Baaghi TV

Tag: حماس

  • مشرق وسطیٰ میں کہیں بھی آپریشن کے لئے تیار ہیں،اسرائیلی فوج کی دھمکی

    مشرق وسطیٰ میں کہیں بھی آپریشن کے لئے تیار ہیں،اسرائیلی فوج کی دھمکی

    ایران اور حزب اللہ کی جانب سےاسرائیل کو دھمکی کے بعد اسرائیل نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج مشرق وسطیٰ میں کہیں بھی آپریشن کرنے کو تیار ہے

    اسرائیل کی جانب سے غزہ میں حملوں کے بعد ایران نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر حملہ جاری رکھاتواس لیے ہم ایک زبردست حملہ کریں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے اسرائیل کو خبر دار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اسرائیل نے مظلوم فلسطینیوں پر ظلم اور غزہ کا محاصرہ ختم نہ کیا تو ایران اس جنگ میں کود جائے گا، اسرائیل کے پاس ابھی بھی وقت ہے کہ وہ اپنا راستہ بدل لے نہیں تو مزاحمتی تحریکیں خطے کا نقشہ بدل دیں گی

    ایران کی جانب سے دھمکی کے بعد اب اسرائیل کا رد عمل آیا ہے، اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں کہیں بھی آپریشن کے لئے تیار ہے،اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل کا کہنا تھا کہ غزہ پر حماس کے خلاف کاروائی جاری ہے، اگر ضرورت پڑی تو مشرق وسطیٰ میں بھی کہیں بھی آپریشن کریں گے,اسرائیل کی جانب سے یہ دھمکی اسوقت سامنے آئی جب ایران نے اقوام متحدہ کے ذریعے اسرائیل کو پیغام بھیجا کہ اگر اسرائیل نے غزہ پر حملہ جاری رکھا تو وہ اس جنگ میں مداخلت کرے گا۔

    اسرائیلی فوج کے چیف ترجمان نے کہا کہ ہم ہمیشہ اپنے اردگرد اور پورے مشرق وسطیٰ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کے سیکورٹی اہداف کے حصول کے لیے اسرائیلی فوج مشرق وسطیٰ میں کہیں بھی کام کرے گی۔

    ادھر شام کی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ حلب کے ہوائی اڈے کو اسرائیل نے نشانہ بنایا ہے۔ دمشق اور حلب کے ہوائی اڈوں پر اسرائیلی میزائل حملوں کے بعد حلب ہوائی اڈے نے ہفتہ 22 اکتوبر کو اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں۔ اسرائیلی حملوں میں دمشق کے ہوائی اڈے کو نقصان پہنچا اور اس کا آپریشن روک دیا گیا تھا، ان حملوں کا مقصد شام کے لیے ایران کی سپلائی لائنوں میں خلل ڈالنا تھا۔

    دریں اثناء نیویارک ٹائمز اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیل کا زمینی حملہ جس کی منصوبہ بندی اس ہفتے کی گئی تھی، موسم کی خرابی کی وجہ سے کئی دنوں کے لیے موخر کر دی گئی ہے۔ کئی دنوں کی تاخیر جزوی طور پر موسم کی خرابی کی وجہ سے تھی جس کی وجہ سے اسرائیلی پائلٹوں اور ڈرون آپریٹرز کے لیے زمینی افواج کو فضائی مدد فراہم کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ زمینی حملوں میں جنگی طیاروں، ہیلی کاپٹروں، ڈرونز اور زمین اور سمندر سے توپ خانے کی مدد کی جائے گی۔نیویارک ٹائمز نے تین اعلیٰ صیہونی فوجی حکام کے حوالے سے اسرائیل کے خفیہ زمینی حملے کے منصوبے کی تفصیلات پر بحث کی اور کہا: اسرائیلی فوج عنقریب غزہ پر قبضہ کرنے اور دسیوں ہزار فوجیوں کو استعمال کرتے ہوئے اس کے موجودہ لیڈروں کے لیے آپریشن شروع کرے گی۔ یہ حملہ 2006 میں لبنان پر اسرائیل کے فوجی حملے کے بعد سے سب سے بڑا زمینی آپریشن ہوگا۔

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

    امریکہ کے بعد برطانیہ کا بھی اسرائیل کی مدد کا اعلان

  • القسام بریگیڈ کے ترجمان کے اہلیہ اور بچوں کی اسرائیلی حملے میں موت کی تردید

    القسام بریگیڈ کے ترجمان کے اہلیہ اور بچوں کی اسرائیلی حملے میں موت کی تردید

    حماس کے ترجمان ابوعبیدہ کی اہلیہ او ر بچوں کی اسرائیلی حملے میں شہادت کی خبر درست نہیں، حماس کے پولیٹکل بیورو کے رکن نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ حماس کے ترجمان ابوعبیدہ کے خاندان کے لوگ محفوظ ہیں،

    حماس رہنما عزت الرشق نے کہا کہ جو لوگ شہید ہوئے وہ میرے پیارے بھائی احمد سمیر قنیتہ ابو عبیدہ کی بیوی اور بچے تھے اللہ ان سب پر رحم کرے۔ ایسا لگتا ہے کہ کنیت کی مماثلت کی وجہ سے کچھ لوگوں کو غلطی ہوئی، واضح رہے کہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ القسام بریگیڈ کے سرکاری ترجمان ابو عبیدہ کی بیوی اور بچے ان کے گھر پر اسرائیلی بمباری سے ہلاک ہو گئے ہیں۔

    اسرائیل سے شہریوں کو نکالیں گے،سفری اخراجات دینا ہوں گے،امریکہ
    دوسری جانب امریکی سفارتخانے نے کہا ہے کہ وہ سمندر کے راستے اسرائیل میں مقیم شہریوں کو نکالے گا،امریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل میں مقیم امریکی شہری کو اسرائیل چھوڑنا چاہتے ہیں انکو بحری راستے سے قبرص لے جایا جائے گا،وہاں سے چارٹر طیارے دستیاب ہوں گے، جو امریکی نکلنا چاہتے ہیں انکو سفر کے اخراجات خود ادا کرنا ہوں گے،امریکی جہاز کل پیر کو شمالی اسرائیل کی شہر حیفہ کی بندر گاہ سے روانہ ہو گا،جس میں امریکی شہری اور انکے اہلخانہ ہوں گے،قبرص میں رہائش اور سفری اخراجات شہریوں کے ہی ذمہ ہوں گے.

    نتین یاہو …شرم کرو،اسرائیلی شہریوں کا اسرائیل میں احتجاج
    حماس کے اسرائیل پر حملے کے دوران حماس نے اسرائیلی شہریوں کو یرغمال بنایا ہے جس میں سے 22 اسرائیلی شہری اسرائیلی بمباری میں ہلاک ہو چکے ہیں، یرغمال شہریوں کے اہلخانہ نے تل ابیب میں احتجاجی مظاہرہ کیا، شرکاء اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف نعرے لگا رہے تھے، احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے اسرائیلی وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ یرغمال شہریوں کی رہائی کے لئے کردار ادا کیا جائے،ورنہ وہ مارے جائیں گے، اگر مارے گئے تو ذمہ دار نتین یاہو ہوں گے، وہ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں، حماس اگر اپنے قیدی چھڑوانا چاہتا ہے تو انکی بات وقت ضائع کئے بغیر مانی جائے.

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

    امریکہ کے بعد برطانیہ کا بھی اسرائیل کی مدد کا اعلان

  • حماس کے تیسرے رہنما کو قتل کر دیا،اسرائیل کا دعویٰ

    حماس کے تیسرے رہنما کو قتل کر دیا،اسرائیل کا دعویٰ

    اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بمباری میں حماس کے تیسرے رہنما کو قتل کر دیا ہے

    اتوار کو اسرائیلی فوج کی جانب سے حماس کے ایک اور رہنما کی موت کی تصدیق کی گئی جو سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے میں ملوث تھا،اسرائیل نے حماس کے رہنما بلال القدرہ کی موت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بلال حماس کے تیسرے رہنما ہیں جن کو نشانہ بنایا گیا، اسرائیلی فوج کے مطابق ہفتے کی شام غزہ پر بمباری کے دوران بلال القدرہ کی موت ہوئی، وہ اسرائیل پر حملے کے آپریشن کا ذمہ دار تھا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق نیرم میں بلال کی موت پانچ ساتھیوں کے ہمراہ ہوئی،حماس رہنما گھر میں تھے جب ان پر حملہ کیا گیا،نیرم غزہ کی پٹی کی ان 20 رہائشی اور زرعی زمینوں میں سے ہے جہاں سے حماس نے سات اکتوبر کو حملہ کیا تھا،میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس کے حملوں میں 13 سو سے زائد اسرائیلی مارے جا چکے ہیں، 126 اسرائیلی افراد کو حماس نے حراست میں لیا ہے جن میں سے 22 اسرائیلی بمباری سے ہی ہلاک ہو گئے ہیں

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

    امریکہ کے بعد برطانیہ کا بھی اسرائیل کی مدد کا اعلان

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ کے اندر کاروائیوں کے دوران حماس کے ہاتھوں یرغمال اسرائیلیوں کی لاشیں ملی ہیں،یرغمالیوں کے اہلخانہ نے اپیل کی ہے کہ یرغمالیوں کو رہا کروایا جائے اور اگر وہ زخمی ہیں تو انہیں دوائی دی جائے،تل ابیب میں یرغمالیوں اور لاپتہ افراد کے خاندانوں کے فورم کے سربراہ رونن زور کا کہنا ہے کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ یرغمالیوں کو ادویات کی منتقلی کے لیے آدھی رات تک ایک معاہدہ طے پا جائے.

  • اسرائیلی فوج کی نقل مکانی کرنیوالوں پر بھی بمباری

    اسرائیلی فوج کی نقل مکانی کرنیوالوں پر بھی بمباری

    اسرائیل کی جانب سے غزہ پر بمباری کا سلسلہ جاری ہے، اسرائیلی بربریت دنیا نے دیکھ لی ہے، اسرائیلی بمباری سے تین ہزار کے قریب فلسطینی شہید ہو چکے ہیں،

    حماس کا حملہ،اسرائیلی اہلکار کا انٹیلی جنس ناکامی کا اعتراف
    حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملے کے حوالہ سے ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے انٹیلی جس ناکامی کا اعتراف کیا ہے،سات اکتوبر ہفتہ کی صبح حماس نے غزہ کی تمام رکاوٹیں توڑ کر اسرائیلی کمیونٹیز اور اسرائیلی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا،کئی اسرائیلیوں کو یرغمال بنایا، اسرائیل پر اتنے بڑے حملے کے حوالہ سے سوال اٹھ رہے تھے کہ اسرائیل کو حماس کی منصوبہ بندی کی کیسے خبر نہیں ہوئی اب عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق قومی سلامتی کے مشیر زاچی ہنیگبی نامی سکیورٹی ایڈوائزر سے ایک پریس بریفنگ کے دوران سوال پوچھا گیا کہ کیا اس حملے سے متعلق اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو پتہ نہیں چلا؟ جس کے جواب میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ میری غلطی ہے اور ان تمام لوگوں کی غلطیوں کی عکاسی کرتی ہے جن کا کام انٹیلی جنس اطلاعات کا تجزیہ کرنا تھا،ہمیں یقین تھا کہ حماس نے ماضی اور خاص طور پر 2021 کی جنگ سے سبق سیکھا ہوگا

    آج نودن ہو چکے ہیں ، اسرائیل کے مسلسل حملے جاری ہیں، سینکڑوں گھر مسمار ہو چکے ہیں، نو ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہیں،غزہ کے ہسپتال لاشوں اور زخمیوں سے بھر گئے ہیں، لاشیں محفوظ کرنے کے لئے گاڑیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے، اسرائیل نے غذہ سے نقل مکانی کرنے والوں‌پر بھی بمباری کی ہے،چار لاکھ فلسطینیوں نے گھر چھوڑ ا ہے

    عرب ٹی وی نے اسرائیلی فوج کے جھوٹ کا پول کھول دیاہے،تحقیقاتی رپورٹ سے ثابت کیا کہ جن چارفلسطینیوں کو جنگجو کہہ کر گولی ماری گئی تھی، وہ غیرمسلح تھے،لبنانی سرحد پر بھی اسرائیلی فوج کی گولہ باری اورفائرنگ سے ایک صحافی جاں بحق جبکہ 6 زخمی ہوگئے۔

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

    امریکہ کے بعد برطانیہ کا بھی اسرائیل کی مدد کا اعلان

    کہیں اور جانے سے مر جانا بہتر ہے، فلسطینی نوجوان
    اسرائیل نے غزہ کے شہریوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ وہ جنوب کی جانب چلے جائیں جس پر ایک نوجوان محمد کا کہنا ہے کہ کہیں اور جانے سے مر جانا بہتر ہے، میں یہیں پیدا ہوا،یہیں مروں گا، کہیں نہیں جاؤں گا، کچھ بھی ہو جائے، غزہ میں مقیم فلسطینی نوجوان نے یہ بات اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہی.

    فلسطین اور اسرائیل تنازع کو روکنے کیلئے امریکہ نے چین سے مانگی مدد
    اسرائیل، فلسطین تنازع روکنے کے لئے امریکہ نے چین سے مدد مانگ لی ہے، اس ضمن میں امریکی وزیر خارجہ نے چینی وزیر خارجہ سے رابطہ کیا ہےاورکہا ہے کہ چین ہماری مددکرے، جس پر چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ فوری بین الاقوامی کانفرنس بلائی جائے،تا کہ اس تنازعے کو روکنے کا حل نکالا جا سکےاگر ایسا نہ کیا تو تنازع کے قابو سے باہر نکلنے کا خدشہ ہے، چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ چین بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں اور سویلین کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانے کے ہر عمل کی مذمت کرتا ہے

    چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای کا سعودی ہم منصب کو ٹیلی فون
    چینی وزیر خارجہ نے امریکی وزیر خارجہ کے فون کے بعد سعودی ہم منصب کو ٹیلی فون کیا ہے،چینی وزیر خارجہ نے اسرائیل فلسطین تنازع میں اضافے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ غزہ میں اسرائیل کی کارروائیاں دفاع کے دائرہ کار سے باہر ہوچکی ہیں۔چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی نے اتوار کوکہا ہے کہ اسرائیل کی غزہ میں کاروائیاں اسکے دفاع کے دائرہ کار سے باہر ہو گئی ہیں، اسرائیلی حکومت کو غزہ کے لوگو ں کو اجتماعی سزا دینا بند کر نا ہو گا،

    ایران نے اسرائیل سے غزہ میں جنگی جرائم روکنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے پہلے کے بہت دیر ہو جائے، اولین ترجیح اسرائیل کے جنگی جرائم کو روکنا ہے۔ اگر اسرائیل اپنے جنگی جرائم جاری رکھتا ہے تو مزاحمتی قوتیں کارروائی کے لیے تیار ہیں۔ کوئی بھی ‘عقلمند’ شخص غزہ میں خواتین اور بچوں کے قتل کو برداشت نہیں کرسکتا۔ ایران نے ہفتے کے روز اقوام متحدہ کے ذریعے اسرائیل کو ایک پیغام بھیجا ہے جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ وہ فلسطین اسرائیل جنگ میں مزید اضافہ نہیں چاہتا لیکن اگر غزہ میں اسرائیلی زمینی کارروائی شروع ہوئی تو وہ مداخلت کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔

    حماس نے اسرائیل کو زمینی کارروائی سے خبردار کرتے ہوئے اپنی تیاریوں کی ویڈیو جاری کر دی ہے، حماس نے ویڈیو جاری کر کے اسرائیل کو خبردار کیا ہے،حماس کی جانب سے جاری کی گئی فرضی ویڈیو میں ٹینکوں کو نشانہ بناتے دکھایا گیا ہے۔

    اسرائیل کی غزہ پر بمباری سے بچوں سمیت حاملہ خواتین بھی شہید ہوئی ہیں،تازہ ترین حملے میں اسرائیل نے تین ایمبولینس گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا ہے،15 طبی اہلکار شہید اور 27 زخمی ہوئے ہیں، اسرائیلی حملے میں اب تک 23 ایمبولینس گاڑیاں مکمل تباہ ہو چکی ہیں

    کسی کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے،افغان طالبان
    اسرائیل کے غزہ پر حملے کے حوالہ سے افغان قیادت کا موقف سامنے آیاہے،افغان مرکزی قیادت کا موقف ہے کہ وہ کسی کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔ تاہم دنیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیلی مظالم روکنے کے لیے اقدامات کریں۔افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی مظالم پر مسلم ممالک کی خاموشی دیکھ کر دکھ ہوتا ہے مشکلات سے دو چار دنیا بھر کے مسلمانوں کو اللہ آزمائش میں سرخرو کرے۔ یہ ہماری غیرت ایمانی کے منافی ہے کہ مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہو اور ہم خاموش رہیں

  • اسرائیلی فوج ٹینکوں کے سہارے غزہ میں داخل

    اسرائیلی فوج ٹینکوں کے سہارے غزہ میں داخل

    حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد آج آٹھویں دن بھی اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری ہیں، اسرائیلی حملوں سے دو ہزار کے قریب فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، ہزاروں زخمی ہیں، ہسپتالوں پر بھی بمباری کی گئی ہے، ہسپتال لاشوں اور زخمیوں سے بھر چکے ہیں، مکانات ملیا میٹ ہو چکے ہیں،نقل مکانی کرنیوالے قافلوں پر بھی اسرائیلی طیاروں نے بمباری کی جس سے 70 فلسطینی شہید ہو گئے،

    اسرائیلی حکام کا حماس فضائیہ کے سربراہ کو فضائی حملے میں مارنے کا دعویٰ
    اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فون نے گزشتہ شب ایک فضائی حملے میں حماس کے سینئر رکن کو مار دیا ہے، اسرائیلی حکام کے مطابق حماس کی فضائیہ کے سربراہ ابومراد کو نشانہ بنایا گیا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ابو مراد نے اسرائیل پر حماس کے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی جو حملہ آور داخل ہوئے تھے انکو ہدایات دینے والا ابو مراد ہی تھا،اسرائیل نے حماس کے ایک ہیڈ کواٹر کو نشانہ بنایا جس میں ابومراد کی بھی موت ہو گئی ہے،

    ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق، رات بھر کیے گئے الگ الگ حملوں میں، اسرائیلی فضائیہ نے کہا کہ اس نے حماس کی کمانڈو فورسز سے تعلق رکھنے والے درجنوں مقامات کو نشانہ بنایا، جنہوں نے 7 اکتوبر کو اسرائیل میں دراندازی کی تھی۔ اسرائیلی فضائیہ نے کہا کہ اسرائیلی دفاعی افواج اور اسرائیلی فضائیہ "حماس کے خلاف اسرائیل کی ریاست کا دفاع کرنے کے لیے ضرورت کے مطابق کام جاری رکھیں گی۔”

    جمعہ کو اسرائیلی فوج نے غزہ شہر سے تمام شہریوں کو نکالنے کا مطالبہ کیا تھا۔ آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے ارادوں کی تشہیر کی تھی کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ جنگ سے شہری متاثر ہوں۔ اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا ہے کہ غزہ میں حماس نے 120 سے زائد شہریوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

    دوسری جانب بھاری تعداد میں اسرائیلی فوج ٹینکوں کا سہارا لے کر غزہ میں داخل ہو گئی ہے، اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ یرغمال اسرائیلیوں کی لاشیں مل گئی ہیں،اسرائیل نے غزہ چھوڑنے کی دھمکی دی تھی جس پر حماس نے کہا تھا کہ اسرائیلی فوج غزہ داخل ہوئی اسے نیست و نابود کر دینگے،

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ غزہ پر ہونے والے حملے ابھی شروعات ہیں۔ حماس کو صفحہ زمین سے مٹا دیں گے۔ ہم یہودیوں پر ہونے والے اس ظلم کو نہیں بھولیں گے اور نہ دنیا کو بھولنے دیں گے۔

    دوسری جانب سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحالی کا منصوبہ بند کر دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب نے امریکہ کو بتا دیا کہ غزہ کے شہریوں کی طاقت کے ساتھ نقل مکانی کا منصوبہ مسترد کرتے ہیں۔ سعودی عرب نے فلسطین کے مسئلے پر ایران کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے میں آمادگی ظاہر کر دی۔ سعودی عرب نے امریکی خواہش پر حماس کی مذمت کرنے سے بھی انکار کر دیا۔

    سعودی عرب نے اسرائیل کی جانب سے سویلین آبادی کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے غزہ سے فلسطینیوں کے جبری انخلا کو مسترد کردیاہے، سعودی وزیرخارجہ فیصل بن فرحان نے برطانوی ہم منصب اور یورپی یونین کے اعلیٰ عہدے دار سے فون پر بات چیت کی، سعودی وزیرخارجہ فیصل بن فرحان کا کہنا تھا کہ اسرائیل عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی پابندی کرے،غزہ کی ناکہ بندی ختم اور امدادی اشیا کی ترسیل کی اجازت دی جائے۔برطانیہ عالمی امن و سلامتی کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرے.

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

    امریکہ کے بعد برطانیہ کا بھی اسرائیل کی مدد کا اعلان

    کہیں اور جانے سے مر جانا بہتر ہے، فلسطینی نوجوان
    اسرائیل نے غزہ کے شہریوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ وہ جنوب کی جانب چلے جائیں جس پر ایک نوجوان محمد کا کہنا ہے کہ کہیں اور جانے سے مر جانا بہتر ہے، میں یہیں پیدا ہوا،یہیں مروں گا، کہیں نہیں جاؤں گا، کچھ بھی ہو جائے، غزہ میں مقیم فلسطینی نوجوان نے یہ بات اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہی.

  • پاکستان اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کی آواز بن گیا

    پاکستان اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کی آواز بن گیا

    فلسطینی مسلمانوں کی حمایت میں آج ملک بھر میں یوم یکجہتی فلسطین منایا جا رہا ہے
    مظلوم فلسطینی مسلمانوں پراسرائیلی بربریت کے خلاف تمام بڑے شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں ہیں ،وفاقی دارالحکومت میں مجلس وحدت مسلمین کے زیراہتمام یوم یکجہتی فلسطین ریلی نکالی گئی ہے، ریلی کی قیادت چیئرمین مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کر رہے ہیں ، مقررین کا کہنا تھا کہ آج جمعہ کا دن فلسطین کے مظلومین سے عہد وفا کا دن ہے۔ آج کا احتجاج ہر اس باضمیر، غیور اور شجاع کا احتجاج ہے جو مظلومین کا حامی اور ظالمین کا مخالف ہے۔مذہب ، مسلک ،رنگ ، نسل ،زبان تمام تفریقات سے بالاتر ہو اسرائیلی بربریت کے خلاف آواز اٹھانا اخلاقی و انسانی فریضہ ہے.

    فلسطین میں جاری اسرائیلی بمباری، معصوم فلسطینیوں کی ہلاکتیں ،سندھ ہائیکورٹ بار نے مذمتی قرارداد پیش کردی،
    سندھ ہائیکورٹ بار نے پاکستان سمیت مسلم ممالک کو فلسطین کیلئے آواز بلند کرنے کا مطالبہ کیا، جاری اعلامیہ کے مطابق
    سندھ ہائیکورٹ بار نے پاکستان سمیت مسلم ممالک کو یو ین او میں فلسطینوں کے قتل عام پر آواز اٹھانے کا مطالبہ کیا، اور کہا کہ اسرائیل نے معصوم فلسطینیوں کا پانی، گیس بجلی کھانا سب بند کر دیا، مسلسل گولہ اور بمباری سے معصوم فلسطینیوں کی شہادتیں ہو رہیں ہیں، غزا میں اسرائیل کی بم باری سے اسپتالیں بھی تباہ ہوگئیں ہیں،

    شہر چھوڑ دیں،جب تک کہا نہ جائے، کوئی واپس نہ آئے، اسرائیل نے غزہ میں پمفلٹ گرا دیئے
    اسرائیل افواج نے فضاء سے غزہ میں کئی کتابچے گرائے ہیں، جن پر غزہ کے رہائشیوں کے لیے پیغام لکھا ہوا تھا، پیغام میں کہا گیا ہے کہ غزہ شہر ، جنگی علاقے میں تبدیل ہو چکا ہے، آپ کو فوری طور پر اپنے گھر خالی کر کے جنوب کی طرف جانا ہو گا۔ آپ کو اپنے گھروں کو واپس نہیں آنا چاہیے، جب تک کہ اسرائیل کوئی اعلان نہ کرے۔▪️ فائر وال کے قریب جانا ممنوع ہے اور جو بھی قریب آتا ہے وہ خود کو موت کے منہ میں لے جائے گا۔اسرائیلی فوج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ خاندانوں کی سلامتی چاہتے ہیں تو جنوب کی طرف چلے جائیں، حماس انسانی ڈھال کے طور پر معصوم شہریوں کو استعمال کر رہا ہے اسلئے شہری نکلیں اور حماس کو کچلنے کا موقع دیں،

    اسرائیلی بمباری سے حماس کی جانب سے یرغمال 13 اسرائیلی ہلاک
    دوسری جانب حماس نے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیل پر حملے کے دوران جن اسرائیلیوں کو یرغمال بنایا تھا ان میں سے 13 اسرائیلی، اسرائیل کی ہی بمباری سے ہلاک ہو گئے ہیں، اسرائیلی فوج نے حماس کےاس دعوے پر کہا کہ وہ ابھی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتے

    حماس کے حملے کی تعریف کرنے پر اسرائیلی بچہ گرفتار
    حماس کے حملے کی تعریف کرنے پر اسرائیلی بچہ گرفتارکر لیا گیا، اسرائیلی پولیس نے کفر قاسم میں ایک 14 سالہ بچے کی گرفتار کیا ہےم جس نے ہفتے کی صبح اسرائیلی سرزمین کے اندر حماس کی طرف سے کیے گئے حملے کی تعریف کی۔
    ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی بچے نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر حماس کے حملے کے حوالے سے حماس کی طرف سے شائع کردہ ایک ویڈیو کلپ کو دوبارہ شیئر کیا۔اور حماس کی تعریف کی،جس کے بعد اسرائیلی پولیس پولیس نے بچے کی ماں کو بھی گرفتار کر لیا جبکہ بچے کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے،پولیس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "پولیس کبھی بھی دشمن کی حمایت لیے اکسانے کے اظہار کو برداشت نہیں کرے گی

    اسرائیلی آرمی چیف کا حماس کے حملے روکنے میں ناکامی کا اعتراف
    اسرائیلی آرمی چیف نےا حماس کے حملے روکنے میں ناکامی کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے کہ حماس کے حملے روکنے میں ناکامی کی وجہ سکیورٹی فورسز کی غلطی ہے،حماس کے ہفتے کو حملے سے ہم سنبھل نہیں پائے،حماس سے یرغمال افراد کی رہائی کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے،حماس ایک دہشت گرد تنظیم ہے جس کو مکمل طور پر ختم کریں گے غزہ بھی اب ایسا نہیں رہے گا جیسا پہلے تھا

    دوسری جانب اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی سیکنڈ سیکرٹری رابعہ اعجاز نے خطاب کیا،رابعہ اعجاز نے ایجنڈا آئٹم 80 پر چھٹی کمیٹی کی "انسانیت کے خلاف جرائم” پر بحث میں خطاب کیا،اپنے خطاب میں پاکستان نے غزہ میں قیامت خیز اسرائیلی مظالم کی مذمت اور فلسطینیوں کے حق میں پھرپور آواز اٹھائی،پاکستان کے مستقل مشن کی سیکنڈ سیکرٹری نے فلسطین میں قبضے، جبر اور تشدد کے نہ ختم ہونے والے سلسلے پر پاکستان کی گہری تشویش کا اظہار کیا

    رابعہ اعجاز کا کہنا تھا کہ غزہ میں بڑھتا ہوا اور شدید انسانی بحران، اندھا دھند فضائی بمباری سے شروع کیا گیا، اس میں شہری علاقوں اور یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے محفوظ مقامات پر حملے بعید از برداشت ہیں, غزہ میں خوراک، ایندھن اور ادویات جیسے ضروری سامان کی غیر منصفانہ ناکہ بندی ناقابل برداشت ہے,انسانیت کے خلاف جرائم سب سے زیادہ سنگین بین الاقوامی برادری کو خطرے میں ڈالنے والے جرائم ہیں,فلسطین، مقبوضہ جموں و کشمیر میں جبر، قبضے اور تشدد کے دیگر حالات میں بھی انسانیت کے خلاف بڑے جرائم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے,پاکستان کو فلسطین پر قبضے، جبر اور تشدد کے حوالے سے گہری تشویش ہے, اسرائیلی قابض افواج کی غزہ کی فلسطینی آبادی کو اجتماعی سزا کے طور پر مظالم برداشت سے باہر ہیں, ان میں عام شہریوں و اقوام متحدہ کے محفوظ اہداف پر اندھا دھند فضائی بمباری اور خوراک، ایندھن اور ادویات کی غیر انسانی ناکہ بندی کی وجہ سے غزہ میں بگڑتی سنگین انسانی صورتحال ناقابل قبول ہیں, یہ کارروائیاں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہیں ،جارحیت اور تشدد کا موجودہ دور ایک افسوسناک یادداشت ہے,
    یہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری غیر قانونی اسرائیلی قبضے، جارحیت اور بین الاقوامی قانون کی بے عزتی کا براہ راست نتیجہ ہے، اس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں بھی شامل ہیں جو فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے ناقابل تنسیخ حق کو تسلیم کرتی ہیں،عالمی برادری کو 1967 سے پیشگی سرحدوں پر ایک قابل عمل، خودمختار و متصل فلسطینی ریاست کے ساتھ ایک منصفانہ، جامع اور دیرپا دو ریاستی حل کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے، ایسی فلسطینی ریاست جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو, ایسے حل کی عدم موجودگی میں مشرق وسطیٰ میں امن ناپید رہے گا, پاکستان نے ممبر ممالک کی گذارشات کا بغور جائزہ لیا ہے اور دسمبر 2023 تک دیگر ممبر ممالک کے تبصروں کا بے انتظار ہے،پاکستان اس ڈیڈ لائن سے پہلے اپنے تحریری ریمارکس بھی دے گا, گزشتہ اجلاسوں میں، متعدد وفود نے مسودے کے مضامین کے مواد سے متعلق مسلسل خدشات کا اظہار کیا ہے,خصوصا عالمی دائرہ اختیار کے نظریے کی وسیع تشریح پر مبنی مسودہ آرٹیکل 7، 9، اور 10 نے خدشات کو جنم دیا ہے, یہ نظریہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر کمیٹی نے ابھی تک اتفاق رائے نہیں کیا ہے,مسودے میں غلامی، تشدد اور جبری گمشدگی جیسے جرائم و انسانیت کے خلاف جرائم کی روک تھام اور سزا سے متعلق مضامین کو اقوام متحدہ کنوینشنز کے مطابق یقینی بنانا بہت ضروری ہے,ہمیں ان اصطلاحات کی تشریح میں ابہام اور عدم مطابقت کا سبب بننے والی نئی ​​تعریفوں کے تعارف کو روکنے میں احتیاط برتنی چاہیے, مختلف نقطہ نظر میں ہم آہنگ و اتفاق رائے کے لیے، کمیٹی کے بحال شدہ اجلاسوں کے فریم ورک میں بات چیت کو جاری رکھنا مناسب ہے,کسی بھی آئندہ کنونشن کو بین الاقوامی برادری کے بڑے پیمانے پر قبول کرنے کو یہ نقطہ نظر یقینی بنانے کا موثر طریقہ ہے, اس میں وہ ریاستیں شامل ہیں جو فی الحال بین الاقوامی فوجداری عدالت کے روم کے آئین میں فریق نہیں ہیں، میرا وفد اس بات پر قائل ہے کہ مسودہ کے مضامین پر چھٹی کمیٹی میں رکن ممالک کی طرف سے مکمل بحث و مباحثہ اور جائزہ لیا جانا چاہیے, میرا وفد دیگر وفود کے ساتھ مسودہ کے مضامین سے متعلق ان اہم امور پر بات چیت میں تعمیری طور پر شامل رہے گا, ایک بامقصد اور ٹھوس فریم ورک کے قیام کے لئےسیاست و پسند و ناہسند سے پرہیز بہت ضروری ہے, ایسا فریم ورک جو انسانیت کے خلاف جرائم کے لیے احتساب اور استثنیٰ کے مسئلے کو حل کرے, ان تمام کوششوں میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور مقاصد پر سختی سے عمل کرنا چاہیے,

    حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد آج ساتویں دن بھی اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری ہیں، اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں تین لاکھ 38 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، بے گھر افراد نے سکولوں میں پناہ لے رکھی ہےتو کئی کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں، 2500 سے زائد گھر تباہ ،ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں، 23 ہزار گھروں کو معمولی نقصان پہنچا ہے تا ہم وہ رہنے کے قابل نہیں،

    اسرائیلی حملوں کے بعد 88 تعلیمی ادارے تباہ ہو گئے جن میں اقوام متحدہ کے زیلی ادارے کے بھی 18 سکول شامل ہیں،تعلیمی ادارے تباہ ہونے سے کم از کم چھ لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہو چکے ہیں، غزہ میں پاور پلانٹ بند ہو چکا ہے، بیکریوں کے پاس آٹے کی سپلائی تقریبا ایک ہفتے کی رہ گئی ہے ، دکانوں میں کھانے پینے کی اشیا میں کمی دیکھنے میں آئی ہے،اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی کی ہوئی ہے اور حملے جاری رکھے ہوئے ہے جس کی وجہ سے قحط کی سی صورتحال پیدا ہو رہی ہے،

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

    اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے بعد غزہ کی صورتحال تباہ کن ہو چکی ہے، غزہ میں خوراک،پانی کی فراہمی مسلسل کم ہو رہی ہے،بجلی بھی بندہو چکی ہے،

    امریکہ کے بعد برطانیہ کا بھی اسرائیل کی مدد کا اعلان
    امریکہ، برطانیہ سمیت کئی ممالک اسرائیل کی مدد کر رہے ہیں، اب امریکہ کے بعد برطانیہ نے بھی اسرائیل کی مدد کے لئے دو جنگی بحری جہاز اور طیارے بھیجنے کا اعلان کیا ہے، لندن برٹش نیوی کے دو جہاز ، ہیلی کاپٹر مشرقی بحیرہ روم میں تعینات ہوں گے،اسرائیل کو فوجی اعتبار سے انتہائی مضبوط تھا حماس کے حملے کے بعد اسے امریکہ سمیت دیگر ممالک کی مدد کی ضرورت پڑ گئی، سوال ہے کہ کیا اسرائیل کو واقعی مدد درکا ہے تو اسرائیلی فوج کی مضبوطی کہاں گئی؟ امریکہ سمیت دیگر ممالک کی اسرائیل کی مدد کے اعلان سے اور بھی کئی سوالات سامنے آ رہے ہیں کہ کیا یہ جنگ لمبی چلے گی؟ اسلئے اسرائیل کی مدد کی جا رہی ہے،دوسری جانب فوڈ چین میکڈونلڈ نے اسرائیلی فوج اور ریزور رنگروٹس کو مفت خوراک کی فراہمی کا اعلان کر دیا- تین فیکڑیاں کھول دیں جو روزانہ 4000 ٹن خوراک تیار کریں گی اور بائیو سیکیورٹی چیک اپ کے بعد اسرائیلی فوج تک مفت پہنچائی جائے گی

    حماس کے حملے میں امریکی شہریوں کی بھی اسرائیل میں ہلاکت ہوئی ہے،جس کے بعد امریکہ آج سے اپنے شہریوں کو نکالنے کے لئے خصوصی پروازیں چلائے گا، امریکی وزیر دفاع اس سلسلے میں آج اسرائیل پہنچیں گے، اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ اسرائیل کا دورہ کر چکے ہیں،

    ترکیے نے مصر کے ساتھ بات چیت مکمل کر لی- غزہ کے لیے امدادی سامان آج تین فوجی جہازوں کے ساتھ، مصر اور رفع باڈر کے راستے غزہ تک پہنچایا جائے گا-ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کا کہنا ہے کہ خطے میں ایک نئے محاذ کا آغاز غزہ میں اسرائیل کے اقدامات پر منحصر ہے۔ اگر فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے جنگی جرائم جاری رہے تو نئے محاذ کھلیں گے، اور خطے میں ہر قسم کے امکانات ممکن ہیں،

    منصوبہ بندی اور توقع سے زیادہ اہداف حاصل کیے ہیں،القسام بریگیڈ
    القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے طوفان الاقصیٰ آپریشن کی تفصیلات بتا تے ہوئے کہا کہ ہم نے طوفان الاقصیٰ آپریشن میں اپنی منصوبہ بندی اور توقع سے زیادہ اہداف حاصل کیے ہیں۔ ہم نے غزہ میں دشمن فوج کے دستوں پر 15 پوائنٹس کے علاوہ 10 دیگر فوجی پوائنٹس پر حملہ کیا۔ آپریشن کے آغاز کے بعد، ہم نے غزہ کے آس پاس کے مقامات پر 3500 راکٹ جبکہ 1948ء سے زیر قبضہ مقامات پر 1000 راکٹ داغے۔ ہم نے جامع منصوبہ بندی کی، ہم نے آپریشن کے لیے 3000 جنگجوؤں کو تربیت دی اور 1500 جنگجو امدادی کارروائیوں کے لیے اسٹینڈ بائی پر تھے۔ ہم امت اسلامیہ کی فتح کا نقارہ بجاتے ہیں۔ ہم دشمن سے کہتے ہیں کہ اگر تم نے زمینی راستے سے غزہ میں داخل ہونے کی جرات کی تو ہم تمہاری فوج کو کچل کر رکھ دیں گے۔ پچھلے ایک سال کے دوران ہم نے اسرائیل کو انٹیلی جنس نقطہ نظر سے شکست فاش دی۔ ہم آپریشن سے پہلے اپنے ارادوں، اپنی تربیت اور اپنے اقدامات کو چھپانے میں کامیاب ہو ئے۔ ہمارے قیدی ساتھی پریشان نہ ہوں، ہمارے پاس جو ہے وہ انہیں آزاد کروانے کے لیے کافی سے زیادہ ہے۔

  • اسرائیل میں ہلاکتیں 700،دس نیپالی طلبا بھی ہلاک،ڈانس پارٹی کے مقام سے ملی 260 لاشیں

    اسرائیل میں ہلاکتیں 700،دس نیپالی طلبا بھی ہلاک،ڈانس پارٹی کے مقام سے ملی 260 لاشیں

    ہفتے کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر ہونے والے حملوں کے بعد سے لڑائی اب تک جاری ہے، اسرائیل نے بھی جوابی کاروائی کی ہے، حماس کے حملوں میں 700 سے زائد اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں تو وہیں اسرائیلی حملوں میں 450 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں

    اسرائیلی فوج نے غزہ پر حملے کی منصوبہ بندی کر لی ہے، اسرائیلی فوج نے 20 مقامات پر ٹینک اور بھاری توپ خانہ غزہ کے قریب پہنچا دیا ہے، اسرائیلی فوج جب غزہ کے قریب پہنچی تو اسرائیلی شہریوں نے اپنے پرچم اٹھا کر اسرائیلی فوج کا استقبال کیا،

    حماس کے حملے میں نو امریکی شہری بھی مارے گئے ہیں،نو امریکی شہریوں کی موت کی امریکہ نے تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ کئی امریکی شہریوں کو یرغمال بنایا گیا ہے، امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملرکاکہنا تھا کہ تین دن بعد آج ہم نو امریکی شہریوں کے قتل کی تصدیق کر سکتے ہیں

    خواتین اور بچوں کی رہائی،قطر میدان میں آ گیا،حماس سے رابطہ
    اسرائیلی خواتین اور بچوں کی رہائی کے لیے قطر میدان میں آ گیا، قطری ثالثوں نے حماس سے رابطہ کیا ہے تا کہ حماس کے ہاتھوں غزہ میں قید اسرائیلی خواتین اور بچوں کی رہائی کے لیے بات چیت کی جا سکے۔رائٹر نے دعوی کیا ہے کہ حماس سے کہا گیا ہے کہ اسرائیلی خواتین اور بچوں کی رہائی کے بدلے اسرائیلی جیل میں قید 36 فلسطینی خواتین اور بچوں کی رہائی کے لئے بات چیت کی جائے گی،

    قطر کی وزارت خارجہ نے رائٹرز کو تصدیق کی ہے کہ وہ حماس اور اسرائیل کے ساتھ ثالثی کے طور پر کام کر رہے ہیں،ہم مذاکرات کر رہے ہیں جس میں قیدیوں کی رہائی شامل ہے، ہماری ترجحات خونریذی کا خاتمہ بھی ہے، قطری وذارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے یہ بات کہی.

    ہلال احمر کی ایمبولینس گاڑیاں بھی اسرائیلی حملے کا نشانہ
    اسرائیل کی جانب سے ایمبولینسوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہےہلال احمر سوسائٹی کی تین ایمبولینس گاڑیاں اسرائیلی حملے کی زد میں آئی ہیں، ہلال احمر کے ترجمان بشار مراد کا کہنا ہے کہ ایمبولینسوں میں سوار عملے کی بھی موت ہوئی ہے،اب تک ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد افراد کو پناہ گاہوں کی ضرورت ہے جو بے گھر ہو چکے ہیں، ہسپتال بھر چکے ہیں،زخمیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، ایک ہسپتال میں زخمی کو لے کر جاتے ہیں تو وہاں جگہ نہیں ہوتی اسلئے پھر دوسرے کی جانب جانا پڑتا ہے، اسرائیل روزانہ بیس گھنٹے سے زائد عرصے کے لیے بجلی کاٹتا ہے، "جو زخمیوں کے علاج میں رکاوٹ بنتا ہے،

    حماس کے حملے میں ہزاروں اسرائیلی زخمی بھی ہو ئے ہیں، اسرائیل کی جانب سے بھی بھرپور جواب دیا جا رہا ہے، اسرائیلی وزیراعظم نے اتوار کو باضابطہ جنگ کا اعلان کر دیا اور کہا کہ حماس کو اس کی اتنی بھاری قیمت چکانی پڑ گی جس کا اس نے سوچا بھی نہیں ہو گا،امریکہ نے اسرائیل کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کاروائی ہے،

    حماس کے حملے میں دس نیپالی طلبا بھی ہلاک
    میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس نے حملوں کے بعد اسرائیلی شہریوں‌کو یرغمال بھی بنایا ہے، حماس کے مجاہدین گھروں میں گھسے اور اسرائیلیوں پر حملے کئے، یہ ایسا پہلی بار ہوا کہ حماس نے اتنی طاقت سے حملہ کیا ،کہ اسرائیل سمیت کسی کو بھی حملے سے قبل خبر تک نہ ہوئی،حماس نے اسلامی ممالک اور تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس جنگ میں انکا ساتھ دیں،حماس کے اس حملے میں نیپال کے 10 طلبا بھی ہلاک ہوئے ہیں،یوکرین کی ایک خاتون کی بھی موت ہوئی ہے،

    میڈیا رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ ایران کی مدد کے بغیر حماس حملہ نہیں کر سکتا ،تا ہم ایران نے تردید کی، اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے اس حوالہ سے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہم فلسطین کی حمایت میں مضبوطی سے کھڑے ہیں تاہم ہم فلسطین کے اقدام میں شامل نہیں ہیں کیونکہ یہ صرف فلسطین کا فیصلہ ہے،

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ حماس کے حملے اور اسرائیل کی جوابی کاروائی کے بعد غزہ میں بے گھر ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، غزہ میں اب تک ایک لاکھ 23 ہزار 538 افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جس کی بڑی وجہ خوف، عدم تحفظ اور گھروں کا تباہ ہونا ہے، اسرائیلی فوج نے بے گھر افراد جہاں مقیم تھے وہان بھی بمباری کی،کئی سکول تباہ ہو چکے ہیں، سکولوں میں بے گھر افراد نے پناہ لی ہوئی تھی ، اب انہیں کھلے آسمان تلے رہنا پڑ رہا ہے،

    ڈانس پارٹی کے مقام سے ملی 260 لاشیں
    ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوج اور حماس کے مابین چھ مقامات پر جھڑپیں ہو رہی ہیں،ڈانس پارٹی میں جانے والے بھی حماس کے حملوں کا نشانہ بن گئے ہیں، ڈانس پارٹی پر حماس کے حملے کے وقت موجود ایک عینی شاہد کا کہنا ہے کہ میں نے ہر طرف سے گولیوں کی آواز سنی، وہ دونوں طرف سے فائرنگ کر رہے تھے، سب بھاگ رہے تھے لیکن یہ نہیں جانتے تھے کہ جان بچا کر کہاں جائیں، ہر طرف افراتفری تھی،ہم ایک کار میں سوار ہو کر فرار ہوئے، کئی گھنٹے ایک ہی جگہ پر چھپے رہے،کار میں آگ لگی تو پیدل بھاگنا پڑا، اس ڈانس پارٹی کے مقام سے 260 لاشیں ملی ہیں،

    اتوار کی شب اسرائیلی وزارت صحت نے حماس کے حملوں میں ہونے والے زخمیوں کے بارے میں اعدادوشمار جاری کرتے ہوئے کہا کہ کم ازکم 2243 افراد زخمی ہیں،

    اسرائیل کا دفاعی نظام اس حملے کو روکنے میں کیوں ناکام رہا؟
    ایک بات حیران کن اور ابھی تک کسی کو بھی نہیں سمجھ آ رہی کہ اسرائیل کا دفاعی نظام اس حملے کو روکنے میں کیوں ناکام رہا؟ اسرائیل کو اس حملے کی خبر کیوں نہ ہو سکی، اسرائیلی دفاعی نظام پر سوال اٹھ رہے ہیں ، بی بی سی نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ آئرن ڈوم ان متعدد میزائل شکن نظاموں میں سے ایک ہے جو اسرائیل میں اربوں ڈالر لگا کر نصب کیے گیے ہیں یہ نظام ریڈار کی مدد سے اس کی جانب داغے گئے راکٹس کو ٹریک کرتا ہے اور ان کو روکنے کے لیے انٹرسیپٹ کرنے والے میزائل داغتا ہے۔آئرن ڈوم کی بنیاد سنہ 2006 میں اسرائیل اور جنوبی لبنان میں موجود حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کے وقت رکھی گئی تھی حزب اللہ نے ہزاروں راکٹ داغے تھے جس سے اسرائیل میں کافی مالی نقصان ہوا اور درجنوں اسرائیلی بھی مارے گئے ایک سال بعد اسرائیل کی ریاستی دفاعی کمپنی رفائل ایڈوانس سسٹمز نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایک نیا میزائل شکن دفاعی ڈھال کا نظام تیار کریں گےاس پروجیکٹ کے لیے امریکہ نے 20 کروز ڈالر بھی دیے تھے کچھ برسوں کی تحقیق کے بعد یہ نظام سنہ 2011 میں پہلی مرتبہ جنگی حالات میں ٹیسٹ کیا گیا جب اس نے جنوبی شہر بیرشیبہ پر داغا گیا ایک راکٹ مار گرایا تھا

    اب سوال اٹھتا ہے کہ سال 2011 سے اسرائیل کی راکٹوں سے حفاظت کرنے والے آئرن ڈوم کے اب ناکام ہونے کا سبب کیا ہے؟ دراصل جدید نظام ہونے کے باوجود آئرن ڈوم کی کچھ کمزوریاں بھی ہیں آئرن ڈوم غزہ سے داغے جانے والے راکٹوں کو 90 فیصد تک ناکام بنا دیتا ہے لیکن اگر بہت زیادہ تعداد میں راکٹ یا میزائل داغے جائیں تو یہ حفاظت میں ناکام بھی ہو سکتا ہے، اور اس بار اسی طرح ہوا، حماس نے حکمت عملی کے تحت ایک ساتھ ہزاروں میزائل داغے جس کی وجہ سے آئرن ڈوم فیل ہو گیا، یہ بھی سوال کیا جارہا ہے کہ موساد کو اس حملے کی کوئی اطلاع کیوں نہ مل سکی؟

    موساد کے سابق سربراہ افرائیم ہیلیوی کا کہنا ہے کہ ہفتے کی صبح غزہ کی پٹی اور اس کے ارد گرد اسرائیلی بستیوں میں ہمیں کچھ اندازہ نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے؟ انہوں نے تصدیق کی کہ اسرائیلی فورسز کو کسی بھی قسم کی کوئی وارننگ موصول نہیں ہوئی تھی،

    صورتحال کے تمام تر ذمہ دار وزیراعظم نیتن یاہو ہیں،اسرائیلی میڈیا
    حماس کے حملے کو روکنے میں ناکامی پر اسرائیلی میڈیا نے اسرائیلی وزیراعظم پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اپنے شہریوں کوبچانے میں اسرائیل بطور ریاست اوراسرائیلی فوج اور جاسوسی کے جدید ترین آلات رکھنے کے باوجود انٹیلی جنس بری طرح ناکام ہوئی تاہم لیڈر ذمہ داری لینے کے بجائے الزام فوج پر دھر رہے ہیں،اسرائیلی اخبار کے مطابق 1973 میں یوم کپور کے موقع پر 3 ہزاراسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے تھے اس کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں اموات ہوئی ہیں اور اس بار زیادہ تراموات شہریوں کی ہوئی ہیں جو شرمناک ہے،صورتحال کے تمام تر ذمہ دار وزیراعظم نیتن یاہو ہیں جنگ ختم ہونے کے بعد انہی کواس ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے …

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے قید اسرائیلی فوجیوں کے حوالے سے آڈیو پیغام جاری کیا ہے،حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ کے ترجمان نے پیغام میں کہا ہے کہ زیر حراست اسرائیلیوں کی تعداد اسرائیلی وزیر اعظم کے بیان کردہ تعداد سے کہیں زیادہ ہےاسرائیلی قیدیوں کو غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں رکھا گیا ہےآپریشن باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا اسرائیلی علاقے میں داخلے اور میزائل حملے بھی سوچی سمجھی کارروائی کا حصہ تھے اس آپریشن کے بیشتر نکات ہماری منصوبہ بندی کے مطابق چل رہے ہیں

    اسرائیل سب حملوں کو بھول جائے گا، ایران
    دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل نے حملہ کیا تو اس پر چاروں اطراف سے اتنا شدید حملہ ہو گا کہ وہ سب حملوں کو بھول جائے گا،دی سپیکٹیٹر انڈکس کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ایران پر حملہ کیا جاتا ہے کہ اسرائیل پر لبنان، یمن اور عراق سے حملہ کیا جائے گا جبکہ شام سے مجاہدین بھیجے جائیں گے

    حماس کی جانب سے تین اسرائیلی شہروں میں راکٹ حملوں کے بعد صیہونی فورسز کی جانب سے جوابی کارروائی نہ ہونے کی وجہ سامنے آئی ہے، ترک میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے میزائل اسٹاک میں کمی کی وجہ سے موثر جواب نہیں دیا جا سکا، اسرائیلی فوج آئرن ڈوم سسٹم سے لیس کچھ یونٹوں کو گولہ بارود فراہم نہیں کر رہی، اسرائیلی فوج کے پاس گائیڈڈ اینٹی ائیر کرافٹ میزائل بھی محدود تعداد میں ہیں، اسرائیلی فوج غزہ سے قریب اشکلون، اشدد، سدیرات شہروں پر حماس کے راکٹ حملوں کا جواب نہ دے سکی

    حماس کے حملوں کے بعد ابھی تک اسرائیل کی جوابی کاروائی جاری ہے، حماس کے حملے بھی جاری ہیں،ایسے میں سعودی عرب نے غزہ پٹی اوراردگرد کے علاقوں میں جارحیت اور پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے، سعودی وزارت خارجہ نے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی جائے ،

  • اسرائیل پر حملے کے لیے ایران نے حماس کی مدد کی، امریکی اخبار کا دعویٰ

    اسرائیل پر حملے کے لیے ایران نے حماس کی مدد کی، امریکی اخبار کا دعویٰ

    امریکی اخبارنے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل پرحملوں کی منصوبہ بندی اورتیاری کے لیے فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کو ایران نے مدد فراہم کی۔

    باغیی ٹی وی: وال اسٹریٹ جنرل میں شائع رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آپریشن طوفان االاقصیٰ کے تحت سرپرائزحملوں کی تیاری اور منصوبہ بندی کیلئے حماس کو ایران کی جانب سے مدد فراہم کی گئی تھی۔

    تاہم امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل پر حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملےبلنکن کا کہنا ہے کہ مطابق حماس کا یہ حملہ اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے بڑھتے تعلقات میں خلل ڈالنے کی کوشش ہوسکتا ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ نے تو ایران کے ملوث ہونے کی تردید کی لیکن یران کی حمایت یافتہ طاقتور مسلح جماعت حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے فلسطینی عوام کے ساتھ ”یکجہتی“ کے طور پر شیبا فارمز میں تین پوسٹوں پر گائیڈڈ راکٹ اور توپ خانوں سے حملہ کیا۔

    غزہ پٹی میں جارحیت،یو اے ای کا تشدد کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ

    دوسری جانب امریکا نے اسرائیل کی مدد کے لی اپنا جنگی بیڑہ بھیجنے کا اعلان بھی کردیا ہےامریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کا کہنا ہے کہ امریکا اپنے ایک کیریئر اسٹرائیک گروپ کو اسرائیل کے قریب لے جا رہا ہے، جس میں فورڈ کیریئر اور دیگر جہاز شامل ہیں۔

    امریکی وزیر دفاع کے مطابق جنگی بحری بیڑےاسرائیل کی مدد کے لیے روانہ کررہے ہیں، امریکا اسرائیل کو گولہ بارود بھی فراہم کرے گا۔ اسرائیل بھیجے جانے والے بحری بیڑے میں طیارہ بردار جہاز سمیت 5 تباہ کن بحری جہاز شامل ہیں۔

    امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی مدد کیلئے جنگی بحری بیڑے کو اسرائیل کی طرف روانہ کر رہے ہیں، امریکی ائیرفورس کے ایف 15، ایف 16، ایف 35 اور اے 10 لڑاکا طیارے بھی اسرائیل بھیجے جا رہے ہیں، اسرائیل کو امریکی سکیورٹی امداد کی فراہمی آج سے شروع ہو جائے گی۔

    سائفرکیس : سماعت اڈیالہ جیل میں شروع،، چئیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو عدالت پیش کیا جائے گا

    واضح رہے کہ ہفتہ 7 اکتوبر کو فلسطینی جنگجوؤں کی جانب سے کیے جانے والے اس حملے کا مقصد 1967 میں ایک مختصر جنگ کے دوران اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنا تھا۔

  • اسرائیلی  میجر جنرل حماس کے ہاتھوں  یرغمال؛  کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    حماس کے نائب سربراہ صالح العروری نے دعویٰ کیا ہے کہ ہحماس کے پاس کافی اسرائیلی قیدی ہیں جن کے بدلے وہ اسرائیلی جیلوں میں قید تمام فلسطینی قیدیوں کو آزاد کرا سکتے ہیں جبکہ حماس کے نائب سربراہ نے الجزیرہ کو بتایا کہ ہم بہت سے اسرائیلی فوجیوں کو مارنے اور پکڑنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ لڑائی اب بھی جاری ہے۔ اسرائیل میں موجود اپنے قیدیوں کو کہوں گا کہ آپ کی آزادی بہت قریب آرہی ہے۔ جو ہمارے ہاتھ میں ہے اس کے زریعے آپ خود کو آزاد ہوتے یکھیں گے۔

    علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ جتنی طویل لڑائی جاری رہے گی، قیدیوں کی تعداد اتنی ہی زیادہ ہوتی جائے گی۔ تاہم خیال رہے کہ فلسطین کے علاقے غزہ کی مزاحمتی تنظیم حماس کے جنگجو اسرائیل پر حملوں کے دوران متعدد اسرائیلی فوجی اور شہریوں کو یرغمال بنا کر ساتھ لے گئے ہیں جبکہ آج صبح حماس نے غزہ سے اسرائیل پر زمین، سمندر اور فضا سے حملے کیے جس کے نتیجے میں صیہونی فوجیوں سمیت 40 اسرائیلی ہلاک، 700 سے زائد زخمی ہوگئے جن میں سے درجنوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    سوشل میڈیا پر وائرل کئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حماس کے جنگجوؤں نے کئی اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کو یرغمال بنالیا ہے، اسرائیلی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ حماس کے جنگجو حملوں کے دوران 50 اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کو یرغمال بنا کر ساتھ لے گئے ہیں جبکہ دوسری جانب عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کے جنگجو اسرائیلی فوج کے میجر جنرل نمرود الونی کو بھی یرغمال بنا کر ساتھ لے گئے ہیں۔

    تاہم عرب میڈیا نے یہ دعویٰ سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر کی بنیاد پر کیا ہے تاہم اسرائیلی فورسز کی جانب سے اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی اور اسرائیلی حکام اور حماس کے رہنماؤں دونوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مغویوں کو غزہ لے جایا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے یہ بھی کہا ہے کہ حماس کے جنگجوؤں نے جنوبی اسرائیل کے کم از کم دو مقامات سے لوگوں یرغمال بنایا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    برفانی تودہ گرنے سے 4 افراد ہلاک ہوگئے

    پاگل کتوں کے کاٹنے کے 22 واقعات رپورٹ

    شمالی وزیرستان؛ سکیورٹی فورسز نے دہشتگرد عظیم اللہ عرف غازی کو ہلاک کردیا

    پی ٹی آئی پی تقریب؛ شریک جماعت اسلامی کے رکن کا کھڑے ہوکر انوکھا انکار
    جبکہ حماس کی طرف سے جاری کردہ ویڈیوز میں کم از کم تین اسرائیلیوں کو زندہ پکڑے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ دریں اثنا، ایسوسی ایٹڈ پریس کی تصاویر کے مطابق دو خواتین سمیت کم از کم تین شہریوں کو غزہ لایا گیا ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کی نامعلوم تعداد کو غزہ لے جایا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان ہجری نے کہا کہ حماس کے جنگجوؤں نے غزہ سے 24 کلومیٹر (15 میل) کے فاصلے پر واقع بیری اور اوفاکیم قصبوں میں بھی یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔

    حماس کے ترجمان ابو عبیدہ نے اس دوران کہا کہ جنگجوؤں نے درجنوں اسرائیلی فوجیوں کو جن میں افسران بھی شامل ہیں کو یرغمال بنا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغویوں کو محفوظ مقامات“ اور سرنگوں میں رکھا جا رہا ہے اور حماس کے نائب سربراہ العروری نے پہلے الجزیرہ کو بتایا تھا کہ قیدیوں کو قیدیوں کے تبادلے کے لیے استعمال کیا جائے گا تاہم اُدھر اسرائیلی فوج نے غزہ پر فضائی حملے شروع کردیے ہیں اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق 198 فلسطینی شہید ہوگئے جبکہ ایک ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ جبکہ اسرائیلی حکومت نے ایک نوٹس جاری کیا ہے جس میں‌جزیرہ نما سینائی میں تمام اسرائیلی شہریوں سے فوری طور پر علاقہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    اب دوسری جانب سوال یہ اہم ہے کہ اسرائیل کا جدید ترین آئرن ڈوم ایئر ڈیفنس سسٹم حماس کے راکٹوں کو پرواز کے راستے میں روکنے اور انہیں نشانہ بنانے میں کیسے ناکام رہا؟ نتیجتا 1000 راکٹ ریاست اسرائیل کے اندر گرے ہیں.

    حماس کی ایک بڑی فوج اسرائیل کی مضبوط سرحدی رکاوٹوں کو توڑنے میں کیسے کامیاب رہی؟ اور انہوں نے اسرائیل کی ریاست میں اتنی گہرائی تک مداخلت کیسے کی جس کی بالکل مخالفت نہیں کی گئی؟ کیوں آئی ڈی ایف فوری رد عمل کے ذریعے حماس کے جنگجوؤں کو دراندازی کرنے والے مقامات سے بے دخل کرنے میں ناکام رہا؟ کوئی کیسے یقین کر سکتا ہے کہ آئی ڈی ایف کے پاس اس طرح کے واقعات کے لئے کوئی جوابی منصوبہ نہیں ہے؟

    جبکہ حماس نے اسرائیل کی ناک کے نیچے اتنی بڑی مقدار میں راکٹ کیسے درآمد یا تیار کیے اور ذخیرہ کیے؟ حماس کو لانچنگ سائٹس پر 1000 راکٹ لے جانے کی کھلی چھوٹ کسیے دی گئی؟ اسرائیلی وزیر اعظم کو جنگ کے اعلان کے لئے کابینہ کی منظوری کی ضرورت کیوں نہیں تھی؟ اور تمام صحیح وجوہات کی بنا ء پر، ہم یہودیوں کی لاشوں کو گھسیٹتے ہوئے جشن منانے کے لئے مناسب طور پر خوش ہیں .

  • اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 23 فلسطینی شہید ہو گئے

    اسرائیل نے گزشتہ روز فلسطین پر بمباری کی جس کے نتیجے میں 23 فلسطینی شہید جبکہ سینکڑوں زخمی ہو گئے. اسرائیل نے یہ حملے حماس پر راکٹ حملے کا الزام لگاتے ہوئے کیے. اسرائیل کے مطابق حماس نے دارالحکومت تل ابیب پر راکٹ حملہ کیا جسکے نتیجے میں 4 اسرائیلیوں کی ہلاکت ہوئی. اسرائیل نے اپنے شہریوں کی ہلاکت کا بدلہ لینے کیلئے فلسطین پر حملہ کیا جس کے بعد بچوں اور حاملہ خاتون سمیت 23 فلسطینی شہید ہو گئے.

    1948 سے اب تک اسرائیل اب تک ہزاروں فلسطینیوں کو شہید اور گرفتار جبکہ لاکھوں کو زخمی کر چکا ہے. شہید اور گرفتار افراد میں بڑی تعداد بچوں کی ہے. اقوام متحدہ سمیت دیگر ممالک نے حالیہ اسرائیلی حملے کی مزمت کی ہے.