Baaghi TV

Tag: حماس

  • امریکا کا قطر سے حماس قیادت کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ

    امریکا کا قطر سے حماس قیادت کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ

    امریکا نے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق امریکی معاہدہ مسترد کرنے پر قطر سے حماس قیادت کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق امریکا کی جانب سے قطر کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ دوحا میں حماس قیادت کی موجودگی کو مزید قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ فلسطینی مزاحمتی گروپ نے جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق نئی تجاویز کو بھی مسترد کردیا ہے۔

    سینیئر امریکی عہدیدار نے برطانوی خبر ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کئی روز قبل ہی امریکا کی جانب سے حماس کے معاہدے سے متعلق نئی تجاویز مسترد کرنے پر قطر کو یہ پیغام پہنچا دیا گیا تھا کہ وہ حماس کی قیادت کو ملک بدر کردیں، حماس کی جانب سے یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق معاہدے کی تجاویز کو بار بار مسترد کرنے کے بعد حماس کے رہنماؤں کو کسی بھی امریکی اتحادی ملک کے دارالحکومت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

    امریکی عہدیدار نے بتایا کہ قطر نے تقریباً دس روز قبل حماس کے رہنماؤں سے بھی اس مطالبے کا اظہار کردیا تھا کہ واشنگٹن نے تجاویز مسترد کرنے پر قطر سے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے، حماس کا سیاسی دفتر بند کردیا جائے۔

    دوسری جانب حماس کے تین رہنماؤں نے قطر کی جانب سے ملک چھوڑنے کے کسی بھی مطالبے کی خبر کو مسترد کردیا ہے جبکہ قطر کی وزارت خارجہ کی جانب سے بھی خبر کی تصدیق یا تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ اکتوبر کے وسط میں دوحا میں ہونے والے مذاکرات کا تازہ دور بھی ناکام ہوگیا تھا کیونکہ حماس نے قلیل مدتی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کردیا تھا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ برس امریکی وزیر خارجہ نے 7 اکتوبر کے حملے کے بعد قطر سمیت خطے کے دیگر ممالک کو واضح کردیا تھا کہ حماس کے ساتھ معمول کے تعلقات برقرار نہیں رکھے جاسکتے جس پر قطر نے واشنگٹن کو یقین دہانی کروائی تھی کہ غزہ جنگ کے خاتمے کے بعد حماس رہنماؤں کی ملک میں موجودگی پر دوبارہ غور کرنے کیلئے تیار ہیں۔

    دوسری جانب مشرق وسطی میں قیام امن کے لیے سبکدوش ہونے والی بائیڈن انتظامیہ نے بھی رابطے تیز کردئیے ہیں، امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔

    سعودی میڈیا کے مطابق فیصل بن فرحان اور انٹونی بلنکن نے علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور مشرق وسطی میں قیام امن کے لیے سفارت کاری کے ساتھ آگے بڑھنے پر زور دیا۔

    امریکی حکام کے مطابق حالیہ رابطوں کا مقصد غزہ اور لبنان کے ساتھ اسرائیل کے تنازعات کو ختم کرنے کے معاہدے تک پہنچنا ہے، انٹونی بلنکن تنازعات کے خاتمے کے لیے ڈیل تک پہنچنے کی حتمی کوشش کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب غزہ میں مسلسل اسرائیلی بمباری سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 23 فلسطینی شہید ہوگئےگزشتہ صبح سویرے سے رات گئے تک اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی، نصیرات اور بیت لاہیہ کے علاقوں کو نشانہ بنایا، مغربی کنارے میں بھی 2 فلسطینیوں کو شہید کردیا گیا۔

    غزہ میں اسرائیلی بربریت کا نشانہ بننے کر شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد 43 ہزار 508 ہوگئی اقوام متحدہ انسانی حقوق کے مطابق غزہ میں اسرائیلی جارحیت سے شہید ہونے والوں میں 70 فیصد خواتین اور بچے شامل ہیں۔

    ادھر اسرائیلی فوج کے لبنان میں حملوں سے 24 گھنٹوں میں 52 شہری شہید ہوئے، اسرائیلی فوج کی جانب سے لبنان سے فائر کیے گئے 2 ڈرون گرانے کا بھی دعویٰ کیا گیا اسرائیلی فوج کی نباتیہ اور طائر کے علاقوں میں بمباری سے طبی عملے کے رکن سمیت 3 شہری شہید ہوگئے جوابی کارروائی کرتے ہوئے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے اسرائیل کی رمات ڈیوڈ بیس، حیفہ میں نیول بیس اور فوجی ہوائی اڈاے کو نشانہ بنایا۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی:حماس نےبیان جاری کر دیا

    ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی:حماس نےبیان جاری کر دیا

    دوحہ: امریکی صدارتی الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اپنا پہلا ردعمل دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق حماس کے سینئر عہدیدار سمی ابو ذوہری نے کہا کہ ٹرمپ کو ان کے بیانات کے حساب سے جانچا جائیگا کیونکہ انہوں نے کہا تھا وہ بطور امریکی صدر غزہ جنگ کو چند گھنٹوں میں روکیں گے انہوں نے ٹرمپ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ صدر بائیڈن کی غلطیوں سے سیکھیں-

    حماس پولیٹیکل بیورو کے ممبر باسم نعیم نے کہا کہ صیہونی ریاست کی اندھی حمایت ختم ہونی چاہیے کیونکہ یہ حمایت ہمارے لوگوں کے مستقبل اور خطے کے کی قیمت پر آتی ہے۔

    واضح رہے کہ دوسری مرتبہ صدارتی الیکشن جیتنے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ نئی جنگیں شروع کرنے کے بجائےجنگوں کو ختم کریں گے، جبکہ وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ مشرق وسطیٰ کو حقیقی اور پائیدار امن کی طرف لوٹتے دیکھنا چاہتےہیں اور وہ اس عمل کو اچھے طریقے سے کریں گے تاکہ 5 یا 10 سال بعد دوبارہ سے پرانے حالات واپس نہ آئیں۔

    ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روس،ایران کا ردعمل

    ٹرمپ کی فتخ کے تاریخی اعلان کے ساتھ ہی ٹرمپ نے ایک بار پھر امریکہ کی سیاست میں اپنی اہمیت کو ثابت کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کے بعد امریکہ کی سیاست میں ایک نئے دور کی شروعات متوقع ہے، جہاں ان کے اقتدار میں مزید سیاسی اور اقتصادی فیصلے ہوں گے جو نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی سطح پر بھی اثر انداز ہوں گے-

    ٹرمپ کو برطانوی،بھارتی وزیراعظم،فرانسیسی،یوکرینی صدر و دیگر کی مبارکباد

  • یحییٰ سنوار  نے اپنی شہادت سے 72 گھنٹے پہلے تک کچھ نہیں کھایا تھا،پوسٹ مارٹم رپورٹ

    یحییٰ سنوار نے اپنی شہادت سے 72 گھنٹے پہلے تک کچھ نہیں کھایا تھا،پوسٹ مارٹم رپورٹ

    غزہ: فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کے شہید سربراہ یحییٰ سنوار کی مبینہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے اپنی شہادت سے 72 گھنٹے پہلے تک کچھ نہیں کھایا تھا۔

    باغی ٹی وی : 17 اکتوبر 2024 کو اسرائیلی فورسز نے غزہ میں یحییٰ سنوار کو شہید کرنے کا دعویٰ کیاتھا ، جس کی بعد میں حماس نے بھی تصدیق کر دی اسرائیلی ڈاکٹر جنہوں نے یحییٰ سنوار کا پوسٹ مارٹم کیا نے بتایا کہ انہوں نے اس کی تصدیق ڈی این اے اور دیگر معلومات کے ذریعے کی۔

    اسرائیلی فورسز نے یحییٰ سنوار کی شہادت سے قبل ایک ڈرون اس عمارت میں بھیجا جہاں وہ مزاحمتی فورسز کے ساتھ مقابلے میں تھے اس دوران، عمارت میں ایک زخمی شخص نے ڈرون کی جانب ایک چھڑی پھینکی، جو بعد میں معلوم ہوا کہ وہ خود یحییٰ سنوار تھے اسرائیلی فورسز انہیں ایک سال سے تلاش کر رہی تھیں، اور ان کا خیال تھا کہ وہ کسی سرنگ میں چھپے ہوئے ہیں۔

    عوام کے پیسوں سے بنایا جانے والا ایئر لائن شریف خاندان کے لیے استعمال ہوگا،بیرسٹر …

    حماس کے سابق سربراہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر زیر بحث ہے، جس میں قدس نیوز نیٹ ورک اور اسرائیلی میڈیا کے حوالے سے کئی سنسنی خیز انکشافات کیے گئے ہیں، اردن کے خبر رساں ادارے البوابہ نے اس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ یحییٰ سنوار نے شہادت سے 3 دن قبل کوئی خوراک نہیں لی تھی۔

    مئیر کراچی کا براہ راست انتخاب: حافظ نعیم الرحمان و دیگر کی درخواستیں مسترد

  • اسرائیلی حملے میں حماس کے دو سینئر رہنماؤں کی موت

    اسرائیلی حملے میں حماس کے دو سینئر رہنماؤں کی موت

    اسرائیلی فوج نے حماس کے سینئر رہنما عزالدین قصاب کو بھی شہید کر دیا

    حماس نے خان یونس میں گاڑی پر اسرائیلی ڈرون حملے میں دو سینیئر ارکان کی شہادت کا اعلان کیا ہے، عزالدین قصاب انٹرنل کمیونیکیشن آفس کے رکن اور غزہ میں قومی اور اسلامی تحریکوں کی پیروی کی کمیٹی کے رکن تھے،ایمن عیاش غزہ کی پٹی میں قومی اور اسلامی تحریکوں کی فالو اپ کمیٹی کی رکن تھے۔اسرائیلی فوج نے بیت لاہیہ میں اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، جہاں بمباری کے نتیجے میں پانچ فلسطینی شہید ہو گئے۔ نصیرت کیمپ کے اطراف بھی ٹینکوں سے گولہ باری کی گئی، جس کے باعث 26 فلسطینیوں کی جانیں گئیں۔

    واضح رہے کہ غزہ کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی فوج کے 778 افسران اور اہلکار مارے جا چکے ہیں، جس کی تصدیق اسرائیلی حکام نے کی ہے،ہ غزہ میں حماس کے ساتھ جھڑپوں میں 366 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ اسرائیل اور لبنان میں حملوں کے نتیجے میں 62 فوجی جان کی بازی ہار گئے، اور 58 اسرائیلی پولیس افسران بھی غزہ میں ہلاک ہوئے۔

    یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور انسانی جانوں کے نقصان پر گہری افسوس کا اظہار کیا جانا چاہیے۔ بین الاقوامی برادری کو اس تشدد کے سلسلے کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ بے گناہ شہریوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔

  • حزب اللہ نے نعیم قاسم کو نیا سربراہ منتخب کر لیا

    حزب اللہ نے نعیم قاسم کو نیا سربراہ منتخب کر لیا

    لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللّٰہ نے نعیم قاسم کو اپنا نیا سربراہ منتخب کر لیا ہے۔

    اس سے پہلے، حسن نصراللّٰہ کی شہادت کے بعد، حزب اللّٰہ نے سینئر رہنما شیخ نعیم قاسم کو عارضی سربراہ مقرر کیا تھا۔ حزب اللّٰہ کے متوقع سربراہ ہاشم صفی الدین اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے تھے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ہاشم صفی الدین کو 3 ہفتے پہلے بیروت میں حملے کے دوران نشانہ بنایا تھا۔ ہاشم صفی الدین حزب اللّٰہ کے سابق سربراہ حسن نصراللّٰہ کے کزن تھے۔

    یاد رہے کہ اسرائیلی فوج نے بیروت میں بمباری کے نتیجے میں حسن نصراللّٰہ کی شہادت کا دعویٰ کیا تھا، جس کی بعد میں حزب اللّٰہ نے بھی تصدیق کی اور اسرائیل کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ حزب اللّٰہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ حسن نصراللّٰہ شہید ہو گئے ہیں اور یہ کہ اسرائیل کے خلاف غزہ اور فلسطین کی حمایت میں جنگ جاری رہے گی، اور لبنان اور اس کے لوگوں کے دفاع میں بھی یہ جنگ جاری رہے گی۔

    حزب اللہ کے نئے سربراہ نعیم قاسم کا مختصر تعارف
    نعیم قاسم کو حزب اللہ کے سربراہ مقرر کیا گیا ہے ان کی پیدائش 1961 میں لبنان کے شہر بعلبک میں ہوئی۔ انہوں نے اپنے ابتدائی تعلیم و تربیت لبنان میں حاصل کی اور بعد میں حوزہ علمیہ قم، ایران میں دینی تعلیم حاصل کی۔ نعیم قاسم نے حزب اللہ کے نظریات کو پھیلانے اور تنظیم کی سیاسی حکمت عملیوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے حزب اللہ کی سیاسی شاخ کی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے، خاص طور پر 2005 کے پارلیمانی انتخابات میں۔نعیم قاسم نے حزب اللہ کی فوجی کارروائیوں میں بھی حصہ لیا ہے، خاص طور پر 2006 کی لبنان جنگ کے دوران، جہاں حزب اللہ نے اسرائیلی افواج کے خلاف مضبوط مزاحمت کی۔ ان کی قیادت میں حزب اللہ نے مختلف فوجی حکمت عملیوں کو عملی جامہ پہنایا ہے۔ نعیم قاسم کی حیثیت صرف لبنان تک محدود نہیں ہے، بلکہ وہ عالمی سطح پر بھی حزب اللہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کے بیانات میں اکثر ایران، شام اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ حزب اللہ کے تعلقات کی اہمیت پر زور دیا جاتا ہے۔ حال ہی میں، نعیم قاسم نے اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کی مضبوطی اور لبنان میں استحکام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔نعیم قاسم حزب اللہ کے ایک مرکزی اور بااثر رہنما ہیں۔ ان کی قیادت میں حزب اللہ نے نہ صرف سیاسی میدان میں بلکہ فوجی سطح پر بھی اپنی موجودگی کو مستحکم کیا ہے۔ ان کا کردار لبنان کی سیاست اور خطے کی جغرافیائی صورتحال میں اہمیت کا حامل ہے۔

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

    مناہل ملک کی لیک”نازیبا "ویڈیو اصلی،مفتی قوی بھی میدان میں آ گئے

    ٹک ٹاکر مناہل ملک کی "نازیبا ویڈیو”کی ہلچل تیسرے روز بھی جاری

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک کی عمران خان سے ملاقات کی تصویر وائرل

    مناہل ملک سے قبل کس کس پاکستانی کی ہوئی "نازیبا ویڈیو”لیک

    ٹک ٹاکر مناہل ملک کی انتہائی نازیبا،جسمانی تعلق،بوس و کنارکی ویڈیو وائرل

  • اسماعیل ہانیہ اور یحیی سنوار کی شہادت کے بعد ہمارے پاس کھونے کیلئے کچھ نہیں بچا،حماس

    اسماعیل ہانیہ اور یحیی سنوار کی شہادت کے بعد ہمارے پاس کھونے کیلئے کچھ نہیں بچا،حماس

    دوحہ: فلسطین کی مزاحمتی حکمراں جماعت حماس کے کمانڈر یحیی سنوار کی شہادت کے بعد بھی حماس مجاہدین نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا۔

    باغی ٹی وی : اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کی قید میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کی تیاریاں جاری ہیں ایسے میں قطر میں مقیم ذرائع نے اسرائیلی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج سے جھڑپ میں حماس کے سینئر رہنما یحییٰ سنوار کی شہادت کے بعد دوحہ میں مقیم اس کے عہدے داران میں یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ ان کے پاس اب کھونے کے لیے کچھ نہیں بچا۔

    ذرائع نے وضاحت کی کہ یہ سوچ اور فکر یرغمالیوں کی رہائی کےلیے ہونے والے مذاکرات پر اثر انداز ہوگی اور حماس کے نقطہ نظر پر گہرے اثرات مرتب کرے گی، کیونکہ وہ تاحال قیدیوں کو چھوڑنے کےلیے اپنی شرائط پر ڈٹے رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جن میں سے اولین شرط غزہ میں مستقل جنگ بندی ہے۔

    یحییٰ سنوار کی وصیت اور تنظیم کیلئے ہدایات نامہ منظر عام پر آگیا

    ذرائع نے بتایا کہ دوحہ میں ہونے والی بات چیت کے بعد جو بھی نکات طے پائیں گے ان پر غزہ میں فوجی کونسل سے مشاورت کی جائے گی جو اگلے اقدامات کیلئے اپنے نمائندوں کی رہنمائی کرے گی، دوحہ اور غزہ کے درمیان رابطوں میں پیچیدگی کی وجہ سے مشاورتی عمل میں کئی دن بھی لگ سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے مجاہدین نے اسرائیل پر ایک بڑا حملہ کیا تھا جس میں 1200 اسرائیلی مارے گئے اور 250 افراد کو قیدی بنالیا گیا تھا جبکہ رواں ماہ کی 16 تاریخ کو حماس کے سربراہ یحییٰ السنوار غزہ کے علاقے رفح میں اسرائیلی فورسز کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہوچکے ہیں۔

    علی خامنہ ای کا عبرانی زبان میں ایکس اکاؤنٹ بنتے ہی ایک دن بعد معطل

  • یحییٰ سنوار کی وصیت اور تنظیم کیلئے ہدایات نامہ منظر عام پر آگیا

    یحییٰ سنوار کی وصیت اور تنظیم کیلئے ہدایات نامہ منظر عام پر آگیا

    فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار شہید کی وصیت اور حماس کیلئے ہدایات نامہ سامنے آگیا۔

    حماس کے شہید رہنما یحییٰ سنوار کے آخری تحریری احکامات ظاہر کرتے ہیں کہ ان میں اسرائیلی یرغمالیوں کے بارے میں واضح ہدایات شامل ہیں۔فلسطینی اخبار القدس نے 3 صفحات پر مشتمل یہ دستاویزات شائع کی ہیں، جن کو سنوار کی "وصیتیں” اور "ہدایت نامے” قرار دیا جا رہا ہے۔16 اکتوبر کو اسرائیل کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہونے والے یحییٰ سنوار نے اپنی ہدایات میں اسرائیلی یرغمالیوں کے محافظوں کو کہا کہ "دشمن کے قیدیوں کی جان کا خیال رکھیں اور انہیں محفوظ بنائیں، کیونکہ یہ ہمارے پاس سودے بازی کا واحد ذریعہ ہیں۔”یحییٰ سنوار نے لکھا کہ "دشمن کے قیدیوں” کی حفاظت کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ فلسطینی قیدیوں کی اسرائیلی جیلوں سے رہائی کو ممکن بنایا جا سکے۔ ان کی تحریر میں اس فرض کو پورا کرنے والے افراد کو انعام دینے کا بھی ذکر کیا گیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق یحییٰ سنوار کی شہادت کے وقت غزہ میں 101 اسرائیلی یرغمالی موجود تھے، جن میں سے 60 کے زندہ ہونے کی اطلاع تھی۔تحریر کے دوسرے صفحے پر یرغمالیوں کی تعداد اور مقامات کا تذکرہ ہے، جس میں غزہ شہر میں 14، غزہ کے وسط میں 25 اور رفح میں 51 یرغمالیوں کا ذکر ہے جبکہ چوتھے گروپ کے 22 افراد کا کوئی مقام نہیں دیا گیا۔آخری صفحے میں ان 11 خواتین یرغمالیوں کے نام شامل ہیں جنہیں جنگ بندی کے دوران رہا کیا گیا تھا اور جن کے پاس غیر ملکی شہریت بھی تھی۔اب تک اسرائیل کی طرف سے ان دستاویزات پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں آیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ جمعرات کو یرغمالیوں کے خاندانوں کے فورم نے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اور حماس سے یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کو یقینی بنانے کی اپیل بھی کی۔

    افغانستان نے پہلی بار ایمرجنگ ٹیمز ٹی 20 ایشیا کپ جیت لیا

    مزدوری کیلئے پاکستان سے تھائی لینڈ جانے والا شہری اغوا

    لاہور میں پیٹرول مانگنے کے بہانے موٹر سائیکل سوار قتل کر دیا

    پی ٹی آئی نے بھارتی نوازی میں حریت ریلی کے خلاف سازش کی، وقار مہدی

    کراچی :سینٹرل پولیس کی اسٹریٹ کرمنلز کے خلاف کاروائیاں، ایک ہلاک 2 گرفتار

  • اسرائیلی فوج نے الجزیرہ کے چھ صحافیوں کو "دہشتگرد” بنا دیا

    اسرائیلی فوج نے الجزیرہ کے چھ صحافیوں کو "دہشتگرد” بنا دیا

    اسرائیل کی دفاعی افواج نے انکشاف کیا ہے کہ الجزیرہ کے چھ صحافی حماس اور فلسطین اسلامی جہاد کے ساتھ کام کرتے ہیں

    اسرائیل کی دفاعی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ الجزیرہ کے لیے کام کرنے والے چھ صحافی حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد کے رکن ہیں۔ غزہ سے ملنے والی انٹیلی جنس معلومات اور متعدد دستاویزات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ 6 صحافیوں کا غزہ کے عسکری گروپوں سے تعلق ہے،اسرائیلی سیکورٹی فورسز کو ملنے والی دستاویزات میں دہشت گردی کے تربیتی کورسز کی فہرستیں، فون ڈائریکٹریز، اور دہشت گردوں کے لیے تنخواہ کے دستاویزات” شامل ہیں۔ دستاویزات "غیر واضح طور پر ثابت” کرتی ہیں کہ صحافی حماس اور اسلامی جہاد کے متعلقہ عسکری ونگز کے ارکان کے طور پر کام کرتے تھے۔ جن صحافیوں کو آئی ڈی ایف نے حماس کے عسکری ونگ کے کارندوں کے طور پر ظاہر کیا ہے، وہ اسرائیلی میڈیا کے مطابق الجزیرہ میں خاص طور پر شمالی غزہ میں حماس کے لیے پروپیگنڈے کی سربراہی کرتے ہیں۔چھ صحافیوں کی شناخت انس جمال محمود الشریف، علاء عبدالعزیز محمد سلامہ، حسام باسل عبدالکریم شباط، اشرف سمیع احسور سراج، اسماعیل فرید محمد ابو عمرو اور طلال محمود عبدالرحمن اروکی کے نام سے ہوئی ہے۔

    اسرائیلی دفاعی فورسز کے مطابق انس الشریف ایک راکٹ لانچنگ اسکواڈ کا سربراہ اور حماس کی نصرت بٹالین میں نخبہ فورس کمپنی کا رکن تھا۔ علاء سلامہ شبورہ بٹالین کے اسلامی جہاد کے پروپیگنڈہ یونٹ کے نائب سربراہ تھے۔ شبات حماس کی بیت حنون بٹالین میں ایک سنائپر تھا، اشرف سراج اسلامی جہاد کی بوریج بٹالین کا رکن تھا۔ ابو عمرو مشرقی خان یونس بٹالین میں ٹریننگ کمپنی کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، اور عبدالرحمن اروکی حماس کی نصرت بٹالین میں ٹیم کمانڈر تھے۔اسماعیل ابو عمرو رواں سال فروری میں غزہ میں اسرائیلی کارروائی میں زخمی ہوئے تھے۔ اس وقت الجزیرہ نے اس بات کی تردید کی تھی کہ اس کے عسکری گروپوں سے روابط ہیں۔

    اس سال مئی میں بنجمن نیتن یاہو حکومت نے حماس کے حامی پروپیگنڈے پر اسرائیل میں الجزیرہ چینل کی نشریات کو بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد ستمبر میں اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے کے رام اللہ میں الجزیرہ بیورو کو بھی بند کر دیا تھا۔

    یحییٰ سنوار کی شہادت اسرائیل کے لیے تباہی کا پیغام ثابت ہوگی،حماس

    یحییٰ سنوار کی موت پر وہی احساسات جو اسامہ بن لادن کی موت پر تھے،جوبائیڈن

    اذکار کے کتابچے،تسبیح، گھڑی،اسلحہ،شہید یحییٰ سنوار کا کل سامان

    حماس کے نئے سربراہ یحییٰ سنوار شہید،حماس کی تصدیق

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار

  • غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا ایک سال .تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا ایک سال .تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    مغرب کی حکومتیں اور ان کے حکمران ۔۔۔۔انسانیت اور جمہوریت کے جھوٹے دعویدار اور علمبردار ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ا ن سے بڑا انسانیت کا دشمن اس وقت روئے زمین پر کوئی نہیں ۔یہ وہ درندے ہیں جن کے منہ کو انسانوں کا اور خاص کر مسلمانوں کا خون لگا ہوا ہے ۔یہ درندے دنیا میں کہیں نہ کہیں مسلمانوں کا خون بہاتے رہتے ہیں اور اس خون سے اپنی پیاس بجھاتے رہتے ہیں جس کی تازہ اور بدترین مثال غزہ ہے جس پر اسرائیل کی جارحیت کا ایک سال مکمل ہوچکا ہے ۔ایک سال کا ایک ایک لمحہ غزہ کے مسلمانوں کیلئے قیامت بن کر گزرا ہے ۔ ایک سال میں کوئی دن ایسا نہیں آیا جو غزہ کے مسلمانوں نے آرام اور سکون سے گزارا ہو اور کوئی رات ایسی نہیں گزری جس میں وہ چین کی نیند سوئے ہوں ۔

    واضح رہے کہ غزہ کی پٹی دنیا کا سب سے زیادہ گنجان آ باد علاقہ تھا جو365 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ساحلی پٹی پر مشتمل 24 لاکھ افراد کا مسکن ہے، جہاں ایک مربع کلومیٹر رقبے میں ساڑھے پانچ ہزار افراد رہائش پذیر تھے ۔دنیا کا سب سے گنجان آباد یہ علاقہ اب ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے اسرائیل نے غزہ کی محدود جغرافیے کی حامل زیر محاصرہ گنجان آبادی پر جتنا بارود ایک سال کے دوران برسایا ، اس کی مثال دونوں عالمی جنگوں میں بھی نہیں ملتی ہے۔اسرائیل غزہ کی چھوٹی سی پٹی پر اب تک 85 ہزار ٹن سے بھی زیادہ بارود بموں کی شکل میں برسا چکا ہے۔ غزہ میں تاریخ انسانی کی بدترین تباہی ہوئی ہے جس کا اندازہ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ سے کیا جاسکتا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کے طیاروں ، ٹینکوں اور توپوں نے بمباری سے جو تباہی مچائی ، رہائشی عمارتیں ، تعلیمی ادارے ، ہسپتال ، مساجد ، دکانیں اور مارکیٹیں جتنے بڑے پیمانے پر تباہ ہوئی ہیں ان کا ملبہ اٹھانے پر 15 سال لگیں جائیں گے۔ جب کہ تباہ شدہ عمارتوں کی جگہ تعمیر نو پر 80 سال لگیں گے۔ آزاد ذرائع کے مطابق 2 لاکھ سے زائد فلسطینی موت کے گھاٹ اتار دیے گئے ہیں اور اس سے کہیں زیادہ زخموں سے چور ہیں، 20 لاکھ افراد ایسے ہیں جو مکمل طور پر گھر سے بے گھر اور در سے بے در ہوچکے ہیں ۔ان بیچاروں کے پاس معمولی چھت اور کھانے پینے کا معمولی سامان بھی دستیاب نہیں ہے ۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کے شب و روز کیسے گزرتے ہوں گے ؟

    ’ہیومن رائٹس واچ‘ کی روپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ میں قائم انڈونیشیا ہسپتال، ترک ہسپتال اور القدس ہسپتال کو کئی بار نشانہ بنایا۔ ہر روز اوسطاً طبی عملے کے دو ارکان یا ڈاکٹروں کو موت کے گھاٹ اتارتاجاتا رہا ۔ اب تک کم سے کم 752 ڈاکٹر و طبی عملے کے ارکان قتل اور 782 زخمی ہوئے ہیں جبکہ 128 زیر حراست ہیں۔اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ سینٹر کے فراہم کردہ ڈیٹا اور اوپن سٹریٹ میپ کے جغرافیائی ڈیٹا بیس کے مطابق غزہ کی 80فیصد مساجد مکمل طور پر یا جزوی طور پر تباہ ہوچکی ہیں ۔سات اکتوبر 2023 سے 31 دسمبر 2023 کے دوران 117 مساجد بشمول تاریخی گرینڈ مسجد عمری اور دو گرجا گھر بھی اسرائیلی بمباری سے تباہ ہوئے۔ غزہ کے کل قابل کاشت رقبے کا 68 فیصد حصہ [102مربع کلومیٹر] اسرائیلی بمباری اور فوجی نقل وحرکت سے تباہ ہو چکا ہے۔ شمالی غزہ کی 78 فیصد زرعی زمین جبکہ رفح میں 57 فیصد زرعی رقبہ ناقابل استعمال ہو چکا ہے۔اسرائیلی بمباری سے غزہ میں سڑکوں کا 68 فیصد ]119 کلومیٹر] نیٹ ورک تباہ ہو گیا ہے۔اقوام متحدہ کے سیٹلائیٹ سینٹر کی جانب سے 18 اگست 2024 کو جاری کردہ ابتدائی ڈیٹا رپورٹ کے مطابق غزہ میں تباہ ہونے والی شاہراؤں میں 415 کلومیٹر سڑکیں مکمل تباہ جبکہ 1440 کلومیٹر پر محیط سڑکیں جزوی طور پر تباہ ہوئی ہیں، ہسپتالوں کے محاصروں اور حملوں کے دوران اسرائیلی فوج ہزاروں فلسطینیوں کو 200سے زائد اجتماعی قبروں میں پھینک چکی ہے۔غزہ جنگ کے دوران 173 صحافی بھی اسرائیلی فوج کی بمباری، ڈرون حملوں اور فائرنگ کا نشانہ بن کر زندگی سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔جبکہ لاتعداد صحافی پابند سلاسل ہیں ۔ غزہ میں سب سے بری حالت بچوں کی ہے ۔ بچے جو کہ کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں ۔ قوموں کی تعمیر وترقی اور نشوونما کا دارومدار بچوں پر ہوتا ہے ۔ جب کسی قوم کے بچے موت کے گھاٹ اتار دیے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے وہ قوم صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے ۔ صہیونی اسی فارمولے پر عمل پیرا ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی درندے فلسطینی بچوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے اور جانوروں کی طرح ذبح کررہے ہیں ۔اس سلسلہ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال ( یونیسیف ) کی رپورٹ انتہائی لرزہ خیز ، دلوں کو ہلادینے تڑپا دینے اور خون کے آنسو رولادینے والی ہے ۔ یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر کا کہنا ہے کہ یہ جنگ جو اسرائیل نے غزہ پر مسلط کررکھی ہے اس میں سب سے زیادہ نقصان بچوں کا ہورہا ہے ۔اس جنگ میں روزانہ ہی فلسطینی بچے اسرائیلی فوج کا نشانہ بن رہے ہیں ۔ ایک سال کے دوران ہر روز تقریباََ 40 بچے شہید کیے گئے ہیں ۔ غزہ کا مختصر سا خطہ اپنے اندر موجود لاکھوں بچوں کے لئے گویا زمین پرجہنم بنادیا گیا ہے۔ صورت حال بہتر ہونے کی بجائے دن بہ دن بد سے بدتر ہوتی چلی جارہی ہے۔ 7 اکتوبر 2023 ء کو اسرائیلی حملے کے بعد اب تک 14,100 سے زائد بچے موت کے گھاٹ اتارے جاچکے ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ غزہ میں روزانہ 35 سے 40 کے درمیان بچے اور بچیاں شہید کئے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بڑی تعداد میں لوگ مرنے کے بعد ملبے کے نیچے دب کر بھی لاپتہ ہوگئے ہیں۔ جو لوگ روزانہ فضائی حملوں اور فوجی کارروائیوں میں بچ جاتے ہیں انہیں اکثر خوفناک حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بچوں کو بار بار تشدد اور بار بار انخلا کے احکامات سے بے گھر کیا جاتا ہے یہاں تک کہ محرومیت نے پورے غزہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ بچے اور ان کے اہلخانہ کہاں جائیں؟ وہ سکولوں اور پناہ گاہوں میں محفوظ نہیں ہیں، وہ ہسپتالوں میں محفوظ نہیں ہیں اور زیادہ بھیڑ والے کیمپوں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔

    ایک طرف غزہ میں اسرائیل کی بدترین جارحیت جاری ہے تو دوسری طرف دنیا کے نقشے پر57اسلامی ممالک موجود ہیں جو ہر قسم کے وسائل ،قدرتی ذخائر اور معدنیات سے مالال ہیں ۔57اسلامی ممالک کی ا فواج کی تعداد لاکھوں پر مشتمل ہے جو کہ ہر قسم کے جدید ترین اسلحہ سے لیس ہے بلکہ ان میں پاکستان ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک بھی شامل ہے اس کے باوجود غزہ کے مسلمان بے یارومددگار ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں جبکہ تمام اسلامی ممالک سے صرف سعودی عرب ہی قدمے دامے درمے سخنے فلسطینی بھائیوں کی مدد کررہا ہے ۔

    اب چاہئے تو یہ کہ دیگر اسلامی دنیا بھی غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ان کی جانی مالی اور عسکری مدد کرتی لیکن اسلامی دنیا خاموش تماشائی ہے جبکہ اسرائیلی درندے فلسطینی مسلمانوں پر اس طرح ٹوٹ پڑے ہیں جس طرح بھوکے گدھ اپنے شکار پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔ اس وقت غزہ میں جو کچھ ہورہا ہے ۔۔۔۔وہ جنگ نہیں بلکہ یکطرفہ قتل عام ہے ۔ اسلامی ممالک نے غزہ میں بڑھکتی ہوئی آگ کو نہ بجھایا تو عین ممکن ہے کہ آگ کے یہ بڑھکتے ہوئے شعلے ان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں ۔
    اے چشم اشکبار ذرا دیکھ تو سہی
    یہ گھر جو جل رہا ہے کہیں تیرا ہی گھر نہ ہو

  • خوراک نہیں کفن بھیج دیں، فلسطینی وزارت صحت کی دنیا سے اپیل

    خوراک نہیں کفن بھیج دیں، فلسطینی وزارت صحت کی دنیا سے اپیل

    غزہ میں اسرائیلی بربریت ،کفن کم پڑ گئے، فلسطینی وزارت صحت نے کفن بھجوانے کی اپیل کر دی

    فلسطینیوں پر اسرائیلی بربریت جاری ہے، سات اکتوبر کو گزشتہ برس حماس کے حملے کے بعد سے اب تک اسرائیلی غزہ پر بمباری کر رہا ہے، فلسطین میں کوئی ایسی جگہ نہیں چھوڑی جہاں اسرائیل نے بمباری نہ کی ہو، گھر مسمار، سکول تباہ، ہسپتال ملیا میٹ کر دیئے گئے، لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، ہزاروں لاپتہ ہیں، لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں، ایسے میں فلسطینی وزارت صحت نے عالمی دنیا سے اپیل کی ہے کہ اگر کچھ اور نہیں بھیج سکتے تو کم از کم کفن ہی بھیج دیں،فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ اسرائیلی حملوں میں شہدا کی تعداد بہت زیادہ ہے، ہسپتالوں میں کفن ختم ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے لاشوں کو کمبل سے ڈھانپا جا رہاہے،ہمیں کفن بھجوائے جائیں،کھانے پینے کی اشیا کی ضرورت نہیں کیونکہ اسرائیل ہمیں بھی قتل کر دے گا، ہمیں اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے شہداء کی لاشیں ڈھانپنے کے لیے کچھ کفن بھیج دیں تاکہ آپ ہمارے خون اور زخم دیکھ کر بیزار نہ ہوں

    دوسری جانب آسٹریلوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں میں مرنے والوں کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہے،غزہ میں لگ بھگ 2 لاکھ فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں، غزہ کی 8 فیصد آبادی ماری جا چکی ہے،اسرائیلی بمباری سے غزہ کے اسپتال تباہ ہوچکے ہیں اور چند اسپتال جزوی طور پر فعال ہیں۔

    یحییٰ سنوار کی موت کیسے ہوئی؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ کی تفصیلات

    یحییٰ سنوار کی شہادت اسرائیل کے لیے تباہی کا پیغام ثابت ہوگی،حماس

    یحییٰ سنوار کی موت پر وہی احساسات جو اسامہ بن لادن کی موت پر تھے،جوبائیڈن

    اذکار کے کتابچے،تسبیح، گھڑی،اسلحہ،شہید یحییٰ سنوار کا کل سامان

    حماس کے نئے سربراہ یحییٰ سنوار شہید،حماس کی تصدیق

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار