہ کا دوسرا بڑا ہسپتال القدس بھی مکمل طور پر بند ہو گیا ہے، ایندھن کی کمی اور بجلی کی بندش کی وجہ سے ہسپتال اب کام نہیں کر رہا،

  • دشمن کو ایک دن یا ایک گھنٹہ بھی سکون نہیں ملے ،ترجمان القسام بریگیڈز

    دشمن کو ایک دن یا ایک گھنٹہ بھی سکون نہیں ملے ،ترجمان القسام بریگیڈز

    غزہ: حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ دشمن کو ایک دن یا ایک گھنٹہ بھی سکون نہیں ملے گا، دشمن اپنی جارحیت کی قیمت چکائے گا۔

    باغی ٹی وی : ایک بیان میں القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں 160 سے زیادہ اسرائیلی فوجی اہداف کومکمل یاجزوی تباہ کردیا، گزشتہ 48 گھنٹوں میں اسرائیلی فوج کی 25 سے زیادہ گاڑیوں کو مکمل تباہ کیا، اسرائیلی فوج سے لڑائی برابری کی نہیں ہے، حماس سے لڑائی نے خطے کی سب سے طاقتور فوج کو خوفزدہ اور پریشان کردیا ہے، اسرائیلی فوج کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور شدید زمینی جھڑپیں ہو رہی ہیں، ہمارے جنگجو زیر زمین، زمین پر اور ملبے کے نیچے سے حملے کرکے دشمن کو سرپرائز دے رہے ہیں، ہمارے جنگجو دشمن کےٹینکوں اور بلڈوزروں کو تباہ کر رہے ہیں، اسرائیلی فوج نے صرف ایک ہی مقصد حاصل کیا ہے اور وہ قتل عام اور مظالم ہیں۔

    دوسری جانب شمالی غزہ میں گھمسان کی لڑائی جاری ہے جہاں فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان خون ریز جھڑپیں ہو رہی ہیں،اسرائیل براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ ہزاروں فوجی غزہ کی پٹی میں گہرائی میں موجود ہیں اسرائیلی افواج الشفاء ہسپتال سے 3 کلو میٹر کے فاصلے پر ہیں۔

    حماس کا مقصد اسرائیل کی طرف سے پرتشدد اور مبالغہ آمیز ردعمل کو ہوا دینا …

    اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری کے مطابق اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی کی سرزمین میں اپنی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جہاں وہ عسکریت پسندوں کو ختم کررہے ہیں اور طیاروں اور توپ خانے کو انفراسٹرکچر پر بمباری کے لئے ہدایت دے رہے ہیں زمینی کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے اسرائیلی فوج نے حماس کے 11 فوجی ٹھکانوں پر قبضہ کیا ہے-

    ترجمان ڈینیئل ہاگری کے مطابق قابض فورسز نے زیر زمین سرنگ کی نگرانی کے دوران بڑی تعداد میں سرنگوں کو تباہ کیا ہے بحری افواج نے شمالی غزہ کی پٹی میں کام کرنے والی اسرائیلی فوج کے خلاف حماس کے ذریعہ استعمال ہونے والی عمارتوں پر حملہ کیا جہاں حماس کے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی بڑی مقدار ذخیرہ کی گئی ہے،غزہ شہر کے الشفا ہسپتال پر بار بار اسرائیلی افواج نے بمباری کی بجلی کی مکمل بندش سے ہسپتال اندھیرے میں ڈوب گیاغزہ کے سب سے بڑے میڈیکل کمپلیکس کے آس پاس میں صحافیوں کے ساتھ رابطے منقطع ہوگئے ہیں۔

    غزہ کے الشفا ہسپتال میں بمباری سے تباہ کن صورتحال

    واضح رہے کہ غزہ کی پٹی میں جنگ دوسرے مہینے میں جاری ہے جس میں اب تک 11078 سے زیادہ افراد شہید ہوئے ہیں۔ شہداء میں 4،506 سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے متنبہ کیا ہے کہ غزہ میں صحت کا نظام "مکمل طور پر مفلوج گیا ہے ہر دس منٹ کے بعد غزہ میں ایک بچے کی موت ہو رہی ہے۔