Baaghi TV

Tag: حماس

  • غزہ میں 50 ہزار حاملہ خواتین،خوراک،ادویات کی کمی کا شکار

    غزہ میں 50 ہزار حاملہ خواتین،خوراک،ادویات کی کمی کا شکار

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل کی غزہ پر بمباری مسلسل جاری ہے، اسرائیلی حملوں میں سات ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ 19 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں،مرنیوالوں میں تین ہزار سے زائد بچے اور 1700 سے زائد خواتین بھی شامل ہیں،

    اسرائیلی بمباری سے عمارتیں ملیا میٹ ہو چکی ہیں، ہزاروں افراد ملبے تلے دبے ہیں جن کو نکالنے کا کام جاری ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق دو ہزار کے قریب شہری لاپتہ ہیں، امکان ہے وہ ملبے تلے دبے ہوں گے.اسرائیل نے فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، گزشتہ شب حملوں میں مزید 21 فلسطینیوں کو شہید کیا گیا،غزہ کے الزیتون محلے میں چار منزلہ مکان پر بمباری سے 10 افراد کی موت ہوئی،خان یونس مہاجر کیمپ میں گھر پر بمباری سے تین شہری شہید اور متعدد زخمی ہوئے،

    اسرائیل جنگ بندی کریگا تو اسرائیلی شہری رہا کریں گے، حماس
    حماس نے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کو غزہ کے ساتھ جنگ بندی کے لئے مشروط کر دیا،خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق روسی دارالحکومت ماسکو میں حماس کا وفد موجود ہے، وفد میں شامل ابو حامد کا کہنا ہے کہ اسرائیلی قیدیوں کو اسوقت تک رہا نہیں کیا جا سکتا جب تک اسرائیل جنگ بندی نہ کرے،اسرائیلی شہریوں کو مختلف گروپس لے کر آئے ہیں، سب اسرائیلی شہریوں کو ڈھونڈنے میں بھی وقت لگے گا

    حماس کا ایک وفد 26 اکتوبر کو روسی دارالحکومت ماسکو پہنچا تھا، ابو حامد کا کہنا 200 سے زائد اسرائیلی شہریوں کو پکڑا گیا ہے جن میں فوجی بھی شامل ہیں،اسرائیلی شہری غزہ میں مختلف مقامات پر قید ہیں، ہمیں انکو تلاش کرنا ہے اسکے بعد رہائی ہو گی،اگر بمباری جاری رہی تو تلاش نہیں ہو سکتی، قیدیوں کی تلاش کے لئے امن کی ضرورت ہے،ابو حامد نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اسرائیلی بمباری سے اب تک 50 قیدی جو اسرائیلی شہری تھے ہلاک ہو چکے ہیں، اگر اسرائیل نے بمباری نہ روکی تو دیگر کی ہلاکتوں کا بھی خدشہ ہے،حماس نے اب تک چار قیدیوں کو رہا کیا ہے،

    تل ابیب اور دیگر شہروں پر حماس کے راکٹ حملے
    دوسری جانب اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب اور دیگر شہروں پر حماس نے راکٹ حملے کیے ہیں،میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس نے پہلی بارمسلسل تین دن تک کئی بار تل ابیب کو نشانہ بنایاہے،حماس کے حملوں سے تل ابیب، یافا اور دیگر اسرائیلی شہروں میں تباہی ہوئی، حماس نے حملے اسوقت کئے جب اسرائیل عسکری کونسل کا اجلاس جاری تھا، حملوں کی وجہ سے اجلاس کو تھوڑی دیر کے لئے روکنا پڑا،القسام بریگیڈ کا کہنا ہے کہ اسرائیل پر تازہ حملے اسرائیلی بمباری کا جواب ہیں.

    اسرائیلی بمباری سے ایک طرف اموات ہیں تو دوسری طرف جو لوگ زندہ ہیں انکی زندگیاں بھی اجیرن بن چکی ہیں، خوراک، پانی کی قلت،ادویات کی کمی بڑے مسائل ہیں تو وہیں کسی بھی وقت اسرائیلی بمباری کا خطرہ بھی سر پر منڈلاتا رہتا ہے،لاکھوں لوگ کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں، ان میں خواتین، بوڑھے بچے سب شامل ہیں، ریلیف کیمپوں میں خواتین کی حالت بارے الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گہا ہے کہ خواتین زیادہ پریشان ہیں، غزہ میں 50 ہزار سے زائد حاملہ خواتین ہیں جنہیں علاج، خوراک کی سہولیات میسر نہیں،حاملہ خواتین زیادہ تکلیف اور خوف میں رہتی ہیں، گھر ملیامیٹ ہو چکے ، ریلیف کیمپوں میں انکو وہ سہولیات نہیں مل رہیں جو ملنی چاہئے،33 سالہ خاتون نیوین الباری جو حاملہ ہیں اور ماں بننے والی ہیں، وہ شدید پریشان ہیں، مسلسل بمباری کی وجہ سے وہ خوفزدہ ہیں کہ انکے بچے کا کیا بنے گا، انکی کمر اور پیٹ میں درد رہتا ہے مگر کوئی انکا علاج کروانے والا نہیں، وہ کیمپ میں رہ کر کسی کو بتا بھی نہیں سکتیں،نیوین کا کہنا ہے کہ میں صرف اس امید سے جی رہی ہوں کہ میرا بچہ محفوظ رہے،نیوین کے مطابق اسے ہائی بلڈ پریشر اور شوگر ہے تاہم یہاں اسے ادویات نہیں مل رہیں.اسرائیلی حملوں سے قبل وہ باقاعدگی کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس جاتی تھیں اور اپنا علاج کروا رہی تھیں لیکن اب تو اپنے خاندان سے بھی کوئی رابطہ نہیں ہے، خاندان کے باقی افراد کہاں ہیں کس حال میں ہیں وہ کچھ نہیں جانتی،

    میں سوچتی ہوں بچے کو کیسے اور کہاں جنم دوں گی ہر طرف تو بمباری ہو رہی،نیوین
    غزہ کے ریلیف کیمپ میں زندگی گزارے والی نیوین کہتی ہیں کہ میں سوچتی ہوں بچے کو کیسے اور کہاں جنم دوں گی، کسی بھی وقت اور کہیں بھی بمباری ہو رہی ہے، کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں،ہمیں نہیں معلوم کب کہاں بم گرے اور سب کچھ ملیا میٹ ہو جائے،میں یقینی بنانے کی کوشش کروں گی کہ میں اور میرا بچہ محفوظ رہے،

    الجزیرہ کے مطابق نیوین اکیلی اس مسئلے کا شکار نہیں بلکہ جنگ زدہ علاقوں میں 50 ہزار حاملہ خواتین ہیں، کئی ایسی ہیں جو حمل کے آخری ماہ میں ہیں اور انکا باقاعدگی سے معائنہ بھی نہیں کیا جا رہا، اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے مطابق تقریبا 50 ہزار حاملہ خواتین علاج معالجہ اور خوراک کی کمی کا شکار ہیں،

    نیوین کا کہنا ہے کہ زخمیوں لاشوں کو دیکھتی ہوں تو خوفزدہ ہو جاتی ہوں، روز دعا کرتی ہوں کہ جنگ ختم ہو جائے تا کہ میرے دنیا میں آنے والے بچے کو میزائل حملوں سے بچایا جا سکے،خان یونس میں ناصر میڈیکل کمپلیکس کے شعبہ امراض نسواں کے میڈیکل کنسلٹنٹ ولید ابو حاتب کے مطابق نقل مکانی کی وجہ سے صحت کے مراکز تک رسائی بہت مشکل ہو گئی ہے،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

  • غزہ پر حملے اور امت مسلمہ کی صرف”مذمت”، تجزیہ: شہزاد قریشی

    غزہ پر حملے اور امت مسلمہ کی صرف”مذمت”، تجزیہ: شہزاد قریشی

    اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مسئلے کو حل کروانے کے لئے اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل ،عرب لیگ ، اقوام عالم ،او آئی اسی اور مسلم ممالک نے کیا کردار ادا کیا ؟ جب بھی بڑی طاقتوں کے درمیان تنائو بڑھتا ہے تو یہ تمام بین الاقوامی ادارے مفلوج کیوں ہو جاتے ہیں ۔ یہ جانتے ہوئے کہ جنگ کسی خطے پر ہو انسانیت کا خون بہتا ہے بے گناہ شہری مارے جاتے ہیں۔شہری آبادیاں اُجڑجاتی ہیں مخلوق خدا جائے پناہ تلاش کرتی ہے۔ لیکن کیا کہا جائے دنیا اپنے مفادات ، اپنی طاقت، اپنے اقتدار بچانے کے لئے ایک صدیوں پُرانا لفظ مذمت کرتی ہے اپنا کردار ادا نہیں کرتی۔

    دنیا کے تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور خدا کی مخلوق ہیں ۔ انسانیت کا رشتہ سب سے اہم رشتہ ہے اس رشتے کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ۔ انسانیت کا رشتہ بہت بڑا خزانہ ہے اسے لباس ، مذہب یا قومیت میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2008 سے اب تک اسرائیل ڈیڑھ لاکھ فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے۔ جس میں 33 ہزار تعداد بچوں کی ہے۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے مقامی و ملکی اور عالمی سطح پر نہ مسلمانوں کی کوئی قیادت ہے اور نہ کوئی لائحہ عمل اور نہ اتحاد ہے ۔ مسلمان ممالک ہر شعبے ، ہر میدان میں مفلوج نظر آتا ہے ۔تاہم دعائوں اور بدعائوں سے حملہ آور ہے۔

    ملکی سیاست اور جمہوریت پر کیا تبصرہ کیا جائے ہمارے ملک میں جمہوریت کبھی آئیڈیل رہی نہیں۔ پاکستان کی سرحدیں پاک فوج اور پاک فوج کے جملہ اداروں کی وجہ سے محفوظ ہیں ۔ سیاستدانوں کی وجہ سے نہیں تاہم جس جمہوریت اور الیکشن آئین اور قانون کی باتیں ہو رہی ہیں پاکستان کو اس وقت ایک ہوشیار ،ذہین اور چالاک حکمران کی ضرورت ہے جو اپنی منفرد حیثیت سے ملک کے مسائل حل کر سکے۔

    ہسپتال پر بمباری کے بعد غزہ میں وزارت صحت کی جانب سے ڈاکٹر یوسف ابوریش نے ہسپتال میں پریس کانفرنس کی ،پریس کانفرنس کی تصاویر اور ویڈیو سامنے آئی ہیں، اس پریس کانفرنس میں میڈیا کی بجائے، انسانی لاشوں کا ڈھیر ان کے سامنے ہے،ڈائس کے ساتھ ایک والد اپنے بیٹے کی لاش کو اٹھا کر دنیا کے سامنے بےبسی کی تصویر بنا ہوا ہے،ڈاکٹر ود آؤٹ بارڈرز کے ڈاکٹر غسان کا کہنا تھا کہ ہم ہسپتال میں سرجری کر رہے تھے کہ اچانک زوردار دھماکہ ہوا،یہ ایک قتل عام ہے،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

     

  • الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    غزہ کے ہسپتال پر اسرائیلی حملے کے بعد اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل نے نہیں بلکہ اسلامی جہاد نے حملہ کیا، اسرائیلی دعوے کو دنیا نے مسترد کیا تھا ، اب نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ہسپتال الاہلی پر حملہ اسرائیل نے ہی کیا تھا،اسرائیل حماس اور اسلامی جہا د پر صرف الزام لگا رہاہے، حملہ اسرائیل نےہی کیا تھا

    غزہ میں موجود الاہلی ہسپتال پر اسرائیلی حملے میں آٹھ سو کے قریب شہری شہید ہو گئے تھے، اس حملے کا ذمہ داراسرائیل اور امریکی صدر نے حماس پر ڈالا تھا،اسرائیل نے اس حملے کو چھپانے کے لئے ویڈیو اور آڈیو کالز بھی جاری کی تھیں تا ہم اب امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اسرائیلی جھوٹ کو بے نقاب کر دیا ہے،امریکی اخبار کے مطابق انکی ٹیم نے الاہلی ہسپتال کا دورہ کیا اور وہاں میزائل حملے سے ہونے والی تباہی کا جائزہ لیا، دوران تحقیقات سامنے آیا کہ ہسپتال کو غزہ کی بجائے اسرائیل سے نشانہ بنایا گیا ہے،

    ہسپتال پر بمباری کے بعد غزہ میں وزارت صحت کی جانب سے ڈاکٹر یوسف ابوریش نے ہسپتال میں پریس کانفرنس کی ،پریس کانفرنس کی تصاویر اور ویڈیو سامنے آئی ہیں، اس پریس کانفرنس میں میڈیا کی بجائے، انسانی لاشوں کا ڈھیر ان کے سامنے ہے،ڈائس کے ساتھ ایک والد اپنے بیٹے کی لاش کو اٹھا کر دنیا کے سامنے بےبسی کی تصویر بنا ہوا ہے،ڈاکٹر ود آؤٹ بارڈرز کے ڈاکٹر غسان کا کہنا تھا کہ ہم ہسپتال میں سرجری کر رہے تھے کہ اچانک زوردار دھماکہ ہوا،یہ ایک قتل عام ہے،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

    سات اکتوبر کر حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل کی غزہ پر مسلسل بمباری جاری ہے،گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی بمباری سے آٹھ سو کے قریب شہریوں کی موت ہو ئی ہے، غزہ میں اسرائیلی بمباری سے الجزیرہ ٹی وی کے بیوروچیف کا خاندان بھی چل بسا، وائل الدوحاح کا خاندان غزہ میں مقیم تھا،اسرائیلی بمباری سے صحافی کی بیوی، بیٹا اور بیٹی شہید ہو گئے، الجزیرہ چینل کے نمائندے کا خاندان النصیریہ کے پناہ گزین کیمپ میں موجود تھا،صحافی کی شہیدبیٹی کو گود میں اٹھائے ہسپتال سے نکلنے او ر بیٹے کی لا ش کو دیکھنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں

    دوسری جانب حماس ے اسرائیلی شہر ایلات میں اسرائیلی فوجی کیمپ پر حملے کئے ہیںَ، حماس کے القسام بریگیڈ کی جانب سے راکٹ کے ذریعے غزہ سے 220 کلو میٹر دور واقع ایلات میں اسرائیل کی فوجی چھاؤنی کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا

    امریکی ایوان نمائندگان نے حماس کیخلاف جنگ میں اسرائیل کے ساتھ اظہار یکجہتی کی قرارداد منظور کرلی ہے، اسرائیل کے حق میں امریکی ایوان نمائندگان میں 10 ڈیموکریٹس کے علاوہ تمام ارکان نے ووٹ دیا، پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل حماس اور دیگر مزاحمتی تنظیموں کی جانب سے شروع کی گئی جنگ میں اپنا دفاع کر رہا ہے اس لیے اسرائیل کےساتھ کھڑے ہیں، امریکی صدر جوبائیڈن، امریکی وزیر دفاع، امریکی سیکرٹری خارجہ اسرائیل سے یکجہتی کے لئے اسرائیل کا دورہ بھی کر چکے ہیں،

    دنیا حماس اور اسرائیل کے مابین جنگ کو لے کر جنگ بندی پر زور دے رہی ہے تا ہم اسرائیل مسلسل حملے جاری رکھے ہوئے ہے، اسرائیل نے ایک بار پھر فلسطینیوں کو غزہ خالی کرنے کی دھمکی دی ہے،اسرائیلی وزیراعظم نے ایک بیان میں دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ غزہ پر زمینی حملے کا وقت اتفاق رائے سے طے کیا جائے گا یرغمالیوں کو واپس لانے کیلئے ہرممکن اقدامات کر رہے ہیں

    دوسری جانب اقوام متحدہ، امریکا اور کینیڈا نے اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ محصور پٹی غزہ میں خوراک، پانی، ادویات اور بجلی کی کمی سے متاثرہ شہریوں تک امداد کی محفوظ ترسیل کی اجازت دی جا سکے

    اسرائیل ،حماس جنگ، پاکستان کا فوری جنگ بندی کا مطالبہ
    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کا کہنا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی کارروائیاں وسیع اور زیادہ خطرناک تنازع کی صورت اختیار کر سکتی ہیں،اقوام متحدہ سلامتی کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے منیر اکرم کا کہنا تھا کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہےپاکستان فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے، صورتحال کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں جو اس تنازع کو بڑھاوا دے رہے ہیں،

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • اسرائیلی بمباری،چھ ہزار کے قریب اموات،23 سو سے زائد بچے شہید

    اسرائیلی بمباری،چھ ہزار کے قریب اموات،23 سو سے زائد بچے شہید

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملوں کے بعد اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلسل بمباری جاری ہے، اسرائیلی بمباری سے چھ ہزار سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں جبکہ 15 ہزار کے قریب زخمی ہیں، اسرائیلی بمباری سے 2300 سے زائد بچے بھی شہید ہو ئے ہیں، مرنیوالوں میں خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے،

    اسرائیلی فوج نے ہسپتال، سکولوں، مساجد، چرچ کو بھی نشانہ بنایا، پناہ گزینوں کے کیمپوں کو بھی نشانہ بنایا، غزہ میں عمارتیں ملیامیٹ ہو چکی ہیں، ملبے تلے ابھی تک لاشیں دبی جنہیں نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے،اسرائیلی فوج نے جنین کیمپ کے قریب گزشتہ روز بمباری کی جس سے چار فلسطینی شہید ہوئے، جبکہ 20 زخمی ہوئے،حماس کے حملے میں کئی اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے، تین اسرائیلی فوج کی گاڑیوں کو نقصان پہنچا، حماس نے حملہ اس وقت کیا جب اسرائیلی فوج نے جنین کے قریب حملہ کیا،اسرائیلی فوج نےدعویٰ کیاہے کہ اس نے دو افراد کو گولی ماری ہے ،

    فلسطینی وزارت صحت نے اسرائیلی بمباری سے ہونیوالی اموات کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ اب تک چھ ہزار 55 شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں، فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بمباری کے بعد لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیںَ،غزہ میں 6 لاکھ کے قریب بے گھر افراد نے عالمی ادارے کے مراکز میں پناہ لی ہوئی ہے

    غزہ کے ہسپتالوں میں لاشوں کے ڈھیر،زخمیوں کی آہ و بکا،پھر بھی طبی عملے کے حوصلے بلند
    اسرائیلی بمباری کے بعد غزہ میں ہسپتالیں تباہ ہو چکی ہیں تو وہیں جو باقی رہ گئی ہیں ان میں ضروری طبی سامان کی قلت ہو گئی ہے، بمباری سے شہید و زخمیوں کو ہسپتال لایا جاتا ہے تا ہم ہسپتالوں میں جگہ کم پڑ چکی ہے،اب تک فلسطینی ہسپتالوں میں 18 ہزار سے زائد شہریوں کو زخمی حالت میں لایا جا کا ہے،10 سے زائد ہسپتال بجلی کی بندش اور ادویات ختم ہونے کی وجہ سے بند ہو چکے ہیں،جو چل رہے ہیں ان میں ادویات کی قلت ہو چکی ہے،غزہ میں موجود ناصر ہسپتال نے ہنگامی منصوبے پر عمل شروع کرتے ہوئے صرف انتہائی نگہداشت کے مریضوں کو داخل کرنا شروع کیا ہے، معمولی زخموں والے مریضوں کو فوری طبی امداد کے بعد بھیج دیا جاتا ہے

    ہسپتالوں میں زخمیوں، لاشوں کے ڈھیر، پھر بھی طبی عملے کا حوصلہ بلند ہے، ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹرز کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ گیت گا رہے ہیں،طبی عملے کا کہنا ہے کہ ہم زخمیوں کوچھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے،

    اسرائیل کی شام میں بمباری،آٹھ شامی فوجی ہلاک ہو گئے
    اسرائیل باز نہیں آ رہا، غزہ پر بمباری کے بعد اب شام میں بھی فوجی ٹھکانوں پر حملے کئے ہیں جس میں آٹھ شامی فوجی مارے گئے ہیں، شامی خبر رساں ادارے نے فوجی ذرائع کا حوالہ دے کر تصدیق کی کہ اسرائیلی حملوں میں ڈیرہ شہر کے قریب فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا،خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی حملوں کو اسرائیلی جارحیت کہا گیا، اس حملے میں آٹھ فوجیوں کی ہلاکت اور سات زخمی ہوئے ہیں.گزشتہ شب اسرائیلی فوج نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اسکے طیاروں نے شامی فوج کے اڈوں کو نشانہ بنایا

    israeli qaidi

    حماس کے اہلکاروں نے ہمارا خیال رکھا، برتاؤ اچھا تھا، رہا ہونے والی اسرائیلی خواتین
    حماس کے جانب سے رہا کی جانے والی اسرائیلی دو خواتین نے دوران قید حماس کے رویئے کی تعریف کی ہے، خواتین کا کہنا تھا کہ حماس نے ہماری ضروریات کا خیال رکھا،حماس نے سات اکتوبر کو حملے کے وقت دو اسرائیلی خواتین کو بھی یرغمال بنایا تھا جس میں سے ایک کی عمر 85 برس تھی، دونوں خواتین کو حماس نے رہا کیا تو انہوں‌نے میڈیا سے بات کی،85 سالہ خاتون کا کہنا تھا کہ جب حماس کے اہلکاروں نے انہیں اغوا کیا اسوقت تشدد کا نشانہ بنایا گیا تا ہم دوران حراست انکے ساتھ کوئی بدسلوکی نہیں کی گئی اور اچھا سلوک کیا گیا،لفشٹز نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ حماس کے اہلکار انہیں غزہ لے کر گئے اور وہاں جا کر ایک سرنگ میں بند کیا،دوران حراست انہیں طبی امداد بھی فراہم کی جاتی رہی، انکی حفاظت پر مامور لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ لوگ قرآن پر یقین رکھتے ہیں اور انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے،ایک ڈاکٹر روز ہمارا طبی معائنہ کرتا تھا، حماس کے اہلکار اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ جو دوائیاں وہ اسرائیل میں لے رہے تھے قید میں بھی انہیں وہی دوائیاں ملیں

    حماس کی قید سے رہا ہونے والی خواتین کا کہنا تھا کہ دوران حراست انہیں شیمپو،کنڈیشنر وغیرہ بھی دیئے گئے، ہماری سب ضروریات کا خیال رکھا گیا،کھانے میں ہمیں بریڈ،پنیر، کھیرے دیئے گئے،حماس والوں کا رویہ نرم تھا، مجھے اور میرے ہم عمر ساتھیوں کو ہر دو یا تین دن بعد ڈاکٹر بھی دیکھنے آتا تھا،دوران قید ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہوئی.

    دوسری جانب اقوام متحدہ، امریکا اور کینیڈا نے اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ محصور پٹی غزہ میں خوراک، پانی، ادویات اور بجلی کی کمی سے متاثرہ شہریوں تک امداد کی محفوظ ترسیل کی اجازت دی جا سکے

    دبئی کی ایئر لائن کی اسرائیل کے لئے پروازیں منسوخ
    اسرائیل اور حماس میں جاری لڑائی طوالت اختیار کرتی جا رہی ہے، جنگ بندی کی تمام کوششیں ناکام ہوتی جا رہی ہے، خدشہ ہے یہ جنگ باقی علاقوں میں بھی پھیلے گی، اسی جنگ کی طوالت کو لے کر دبئی کی ایئر لائن نے تل ابیب کے لئے اپنی پروازیں معطل کی ہیں، ایئر لائن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں، موجودہ صورتحال میں پراوزیں خطرے سے خالی نہیں، متعلقہ حکام سے رابطے میں ہیں تا ہم شہریوں، عملے کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے اسی لئے اسرائیل کے لئے تمام دو طرفہ پروازیں 14 نومبر تک منسوخ کی جا تی ہیں، 14 نومبر کو پروازوں بارے دوبارہ فیصلہ کیا جائے گا

    اسرائیل حماس جنگ، اب انسانیت کہاں گئی؟امریکی رکن کانگریس الہان عمر
    اسرائیلی بمباری پر امریکی بھی بول رہے ہیں،امریکی رکن کانگریس الہان عمر جو مسلمان ہیں نے امریکی صدر پر شدید غصت کا اظہار کیا ہے، الہان عمر کا کہنا تھا کہ جوبائیڈن بتائیں حماس اور اسرائیل جنگ میں انسانیت کہاں ہے؟لاشوں کے ڈھیر سامنے ہیں، انکودیکھ کر کیسے دوستیاں برقرار رکھی جا سکتی ہیں،الہان عمر کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے غزہ کو بہت نقصان پہنچایا، امریکہ نے افغانستان میں جتنی بمباری ایک برس میں کی تھی اسرائیل نے دس دن میں غزہ پر اتنی بمباری کی،اب آپ لوگوں کی ہمدردی کدھر گئی، کیا انسانیت مر گئی ہے،

    اسرائیل کے خلاف پوسٹ کرنے پر فلسطینی اداکار گرفتار
    دوسری جانب اسرائیل کے خلاف پوسٹ کرنے پر اسرائیلی پولیس نے مشہور فلسطینی اداکارہ میسا عبدالہادی کو گرفتار کیا ہے، میسا نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی تھی جس میں حماس کی حمایت کی تھی، اسرائیلی پولیس نے یہ الزام عائد کیا،میسا کو نارتھ سے اسرائیلی پولیس نے گرفتار کیا ہے، حکام کے مطابق میسا نے حماس کے حق میں پوسٹیں کیں،میسا نے اسرائیل اور غزہ کے مابین ٹوٹی ہوئی باڑ کی تصویر پوسٹ کی تھی جس کا عنوان رکھا گیا تھا چلو برلن کے انداز میں چلیں، واضح رہے کہ اسرائیل سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ کر رہا ہے اور اسرائیل کے خلاف یا حماس کی حمایت میں پوسٹیں کرنے والوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے

    اسرائیل ،حماس جنگ، پاکستان کا فوری جنگ بندی کا مطالبہ
    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کا کہنا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی کارروائیاں وسیع اور زیادہ خطرناک تنازع کی صورت اختیار کر سکتی ہیں،اقوام متحدہ سلامتی کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے منیر اکرم کا کہنا تھا کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہےپاکستان فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے، صورتحال کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں جو اس تنازع کو بڑھاوا دے رہے ہیں،

    حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تو امریکہ، اسرائیل سب نے یہ کہا تھا کہ حماس اکیلے یہ نہیں کر سکتا ایران اس حملے میں ملوث ہے تا ہم ایران کے اس حملے میں ملوث نہ ہونے کے شواہد ملنے پر اب امریکہ نے پھر ایران پر الزام لگانا شروع کر دیئے ہیں،امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ایران پر الزام عائد کیا اور کہا کہ حماس اور حزب اللہ کو تہران کی حمایت حاصل ہے،امریکی وزیر خارجہ نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ یہ جاری تنازع وسیع جنگ کی صورت اختیار کر سکتاہے،امریکی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ تنازع نہیں چاہتا، لیکن اگر ایران یا اسکی پراکسیز نے امریکیوں پر کبھی حملہ کیا تو اس کو واشنگٹن پر حملہ کو تصور کریں گے.

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • فلسطینی بچوں کے آنسوؤں نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ،شہباز شریف

    فلسطینی بچوں کے آنسوؤں نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ،شہباز شریف

    سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نےغزہ اور اسرائیلی حملوں سے متاثرہ فلسطینی علاقوں میں امدادی سامان بھجوانے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اسرائیلی جبر واستبداد اور ظلم کے نتیجے میں دوہرا انسانی المیہ جنم لے رہا ہے،اسلامی دنیا کی قیادت عالمی برادری کے ساتھ مل کر فلسطینیوں کی نسل کشی روکے ،فلسطین کربلا کا منظر پیش کر رہا ہے جہاں پانی اور خوراک بند ہے، بے گناہ بچے، خواتین اور شہری قاتلوں کے نرغے میں ہیں ،بڑھتی بے حسی اور بے بسی دنیا کو سنگین نتائج کی طرف دھکیل رہی ہے ،انسانیت کو بچانے میں ناکامی دنیا کے امن کی ناکامی ہو گی ،ایک ایک لمحے کی تاخیر بے گناہوں کی شہادتوں کی صورت نکل رہی ہے ،محصور فلسطینیوں کے لئے امدادی قافلوں کو اجازت نہ ملنا عالمی اتھارٹی اور قانون کو مذاق بنا رہا ہے ،فلسطینی بچوں کے آنسوؤں نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے،مظلوموں کا لہو بہانے سے ناجائز ریاست کا وجود جائز نہیں ہو گا،جلد اس مسئلے کا حل نہ نکلا تو ناقابل تلافی نقصان ہو گا

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل کے غزہ پر فضائی حملے تاحال جاری ہیں ،اسرائیلی حملوں میں پانچ ہزار دو سو فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں دو ہزار سے زائد سے بچے اور 1100 خواتین شامل ہیں، اسرائیلی حملوں میں زخمیوں کی تعداد 15 ہزار سے بڑھ چکی ہے، غزہ میں آٹھ سو بچوں سمیت 15 سو افراد لاپتہ بھی ہے جن کے بارے میں امکان ہے کہ وہ اسرائیلی بمباری کے بعد عمارتوں کی تباہی کے دوران ملبے تلے دب گئے ہوں گے

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • اسرائیلی حملے،31 مساجد شہید،20 صحافیوں سمیت 5200 اموات

    اسرائیلی حملے،31 مساجد شہید،20 صحافیوں سمیت 5200 اموات

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل کے غزہ پر فضائی حملے تاحال جاری ہیں ،اسرائیلی حملوں میں پانچ ہزار دو سو فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں دو ہزار سے زائد سے بچے اور 1100 خواتین شامل ہیں، اسرائیلی حملوں میں زخمیوں کی تعداد 15 ہزار سے بڑھ چکی ہے، غزہ میں آٹھ سو بچوں سمیت 15 سو افراد لاپتہ بھی ہے جن کے بارے میں امکان ہے کہ وہ اسرائیلی بمباری کے بعد عمارتوں کی تباہی کے دوران ملبے تلے دب گئے ہوں گے

    اسرائیلی بمباری سے گزشتہ روز مزید 436 فلسطینی شہید ہوئے، الشاتی کیمپ پر بمباری کے نتیجے میں میں 182 بچوں اور درجنوں خواتین سمیت 436 فلسطینی شہیدہوئے، شیخ رضوان کے علاقے میں گھر کے باہر بم گرنے سے فلسطینی صحافی کی موت ہو گئی، اسرائیلی حملوں میں اب تک 20 صحافی مارے جا چکے ہیں،اسرائیل کی جانب سے مساجد پر بھی بمباری کی جا رہی ہے، اب تک 31 مساجد شہید کی جا چکی ہیں،

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس سارے یرغمالی افراد کو چھوڑ دے تب بھی غزہ کو ایندھن کی فراہمی نہیں ہونے دیں گے، اگر ایندھن جانے دیا تو حماس اسے جنگ کے لئے استعمال کرے گا، اقوام متحدہ کا اس بارے کہنا ہے کہ غزہ میں 14 دن سےبجلی بند ہے،جس کی وجہ سے ہسپتالوں میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،

    امریکی صدر جوبائیڈن نے جنگ بندی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک حماس تمام یرغمالیوں کو رہا نہیں کرے گا، جنگ بندی نہیں ہو گی، امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ اگر جنگ بندی ہوئی تو اس کا فائدہ حماس اٹھائے گی،امریکی صدر جوبائیڈن کے جنگ بندی نہ ہونے کے بیان کے بعد غزہ کے باسیوں کے لئے امن کا قیام مشکل تر ہو گیا ہے،

    دوسری جانب اسرائیل سے اظہار یکجہتی کے لیے فرانسیسی صدر میکرون اسرائیل پہنچ گئے ہیں جہاں اسرائیلی وزیراعظم سے انہوں نے ملاقات کی اور اسرائیل کے ساتھ اظہاریکجہتی کیا.

    سابق امریکی صدر بارک اوباما بھی اسرائیل کے غزہ پر حملوں کو دیکھ کر خاموش نہ رہ سکے، بارک اوباما کا کہنا تھا کہ حماس کے خلاف جنگ میں اسرائیل کے کچھ اقدامات جیسے غزہ کے لیے خوراک اور پانی کی بندش فلسطینیوں کے رویوں کو نسلوں کے لیے سخت کر سکتے ہیں،بارک اوباما کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے اسرائیل اپنی بین الاقوامی حمایت کھو بیٹھے گا،ایسے اقدام سے الٹا ردعمل بھی آ سکتا ہے، تاہم بارک اوباما نے اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا.

    دوسری جانب حماس نے مزید دو اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا ہے، رہا کی جانے والی دونوں خواتین ہیں جن کی عمر تقریبا 80 سال ہے، دونوں خواتین کو رفاہ کراسنگ سے اسرائیل منتقل کردیا گیا ، میڈیا رپورٹس کے مطابق خواتین کو رہا کیا گیا البتہ انکے شوہروں کو رہا نہیں کیا گیا وہ ابھی تک یرغمالیوں میں ہی شامل ہیں، اس سے قبل حماس نے ایک امریکی خاتون اور اسکی بیٹی کو رہا کیا تھا،

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • غزہ کے شہیدوں کا خون رنگ لائے گا !تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    غزہ کے شہیدوں کا خون رنگ لائے گا !تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    ان دنوں مشرق وسطی تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں ہے سنگین خطرہ ہے کہ یہ معرکہ جو بلاشبہ حق و باطل کا معرکہ ہے عالمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ بظاہر یہ جنگ دو ہفتے قبل حماس کی جانب سے اسرائیل پر یک وقت 5 ہزار میزائل فائر کرنے سے شروع ہوئی مگر اس بات میں ہرگز دو آراء نہیں کہ حماس کا یہ رد عمل اسرائیل کے ان مظالم کے جواب میں سامنے آیا ہے جو اسرائیل نصف صدی سے فلسطین کے نہتے عوام پر ڈھا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ طے ہے کہ اسرائیل کا وجود مشرق وسطی کے لیے خطرہ ہے تو کیا اقوام متحدہ کا فرض نہیں کہ وہ اس مسئلے کو اپنی ہی قراردادوں کے مطابق حل کرے تاکہ مظلوم فلسطینیوں کو پرامن زندگی بسر کرنے کے مواقع میسر آسکیں ۔دوسری مسلمہ حقیقت یہ ہے کہ اب یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی اپیلوں یا مسلم ممالک میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے حل نہیں ہوگا اس کے لیے جارحیت کرنے والے کا ہاتھ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک پکڑنا ضروری ہے ۔ اسرائیل امریکہ اور برطانیہ کا وہ بگڑا بچہ ہے جس نے خطے کا امن دائو پر لگا رکھا ہے ۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ اسرائیل کے مظالم پر دنیا خاموش ہے اگر کوئی بات کرتا بھی ہے تو وہ بے اثر رہتی ہے ان حالات میں حماس کی جانب سے جو قدم اٹھایا گیا وہ حالات کے تناظر میں ’’ تنگ آمد جنگ آمد ‘‘ کے مترادف ہے اس پر اسرائیل امریکہ اور برطانیہ کا سیخ پا ہونا کسی طور پر بھی درست نہیں۔ اگر امریکہ اور برطانیہ واقعی انسانی حقوق کے علم بردار ہیں تو پھر انہیں چاہیے کہ وہ مسئلہ فلسطین کو حل کرائیں تاکہ یہ خطہ جنگ کی لپیٹ میں آنے سے محفوظ رہ سکے ۔ یہاں یہ حقیقت بھی امریکہ اور برطانیہ کے پیش نظر رہنی چاہیے کہ اب اسرائیل مظالم کے نتیجے میں بہت سے ممالک فلسطینیوں کی حمایت میں کھڑے ہو چکے ہے ۔روس چین اور شمالی کوریا امریکہ کو خبردار کر چکے ہیں کہ وہ اسرائیل کی حمایت سے باز رہے ورنہ اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔

    ایران اور ترکی کا موقف اس حوالے سے پہلے ہی واضح ہے چنانچہ اب جب کہ یہ جنگ غزہ کے ساتھ ساتھ لبنان اور شام تک پھیل چکی ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ وقت کا ’’ شیطان ثلاثہ ‘‘ ہوش کے ناخن لے اور جارح اسرائیل کی حمایت کرنے کے بجائے اسے راہ راست پر لانے کے لیے مثبت اقدام اٹھائے ۔ سعودی عرب جو اس خطے میں اثر و رسوخ رکھنے والا اہم ملک ہے وہ بھی حالیہ تناؤ کے نتیجے میں اسرائیل پر واضح کر چکا ہے کہ اسے فلسطینیوں کے لیے آزاد ریاست کے کام میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے ۔ چند ماہ قبل یہ خبر زبان زد عام تھی کہ مشرق وسطی کے بعض ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہے ہیں مگر حقائق نے اس خبر کو فیک ثابت کر دیا ہے ۔ اسرائیل کو جان لینا چاہئے کہ اگر اس نے تباہی کا راستہ اختیار کیا تو وہ محفوظ خود بھی نہیں رہ سکے گافلسطنینوں کی شہادتوں کے نتیجے میں وہ خود بھی کھنڈر بنے گا ۔ دنیا بھر کے امن پسندوں کو ا نہی حقائق کی روشنی میں جاری جنگ رکوانے اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ رہی بات ان کی دھمکیوں کی جو اسرائیل فلسطینی مسلمانوں کو دے رہا ۔۔۔۔تو فلسطینی مسلمان ان دھمکیوں سے گھبرانے والے نہیں۔ اسلئے کہ جو سرفروش سر پر کفن باندھ کر میدان جنگ میں اترتا ہے وہ موت سے نہیں ڈرتا۔ اسرائیل نے غزہ پر بمباری کر کے اسے کھنڈر بنا دیا ہے اگر فلسطینی شہادت کے مرتبے پر فائز ہو رہے ہیں تو محفوظ اسرائیل بھی نہیں۔

    البتہ فرق یہ پڑا ہے کہ اب بہت سے انصاف پسند یہودی بھی اسرائیل کی صیہونی لیڈر شپ کے خلاف سراپا احتجاج نظر آتے ہیں ۔ امریکہ میں ہزاروں یہودیوں نے اسرائیل کی جارح صیہونی لیڈر شپ کے خلاف جلوس نکالا ۔ مظاہرین واشنگٹن میں امریکی کانگریس کی عمارت میں گھس گئے ۔ مظاہرین ’’ غزہ کو جینے دو کے نعرے لگارہے تھے ‘‘ مظاہرین نے جنگ بندکرنیکا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نام پر لڑائی نہ کریں، فلسطینیوں کی نسل کشی بندکریں۔مظاہرین نے صدر جوبائیڈن سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی طاقت فلسطینیوں پر مظالم رکوانے کے لیے استعمال کریں۔ان بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں صیہونی ریاست کی قیادت کو سمجھ لینا چاہئے کہ اگر اس نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو مکمل تباہی ان کا مقدر بن سکتی ہے ۔

    یہاں ایک سوال انتہائی توجہ طلب ہے کہ نصف درجن کے قریب اہم ممالک کی جانب سے فلسطین کی حمایت کے باوجود پاکستان کھل کر کیوں نہیں بات کر رہا جبکہ پاکستان کو نہ صرف اسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے بلکہ جب سے پاکستان ایٹمی طاقت بنا ہے اسلام دشمن طاقتیں ہماری ایٹمی طاقت کو اسلامی بم کے نام سے تعبیر کرتی چلی آرہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کمزور اسلامی ممالک درپیش خطرات کے مواقع پر پاکستان کی طرف دیکھتے اور امید ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان ہماری مدد کو آئے گا مگر جب ایسا نہیں ہوتا تو اس سے جہاں کمزور مسلم مبارک مایوسی کا شکار ہوتے ہیں وہاں اسلام دشمن طاقتیں بھی اظہار مسرت کرتی ہیں ۔ گو یہ حقیقت کے قریب صورتحال ہے مگر حقائق کو اس نظر سے دیکھنا چاہیے کہ اہل پاکستان کے دل اہل فلسطین کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اہل پاکستان ہر مشکل وقت میں اہل فلسطین سے اظہار ہمدردی اور اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ چنانچہ اسرائیل کو کسی خوش فہمی کا شکار نہیں رہنا چاہیے ۔ پاکستان میں عوامی سطح پر تو احتجاج ہوہی رہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے صرف فلسطین پر مظالم کے خلاف ہی احتجاج نہیں ہو رہا بلکہ امید ہے کہ حکومت بھی اس حوالے سے ۔ اسلئے کہ پاکستان کا بچہ بچہ بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح کے ان فرمودات کو پیش نظر رکھتا ہے جو وہ فلسطین کو تسلیم نہ کرنے کے پس منظر میں کہہ چکے ہیں۔ قائد اعظم علی جناح نے ہمیشہ فلسطینی مسلمانوں کے موقف کی دوٹوک حمایت کی تھی اور اسرائیل کو جارح ملک قرار دیا تھا اس اعتبار سے دیکھا جائے تو فلسطینی مسلمان بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ معاشی مسائل اور سیاسی مصلحتیں اپنی جگہ لیکن پاکستان کے حکمرانوں کو اس حوالے سے چشم کشا رہنا چاہیے کہ امت مسلمہ جسم واحد کی مانند ہے اگر جسم کا ایک حصہ متاثر ہو تو پورا جسم درد محسوس کرتا ہے۔ مسئلہ فلسطین صرف فلسطینیوں کا ہی نہیں عالم اسلام کا مسئلہ ہے لہذا پاکستان کو اسی تناظر میں فیصلہ کرنا ہوگا ۔اس حوالے سے کوئی بھی مصلحت وقتی تو ہو سکتی ہے مستقل نہیں ۔ جہاں تک ہمارے ہاں درپردہ اسرائیل کے لیے نرم گوشہ رکھنے والوں کی بات ہے تو یہ عناصر آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ان عناصر کو جان لینا چاہئے کہ اگر یہ اپنی مذموم روش سے باز نہ آئے تو انھیں عوام کے سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مشرق وسطی کے لمحہ بے لمحہ بدلتے حالات عالم اسلام کو دعوت فکر دے رہے ہیں کہ وہ حق و باطل کے اس معرکہ میں متحد ہو جائیں اگر قبلہ اول کی آزادی کے لیے فیصلہ کن قدم نہ اٹھایا گیا تو پھر گزرا وقت ہاتھ نہیں آئے گا۔ غزہ کے محصور مسلمان مزید ظلم برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ غزہ سے اشیائے ضرورت اور ادویات تک ختم ہو چکی ہیں۔ اہل غزہ اس وقت مادی امداد کے ساتھ ساتھ افرادی اور عسکری امداد کے بھی منتظر ہیں ۔ ان حالات میں امت مسلمہ کو ہر وہ ممکن قدم اٹھانا ہوگا جس سے اہل فلسطین کے مصائب کم ہوں اور وہ نسل کشی سے محفوظ رہ سکیں ۔
    شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات !

  • اسرائیلی بمباری سے غزہ میں 4700 سے زائد اموات

    اسرائیلی بمباری سے غزہ میں 4700 سے زائد اموات

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری ہے، دو ہفتے سے جاری بمباری میں چار ہزار سات سو سے زائد فلسطینی شہید ہو گئے ہیں

    فلسطینی وزارت صحت کے مطابق 15ہزار کے قریب شہری زخمی ہیں،زخمیوں میں ستر فیصد بچے اور خواتین شامل ہیں،غزہ میں عمارتیں ملیا میٹ ہو چکی ہیں، ہسپتالوں، سکولوں پر بمباری کی گئی ہے، بجلی، پانی بند ہے، خوراک کی کمی ہو چکی ہے،

    غزہ میں اموات اتنی ہو رہی ہیں کہ شہریوں نے لاشوں کی شناخت کے لئے اپنے بچوں کے جسم پر انکے نام لکھوانا شروع کر دیئے ہیں تا کہ اسرائیلی بمباری سے انکی موت کی صورت میں بچوں کو نام سے پہچان سکیں،اسرائیل نے ہسپتالوں پر بھی بمباری کی وارننگ دی ہے،عالمی دنیا کے احتجاج کے باوجود اسرائیل غزہ پر حملے نہیں روک رہا،امریکہ،برطانیہ سمیت کئی ممالک کی اسرائیل کو شہہ حاصل ہے،اسرائیلی بمباری سے اقوام متحدہ پناہ گزین ایجنسی کے لئے کام کرنے والے اساتذہ سمیت 29 اقوام متحدہ اہلکار بھی مارے جا چکے ہیں، غزہ میں اسرائیلی بمباری سے 31 مساجد بھی شہید ہو چکی ہیں.

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • اسرائیلی حملے، غزہ میں 43 سو سے زائد اموات ہو گئیں

    اسرائیلی حملے، غزہ میں 43 سو سے زائد اموات ہو گئیں

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل کی کاروائیاں جاری ہیں، اسرائیل مسلسل غزہ پر حملے کر رہا ہے، اسرائیل کی جانب سے گھروں، ہسپتالوں، عبادت گاہوں پر بھی بمباری کی جا رہی ہے، غزہ کے قدیم ترین چرچ پر بمباری کے نتیجے میں 10 فلسطینی شہید ہوئے ہیں

    اسرائیلی حملوں میں اب تک 15 سو بچوں سمیت 4300 افراد شہید ہو چکے ہیں جبکہ 14 ہزار سے زائد زخمی ہیں،غزہ میں 30 فیصد سے زائد مکانات ملیا میٹ ہو چکے ہیں، اسرائیلی حملوں کے بعد سے اب تک تقریبا 10 لاکھ شہری بے گھر بھی ہو چکے ہیںَ

    حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے سبب تنازعہ علاقائی جنگ میں تبدیل ہوسکتا ہےاوراس صورت میں یہ اسرائیل اور اس کے حامیوں کے قابو سے باہر ہوجائے گا

    دوسری جانب مصر سے غزہ کی رفاح کراسنگ جمعے کو بھی نہ کھل سکی غزہ میں محصور فلسطینی امداد کے منتظر ہی رہ گئے، امدادی ٹرکوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت نہ مل سکی،پاکستان کی جانب سے بھجوائی گئی امداد بھی مصر میں موجود ہے جو پاکستان نے ہلال احمر سوسائٹی کے حوالے کی تھی،

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ